280.4K
41

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Black Love) Episode 16

وہ نیچے آئی اور بہزاد کیساتھ موجود خالی جگہ پر بیٹھنے کےبجائے وہ ان دو موجود لڑکوں میں سے ایک کیساتھ آکر بیٹھ گئی بہزاد جو لیپ ٹاپ پر نظریں مرکوز کیے ہوئے تھا اچانک نظر اٹھا کر غزلان کو دیکھا جو اسے نہیں دیکھ رہی تھی۔

“پلان بتاؤ”
وہ غزلان کو ہی دیکھتے ہوئے تینوں کو مخاطب کرنے لگا جس پر دونوں لڑکوں نے اثبات میں سر ہلا دیا جبکہ غزلان نے کوئی جواب دینا ضروری نہیں سمجھا۔
بہزاد انہیں لیپ ٹاپ سے درید کے گھر کو دیکھاتے ہوئے پلان بتانے لگا

“دو دو پاٹنرز بن جاتے ہیں میں اور غز”
بہزاد پلان بتانے کے بعد ان تینوں کو دیکھتے ہوئے سنجیدگی سے بول رہا تھا غزلان نے اسے بولا

“نہیں میں ہائسم کی پاٹنر بنو گی”
وہ فورا سے اسے دیکھتے ہوئے بولی بہزاد خاموش ہو گیا

“اوکے پاٹنر”
ہائسم مسکراتے ہوئے اسے تالی کا اشارہ کرتے ہوئے بولا غزلان بہزاد کو نظر انداز کر کے مسکراتے ہوئے اسے تالی مارنے لگی بہزاد کی آنکھیں سرخ ہو گئی

“کل پھر پلان اسٹارٹ کریں گے باس”
ہائسم قسے دیکھتے ہوئے کہتے ساتھ اٹھ کھڑا ہوا دوسرا لڑکا بھی اٹھ کھڑا ہوا۔

“اوکے بائے پاٹنر”
ہائسم سے ہاتھ ملاتے ہوئے مسکراتے ہوئے کہنے لگا وہ بھی سر کو خم دے گئی
ان دونوں کے جاتے ہی غزلان بغیر کوئی بات کیے اٹھ کر چلی گئی۔

“میم کھانا”
میڈ اسے اوپر جاتا دیکھ پکارتے ہوئے اسے بتانے لگی

“روم۔میں لے آؤ میں وہی کروں گی”
وہ مڑ کر اسے دیکھتے ہوئے بولی بہزاد جو ابھی روم سےنکلا تھا اسے نظر انداز کرتی اوپر کی جانب بڑھ گئی۔

“لگتا ہے اس بار سیریس ہو گئی”
وہ اسے اوپر جاتا دیکھ کر دل میں کہنے لگا تبھی میڈ اسکی جانب آئی

“مجھے بھوک نہیں”
اس سے پہلے وہ کچھ بولتی وہ کہتے ساتھ باہر کی جانب قدم بڑھا گیا


“کیا”
دوسری جانب سے خبر ملتے ہی درید حیرت سے کہنے لگا

“جی صاحب موت کے ڈر سے اس نے اسے سب بتادیا”
وہ اسے گھبراتے ہوئے بتانے لگا درید کو خوف اور غصہ دونوں ایا

“انتہائی ڈرپوک لوگ رکھے ہوئے ہیں تم نے کچھ نڈر ادمی رکھو”
وہ غصے سے کہتے ساتھ فون بن کر گئے اور یہاں سے نکلنا کا راستہ سوچنے لگ گئے

“اتنی جلدی اس ملک سے تو نہیں نکلا جا سکتا جگہ بدلنی پڑے گی”
وہ ٹہلتے ہوئے کچھ سوچتے ہوئے پریشانی سے کہنے لگا


“نکاح کر تو لیا ڈیڈ کو کیا کہو گے”
وہ اسے سوالیہ نظروں سے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگا

“وہ میرا کام ہے”
وہ چہرے پر مسکراہٹ سجائے اسے کوٹ دیتے ہوئے بتانے لگا عینب اسے سب گھور کر دیکھتی رہ گئی

“کرنا سیدھا سمجھتی تھی اتنے نہیں ہو تم”
وہ اسے دیکھتے سخت لہجے میں بولتی کوٹ پہننے لگ گئی

“مجھے یہ سب تم نے ہی کرنے پر مجبور کیا اور مان لو عینب تم مجھ سے محبت کرتی ہو ورنہ بہت جلد میں تمہیں یہ الفاظ بولنے پر مجبور کردوں گا”
وہ اسے دیکھتے ہوئے سنجیدگی سے بولا عینب اسے دیکھ رہی تھی

“دیکھتے ہیں اس دفعہ عینب یوسف نہیں ہارے گی”
وہ اسے شرطیہ انداز میں بولتی اٹھ کھڑی ہوئی اور زہرون بھی کھڑا ہوا اور دونوں چل دیے۔


صبح وہ بالوں کو جوڑے میں قید کیے ٹراوزر شرٹ میں سیڑھیاں اترتی نیچے کی جانب بڑھی نظر ڈائننگ پر گئی بہزاد کو موجود دیکھ وہ نظروں کا تعاقب دوسری سمت کر گئی۔

“صوفیہ”
وہ کچھ کی جانب دیکھتے ہوئے اسے پکارنے لگ گئی تبھی وہ کچن سے باہر آئی

“یس میم”
وہ فورا سے اس سے پوچھنے لگی غزلان اسے ناشتے کا بولتی اوپر کی جانب واپس بڑھ گئی بہزاد نے گردن موڑ کر اسے دیکھا۔

“بہزاد فیل کرنے کی ضرورت نہیں تم صرف مشن پر دھیان دو اپنے سب سے بڑے دشمن کو اسکے انجام تک پہنچانا ہے”
وہ نظریں واپس میز پر مرکوز کیے ان میں سرخ پن اور سرد پن لیے دل میں بولا

“سمجھ رہا تھا بات کیے بغیر مر جاوں گی ابھی تو شروعات ہے ابھی دیکھو مسٹر بہزاد غزلان کیسے کیسے اگنور کرتی ہے تمہیں”
وہ کمرے میں اتے ساتھ بیڈ پر بیٹھ کر چہرے پر مسکراہٹ سجائے بولی تبھی صوفیہ ناشتہ لے آئی۔


“مجھے جانا ہے بارہ بجے جانا تھا لیٹ ہو گئی ہوں”
وہ گھڑی پر نظر ڈالتے ہوئے پریشانی سے کہتے ساتھ بیگ لیتی چلی گئی۔

“بتا کر تو جاتی کہاں جارہی ہیں”
زرمیش پیچھگ فکرمندی سے بولی اور واپس اندر کی جانب بڑھ گئی

“ہاں ہاں یونیب بس پہنچ رہی”
وہ گاڑی میں بیٹھتے ہوئے اسے اسٹارٹ کرتے ساتھ یونیب کی کال اٹینڈ کرتے ہوئے اسے بولی

“اوکے”
اسے کہتے ساتھ فون بن کر کے ڈش بورڈ پر رکھتے ساتھ وہ گاڑی سڑک پر دوہرا گئی
کچھ ہی دیر میں یونیب کی دی ہوئی لوکیشن میں وہ پہنچ گئی تھی وہ گاڑی سے اتر کر بیگ اٹھا کر اس جگہ کو دیکھنے لگ گئی

“یہ کونسی جگہ ملنے کیلیے بلایا ہے”
وہ اسے جگہ کو دیکھتے ہوئے پریشانی سے خود سے بولی اور فون نکال کر اسے دائل کیا

“ہاں آؤ اگے میں سامنے ہی ہوں”
یونیب نے اسے بتایا رویش اوکے بولتی اس کے کہے مطابق اگے بڑھنے لگی
تھوڑا اگے پہنچ کر اسے معلوم وہ کوئی جنگل ہے اس کے ماتھے پر بل نمودار ہوئے وہ مزید اگے چلنے لگ گئی

“بہت اگے آ گئی ہوں مگر یونیب نہیں دیکھ رہا”
وہ خود سے کہتے ساتھ فون پھر سے نکالنے لگی اور اس کا نمبر دائل کرنے لگی مگر سگنل نہیں تھے

“اوہ یار”
وہ پریشانی سے کہتے ساتھ فون واپس رکھ کر مزید آگے قدم بڑھانے لگ گئی۔


“انکل مجھے بات کرنی ہے ضروری”
زہرون راحت ںیگم عینب اور زرمیش کی موجودگی میں یوسف صاحب کو مخاطب کرتے ہوئے بتانے لگا

“ہاں بولو”
وہ اسے دیکھتے ہوئے اجازت دینے لگے عینب نے زہرون کو دیکھا

“اللہ کرے ڈیڈ ایسا ذلیل کریں لگ پتہ جائے ساری ضدیں نکل ائیں گے”
عینب چائے پیتے ہوئے اسے گھور کر دل میں کہنے لگی زرمیش اسے دیکھنے لگ گئی

“وہ میں اور عینب ایکدوسرے میں انٹرسٹڈ تھے کہتے اسرار پر کل ہم دونوں نے نکاح کر لیا عینب کو میں نے مجبور کیا “
وہ نظریں جھکائے انتہائی شرافت سے بولا جس پر راحت بیگم سمیت یوسف صاحب نے زہرون کو دیکھا۔

“باقی باتوں پر کوئی اعتراض نہیں ہے لیکن نکاح تو ہی ہی نہیں سکتا سرپرست کے بغیر”
راحت بیگم اسے دیکھتے ہوئے بولی زہرون انہیں دیکھنے لگ گیا اور عینب کے چہرے پر مسکراہٹ آ گئی

“میں نے منع کیا تھا آپ بھتیجا خود کو ختم کرنے کی دھمکیاں دے رہا تھا”
عینب صوفے سے اٹھ کر غصے سے یوسف صاحب اور راحت بیگم کو بتانے لگی

“عینب اب تمہارا ہونے والا شوہر ہے کل رات جو تم نے کیا وہ غلط ہے میں ابھی. بھائی سے بات کرتا ہوں اور شام کو نکاح کرواتا ہوں”
یوسف صاحب اسے ٹوک کر کہتے ساتھ زہرون سے مخاطب ہوئے

“ٹھیک ہے”
زہرون انہیں دیکھتے ہوئے کہنے لگا جس پر وہ فون ملانے لگ گئے

“بھائی طہ ہے آج شام نکاح ہوگا بھائی صاحب کو کوئی اعتراض نہیں وہ تو بلکے خوش ہوئے کہ ان کے بیٹے کو لڑکی پسند آئی”
یوسف صاحب مسکراتے ہوئے بولے وہ ہمیشہ سے چاہتے تھے ان کی چاروں بیٹیوں کو بہت اچھا ہمسفر ملے زہرون سے اچھا عینب کیلیے کوئی نہیں ہو سکتا تھا راحت بیگم بھی بےحد خوش تھی


“کہاں رہ گیا میرا پاٹنر”
وہ گھڑی میں دیکھتے ہوئے کہتے ساتھ کوٹ اٹھا کر بولی

“بہت انتظار ہے”
بہزاد جو ساتھ کھڑا تھا ناچاہ کر بھی بول پڑا غزلان نے اسے دیکھا اور کوئی جواب دیے بغیر جیکٹ پہننے لگی جلدی کے چکر میں جیکٹ کے بازو نہیں پہنے جارہے تھے بہزاد اسے دیکھ رہا تھا اس کے پیچھے آیا اور بڑے اطمینان سے اسے جیکٹ کے بازو پہنا کر سامنے آتا جیکٹ ٹھیک کرتے ساتھ اسے تھوڑا قریب کیا غزلان کی ہارٹ بیٹ مس ہوئی زندگی میں ایک اسی شخص کے سامنے وہ بےبس ہوئی تھی۔

“جلدی میں. کبھی کام ٹھیک نہیں ہوتا”
وہ اسکے کان میں سرگوشی کرتے ہوئے اسے مزید بےبس کر رہا تھا تبھی اسکی کل والی کہی باتیں ذہن میں آئی

“میں سب خود کر سکتی ہوں مدد کی ضرورت نہیں تھی”
وہ دور ہوتے ہوئے فورا سے بولی بہزاد اسے دیکھ رہا تھا تبھی ہائسم اور اینڈی آ گئے

“چلنا چاہیے ہمہیں”
غزلان کہتے ساتھ ہائسم کیساتھ جاکر کھڑے ہوتے ہوئے بولی بہزاد کو ہائسم سے چڑ سے ہو رہی تھی بہزاد اثبات میں ہلا گیا اور غزلان اور ہائسم چل دیے وہ دونوں بھی چلنے لگے۔

“سمجھا ہے جب دل چاہے گا قریب آئے گا دور جائے اور انسلٹ کرے گا غزلان قریشی ہوں سب سے زیادہ امپورٹنٹ سیلف رسپیکٹ ہے”
وہ غصے سے دل میں بولتے ساتھ گاڑی کا دروازہ کھول کر بیٹھ گئی اور ہائسم ڈرائیونگ سیٹ سنبھال گیا اور گاڑی اسٹارٹ کر کے سڑک پر دوہرا دی۔
کچھ ہی دیر میں درید بیگ کے گھر کے باہر موجود تھے اس کے گھر کے اندر داخل ہونے کے دو راستے تھے
غزلان اپنی گن لاڈ کرتے ساتھ ہائسم کے پیچھے چلتی اندر کی طرف بڑھنے لگی دوسری جانب وہ ایک ہاتھ میں چاقو ایک میں گن لیے دوسری جگہ سے اندر اینٹر ہوا دونوں اینٹر ہوئے بلکل الگ ماحول تھا لڑکا لڑکی ٹی وہ لاؤنچ میں بیٹھے ٹی وی دیکھ رہے تھے وہ چاروں ایک دوسرے کو دیکھنے لگ گئی

“او مائے بار”
لڑکی نے مڑ کر دیکھا چیخ مارتے ہوئے لڑکے سے چپک گئی بہزاد کی صرف آنکھیں نظر آرہی تھی ان تینوں نے بھی اپنا چلتی ڈھکا ہوا تھا یہ بہزاد نے ان سے بولا تھا

“کونسی گیم کھیل رہے ہو درید بیگ تم”
بہزاد آنکھوں میں وحشت لیے اپنا غصہ ضبط کرتے ہوئے دل میں بولا

“شششش ایک اواز نہیں”
بہزاد ان دونوں کے قریب اتے ہوئے خاموش رہنے کا کہتے ساتھ ان تینوں کو یہاں سے چلنے کا اشارہ کرنے لگا۔وہ چل دیے اور بہزاد خود بھی چلا گیا وہ لڑکا گن اور چاقو دیکھ کر شاید پریشان ہو گیا تھا۔


“اففف پھر رویش غائب ہے ہفتہ پہلے بھی غائب تھی”
یوسف صاحب پریشانی سے بولے عینب انہیں دیکھنے لگ گئی اور اچانک اسے یاد آیا اس کا آج یونیب سے ملنے کا پلان تھا

“یونیب کیساتھ ہے وہ”
عینب فورا سے بتانے لگی یوسف صاحب اور راحت ںیگم نے اسے دیکھا

“تو فون کیوں نہیں اٹھا رہی اور یونیب کیساتھ کچھ زیادہ نہیں یہ گھومنے لگ گئی”
یوسف صاحب اب کی بار تھوڑا غصے سے بولے جس پر عینب خاموش ہو گئی۔

“خیر نکاح ہوجائے پھر فون کرتے اسے”
یوسف صاحب کہتے ساتھ مولوی صاحب کو نکاح شروع کرنے کا بولنے لگے
عینب گولڈن رنگ کے نفیس سے جوڑے میں ملبوس لائٹ سے میک ایپ کیے بہت پیاری لگ رہی تھی زہرون کی نظریں تو اسی پر مرکوز تھی مگر وہ اسے اگنور کر رہی تھی۔

“نہ جینا حرام کیا تو کہنا مسٹر زہرون”
وہ چہرے پر مسکراہٹ سجائے دل میں بولی دونوں کا ایک بار پھر نکاح ہوچکا تھا۔


“اففف یونیب عجیب کہاں بلایا مجھے”
وہ وہی بیٹھی منہ بنائے تھکے سے انداز میں بولی

“اففف کوئی کیڑا وغیرہ نکل آیا تو”
وہ اٹھ کر کھڑے ہو کر بولتی واپس جانے کیلیے مڑی جب اچانک اس کا سر چکرایا اور وہ وہی گر گئی

“اب کی بار سر پکا یوسف تکلیف میں پہنچے گا”
یونیب فون کان سے لگائے اسے چہرے پر مسکراہٹ سجائے بولا

“تم نے میرا یقین جیت لیا اب کبھی شک نہیں کروں گا تم پر یونیب”
گیلانی کے الفاظ سنتے ہی اسکے لبوں پر مسکراہٹ آئی اور وہ شکریہ کہ کر فون رکھ گیا۔

“آئی ایم سوری رویش”
وہ اسکی تصویر کو دیکھتے ہوئے بولتے ساتھ فون جیب میں رکھ گیا


“پاگل ہو اب بتا رہے ہو مجھے ابھی گاڑی نکالو”
وہ رویش کا سنتے ہی چیخ کر کہنے لگا اس کا ملازم گھبرا گیا اور اثبات میں ہلا کر گاڑی اسٹارٹ کردی وہ فورا بیٹھا

“جلدی چلاؤ”
خان اسکی ڈرائیونگ پر اسے دھاڑتے ہوئے بولا وہ کانپتے اور گھبراتے ہوئے اثبات میں سر ہلا کر اسپیڈ تیز کر گیا

“اففف ایک پتہ نہیں یہ لڑکی کہاں غائب ہو جاتی ہے”
یوسف صاحب گھر میں پریشان ٹہلتے ہوئے کہنے لگے راحت بیگم اپنی جگہ پریشان تھی

“اس دفعہ آئے گی تو سختی سے پیش او گی “
وہ سوچتے ہوئے بولی عینب بھی پریشان ہو چکی تھی زہرون کبھی یوسف صاحب کبھی راحت بیگم تو کبھی عینب کو دیکھ رہا تھا

“آپ کی آج ویڈنگ نائٹ تھی نا”
زرمیش اسکے پاس آتے ہوئے مسکرا کر بولی زہرون اسے دیکھنے لگ گیا

“دیکھ نہیں رہی ہو گئی ویڈنگ نائٹ”
زہرون منہ بسورے بولا عینب کے چہرے کی مسکراہٹ مزید گہری ہوگئی


“کس نے پیسے دیے تھے جھوٹ بولنے کے”
بہزاد گھر اتے ساتھ اپنے ڈرائیور کی گردن دبوچ کر انتہائی سختی سے پوچھنے لگا اس شخص کا موجود تھر تھر کانپ رہا تھا

“سسس۔۔سسر آٹھ ۔۔سال س۔۔سسے ۔۔صرف آ۔۔پ کے۔۔۔لیے کام ۔۔۔۔کررہا”
وہ انتہائی خوف سے اور کانپتے لبوں سے اسے جواب دینے لگا غزلان اسے دیکھ رہی تھی

“اسٹاپ اٹ مسٹر بہزاد”
وہ اونچی اواز میں اس کو دیکھتے ہوئے بولی بہزاد اپنی سرخ ان رہا سرد نگاہوں سے اسکی جانب دیکھنے لگا

“چھوڑو انہیں لازمی نہیں یہ قصووار ہو ہو سکتا درید بیگ کے کسی ادمی نے اسے تمہارے متعلق بتایا ہو”
وہ اسے دیکھتے سخت لہجے میں بتانے لگی بہزاد کی گرفت ایکدم ڈھیلی پڑی اس شخص نے یہاں سے فورا جانے میں اپنی بھلائی سمجھی

“تم اتنے یقین سے کیسے کہ سکتی ہو”
وہ اسے سرد لہجے میں اسکی جانب ایک قدم بڑھائے پوچھنے لگا

“مجھے کیونکہ یہ سچا لگا”
وہ سینے پر بازو باندھے اپنا ڈر اسکے سامنے ظاہر کیے بغیر اطمینان سے بولی۔

“ذپنے مشورے اپنے پاس رکھو اپنی ح”
وہ غصے سے ہر لفظ چباتے ہوئے بول رہا تھا جب غزلان نے ایک. بار پھر ٹوکا۔

آپ اپنی حد میں رہو میں غزلان قریشی ہوں اور اپنی حد میں ہوں اپنے باپ کے علاوہ کسی کی اونچی اواز نہیں سنی اور نہ ہی اب سنو گی مائنڈ اٹ”
وہ چیخ کر اسے غصے سے دیکھ کر بولتی اوپر کی جانب بڑھ گئی میڈ فورا اندر کچن میں چلی گئی ہائسم اور اینڈی خاموشی سے چلے گئے کیونکہ پہلی بار بہزاد سے بلیک بیسٹ سے اس قدر اونچی اواز میں بات کی تھی بہزاد کی آنکھیں اس وقت سرخ ہو چکی تھی۔

جارہی ہے