Black Love By Mahnoor Shehzaad Readelle50302 (Black Love) Episode 29
Rate this Novel
(Black Love) Episode 29
یوسف صاحب نے یونیب کو فون کرکے سب بتایایا تھا اسکے بعد وہ دونوں واپس سے مل چکے تھے شبیر نے جس نمبر سے کال کی تھی وہ اس نمبر کی انویسٹیگیشن کررہے تھے جب انویسٹیگیشن ہوتے ہی وہ لوگ تیزی سے اس راستے پر نکل چکے تھے
وقت اس وقت صبح کے پانچ بج رہے تھے اور وہ دونوں راستے میں ہی تھے یونیب بہت اسپیڈ گاڑی اس پہاڑی علاقے میں چلا رہا تھا یوسف صاحب بھی کافی پریشان تھے مگر انہیں یقین تھا یونیب رویش کو بچا لے گا
“ابھی تک تیرا باپ نہیں آیا لگتا ہے اب تیرے ساتھ حسین را”
بشیر اسے گٹھیا نظروں سے دیکھتا انتہائی خباست سے بول رہا تھا لیکن رویش اسکی باتیں سن کر غصے سے پاگل ہورہی تھی
“اپنے منہ سے بکواس الفاظ ادا مت کرو ایک دفعہ مجھے ازاد کرو اپنے ہاتھوں سے نہ قتل کیا تو دیکھنا”
غصے سے سرخ آنکھوں سے اسے دیکھتے ہوئے انتہائی سفاک لہجے میں بولی جس پر ایک پل کیلیے بشیر پھر سے گھبرایا تھا
“چڑیا ہے اور شیر کا قتل کرے گی”
اگلے ہی لمحے سنبھلتے وہ ہنس کر بولا تھا رویش کا بھی قہقہ اسکی بات پر چھوٹا تھا
“تم شیر نہیں تم گیدر ہو شیر کبھی یوں وار کرتا شیر پتہ ہے کون ہے میرا شوہر یونیب خان”
چہرے پر طنزیہ مسکراہٹ سجائے وہ زہرون خند لہجے میں اسے بتاتے ساتھ اسکو مزید غصہ دلوا رہی تھی
“اب تیرا بچنا مشکل ہے میرے ہاتھ سے”
غصے سے کہتے ساتھ اسکی طرف بڑھا اور گردن دبوچنے لگا مگر اس سے پہلے رویش ٹانگ اٹھا کر اسکے بازو پر مارتی اسے زمین پر گر چکی تھی بشیر اسے گھور کر دیکھنے لگا
“بولا تھا چھونے نہیں دوں گی”
اسے گھور کر دیکھ غصے سے چلاتی وہ اسے مزید تپا گئی تھی
وہ چھ بجے کے قریب پہنچے تھے اور غزلان اسکی حویلی جانے کے بجائے یوسف ہاوس آئی تھی وہ جانتی تھی کوئی جاگ رہا ہو یا نہیں لیکن یوسف صاحب اور راحت بیگم جاگ رہی ہو گی وہ دونوں گھر میں داخل ہوئے ٹی وی لاؤنچ میں بیٹھی راحت بیگم اور ساتھ زرمیش موجود تھی غزلان ان دونوں کو یوں بیٹھا دیکھ بےحد پریشان ہوئی اور فورا آگے کی طرف بڑھی
“میم کیا ہوا ہے”
وہ اسکے پاس گٹھنوں کے بل بیٹھتی وہ انہیں دیکھ پوچھنے لگی اسے دیکھ راحت بیگم مسکرائی
“رویش کو کیڈنیپ کر لیا ہے اسکے باپ نے”
اسے دیکھتی نم آنکھوں سے وہ اداسی سے بولی اور غزلان کے ماتھے پر لب نمودار ہوئے
پیچھے کھڑا بہزاد رویش کے کیڈنیپ ہونے کا سنتے ہی اچانک اسے خان کا خیال آیا تھا کچھ کہے بغیر خاموشی سے باہر آتا وہ خان کا نمبر ڈائل کرنے لگا تھا دوسری بیل پر فون اٹھا لیا گیا تھا بغیر حال چال پوچھے خان نے اسے رویش جس جگہ کیڈنیپ تھی وہاں آنے کا بولا تھا وہ اوکے کرتا فون بند کر کے اندر کی طرف بڑھا تھا
“پریشان نہیں ہو زرمیش میں لے کر آؤ گی رویش کو”
زرمیش کو سینے سے لگائے وہ بہت نرمی سے بولی تھی زرمیش اسکے سینے سے لگی مزید رونے لگی
“رویش کا پتہ چل چکا ہے میں وہی جارہا “
بہزاد ٹی وی لاؤنچ میں آتا غزلان کو دیکھ کر سنجیدگی سے بولتا خاموشی سے بھاری بھاری قدم اٹھائے چلا گیا اور جیسے راحت بیگم کو اطمینان ہوا انہوں نے دل سے خدا کا شکر ادا کیا تھا
تبھی اذانوں کی اواز غزلان کے کانوں سے ٹکرائی وہ زرمیش کے آنسو صاف کرتی اسکا ہاتھ تھامتی اوپر کی طرف بڑھ گئی تھی
“آجاؤ مل کر رویش کی حفاظت کی دعا کرتے ہیں”
بہت پیار سے کہتے ساتھ وہ وضو کرنے لگ گئے زرمیش نے بھی اثبات میں سر ہلایا
غزلان ہمیشہ زرمیش سے بہت نرمی سے بات کرتی تھی اسی لیے غزلان اسکی فیورٹ تھی
دونوں نے مل کر نماز ادا کی اور رویش کی حفاظت کی دعا کرتے دونوں کو جیسے سکون اور تسلی ہوئی تھی۔
بشیر اسکی بات سے تیش میں آتا سرخ آنکھیں لیے اسکی جانب بڑھنے لگا ایک پل کیلیے رویش گھبرائی تھی مگر اللہ سے دل میں مدد مانگتی وہ خود کو پرسکون ظاہر کررہی تھی اس سے پہلے وہ اسے چھوٹا اپنی گردن پر کچھ محسوس ہوا تھا اسکے بڑھتے قدم رکے تگے اس نے اپنی دعائیں جان نظریں کی گن اپنی گردن پر ماتھے پر لب نمودار ہوئے رویش نے بھی اس طرف دیکھا یونیب یوسف کو دیکھتی جیسے اس میں جان آئی تھی
“چھو کر دیکھا زندہ گاڑھ دوں گا زمین میں “
وہ اسے سرخ سرد نگاہیں سے دیکھتا سفاک لہجے میں بولتا بشیر کو خوف میں مبتلا کر چکا تھا
“اوہ تو آخر تم اگئے”
بشیر یوسف صاحب کو دیکھ کر فاتحانہ مسکراہٹ لبوں پر سجائے بولا یوسف صاحب پراعتماد کھڑے تھے
“ہمت کیسے ہوئی میری رویش کو چھونے کی”
انتہائی درشت لہجے میں بولتا آنکھوں وحشت لیے وہ گن کا دباؤ ڈالتا اسکے منہ پر ایک کے بعد ایک مکہ جھڑتا اسکا دماغ گھما گیا تھا اور یوسف صاحب اسکے تین چار ادمیوں کا کام تمام کر چکے تھے۔
تبھی بھاری قدم لیے بہزاد بھی وہاں پہنچ بجا تھا اور یوسف صاحب اور یونیب کو سن سے لڑتا دیکھ وہ رویش کی طرف بڑھا تھا اور اسکی رسیاں کھولنے لگی
“تم ٹھیک ہو”
سپاٹ لہجے میں اسے دیکھ کر پوچھنے لگا جس پر رویش اثبات میں سر کر کرسی سے اٹھی تھی
“میں تجھے جان سے ماروں گا”
حوش و حواس سے بیگانہ وہ اسے مارنے میں مگن تھا اسکا جنون اسکی وحشت اور اپنے لیے اتنا پوزیزو دیکھ رویش کو مسکرانے پر مجبور کردیا
تبھی اس گولی چلنے کی اواز آئی تھی وہ جو ادھر ادھر نظریں گھما رہی تھی گن کی اواز سے جیسے اسکی جان سے نکل گئی ہو مڑ کر دیکھا تو یونیب ساکت ہوچکا تھا اسکا چہرہ سرخ ہو گیا رویش کے ہاتھ پیر سن ہو گئے اور وہی بہزاد کو بھی حیرت ہوئی تھی یوسف صاحب بھی پریشان ہوئے بہزاد کی آنکھیں سفید سرخ ہو چکی تھی رگیں تن چکی تھی غصے سے جیب سے چاقو نکال کر گھماتے ہوئے وہ سیدھا بشیر کے پیٹ پر چاقو مار گیا تھا اور شبیر بےجان سے زمین پر گر گیا
“یونیییبببب”
رویش ہوش میں آتی چیخ کر اسے پکارتی اسکی طرف بڑھی تھی
“بہزاد بھائی پلیزز یونیب کو لے کر چلیں پلیزز جلدی”
ضبط کیے آنسو گال پر گرنے لگے وہ چیخ کر بہزاد سے مخاطب ہوئی تھی وہ دونوں اس سے سہادا دیتے بامشکل اٹھا کر جانے لگے
“تم لوگ جاؤ میں اس کا کام تمام کر کے آتا ہوں”
یوسف صاحب اسکے ساتھ آدمیوں کو قتل کر چکے تھے سوسئے عرفان کے اس لیے وہ اسے خونخوار نظروں سے دیکھ کر بولے وہ دونوں چل دیے۔
ہوسپٹل پہنچ چکے تھے اور یونیب سب آپریشن تھریٹر میں تھا رویش پریشانی سے ٹہل رہی تھی بہزاد بغیر کسی تاثرات خاموش کھڑا تھا
تبھی اسکا فون بجا غزلان کا نمبر دیکھتے ہی کال وثجنڈ کی تھی
“بہزاد روءش ٹھیک ہے”
کال اٹینڈ کرتے ہی غزلان کی پریشان اواز بہزاد کے کانعں سے ٹکرائی تھی
“وہ ٹھیک ہے لیکن”
بہزاد کہتے کہتے ایکدم رک گیا غزلان کو کچھ گڑبر لگی
“لیکن کیا”
عزلان فورا پوچھنے لگی بہزاد نے ایک سانس لیا اور آنکھیں بند کی
“خان کو بولی لگی ہے”
بہزاد نے اسے بتایا تو غزلان کو حیرانگی ہوئی وہ کچھ بولنے کی کیفیت میں نہیں تھی فون بند ہوچکا تھا
“مام یہ کیا سن رہی ہو رویش کیڈنیپ ہے”
تبھی عینب پریشانی سے اندر آتی انہیں دیکھ کر پوچھنے لگی پیچھے زہرون بھی داخل ہوا تھا
راحت بیگم نے اسے ساتھ بات سے آگاہ کیا عینب نے غزلان کو دیکھا جو بلکل ساکت بیٹھی تھی
“آپ نے مجھے بتانا بھی ضروری نہیں سمجھا”
وہ تھوڑا ناراض لہجے میں انہیں بولی جس پر وہ خاموش رہی
“اب کیسی ہے وہ”
عینب کے لہجے میں پریشانی صاف واضح تھی زہرون خاموش بیٹھا تھا
“غزلان بتاؤ بہزاد نے کیا بتایا”
تبھی راحت بیگم نے ساکت بیٹھی غزلان کو مخاطب کیا انکی اواز پر وہ ہوش میں آئی
“رویش ٹھیک ہے لیکن یونیب کو گولی لگی ہے وہ آپریشن تھریٹر میں ہے”
ایک ہی سانس میں نظریں زمین پر گاڑھے وہ سب کو پریشان کر چکی تھی
“یا اللہ یہ کیا ہورہا ہے ابھی تو سب ٹھیک ہونے لگا پھر یہ ازمائش کیسی”
راحت بیگم تڑپ کر روتے ہوئے بولی سب کلوگ خاموش تھے تبھی زرمیش کی سسکیوں کی اواز کانوں سے ٹکرائی
“یہ سب میری وجہ سے ہوا نہ میں آئسکریم کی ضد کرتی نہ ہم جاتے نہ یہ سب”
روتے ہوئے وہ خود کو قصووار ٹھہراتی اداسی بولی جب زہرون نے اسے اتبا کر اپنے سامنے کیا تھا
“تم خود کو قصووار کیوں بول رہی ہو یہ سب ہونا پہلے سے طہ تھا بس ایک بہانا بنا اور اس میں تن خود کو قصووار نہیں ٹھہراو گی”
پیار سے اسکے آنسو صاف کرتے اسے سمجھانے لگا زرمیش اسے دیکھنے لگی
“یونیب بھائی ٹھیک ہو جائیں گے”
وہ اسے دیکھتے ہوئے سنجیدگی سے سوال کرنے لگی زہرون نے اثبات میں سر ہلا دیا
“بلکل اللہ سے دعا کرو سب ٹھیک ہوگا”
اسکی گال پر ہاتھ رکھے وہ پیار سے بولا جب زرمیش اسکے گلے سے لگ گئی زہرون مسکرایا عینب نے بھی ہلکی سی مسکراہٹ سے زہرون کو دیکھا جو اسے دیکھ رہا تھا
غزلان خاموشی سے بغیر کچھ کہے گاڑی کی چابی اٹھاتی باہر کی طرف بڑھ گئی سب اسے جاتا دیکھ رہے تھے مگر روکنے کی ہمت کسی کی نہیں تھی
دو گھنٹے گزر چکے تھے مگر ابھی تک آپریشن چل رہا تھا رویش کی پریشانی بڑھتی چلی جارہی تھی اور بہزاد نظریں آپریشن تھریٹر پر مرکوز کیے کھڑا تھا
تبھی ایک نرس باہر آئی رویش اسے دیکھتے ہی فورا سس طرف بڑھی
“یونیب کیسا ہے کچھ تو بتائیں”
اسے دیکھتے ہوئے وہ فورا سے پوچھنے لگی جس پر نرس نے ایک نظر اسے دیکھا
“بہت کریٹیکل کنڈیشن ہے دیکھنا گولی سنکے پیٹ پر لگی ہے جس کی وجہ سے ہم ابھی کچھ نہیں کہ سکتے انکی سانسیں بھی بہت اہستہ چل رہی ہے دعا کریں”
وہ اسے بولتی مزید پریشان کر گئی تھی رویش پھر سے رونے لگ گئی تھی
تبھی اسکی نظر اندر آتی غزلان پر گئی وہ اسے دیکھ فورا اسکی طرف بڑھی تھی اور سینے سے آ لگی تھی غزلان نے اسکے گرد مضبوطی سے حصار قائم کیا تھا مگر بولی کچھ نہیں تھی بہزاد کی نظر غزلان پر گئی جس کی آنکھیں نم تھی اور وہ بھی اسے دیکھ رہی تھی۔
“غزلان غزلان یونیب ٹھیک ہوجائے گا نا”
اس سے الگ ہوتی اسے دیکھ پوچھنے لگی جس پر غزلان نے اثبات میں سر ہلایا تھا
“بی سٹرونگ رویش”
تین الفاظ کہتے ساتھ اسکے آنسو صاف کرتی ایک بار پھر گلے سے لگا گئی تھی رویش کو جیسے تسلی ہوئی تھی اسکے آنے سے اسکے گلے لگنے سے اسکے الفاظ سے وہ اسکے سینے سے کچھ دیر خود کو نارمل کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔ اس سے الگ ہوتی بہزاد کے سامنے آئی تھی اسے وہ کہیں سے بہزاد نہیں لگا تھا اس سے وہ ٹوٹا ہوا لگا تھا
لندن میں ہی بہزاد نے اسے خان اور اپنے متعلق سب بتا دیا تھا غزلان اسکی حالت سے بہت اچھے سے واقف تھی
“آپ کا بھائی بلکل ٹھیک ہوجائے گا ڈونٹ وری بہزاد”
اسکے سامنے کھڑی اسے دیکھ وہ مضبوط لہجے میں اسے تسلی دے رہی تھی اور بہزاد بغیر کچھ کہے غزلان کے سینے سے آ لگا تھا
جاری ہے۔
See translation
