280.4K
41

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Black Love) Episode 12

اسکی آنکھ کھلی تو نظر کمرے میں گھمائی سامنے موجود اس حسین سراپے پر نظر گئی جو سورت ہوئے بہت ہی نازک معصوم سی گڑیا لگ رہی تھی اسکی نظریں وہی جم سی گئی تھی۔
“اب یاد ہے مگر اس دل کے ہاتھوں مجبور ہوں میں”
اسکی صبح کہے جانے والے الفاظ یاد کرتے ہی بہزاد کے پتھر دل نے بیٹ مس کی
“نفرت ہے مجھے”
تبھی اسکے کانوں میں زہرخند لہجے میں کہے الفاظ یاد آنے لگے وہ ایکدم ہوش میں آیا۔
“نہیں مت بھولو تم کیا ہو اور تمہارا مشن کیا ہے”
وہ ایکدم اپنے بیسٹ والے روپ میں سرخ آنکھوں سے کہتے ساتھ بیڈ سے اٹھ کھڑا ہوا اور باتھروم کی جانب قدم بڑھا گیا۔
فریش ہوکر کچھ دیر بعد وہ واپس آیا نظر غزلان پر گئی جو کاؤچ پر بیٹھی نظریں ادھر ادھر گھما رہی تھی۔
“گڈ مارننگ”
وہ اسے دیکھتے ہوئے لبوں پر مسکراہٹ سجائے بولی جس پر وہ بغیر کوئی جواب دیے کمرے سے باہر چلا گیا۔
“اگنور ہی کرنا آتا ہے بس”
وہ اسے جاتا دیکھتے ہوئے منہ بسورے بولتے ساتھ باتھروم کی طرف قدم بڑھا گئی۔
فریش ہوکر وہ بھی نیچے آئی تو نظر اس پر گئی جو صوفے پر بیٹھا ہاتھ میں ہیرے کا پتھر لیے اسے گھمانے میں مصروف تھا
“بلیک کافی”
بہزاد اسے کچن میں جاتا دیکھ حکم دینے والے انداز میں کہنے لگا غزلان کے بڑھتے قدم رکے اس نے مڑ کر اسے دیکھا اور اسکے سامنے آکر کھڑی ہوگئی
“یہی بات اگر آرام سے اور پیار سے کہیں گے تو میں ضرور کروں گی ورنہ خود بنا لیں”
غزلان آرام آرام سے بولتے آخری الفاظ تھوڑے سختی سے کہنے لگی بہزاد نے سرد نگاہوں سے اسے دیکھا۔
“عادت ہو چکی ہے مجھے نہیں ڈرنے والی”
وہ اسکے اسطرح دیکھنے پر پرسکون سی کہنے لگی وہ ایکدم کھڑا ہوگیا اسکے اسطرح کھڑے ہونے پر وہ گھبراتے ہوئے ان بیلنس ہوتی گرنے لگی بہزاد نے ایک بازو سے اسے تھام لیا۔
“زیادہ بولنے والے لوگ پسند نہیں مجھے کافی روم میں لے آنا”
وہ اسے اپنی قید میں لیے اسکے قریب چہرہ جھکائے سرد لہجے میں کہنے لگا غزلان اثبات میں سر ہلا گئی اور وہ اسے سیدھا کھڑا کرتا پتھر کو گھما کر اوپر کی طرف بڑھ گیا۔
“انتہا درجے کا کوئی سڑیل ہے”
وہ اسے جاتا دیکھ غصے سے آنکھیں دیکھاتے کہتے ساتھ پیر پٹک کر کچن کا رخ کر گئی۔


“عینب مجھے تم سے بات”
وہ ناشتے کے بعد ٹی وی لاؤنچ میں موجود تھی جب زہرون اسکے پاس آکر بیٹھتے ہوئے کہنے لگا۔
“رویش نے کہا تھا وہ اسوقت تک آجائے گی ابھی تک تو نہیں آئی “
عینب اسکی بات کو نظرانداز کرکے دوسری بات کرنے لگی زہرون اسے دیکھنے لگ گیا
“آجائے گی ڈونٹ وری”
وہ یہ الفاظ سادگی سے کہتا وہاں سے اٹھ کر چلا گیا اور عینب اسے جاتا دیکھنے لگی
“آئی ایم سوری لیکن مجھے یہ کرنا پڑا تاکہ ہماری فرینڈشپ خراب نہ ہو”
وہ اسے جاتا دیکھ دل میں افسردگی سے بولتی سر جھٹک گئی۔
“عینب باجی رویش باجی کا پتہ چلا”
تبھی زرمیش اسکے پاس آتے ہوئے فکرمندی سے پوچھنے لگی عینب نے اسے دیکھتے ہوئے اثبات میں سر ہلا دیا۔
“کچھ دیر میں وہ پہنچ جائے گی تم پریشان مت ہو “
وہ اسکی گال پر ہاتھ رکھے پیار سے کہتی وہاں سے اٹھ کر چلی گئی اور زرمیش کے چہرے پر مسکراہٹ آئی۔


خان اور رویش اسکردو کیلیے نکل چکے تھے وہ سیٹ کیساتھ سر ٹکائے خاموشی سے سڑک پر نظریں مرکوز کیے ہوئی تھی خان کی نظریں بار بار اس پر جارہی تھی
“کتنا وقت لگے گا”
وہ اسے دیکھے بغیر سنجیدگی سے پوچھنے لگی جس پر اس نے اسے دیکھا
“گھنٹہ”
خان کی جناب سے ایک لفظی جواب آیا جس پر وہ بس سر کو خم دے سکی
“میرا کوئی غلط مطلب نہیں تھا تمہیں اپنے گھر لانے کا”
خان پہلی دفعہ زندگی میں کسی کو وضاحت پیش کررہا تھا جس پر رویش نے کوئی جواب نہ دیا
“چہرے کو ہمیشہ ڈھانپ کر رکھنا مجھے سمجھ نہیں آتا”
رویش اسکی طرف دیکھتے ہوئے سنجیدگی سے بولی جس پر خان نے اسے دیکھا
“دشمن نہ پہچان لے”
وہ اسے بتاتے ساتھ ڈرائیونگ پر دھیان دینے لگا اور وہ خاموش ہو گئی
بیس منٹ کا سفر ہی ابھی طہ ہوا ہوگا کہ رویش کی آنکھ لگ گئی دو راتوں سے اسکی نیند جو پوری نہیں ہوئی شاید اس وجہ سے خان اسے دیکھ رہا تھا۔
“کاش میں تمہیں اپنے دل کا حال بتاسکتا ہے لیکن زبردستی کرنا نہیں چاہتا”
وہ اسے دیکھتے دل میں بولتے ساتھ پیچھے سے جیکٹ اٹھائے اس پر ڈالنے لگا
“خان تم پر پوری طرح سے فدا ہے اینگری گرل”
وہ اس پر جیکٹ ڈالتے ہوئے اسکے قریب ہوکر دھیمے اور گھمبیر لہجے میں کہتے ساتھ اس سے الگ ہوا اور نظریں سڑک پر مرکوز کرلی۔
رویش نیند میں ہلکا سا مسکرائی اسکے چہرے کے تاثرات دیکھ کر خان کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ آئی۔


“کہاں جارہی ہو”
وہ اسے حویلی سے باہر جاتا دیکھتے ہوئے مخاطب کرتے ہوئے پوچھنا ضروری سمجھنے لگا
“قبرستان”
وہ سنجیدگی سے اسے جواب دیتے ساتھ باہر کی جانب قدم بڑھانے لگی
“وہاں کیوں”
ناچاہتے ہوئے بھی وہ پوچھنے لگا غزلان کے بڑھتے قدم رکے اس نے مڑ کر اسے دیکھا۔
“یوں سمجھ لیں کوئی بہت عزیز ہے “
وہ اسے دیکھ کر جواب دیتے ساتھ باہر کی جانب قدم بڑھانے لگی جب وہ گاڑی کی کیز اٹھاتا کوٹ پہن کر پیچھے آیا
“میں ساتھ چلوں گا”
وہ اسے دیکھتے ہوئے بتاتے ساتھ گاڑی ان لاک کرنے لگا غزلان اسے دیکھنے لگ گئی
“میں خود چلی جاتی ہوں”
وہ اسے دیکھتے ہوئے بتانے لگی بہزاد نے اسے خاموش رہنے کا اشارہ کیا اور گاڑی میں بٹھایا۔
“سمجھ ہی نہیں آتی مجھے ایک تو اسکی”
وہ گاڑی میں بیٹھے اسسے غصے سے دیکھتے ہوئے کہنے لگی بہزاد نے گاڑی اسٹارٹ کرکے سڑک پر دوہرا دی
کچھ ہی دیر میں گاڑی قبرستان کے باہر موجود تھی اس نے گاڑی پر بریک لگائی غزلان نے اسے دیکھا
“اب اندر بھی ساتھ آنا ہے کیا”
وہ اسے ناچاہتے ہوئے بھی غصے سے کہنے لگی بہزاد نے اسے دیکھا
“نہیں تم جاؤ”
وہ اسے بولتا واپس سے دوسری جانب دیکھنے لگ گیا غزلان خاموشی سے گاڑی سے اتر کر قبرستان کی طرف بڑھ گئی۔
(تمہیں کیا لگتا ہے اس غزلان کو میں چگوڑدوں گا جان سے مارو گا”
درید کے کہے رات والے الفاظ اسکے ذہن سے ابھی تک نہیں نکل رہے تھے اس لیے وہ اسکے ساتھ یہاں آیا تھا)
تبھی کوئی شخص غزلان کا پیچھا کرنے لگا غزلان قبرستان میں چلی گئی اور وہ شخص بہزاد کی قید میں آ چکا تھا۔
“تتت۔۔۔تتمم”
سامنے موجود شخص کو دیکھ اسکی آدھی جان وہی نکل گئی اسکا پورا وجود تھر تھر کانپنے لگا بہزاد اپنی سرخ سرد نگاہوں سے اسے دیکھ رہا تھا اسکی وحشت بھری آنکھیں دیکھ کر اس شخص کو اپنی جان جاتی دیکھائی دی اور بہزاد بیسٹ والے روپ میں آیا اور جیب سے چاقو نکال اپنے انداز میں گھماتے ہوئے اسے مار دیا وہ اسکی شخص کی آنکھیں باہر آنے کو تھی
“میری نظروں سے بچنا مشکل تھا”
وہ اسے زمین پر پٹکتا وحشت بھرے لہجے میں کہتا چاقو اسکے وجود سے صاف کرتا گاڑی میں بیٹھ چکا تھا۔
جتنا سخت اور پتھر دل اسکے سامنے بنتا تھا پیٹھ پیچھے اسکا محافظ بھی وہی تھا۔


رویش پہنچ گئی تھی خان نے گاڑی روکی تو رویش فوراً گاڑی سے اتر کر اسے دیکھے بغیر اندر کی جانب قدم بڑھانے لگی خان کی نظعیں اسی پر مرکوز تھی لیکن اچانک اسکے قدم رکے اس نے مڑ کر اسے دیکھا اور واپس گاڑی کی طرف بڑھی۔
“سوری”
وہ اسے شرمندہ بھرے لہجے میں کہتی گھر کے اندر چلی گئی خان کے لبوں پر مسکراہٹ آئی
ٹی وی لاؤنچ میں قدم رکھتے ہی جیسے ہی رائے بیگم کی نظر اس پر گئی انہوں نے فوراً اٹھ کر اسے سینے سے لگایا عینب بھی اسے دیکھ کر خوش ہوئی مگر کچھ ظاہر کیے بغیر اوپر بڑھ گئی یوسف صاحب بھی اس سے ملے
“باجی باجی میں نے اتنا مس کیا آپ کو”
زرمیش اسکے گلے سے لگی اداسی اور معصومیت سے کہنے لگی جس پر رویش نے اسے پیار کیا۔
“تم ریسٹ کرلو تھک گئی ہوگی میری بچی”
راحت بیگم اسے پیار سے بولی جس پر وہ اثبات میں سر ہلا کر کمرے کی جانب قدم بڑھا گئی
کمرے میں آتے ساتھ اس نے فون نکالا اور یونیب کا نمبر ملایا دوسری جانب وہ رویش کی کال دیکھ کر تھوڑا پریشان سا ہوا
“بولو”
کال اٹینڈ کرتے ہوئے یونیب نے نارمل انداز میں پوچھا رویش ایک پل کیلیے فون دیکھتی رہ گئی
“مجھے ملنا ہے تم سے”
رویش نے تھوڑے سرد لہجے میں اسے بولا یونیب اسکی بات پر تھوڑا سا گھبرایا
“بزی ہوں میں”
یہ کہتے ساتھ یونیب نے فون کٹ کردیا اور رویش فون کو دیکھنے لگ گئی۔


“مجھے سر سے ملنے جانا ہے”
وہ اسے دیکھتے ہوئے کہنے لگی بہزاد نے بھی اسے دیکھا
“وجہ”
بہزاد ہاتھ میں چاقو گھمائے اسے دیکھتے ہوئے سپاٹ لہجے میں پوچھنے لگا
‘”اپنے گھر جانے کیلیے کوئی وجہ کا ہونا ضروری نہیں”
وہ اسے کہتے ساتھ بالوں کو جوڑے کی شکل میں قید کرتے ہوئے بولی جس پر وہ خاموش رہا۔
“چلی جاؤ”
وہ اپما رخ اسکی جانب کیے اسے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگی
“ایک بات ذہن میں بٹھا لو اب جہاں جاؤ گی میرے ساتھ جاؤ گی”
وہ بیڈ سے اٹھ کر اسکے سامنے کھڑا ہوتا ہوا اسے دیکھتے ہوئے بولا غزلان نے آئبرو اچکا دی اور پھر اچانک لبوں پر مسکراہٹ آئی۔
“یعنی آپ بھی نہیں رہ سک رہے میرے بغیر ہے نا”
وہ مسکراتے ہوئے اسکے سینے پر انگلی رکھے بولی بہزاد اسے دیکھنے لگ گیا۔
“فضول نہ بولا کرو”
وہ اسکی انگلی ہٹاتے ہوئے باتھروم کی جانب بڑھ گیا اور غزلان اسے جاتا دیکھنے لگ گئی۔
“پرواہ بھی ہے لیکن ظاہر نہیں کرنا”
وہ اسے جاتا دیکھ لبوں پر مسکراہٹ سجائے دل میں کہنے لگ گئی
تبھی وہ بلیک کوٹ میں موجود اسے باہر چلنے کا اشارہ کرنے لگا غزلان اثبات میں سر ہلا کر چل دی۔
جاری ہے۔