280.4K
41

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Black Love) Episode 25

صبح یونیب کی آنکھ کھلی نظر اپنی دعائیں جانب گھمائی رویش وہاں موجود نہیں تھی اسکے ماتھے پر سلوٹیں نمودار ہوئی اس نے نظریں سامنے جی جانب کی تو جائے نماز پر بیٹھی اس حسین چہرے پر نظر گئی چہرے پر خودبخود مسکراہٹ نمودار ہو گئی سفید دوپٹہ سر پر حجاب کی صورت لیے آنکھیں بند کیے بہت پرسکون سی خدا سے باتیں کرنے میں مصروف تھی وہ اٹھ کر بیڈ کراون سے ٹیک لگا کر اسے دیکھنے میں مگن ہو گیا۔

“تم کب اٹھے”
دعا مانگنے کے بعد جائے نماز جگہ پر رکھ کر اسے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگی یونیب بیڈ سے اٹھ کر اسکے پاس آیا اور اسے اپنی حصار میں لیا

“ابھی جب تم دعا مانگ رہی تھی”
وہ اسے حصار میں لیے مسکراتے ہوئے بتانے لگا رویش کے چہرے پر بھی مسکراہٹ نمودار ہوئی
اتنے عرصے. بعد یہ صبح اسکے لیے بےحد حسین تھی وہ اسکے ماتھے پر لب رکھ فریش ہونے باتھروم کی طرف بڑھ گیا اور وہ اپنے بالوں کو برش کی مدد سے سمجھانے کیلیے ڈریسنگ کی جانب بڑھ گئی۔
فریش ہونے کے بعد یونیب اسکا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیے نیچے آیا جہاں پہلے سے ہی ناشتہ ڈائننگ پر لگا ہوا تھا کرسی کھسکا کر رویش کو بٹھایا اور پھر خود بیٹھا۔

“آج سے تم صحیح کھاؤ بہت کمزور ہو”
وہ اسے دیکھتے ہوئے تنبیہہ کرتے ساتھ اسکی پلیٹ میں پراٹھا ڈالنے لگا رویش اسے گھور کر دیکھنے لگ گئی۔

“اپنے آپ کو دیکھا ہے موٹو”
رویش گھور کر اسے جواب دیتے ساتھ پراٹھا کھانے میں مصروف ہو گئی اور یونیب نے لبوں پر مسکراہٹ آئی۔


غزلان کی طبیعت اب کافی بہتر تھی تبھی اٹھ کر بہزاد کے پاس آکر اسے پیچھے سے گلے لگا کر اپنا سر اسکی پیٹھ پر رکھا بہزاد جو کسی سے فون کر رہا کرنے میں مصروف تھا اسکی اس حرکت پر اسکے لب مسکرائے۔

“بہزاد کہیں گھومنے چلیں بور ہورہی”
وہ اسی طرح کھڑی معصومیت سے اسے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگی بہزاد اسکی جانب رخ کرتا اسکا ہاتھ تھام گیا۔

“شام میں پرامس جائیں گے ابھی ریسٹ کرو تم بلکل ٹھیک نہیں ہوئی”
کہتے ساتھ اسکے ماتھے پر لب رکھ کر بولتا اسکی گال تھپتھپاتے ساتھ چلا گیا غزلان منہ پھلا کر اسے جاتا دیکھنے لگ گئی۔

“کیا غزلان تم نے کبھی سوچا تھا تمہیں اس قدر کسی مرد کے عشق ہوجائے گا”
وہ اسے جاتا دیکھ دل میں خود سے کہتے ساتھ بیڈ پر آکر لیٹ گئی۔
تبھی سٹیفنے آئی اور اسے سوپ دیا اسکے بعد اسے میڈیسن وغیرہ سے کر چلی گئی دوائیوں کے زیر اثر وہ کچھ ہی دیر میں غزلان دوبارہ سے سو گئی۔


“ہاں اب بس اس شخص کا پتہ لگواو دیکھو میں اسے اسکے انجام تک پہنچانا چاہتا ہوں”
زہرون اسے بولتے ساتھ فون کٹ کر گیا تبھی عینب فریش ہوکر باہر آئی نظر اس پر گئی جو ناشتہ بنانے میں مصروف تھا

“گڈ مارننگ مائی بیوٹیفل وائف”
زہرون اسکے سامنے ناشتہ رکھتے ہوئے مسکرا کر کہنے لگا جس پر عینب نے اسے دیکھا

“مارننگ”
کہتے ساتھ کافی کا مگ اٹھا کر لبوں سے لگا گئی زہرون بھی اسکے ساتھ بیٹھ گیا
جاوید صاحب وغیرہ سب واپس لندن جا چکے تھے
زہرون کافی پیتے ہوئے اسے دیکھ رہا تھا عینب کی نظر اس پر گئی اور آئبرو اچکا کر اسے دیکھا

“کیوں دیکھ رہے ہو”
عینب اسے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگی زہرون مسکراتے ہوئے نفی میں سر ہلا گیا۔

“کوئی تو وجہ تھی لیکن خیر تم نے کہا تھا تم اس شخص کو جلدی ڈھونڈ لو گی”
وہ اسے دیکھتے ہوئے کافی کا گھونٹ بھرتی پوچھنے لگی زہرون نے سر کو خم دی

“جلدی لگ جائے گا پتہ”
اسے دیکھتے ہوئے کہتے ساتھ اچانک اپنا چہرہ اسکے قریب کیا عینب اسے دیکھنے لگ گئی زہرون نے اسکی گردن پر لب رکھے عینب پوری کانپی تھی اسکے اس اچانک حملے پر وہ آنکھیں بند کر گئی چاہ کر بھی وہ اسے اپنے قریب آنے سے روک نہیں سکتی تھی۔ زہرون کے لبوں پر مسکراہٹ آئی

“چھیچھوڑے”
اسکے دور ہوتے ہی آنکھیں کھول کر اسے گھور کر دیکھتی بولتے ساتھ ناشتہ کرنے کب گئی زہرون کے چہرے کی مسکراہٹ مزید گہری ہوئی۔


غزلان پلیک جیکٹ میں نیچے جینز اندر وائٹ ڈریس شرٹ پہنے بالوں کو ٹیل پونی میں قید کیے لائٹ سے میک ایپ میں پیروں پر جوگرز پہنے جانے کیلیے تیار تھی اور اس وقت وہ سیدھا بہزاد کے دل میں اتر رہی تھی۔

“چلیں”
بہزاد کو اپنے پیچھا کھڑا دیکھ کر مڑ کر مسکراتے ہوئے پوچھنے لگی بہزاد اسے گہری نظروں سے دیکھ رہا تھا۔

“تم نے واقع مجھے مارنے کا ارادہ کیا ہوا ہے ظالم حسینہ”
وہ اسکے چہرے کے قریب خمار الود اواز میں بولتے اس اسکی دل کر دھڑکنیں بےترتیب کر گیا وہ نظریں جھکا کر لب کاٹ
گئی۔

“چلیں”
وہ اس سے دور ہوکر اسکی جانب ہاتھ بڑھائے پوچھنے لگا غزلان نے اپنا ہاتھ اسکی گرفت میں دیا اور دونوں مسکراتے ہوئے چل دیے۔
ایسے ہی وہ دونوں ایک ساتھ چلتے واک کرنے میں مصروف تھے ہوس انکے جسم پر لگ رہی تھی اور یوں ساتھ چلنا دونوں کو بہت سکون دے رہا تھا

“خوبصورت لگنے لگی زندگی جب سے تم آئی ہو”
وہ اسکی طرف نظریں کیے اسے دیکھ کر بولا غزلان کے لبوں پر مسکراہٹ آئی

“شاید بنے ہی ہم ایک دوسرے کیلیے تھے مشن تو بس بہانا تھا”
وہ اسے دیکھتے ہوئے مسکرا کر بولی بہزاد اثبات میں سر ہلا گیا تبھی اسکا فون بجا

“میں آیا “
کہتے ساتھ اس کا ہاتھ چھوڑ کچھ فاصلے پر جا کر کھڑا ہوتا کال سننے لگ گیا وہ وہی کھڑی اسے دیکھ رہی تھی۔

“غزلان”
تبھی جانی پہچانی اواز اپنے کانوں میں سن کر غزلان نے مڑ کر دیکھا سامنے کھڑے شخص کو دیکھ ایک پل کیلیے وہ بھی حیران ہوئی

“محسن”
وہ اسکی شکل دیکھ کر یاد کرتی بول محسن کے لبوں پر مسکراہٹ آئی

“کہاں غائب ہوگئی تم سکول کے بعد نظر ہی نہیں آئی لیکن دیکھو مجھے تم یاد تھی “
وہ مسکراتے ہوئے اسے دیکھ کر بولا غزلان بھی مسکرادی وہ ادھر ادھر کی باتیں کرنے لگ گئے بہزاد کال کٹ کر کے واپس مڑذ غزلان کو کسی لڑکے کیساتھ مسکراتے دیکھ کر اسے حیرت ہوئی غزلان اور محسن نے ہنستے ہوئے تسلی ماری اسکے ہاتھ محسن کے ہاتھ چھونے بہزاد کے ماتھے پر سلوٹیں نمودار ہوئی آنکھیں سرخ ہو گئی رگیں تن گئی وہ غصے سے اس طرف بڑھا بغیر کوئی بات کیے غزلان کا وہی ہاتھ تھام کر اپنے ساتھ لے جانے لگا غزلان اسے دیکھنے لگ گئی محسن بھی پریشانی سے اسے دیکھ رہا تھا۔


“مجھے تو یہی کا بتایا گیا تھا”
عرفان گھبراتے ہوئے بشیر کو دیکھتے ہوئے کہنے لگا بشیر نے مڑ کر اسے دیکھا

“اگر یہ جھوٹ ہوا تو تیری جان لینے میں ایک منٹ نہیں لگاؤ گی اتنے عرصے سے انتظار کررہا ہوں ہاتھ لگنے کا نام نہیں لے رہی”
بشیر غصے سے اسے دیکھتے ہوئے کہتے ساتھ کرسی پر بیٹھا سب اسے دیکھنے لگ گئے۔

“ایک ہفتے کا وقت ہے تم سب کے پاس اسے ڈھونڈ کر میرے سامنے لاو اور اگر نہیں آئی تو تم سب کی لاشیں تمہارے گھر بھجواوں گا”
غصے سے انہیں. دھمکی دیتے ساتھ چہرے پر زہریلی مسکراہٹ سجا گیا سارے ادمی فورا وہاں سے چلے گئے۔


بہزاد نے ہاتھ کو اتنی مضبوطی سے پکڑا ہوا تھا کہ غزلان کو شدید تکلیف محسوس ہو رہی تھی
اسے کھینچ کر وہ کمرے میں لاتا بیڈ پر پھینک گیا غزلان اسے حیرت سے دیکھ رہی تھی بہزاد اپنی سرد سرخ سیاہ نگاہیں اسکے چہرے پر مرکوز انتہائی سرد تاثرات چہرے پر سجائے اسکی جانب اسکا یہ انداز دیکھتے ہی غزلان کو خوف سا آنے لگا۔

“بب۔۔بب”
وہ کانپتے ہوئے اسے دیکھ کر پکارنے لگی مگر اسکے اپنی جانب بڑھتے قدم دیکھتے ہی غزلان کو حلق تک سوکھ گیا بہزاد نے اسکے ہونٹوں پر انگلی رکھی غزلان کے ماتھے پر پسینہ آنے لگے۔

“چھونے کیسے دیا”
بہزاد اسے سرخ سرد نگاہوں سے دیکھتے سخت لہجے میں بولتے ساتھ چاقو نکال کر اسکی گردن پر رکھ چکا تھا غزلان کی سانس رک سی گئی وہ بےیقینی سے اسے دیکھ رہی تھی۔

“مم۔۔۔۔ممممیں۔۔ننن۔۔نہیں۔۔۔۔اس۔۔ننن۔نے۔ خخخود”
وہ رک رک کانپتے لبوں سے سانس روکے بامشکل اسے جواب دے رہی تھی اسکی آنکھیں اپنی گردن پر چاقو محسوس کرکے وہ بات ادھوری چھوڑ گئی۔

“تمہیں دیکھنے تمہارے قریب آنے اور تمہیں چھونے کا اختیار صرف ایک کے پاس ہے اور وہ اختیار صرف میرے پاس ہے صرف تمہیں صرف اور صرف میرا بن کر رہنا”
بہزاد اسکے چہرے کے قریب چہرہ کیے اپنی سرد نگاہیں اسکے چہرے پر گاڑھے درشگی بھرے لہجے میں بولنے لگا غزلان کو اس سے خوف آرہا تھا اسکی جھلسا دینے والی سانس خود پر محسوس کرکے پورا جسم خوف محسوس ہورہا تھا وہ بلکل اس وقت الگ لگ رہا تھا چاقو کی ناک کا دباؤ اپنی گردن پر محسوس اسے تکلیف محسوس ہوئی وہ درد سے آنکھیں بند کر گئی۔

“Mine is only mine”

وہ وحشت بھری نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے چیخا وہ سہم کر اثبات میں سر ہلا گئی۔


رویش بیڈ پر بیٹھی یونیب کا ویٹ کر رہی تھی جو اسے ناشتے کے بعد جلدی آنے کا کہ کر گیا تھا اور ابھی تک نہیں آیا تھا
تبھی دروازہ کھلا اور وہ اندر داخل ہوا اسے دیکھتے ہی وہ جو تھکا ہوا تھا ساری تھکاوٹ ایک پل میں ختم ہو گئی۔

“آ گیا خیال گھر میں ایک دن کی بیوی بھی ہے”
اسے دیکھتے ہوئے منہ بسورے بولی اسکے انداز پر یونیب کی مسکراہٹ مزید گہری ہوئی اسکے پاس اتے سے اپنی قید میں لیتا اسکی گال پر لب رکھ گیا

“کل نہیں ہوگا ایسا”
وہ اسے حصار میں لیے بولا رویش نے اسے دیکھا

“ایک دن ہوا ہے یہ ہفتہ تو مجھے سارا دینا چاہیے”
وہ اسے دیکھتے ہوئے بتانے لگی جس پر یونیب اثبات میں سر ہلا گیا

“پرامس کل سے نو کام “
وہ مسکراتے ہوئے اسے دیکھ کر بولا رویش کے لبوں پر مسکراہٹ آئی اور جسنیں بڑی بےباکی سے اسکے لبوں پر جھک گیا غزلان ہو اپنی سانس بند کرتی محسوس ہوئی اس نے آنکھیں میچ کی اسکے ہونٹوں کو آزادی دیتا وہ اسکے چہرے کے تاثرات دیکھ مسکرایا تھا۔


بہزاد اسے کمرے میں چھوڑ کر خود درید کے پاس آ گیا تھا اور جتنا غصہ اسے اس شخص پر تھا وہ درید پر نکالنے لگ گیا کچھ زخم اسکے ابھی بھی نہیں بھرے تھے وہ مزید اسکی دھلائی کرنے لگ گیا درید کو اپنے سر گھومتا ہوا محسوس ہوا دماغ کی نسیں پھٹنے کے قریب تھی درد سے چیختا رہا اسے ایسی حالت میں چھوڑتا وہ سگریٹ لبوں سے لگا کر ٹی وی لاؤنچ میں آئی گیا

غزلان کمرے میں بیڈ پر بیٹھی رونے میں مصروف تھی اپنے ہاتھ ہر سرخ نشان اور گردن پر زخم دیکھ اسے رونا آرہا تھا غزلان کو کیا معلوم تھا وہ بھی اسکے معاملے میں اب وحشی ہو گیا تھا اسے بہزاد کے انداز بہت ہرٹ اور بہت خوف دلوایا تھا روتے روتے بیڈ کراون سے ٹیک لگا گئی کب آنکھ لگی اسے معلوم نہیں ہوا۔
بہزاد سگریٹ کر سگریٹ پینے غصہ کم کرنے کی کوشش میں تھا لیکن یہ وحشت یہ جنون کم ہونے کا نام نہیں لے رہا تھا ااجے عشق کو کوئی دیکھے اس سے گوارہ نہ تھا چھونا تو پھر بہت دور کی بات ہے وہ صوفے پر لیٹا ہوا اچانک غزلان کا دیا اتے ہی سگریٹ بھجا کر اندر کی جانب بڑھ گیا۔

جاری ہے