280.4K
41

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Black Love) Episode 32

“بہزاد مجھے سب سے پہلے قبرستان جانا ہے اسکے بعد سر کے گھر”
وہ دونوں ناشتے کی میز پر موجود تھے غزلان جوس کا گلاس لبوں سے لگانے کے بعد اسے بولی
“ٹھیک ہے”
مختصر سا جواب بہزاد کی طرف سے آیا غزلان ہلکا سا مسکرائی دونوں نے ناشتہ کیا ناشتے کرنے کے بعد بہزاد گاڑی کی کیز لیتا بھاری قدم اٹھائے باہر کی طرف بڑھ گیا غزلان بھی اسکے پیچھے آئی
“میں آپ کی بیگم ہوں مجھے کیوں بھول گئے ہیں”
وہ اس کے ہمراہ آتی اسے چھوٹی آنکھیں کیے دیکھتے ہوئے کہنے لگی بہزاد نے اسکی طرف دیکھا جو گھور کر اسے ہی دیکھ رہی تھی
“تم ہمیشہ ادھر ہو”
وہ لبوں پر مسکراہٹ سجائے دل پر ہاتھ رکھے بولتے ساتھ غزلان کی بیٹ کر گیا وہ نظریں جھکا گئی
“ہونی بھی یہی چاہیے ہوں”
نظریں جھکائے انتہائی دھیمے لہجے میں بولی مگر بہزاد سن چکا تھا اسکی مسکراہٹ مزید گہری ہوئی۔
وہ دونوں گاڑی میں بیٹھے بہزاد نے گاڑی سڑک پر دوہرا دی
کچھ ہی دیر میں گاڑی قبرستان کے سامنے رکی غزلان گاڑی کو دروازہ کھولتی اندر کی طرف بڑھ گئی اور آتے ساتھ اپنے باپ کی کمر پر بیٹھی کب سے ضبط کیے آنسو ٹوٹ کر رخسار پر گر گئے اور وہ قبر دیکھنے لگ گئی
“ڈیڈ آج آپ کی غزلان نے آپ کا بدلہ لے لیا آج جس مقصد سے اتنے سالوں سے زندہ تھی وہ مقصد پورا ہو گیا ہے”
وہ انکی قبر کو نم آنکھوں سے دیکھتے ہوئے اداسی سے بولی اور ایک بار پھر ماضی کی وہ ساری بھیانک سوچتے اسکی آنکھیں بھیگ گئی خود کو نارمل کرتی وہ کچھ دیر وہی بیٹھی آنسو صاف کرتی اٹھ کر چلی گئی اسکے باہر اتے ہی جو گاڑی سے ٹیک لگائے کھڑا تھا اسے غور سے دیکھنے لگا
“چلیں”
وہ اسکے سامنے آتی لبوں پر دھیمی مسکراہٹ سجائے اسے دیکھتے ہوئے بولی بہزاد نے اثبات میں سر ہلایا اور دونوں گاڑی میں بیٹھ گئے۔


وہ دونوں یوسف ہاوس پہنچ گئے تھے راحت بیگم کی طبیعت خراب تھی جس وجہ سے عینب یہاں آئی ہوئی تھی غزلان اور بہزاد جب اندر داخل ہوئے تو ٹی وی لاؤنچ میں یوسف صاحب کو موجود پایا
“اسلام و علیکم سر”
غزلان کی اواز پر وہ اس طرف دیکھنے لگے اور سلام کا جواب دیا
“کیا ہوا سب ٹھیک تو ہے”
غزلان ان کی طرف بڑھتے ہوئے انہیں دیکھ کر پوچھنے لگی
“سب ٹھیک ہے بس راحت کی تھوڑی طبیعت خراب ہے”
وہ اسے دیکھتے ہوئے بتانے لگے ان سب کے دوران بہزاد پیچھے خاموش کھڑا تھا
“میں انہیں دیکھتی”
کہتے ساتھ غزلان اوپر کی جانب بڑھ گئی اور بہزاد یوسف صاحب کے سامنے آکر بیٹھ گیا
“درید مر گیا ہے”
وہ اسے دیکھتے بغیر کسی تاثر بتانے لگا یوسف صاحب نے اسے دیکھا
“اچھا تو پھر اب تم دونوں نے کیا کرنا ہے آگے کا”
وہ بہزاد کو دیکھتے ہوئے سنجیدگی سے پوچھنے لگے بہزاد نے انہیں دیکھا اور اچانک اسکے ذہن میں وہ کنٹریکٹ آیا اسکے چہرے پر اچانک اداسی آئی
“سر میں نہیں چھوڑ سکتا غزلان کو نہ وہ میرے بغیر رہ سکتی”
وہ یوسف صاحب کو دیکھتے ہوئے فورا سے بولا اسوقت یوسف صاحب جو وہ کوئی حیوان یا بیسٹ نہیں بلکہ ایک معصوم بچہ لگا جو اپنی بہت قیمتی چیز کو خود سے دور جانے سے ڈر رہا ہو یوسف صاحب ہلکا سا مسکرائے
“اگر تم دونوں نے ساتھ رہنے کا فیصلہ کیا ہے تو مجھے اس فیصلے سے کوئی اعتراض نہیں”
یوسف صاحب اسے دیکھتے ہوئے بولے بہزاد کے چہرے پر اچانک چمک آ گئی اور خاموش رہا۔


“کیا ہوا میم آپ کو”
غزلان کمرے میں آتی بیڈ کی جانب بڑھ گئی زرمیش اور عینب نے اسے دیکھا
“ابھی سوئی ہے بخار ہو گیا ہے”
زرمیش اسے دیکھتے ہوئے انتہائی دھیمے لہجے میں بولی جس پر وہ خاموش ہو گئی اور راحت بیگم کے سر پر ہاتھ رکھنے لگی عینب اور زرمیش بھی انہیں کے پاس موجود تھے انہوں نے ان چاروں کو ماں کی طرح چاہا تھا
کچھ دیر غزلان وہی بیٹھی پھر اٹھ کر اپنے روم کی طرف بڑھ گئی عینب بھی اسکے پیچھے
“غزلان”
عینب اسکے کمرے میں آتی اسے پکارنے لگی غزلان نے مڑ کر اسے دیکھا اسے اس کے اس طرح پکارنے پر اور سر کو خم دیا
“آئی ایم سوری”
وہ نظریں جھکا کر لہجے میں شرمندگی لیے اداسی سے بولی غزلان اسی کو دیکھ رہی تھی
“کس لیے”
وہ اب پورا رخ اسکی جانب کیے انتہائی سنجیدگی سے پوچھنے لگی
“ان سب کیلیے جس سے تمہیں ہرٹ ہوا مجھے اس دن معلوم ہوا میں تمہارے معاملہ میں غلط سوچ رکھتی ہو جب تم میرے سامنے گن سے میری جان بچائی تھی وہی باتیں میرے ذہن میں آرہی ہیں جو تم نے بولی تھی کہ مجھ سے اتنی نفرت مت کرنا کے بعد میں خود پچھتانا”
وہ چہرے پر شرمندگی اداسی سجائے اسے بولی غزلان اسے خاموشی سے سن رہی تھی اور اس طرف بڑھی
“کوئی بات نہیں مجھے تمہاری کوئی بات بھی نہیں یاد اور میں اتنا ضرور جانتی ہوں عینب تم جیسی دیکھتی ہو اندر سے بلکل مختلف ہو”
وہ اسکی طرف بڑھ کر اسکا ہاتھ تھام چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ سجائے اسے بولی عینب بھی مسکرادی
“میں تم سے سچے دل سے دوستی کرنا چاہتی ہو بنو گی میری فرینڈ”
عینب نے اپنا ہاتھ غزلان کی جانب تو غزلان اثبات میں سر ہلا گئی اور ہاتھ تھام لیے دونوں کے چہرے پر مخصوص سی مسکراہٹ آئی۔


اس وقت سب لوگ ٹی وی لاؤنچ میں بیٹھے تھے چائے پی رہے تھے اتفاق سے عینب بہزاد کیساتھ بیٹھ گئی عینب کو بھی تھوڑا عجیب محسوس ہورہا تھا اور اوپر سے غزلان کا بہزاد کو گھور گھور کر دیکھنا مزید ڈرا رہا تھا
“عینب ایک کپ پاس کرنا”
وہ چہرے پر سنجیدگی سجائے عینب کو مخاطب کرنے لگا عینب نے گھبراتے ہوئے کپ اٹھایا اسے تھمانے لگی مگر بہزاد پر گر گئی
“اوہ آئی ایم ریلی ریلی سوری میں نے جان کر نہیں”
عینب کہتے ساتھ ٹشو باکس سے ٹشو اٹھاتی اسکی چائے صاف کرنے لگی بہزاد نے اثبات میں سر ہلا دیا غزلان کھا جانے والی نظروں سے عینب اور بہزاد کو دیکھ رہی تھی یوسف صاحب کی وجہ سے خاموش تھی بامشکل ضبط کیے وہ چائے کا گھونٹ بھرنے لگی
“میں دوسرا کپ دیتی ہوں”
عینب نے اسے کپ تھمایا آیا اور خاموشی سے بیٹھ گئی اسکے بعد سب نے خاموشی سے چائے پی مگر غزلان گھور کر بہزاد کو دیکھ رہی تھی بہزاد خاموشی سے بیٹھا اسے ہلکا سا مسکرا کر دیکھنے لگا۔
چائے پینے کے بعد غزلان سر بہزاد گھر چلے گئے پورا راستہ خاموشی سے طہ ہوا غزلان بس وقفے وقفے سے گھور رہی تھی۔


وہ ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑی بالوں کو جوڑے میں قید کرتے ہوئے اپنا عکس شیشے میں دیکھ رہی تھی جب یونیب پیچھے آکر کھڑا ہوا رویش مڑی اور اسے دیکھا
“تمہیں ابھی ریسٹ کرنا چاہیے تمہارا زخم بہت گہرا ہے چلو لیٹو”
رویش اسکا بازو تھامے اسے بیڈ پر لاتے ہوئے بولی یونیب منہ پر اسے دیکھ رہا تھا
“اور کب تک مجھ پر ظلم کرنا ہے اخود سے دور رکھ کر”
یونیب معصوم شکل بنائے اسے دیجھتے ہوئے بولا جس پر وہ مسکرائی
“ہائے میرے معصوم شوہر سوجاؤ دور رہ ہی نہ لو تم”
وہ اسکی گال کھینچتے ہوئے مسکرا کر بولی یونیب نے خفگی سے اسے گھورا
“میں چھوٹا بچہ نہیں ہوں رویش”
وہ گھور کر اسے بولا رویش اسے دیکھنے لگی
“اچھا جب میری ناک میری گال کھینچتے ہو تب”
وہ کھڑی ہوکر کمر پر ہاتھ رکھے لڑنے والے انداز میں پوچھنے لگی یونیب اسکے انداز پر ہلکا سا مسکرادیا
“افف آپ کی ادائیں”
اسے جھٹکے سے قریب کرتا ہوا محبت سے بولا رویش اسکے انداز پر نظریں جھکا گئی
“اوئچچ”
تبھی اچانک یونیب کے زخم پر درد اٹھا رویش نے فورا اس طرف دیکھا
“تم ٹھیک ہو”
رویش اسے دیکھتے ہوئے پریشانی سے پوچھنے لگی یونیب اسکی گال پر ہاتھ رکھے اثبات میں سر ہلا گیا
“یونیب لیٹ جاؤ تم ٹھیک نہیں ہو منع بھی کیا تھا میں نے “
غصے سے منہ بنائے بولتی وہ یونیب کو لٹا گئی اور یونیب مسکرا کر اسے دیکھنے لگا
“تمہاری خوشبو محسوس کرتے ہی یونیب خان کے لبوں پر مسکراہٹ بکھر جاتی ہے اور دل بہت زور سے دھڑکنے لگتا ہے”
وہ گہری نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے شدت جذبات سے بولا رویش مسکراتے ہوئے اسے دیکھنے لگ گئی۔


بہزاد اور غزلان گھر پہنچے تو بہزاد نے اسکا ہاتھ تھام کر قریب کیا غزلان نے گھور کر اسے دیکھا
“بات نہیں کرنی مجھے نہ آپ کو دیکھنا ہے نہ ہی آپ کے قریب آنا ہے”
کہتے ساتھ اس سے الگ ہوتی دوسرے روم کی طرف بڑھنے لگی بہزاد اسے جاتا دیکھ رہا تھا
“اےےے ناراضگی اپنی جگہ مگر تم اس روم میں نہیں سو سکتی”
وہ اسکے سامنے اتے ہوئے تھوڑا سرد لہجے میں بولتا اسکا ہاتھ تھامے کمرے کی طرف بڑھ گیا
“مجھے کیوں لے جارہے ہیں روم میں عینب. کو لے کر جائیں میں کون ہو”
وہ غصے سے اس کے ساتھ چلتے ہوئے تپ کر بولی جس پر بہزاد کے لبوں پر مسکراہٹ آئی
“مسز بہزاد بیگ”
انتہائی محبت سے اسے بتاتے روم میں لایا غزلان اسکے جواب پر اپنی مسکراہٹ بامشکل چھپا سکی روم میں جاکر بیڈ پر بٹھایا
“آج سر ہمارے کنٹریکٹ کی بات کر رہے تھے”
وہ اسے دیکھتے ہوئے اسکے ہاتھ تھامے بولا ایک پل کیلیے غزلان ساکت سی ہو گئی اور اسے دیکھنے لگی
“پھر”
وہ اسے دیکھے گا پوچھنے لگی بہزاد اسے ہی دیکھ رہا تھا
“تم بتاؤ کیا کہ سکتا ہوں میں”
وہ اسکے دیکھتے ہوئے آئبرو اچکائے پوچھنے لگا غزلان سنجیدگی سے اسے دیکھ رہی تھی اور نفی میں سر ہلا دیا
“تو سنو میں نے کہا آپ کی بیٹی یعنی میری بیگم میری پرمننٹ چوائس بن چکی ہے چاہ کر بھی اسے چھوڑ نہیں سکتا”
وہ لبوں پر دلفریب مسکراہٹ سجائے اسکی رکی سانس تیز کر گیا غزلان کے چہرے پر بھی مسکراہٹ نمودار ہوئی
“لیکن میں بات نہیں کررہی ہوں دور “
اچانک عینب کیساتھ والے وہ سارے منظر یاد کرتی فورا بولی اور بہزاد چہرے پر ہاتھ رکھے اسے دیکھنے لگا غزلان نے ناراضگی سے چہرہ دوسری جانب موڑ لیا


“کہاں سے آرہے ہو اوارہ گردیاں کرکے”
زہرون کے گھر اتے ہی عینب سینے پر بازو باندھے گھور کر اسے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگی زہرون اسے دیکھنے لگا
“مس کررہی تھی مجھے”
وہ لبوں پر مسکراہٹ سجائے اسے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگا عینب سنجیدگی سے اسے دیکھنے لگی
“زہرون مجھے سمجھ نہیں آرہی تم آج کل کیا کرتے پھر رہے ہو میری پرواہ تمہیں ذرا بھی نہیں ہے آج بھی ڈیڈ پوچھ رہے تھے تمہارا”
وہ سنجیدگی سے اسے دیکھتے شکوہ بھرے لہجے میں بولی زہرون نے مڑ کر اسے دیکھا
“ایسا کچھ نہیں ہے عینب میں صرف تم سے کیا وعدہ پورا کرنے کی کوشش کر رہا ہوں تم سے بڑھ کر کچھ بھی نہیں اگر ہوتا تو آج یہاں تمہارے ساتھ کھڑا نہیں ہوتا فیملی کیساتھ ہوتا بس کچھ وقت کی بات پھر تم میں ایک حسین زندگی گزاریں گے”
وہ اسکے گال پر نرمی سے ہاتھ اسکی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے پیار بولا عینب اسے دیکھ رہی تھی کچھ کہے بغیر اپنا سر اسکے سینے سے لگا گئی زہرون کے لبوں پر مسکراہٹ آ گئی
“تم بہت اچھے ہو بٹ یہ سب میں ڈزرو نہیں”
وہ اسکے سینے سے لگی اداسی سے بول رہی تھی جب زہرون نے اسکے ہونٹوں پر انگلی رکھی
“شششش آج کے بعد ایسی فضول بات منہ پر مت لانا”
وہ اسکے ہونٹوں پر انگلی رکھتا تھوڑا غصے سے بولا جس پر وہ اثبات میں سر ہلا گیا
“تم نے کھانا کھا لیا”
وہ اسے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگا عینب نفی میں سر ہلا گئی
“تو چلو مل کر کرتے ہیں”
زہرون عینب کا ہاتھ تھامے مسکراتے ہوئے کہتے ساتھ کرسی کھسکا کر بیٹھ گیا اور عینب بھی کرسی کھسکا گئی دونوں مل کر کھانا کھانے لگے


وہ ٹی وی لاؤنچ میں بیٹھی چہرے پر سنجیدگی سجائے نظریں سامنے سکرین پر مرکوز کیے ہوئے تھی
تبھی ہاتھ میں بلیک کافی کا مگ تھامے وہ اسکے ساتھ والے صوفے پر بیٹھا اور اسے مسکراتے ہوئے دیکھا وہ اسے خاصا نظرانداز کرتی نظریں سکرین پر جمائے ہوئے تھی اور بہزاد کو کہاں برداشت تھا اسکا اسے نظرانداز کرنا
“غزلان”
بہزاد اسے دیکھتے ہوئے انتہائی نرمی سے اسے پکارنے لگا
“میں بات نہیں کررہی”
وہ اسے دیکھے نظریں سامنے جمائے سرد لہجے میں بولی بہزاد کی مسکراہٹ گہری ہوئی۔
وہ مسکراتے ہوئے اسکے ساتھ آکر بیٹھا اور اسکا خفا خفا سا حسین چہرہ دیکھنے لگا اور اپنا ہاتھ آگے بڑھا کر چہرے پر آئی شرارتی لٹھوں کو ہٹانے لگا غزلان نے اسے دیکھا
“مجھ سے دور رہیں یہاں کیوں بیٹھے ہیں جائیں بیٹھیں عینب کیساتھ”
غصے سے اسے گھورتی وہ جل کر بولی بہزاد نے چہرہ اسکے چہرے کے قریب کیا غزلان اس سے دور ہوتی اٹھ کر جانے لگی بہزاد کی آنکھوں میں ایک دم سختی آئی اس نے اسکی کلائی تھام کر جھٹکے سے واپس اپنے قریب بٹھایا۔
“مجھے نظرانداز کرنے کا آج کے بعد سوچنا بھی مت ورنہ بہت برا پیش آؤں گا”
اسکی کلائی پر گرفت مضبوط کرتا سرخ انگارہ برستی آنکھوں سے دیکھتا بلکل ساتھ لگائے غصے سے غرایا وہ لب بھینچ گئی۔
“بہزاد نے اپنی زندگی میں صرف ایک ہی لڑکی کو رکھا ہے اپنی بیوی غزلان کو یاد رکھنا تم ہو بس تم”
اسکے چہرے پر ہاتھ رکھے گہری نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے بولا غزلان نے آنکھیں کھول کر اسے دیکھا اسکی آنکھیں اسکا ساتھ دے رہی تھی غزلان کے چہرے پر مسکراہٹ آئی اور اسکے قریب ہوکر لب کان پر رکھے
“سخت غزلان بہزاد بیگ نے اکڑو گھمنڈی سفاک جیسے شخص خود سے عشق کروا ہی دیا”
وہ بہزاد کے کان میں سرگوشی کرتے ہوئے بولی بہزاد کے لبوں پر مسکراہٹ آئی بہزاد نے اسکی کمر پر ہاتھ رکھ کر اسے بلکل قریب کر لیا غزلان کی ہارٹ بیٹ تیز کر گئی
“بلکل تم کامیاب ہو گئی”
وہ اسے بلکل ساتھ لگائے اسکے کان کے قریب جھک کر بھاری اواز میں بولا غزلان کا جسم ہلکا سا کپکپانے لگا
“سوچو اگر میں اس دنیا سے چل”
وہ نظریں جھکائے دھیمے لہجے میں تیز ہوتی ہارٹ بیٹ کیساتھ پوچھنے لگی بہزاد نے اسکی بات ادھوری چھوڑ کر اسکے لبوں پر شدت سے جھکا غزلان آنکھیں بند کر گئی
“بہزاد کا بھی وہ آخری دن ہے جس دن اسکی بیوٹی کوئن اسے چھوڑ کر جائے گی”
کچھ دیر بعد غزلان کے ہونٹوں کو آزادی بخشتا اسکی آنکھوں میں دیکھ پرسکون سا بتا گیا غزلان کے چہرے کی مسکراہٹ مزید گہری ہو گئی اور اسکے سینے سے لگ گئی بہزاد نے اسے خود میں زور سے بھیجا وہ اس کے عشق میں دن بدن دیوانہ بنتا جا رہا تھا ایسا دیوانہ جو غزلان نے بغیر نامکمل تھا
اور پیچھے سائیڈ پر کھڑا ریاض حیرت اور پریشانی سے انہیں دیکھ رہا تھا ایک الگ بہزاد بیگ کو دیکھ کر ریاض کا چکرانے لگا تھا جو کسی سے کام ہے علاوہ کوئی بات نہیں کرتا تھا اسوقت وہ اسے بلکل مختلف لگا وہ سر پکڑتا وہاں سے چلا گیا
جاری ہے