280.4K
41

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Black Love) Episode 26

وہ کمرے میں آیا جہاں وہ بیڈ کراون سے سر ٹکائے ہاتھ پر ہاتھ رکھے سوئی ہوئی تھی بہزاد اسکے قریب گیا اور چہرے پر آئے بالوں کو پیچھے کیا غزلان ایکدم آنکھیں کھول گئی سامنے اسے موجود دیکھ وہ گھبرا کر تھوڑا فاصلہ اختیار کرنے لگی جب بہزاد اسکے قریب آکر اسکا ارادہ ترک کر گیا غزلان سانس روک گئی بہزاد نے گہری نظروں سے اسکے چہرے کو دیکھا اور کچھ کہے بغیر اسکے ماتھے پر لب رکھ دیے غزلان نے اسکے سینے پر ہاتھ رکھ کر اسے دور کیا جب بہزاد نے سائیڈ ٹیبل سے فرسٹ ایڈ باکس نکالا اور دوائی نکال کر اسکے سرخ ہاتھ پر نظر ڈالی اور دوا بڑے پیار سے لگانے لگا اور پھر اسکی گردن پر وہ سانس روکے خاموش بیٹھی تھی بہزاد قریب گیا اور اسکی گردن پر لب رکھے غزلان کو پورا جسم کپکپا گیا۔

“دور رہیں مجھ سے”
وہ اسے خود سے الگ کرتے لہجے میں ناراضگی لیے بولی بہزاد نے اسکے چہرے پر ہاتھ رکھ کر چہرہ اوپر کی جانب اٹھایا۔

“ایک یہی کام نہیں ہوتا غلطی تھی تمہاری “
وہ اسے دیکھتے دھینے مگر سرد لہجے میں کہنے لگا غزلان نے نم آنکھوں سے اسے دیکھا۔

“برے ہیں آپ بہت”
وہ آنکھوں میں نمی لیے اسے دیکھتے ہوئے خفگی سے منہ بنائے بولی۔

“بہت تمہیں بتایا تھا مگر ایک ہی ضد پکڑ کر کھڑی تھی اب برداشت تو کرنا ہوگا سب”
وہ کہتے ساتھ اپنی نظریں اسکے ہونٹوں پر جما گیا غزلان اسے گھور کر دیکھ رہی تھی جب بہزاد نے ہمیشہ کی طرح اچانک حملہ کرتے اسکے ہونٹوں پر جھک گیا غزلان سانس روک گئی کچھ دیر خود کو اسیر کرتے ساتھ اسے بیڈ پر لٹا کر اسکے بالوں میں ہاتھ پھیرا غزلان آنکھیں بند کیے لیٹی تھی۔

“نن۔نیند آرہی ہے”
غزلان اسے دیکھے بغیر آنکھیں بند کیے بولی بہزاد اسکے قریب سے تھوڑا دور ہوا اسکے گرد مضبوط حصار بنا لیا

“سوجاؤ”
وہ اسے دیکھتے ہوئے نرمی سے بولا غزلان اسکا لہجہ دیکھ کر حیران رہ گئی ۔


اسکے اوپر رویش مزے سے لیٹی ہوئی تھی بلکل کوئی بچی لگ رہی تھی اور اسے دیکھ رہی تھی یونیب بھی اسے دیکھنے میں مصروف تھا اور اسکی کمر کے گرد بازو حائل کیے ہوئے تھے

“تمہیں مجھے دیکھتے ہی پیار ہو گیا تھا”
وہ تھوڑی پر اپنے دونوں ہاتھ رکھے مسکراتے ہوئے پوچھنے لگی یونیب کی مسکراہٹ اسکے سوال پر گہری ہوئی تھی۔

“ہاں دیکھتے ہی جب تمہیں گرنے سے بچایا تھا تم سے تمہارے نام سے “
وہ مسکراتے ہوئے اسے دیکھ کر اسکے چہرے پر آئی شرارتی لٹھ کو پیچھے کرتے ہوئے بتانے لگا رویش نظریں جھکا گئی

“بدل تو نہیں جاؤ گے”
وہ اسکی جانب دیکھ کر سنجیدگی سے پوچھنے لگی یونیب نے حصار مضبوط کیا

“بدل گیا تو جان لے لینا”
اسکے جواب پر رویش کی مسکراہٹ نمودار ہوئی یونیب نے اپنی ناک اسکی ناک سے چھوئی تھی۔

“یو نو واٹ آئی لو یو سو مچ”
وہ مسکراتے ہوئے اسے دیکھ کر کہنے لگی یونیب کی مسکراہٹ مزید گہری ہوئی

“آئی نو”
وہ مسکرا کر اسی کے انداز میں جواب دینے لگا اور دونوں مسکرادیے


صبح بہزاد کی آنکھ کھلی غزلان موجود نہیں تھی وہ خاموشی سے فریش ہوکر باہر آیا
ٹی وی لاؤنچ میں صوفے پر منہ بنائے بیٹھی غزلان پر اسکی نظر گئی چہرے پر مسکان سجا کر اسکی طرف بڑھا اسکے اتے ہی وہ منہ دوسری کر گئی

“ناشتہ نہیں کرنا کیا”
وہ اسے دیکھتے ہوئے مخاطب کرکے پوچھنے لگا سر کو نفی میں ہلایا

“ناراضگی مجھ سے ہے کھانے سے تو نہیں”
وہ اسے ہلاتے ہوئے اسے نرمی سے بولا غزلان نے اب کی بار اسے دیکھا

“بھوک نہیں”
وہ منہ بنائے اسے دیکھ کر بولتے ساتھ نظریں سامنے مرکوز کر گئی۔

“سوری غزلان”
بہزاد بیگ اپنے کان پکڑ کر اسے دیکھ کر کہنے لگا غزلان نے اسکی طرف دیکھا

“ریلی سوری مان جاؤ”
اسکی خاموشی میں وہ اسے دیکھتے ہوئے کہنے لگا اسکے اس قدر پیار سے منانے پر نا چاہتے ہوئے بھی غزلان رات کا اسکا رعیہ اور وہ سب بھلا گئی اور مسکرا دی۔

“مان گئی کیا یاد رکھیں گے آپ کتنی اچھی بیوی ملی ہے”
وہ اسے دیکھ کر مسکرا کر بولی بہزاد نے اسے کھڑا کیا اور سینے سے لگایا۔

“بلکل”
سینے سے لگائے وہ اسکے کان میں بولا غزلان کے لب بھی مسکرادیے وہ اسکا ہاتھ تھامے ڈائننگ کی جانب بڑھ گیا۔


زہرون آج صبح کس کسی ضروری کام کا بول کر گیا ہوا تھا اور اب شام کے سات بج رہے تھے ابھی تک گھر واپس نہیں آیا۔

“حد ہے پتہ نہیں کہاں رہ گیا ہے افف ایک تو اتنا بورنگ دن گزرا ہے اوپر سے آنے کا نام نہیں لے رہا کال ہی کرنی پڑے گی”
کہتے ساتھ عینب فون اٹھا کر منہ بنائے نمبر ڈائل کرنے لگی مگر فون آف جارہا تھا اسے ایکدم پریشانی ہوئی

“وہ ٹھیک تو ہوگا”
وہ پریشانی سے سوچتے ہوئے خود سے پہلے اچانک سے خیال اسکے ذہن میں آئے۔

“نہیں ایسا کچھ نہیں ہوگا مصروف ہوگا”
آپ نے خیال جھٹکتی وہ نارمل ہوکر خود سے بولی اور ںیڈ پر بیٹھ کر انتظار کرنے لگ گئی۔
سات سے نو بج گئے وہ نہیں آیا عینب اسے دس دفعہ فون کر چکی تھی مگر بند جارہا تھا اسکی طبیعت خراب ہورہی تھی اسے عجیب سا وہم ہونے لگا تھا۔
اچانک اندھیرا ہو گیا شاید لائٹ چلی گئی تھی اسکی جانب پر بن گئی دل بند ہونے کو تھا پتہ نہیں کیوں اکیلے رہنے سے ایک خوف محسوس ہورہا تھا اور زہرون تھا جو آنے کا نام نہیں لے رہا تھا


“سر درید کی رپورٹ “
بہزاد کے ہاتھ میں وہ تھماتے ہوئے بولا اسکی حالت بگڑنے پر ڈاکٹر کو بلانے کر وہ اسے اتنی آسان موت نہیں دینا چاہتا تھا اس لیے ڈاکٹر کو بلایا تھا جنہوں نے ٹیسٹ کرنے کا سہا یہ وہی رپورٹس تھی

“کینسر کا لاسٹ سٹیج ہے”
اسے دیکھتے ہوئے وہ مسکراتے ہوئے کہنے لگا سامنے موجود گارڈ خاموش رہا
اس نے جو سب کیا تھا اللہ نے اسے اسی دنیا میں کچھ دیکھانا تو تھا اور اسی ایک ایسی بیماری میں مبتلا کردیا جس سے بچنا ناممکن ہے

“اب کیا کرنا ہے سر”
وہ اسے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگا بہزاد نے فائلز پھینکی اور اسے دیکھا

“اسی یہی قید رکھنا ہے یہی تڑپ تڑپ کر مرے گا یہ”
وہ کہتے ساتھ کمرے کی طرف بڑھ گیا گارڈ اثبات میں سر ہلا کر وہاں سے چلا گیا۔


اچانک کمرے کا دروازہ کھلا اور زہرون داخل ہوا عینب کو بیڈ پر بیٹھا دیکھا اندھیرا ہونے کی وجہ سے وہ اسکا چہرہ ٹھیک سے نہیں دیکھ سکا تھا

“عینب”
زہرون کی اواز جیسے ہی کانوں سے ٹکرائی وہ فورا اٹھ کر اسکی طرف بڑھ اور سینے سے جا لگی جس پر وہ پریشان ہوا پھر مسکراتے ہوئے اسکے گرد حصار قائم کیا ہوا تھا

“کہاں تھے تم”
اسکے سینے سے لگی ڈرے ہوئے انداز میں پوچھنے لگی زہرون کو اسکی اواز مزید پریشانی میں مبتلا کر گئی

“بتایا تو تھا”
وہ حصار مضبوط کرتے ہوئے بولا عینب نے سر اٹھا کر اسے دیکھا

“تمہیں پتہ ہے کرنا ڈر گئی تھی مین بندہ فون تو اٹھاتا ستانے میں مجھے تنگ کرنے میں مزا آتا ہے تمہیں”
وہ اسے دیکھتے ہوئے خفگی سے بولی زہرون بھی اسے دیکھ رہا تھا وہ اسے کہیں سے لڑاکا نہیں لگی تھی بلکہ بہت معصوم لگی تھی۔

“فون کی بیٹری لو تھی”
اسے دیکھتے ہوئے اسکے چہرے پر آئے بالوں کو پیچھے کرتے ہوئے کہنے لگا عینب نے گھور کر اسے دیکھا تبھی لائٹ آ گئی

“تم برے ہو”
وہ اسے دیکھتے ہوئے ایک پنچ مارتے ہوئے کہنے لگی زہرون مسکرایا

“اچھا چلو سب زیادہ پریشان نہ ہو بلکل ٹھیک تمہارے سامنے ہو سمائل”
مسکراتے ہوئے اسے دیکھ کر بولا جس پر عینب اس سے الگ ہوئی

“مجھے بات نہیں کرنی تم سے”
وہ اسے بولتی واپس بیڈ پر جانے لگی جب زہرون نے اسے کھینچ کر اپنی جانب کیا اور پیچھے سے حصار میں کیا عینب کی ہارٹ بیٹ مس ہوئی زہرون اسکی گردن پر لب رکھ گیا۔

“ہو گیا شروع دھڑک پن “
اسکے حصار میں سکون محسوس جان کر اسے بولی جس پر زہرون مسکرایا اور اسکی گردن پر جا بجا پیار کرکے اسے بےبس کر گیا۔


وہ بیلکونی میں موجود تھی بہزاد ہاتھ میں دو کپ لیے کافی اسکی طرف بڑھا جس پر غزلان نے ایک کپ تھام لیا

“مجھے تو پتہ ہی نہیں تھا آپ کو کافی آتی ہے بنانے”
وہ مسکراتے ہوئے کافی کا گھونٹ بھرتی اسے دیکھ کر بولی بہزاد نے اسے دیکھا

“اب ہو گیا معلوم”
وہ اسے گہری نظروں سے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگا جس پر غزلان اثبات میں سر ہلا گئی

“کافی اچھی ہے”
وہ دل سے اسکی تعریف کرتے ہوئے مسکراتے ہوئے کہنے لگی جب بہزاد قریب ہوا اور اسے دیکھا غزلان بھی اسے دیکھ رہی تھی۔

“پھر مجھے کوئی گفٹ ملنا چاہیے”
وہ اس معنی لہجے میں اسے گہری نظروں سے دیکھتے ہوئے کہنے لگا غزلان نظریں جھکا گئی

“کیا”
وہ کنفیوز سی ہوتی پوچھنے لگی بہزاد نے بڑی بےباکی اپنے تنشہ لب اسکے لبوں پر رکھ کر اسکی سانسیں خود میں قید کی غزلان آنکھیں بند کر گئی کچھ دیر خود کو اسیر کرتے وہ اس سے الگ ہوا اور نظر اس سرخ چہرے پر ڈالی اور مسکرا دیا۔

“پڑسوں واپس جارہے ہیں ہم”
اسے دیکھتے ہوئے بتانے لگا غزلان نے اسے دیکھا

“کیا درید مر گیا”
اسے دیکھتے ہوئے سنجیدگی سے پوچھنے لگی بہزاد نفی میں سر ہلا گیا

“پھر کیوں”
وہ وہ اسے سوالیہ نظروں سے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگی بہزاد نے اسے دیکھا اور اسے سب بتایا جس پر وہ خاموش رہی تھی اور کافی پینے لگ گئی۔


“رویش باہر گھومنے چلتے ہیں”
اسکے پاس اتے ہوئے پیار سے کہنے لگا رویش نے اسے دیکھا

“نہیں مجھے نہیں جانا باہر یونیب”
وہ اسے دیکھتے ہوئے فورا گھبرا کر بولی اسکے اچانک گھبرانے پر وہ پریشان ہوا اور اسکے ساتھ آکر بیٹھ گیا

“کیوں سب ٹھیک ہے”
یونیب اسے دیکھتے ہوئے سنجیدگی سے پوچھنے لگا رویش نظریں چرا گئی

“نہیں مجھے نہیں جانا بس سب ٹھیک ہے دل نہیں”
کہتے ساتھ وہ اسکے ساتھ سے اٹھ کر جانے لگی یونیب نے اسکا تھام کر روکا اور گھما کر اپنی گود میں بٹھایا

“مجھ سے اب بات چھپاؤ گی”
اسکے چہرے پر شرارتی لٹھوں کے پیچھے کیے پوچھنے لگا رویش اسے دیکھنے لگ گئی

“میں کچھ بھی نہیں چھپا رہی اگر تم میرا پاڈٹ جاننا چاہتے ہو تو بتا دیتی ہوں”
وہ اسکے چہرے پر ہاتھ رکھے اسے بولی یونیب اسے دیکھ رہا تھا۔

“نہیں مجھے نہیں جاننا پاسٹ سن کر کرنا بھی کیا ہے”
اسکی کمر میں اپنا ہاتھ ڈالتا وہ اسکے چہرے کے قریب آتے ہوئے بولا اسکے قریب آنے پر رویش کی ہارٹ بیٹ مس ہوئی وہ آنکھیں بند کر گئی وہ اسکی گردن کے قریب آکر اسکی بےدقغ گردن پر اپنا لب رکھ دیے۔

“تم واقع نہیں جاننا چاہتے”
یونیب کی دور ہونے پر رویش نے جیسے کنفرم کرنا لازمی سمجھا جس پر یونیب اثبات میں سر ہلا گیا رویش مسکرا دی


“کتنا وقت لگے گا اور”
زہرون سامنے بیٹھا ڈیکٹیو کو دیکھتے ہوئے پوچھنے لگا جس پر وہ اسے دیکھنے لگ گیا۔

“سر دیکھیں مجھے صرف جگہ پتہ اس واقع پیش آنے کی نہ آؤ لڑکے کا پتہ ہے نہ نام نہ کچھ کوشش کر رہا ہوں وقت لگے گا لیکن مل جائے گا”
اسے دیکھتے ہوئے وہ سنجیدگی سے بتانے لگا زہرون اثبات میں سر ہلا گیا

“ہاں بات ٹھیک کررہے لیکن اگر جلدی ہوجائے تھوڑا”
اسے دیکھتے ہوئے زہرون نے اس سے بولا جس پر ڈیٹیکو اثبات میں سر ہلا گیا اور وہ اٹھ کر وہاں سے چلا گیا۔

“کون سی نئی چڑل مل گئی ہیں جس پر روز روز باہر جاتے ہو”
زہرون جو ابھی آیا تھا اور کمرے میں جانے لگا عینب کو سامنے دیوار بنا کھڑا دیکھ حیران ہوا اور اسکی بات پر عینب کی مسکراہٹ آئی۔

“ہاں بہت حسین ہے اور مزے کی بات بتاؤ قریب بھی آنے دیتی افف ابھی بھی کتنا حسین”
وہ ابھی بول رہا تھا جب عینب نے اسکی گردن کو زور سے دبایا اور گھور کر دیکھا

“اگر اتنا ہی حسین لمحہ گزار کر آئے ہو تو گھر کیوں آئے وہی رک جاتے”
اسکے گلے میں دباؤ ڈالے سرد لہجے میں کہنے لگی جس پر زہرون مسکراتے ہوئے اسکی کمر پر ہاتھ ڈال اسے بلکل اپنے ساتھ لگایا۔

“تمہیں لگتا ہے کیا ایسا”
اسکی گردن پر اپنی انگلیاں کس لمس محسوس کرواتے ساتھ کان میں گھمبیر اواز میں بولتے ساتھ اسکی دھڑکنیں بےترتیب کر گیا جس پر وہ آنکھیں بند کر گئی

“مجھے بھوک لگی ہے ہٹو”
اسے اپنے قریب آتا دیکھ کر اسے پیچھے کرتے کہتی کچن میں چلی گئی زہرون اسے جاتا دیکھنے لگ گیا۔


“پلیزز جانے دو مجھے پلیززززز”
درید کانپتے ہوئے بولا بہزاد سامنے بیٹھا اسے اس طرح تڑپتا دیکھ رہا تھا

“پاااانی۔۔۔دے دو”
وہ بہزاد کو دیکھتے ہوئے خشک گلے سے بولا بہزاد خاموشی سے اپنے. چاقو سے کھیلنے میں مصروف تھے۔

“پپپ۔۔۔۔پپپلیززززز”
وہ پھر سے کانپنے اواز میں اسے پکارنے لگا جس پر بہزاد نے سرخ آنکھوں سے اسکی طرف دیکھا

“چپ”
انتہائی سرد لہجے میں اسکے سامنے چاقو کیے بولا جس پر وہ گھبرا گیا اور اپنے منہ پر ہاتھ رکھ گیا۔
بہزاد اسے یوں تڑپتا چھوڑ کر وہاں سے باہر کی طرف بڑھ گیا اور لان میں چلا گیا۔
غزلان بہزاد کا دیا گیا ڈریس پہن کر دیکھنے لگی آج پہلی دفعہ وہ اسکے لیے اپنی پسند سے کچھ لایا تھا شارٹ فراک میں ساتھ تنگ ٹراوزر میں ملبوس اس پر بہت جچ رہا تھا وہ فراک کی زپ بندھ کرنے کیلیے ہاتھ پیچھے کیا اس سے باندھنے کی کوشش کی لیکن بندھ نہیں ہورہی تھے تبھی بہزاد اسکے پیچھے آکر کھڑا ہوا اور نظر اس پر گئی اسے دیکھ کر غزلان اپنے چہرے کا رخ بہزاد کی طرف کر گیا چہرے پر شرمندگی تھی وہ اسے دیکھ رہا تھا کچھ دیر پہلے والا غصہ اب کہیں چلا گیا اسکی طرف بڑھ کر اسکا رخ شیشے کی طرف کیے اسکی زپ بندھ کی اور اسکے بال ہاتھ کی مدد سے آگے کی طرف کر کے اور اسکی گردن پر جھک کر جا بجا پیار کرتا گیا پیار کی مہر لگاتا گیا اور آنکھیں بند کیے شدت برداشت کررہی تھی۔


“عجیب پاگل کے بشیر”
غصے سے کہتے ساتھ اس نے سگریٹ منہ میں ڈالی جس پر عرفان نے بھی اثبات میں سر ہلایا

“کہاں سے ڈھونڈوں میں”
وہ اسے دیکھتے ہوئے بولنے لگا جس پر اس شخص نے اسے دیکھ نفی میں سر ہلا گیا

“ایک ہفتہ میں ایک دن ختم ہو گیا اگر نہ ملی تو میری جان گئی”
عرفان غصے سے کہنے لگا اس شخص نے اثبات میں سر ہلایا

“دونوں ساتھ مریں گے”
وہ ہنس کر بولا عرفان نے اسے گھوری باقی کے ادمی بھی ہنسنے لگ گئے۔
اور عرفان رویش کو ڈھونڈنے کیلیے پلان سوچنے لگا مگر اسے کچھ سمجھ نہیں آیا اور سگریٹ پینے لگ گیا۔

جاری ہے