280.4K
41

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Black Love) Episode 23

“رویش باجی آپ کو ڈیڈ اسٹڈی میں بولا رہے ہیں”
زرمیش کمرے میں آتے ہوئے باتھروم سے باہر نکلتی رویش کو کہنے لگی
“آرہی ہوں میں”
کہتے ساتھ رویش بالوں کو کیچڑ میں قید کیے کمرے سے باہر کی جانب بڑھ گئی۔
“گڈ مارننگ رویش”
جیسے ہی کمرے سے باہر نکلی تو نظر دراب پر گئی جو کمرے سے نکلا تھا اور مسکرا کر اسے مخاطب کیا تھا وہ جوابا بس سر ہلا گئی اور اسٹڈی کی طرف بڑھ گئی۔
“کیا مسئلہ ہے اب فون نہ کرنا مجھے”
اسکے جاتے ہی دراب کا فون بجا اور اس نے اٹینڈ کرتے مقابل کی بات سن کر غصے سے بولا
“کوئی پیار ویار نہیں کرتا آج کے بعد کال مت کرنا”
غصے سے کہتے ساتھ دراب فون بند کر کے نیچے کی طرف بڑھ گیا۔
“جی ڈیڈ”
اسٹڈی میں آتے ہی وہ یوسف صاحب کے پاس آکر بیٹھتی پوچھنے لگی۔
“رویش بیٹا مجھے ضروری بات کرنی ہے تم سے “
وہ اسے دیکھتے ہوئے چہرے پر سنجیدگی سجائے بولے رویش اثبات میں سر ہلا گئی۔
“تم نے مجھے ہمیشہ اپنا ڈیڈ سمجھا ہے ایک فیصلہ کیا ہے میں نے مجھے امید ہے تمہیں اعتراض نہیں ہوگا دراب تمہیں پسند کرنے لگا ہے میں تمہارا نکاح اس سے کروانا چاہتا ہوں”
یوسف صاحب اسے دیکھتے ہوئے چہرے پر مسکراہٹ سجائے کہنے لگے انکی بات سن کر رویش کو ایک حیرت کا جھٹکا اور نظر راحت بیگم کی جانب کی وہ بھی مسکرا رہی تھی۔
“مجھے امید ہے تم اس فیصلے پر راضی ہوگی”
یوسف صاحب اسکے سر پر ہاتھ رکھے محبت سے کہنے لگے رویش کو یونیب کا خیال مگر اگلے ہی لمحے انکی محبت شفقت سب یاد کرتے ہی رویش خاموشی سے اثبات میں سر ہلا گئی۔
“مجھے کوئی اعتراض نہیں”
وہ کہتے ساتھ وہاں سے اٹھ کر چلی گئی یوسف صاحب اور راحت بیگم مسکرادیے۔


“زہرون یہ غلط ہے تم بھی جانتے ہو میں بھی جانتے ہو یونیب اور رویش ایک دوسرے میں انڈرسٹڈ ہے تم اپنے بھائی سے اس متعلق بات کرو”
عینب کو جب سے معلوم ہوا تھا اسے رویش کا خیال آیا وہ زہرون سے کہنے لگی
“میں نے کی ہے دراب سے بات وہ کہ رہا تھا اگر نہیں پسند میں تو انکار کردے”
وہ عینب کو پیچھے سے حصار میں لیے ہوئے بتانے لگا عینب نے اسے پیچھے کیا۔
وہ صرف ڈیڈ کی وجہ سے خاموش ہے”
عینب اسے دیکھتے ہوئے بتانے لگی جب زہرون نے پھر سے اسکی کمر میں ہاتھ ڈال کر اسے قریب کیا۔
“دیکھو اگر تو وہ پیار کرتا ہے رویش سے تو نکاح نہیں ہونے دو گا میں بہت کم وقت میں یونیب کو اچھے سے جان چکا ہوں تم ٹینشن نہ لو”
وہ اسکے چہرے پر ہاتھ پھیرتے ہوئے اسے بتانے لگا عینب اسکے قریب آنے پر اسے گھورنے لگی۔
“پتہ ہے کیا تم شروع دن سے مجھے چھیچھوڑے لگے تھے”
عینب اسے گھورتے ہوئے اسکے سینے پر بازو رکھے پیچھے کرتے ہوئے بتانے لگی۔
“میں جانتا ہوں”
زہرون ڈھٹائی سے جواب دیتے ساتھ اسکی گال پر رکھ گیا اور عینب آنکھیں بند کر گئی۔


ناشتے کے بعد غزلان بیلکونی میں بلیک کافی کا کپ لیے کھڑی تھی ہلکی ہلکی بارش ہو رہی تھی آج اتنے عرصے بعد وہ اتنے شوق سے بارش دیکھ رہی تھی اسکی خوشبو اسے بہت اچھی لگ رہی تھی چہرے پر ہاتھ رکھے وہ مسکراتے ہوئے کافی کب لبوں سے لگا گئی۔
“یہاں کیا کر رہی ہو”
تبھی بہزاد پیچھے آتا اسے حصار میں لیے کندھے پر چہرہ ٹکائے پوچھنے لگا
“بارش دیکھ رہی ہوں”
وہ مسکراتے ہوئے اسے بتانے لگی بہزاد نے گہری نظروں سے غزلان کی جانب دیکھا۔
“پتہ ہے کہتے ہیں بارش میں جو دعا مانگو وہ قبول ہوتی ہے”
وہ اسکی جانب رخ کرتی اسے دیکھ بتانے لگی بہزاد اسی پر نظریں مرکوز کیے اسے سن رہا تھا
“تم مانتی ہوں ان سب کو”
وہ اسکی گردن پر بازو ڈالے چہرہ اسکے چہرے کے قریب کیے پوچھنے لگا۔
“ہاں بلکل اور یہ سچ بھی ہے. چلیں ہم دونوں بھی دعا میں زندگی بھر ساتھ رہنے کی دعا کرتے ہیں”
غزلان اسے دیکھتے ہوئے مسکرا کر بولی بہزاد کے چہرے پر بھی مسکراہٹ آئی غزلان آنکھیں بند کیے دعا مانگنے لگی اور ایک آنکھ کھول کر بہزاد کو دیکھا جو مسکراتے ہوئے اسے دیکھ رہا تھا۔
“مانگنے دعا”
وہ اسے دعا نہ مانگتا دیکھ فورا بولی اسکی بات پر بہزاد فورا سے آنکھیں بند کر گیا۔
“میں یہی دعا مانگو گا اللہ اسے کبھی مجھ سے الگ مت کرنا”
وہ آنکھیں بند کیے دل سے دعا مانگنے لگا اور پھر آنکھیں کھولی کر اسے دیکھا اور دونوں ایک دوسرے کو دیکھ کر مسکرادیے۔
“چلو اندر آجاؤ سردی لگ جائے گی”
وہ اسکا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیتے ہوئے اسے بولا غزلان اسے دیکھنے لگی
“مجھے بارش کو دیکھنا اچھا لگ رہا ہے بہزاد”
وہ بارش میں ہاتھ کیے اسے بتانے لگی بہزاد نے ایک نظر اس پر ڈالی سردی کی وجہ سے ناک سرخ ہو چکی تھی جس کی وجہ سے وہ بے حد کیوٹ لگ رہی تھی بہزاد نے غزلان کو باہوں میں اٹھایا اور اندر کی جانب بڑھ گیا۔
“تم بیمار ہونا چاہتی ہو کیا دیکھا بھی ہے کتنی سردی ہو رہی ہے”
وہ اسے کمرے میں لاتے ہوئے بیڈ پر ہٹا کر اسکے اوپر جھک کر ناک دبا کر بولا غزلان مسکرادی۔


وہ چائے پی کر اپنے روم میں آئی یونیب کو بیٹھا دیکھ کر رویش کو حیرت ہوئی۔
“تم تم یہاں کیا کر رہے ہو”
رویش فورا سے پہلے دروازہ لاک کرتے ہوئے حیرت سے پوچھنے لگی یونیب ایکدم بیڈ سے اٹھ کر کھڑا ہوا۔
“کال کیوں نہیں اٹینڈ کر رہی میری”
یونیب سنجیدگی سے اسے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگا اسکے پوچھنے پر رویش نظریں جھکا گئی۔
“بتاؤ”
یونیب اسے خاموش کھڑا دیکھ کر اسکا چہرہ اوپر اٹھا کر پھر سے پوچھنے لگا۔
“کیونکہ مجھے تم سے کوئی بات نہیں کرنی اب جاؤ یہاں سے”
رویش نظروں کا تعاقب دوسری جانب کیے اسے بولی یونیب کی نظریں اس کے چہرے پر ہی جمی ہوئی تھی۔
“وجہ جان سکتا ہوں میں اخر کیوں”
یونیب سرد لہجے اختیار کیے اسکا چہرہ اہنی جانب کیے پوچھنے لگا رویش نے آنکھیں بند کرلی۔
“کل میرا نکاح ہے زہرون کے بھائی دراب کو ساتھ مجھے اس نکاح سے کوئی اعتراض نہیں ہے اب تم یہاں سے جا سکتے ہو”
وہ آنکھیں بند کیے ایک ہی سانس میں بولتے ہوئے آنکھیں کھولی کر نظریں جھکا گئی سامنے موجود شخص کی آنکھیں سرخ ہو گئی وہ اسکی گردن پر دباؤ دیتا اسے دیوار سے لگا گیا رویش بےیقینی سے اسے دیکھ رہی تھی۔
“ایک بات یاد رکھنا تم صرف اور صرف میری بنو گی تمہارا نام صرف میرے نام سے جڑے گا اج کے بعد اس منہ سے کسی اور کا نام نہیں نکلنا چاہیے”
وہ گرفت مضبوط کرتے ساتھ طیش میں غرایا رویش ایک پل کیلیے سہم گئی اس نے خوف سے آنکھیں بند کرلی۔
“کل نکاح”
رویش ابھی بول رہی تھی جب یونیب نے غصے سے دیوار پر مکہ مارا وہ سہم گئی۔
“تم کسے چاہتی ہو مجھے ہے نا میں جانتا ہوں صرف یوسف صاحب کیلیے یہ سب کر رہی ہو نا”
وہ اسکے چہرے کے قریب چہرہ کیے بولا رویش نے آنکھیں کھول کر اسے دیکھا
“خاموش رہنے سے کچھ نہیں ہونا رویش “
وہ اسے خاموش دیکھ کر سخت لہجے میں کہنے لگا رویش اسے دیکھنے لگی
“پیار کرتے ہو ہے نا تو پھر آج کے بعد یہاں نہ آنا”
رویش اسے دیکھتے ہوئے لہجے میں اداسی لیے بولتے ساتھ نظریں جھکا گئی وہ لمبے لمبے ڈھگ بھرتا غصے سے جیسے آیا تھا ویسے چلا گیا اسکے جاتے ہی رویش جو آنسو ضبط کیے کھڑی تھی اسکی آنکھوں سے نکلتے چلے گئے۔


درید کے ابھی پچھلی کھائی گئی مار کے زخم بھی نہیں بھرے تھے بہزاد اسکے سامنے پھر موجود تھا۔
“ایک دفعہ بچ جانے دو مجھے پھر دیکھنا تمہارا کیا حشر کروں گا اور اس غ”
وہ ابھی بول رہا تھا جب بہزاد اسکی گردن پر چاقو کی ناک رکھی درید ایکدم خاموش ہوگیا۔
“نام بھی نہ لینا اس گندی زبان سے میری بیوی کا”
وہ سرخ آنکھیں لیے انتہائی سخت لہجے میں غرایا جس پر درید خاموش رہا چاقو کی ناک رکھنے کی وجہ سے اسکی گردن پر خون کی بوند اور اسکے چہرے پر تکلیف کے آثار صاف نمایاں تھے جو بہزاد کو سکون دے رہے تھے بہزاد نے گردن سے چاقو ہٹایا۔
“تمہاری کمزوری پتہ لگ گئی ہے مجھے”
درید چہرے پر شاطر مسکراہٹ سجائے ہنس کر بولا بہزاد کے لبوں پر بھی مسکراہٹ نمودار ہوئی۔
“وہ میری کمزوری نہیں میری طاقت ہے درید بیگ”
وہ اسے دیکھتے ہوئے چہرے پر جلادینے والی مسکراہٹ سجائے کہنے لگا جس پر درید اسے گھور کر دیکھنے لگا
بہزاد نے اسکا منہ لوہے کے بنی ٹیبل پر دے کر مارا زخم ہونے کی وجہ سے وہ تڑپ کر چیخ اٹھا وہ تین سے چار بار یہی عمل کرنے لگا اسکی چیخیں سنتے ہی بہزاد کو اطمینان سے مل رہا تھا۔ اسے یوں تڑپتی حالت میں چھوڑ کر وہ بھاری بھاری قدم اٹھائے وہاں سے چلا گیا اور درید چیختا رہا۔


“آپ ڈیڈ کو منع کریں باجی کیسے ہامی بڑھ سکتی ہیں آپ”
زرمیش اسکے پاس اتے ہوئے اسے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگی۔
“تم چھوٹی ہو ابھی ان سب معاملات میں نہ بولو سمجھتی”
وہ سپاٹ لہجے میں اسے بولی زرمیش اسے دیکھنے لگ گئی۔
“آپ غلط کر رہی ہے یونیب بھائی کیساتھ بھی خود کیساتھ بھی “
زرمیش اسکے پاس سے اٹھ کر اسے دیکھ سرد لہجے میں کہتے ساتھ وہاں سے چلی گئی رویش اسے جاتا دیکھ رہی تھی۔
“ہیلو چھوٹی”
دراب رویش کے کمرے کی طرف بڑھ رہا تھا جب زرمیش کو اسکے کمرے سے باہر آتا دیکھ مسکرا کر بولا۔
“آپ رویش باجی کے پاس جارہے ہیں”
وہ اسے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگی جس پر دراب نے اثبات میں سر ہلا دیا
“وہ تو سو گئی انہوں نے ہی تو مجھے بھیجا اور کہا ہے کہ وہ سونا چاہتی ہیں کوئی ڈسٹرب نہ کرے”
زرمیش اسے دیکھتے ہوئے چہرے پر معصومیت سجائے بتانے لگی جس پر دراب خاموشی سے اپنے روم کی طرف بڑھ گیا اور زرمیش کے لبوں پر مسکراہٹ سجی۔
“آئے بڑے ملنے رویش باجی سے وہ صرف اور صرف یونیب بھائی کی بنیں گے”
وہ اسے جاتا دیکھ زبان چڑھاتے ہوئے دل میں بولتے ساتھ اپنے روم کی جانب بڑھ گئی۔
وہ اس وقت اپنے کمرے میں بیٹھا کمرا تاریکی میں ڈوبا ہوا تھا رویش سے مل کر آنے کے بعد وہ یہی موجود تھا اور ایک کے بعد ایک سگریٹ پیتا جارہا تھا ہوتے کمرے میں دھواں پھیلا ہوا تھا آنکھیں اس وقت انتہا کی سرخ تھی رویش کے ماتھے یاد کرتے ہی دماغ کی نسیں پھٹنے کو تھی
“You will only be mine”
وہ انتہائی اونچی اواز میں چلایا تھا اواز اس قدر پیچھے کھڑے ماجد کو اپنے کان پھٹتے ہوئے محسوس ہوئے تھے اس نے اپنے کانوں پر ہاتھ کر نظر یونیب خان پر ڈالی جو اس وقت بلکل اس دن کی طرح بکھرا سا لگ رہا تھا۔


بہزاد کب سے اسکا انتظار کررہا تھا مگر وہ آنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی وہ خود ہی اٹھ کر باہر گیا۔
“یہ روم ۔میں کیوں نہیں آرہی ہو”
بہزاد اسکا ہاتھ تھامے اسے اپنے قریب کیے پوچھنے لگا غزلان کے چہرے پر مسکراہٹ آئی
“کیونکہ ہم ابھی نہیں سورہے ہیں”
وہ اسے دیکھتے ہوئے مسکرا کر بتانے لگی بہزاد نے اسے مزید قریب کیا
“تو ہم کیا کر رہے ہیں”
وہ آئبرو اچکائے اسی کے انداز میں پوچھنے لگا غزلان نے اسکے گلے میں ہار کی طرف بازو حائل کیے
“ہم۔مووی دیکھیں گے کچھ اچھا ٹائم ساتھ اسپینڈ کریں گے”
وہ مسکراتے ہوئے اسے دیکھ کر بتاتے ساتھ اسکی ناک سے اپنی ناک مس کر گئی بہزاد اسکی بات سن کر اثبات میں سر ہلا گیا
“تو پھر دیکھیں”
وہ اسے اسی طرح کھڑا دیکھتے ہوئے پوچھنے لگی جس بہزاد اثبات میں سر ہلا گیا اور دونوں ٹی وی لاؤنچ میں موجود صوفے پر بیٹھ کر مووی چلا گئے۔غزلانمیڈ کو پوپ کارن کا پہلے ہی کہ چکی ہے مووی اسٹارٹ ہوتے ہی وہ پوپ کارن رکھتی چلی گئی۔
غزلان کی نظریں سکرین پر مرکوز تھی وہ بہت انٹرسٹ لے کر مووی دیکھ رہی تھی وہی دوسری طرف بہزاد اس پر نظریں جمائے اسے دیکھنے میں مصروف تھا غزلان کی نظر اس پر گئی
“مووی دیکھیں”
پوپ کارن منہ میں ڈالتی اسکا چہرہ سکرین کی جانب کرتی بولی بہزاد نے اسے قریب کیا اور اسکی گردن کے قریب چہرہ پاکر اسکی خوشبو خود میں اتار کر اپنے ہونٹوں کا لمس اسکی گردن پر محسوس کروایا غزلان کی ریڑھ کی ہڈی میں اک سنسناہٹ سی دوڑی وہ آنکھیں بند کر گئی۔
“پتہ ہے سب سے پہلے میں تمہاری اس بیوٹی بون پر فدا ہوا تھا”
وہ اسکے کان کے قریب اتے ہوئے جذبات سے بھرے لہجے میں بولا غزلان کی ہارٹ بیٹ مس ہوئی۔
“ہاں یاد ہے گھور گھور کر دیکھ رہے تھے جب میں نے وائٹ فراک پہنا تھا”
وہ اسے دیکھتے ہوئے مسکرا کر بتانے لگی اسکے چہرے کے تاثرات دیکھتا بہزاد کے لبوں پر خودبخود مسکراہٹ آ گئی تھی۔
“مووی پر کونسنٹریٹ کریں”
وہ اسے دیکھتے ہوئے بولتی نظریں سکرین پر مرکوز کر گئی
“نہیں جب تم ساتھ ہوگی تو میرا سارا کونسنٹریٹ صرف تم پر ہوگا”
کہتے ساتھ وہ اسکے لبوں پر اپنے ہونٹ رکھ کر اسکی سانسیں خود میں قید کرنے لگا غزلان آنکھیں بند کر گئی وہ اسکی شدت سے ان تین دنوں میں بہت اچھے سے واقف ہو چکی تھی۔وہ اسی طرح اسے صوفے پر لٹاتے ساتھ بہت دیر خود کو اسیر کرتا رہا اور کچھ دیر بعد اسکے ہونٹوں کو آزادی بخشی غزلان گہرے گہرے سانس لینے لگی بہزاد نے اسکے چہرے پر بالوں کو پیچھے کیا اور اسے گہری نظروں سے دیکھنے لگا اسکا دیکھنا ہی غزلان کی سانسیں روک دیتا تھا
“تمہارے قریب آتے ہی میں اپنا قابو کھو بیٹھتا ہوں”
وہ اسکی تھوڑی پر ہاتھ رکھے اسکے قریب چہرہ کیے بھاری اواز میں کہنے لگا غزلان کے دونوں سرخ ہو چکے تھے۔


“اواز ہلکی کرو”
زہرون کے فون پر کال آئی نمبر دیکھتے ہی اس نے عینب کو مخاطب کیا عینب نے اواز ہلکی کردی اور وہ کال اٹینڈ کرتا روم کی طرف بڑھ گیا۔
“اوہ لگتا ہے کوئی امپورٹنٹ کال ہے جناب کی مجھے بھی تنگ کرتا ہے اب میرا وقت ہے”
وہ خود سے کہتے ساتھ چہرے پر شاطر مسکراہٹ سجائے روم کی طرف بڑھی۔
“ہاں اچھا جلدی پتہ”
وہ ابھی بول رہا تھا جب عینب نے اسکی گردن پر گدگدی کرنے لگی زہرون نے اسے دیکھا اور اسکا ہاتھ پکڑا
“ہاں بلکل ہاں صحیح جگ”
وہ پھر بات کر رہا تھا جب عینب اپنے باپ اسکے کان میں گھسانے لگی وہ بولتے بولتے رکا اور عینب کو گھورا۔
“سر بزی لگ رہے بعد میں بات کر لیتا ہوں”
وہ اسے کہتے ساتھ کال کٹ کر گیا زہرون نے غصے سے عینب کو دیکھا جو چہرے پر مسکراہٹ سجائے اسے دیکھ رہی تھی۔
“آر یو میڈ مار منع کررہا ہوں تمہیں لیکن نہیں”
وہ انتہائی اونچی اواز میں چلایا تھا اسکے اس طرح چلانے پر عینب سہم گئی تھی اور مسکراہٹ ایکدم غائب ہوئی تھی
زہرون غصے سے بیڈ پر بیٹھ گیا وہ خاموشی سے وہاں سے چلی گئی۔
جاری ہے۔