280.4K
41

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Black Love) Episode 3

رویش کی نظریں اسی پر مرکوز تھی جسکا چہرہ اسے نہیں دیکھ رہا تھا

“کون ہو تم”

رویش اس پر نظریں مرکوز کیے پوچھنا لازمی سمجھنے لگی تبھی دروازے بجنے کی آوازیں آنے لگی وہ رویش کا ہاتھ تھامتا دوسرے دروازے سے اسے لے گیا اور گھر کی بیک سائیڈ پر لے آیا جیسے ہی وہ دونوں بچ کر وہاں سے نکلے رویش نے اپنا ہاتھ فوراً جھٹکا

“کون ہو تم”

وہ انتہائی سرد لہجے میں اب کی بار اس سے مخاطب ہوئی جس پر وہ شخص اپنی جیب میں ہاتھ ڈال کر سیدھا کھڑا مگر چہرہ پھر بھی نہ دیکھا

“لوگ invisible man کے نام سے جانتے ہیں”

یہ کہتے ساتھ وہ شخص وہاں سے غائب ہوگیا اور رویش بس دیکھتی رہ گئی

“Invisible man”

وہ اسکا نام دہرانے لگی اور نظریں ارد گرد گھمانے لگی وہ کہیں بھی نہیں دیکھا

“رویش باجی آپ یہاں ہیں”

زرمیش اسے موجود پاکر فوراً اسکی طرف بڑھ کر اسے دیکھتے ہوئے مسکرا کر کہنے لگی رویش نے اسے گلے سے لگایا

“چلو یہاں سے”

وہ اسکا ہاتھ تھامے ساتھ اپنا بھاری فراک سنبھالتی گاڑی کی طرف بڑھ گئی مگر ذہن اور دل میں وہ شخص کہیں رہ گیا تھا۔

“کہاں چلی گئی تھی آپ”

گاڑی میں بیٹھتے ہی زرمیش نے اسے دیکھتے ہوئے سوال کیا رویش نے گاڑی اسٹارٹ کی اور اسے بتانے لگی

“اللہ عمر ہی دیکھ لے انسان بےشرم”

زرمیش غصے سے بولی جس پر رویش نے اسے دیکھا

“چھوڑو تم تم تو ٹھیک ہونا”

رویش نے اسے دیکھتے ہوئے فکرمندی سے پوچھا جس پر وہ اثبات میں سر ہلا گئی اور رویش ڈرائیونگ پر دھیان دینے لگی تبھی سامنے کوئی شخص ہاتھ ہلاتا نظر آیا اسکے پاس آکر وہ گاڑی کی اسپیڈ آہستہ کرتی شیشہ نیچے کرنے لگی سامنے یونیب کو دیکھ کر دونوں حیران تھی

“تم یہاں”

رویش اسے دیکھ کر فوراً بولی جو چہرے پر مسکراہٹ سجائے اسے ہی دیکھ رہا تھا

“وہ میری بائیک خراب ہوگئی ہے اگر تم لفٹ دے دو”

وہ اسے دیکھتے ہوئے کہنے لگا جس پر رویش نے اسے دیکھا اور اثبات میں سر ہلا کر اسے بیٹھنے کا اشارہ کیا وہ خاموشی سے پیچھے بیٹھ گیا

“یہ لفٹ اس لیے تم نے میری جان بچائی تھی اب کوئی حساب باقی نہیں رہے گا”

رویش ڈرائیونگ پر دھیان دیتے ہوئے اسے وضاحت دینا نہ بھولی زرمیش مسکرائی اور یونیب نے اسے دیکھا

“میں نے کچھ کہا”

وہ اسے شیشے سے دیکھتے ہوئے آئبرو اچکائے پوچھنے لگا رویش نے مڑ کر اسے دیکھا

“تمہارا سر گیلانی بہت ٹھرکی ہے جیسے تم ہو”

رویش اسے مڑ کر دیکھتے ہوئے غصے سے بتانے لگی یونیب نے اسے دیکھا

“اس نے تمہارے ساتھ کچھ غلط کیا ہے”

یونیب اسے دیکھتے ہوئے فوراً پوچھنے لگی رویش جواباً خاموش رہی

“تمہیں کس نے کہا تھا ڈانس کرو تم دیکھ رہا تھا میں کیسے چپک رہا تھا تمہارے ساتھ”

یونیب کے لہجے میں اچانک غصہ آگیا جس پر رویش اسے دیکھنے لگی

“تمہیں کیسے پتہ چلا”

وہ مڑ کر اسے جانچتی نظروں سے اسے دیکھ کر پوچھنے لگی یونیب کے چہرے پر مسکراہٹ آئی

“تمہاری ان بڑی براؤن آنکھوں سے پہچان لیا”

وہ اسکے چہرے کے قریب ہوکر گھمبیر آواز میں کہنے لگا اور رویش کا دل کیا وہ اسے شوٹ کردے اور زرمیش مسکرانے لگی۔

“گھر آ گیا ہے مسٹر”

وہ پیچھے ہوتی سامنے دیکھ کر بولی جس پر یونیب کچھ کہے بغیر گاڑی سے اتر گیا اور رویش گاڑی اسٹارٹ کرکے سڑک پر دوہرا گئی۔

****

“کہاں ہوں میں”

گیلانی خود کو ایک تاریکی میں ڈوبے کمرے میں موجود پاکر پریشانی سے پوچھنے لگا تبھی گیلانی وہاں کسی اور کی موجودگی کا بھی احساس ہوا

“کون ہے کھولو مجھے میں نے کچھ بھی نہیں کیا”

وہ غصے سے چیخ کر بولا جس پر سامنے سے آتا شخص جو اپنا چہرہ ڈھکے ہوئے تھے اسکے منہ پر ہاتھ رکھ گیا

“خاموش مجھے زیادہ بولنے والے لوگ نہیں پسند”

کہتے ساتھ اس شخص نے اپنا دباؤ اسکے منہ پر ڈالا جس پر گیلانی اسے دیکھنے لگا

“لڑکیوں کیساتھ زبردستی کرو گے”

وہ منہ پر دباؤ ڈالے ڈارک لہجے میں بولا جس پر وہ تھوڑا سا گھبرایا اور اسے دیکھنے لگا

“کککون ہو تم”

وہ اسے دیکھتے ہوئے غصے سے پوچھنے لگا سامنے موجود شخص نے اپنا بلیڈ نکالا اور اسکے سامنے کیا جس پر گیلانی گھبرا سا گیا خود سے اسکے ماتھے پر پسینے آنے لگے وہ نفی میں سر ہلانے لگا

“تم۔۔تم مجھے ۔۔۔نہیں مار سکتے”

وہ غصے سے اسے دیکھتے ہوئے کہنے لگا جس پر وہ مسکرایا اسکی مسکراہٹ گیلانی کو دیکھ رہی تھی

“انہیں ہاتھوں سے چھوا تھا نا اسے”

وہ اسکے ہاتھ کو دیکھتے ہوئے انتہائی سختی سے بولتے ہوئے جنونی لگا جس پر گیلانی نے تھوک نگلی اور سامنے موجود شخص نے اسکے ہاتھوں میں بلیڈ سے کٹ لگانے لگا وہ درد سے کراہ رہا تھا۔

“She is only mine mind it”

دوسرے ہاتھ پر وہی عمل دہراتے ہوئے وہ سرد لہجے میں جنونی انداز میں بولتے ہوئے درندہ لگا تھا وہ تکلیف اور خوف سے فوراً اثبات میں سر ہلا گیا

“لوگ invisible man کے نام سے جانتے ہیں”

وہ جاتے ہوئے ایک زوردار پنچ اسکے منہ پر دے کر مارتے ہوئے اپنی پہچان بتاتا وہاں سے بھاری بھاری قدم اٹھائے چلا گیا اور گیلانی بس اسے جاتا دیکھ رہا تھا۔

******

غزلان نے گھر میں قدم رکھا تبھی راحت بیگم اسے ٹی وی لاؤنچ میں بیٹھی نظر آئی غزلان کو پریشانی سی ہوئی

“میم آپ کی طبیعت ٹھیک ہے”

وہ انکے پاس آتی فکرمند لہجے میں انکے ساتھ بیٹھ کر پوچھنے لگی جس پر راحت بیگم اثبات میں سر ہلا گئی

“تمہارا انتظار کررہی تھی دو دن ہوگئے ہیں ڈنر پر نہیں ہوتی تم کہاں ہوتی ہو”

راحت بیگم اسے دیکھتے ہوئے پوچھنا لازمی سمجھنے لگی غزلان نے انہیں دیکھا

“وہ میں آج آ ہی رہی تھی لیکن ایک لڑکی کیساتھ کوئی زبردستی کررہا تھا بس اسکی مدد کرنے میں دیر ہو گئی”

وہ راحت بیگم کو تفصیل سے سب بتانے لگی راحت بیگم اثبات میں سر ہلا گئی

“یہ اچھا کیا لیکن کل تم مجھے ڈنر پر موجود چاہیے ہو اور اگر قبرستان جاتی بھی ہو تو کسی اور وقت چلی جایا کرو”

کہتے ساتھ وہ اٹھ کر وہاں سے چلی گئی غزلان انہیں جاتا دیکھنے لگی اور اٹھ کر اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی

کمرے میں آتے ہی اس نے سب سے پہلے دیوار پر لگی تصویر کو دیکھا آنکھوں میں ایک پل کیلیے نمی آ گئی وہ انہیں ضبط کرتی اس تصویر کو تکتی رہی

“آپ کے مجرم کو اسی طرح بھیانک موت دوں گی اسے تکلیف میں دیکھ کر ہی اب غزلان قریشی کو سکون ملے گا”

وہ تصویر کو دیکھتے ہوئے آنکھوں میں سرخ لیے انتہائی سرد لہجے میں بولی۔

“اس تصویر کو کیوں دیکھتی رہتی ہو کون ہے یہ آپ کے”

تبھی زرمیش کی آواز اسکے کانوں سے ٹکرائی وہ اپنا دھیان سے تصویر سے ہٹاتی اسے دیکھنے لگی اور نفی میں گردن ہلاتی باتھروم کی طرف بڑھ گئی

“مجھے پتہ ہے آپ کے اندر بہت کچھ چھپا ہوا ہے اور وہ کسی سے بھی شئیر نہیں کرتی”

وہ اکیلی کھڑی اداس لہجے میں بولتے ساتھ کمرے سے چلی گئی ۔

********

“خیریت تو ہے نا مام آج آپ کوکنگ کررہی ہیں”

عینب کچن میں آتی اسٹابری اٹھا کر منہ میں ڈالتے ہوئے حیرت بھرے لہجے میں پوچھنے لگی اسکے اسطرح پوچھنے پر وہ مسکرائی

“آج میرا بھتیجا زہرون آرہا ہے”

وہ مسکراتے ہوئے اسے دیکھ کر بتانے لگی جس پر عینب کا فوراً ہی منہ بن گیا راحت بیگم اسکا منہ بنا دیکھ چکی تھی

“اس کا آنا لازمی ہے کیا آپ جانتی ہیں مجھے کتنی نفرت ہے مردوں سے اور مجھ سے کہیں زیادہ غزلان قریشی کو نفرت ہے مردوں سے”

عینب اپنے منہ بنانے کی وجہ انہیں بتانے لگی راحت نے اسے دیکھا

“ہر مرد ایک جیسا نہیں ہوتا اور زہرون جیسا لڑکا تو قسمت والی لڑکی کو ملے گا وہ ایک ہے اس جیسا کوئی بھی نہیں”

راحت بیگم مسکراتے ہوئے زہرون کی دل سے تعریف کرنے لگی جس پر عینب بس اثبات میں سر ہلا سکی۔

“چلیں آپ کوکنگ کریں میں ایک کام سے باہر جارہی ہوں”

وہ کہتے ساتھ کچن سے باہر آتی کوٹ اتار کر پہنتی جوگرز پیروں پر چڑھاتی گھر سے باہر نکل گئی۔

*******

“رویش تم ٹھیک ہو”

یوسف صاحب اسکے کمرے میں آتے ہوئے اسے دیکھ کر فکر مند لہجے میں پوچھنے لگے رویش نے مڑ کر انہیں دیکھا

“جی ڈیڈ”

وہ چہرے پر مسکراہٹ سجائے انہیں بتانے لگی یوسف صاحب نے اسکے سر پر ہاتھ رکھا رویش مسکرائی

“ڈیڈ گیلانی قاتل بھی ہے اور کرمنل کاموں میں بھی شامل ہے”

رویش انہیں ساری انفارمیشن دینے لگی جس پر یوسف صاحب اثبات میں سر ہلا گئے

“ہاں اور جس گھر میں رہ رہا ہے وہ بھی اسکا نہیں ہے”

یوسف صاحب اسے دیکھ کر بتانے لگے جس پر رویش نے انہیں دیکھا

“پھر کس کا ہے”

وہ فوراً سے پوچھنے لگی جس پر یوسف صاحب نے ایک آہ بھری

“میرے ساتھ جو فراڈ کیا تھا جو پیسے چوری کرکے گیا تھا انکا ہے یعنی میرا ہی”

وہ اسے بتانے لگی رویش کو حیرت ہوئی وہ انہیں دیکھ رہی تھی

“لیکن تم فکر مت کرو سب ٹھیک ہو جائے گا “

وہ مسکراتے ہوئے اسے کہتے ساتھ وہاں سے چلے گئے رویش جاتا دیکھنے لگی

“میں آپ کا گھر آپ کو واپس دلوا کر رہوں گی”

وہ انہیں جاتا دیکھتے ہوئے خود سے بولتے ساتھ باتھروم کا رخ کر گئی۔

*******

“اوئے حسینہ ذرا دیکھ تو سہی”

عینب جو واپس گھر کی طرف جارہی تھی راستے میں دو لڑکے کھڑے حوس بھری نظروں سے دیکھتے چھیچھوڑے انداز میں بولے

“کیا کہا”

عینب غصے سے اپنی گرے آنکھیں انکی جانب کرتی سرد لہجے میں پوچھنے لگی جس پر وہ اسے دیکھنے لگے

“شرم نہیں ہے تم میں گھر میں ماں بہن۔ نہیں ہے کوئی تمہاری ماں بہن کو ایسے بولے تو کیسا لگے گا ہاں”

عینب چیختے ہوئے ان دونوں کو دیکھ کر کہنے لگی جس پر وہ دونوں اسے دیکھنے لگی

“زبان سنبھال کر”

ان دونوں میں سے ایک لڑکا غصے سے بولا عینب کے چہرے پر طنزیہ مسکراہٹ آئی

“اپنی ماں بہن کی بات آئی تو زبان سنبھال کر”

وہ غصے سے کہتے ساتھ ان کی طرف بڑھی دونوں لڑکے بھی اسکی طرف بڑھے

“تمیز نہیں ہے لڑکیوں سے بات کرنے کی”

تبھی کوئی نوجوان لڑکا عینب کے آگے آکر ان لڑکوں کو غصے سے بولنے لگا جس پر عینب اور وہ دونوں لڑکے اسے دیکھنے لگ گئے

“تو ہے کون بے”

وہ دونوں اس سے بھی انتہائی بدتمیز لہجے میں کہنے لگے جس پر اسکے ماتھے پر سلوٹیں آئی اس نے گردن کو دائیں بائیں حرکت دی اور زوردار مکہ ایک کے چہرے پر جھڑ دیا

“مارنے کا تو بچپن سے بہت شوق ہے”

وہ مغرور انداز میں کہتے ساتھ دوسرے لڑکے کو ٹانگ مارتا انکے منہ کا نقشہ بگاڑتا کھڑا ہوا اور جیکٹ ٹھیک کرتے ہوئے عینب کی طرف دیکھا

“آئے میں آپ کو ڈراپ کردیتا ہوں”

زہرون اسے دیکھتے ہوئے نرمی سے مخاطب ہوا عینب غصے سے اسے دیکھ رہی تھی

“نو تھینکس میں خود جا سکتی ہو اور اپنی حفاظت کر بھی سکتی ہوں”

وہ انتہائی سرد لہجے میں اسے جواب دیتے ساتھ آگے کی جانب بڑھ گئی زہرون بس اسے دیکھتا رہ گیا

“صاحب چلیں دیر ہو گئی تو صاحب مجھے ڈانٹے گے”

تبھی فضل لالا آتے ہوئے زہرون سے مخاطب ہوئی جس پر وہ اثبات میں سر ہلاتے ہوئے گاگلز لگائے گاڑی کی طرف بڑھ گئی۔

“کیاہوا اتنے غصے میں کیوں آرہی ہیں”

زرمیش اسے غصے میں دیکھتے ہوئے پوچھنے لگی عینب نے اسے دیکھا اور کوٹ اتارنے لگی

“نہیں بس کچھ پاگلوں سے بحث ہوگئی تھی”

وہ غصے سے جواب دیتے ساتھ بالوں کو جوڑے میں قید کرتے ہوئے صوفے پر بیٹھتے ہوئے بتانے لگی۔

“صاحب صاحب آ گئے ہیں زہرون صاحب”

فضل لالا ٹی وی لاؤنچ میں داخل ہوتے ہوئے یوسف صاحب کو اونچی آواز میں مخاطب کرتے ہوئے بتانے لگے انکے بتانے پر عینب کا منہ بن گیا

“ہائے مجھے دیکھنا ہے مام نے بہت تعریف کی ہے”

زرمیش مسکراتے ہوئے اسے عینب سے کہنے لگی وہ اسے ایک نظر دیکھ کر کوئی جواب دیے بغیر اوپر چلی گئی۔

“کہاں بٹھایا ہے”

یوسف صاحب زینے عبور کرتے نیچے آتے ہوئے فضل لالا سے پوچھنے لگے

“ڈرائنگ روم میں”

وہ مسکراتے ہوئے انہیں بتانے لگے جس پر یوسف صاحب اثبات میں سر ہلا کر ڈرائنگ روم کی جانب قدم بڑھا گئے۔

*******

رات کے ڈنر کے وقت راحت بیگم نے سارا کھانا لگایا زہرون پہلے سے ڈائننگ ٹیبل پر موجود تھا تبھی وہ چاروں بھی ڈائننگ ہال میں داخل ہوئی

“زہرون بیٹا یہ ہیں میری چاروں بیٹیاں”

یوسف صاحب نے مسکراتے ہوئے اسے مخاطب کیا جس پر زہرون اٹھا کر چاروں کو دیکھا عینب جو تو وہ فوراً پہچان گیا لیکن عینب نے اسے نہیں دیکھا تھا

“اسلام و علیکم”

زرمیش مسکراتے ہوئے فوراً سلام کرنے لگی جس پر جواباً مسکرایا اور باقی تینوں خاموشی سے بیٹھ گئی عینب نے نظر اٹھا کر اسے دیکھا دو پل کیلیے حیران رہ گئی

“کیا ہوا عینب بیٹا”

یوسف صاحب اسے اسطرح زہرون کو دیکھتے پوچھنے لگے انکے پکارنے پر عینب زہرون سے نظریں ہٹاتی انکی طرف نظریں کر گئی اور نفی میں سر ہلا گئی

“اوہ تو یہ ہے ڈیڈ کا بھتیجا “

وہ دل میں بولتے ساتھ پلیٹ اٹھا گئی تبھی راحت بیگم کھانا لگانے لگ گئی۔

“اففف مام کیا خوشبو آرہی ہے آج مجھے لگ رہا ہے بہت مزے کا کھانا بنا ہے”

عینب کھانے کی خوشبو محسوس کرتے ہوئے مزے سے بولی زہرون اسکے انداز اور اسکے بولنے پر اسے بہت غور سے دیکھ رہا تھا

“تائی کے ہاتھ کھانا میرا فیورٹ ہے تائی میں نے بہت مس کیا ہے”

وہ مسکراتے ہوئے راحت بیگم کی دلی تعریف کرنے لگا راحت بیگم مسکراتے ہوئے اسے دیکھنے لگی

“میرا پیارا بچہ”

وہ اسے مسکرا کر بولتے ہوئے کرسی کھسکا کر بیٹھ گئی اور کھانا دینے لگی عینب اسے گھور کر دیکھتی اپنی پلیٹ میں سیلیڈ ڈالنے لگ گئی۔

ان سب کے دوران رویش اور غزلان خاموش رہی اور غزلان کو ڈنر پر موجود پاکر راحت بیگم کو خوشی ہوئی۔

******

ایک سیاہ خوبصورت بہت بڑی حویلی تھی جس میں صرف ایک وجود رہتا تھا وہاں موجود آس پاس لوگ اس حویلی اور اس میں موجود شخص سے دور رہنے میں ہی اپنی بہتری سمجھتے تھے دیکھنے میں جس قدر خوبصورت تھی وہ سیاہ حویلی اندر سے اتنی ہی خوفناک تھی اور اس میں موجود شخص بہت ہی زیادہ خطرناک تھا وہ حویلی اس وقت بھی تاریکی میں ڈوبی ہوئی تھی عام لوگ کیا اسکے مخالف بھی اس سے دور رہنے میں اپنی بہتری سمجھتے تھے۔

سیاہ ماسک سے چہرہ ڈھکے قد آور کسرتی جسامت سیاہ ہڈی سر پر دیے سیاہ آنکھیں اسوقت انتہا کی سرخ تھی ہاتھ میں جلی ہوئی سگریٹ پکڑے وہ شخص اسوقت انسان کم اور حیوان زیادہ لگ رہا تھا بھاری بھاری قدم اٹھا کر وہ حویلی کے پچھلے دروازے سے نکلتے ہوئے ایک گلی کی طرف بڑھ گیا سامنے سے آتے شخص کی گردن کو اپنی مٹھی میں دبوچتا وہ اسے گھسیٹتے ہوئے دیوار سے لگا گیا وہ شخص اسے دیکھنے لگا مگر جیسے ہی نظریں سیاہ نظروں پر گئی اس شخص کا حلق تک سوکھ گیا جسم کانپنے لگا

” بی۔۔۔۔سٹ”

وہ کانپتے لبوں سے اسکا نام لینے لگا چہرے کا رنگ سفید پڑ گیااسکی سرخ اور سرد نگاہیں دیکھ کر ہونٹ آپس میں جیسے سل گئے تھے اس نے جیب سے چاقو نکال کر اسے گھماتے ہوئے سیدھا اسکی گردن پر پھیر گیا وہ شخص بےجان سا زمین پر گر گیا

“بلیک بیسٹ”

وہ چاقو واپس جیب میں رکھتا ہڈی سر سے ہٹا کر سگریٹ منہ میں ڈال کر انتہائی ڈارک لہجے میں بولتا سگریٹ پر پاؤں دے گیا اور جیسے آیا تھا ویسے واپس چلا گیا

“ہاں میں نے انفارمیشن نکالی ہے بلیک بیسٹ نام ہے جس کا نام اتنا بھیانک ہے ڈیڈ خود سوچیں وہ خود کس قدر بھیانک ہوگا”

عینب انکے پاس بیٹھتے ہوئے انہیں دیکھ کر بتانے لگی یوسف صاحب نے ایک نظر اسے دیکھا

“کہ تو ٹھیک رہی ہے”

یوسف صاحب مسکراتے ہوئے کہنے لگے غزلان بھی اثبات میں سر ہلا گئی

“ٹھیک ہے کل ملاقات کرتا ہوں میں”

یوسف صاحب غزلان کو دیکھتے ہوئے کہنے لگے جس پر عزلان اثبات میں سر ہلا گئی اور غزلان اور عینب وہاں سے اٹھ کھڑی ہوئی اور کمرے سے باہر کی طرف بڑھ گئی

“ہیلو”

تبھی زہرون جو یوسف صاحب کے کمرے میں آرہا تھا ان دونوں کو دیکھ کر مسکراتے ہوئے بولنے لگا غزلان اسے نظرانداز کرتی کمرے میں چلی گئی عینب اسے دیکھنے لگ گئی زہرون غزلان کو جاتا دیکھنے لگ گیا

“یہاں ہر کوئی غصے میں رہتا ہے”

وہ عینب کو دیکھ کر پوچھنے لگا عینب نے سینے پر بازو باندھے چہرے پر ایک مسکراہٹ سجائی

“نہیں صرف تم جیسے شخص کو دیکھ کر غصہ آ جاتا ہے”

عینب انتہائی بدتمیزی سے اسے جواب دیتی جانے لگی زہرون اسے دیکھنے لگا

“اے لڑکی اگر میں تمہیں کچھ نہیں کہ رہا تو اسکا مطلب یہ نہیں کچھ بھی بولو گی “

زہرون بھی ایکدم غصے میں اسے جاتا دیکھتے ہوئے بولا عینب نے مڑ کر گھور کر دیکھا

“عینب نام ہے میرا سمجھے”

وہ سرد لہجے میں اسے دیکھتے ہوئے جواب دینے لگی زہرون نے سر تا پیر اسے دیکھا

“نیم تو کافی حد تک یونیک ہے لیکن تمہاری پرسنلٹی میں اتنا یونیک نیم سوٹ نہیں کرتا”

وہ اسکا مکمل جائزہ لیتے ہوئے مسکرا کر بولا اسکی بات پر عینب کا دماغ ساتویں آسمان کو پہنچ گیا عینب اسے کھا جانے والی نظروں سے دیکھنے لگی

“تمہیں میرے نام یا میری پرسنیلٹی سے کوئی مطلب نہیں ہونا چاہیے اپنے کام سے کام رکھو “

عینب انتہائی غصے سے اسے جواب دیتے ساتھ پیر پٹکتی وہاں سے چلی گئی

“افففف اتنا غصہ”

وہ اسے جاتا دیکھ کر خود سے بولتے ساتھ یوسف صاحب کے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔

******

سب لوگ اس وقت ناشتے کیلیے ڈائننگ ایریا میں موجود تھے یوسف صاحب ہاتھ دونوں آپس میں ملائے ڈائننگ پر رکھے سب کو دیکھ رہے تھے

“کچھ کہنا چاہتے ہیں یوسف”

راحت بیگم انہیں سب کی جانب دیکھتے ہوئے پوچھنا لازمی سمجھنے لگی یوسف صاحب نے انہیں دیکھا

“زہرون ساؤتھ افریقہ سے پاکستان کے ناردن ایریاز گھومنے کیلیے آیا ہے اتفاق سے ہم اسی ایریاز میں رہتے ہیں اسے اتنا نہیں پتہ راستوں کا تو میں نے فیصلہ کیا ہے کہ عینب آپ زہرون کو ناردن ایریاز گھمانے کے لیے لے جائیں گے”

وہ سنجیدگی سے سب کو دیکھتے عینب کو حیرت میں مبتلا کرکے مسکرا کر کہنے لگے زہرون کے چہرے پر مسکراہٹ آئی

“لیکن ڈیڈ میں کیوں زرمیش”

عینب فوراً سے بولنے لگی مگر یوسف صاحب نے اسے ٹوک دیا

“وہ چھوٹی ہے اور تم اپنے کام بھی کرلیا کرنا اور زہرون کو بھی گھما دینا میرا حکم ہے یہ”

یوسف صاحب بات ختم کرنے والے انداز میں کہنے لگے اور عینب برا سامنہ لیے جوس پیتے ساتھ زہرون کو دیکھنے لگی رویش اسکے چہرے کو دیکھ کر اپنی ہنسی بامشکل روک سکی

“بہت شوق ہے پاکستان کے ناردن ایریاز گھومنے کا نہ کھائی میں دھکا دیا میرا نام بھی عینب نہیں”

وہ اسے چھوٹی آنکھیں کیے غصے سے دیکھتے ہوئے دل میں بولی زہرون کی نظریں بھی اسی پر مرکوز تھی اسکے اسطرح دیکھنے پر وہ اسے جلانے کے لیے لبوں پر مسکراہٹ سجا گیا اور سامنے بیٹھی راحت بیگم ان دونوں کو غور سے دیکھنے لگی

“یار رویش حد نہیں کردی ڈیڈ نے “

عینب رویش کے کمرے میں بیٹھی منہ بنائے جاتے غصے سے کہنے لگی رویش اثبات میں سر ہلا گئی

“ہے تو زیادتی تمہارے ساتھ لیکن اب کیا کریں ڈیڈ کا حکم ہے”

وہ اسے دیکھتے ہوئے اسکے ساتھ آکر بیٹھتے ہوئے کہنے لگی عینب اسے دیکھنے لگی اور اثبات میں سر ہلا گئی

“چلو جاؤ تیار ہوجاؤ جانا ہے نا”

رویش وال کلاک پر نظر ڈالتی اسے بولی بولی عینب غصے سے ایک نظر اسے دیکھتی وہاں سے چلی گئی اور وہ مسکرا کر بیلکونی میں چلی گئی

“Invisible man”

وہ بیلکونی میں کھڑی اس شخص کو یاد کرتے ہوئے ایک بار پھر سے اسکا نام پکارنے لگی

“مجھے کیا ہورہا ہے کیوں وہ شخص میرے ذہن سے نہیں جارہا”

رویش نظریں باہر مرکوز کیے خود سے الجھے ہوئے انداز میں آنکھیں بند کر گئی ۔

جاری ہے۔

___________