Black Love By Mahnoor Shehzaad Readelle50302 (Black Love) Episode 10
Rate this Novel
(Black Love) Episode 10
“میں تمہیں ہرگز ایسا نہیں سمجھتی تھی مجھے جانا ہے یہاں سے دو منٹ سے پہلے”
رویش غصے سے سامنے موجود شخص کو دیکھ چیختے ہوئے کہتے ساتھ جانے لگی سامنے موجود شخص خاموشی سے اسی جگہ کھڑا اسے دیکھ رہا تھا۔
“اس سے کمرے سے ایکدم قدم نہیں باہر نکلنا چاہیے”
اسکی انتہائی سرد اور بھاری آواز سے رویش کے بڑھتے قدم رکے اسکی آواز سے وہ تھوڑا سہمی تھی۔
“ورنہ کیا کرو گے تم”
رویش اسکی جانب قدم بڑھاتے ہوئے پوچھنے لگی جب اس نے اسکے بازو کو مضبوطی سے تھام کر بیڈ پر دھکا دیا
“اب سنو تمہارے ساتھ تمہارے اس دوست نے کیا کیا”
وہ گھٹنوں کے بل اسکے سامنے بیٹھ کر گن نیچے رکھتا نظریں اسی پر مرکوز کیے کہنے لگا جس پر رویش اسے دیکھنے لگ گئی
“تم بےہوشی کی حالت میں ملی تھی مجھے وہ تمہیں بےہوش چھوڑ کر وہاں سے جا چکا تھا”
وہ اسے دیکھتے ہوئے ساری بات تفصیل سے بتانے لگا دو پل رویش بت بنی رہی
“میں ماننے کیلیے تیار نہیں ہوں کہ وہ میرے ساتھ ایسا کرسکتا ہے”
وہ فوراً سے اسکی طرف دیکھ اعتماد بھرے لہجے میں کہنے لگی خان دو پل کیلیے اسے دیکھتا رہ گیا۔
“نہیں کرنا تو مت کرو یقین لیکن ابھی تم میری ذمہداری ہو میں کل تک یہاں سے تمہیں حفاظت سے تمہارے گھر پہنچا دوں گا”
وہ اٹھ کر اسے دیکھتے ہوئے کہنے لگا رویش اسے جاتا دیکھنے لگ گئی۔
“اوہ invisible man”
وہ اسے جاتا کمر کو گھورتے ہوئے پکارنے لگی جس پر مڑ کر اس نے اسے دیکھا
“تمہارے پاس ثبوت ہے اس بات کا بےہوش کرنے والا مجھے یونیب تھا”
وہ بیڈ سے کھڑی ہوکر سینے پر بازو باندھے پوچھنے لگی جس پر اسکے لبوں پر مسکراہٹ آئی اور نفی میں سر ہلا گیا
“تو پھر تم چاہے ہزار باتیں بھی کرلو میں یہ بات ماننے سے صاف انکار کرتی ہوں “
وہ تھوڑے سخت لہجے میں اسے کہتے ساتھ واپس سے بیڈ پر بیٹھ گئی اور وہ خاموشی سے کمرے سے چلا گیا۔
“اسکی ایک ایک چیز کا خیال رکھنا”
باہر آتے ہی وہ اپنے سرونٹ کو حکم صادر کرتے ہوئے وہاں سے آگے بڑھانے لگا
“جی خان سر “
وہ فوراً اسکا حکم مانتے ہوئے اثبات میں سر ہلا کر بولا۔
********
بہزاد ایک ڈھابے میں رکا تھا کیونکہ اسے لگا تھا غزلان جو بہت تیز بخار ہورہا ہے اورواقع ایسا ہوا تھا وہ پیدل چل کر درید کے علاقے میں نہیں پہنچنا چاہتا تھا لیکن دشمنوں کی وجہ سے اسے یہ سب کرنا پڑا تھا غزلان اسکے سینے میں منہ دیے مزے سے سونے میں مصروف تھی اسوقت وہ کوئی بچی لگ رہی تھی۔
“ویک اپ غزلان”
وہ اسکی گال تھپتھپاتے ہوئے اسے اٹھانے کی کوشش کرنے لگا اس نے تھوڑی سی آنکھیں کھولی اور نظریں اس پر مرکوز کی
“کیا ہوا پہنچ گئے”
وہ پوری آنکھیں کھولی سیدھی ہوکر بیٹھتی خراب گلے کیساتھ کھانستے ہوئے پوچھنے لگی
“نہیں کچھ کھانے کیلیے رکا ہوں”
وہ اسے جواب دیتے ساتھ اپنی جیکٹ اتار کر اس پر ڈالنے لگا کیونکہ غزلان ڈھنڈ سے کانپ رہی تھی۔
“اوہ تو آپ کو بھوک بھی لگتی ہے”
وہ مذاق اڑانے والے انداز میں کہنے لگی جس پر وہ اسے دیکھنے لگ گیا غزلان نے اسکے کندھے پر اپنا سر ٹکا دیا۔
“تمہیں ڈر محسوس نہیں ہوتا”
وہ ایک نظر اس پر ڈالے پوچھنے لگا غزلان نفی میں سر ہلا گئی
“نہیں مجھے محفوظ محسوس ہوتا ہے آپ کے قریب رہنے سے واحد مرد ہو جسکے اس قدر قریب غزلان آئی ہے ورنہ نفرت ہے مجھے مردوں سے “
وہ اسے دیکھتے ہوئے نم آنکھوں سے بتانے لگی بہزاد کی نظر بھی اس پر گئی۔
“مجھ سے دور رہا کرو یہی بہتر ہے”
وہ فوراً سے اپنے ماضی کا خیال آتے ہی اپنے کندھے سے اسکا سر جھٹک کر سخت لہجے میں کہنے لگا غزلان اسے دیکھنے لگ گئی اور خاموش رہی۔
تبھی کھانا آ گیا بہزاد اور اس نے مل کر کھانا کھایا۔
“یہ میڈیسن کھاؤ”
وہ اسکی جانب ٹیبلٹ کرتے ہوئے دیکھے بغیر کہنے لگا غزلان کے لبوں پر مسکراہٹ آئی۔
“آپ کو فکر ہے میری”
وہ اسے دیکھتے ہوئے آنکھوں میں میں خوشی لیے مسکرا کر کہنے لگی
“غللط فہمی ہے بس مشن کیلیے”
وہ فوراً سے اسے ہرٹ کرتا کہتے ساتھ دور جا کر کھڑا ہوگیا غزلان اسے جاتا دیکھنے لگ گئی۔
“مجھے نہیں”
غزلان ابھی اداس لہجے میں بول رہی تھی تبھی بہزاد نے اسے ٹوکا
“نہیں کرنے کی ہمت نہ کرنا ورنہ ابھی تک تم سے اصل چہرہ چھپا کر رکھا ہے سامنے لے آؤ گا بہتر یہی ہے کھا لو”
وہ اسکی بات فوراً سے سمجھتے ہوئے سخت تیور لیے سرد لہجے میں بولا غزلان اسکی بات پر ڈر سے دوا کھا گئی
اور بہزاد کچھ کہے بغیر اسکا ہاتھ تھامتا چلنے لگا غزلان اسے پر نظریں مرکوز کیے ہوئی تھی۔
*******
“کہیں بھی نہیں ملی مجھے وہ پتہ نہیں کہاں ہے”
عینب پورا علاقہ گھوم کر رویش کو پتہ لگائے بغیر گھر واپس آتے ہوئے یوسف صاحب اور راحت بیگم کو بتانے لگی
وہ سب پریشانی سے وہی ٹی وی لاؤنچ میں بیٹھے تھے عینب اور زہرون بھی وہی بیٹھ گئے
“اللہ کرے گا وہ ٹھیک ہوگی آپ دونوں چل کر ریسٹ کرلیں بہت دیر سے یہاں بیٹھے ہیں”
عینب راحت بیگم اور یوسف صاحب کی فکر کرتے ہوئے بولی راحت بیگم فوراً نفی میں سر ہلا گئی یوسف صاحب خاموش رہے ۔
“گیلانی نے کچھ کیا ہے اگر رویش کو ہلکی سی بھی خروش آئی تو اس گیلانی کا قتل اپنے ہاتھوں سے کروں گا میں”
یوسف صاحب ایکدم طیش میں آتے چیخ کر کہنے لگے جس پر سب لوگ سہم گئے
“ابھی آپ دونوں کو ریسٹ کی ضرورت ہے اگر بیمار ہوگئے پھر صبح مل کر ڈھونڈنے جانا ہے نا رویش کو”
عینب یوسف کو ریلیکس کرتے ہوئے آرام دہ انداز میں کہنے لگی جس پر وہ اسکی بات سمجھ کر اثبات میں سر ہلا کر کمرے میں چلے گئے راحت بیگم بھی انکے پیچھے گئی۔
“تم بھی جاؤ سوجاؤ زرمیش”
عینب زرمیش کی طرف دیکھتے ہوئے کہنے لگی جس پر وہ اثبات میں سر ہلا کر کمرے میں چلی گئی۔
*******
وہ دونوں اسکے اڈے کے باہر موجود تھے غزلان اس جگہ کو دیکھ رہا تھا ایسا نہیں تھا وہ ایسی جگہوں پر کبھی نہیں آئی لیکن ناجانے کیوں وہ تھوڑا ڈر رہی تھی اس نے غزلان کی جانب دیکھا۔
“چلو”
وہ اسے دیکھتے اندر کی طرف چلنے کا اشارہ کرنے لگا جس پر غزلان اثبات میں سر ہلا گیا۔
“آر یو اوکے”
وہ اسکے چہرے کے تاثرات دیکھتے ہوئے پوچھنے لگا غزلان اپنے بال ٹھیک کرتی اثبات میں سر ہلا گئی
بہزاد نے فوراً چہرے پر ماسک لگایا اور اپنا چاقو جیب سے نکالا اور اسکا کا تھام کر باہر کی طرف بڑھ گیا۔
وہ دونوں اندر داخل ہوئے صرف دو لوگ ہی بیٹھے تھے۔
“کون ہے بے تو”
ایک شخص اسے دیکھتے ہوئے آواز سے لہجے میں پوچھنے لگا غزلان پیچھے ہی کھڑی ہوگئی اور بہزاد بھاری بھاری قدم اٹھائے اسطرف بڑھی۔
“درید کہاں ہے”
وہ انتہائی سرد لہجے میں پوچھنے لگا اس شخص نے آئبرو اچکا کر اسے دیکھا۔
“کو۔۔ن د۔۔رید”
وہ شخص اسکی سرد سرخ نگاہوں میں دیکھ خوف سے کانپتے لبوں سے پوچھنے لگ گیا۔
“کون درید”
بہزاد نے کہتے ساتھ چاقو نکال کر اسکی گردن پر رکھا وہ شخص گھبرا گیا اور دوسرے ہاتھ میں دوسرا چاقو گھمانے لگ گیا غزلان پیچھے کھڑی خاموشی سے سب دیکھ رہی تھی۔
“مرنا کا شوق ہے یا نہیں”
وہ اسے دیکھتے ہوئے سخت تیور لیے سخت لہجے میں کہنے لگے جس پر اس شخص نے خوف سے تھوک نگلی
“پہلے پیچھے مڑو”
وہ شخص اسے دیکھ کر کہنے لگا بہزاد نے مڑ کر دیکھا تو ایک لڑکا اسکے سر پر گردن تانے کھڑا تھا۔
“میں تو ڈر گئی”
غزلان اسے دیکھتے ہوئے بولی اور پھر مسکراتے ساتھ ٹانگ اسے دے کر ماری اور گن نکال کر لوڈ کرکے اس شخص کی جانب کی
بہزاد نے مڑ کر واپس اس شخص کو دیکھا
“اب بول”
وہ طیش میں بولا وہ لڑکا سہم گیا جس پر بہزاد نے نوک پر دباؤ ڈالا
“مممم۔۔۔میں بتاتا ہوں لندن”
وہ گھبراتے ہوئے اسے دیکھتے ہوئے بولا بہزاد نے چاقو اسکی گردن سے ہٹایا اور آٹھ کر جانے لگا مگر جاتے جاتے اسکی گردن اڑا گیا ساتھ موجود شخص خوف سے کانپنے لگ گیا
“بی۔۔۔۔سٹ”
وہ شخص خوف سے اسے دیکھ کر بولا بہزاد نے اپنی نظریں اسکی جانب کی۔
“بلیک بیسٹ”
وہ اس پر نظریں مرکوز کیے سرد لہجے میں جواب دیتا اس موجود شخص کو بھی اس نے اسی طرح گردن سے اڑا دیا۔ اور غزلان نے بھی جس پر گن تانی تھی اس پر شوٹ کردیا اور وہ بےجان ہوگیا۔
“پرفیکٹ پارٹنر”
ناچاہتے ہوئے بھی بہزاد نے دل میں اسے دیکھتے ہوئے بولا اور چاقو جیب میں ڈالے دل میں بولا غزلان نے مسکرا کر اسے دیکھا۔
“اب ہم کیا کریں گے”
وہ اسے دیکھتے ہوئے اسکی طرف قدم بڑھائے پوچھنے لگی۔
“واپس جائیں گے پھر لندن”
وہ اسے جواب دیتا باہر کی جانب بڑھ گیا اور غزلان اسے دیکھ رہی تھی
“یعنی ہم پھر اتنی دور پیدل چلیں گے”
وہ اسکے پیچھے اتے ہوئے حیرت سے پوچھنے لگی جس پر اس نے اسے سامنے کی جانب اشارہ کیا جہاں گاڑی پہلے سے موجود تھا
“واہ میرے ہیرو”
وہ گاڑی دیکھ کر فوراً خوشی سے کہنے لگی اسکے کہے الفاظ پر بہزاد اسے دیکھنے پر مجبور ہوگیا
“میرا مطلب ہے یہ بہت اچھا کیا آپ نے”
وہ فوراًسے بات سنبھالتے ہوئے اسے کہنے لگی جس پر وہ بغیر کچھ کہے گاڑی کی طرف بڑھ گیا غزلان بھی خود کو چپٹ لگاتے ہوئے گاڑی کی طرف بڑھ گئی۔
جاری ہے۔
