280.4K
41

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Black Love) Episode 28

بہزاد جو ابھی باہر سے آیا تھا کمرے میں آتے ہی اس کی نظر غزلان پر گئی جو بالوں کو جوڑے کی شکل دے رہی تھی اسکے کپڑوں پر لگے خون سے وہ گھبراتے ہوئے ایکدم مڑی۔

“بہزاد یہ کیا”
وہ فکرمندی سے اسکی جانب قدم بڑھا کر پریشانی سے پوچھنے لگی بہزاد بیڈ پر لیٹ گیا۔

“درید کے ادمی کو ختم کرنے گیا تھا پیچھے سے وار کردیا”
وہ غصے سے اسے بتاتے ساتھ آنکھیں موند جاور اسکی کمر پر زخم دیکھ غزلان فورا اسکے قریب گئی

“اٹھو”
وہ اسے دیکھتے ہوئے سنجیدگی سے مخاطب کرنے لگی بہزاد نے آنکھیں کھول کر اسکی جانب دیکھا

“میں نے کہا اٹھو اور شرٹ اتارو”
وہ اسے دیکھتے اپنے الفاظ دہرانے لگی بہزاد نے اب کی بار حیرت سے دیکھا۔

“شرٹ”
وہ اسے دیکھتے ہوئے حیرت سے بولنے لگا جب غزلان نے زبردستی اسکا اتنا بھاری وجود اٹھا کر زبردستی اسکا بٹھایا اور فرسٹ ایڈ باکس اٹھانے کیلیے چل دی۔

“میں پینڈچ کردوں اس طرح درد ہوگا”
وہ اسکے سامنے فرسٹ ایڈ باکس کرتے ہوئے معصومیت سے بولی بہزاد اسکی معصومیت دیکھ ہلکا سا مسکرا گیا اور شرٹ اتارنے لگا
غزلان اسکی پیچھے آکر بیٹھی اور آرام آرام سے اسکی بینڈچ کرنے لگی بہزاد مرر سے اسے دیکھنے لگ گیا جو پھوکے مار مار بہت ہی ارام سے اسکا بینڈچ کررہی تھی

“ہو گئی بینڈچ”
بینڈچ ہوتے ہی وہ فرسٹ ایڈ باکس کرتے ہو بہزاد جو اسے مرر سے دیکھنے میں مصروف اسکی اواز پر ہوش میں آیا اور فورا رخ اسکی طرف کر گیا
غزلان بہزاد کے پہلی دفعہ بغیر کے اپنے اتنا قریب آنے پر سانس روک گئی پلکیں خودبخود جھک گئی تھی اور گال سرخ ہو گئے تھے وہ اسکے اس طرح شرمانے پر مسکرا گیا اور بڑی بےباکی سے اسکے لبوں پر جھک گیا اچانک حملے پر وہ سٹپٹا گئی تھی اور شرم سے آنکھیں بند کر گئی اسکی سانسیں خود میں قید کرنے بہزاد خود کو سکون پہنچا رہا تھا کچھ دیر بعد اسکے ہونٹوں آزادی بخشتا وہ ایک گہری اسکے چہرے پر ڈالنگا غزلان فورا وہاں سے اٹھ کر فرسٹ ایڈ باکس رکھنے لگی بہزاد کی نظریں اسی پر تھی

“سو جاؤ زخمی ہوگئی ہو مگر حرکتوں سے بعاز نہیں آنا”
نظریں چراتی اسے کہتے ساتھ کمرے سے چلی گئی اسکی کہی بات پر آج بہزاد بیگ نے کتنے عرصے بعد قہقہ لگایا تھا۔


یونیب نے اسے یوسف ہاوس چھوڑا تھا گاڑی روکتے ہوئے وہ ایک نظر مسکرا کر اسے دیکھتی گاڑی سے نکلنے لگی تھی

“خیال رکھنا اپنا میں شام میں آجاؤ گا”
اسکی گال تھپتھپاتے ہوئے بچوں کی طرح اسے تنبیہہ کرتے بولا جس رویش منہ پھلا گئی

“میں بچی نہیں ہوں”
وہ منہ بسور کر اسے کہنے لگی اسکے چہرے کے تاثرات دیکھتے ہی یونیب کے لبوں پر مسکراہٹ بکھری تھی

“آئی نو تم بچی نہیں بٹ میرے تم اینگری بچہ ہو”
وہ مسکراتے ہوئے اسے پیار سے بولا مگر اینگری بچہ پر رویش کو مزید غصہ آیا

“میرے خیال سے آپ جناب کو کام پر جانا ہے “
اسے بولتے ساتھ ہونہہ کرتی وہ گاڑی سے نکلنے گئی تھی اور وہ اسے جاتا دیکھ مسکرانے لگا تھا وہ جیسے ہی یوسف ہاوس میں داخل ہوئی تھی یونیب نے تیز رفتار سے گاڑی سڑک پر دوہرا دی تھی۔

اندر اتے ہی ٹی وی لاؤنچ میں راحت بیگم اور زرمیش کو موجود پایا زرمیش اسے دیکھ خوشی سے اسکی طرف بھاگی تھی رویش نے اسے سینے سے لگایا تھا

” اسلام و علیکم”
راحت بیگم کے پاس جاکر انکے گرد بازو حائل کیے محبت سے بولی جس پر وہ مسکراتے ہوئے جواب. دینے لگ گئی

“مام اب رویش باجی بھی آ گئی اب تو ہم جا سکتے ہیں”
زرمیش راحت بیگم کو دیکھتے ہوئے پھر سے ضد کتنا شروع ہو چکی تھی رویش نے اسے دیکھا

“کدھر جانا ہے میری زرمیش کو”
وہ اسے اپنے پاس کھینچتے ہوئے مسکرا کر پوچھنے لگی زرمیش نے معصومیت سے اسکی جانب دیکھا

“اسکا دل آئسکریم پر ہے میں نے کہا گھر منگوا دیتی ہوں ایک ہی ضد کیے بیٹھی ہے باہر جاکر کھانی ہے”
راحت بیگم رویش کو دیکھتے ہوئے تھوڑے خفگی بھرے لہجے میں کہنے لگی جس پر رویش نے زرمیش کو دیکھا

“گاڑی موجود ہے تو چلتے ہیں نا مام کوئی مسئلہ نہیں ہوگا جلدی واپس آجائیں گے”
رویش راحت بیگم کو تحمل سے بولی جس پر وہ خاموش رہی انکی خاموشی یعنی ہاں تھی اور زرمیش بےحد ہوئی اور تینوں آئسکریم کیلیے چل پڑے.


عینب کی طبیعت تھوڑی خراب تھی پوری رات جاگنے کی وجہ سے اس لیے وہ دیر تک سوتی رہی تھی ابھی بھی اسکی آنکھیں آدھی کھلی تھی آدھی بند تبھی نظر زہرون پر گئی جو ہاتھ میں ٹرے لیے اسکے سامنے آکر بیٹھا۔

“فریش ہو جاؤ عینب پھر ناشتہ کھا کر میڈیسن کھاؤ تاکہ بہتر فیل کرو”
اسے دیکھتے ہوئے سنجیدگی سے کہنے لگا جس پر عینب خاموشی سے باتھروم کی طرف بڑھ گئی تھی
کچھ دیر بعد فریش ہوکر واپس آئی اور اسکے سامنے بیٹھا گئی یونیب نے بریک پر بٹر لگا کر اسکی طرف بڑھا جس تو اسکے ہاتھوں سے کھانے لگی اس طرح کھاتے ہوئے بلکل کوئی معصوم بچی لگ رہی تھی جو یونیب کو سیدھا اپنے دل میں اترتی ہوئی محسوس ہوئی تھی

ناشتہ کروانے کے بعد میڈیسن اسے کھلاتا بیڈ پر لٹا کر ٹرے اٹھا کر جانے لگا

“تم ریسٹ کرو مجھے ایک کام سے باہر”
وہ ابھی بول رہا تھا جب عینب نے اسکا ہاتھ تھام کر اسے رونا زہرون نے اسے دیکھا

“پلیزز آج نہ جاؤ کہیں ایک تو مین بیمار ہوں تو کچھ کرنے کا دل بھی نہیں کرے گا اور بور نہیں ہونا چاہتی کل چلے جانا “
اسکا ہاتھ تھامے دھیمے لہجے میں اسے کہنے لگی جب وہ ٹرے سائیڈ پر رکھ اسکے قریب آتا اپنا چہرہ اسکے چہرے کے قریب کرگیا اور اسکی خوشبو خود میں اتارنے لگا

“تو صاف کہو مجھے اپنے پاس رکھنا چاہتی ہو”
اسکے چہرے پر گہری نظریں ڈالے وہ گھمبیر اواز میں بولا اور عینب اپنی سانس روکے اسے دیکھ رہی تھی۔

“یو نو واٹ تمہیں میں چاہیے ہوں بٹ فری میں “
اسکی آنکھوں میں شرارت صاف دیکھائی دے رہی تھی اور عینب کے جسم کپکپانے لگا وہ اسکی کانپتے لبوں کو چھوتا اسے ایسے ہی چھوڑتا ٹرے اٹھا کر چلا گیا

“چھیچھوڑا”
اسکے جانے کے کچھ دیر بعد وہ جو ساکت بیٹھی تھی حرکت کی اور اسکی حرکت اسے اپنے پسندیدہ الفاظ سے پکارنا نہیں بھولی تھی۔


وہ تینوں آئسکریم پارلر پہنچ چکی تھی گھر سے نکلتے وقت عرفان اور اسکے ساتھ موجود بشیر کے ادمیوں نے رویش کو دیکھ لیا تھا اور اسےعورت کیساتھ دیکھ انہیں اس سے اچھا مووع نہیں لگا تھا وہ بھی اسکا پیچھا کرتے کرتے وہاں تک پہنچانا چکے تھے
آئسکریم کا ارڈر دینے کیلیے وہ جو گاڑی سے اتری اور آئسکریم پارلر کی طرف بڑھی زرمیش کی ضد پر اس نے اسے گاڑی میں بیٹھنے کا کہا
گاڑی تھوڑے فاصلے پر روکے وہ آئسکریم کا ارڈر دیتی وہی کھڑی لینے کے انتظار میں تھی
یہ جگہ تھوڑی سنسنان سی تھی اکا دیا لوگوں کے علاوہ زیادہ نہیں تھے وہ سائیڈ پر کھڑی تھی تبھی کسی نے اسکے سر پر گن کی پچھلی جگہ ماری وہ رویش ایک منن میں بے ہوش ہو گئی اچانک حملے پر اسکے ساتھ کیا ہوا اسے کچھ سمجھ نہیں آیا اور عرفان صاحب اسے لیتے ساتھ گاڑی میں ڈال کر چل دیے

“دیر ہو گئی ہے رویش کو”
راحت بیگم نے پریشانی سے زرمیش کو دیکھتے ہوئے کہا اور دونوں گاڑی سے اتر کر دیکھنے لگے مگر رویش انہیں کہیں دیکھیں زرمیش پریشان ہوئی اور راحت بیگم گھبراہٹ سی ہونے لگی
زرمیش تھوڑا آگے جاتے ہوئے ارد گرد کی تلاشی کرنے لگی جب رویش کی انگوٹھی پر نظر گئی وہ انگوٹھی اٹھاتی کچھ سوچنے لگی

“مام کسی نے آپی کو کیڈنیپ کیا ہے یہ دیکھیں آپی کی انگوٹھی”
زرمیش کو یہی سمجھ آیا راحت بیگم اسکی بات سے جو پہلے کافی پریشان تھی مزید پریشان ہونے لگی

“افف کہیں عرفان نے تو نہیں یہ سب “
وہ ماتھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے لہجے میں پریشانی لیے بولتی زرمیش کو یوسف صاحب کا نمبر ملانے کا بولی
یوسف صاحب جو ساری بات سے آگاہ کرکے انکی پریشانی تھوڑی کم ہوئی اور یوسف صاحب نے کچھ دیر میں آنے کا کہ فون بند کردیا۔
وہ لوگ ارد گرد سب جگہ دیکھ کر ناامیدی سے گھر واپس لوٹ آئے تھے نظر یونیب پر گئی جو وہاں پہلے سے موجود تھا یونیب نے ان سب کو دیکھا مہر تینوں پر گئی رویش کو موجود نہ دیکھ اسکے ماتھے پر لب نمودار ہوئے

“اسلام و علیکم”
یونیب نے سپاٹ لہجے میں یوسف صاحب اور راحت بیگم سے احتراما سلام کیا تھا جن کے چہرے پر پریشانی کے تاثرات صاف واضح تھے

“رویش کہاں ہے”
وہ سن دونوں پر ایک ایک نظر ڈالتا پریشانی سے پوچھنے لگا جس پر یوسف صاحب اور راحت بیگم نے ایک دوسرے کو دیکھا
یوسف نے بہت تحمل سے اسے سب بتایا مگر یونیب بلکل ساکت ہوچکا تھا یہ سوچتے کر اسکا خون کھول رہا تھا کسی غیر نے اسکی رویش کو چھوا تھا اور ناجانے وہ اسے کتنے نقصان پہنچ آئے گا آنکھیں انتہائی سرد ہو چکی تھی رگیں پھول چکی تھی وہ کچھ کہے بغیر لمبے لمبے ڈگ بھرتا باہر کی طرف بڑھ گیا یوسف صاحب بھی اسکے پیچھے گئے تھے

“فورا سے پہلے مجھے پتہ چلنا چاہیے سمجھے”
یونیب فون کان سے لگائے انتہائی سفاک لہجے میں بولتے ساتھ فون رکھ گیا اور دوسری طرف شخص فون سے اسکی دھاڑ سن کر کانپ چکا تھا وہ گاڑی میں بیٹھ کر گاڑی اسٹارٹ کر چکا تھا

“مل کر ڈھونڈتے ہیں مل جائے گی ٹینشن نہ لو”
وہ اسے دیکھتے ہوئے دھیمے لہجے میں بولی یونیب نے ایک نظر بس ان پر ڈالی جیسے کہ رہا کو تیمن کیزے نہیں لے اور سامنے دیکھنے لگ گیا اور ان سے گاڑی سڑک پر دوہرا گیا۔
شام سے رات ہونے کو تھی یونیب. کے ادمیوں کو بھی نہیں معلوم تھا روہش کہاں ہے وہ اپنی پوری کوشش کر رہے تھے اسے ڈھونڈنے کی وہی دوسری طرف یوسف صاحب اور وہ بھی ہلکان ہو چکے تھے سوات کا چپہ چپہ دیکھ لیا مگر وہ نہیں نہیں تھا وہ کیا اسکا نام و نشان بجی کہی. نہیں ملا تھا


وہ جو کب سے بے ہوش تھی ہوش سنے پر آنکھوں کو جبنش دیتی نظریں ارد گرد گھمانے لگی خود کو ایک انجان محسوس کدکے رویش کے ذہن میں آئی سوالات تھے مگر خوف نہیں تھا

“زہرون نصیب زہ نصیب کتنے دنوں بعد تم نے اپنے حسین مکھڑے کا دیدار کروایا”
ایک جانی پہچانی اواز سن کر رویش نے نظریں اوپر اٹھائی تھی اور بشیر کو دیکھ کر اسے خوف محسوس ہوا تھا مگر ظاہر نہیں کیا تھا

“ارے عمر کیساتھ تم اور حسین ہوگئی ہو اور تمہارا وجو”
ابھی وہ خباثت بھرے لہجے میں حوس بھری نظروں سے اسے سر تو پیر دیکھتے ہوئے بولتی رہا تھا جب رویش سرخ آنکھوں سے اسے ٹوک گئی

“بکواس کی نہ تو جان نکالنے میں دو سکینڈ نہیں لگاؤ گی”
اسکی انتہائی سرد اواز سن کر ایک پل کیلہے بشیر بھی ساکت ہوا تھا

“گھر سے بھاگ نے کے بعد کافی ہمت آ گئی ہے تجھ میں مگر اتنی مشکل ہاتھ لگی ہے جانے نہیں دوں گا”
اسے دیکھ وہ واپس اپنی ٹون میں آتا گٹھیا لہجے میں بولا وہ اسے ستخ آنکھوں سے دیکھ رہی تھی

“اتنی ہمت ہے مجھ میں کہ تیرا منہ کھڑے کھڑے بند کر سکتی ہو چھوٹے گا تو تم جب میں تیرے ہاتھ رکھو گی بےغیرت انسان”
غصے سے چیخ ہوئے وہ جنگلی بلی کی دھاڑی تھی بشیر بھی گھبرا گیا اور عرفان صاحب پیچھے سے آئی اسکو باتوں سے حلق تک خشک ہوگیا
عرفان کو کو دیکھ رویش کو اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آیا

“اتنا بر سکتے ہیں آپ کبھی نہیں سوچا تھا آج مجھے یہ کہتے ہوئے انتہائی شرمندگی ہورہی عرفان صاحب کے آپ میرے باپ ہیں”
انتہائی تکلیف دینے اواز میں انہیں دیکھ کر وہ ہر لگی. چبا کر بولی تھی عرفان جوابا خاموش کھڑا تھا
اپنی جان نہ بچانی ہوتی تو وہ شاید رویش کو اسکے سامنے نہ کرتا۔


آج ان دونوں کی اسکردو واپسی تھی اور وہ دونوں فلائٹ میں موجود تھے غزلان ہمیشہ کی طرح اسے کندھے پر سر رکھے مزے سے سونے میں سونے میں مصروف تھی اور بہزاد اسے گہری نظروں سے دیکھ رہا تھا اسکے چہرے پر ائی شرارتی لٹھے پیچھے کرتے نظر اسکے ہونٹ پر گئی بامشکل خود پر کرتا وہ اسے اور قریب کرگیا تھا اور غزلان دنیا میں بیگانہ نیند پوری کرنے میں مصروف تھی۔
کچھ دیر بعد جب اسکی آنکھ کھلی تو نظر بہزاد پر گئی جو یک ٹک اسے دیکھ رہا تھا غزلان سیدھی ہوکر بیٹھی

“بھ”
ابھی وہ بولنے ہی والی تھی جب بہزاد نے اسکے آگے سینڈوچ کیا وہ اسے حیرانگی سے دیکھنے لگ گئی

“کیا اتنے وقت ساتھ رہتے ہوئے اتنا تو معلوم ہوگیا ہے”
اسے اس طرح حیران دیکھ وہ پرسکون سا جواب دیے اسکے منہ کے آگے سینڈوچ کر گیا غزلان کے لبوں پر مسکراہٹ آئی اور کھانے لگ گئی بہزاد نے اپنے ہاتھوں سے سینڈوچ کںلایا اور پھر اسے کولڈ ڈرنک دی تھی
غزلان کو محسوس ہوتا تھا جب سے اس نے ایکسیپٹ کیا ہے وہ بلکل بدل چکا ہے اسکے ساتھ بچوں کی طرح ٹرٹ کرتا ہے اسکا کئیر اسکا پیار اور لاڈ پر اسے بہت اچھا لگتا تھا مگر بہزاد اس کی بری عادت بن چکا تھا جو وہ جانتی تھی کولڈ ڈرنک ہلانے کے بعد ٹشو سے اسکا چہرہ صاف کرتا وہ اسے واپس اپنے کندھے پر لٹا گیا غزلان یک ٹک اسے دیکھ رہی تھی

“کیا”
اسکے اس طرح دیکھنے پر بہزاد نے آئبرو اچکاتے ہوئے پوچھا غزلان ابھی بھی اسے دیکھ رہی تھی اور نفی میں سر ہلا گئی

“صرف میں دیکھ سکتی ہوں صرف میں یہ حق رکھتی ہوں”
اسے دیجھ کر بولتے ساتھ چہرے پر مسکراہٹ سجائے نظریں اسی پر مرکوز کی ہوئی تھی اسکی بات بہزاد کے چہرے پر مسکراہٹ بکھری تھی۔
ان دونوں کی زندگی کا یہ سفر بہت حسین رہا تھا اتنے عرصے بعد دونوں کی زندگیوں میں خوشیاں آئی تھی اور خوشیاں کی وجہ وہ دونوں خود تھے اور یوں مسکراتے ہوئے وہ دونوں نان اسٹاپ ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے۔


کمرا تاریکی میں ڈوبا ہوا تھا ایک سناٹا سس چھایا ہوا تھا کہ جہاں اسکے ہنسنے اسکی خوشبو اسکی معصوم باتیں کو اوزیں گونج رہی تھی اب اس کمرے میں جیسے براؤن سے کوئی آیا ہی نہ ہو ج ھ ایسے خاموشی تھی جو اسے اندر کھا رہی تھی وہ سرخ سرد آنکھیں لہے ہاتھ میں سگریٹ پکڑے بیڈ پر نیم دراز سا بیٹھا تھا اسے ابھی تک رویش کا معلوم نہیں ہوا تھا

“محافظ ہوں میں تمہارا رویش”
اسکے کانوں سے اپنے کہے الفاظ یاد آئے تھے

“نہیں میں تمہیں کچھ نہیں ہعنے دے سکتا میں تمہیں ڈھعنڈ کر ہی رہوں گا”
ایک دم سے ہوش میں آتا وہ خوف سے ہمکلام ہوتا بہت تیزی سے بھاری قدم لیے کمرے سے باہر کی طرف بڑھا تھا


“کیسے ہو یوسف “
جانی پہچانی اواز سن کر یوسف صاحب کے چہرے پریشانی کے تاثرات صاف واضح ہوئے تگے اور ماتھے پر لب نمودار ہوئے

“کون”
اسکی اواز جان پہچانی سنتے ہی یوسف صاحب نے پوچھنا ضروری سمجھا

“بشیر یاد آیا”
اسکے جواب پر وسف صاحب کو اپنے پیروں پر کھڑا ہونا محال لگا تھا وہ چکرا کر بیٹھے

“میری بیٹی تمہارے پاس”
وہ سپاٹ لہجے میں اسے سے مخاطب ہوئے تھے. بشیر نے انکی بات پر زہدیلا قہقہ لگایا تھا

“ہاں اگر اسے زندہ اور بلکل ٹھیک چاہتے ہو تو مجھ سے آکر معافی مانگو میرے پیروں پر بیٹھ کر اور کچھ رقم بھی دو”
اس نے ہنستے ہوئے بولا تھا یوسف صاحب خاموش تھے

“اپنی بیٹی کیلیے جان بھی دے سکتا ہوں یہ معافی کیا ہے”
یوسف صاحب کے الفاظ پر رویش کو تکلیف ہوئی تھی وہ آنکھوں میں نمی لیے موبائل کو تک رہی تھی

“نہیں ڈیڈ آپ کو اس شخص سے معافی مانگنے کی ضرورت نہیں ہے میں رویش ہوں رویش آپ کی بیٹی یہ مجھے نقصان کیا چھو بھی نہیں سکتا”
رویش فورا سے اونچی اواز میں چیخی تھی اسے بلکل ٹھیک محسوس کر یوسف صاحب جو تھوڑا اطمینان ہوا تھا
یوسف صاحب جانتے تھے اب آگے انہوں نے کیا کرنا ہے بشیر نے فون کیا اور غصے سے رویش کو دیکھا اسکے غصے کو نظرانداز کرتی رویش چہرے پر جلا دینے والی مسکراہٹ سجائے ہوئی تھی بشیر کو مزید غصہ ایا

جاری ہے