Black Love By Mahnoor Shehzaad Readelle50302 (Black Love) Episode 17
Rate this Novel
(Black Love) Episode 17
غزلان کی باتیں سننے کے بعد وہ گھر سے سیدھا کلب آیا تھا ہاتھ میں وائن کا گلاس تھامے دوسرے ہاتھ سے سگریٹ سلگھاتے ہوئے وہ اپنا غصہ کم اور خود کو پرسکون کر رہا تھا
“ہے ہینڈسم”
وہ اسکے چہرے پر ہاتھ ہھیرتے ہوئے اپنا ہاتھ سینے تک لے جانے لگی جب بہزاد نے اسکی کلائی کو اپنی سخت میں تھام کر روکا تھا
“لیو می”
وہ اس کا ہاتھ غصے سے جھٹک کر سرد لہجے میں وحشت بھری آنکھوں سے اسے دیکھتے ہوئے بولا
“اوہ کم آن”
وہ اسکی وحشت اور غصے کو نظر انداز کرتی اسکی گود میں بیٹھنے لگی جب اس نے جیب چاقو نکال کر اسکی جانب کیا تھا وہ لڑکی ایکدم خوف سے اچھلی تھی
“بی۔۔۔سٹ”
وہ اب کی بار اسکی آنکھوں میں مزید وحشت اور سرخ آنکھیں خوف سے اسے بولی
“بلیک بیسٹ ناؤ گیٹ لاسٹ”
وہ انتہائی غصے سے اسے دیکھتے ہوئے کہنے لگا وہ لڑکی فورا گھبراتے ہوئے وہاں سے بھاگ گئی اور بہزاد اپنی سرخ آنکھیں اس چاقو پر مرکوز کر گیا۔
“اففف کہاں چلا گیا ہے”
وہ لان میں ٹہلتی پریشانی سے اسکا انتظار کرنے لگی اور گھڑی پر نظر ڈالی۔
“حد ہے آج سے پہلے تو کبھی ایسی حرکت نہیں کی”
وہ غصے سے کہتے ساتھ پھر سے ٹہلنے لگ گئی جب غزلان نے کانوں میں گاڑی کے ہارن کی اواز ٹکرائی
“ہاں ٹھیک کہ رہے ہو تم ہائسم”
غزلان اسکی کار گراج میں آتی دیکھ چہرے کا رخ دوسری جانب کیے فون کان سے لگاتے ہوئے بولی بہزاد گاڑی سے نکل کر اسے دیکھنے لگ گیا
“ہاں مل ملیں گے ہم ضرور لنچ ساتھ کر”
وہ ابھی بات کر رہی تھی جب بہزاد اسکی طرف بڑھ کر اسکے کان سے فون نکالتا اڑا کر پھینک چکا تھا
“روم میں جاؤ”
وہ آنکھوں میں سرد پن لیے لہجے میں سختی لیے حکم صادر کرنے لگا
“یہ کیا بدتمیزی ہے بات کرر”
غزلان اپنے خوف کو دباتی خود کو نارمل رکھے غصے سے بولی
“سمجھ نہیں آئی بات”
وہ طیش میں چیخا غزلان سرد نگاہوں سے اسے دیکھنے لگی
“نہیں میری جب مرضی ہوگی تب جاؤ گی”
وہ سینے پر بازو باندھے اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈالتی بولی بہزاد کا غصہ مزید بڑھ گیا
“ڈر نہیں لگتا مجھ سے”
وہ اسکی کار میں اپنا بازو ڈالے سخت گرفت ڈالتا اسے قریب کیے بولا وہ ابھی بھی اسی کو آنکھوں میں دیکھ رہی تھی
“میں غزلان قریشی ہوں ڈرنا سیکھا ہی نہیں”
وہ اپنی غیر ہوتی حالت کیساتھ بامشکل مضبوط لہجے میں جواب دینے لگی بہزاد نے اسے چھوڑا اور لمبے لمبے ڈگ بھرتا اندر کی جانب بڑھ گیا۔
“تمہارے ساتھ تمہارے ہی انداز میں بات کرو تو سمجھ آتی ہے”
وہ اسے جاتا دیکھتے ہوئے لبوں پر مسکراہٹ سجاتے ہوئے بولی اور اوپر کی طرف بڑھ گئی۔
خان جیسے ہی جنگل میں پہنچا رویش کو بےہوش پایا اسکے پیر پر چوٹ لگی ہوئی تھی وہ اسے گود میں اٹھاتا اسکے چہرے سے بال ہٹاتے ساتھ باہر کی طرف بڑھا
“ہوسپٹل جلدی ہوسپٹل چلو”
وہ گاڑی میں بیٹھتے ہوئے ڈرائیور کو حکم دینے لگا اسکے حکم پر وہ اثبات میں سر ہلا کر گاڑی سڑک پر دوہرا گیا۔
خان رویش کے چہرے پر ہاتھ رکھے اسے ہوش میں لانے کی کوشش کرنے لگے اسکے چہرے پر پریشانی کے خوف صاف نمایاں تھے اسکا ڈرائیور اسے پہلی دفعہ کسی کیلیے ایسے تڑپتا دیکھ رہا تھا جو کسی کو ختم کرنے سے پہلے ایک بار نہیں سوچتا آج ایک لڑکی کیلیے وہ اس قدر پریشان ہورہا تھا جیسے اس لڑکی میں خان کی جان اٹکی ہو۔
کچھ ہی دیر کی ڈرائیونگ کے بعد ڈرائیور نے گاڑی ہوسپٹل کے باہر روک دی وہ اسے لیتا تیز تیز قدم اٹھائے اندر کی جانب بڑھ گیا۔
“ڈاکٹر”
وہ اونچی اواز میں ڈاکٹر کو پکارنے لگا تبھی ایک مرد آیا خان نے اسے دیکھا
“کوئی لیڈی ڈاکٹر نہیں ہے”
وہ اسے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگا اس ادمی نے اسے دیکھا وہ خان کی بات سمجھ کر لیڈی ڈاکٹر کو بلانے لگ گیا
لیڈی ڈاکٹر نے رویش کا چیک ایپ کیا اور خان کو تسلی دی۔
“کچھ ہی دیر میں انہیں ہوش آجائے گا”
وہ اسے دیکھتے ہوئے بتانے لگی جس پر خان اثبات میں سر ہلا گیا اور لیڈی ڈاکٹر باہر کی طرف بڑھ گئی۔
“میں ڈھونڈتا ہوں عینب کو تم دونوں جاؤ فارم ہاوس”
یوسف صاحب ان دونوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہنے لگے زہرون فورا اٹھ کھڑا ہوا
“اچھا جیسے پتہ چلے مجھے ضرور بتائیے گا”
کہتے ساتھ عینب راحت بیگم کے گلے سے لگی پھر یوسف صاحب سے ملی اور زرمیش کے سینے سے لگی اور پھر زہرون اور وہ دونوں چل دیے
پانچ منٹ میں وہ دونوں فارم ہاوس موجود تھے وہ فورا گاڑی سے اترتے ساتھ فارم ہاوس کی طرف بڑھ گئی اور اتے ساتھ عینب کے کپڑے تبدیل کیے زہرون نے بھی چینج کیے عینب ٹی وی لاؤنچ میں آکر بیٹھی جہاں زہرون فٹ بال دیکھنے میں مصروف تھا
“بہت تھک گئی ہوں ایک کپ کافی بنادو”
وہ زہرون کو دیکھتے ہوئے حکم دینے والے انداز میں کہنے لگی زہرون نے اسے دیکھا
“میں کافی”
وہ اپنے پر انگلی رکھے عینب کو مخاطب کیے پوچھنے لگا جس پر وہ گھور کر اسے دیکھنے لگی
“ہاں خود کو مجھ سے شادی کا شوق تھا اب بھگتو”
وہ اسے دیکھتے ہوئے منہ بنائے کہنے لگی زہرون نے اسے دیکھا
“ابھی بنا کر آیا”
وہ اسے کہتے ساتھ اٹھ کر کچن کی طرف بڑھ گیا عینب کے چہرے پر فاتحانہ مسکراہٹ آئی
“ابھی شروعات نہ پاگل کیا میرا نام بھی عینب نہیں”
وہ چہرے پر مسکراہٹ دل میں بولتے ساتھ نظریں ٹی وی سکرین پر مرکوز کرگئی۔
رویش کو ہوش آجائے گیا تھا اپنے آپ کو ایک انجان کمرے میں موجود پاکر وہ پریشانی سے اٹھی جب سامنے خان کو آتا دیکھ اسکے ماتھے پر سلوٹیں آئی تھی وہ دماغ پر زور ڈالتے ہوئے سب یاد کرنے لگ گئی
“اس چھوٹے سے دماغ پر زیادہ زور ڈالنے کی ضرورت نہیں ہے”
وہ اسے دیکھتے ہوئے سنجیدگی سے کہتے ساتھ سوپ کا باول اسکے سامنے رکھا وہ خاموشی سے بس اسے دیکھ رہی تھی
“یہ پیو پھر تمہیں گھر ڈراپ کرو”
وہ اسے دیکھے بغیر بولتے ساتھ میڈیسنز دیکھنے لگ گیا وہ اسے دیکھ رہی تھی جب خان نے نظریں اسکی جانب اٹھائی اور آئبرو اچکا کر اسے دیکھا وہ ہوش میں آتے ساتھ سوپ پینے لگی
“یونیب تم مجھے چیٹ کر رہے تھے یہ سچا تھا کرنی بڑی بیوقوف تھی میں”
وہ دل میں اداسی سے بولتے ہوئے بامشکل سوپ پی رہی تھی
“چلیں”
سوپ ختم ہوتے ہی وہ اسے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگا رویش اثبات میں سر ہلا گئی خان پریشانی سے اسے دیکھنے لگ گیا جو اس پر غصہ نہیں ہو رہی تھی بلکہ اسکی ساری باتیں خاموشی سے سن بھی رہی تھی اور مان بھی رہی تھی۔
وہ دونوں یوسف ہاوس ہی جارہے تھے جب خان رویش کیلیے جوس لینے کیلیے رک گیا وہ اسے دیکھنے لگ گئی اچانک رویش کی نظر عرفان صاحب یعنی اپنے باپ پر گئے آنکھوں میں نمی ایکدم آئی جسے بڑی مہارت سے اپنے اندر اتار گئی۔
“جوس”
وہ اسے جوس دیتے ہوئے بلانے لگا جب خان نے اسکی نظریں سامنے جمی دیکھی۔
“جوس”
وہ پھر سے اسے مخاطب کرنے لگا رویش ہوش میں آئی خان نے اسے دیکھا
“آر یو اوکے”
وہ اسکے چہرے مو دیکھتے ہوئے فکرمندی سے پوچھنے لگا جس پر رویش اثبات میں سر ہلا کر جوس تھام گئی۔
“تھینکیو”
وہ اسے چہرے پر مسکراہٹ سجائے بولی جس پر خان گاڑی اسٹارٹ کرگیا۔
عینب نے اسے ایک کے بعد ایک کام بولا تھا وہ زچ یا غصہ ہونے کے بجائے خاموشی سے کر رہا تھا وہ اخر خود تنگ آکر کمرے کی طرف بڑھ گئی جہاں زہرون ابھی شاور لے کر باہر نکلا تھا اسے دیکھتی نظریں دوسری جانب کر گئی وہ اسے دیکھ چہرے پر مسکراہٹ سجائے ڈریسنگ کے سامنے آیا
“I hate you Mr”
وہ اسکی پیٹ کو غصے سے دیکھتے بولی زہرون کے چہرے پر مسکراہٹ آئی
“کوئی مسئلہ نہیں جلد ہی تم آئی لو یو بھی کہو گی”
وہ اسے مرر سے دیکھتے مسکرا کر بولا عینب اسےکھا جانے والی نظروں سے دیکھنے لگی
“چاہتے کیا ہو کیوں کیا ہے نکاح”
وہ بیڈ سے اٹھ کر اسکے سامنے آتے ہوئے سرد لہجے میں کہنے لگی زہرون نے اسے جھٹکے سے قریب کیا
“جس لیے نکاح کیا ہے اسکے لیے تم ابھی نہیں مانو گی “
وہ آنکھ دبائے شوخ لہجے میں اسے دیکھ کر کہنے لگا اسکی بات پر عینب کی آنکھیں پھٹی رہ گئی
“دور رہو مجھ سے”
وہ اسکے سینے پر دباؤ ڈالتی اسے پیچھے کرنے کی کوشش کرنے لگی مگر وہ ٹس سے مس نہ ہوا
“غصے میں بہت حسین لگ رہی ہو ایسے مت دیکھو دل گستاخی کرنے پر اتر آئے گا”
وہ چہرے پر مسکراہٹ سجائے شرارتی انداز میں بولا
“ایسا کچھ بھی سوچا I will kill you”
وہ اسکی آنکھوں میں دیکھتی اسکی گرفت میں مچلتی چیخ کر بولی زہرون اسکی بات پر غصے میں آتا بغیر اسکے غصے کی پرواہ کیے لبوں پر جھکا اور عینب اچانک ہونے والے حملے پر ہڑبڑا گئی اور اسے خود سے دور کرنے کی کوشش کرنے لگی
“اس دماغ میں بٹھا لو تم اب مسز زہرون ہو”
وہ چہرے پر فاتحانہ مسکراہٹ سجائے اسے بولتے ساتھ جھٹکے سے قریب کرگیا اور عینب اسے غصے سے جاتا دیکھنے لگ گئی۔
“بہت زبردست مووی ہے کیا چوائس ہے تمہاری”
غزلان بہزاد کے باہر اتے ہی ہائسم کو مخاطب کرتے ہوئے مسکرا کر کہنے لگی ہائسم مسکرانے لگا بہزاد سرد نگاہوں سے دونوں کو دیکھ رہا تھا اسکا بس نہیں چل رہا تھا وہ ہائسم کا قتل کردے
“ہائسم اور غزلان میں نے درید جہاں اب رہ رہا ہے وہ بھی ڈھونڈ لی ہے فوکس آن مشن”
وہ انتہائی غصے سے ان دونوں کو اپنی جانب متوجہ کروانے لگا دونوں نے اسے دیکھا۔
“اوہ واہ”
ہائسم مسکراتے ہوئے اسے کہنے لگا غزلان بھی اٹھی بہزاد نے ہائسم کو جانے کا اشارہ کیا وہ اسکے ایک اشارے پر وہاں سے چلا گیا غزلان اسکے جاتے ہی بہزاد کو نظر انداز کرتی اوپر کی جانب بڑھ گئی
“کیا ہورہا ہے مجھے یہ میرے حواسوں پر کیوں سوار ہو رہی کے”
وہ اپنے بالوں پر ہاتھ ہھیرتی الجھے ہوئے انداز میں کنفیوز سا دل میں بولا۔
“بلیک کافی”
وہ میڈ کو حکم دیتے ساتھ واپس کمرے کی طرف بڑھ گیا میڈ اسکی بلیک کافی بنانے لگ گئی۔
کافی بنا کر میڈ اسکے روم میں ناک کرتے ہوئے اسے کافی دینے لگی
“میم کو بلاو سر نے امپورٹنٹ بات کرنی ہے”
وہ اسے دیکھتے ہوئے امپورٹنٹ ر زور دیتا غزلان کو بلانے کا کہنے لگا جس پر وہ اثبات میں سر ہلا کر اوپر کی جانب بڑھ گئی۔
پانچ منٹ بعد دروازہ پھر سے ناک ہوا غزلان کو سامنے موجود دیکھ اس نے اسے اندر کا راستہ دیا وہ چہرے پر سنجیدگی سجائے خاموشی سے اندر بڑھ گئی۔
“بولیں”
وہ اسے دیکھے بغیر نظریں کمرے میں گھماتے ہوئے سپاٹ سے لہجے میں بولی۔
“مشن سے ریلٹڈ بات کرنی ہے”
وہ اسکے ساتھ بیٹھتے ہوئے اسے بولا غزلان نے اب کی بار اسے دیکھا اور اثبات میں سر ہلا گئی۔
وہ لیپ ٹاپ میں اسے دیکھاتے ساتھ مزید قریب ہوا غزلان اسکے قریب آئے پر کنفیوز سی ہو رہی تھی دل نے ایک بیٹ مس کی وہ مڑ کر اسے دیکھنے لگ گئی اسکی نظریں لیپ ٹاپ کے بجائے اس پر مرکوز تھی اسکے دیکھنے پر وہ نظریں لیپ ٹاپ پر جما گیا
“دور رہ کر بھی بتایا جارہا”
وہ اسے دیکھتے ہوئے گھبراتے ہوئے بتانے لگی بہزاد اسے دیکھنے لگا۔
“مجھے تمہارے ساتھ قریب رہنے کا شوق نہیں”
وہ اسے دیکھتے ہوئے غصے سے بولتے ساتھ اٹھ کھڑا ہوا غزلان اسے گھور کر دیکھنے لگی
“یہ سب جو مجھے بتا رہے ہیں آپ ہائسم اور اینڈی کے ہوتے ہوئے یہی سب بولا تھا”
وہ اسے چھوٹی آنکھیں کیے کہتی کمرے سے باہر کی طرف چلی گئی اور وہ اسے جاتا دیکھنے لگ گیا۔
خان نے رویش کو گھر چھوڑا وہ بامشکل چل کر گھر میں داخل ہوئی یوسف صاحب راحت بیگم اور زرمیش کی نظر اس پر گئی وہ سب اسے دیکھتے ہی پریشان ہوگئے۔
“یہ کیسے کیا ہوا”
راحت بیگم اسکی جانب بڑھ کر فکرمندی سے پوچھنے لگی جس پر رویش انہیں دیکھتے ہوئے جھوٹی کہانی بنانے لگ گئی۔
“مجھے تو تمہاری اب سمجھ نہیں آتی رویش گھر سے زیادہ تر باہر ہی رہتی ہو”
وہ اسے دیکھتے ہوئے غصے سے کہنے لگے جس پر وہ شرمندہ سی نظریں جھکا گئی۔
“سوری یہ لاسٹ ٹائم تھا نیکسٹ ٹائم ایسا نہیں کروں گی مجھے ریسٹ کرنا ہے”
وہ ایکسکیوز کرتے ہوئے کہتے ساتھ اوپر کی جانب بڑھ گئی جس پر وہ سب خاموشی سے اسے جاتا دیکھنے لگ گئ۔
“میں دیکھتی ہوں”
زرمیش کہتے ساتھ اوپر کی جانب قدم. بڑھا کر اسکے کمرے کی طرف بڑھ گئی ۔
“رویش با”
زرمیش اسکے پاس اتے اسے پکارنے لگی جب رویش نے اسے ٹوکا۔
“مجھے کچھ دیر اکیلا رہنا ہے”
وہ اسے جاتا دیکھتے ہوئے سرد لہجے میں بولی جس پر وہ اسے دیکھتے خاموشی سے وہاں سے چلی گئی۔
جاری ہے۔
