Black Love By Mahnoor Shehzaad Readelle50302

Last updated: 25 July 2026

280.4K
41

Black Love

By Mahnoor Sheherzaad

شام کے پہر وہ سارے کام یعنی کچھ لوگوں کو انکے انجام تک پہنچا چکا تھا گھر میں داخل ہوا تھا اور آتے ساتھ وہ کاؤچ پر بیٹھا تھا "بلیک کافی" وہ ریاض کو حکم دیتے ساتھ وہاں سے اٹھتا اوپر کمرے کی طرف بڑھ گیا تھا ریاض کچن کا رخ کرگیا "کچھ چاہیے تھا آپ کو" ریاض غزلان کو کچن میں موجود دیکھتے ہوئے اسے پوچھنے لگا اسکے پوچھنے پر غزلان نے اسے دیکھا "بلیک کافی پینی تھی لیکن سمان نہیں مل رہا" غزلان سپاٹ سے لہجے میں ریاض کو بتانے لگی ریاض نے بلیک کافی کا سمان نکسال کر اسکے سامنے رکھا "میں بنادیتا ہوں میں سر کی بھی بنارہا ہوں" ریاض غزلان کو دیکھتے ہوئے مسکرا کر کہنے لگا غزلان نے گردن موڑ کر اسے پھر سے دیکھا "میں بنارہی ہوں نا تمہارے سر کی بھی بنادیتی ہوں دے دینا" وہ اسے دیکھتے ہوئے تھوڑے غصے سے بولی جس پر ریاض خاموش ہوگیا "نکاح بھی کچھ اپنی جیسی کیساتھ ہی کیا ہے" ریاض چہرے پر مسکراہٹ سجائے دل میں کہنے لگا اور غزلان بلیک کافی بنانے میں مصروف ہوگئی۔ "تم جاؤ میں دے بھی دوں گی انہیں" غزلان اسے کھڑا دیکھ کر حکم دینے والے انداز میں کہتی کافی ڈش میں کپ رکھنے لگی ریاض کچھ کیے بغیر چلا گیا اور غزلان بہزاد کے کمرے کی جانب بڑھ گئی۔ وہ اسکے کمرے کے باہر موجود تھی غزلان نے دروازہ ناک کیا ہارٹ بیٹ بہت تیز تھی "آجاؤ" وہ کرسی سے پشت ٹکا کر آنکھیں موندے بولا جس پر وہ دروازہ کھولتی اندر داخل ہوئی اس نے نظریں کمرے میں گھمائی پورا کمرا انتہائی بکھری حالت میں پڑا تھا وہ قدم اٹھائے اسکی طرف بڑھ رہی تھی وہ اسکے قریب آکر کھڑی ہوئی بولنے ہی لگی تھی "رکھ دو " اس کے بولنے سے پہلے وہ اسے کہنے لگا غزلان کو تھوڑی حیرت سی ہوئی اور اسے حیرت سے دیکھتی ٹیبل پر مگ رکھ چکی تھی کسی لڑکی کا ہاتھ پاکر اسکے ماتھے پر بل نمودار ہوئے بہزاد نے سیاہ نظروں کو پیچھے کی جانب موڑا سامنے اسے موجود پاکر آنکھیں سرد ہوئی۔ غزلان اسے دیکھنے لگی "ریاض کہاں ہے" وہ اسے دیکھتے ہوئے سخت لہجے میں پوچھنے لگا غزلان بغیر ڈرے اسے دیکھتے ہوئے اسے دیکھ رہی تھی "نیچے" وہ کافی کا مگ لبوں سے لگا کر اسے دیکھتے ہوئے بتانے لگی بہزاد نے اپنی مٹھیاں بھینچی "تم یہاں کیوں آئی" وہ اپنا غصہ ضبط کرنے کی کوشش کرتے ہوئے سرد مگر دھیمہ لہجہ اختیار کیے پوچھنے لگا "کافی دینے میں اپنے لیے بنا رہی تھی تو مجھے ریاض نے آکر بتایا آپ کو بھی ضرورت ہے تو میں نے آپ کی بھی بنادی اور خود دینے چلی آئی" غزلان بغیر پرسکون سے انداز میں اسے دیکھتے ہوئے بتانے لگی اسکی بات پر بہزاد کا میٹر گھوما "اپنے کام سے کام رکھو مجھ سے دور رہو میں لاسٹ ٹائم کہ رہا ہوں " وہ ایک ایک لفظ چبا چبا کر اور انتہا کے غصے سے کہنے لگا غزلان اسکی سیاہ آنکھوں میں دیکھ رہی تھی "کمرا ٹھیک کردو آپ کا" وہ اسکے کمرے کا حال دیکھ اسکی بات کو نظرانداز کرتے ہوئے کافی کا مگ اسکے مگ کیساتھ رکھ کر بولی بہزاد اسے بہت ہی غصے سے دیکھ رہا تھا اور غزلان اسکے بیڈ سے چیزیں اٹھانے لگی بہزاد غصے سے اسکی جانب بڑھا اور اسکے بازو کو اپنی ہاتھ کی سخت گرفت میں دبوچ کر اسکا رخ اپنی طرف کیا غزلان اچانک حملے پر ہڑبڑا گئی "سمجھ نہیں آئی میری بات دور رہو" وہ غصے سے اسکے بازوؤں کو دبوچ کر اپنے قریب کیے سرد نگاہیں اس کے چہرے پر مرکوز کیے کہنے لگا غزلان درد سے آنکھیں بند کر گئی اس میں آتے آتی خوشبو غزلان کو بےبس بنا رہی تھی "مجھے درد ہورہا ہے" وہ آنکھیں بند کیے تھوڑا ڈرے ہوئے لہجے میں اسے کہنے لگی بہزاد اسکے چہرے کے نقوش کو بہت غور سے دیکھ رہا تھا اسکی بات سے وہ جو مدھوش ہورہا تھا ایکدم ہوش میں آیا "میں صرف درد دینے کیلیے ہوں بہتر یہی ہے دور رہو مجھ سے" وہ اسے جھٹکے سے خود سے دور کرتے ہوئے کہنے لگا غزلان اسے دیکھنے لگ گئی "اور میں درد سہ جانے والوں میں سے ہوں" وہ چہرے پر مسکراہٹ سجائے اسے دیکھ کر دوٹوک انداز میں جواب دینے لگی غزلان اسوقت خود بھی بہت الجھی ہوئی تھی وہ ایسا کیوں کررہی ہے مگر اسکا دل اسے یہ سب کرنے پر مجبور کررہا تھا "Leave me alone" وہ اسکے جواب پر دھاڑا تھا غزلان ایک پل کیلیے سہم سی گئی تھی اور اس بار اس نے وہاں سے جانے میں ہی اپنی بہتری سمجھی تھی۔ ******

 

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!