Black Love By Mahnoor Shehzaad Readelle50302 (Black Love) Episode 21
Rate this Novel
(Black Love) Episode 21
“ڈیڈ مام بھائی”
جاوید صاحب سانیہ بیگم اور دراب کو سامنے دیکھ کر زہرون کو حیرت ہوئی تھی۔
“کیسا لگا سرپرائز ہم اپنی بہو کو دیکھنے کیلیے آئے ہیں”
جاوید صاحب مسکراتے ہوئے کہنے لگے زہرون کے چہرے پر مسکراہٹ آئی وہ تینوں اندر آئے
“کون ہے”
عینب جو کچن میں کھڑی اپنے کیے کافی بنا رہی تھی پوچھنے لگی
“عینب مام ڈیڈ دراب آئے ہیں”
زہرون اسے دیکھتے ہوئے مسکراتے ہوئے بتانے لگا عینب کے چلتے ہاتھ ایکدم رکے اس نے اس طرف دیکھا جو چہرے پر مسکراہٹ سجائے اسے دیکھ رہا تھا۔
“اسلام و علیکم”
وہ کچن سے باہر نکلتی مسکراتے ہوئے انہیں سلام کرنے لگی جاوید صاحب نے مسکراتے ہوئے جواب دیا
“ادھر بیٹھو ماشاءاللہ کتنی پیاری ہے”
وہ عینب کو اپنے پاس بٹھاتے ہوئے پیار سے بولی عینب مسکرادی
“پسند کس کی ہے”
زہرون بھی مسکراتے ہوئے کہنے لگا عینب نے گھور کر اسے دیکھا اور وہ تینوں مسکرادیے
“ہائے بھابی میں دراب آپ کا دیور”
دراب اسکی طرف ہاتھ بڑھائے مسکراتے ہوئے اسے اپنا تعارف کروانے لگا عینب نے ہاتھ ملایا۔
“باقی باتیں یوسف کے گھر چل کر کریں گے چلو”
جاوید صاحب فورا بولے جس پر وہ سب اٹھ گئے اور یوسف صاحب کے گھر چلنے کیلیے پہلے وہ تینوں نکل گئے۔
“یہ کیوں آ گئے میں پہلے بتا رہی ہوں میں کبھی بھی تمہارے ساتھ لندن نہیں جانے والی”
وہ اسے گھور کر اسے دیکھتے ہوئے بتانے لگی زہرون نے بھی اسے دیکھا
“مجھے خود بھی نہیں پتہ کچھ”
وہ کہتے ساتھ جیب میں ہاتھ ڈالتے ہوئے بولتا باہر بڑھ گیا اور عینب سر جھٹک کر باہر کی طرف بڑھ گئی۔
وہ کمرے میں بیڈ لیٹی ہوئی تھی جب کھڑکی سے کسی کو آتا دیکھ رویش ایکدم اٹھ بیٹھی سامنے موجود شخص کو اسے حد سے زیادہ غصہ آیا۔
“آپ آپ یہاں کیا کر رہے ہیں مسٹر”
رویش اسے دیکھ کر دروازہ بند کرتی غصے سے پوچھنے لگی جس پر وہ اسکی جانب قدم بڑھانے لگا۔
“ریلیکس اینگری گرل”
گھمبیر اواز میں کہتے ساتھ یونیب نے چہرے پر سے ماسک ہٹایا رویش ساکت ہو گئی اسے یقین نہیں ہوا تھا وہ اسے ہی دیکھ رہا تھا
“یعنی خان تم تھے”
کچھ دیر بعد وہ ہوش میں آتی اسے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگی جس پر یونیب نے اثبات میں سر ہلا دیا۔
“جھوٹے دھوکے باز جاؤ یہاں سے”
وہ اسے غصے سے کہتے ساتھ کھڑکی کی طرف بڑھنے لگی جب یونیب نے اسکی کلائی اپنے ہاتھ میں لے کر غصے سے اسے دیوار سے پن کیا۔
“جھوٹا یا دھوکے باز کہنے کی ضرورت نہیں پہلے سچائی جان لو پھر جو بولنا ہے بولو”
وہ اسے دیوار سے لگائے اسکے چہرے پر اپنی سرد نگاہیں گاڑھے سختی سے بولا رویش اسے ہی دیکھ رہی تھی۔
“مجھ”
رویش اس سے پہلے منہ سے الفاظ نکلتی وہ اسکے ہونٹوں پر انگلی رکھ کر اسے خاموش کروا گیا۔
“شش ایک لفظ نہیں آج تک تمہاری سنتا آیا ہوں آج تمہیں یونیب خان کی سننی ہوگی”
وہ اسے خاموش کرواتے ہوئے بولا رویش اسے ہی دیکھ رہی تھی۔
یونیب نے اسے ماضی سے لے کر گیلانی سے بدلہ لینے تک ایک ایک بات تفصیل سے بات بتائی اسکے ماں کیساتھ اتنا برا سن کر رویش کی آنکھوں میں نمی آ گئی
“ڈونٹ کرائی اس شخص کو میں نے بہت بھیانک موت دی ہے”
وہ اسکی آنکھ سے نکلا ایک آنسو صاف کرتے ہوئے نرمی سے بولا رویش اسے ہی دیکھ رہی تھی۔
“لیکن تم مجھے سچ بتا سکتے تھے اسکا مطلب یہ ہوا تمہیں مجھ پر یقین نہیں”
وہ اسے دیکھتے ہوئے چہرے پر سنجیدگی لیے اسے بولی یونیب خاموش رہا۔
“مجھے مرد پسند نہیں تھے نہ کبھی سوچا تھا کہ کسی مرد کو اس دل میں جگہ دے سکوں گی لیکن تم وہ واحد شخص تھے جسے رویش یوسف نے دل میں جگہ دی مگر تم نے مجھے دھوکے میں رکھا”
رویش آنکھوں میں نمی لیے اسے دیکھتے ہوئے بولی سامنے کھڑا وجود اسے خاموشی سے سن رہا تھا
“I am sorry”
وہ اسے سننے کے بعد یہ الفاظ بولنے لگا رویش نے اس کی طرف دیکھا اور نظروں کا تعاقب دوسری طرف کر گئی۔
“تم چلے جاؤ یہاں سے”
وہ اس سے نظریں چراتے ہوئے بامشکل یہ الفاظ بولے یونیب نے اسے دیکھا
“رویش میں صرف دو چیزوں سے ڈرتا ہوں اب ایک تمہارے رونے سے دوسرا تمہیں کھونے سے “
وہ اسکا رخ اپنی طرف کرتے ہوئے اسکے چہرے پر ہاتھ کر آنسو صاف کرتے ہوئے شدت سے بولا رویش اسے دیکھنے لگی اسکی آنکھیں اسکے منہ سے نکلے الفاظ کی سچائی بیان کررہی تھی۔
“جاؤ”
وہ اسے خود سے دور کرتے ہوئے چیخ کر بولی تھی یونیب نے غصے سے اسے اپنی جانب کھینچا اور سینے سے لگایا
“تمہیں اپنا بنائے بغیر نہیں جاؤ”
وہ اسے زور سے سینے سے لگائے شدت سے بولا وہ اسکے سینے میں منہ چھپائے رونے لگ گئی۔
“رویش باجی رویش باجی”
زرمیش کی اواز پر وہ فورا یونیب سے الگ ہوئی یونیب نے بھی دروازے کی جانب دیکھا
“تمہیں ابھی جانا ہوگا ہم بعد میں ملیں گے”
وہ زرمیش کو باہر موجود پاتے ہوئے اسے بولی یونیب اسے دیکھنے لگا
“پیار کرتی ہو نا”
وہ اسے دیکھتے ہوئے چہرے پر ہاتھ رکھے پیار سے پوچھنے لگا وہ اثبات میں سر ہلا گئی
“کرتی ہوں ابھی پلیزز جاؤ”
وہ یونیب کو وہاں سے جاتا نہ دیکھتے ہوئے پھر سے کہنے لگی
“میں آؤ گا پھر”
کہتے ساتھ وہ جیسے آیا تھا ویسے واپس چلا گیا رویش نے سکھ کا سانس لیا اور دروازے کی جانب بڑھ کر دروازہ کھولا۔
“کہاں تھی آپ”
زرمیش اسے دیکھتے ہوئے کمر پر ہاتھ رکھے پوچھنے لگی رویش اپنے چہرے کے تاثرات نارمل کرتی اسے دیکھنے لگی
“باتھروم تھی تم بتاؤ کیا ہوا”
وہ اسے دیکھتے ہوئے نارمل انداز میں پوچھنے لگی جس پر زرمیش نے اسے زہرون کی فیملی کے آنے کا بتایا وہ زرمیش کیساتھ نیچے کی جانب بڑھ گئی۔
وہ سیڑھیاں اتر کر جیسے ہی ٹی وی لاؤنچ میں آئی دراب کی نظر اس پر گئی اور وہی جم سی گئی رویش ان سب کو دیکھ کر چہرے پر ہلکی سی مسکان سجا گئی۔
“اسلام و علیکم”
رویش مسکرا کر ان سب کو سلام کرتے ساتھ راحت بیگم کیساتھ والی کرسی پر بیٹھ گئی دراب کی نظریں اسی پر مرکوز تھی جاوید صاحب اور سانیہ بیگم نے اسے جواب دیا۔
“ہیلو مائی نیم اس دراب زہرون کا چھوٹا بھائی”
وہ رویش کو دیکھتے ہوئے مسکراتے ہوئے بتانے لگا رویش کی نظریں اب اسکی جانب پہلی بار اٹھی تھی۔
“ہائے مائی نیم از رویش”
وہ اسے دیکھتے ہوئے سنجیدگی سے جواب دینے لگی دراب کی مسکراہٹ گہری ہوئی۔
“رویش نائس نیم”
وہ مسکراتے ہوئے اسے کہنے لگا رویش بامشکل مسکرا سکی سب لوگ باتیں کر رہے تھے
یوسف صاحب دراب کی نظریں بخوبی رویش پر نوٹ کررہے تھے۔
بہزاد آج اپنی باکسنگ پنچنگ بیگ کے بجائے درید کے منہ پر کرنے کا ارادہ رکھتا تھا وہ سرخ انگارہ برستی آنکھوں سے اسے دیکھتے ہوئے ہاتھوں میں گلوز پہنے انہیں اپس میں ملا رہا تھا درید خوفزدہ تاثرات لیے اسے دیکھ رہا تھا ایک کے بعد ایک مکہ اسکے منہ پر جھڑتا گیا درید کا منہ سوجھ چکا تھا ہونٹ میں سے خون نکلنے لگا تھا ہر مکے پر درید کذ دماغ گھوم جاتا تھا
“ابھی ٹریلرز دے رہا ہوں آگے آگے دیکھو”
وہ سرد لہجے میں کہتے ساتھ کوئی بیس مکے اسکے منہ پر مار کر گلوز اتار کر وہی پھینکتا چلا گیا اور درد سے تڑپ رہا تھا۔
“مسٹر بہزاد بیگ”
وہ جو ابھی کمرے میں آکر بیٹھا تھا غزلان کو کمرے میں موجود پاکر اور پکارنے پر ایک دم اٹھ کھڑا ہوا
“بولو”
وہ اسے دیکھتے ہوئے آئبرو اچکا کر پوچھنے لگا غزلان اسے ہی دیکھ رہی تھی۔
“میں نے ایک فیصلہ کیا آپ تو کنفیوز ہے کہ آپ کو مجھ سے پیار ہے یا نہیں ہے نا میرا کلئیر ہے بلکل لیکن اگر آپ کو میں نہیں پسند تو ایک کام کریں مجھے ازاد کردیں مجھ مجھے ڈیوارس چاہیے ابھ”
بہزاد نے اپنے قدم اسکی جانب بڑھائے تھے وہ جو ٹرٹر اپنی زبان چلانے میں مصروف تھی اچانک اسکے اسطرح اپنی جانب بڑھتے قدم دیکھ وہ پیچھے کی جانب قدم بڑھانے لگی تھی اسی طرح پیچھے پیچھے ہوتے وہ دیوار سے جا لگی تھی ہارٹ بیٹ بہت تیز ہوچکی تھی۔
“مجھے آپ کی قید میں نہیں رہنا چھوڑ دیں”
وہ اپنے چہرے کے تاثرات نارمل کیے اسے دیکھتے ہوئے ٹھہر ٹھہر کر الفاظ مکمل کررہی تھی بہزاد کی نظریں اسی پر جمی ہوئی تھی
“نہیں نکل سکتی”
وہ اسکے کان کے قریب اپنے ہونٹ لاکر گھمبیر آواز میں کہتا اسکا جسم کانپنے پر مجبور کرگیا
“ککک۔کیوں”
وہ کنفیوز سی ہوتی کانپتے لبوں سے الفاظ ادا کرنے لگی بہزاد نے نظریں دوبارہ سے اسکے چہرے پر ٹکائی
“میری قید سے نکلنے کا سوچا بھی نہ تو اپنے ہاتھ سے تمہاری جان سے لے لوں گا تم میرے قریب آئی اپنی مرضی سے ہو لیکن دور تم صرف میری مرضی سے ہوگی”
وہ اپنی نظریں اسی پر مرکوز کیے تھوڑے سرد لہجے میں اسکی گردن پر ہلکا سا دباؤ ڈالے دھیمے لہجے میں کہنے لگا غزلان کی جان پر بن گئی۔
“تم اب پوری کی پوری بہزاد بیگ کی ہو”
وہ اسے سر تا پیر دیجھفے ہوئے کہتے ساتھ اسکی بیوٹی بون پر اپنے لب رکھ گیا اور غزلان اپنی آنکھیں زور سے بند کر گئی
“بتائیں پھر پیار کرتے ہیں”
اس کے دور ہوتے ہی غزلان نے اسکی جانب دیکھتے ہوئے الفاظ دہرائے بہزاد نے اسے دیکھا۔
“So listen now
پیار نہیں میں تم سے عشق کرتا ہوں شدت والا عشق پاگلوں کی طرح والا عشق جنون والا عشق جیسے تم پاگل ہو میرے لیے اس سے کئی زیادہ میں تمہارے لیے پاگل ہو چکا ہوں اب تمہیں اس رشتے سے آزادی اور مجھ سے دوری صرف میرے مرنے کے بعد ملے گی مائی بیوٹی”
وہ اسکے کان کے قریب ہوتی گھمبیر اواز میں ٹھہر ٹھہر کے الفاظ ادا کیے غزلان کو اسکے منہ سے ادا کیے گئے الداسن کر بےحد خوشی ہوئی تھی مگر اسکی کہی باتوں سے وہ گھبرا بھی تھی اسکی قربت میں اسکی اوپر کی سانس اوپر اور نیچے کی سانس نیچے رہ گئی ہاتھ پیر ٹھنڈے پڑنے لگے تھے گال سرخ ہو چکے تھے اسکی گرم سانسوں کی تپش اپنے چہرے پر محسوس کرتے غزلان قریشی ہمیشہ کی طرح بےبس ہو چکی تھی۔
بہزاد بے باکی سے اسکے ہونٹوں پر پوری شدت سے اپنے ہونٹوں رکھ چکا تھا غزلان اسکی اس حرکت پر ایکدم ساکت سی ہو گئی تھی۔
“دراب”
یوسف صاحب نے اسے پکارا دراب انکے بلانے پر کمرے کی جانب بڑھا
“جی انکل”
وہ کمرے میں آتے ہی انہیں مخاطب کرتے ہوئے پوچھنے لگا یوسف صاحب اسے ہی دیکھ رہے تھے۔
“بات کرنی تھی تمہیں رویش اچھی لگی میں نے تمہاری آنکھیں پڑی ہیں”
یوسف صاحب اسکے قریب آکر دو سنچ کے فاصلے پر کھڑی چہرے پر سنجیدگی لیے پوچھنے لگے انکے پوچھنے پر دراب نے پہلی انکی طرف دیکھا اور پھر اثبات میں سر ہلا دیا
“نکاح کرو گے اس سے”
وہ اسی پر نظریں مرکوز کیے پوچھنے لگے دراب نے ایکدم انکی جانب دیکھا
“جی انکل کروں گا”
وہ مسکراتے ہوئے بولا یوسف صاحب بھی مسکرادیے
“تم جا سکتے ہو”
وہ مسکراتے ہوئے اسے جانے کا کہتے ساتھ بیڈ پر آکر بیٹھ گئے۔
“کل رویش سے بات کرکے دونوں کا نکاح پڑسوں ہی پڑھا دوں گا”
وہ خود سے کہتے ساتھ اطمینان سے لیٹ گئے۔
وہ دونوں بیڈ پر بیٹھی تھے بہزاد اسکے گرد بازو حائل کیے اسی پر نظریں مرکوز کیے ہوئے تھا غزلان نظریں جھکائے بیٹھی تھی دونوں کے بیچ خاموشی تھی
“مجھے جاننا ہے آپ کا ماضی”
غزلان خاموشی توڑتے ہوئے اسے دیکھ کر بولی بہزاد نے اسے دیکھا
“مجھے بھی”
وہ اسے دیکھتے ہوئے بالوں میں انگلیاں ہھیرتے ہوئے بولا غزلان سر کر خم دے گئی۔
“پہلے میں نے کہا نا تو پہلے آپ بتائیں گے ویسے بھی ساری زندگی ساتھ گزارنی ہے تو ایک دوسرے کے بارے میں سب معلوم ہونا چاہیے”
وہ اسے دیکھتے ہوئے بولی بہزاد اثبات میں سر ہلا گیا
“بلکل”
وہ اسکے بال پر اپنا انگوٹھے کا لمس نرمی سے محسوس کرواتے ہوئے کہنے لگا غزلان کی ہارٹ بیٹ مس ہوئی۔
“بتائیں پھر”
وہ اسے خاموش دیکھتے ہوئے پھر سے مخاطب کرنے لگی جب بہزاد نے اسکے ہونٹوں پر انگلی رکھ کر اسے خاموش کیا
“کل ابھی کچھ اور باتیں کرو”
وہ اسے دیکھتے ہوئے سنجیدگی سے بولا غزلان اسکی بات مانتے ہوئے اثبات میں سر ہلا گئی۔
“تو یہ پوچھ لوں بچپن سے ہی اتنے ڈیشنگ اتنے ہینڈسم ہیں یا بڑے ہو کر”
وہ اسکے فضول سے سوال پر اپنی مسکراہٹ بامشکل ضبط کر سکا وہ بھی مسکرادی
“تم مجھ سے پیار اس لیے کرتی ہو میں ہینڈسم ہوں”
وہ آئبرو اچکا کر اسے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگا غزلان فورا نفی میں سر ہلا گئی
“آپ کی فکر کرنا میرے ساتھ کچھ برا نہیں کیا اس وجہ سے غزلان قریشی کو”
وہ ابھی بول رہی گے جب بہزاد نے اسے ٹوکا
“غزلان بہزاد تم اب مسز بہزاد بیگ ہو”
وہ اسے دیکھتے ہوئے پیار بھرے لہجے میں بولنے لگا وہ مسکرادی
“جی غزلان بہزاد کو اس کے شوہر پسند آئے”
وہ مسکراتے ہوئے اسے بولی جس پر وہ بھی مسکرایا بہزاد نے اسکی پیشانی پر اپنے لب رکھ دیے وہ آنکھیں بند کر گئی۔
اسی طرح دونوں باتیں کرتے کرتے نیند کی وادیوں میں چلے گئے۔
وہ ڈریسنگ کے سامنے کھڑی اپنے بالوں کو جوڑے میں قید کر رہی گے جب زہرون پیچھے سے اتا اپنے حصار میں قید کر گیا
“کیا ہے یہ”
وہ اسکی آتی میں گھبراتے ہوئے اسے دیکھتے ہوئے پوچھ لگی زہرون نے اسکی گردن پر لب رکھے اور اسکی خوشبو کو اپنے اندر اتارا۔
“بیوی پر پیار آرہا تھا”
وہ اسے شیشے سے دیکھتے ہوئے چھیچھوڑے انداز میں کہنے لگا جس پر عینب نے گھوری سے نوارا
“ہمارے بیچ کیا بات ہوئی تھی”
وہ اسے دیکھتے ہوئے یاد دلانے لگی اور اہنا رخ زہرون کی جانب کیا۔
“ہمارے بیچ بات یہ ہوئی تھی کہ جب اس ادمی کو تمہارے سامنے لاوں گا تو تم میری محبت پر یقین کرو گی مگر مجھے قریب آنے سے روکنے کا کہیں نہیں بولا گیا”
کہتے ساتھ اسکے چہرے کے قریب جھکتا اسکی گال پر لب رکھ گیا عینب اسکے اس طرح اچانک حملوں پر اپنی ہارٹ بیٹ تیز ہوتی محسوس کرتی اور گھبراتے ہوئے اسے پیچھے کرتے ساتھ بیڈ پر آکر گئی وہ اسے دیکھ کر مسکرانے لگ گیا۔
“گڈ نائٹ”
کہتے ساتھ عینب خود پر بلینکٹ ڈالتی سوگئی اور وہ اسے رہا تھا۔
“مجھے نیند آرہی ہے یونیب”
گھڑی اس وقت دو بجا رہی تھی اور وہ ایک بجے سے یونیب کیساتھ کال پر تھی
“اس جاؤ”
دوسری جانب سے بھاری اواز اسکے کانوں میں آئی
“تم کال بند کرو”
رویش اسکے جواب پر اسے غصے سے بولی یونیب مسکرایا
“ضروری نہیں ہے کال بند ہو نہیں کروں گا ڈسٹرب سوجاؤ”
وہ اسے مسکراتے ہوئے کہنے لگا اسکی بات پر رویش تھوڑا حیران ہوئی
“پہلے تم تھوڑے مینٹل لگتے تھے مگر اب پورے ہو”
وہ اسے بولتے ساتھ فون بند کرنے لگی جب یونیب نے اسے روکا
“کال نہیں بند کرنا ورنہ گھر پہنچ جاؤ گا تمہاری سانسیں سننے سے بھی مجھے سکون ملتا ہے”
وہ اسے وارن کرنے والے انداز میں بولتے ساتھ اپنے سکون کی وجہ بتانے لگا نا چاہتے ہوئے بھی رویش کے لب اسکی بات پر مسکرادیے تھوڑی دیر اس سے ہوں ہی نوک جھوک کرتی رہی لیکن جلد ہی اسکی آنکھ لگ گئی اور وہ سو گئی وہ پوری رات اسکی سانسوں سننے میں مصروف رہا۔
جاری ہے
