280.4K
41

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Black Love) Episode 33

“تمہیں پتہ ہے میری اور غزلان کی دوستی ہو گئی”
عینب اسے کافی دیتے ہوئے مسکراتے ہوئے کہنے لگی زہرون نے کافی تھامی اور اسے دیکھا۔
“یہ کب ہوا”
زہرون اسے دیکھتے ہوئے حیرت سے پوچھنے لگا عینب اس کے ساتھ بیٹھی۔
“کل میں نے اس سے سوری اور جان بچانی کیلیے تھینکیو کر لیا “
وہ اسے دیکھتے ہوئے مسکرا کر بولتی کافی کا کپ لبوں سے لگا گئی۔
“یہ تو اچھا ہوا”
زہرون اس پر نظریں مرکوز کیے مسکرا کر کہنے لگا عینب بھی مسکرادی اور اسے کل کی ساری باتیں بتانے لگی جس کا زہرون کو سننے کا بلکل موڈ نہیں تھا وہ اسکے بالوں میں انگلیاں پھیرتے ہوئے اسے بس دیکھ رہا تھا زہرون نے اس کے ہونٹوں پر فوکس کیا جو بولتے ہوئے ہل رہے تھے
“زہرون”
عینب اسے ہلا کر پکارتے ہوئے ہوش میں لانے لگی زہرون ہوش میں آیا اور سر کو خم دیا
“کیا”
وہ اسے دیکھتے ہوئے آئبرو اچکائے پوچھنے لگی زہرون نفی میں سر ہلاتا کافی کا کپ لبوں سے لگانے لگا عینب بھی خاموشی سے کافی کا کپ لبوں سے لگا گئی زہرون کی نظر ایک بار پھر اسکے لبوں پر گئی جو اب تھوڑے گیلے تھے
“حق رکھتا ہوں”
زہرون دل میں کہتا بغیر کچھ کہے بڑی بے باکی سے اپنے لب اسکے گلابی لبوں پر شدت سے رکھ گیا عینب اچانک حملے پر بھوکلا گئی اس نے زور سے آنکھیں میچ لیں اور زہرون خوف کو اسیر کرنے لگ گیا


“ریاض ریاض”
غزلان بہزاد کو کمرے میں اور حویلی میں موجود نہ پاکر اونچی اواز میں ریاض کو پکارنے لگی
“جی میڈیم”
ریاض فورا اس کے سامنے اتے ہوئے گھبراتے ہوئے پوچھنے لگا
“بہزاد کہاں ہے”
وہ کمر پر ہاتھ رکھے اسے سوالیہ نظروں سے پوچھنے لگی ریاض نے اسے دیکھا
“میڈیم بہزاد سر ایک کام کیلیے گئے ہیں”
وہ نظریں جھکائے غزلان کو بتانے لگا غزلان نے گھور کر اسے دیکھا
“ایسا بھی کیا کام جو صبح سے گھر ہی نہیں آئی اور مجھے ایک میسیج تک نہیں کیا”
وہ اسے دیکھتے ہوئے غصے سے بولی ریاض اسکے اس قدر بولنے پر خاموشسے سنتا رہا
“میڈیم ضروری کام ہے”
نظریں جھکائے انتہائی دھیمے لہجے میں کہنے لگا جس پر غزلان کی گھوری میں مزید اضافہ ہوا
“ہاں مجھے کچھ بتانا ضروری نہیں سمجھتے حد ہے “
وہ منہ بسورے کہتی اوپر کی طرف بڑھنے لگی جب فون کی ٹون بجی اس نے چلتے ہوئے فون نکالا اور میسیج دیکھنے لگی
“سویٹ ہارٹ زیادہ غصہ اور پریشان ہونے کی ضرورت نہیں وارڈروب کھولو”
وہ بہزاد کا میسیج پڑھتے ہوئے کمرے میں آئی اور فون سائیڈ ٹیبل پر رکھا
“ہاں مجھے کچھ بتایا بھی نہیں اور غصہ بھی نہ ہوں”
وہ منہ بنائے خود سے بولتی وارڈروب کھولنے لگی وارڈروب کھولنے کی نظر ایک باکس پر گئی
تبھی فون بجا غزلان کا دھیان فون کی طرف بڑھا اس نے فون اٹھایا اور کال اٹینڈ کی
“تیار ہو جاؤ سرپرائز کیلیے”
بہزاد کی اواز کانوں سے ٹکرائی غزلان کچھ بولتی بہزاد فون بند کر گیا
“ہونہہ سننا بھی ضروری نہیں سمجھا”
غصے سے بولتی وہ باکس کھولنے لگی جس میں اسمانی رنگ کی بہت حسین میکسی تھی غزلان کچھ پل اسے دیکھتی رہی تھی
“اوہ جناب کی چوائس کافی زبردست ہے”
غزلان ڈریس پر نظریں جمائے لبوں پر مسکراہٹ سجائے بولی اور ڈریس لیتی چینج کرنے کے غرض سے اٹھ کھڑی ہوئی


وہ بلیک کلر کی ٹراوزر شرٹ میں ملبوس تھی بالوں کو کھول کر پشت پر پھیلائے ہوئے تھے سیاہ اسکی دودھیانہ رنگت پر جچ رہا تھا تھی یونیب جو اسٹڈی میں تھا روم میں آیا اور اسے دیکھا
“یونیب کیسا لگ رہا ہے مجھے تو پتہ ہی نہیں تھا تمہاری چوائس اتنی اچھی ہے”
وہ مرر میں اپنا عکس دیکھتے ہوئے خوشی سے بولتے ہوئے یونیب کو کوئی معصوم بچی لگی وہ چہرے پر ہاتھ رکھے مسکرا کر اسے دیکھنے لگا
“بتاؤ نا کیا ہوا ابھی نہیں لگ رہی”
رویش اپنا رخ اسکی جانب کیے اسے اس طرح خود دیکھتا پاکر فورا پوچھنے لگی اور اس طرح. بولتے ہوئے یونیب کو وہ سیدھا اپنے دل میں اترتی محسوس ہوئی
“یونیب بولو تو”
وہ اب اسکی طرف بڑھ کر اسے دیکھ کر پوچھنے لگی یونیب نے اسکی کمر پر ہاتھ ڈال کر قریب کیا رویش کی سانس اسکے عمل پر ایکدم رک گئی
“میرا صبر آزما رہی ہو اینگری گرل تم اس ڈریس سے”
وہ اسے گہری نظروں سے دیکھتے ہوئے گھمبیر اواز میں بولتا اسکی ہارٹ بیٹ تیز کر گیا رویش نظریں جھکا گئی
“پریکٹیکل کرکے بتاؤ گا کتنی حسین لگ رہی ہو تم اس ڈریس میں”
وہ اسے سر تذ پیر دیکھتا اسکے بازووں میں انگلیاں پھیرتے شدت جذبات سے بولا رویش کی ریڑھ کی ہڈی میں سنسناہٹ سی دوڑی یونیب اسکے ڈرنے پر مسکرانے لگا


وہ اس اسمانی رنگ نے فراک میں بالوں کو کھول کر آگے کیے بلکل لائٹ سے میک ایپ سرخ لپسٹک لگائے جو اس پر انتہائی کی جچ رہی تھی پیروں پر ہیلز چڑھائے اپنا عکس شیشے میں دیکھ کر وہ مسکرانے لگی تبھی فون کی ٹون بجی اس کا دھیان اس طرف گیا اس نے فون اٹھایا اور میسیج کھولا
“I am waiting my beauty queen”
میسیج پڑھتے ہی غزلان کے لبوں پر دلفریب مسکراہٹ آئی اور وہ فون رکھتی نیچے کی طرف بڑھ گئی
“میڈیم سر باہر ہی ہیں”
ریاض اسے آتا دیکھ بتانے لگا غزلان اثبات میں سر ہلا کر آگے کی طرف بڑھنے لگی وہ خاموشی سے اندر چلا گیا
غزلان جیسے ہی باہر آئی بہزاد کی نظر اسکے حسین سراپے پر گئی وہ ساکت ہو گیا اور نظر ہٹانا جو اس وقت آسمان سے اتری ہوئی حسین پر لگ رہی تھی اور یہ کلر اسے بہت زیادہ اٹریکٹ تھا کوئی بھی اسے دیکھتا تو بس دیکھتا رہ گیا وہ لگ رہی جاذب نظر تھی اور بہزاد کو وہ اپنے دل میں اترتی محسوس ہو رہی تھی جیسے جیسے وہ بہزاد کی طرف قدم بڑھا رہی تھی بہزاد کی ہارٹ بیٹ بڑھتی جارہی تھی وہ اسکے پاس ایک انچ ہے فاصلے پر آکر رک گئی اور بہزاد کو مسکرا کر دیکھا اسکی نظروں سے کنفیوز ہوتی غزلان نظریں جھکا گئی
“کیسی لگ رہی”
وہ نظریں جھکائے اس سے پوچھنے لگی بہزاد نے ایک قدم اسکی جانب بڑھایا اور ہونٹ کان کے قریب لایا
“لگتا ہے تم اپنے اس حسین سراپے سے ایک دن مجھے قتل کرکے ہی دم لوں گی ظالم پری”
وہ اسکے کان میں جھک شدت سے بولتا غزلان کی دھڑکنیں بےترتیب کر گیا اسکی تعریف سن غزلان کے چہرے پر دلفریب مسکراہٹ نمودار ہوئی
“چلیں”
بہزاد اسے نظریں جھکائے مسکراتے کھڑا دیکھتے ہوئے پوچھنے لگا غزلان اثبات میں سر ہلا گئی بہزاد نے اسکی آنکھوں پر پٹی باندھ دی
“ب۔بہزاد
وہ گھبراتے ہوئے اسے پکارنے لگی بہزاد نے اسے کندھوں سے تھام کر گاڑی میں بٹھایا
“میں ساتھ ہوں ڈونٹ وری”
کہتے ساتھ گاڑی کا دروازہ بند کرتا وہ ڈرائیونگ سیٹ سنبھال گیا اور ایک نظر اسے دیکھ مسکراتے ہوئے گاڑی سڑک پر دوہرا گیا


“سر درید کو قتل کرنے والا اسکا اپنا بیٹا بہزاد بیگ ہے”
حامد قریشی کا ملازم اسکے پاس اتے ہوئے اس بات سے آگاہ کرنے لگا حامد قریشی نے نظریں اٹھا کر اسے دیکھا
“انٹرسٹنگ”
وہ لبوں پر دلفریب مسکراہٹ سجائے بولا ملازم خاموش رہا
“اور یوسف کی بڑی بیٹی غزلان سے اس نے نکاح کیا ہے اسکا خاصا انا جانا ہے ادھر”
ملازم اسے ساری باتوں سے آگاہ کرنے لگا حامد قریشی اثبات میں سر ہلا گیا
“وہ پھر یوسف کے گھر پر ایک دفعہ جاؤ مجھے بتاؤ بتاؤ کون کون اسوقت اسکے گھر ہے جس سے بہزاد کو ہم اپنے سامنےلا سکتے ہیں”
حامد قریشی اسے ایک اور حکم دیتے ہوئے بولا ملازم اثبات میں سر ہلا گیا
“اب آئے گا مزا دشمنی تو پہلے سے تھی اب دوگنی ہوگئی ہے تم اپنا انجام دیکھو مسٹر بہزاد بیگ بربادی تمہاری شروع”
وہ چہرے پر زہریلی مسکراہٹ سجائے داڑھی کجھلاتے ہوئے اونچی اواز میں بولتا ہنسنے لگ گیا
جاری ہے۔