280.4K
41

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Black Love) Episode 14

“مجھے پتہ ہے تم بھی اب میرے ساتھ دوستی نہیں رکھو گے”
وہ اسے دیکھتے ہوئے اداس لہجے میں آنکھوں میں نمی لیے بولی زہرون نے اسے دیکھا

“اتنا گٹھیا سمجھا ہوا پہلے بھی کہا تھا ہر انسان ایک جیسا نہیں ہوتا”
وہ اسکے ساتھ بیٹھتے ہوئے اسکا ہاتھ تھامے بولا عینب اسے ہی دیکھ رہی تھی۔

“یعنی تم مجھ سے دوستی نہیں توڑو گے”
وہ اسے دیکھتے حیرانگی سے پوچھنے لگی وہ مسکراتے ہوئے نفی میں سر ہلا گیا

“نہیں بلکہ سب میں ہمیشہ تمہارے ساتھ رہوں گا تمہارا محافظ دوست اور ہمسفر بن کر”
وہ اسے دیکھتے ہوئے مسکرا کر بتانے لگا عینب اسے الجھے ہوئے انداز میں دیکھنے لگی

“ہاں عینب میں تم سے بہت محبت کرتا ہوں تمہیں دیکھتے ہی شاید ہوگئی تھی میں نے تمہاری جیسی لڑکی اپنی لائف میں نہیں دیکھے کیا تم ساری زندگی میرے ساتھ رہنا چاہو گی”
وہ گھٹنوں کے بل اسکے سامنے بیٹھتے ہوئے انتہائی پیار بھرے لہجے میں کہنے لگا جس پر وہ اسے حیرت سے دیکھ رہی تھی۔

“ہم دونوں تو بس اچھے دوست تھے نا”
وہ اسے دیکھتے ہوئے یاد دلانے لگی زہرون کی نظریں اسی پر مرکوز تھی

“اچھے دوست رہیں گے لیکن مجھے لگتا ہے تم میرے ایک پرفیکٹ پارٹنر ہو”
وہ مسکراتے ہوئے اسے دیکھتے ہوئے کہنے لگا جس پر عینب فوراً نفی میں سر ہلا گئی

“نہیں بلکل نہیں ایسا نہیں ہوسکتا”
وہ فوراً سے کہتے ساتھ کوٹ پہن کر وہاں سے جانے لگی زہرون اسے دیکھ رہا تھا

“عینب”
وہ اسکے پیچھے جاتے ہوئے اسے پکارنے لگا مگر عینب فارم ہاؤس سے باہر نکل چکی تھی۔ زہرون اسے جاتا دیکھنے لگ گیا۔


“تم بے فکر رہو گیلانی کا کام بہت جلد تمام ہوگا”
خان اسوقت بہزاد کے سامنے موجود مسکرا کر کہنے لگا بہزاد اثبات میں سر ہلا گیا

“یقین ہے تم پر”
وہ اسے دیکھتے ہوئے کہنے لگا خان سگریٹ پیتے ہوئے اثبات میں سر ہلا گیا

“تم آرام سے جاؤ پیچھے سب سنبھال لوں گا میں”
وہ اسے بےفکر کرتے ہوئے بولا جس پر بہزاد اثبات میں سر ہلا گیا اور اٹھ کھڑا ہوا اس سے ملتا وہ بھاری بھاری قدم لیے باہر کی طرف بڑھ گیا خان اسے جاتا دیکھنے لگ گیا تبھی اسکا فون بجا

“ابھی پہنچا”
وہ فون اٹینڈ کرتا دو الفاظ کہتے ساتھ سرخ آنکھوں سے باہر کی جانب تیز تیز قدم بڑھا گیا۔گئی

“صاحب گاڑ”
اسکا ملازم اونچی آواز میں ابھی بول ہی رہا تھا جب خان نے اسے ٹوکا

“آواز نیچی”
وہ انتہائی غصے سے اسے یاد دلاتے ہوئے فون جیب میں ڈال کر باہر کی جانب بھاری قدم لیے بڑھ گیا


بہزاد اور غزلان لندن کیلیے جہاز میں موجود تھے وہ براؤن کوٹ میں بالوں کو کھولے لائٹ سے میک ایپ بہت ہی زیادہ حسین لگ رہی تھی اور وہ بلکل سمپل تھا مگر اس سادگی میں بھی کمال لگ رہا تھا۔

“میری بات سنیں کتنی دیر میں پہنچے گے”
ابھی ہوا میں جہاز اڑا بھی نہیں تھا وہ اس سے بڑی سنجیدگی سے پوچھنے لگی۔

“خاموش ہوکر بیٹھو پہنچ جائیں گے ہم”
وہ اسے دیکھتے اسی کے انداز میں کہنے لگا وہ خاموش ہو گئی اور باہر کی طرف دیکھنے لگ گئی۔
وہ ادھر ادھر دیکھ رہی تھی جب نظر اپنے بلکل سامنے بیٹھی لڑکی پر گئی جو کب سے بہزاد کو دیکھ رہی تھی غزلان کے ماتھے پر بل نمودار ہوا

“اوہ ہیلو ادھر کیا دیکھ رہی ہو”
غزلان انتہائی غصے اور اونچی آواز میں کہنے لگی جس پر وہ لڑکی گھبرا گئی بہزاد بھی غزلان کو دیکھنے لگ گیا۔

“سامنے دیکھو سامنے یہ میرے شوہر ہیں ٹھیک ہے صرف میں دیکھ سکتی ہوں”
غزلان کو اس لڑکی کا ابھی بھی اسطرف دیکھنا غصے میں مبتلا کررہا تھا جس پر وہ لڑکی سامنے دیکھنے لگ گئی اور بہزاد اسے دیکھ رہا تھا وہ سچ میں پاگل تھی

“اٹھیں آپ”
وہ کھڑء ہوکر بہزاد کو اشارے کرتے ہوئے بولی بہزاد نے اسے خاموش رہنے کیلیے واپس بٹھایا

“ہم جہاز میں ہے خاموش رہو تماشا مت بناؤ”
وہ اسے بٹھاتے ہوئے دھیمی مگر سخت آواز میں بولا غزلان اسے دیکھنے لگ گئی

“گھور کیوں رہی تھی میں کہ رہی ہوں ادھر آجائیں ورنہ اس سے زیادہ چلاؤ گی”
وہ غصے سے اسے دیکھتے ہوئے تھوڑا سرد لہجے میں کہنے لگی بہزاد اسکی ضد کے سامنے ہارتے ہوئے اٹھا اور لیفٹ سائیڈ والی سیٹ پر بیٹھ گیا اور غزلان رائٹ سائیڈ والی سیٹ پر آ گئی اسکے چہرے پر فاتحانہ مسکراہٹ آئی بہزاد اسے ہی دیکھ رہا تھا۔
تھوڑے دیر ہی گزری تھی کہ غزلان مزے سے سورہی تھی سفر میں اسے نیند ویسے بھی اکثر زیادہ آتی تھی یہ بات بہزاد نے خاصی نوٹ کی تھی ابھی بھی وہ سورہی تھی مگر سردی سے کانپ رہی تھی اس نے شال اٹھائی اور اسکے اوپر ڈال کر اسے دیکھنے لگا
اچانک اسکے ذہن میں کچھ دیر پہلے والا اسکا جنونی ہونا کے خیال آیا وہ ایک پل کیلیے اسکی ان حرکتوں سے خود بھی پریشان ہوگیا تھا۔


“ڈیڈ”
عینب یوسف صاحب کے کمرے میں داخل ہوتے ہوئے انہیں پکارنے لگی یوسف صاحب جو لیپ ٹاپ پر کچھ دیکھنے میں مصروف تھے اسکے پکارنے پر اسے دیکھنے لگ گئے۔

“جی عینب بچے بولو”
وہ لہجے میں نرمی اور اپنائیت لیے اسے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگے

“مجھے کچھ دنوں کیلیے آسٹریلیا جانا ہے”
وہ انہیں دیکھتے ہوئے سنجیدگی سے بولی یوسف صاحب اسے دیکھنے لگ گئے

“آسٹریلیا کیوں بیٹا سب ٹھیک ہے”
وہ پریشانی سے اسے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگے جس پر وہ اثبات میں سر ہلا گئی

“میں کچھ وقت خود کو دینا چاہتی ہوں مائنڈ فریش کرنا چاہتی ہو”
وہ انہیں دیکھتے ہوئے مسکراتے ہوئے نارمل انداز میں بتانے لگی جس پر یوسف صاحب اسے دیکھنے لگ گئے۔

“ایسا ہے تو میں ویزا لگاتا ہوں”
وہ مسکراتے ہوئے اسے دیکھتے ہوئے کہنے لگے جس پر وہ مسکرائی اور وہ یوسف صاحب کے گلے لگ گئی جس پر وہ مسکرائے اور شکریہ کہتی باہر کی طرف بڑھ گئی
جیسے ہی وہ باہر آئی اسے سامنے سے زہرون آتا دیکھائی دیا وہ اسے دیکھ کر مسکرایا مگر عینب اسے اگنور کرتے ہوئے سیدھا اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی زہرون اسے دیکھتا رہ گیا۔

“تم اچھے ہو یونیب بہت اچھے مگر تم میرے قابل نہیں ہو اور نہ ہی میں کسی مرد کو اپنی زندگی میں لانا چاہتی ہو مجھے معاف کر دینا”
وہ کمرے میں آتی دروازے سے ٹیک لگائے آنکھوں میں آئی نمی کو ضبط کرتی دل میں بولتے ساتھ آنکھیں بند کر گئی۔


“مجھے فون کرنے کی وجہ بتاؤ”
رویش غصے سے فون کان سے لگائے بولی دوسری جانب موجود خان دو پل فون کو دیکھتا رہ گیا

“طبیعت کا پوچھن”
خان ابھی بول رہا تھا جب رویش نے اسے ٹوک دیا اسکا جملہ ادھورا رہ گیا

“میں بلکل ٹھیک ہوں فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہء اور آج کے بعد ادھر فون بھی نہ آئے سمجھے”
وہ غصے سے اسے بولتی فون رکھ گئی اور خان بس فون کو دیکھتا رہ گیا۔

“بےفضول اس لڑکی کو دل میں جگہ دے بیٹھتے ہیں صاحب”
تبھی سکسے ساتھ موجود اسکے آدمی نے منہ بنائے بولا جب خان نے سرخ انگارہ برستی آنکھوں سے اسے دیکھا

“اپنے کام سے کام رکھو “
وہ انتہائی ڈارک اور لفظ چبا چبا کر بولتے ساتھ فون ،مین پر پٹکتا آگے کی جانب بڑھ گیا اور وہ اسے دیکھتا رہ گیا

“کسی اتنی باتیں سنا رہی تھی”
زرمیش کمرے میں آتے ہوئے اسے دیکھ کر پوچھنے لگی رویش نے اسے دیکھا

“زرمیش میرا دماغ پہلے بہت خراب ہوا ہوا ہے اور نہ کرو سمجھ گئی”
رویش اسے بی جھڑکتے ہوئے غصے میں بولی زرمیش اتنا منہ سا لے کر اسکے سامنے بیٹھ گئی

“ہر کوئی ڈانٹتا رہتا ہے مجھے غزلان آپی تھی جو تھوڑی دیر بات تو کرلیتی تھی اب تو وہ بھی نہیں ہے”
زرمیش آنکھوں میں تھوڑی سی نمی لیے اسے دیکھتے ہوئے کہنے لگی جس پر رویش اسے دیکھنے لگ گئی

“سوری”
رویش فوراً اسے گلے سے لگاتے ہوئے بولی زرمیش نے بھی اسے زور سے گلے لگا لیا

“چلو کرو مجھ سے جو باتیں کرنی ہیں”
وہ مسکراتے ہوئے کہنے لگی جس پر زرمیش نام اسٹاپ بولنا شروع ہوگئی اور رویش اسے سن رہی تھی۔


“ہم پہنچ بھی گئے”
غزلان اسے دیکھتے ہوئے پوچھنےلگی جس پر بہزاد نے اسے دیکھا اور اثبات میں سر ہلا گیا غزلان بھی خاموش رہی
وہ دونوں ائیر پورٹ پر اترے تبھی فوراً انکے سامنے ایک بلیک کلر کی گاڑی رکی بہزاد نے اسے بیٹھنے کا اشارہ کیا وہ بیٹھ گئی اور رویش وہ بھی بیٹھ گیا ڈرائیور نے سمان گاڑی میں رکھ دیا

“سارے کام کررہے تھے نا جو بولے تھے”
وہ ڈرائیور کو مخاطب کرتے ہوئے پوچھنے لگا جس پر ڈرائیور نے تھوڑا گھبراتے ہوئے اثبات میں سر ہلا دیا اور گاڑی اسٹارٹ کرکے سڑک پر دوہرا دی

“یہ تمہاری گاڑی ہے”
غزلان تھوڑا قریب ہوکر اسکے کان میں سرگوشی کرتے ہوئے پوچھنے لگی

“ظاہری سی بات ہے”
وہ اسکے بے تکے سوال پر جواب دینے لگا اسکے اسطرح آوازار بھرے لہجے سے غزلان منہ بنائے خاموش ہو گئی۔
کچھ ہی دیر میں گاڑی ایک بلیک تنگ کے گھر کے باہر رکی غزلان اس گھر کو دیکھنے لگ گئی بہزاد جیسے گاڑی سے اترا وہ بھی اتری اور دونوں گھر کے اندر داخل ہوئے وہ گھر واقع بہت ہی زیادہ غضب کا تھا ایک ایک چیز وہاں بہت نفیس اور عمدہ تھی بہت ہی ڈیسنٹ اور لاجواب گھر تھا

“میرا روم کہاں ہے”
وہ اسے دیکھتے ہوئے تھوڑا غصے سے پوچھنے لگے جس پر بہزاد نے ایک نظر اسے دیکھا

“اوپر جاکر سلیفت سائیڈ پر”
وہ اسے جواب دینے لگا وہ بغیر کوئی بات کیے خاموشی سے اوپر کی طرف بڑھ گئی بہزاد اسے جاتا دیکھنے لگ گیا

“جو بولا تھا”
وہ اپنے ملازم کو اشارہ کرکے اپنے پاس بلا کر پوچھنے لگا جس پر اس شخص نے اثبات میں سر ہلایا اور کچھ معلومات سے آگاہ کیا۔

“میم”
وہ دروازہ ناک کرکےا ندر آتے ہوئے غزلان کو پکارنے لگ گئی غزلان جو ڈریسنگ کے سامنے کھڑی بالوں کو جوڑے کی شکل دے رہی تھی اسے دیکھنے لگ گئی

“بولو”
وہ اسے دیکھتے ہوئے سنجیدگی سے پوچھنے لگ گئی اور بالوں کے بنے کو جوڑے کیچڑ سے قید کیا

“سر کھانے کیلیے بلا رہے ہیں”
میڈ کی بات پر وہ وارڈروب کی جانب بڑھتے ہوئے ڈریسز دیکھنے لگی

“کپ دس جاکر اپنے سٹیل اور انتہائی بدتمیز سر کو جنہیں لڑکیوں سے بات کرنے کی تمیز ہی نہیں ہے مجھے بھی”
بولتے بولتے وہ اچانک مڑی اور سامنے میڈ کی جگہ بہزاد کو موجود دیکھ کر اسکے الفاظ منہ میں رہ گئے

“خاموش کیوں ہوئی بولو”
وہ سینے پر بازو باندھے چہرے پر سنجیدگی سجائے بولا غزلان نے چہرے کے تاثرات نارمل کیے

“ہاں ڈرتی تھوڑی ہوں میں بھوک نہیں ہے مجھے”
وہ خود کو نارمل کرتے ہوئے اسے دیکھ کر جواب دینے لگ گئی بہزاد اثبات میں سر ہلا گیا

“سوری “
وہ اسے دیکھ کر کہنے لگا جس پر غزلان اسے حیرانگی سے دیکھنے لگ گئی

” کیا کہا”
وہ آئبرو اچکا کر اسے دیکھتے ہوئے حیران کن لہجے میں بولی

“آئی ایس سوری ناؤ لیٹس گو”
وہ اسے دیکھتے ہوئے اپنی بات پھر سے دہرانے لگا جس پر غزلان کے چہرے پر مسکراہٹ آئی

“مجھے پھر بھی نہیں جانا بھوک نہیں ہے سمجھتے ہیں سوری بول دینے سے سب ٹھیک ہو جائے گا”
وہ اسے دیکھتے بھرم بھرے لہجے میں بولتی بالوں کی لٹھ کر انگلی میں مڑور کر بولی جس پر وہ اسے دیکھنے لگ گیا اور اسکی جانب بڑھ کر اسکی کلائی اپنے ہاتھ میں تھام کر زبردستی نیچے کی جانب لے جانے لگا غزلان اسے دیکھنے لگ گئی
نیچے لاتے ہی چئیر پر بٹھایا اور سرد نگاہوں سے اسے دیکھا

“خاموشی سے کھانا کھاؤ ایک لفاظ بھی منہ سے نہ نکلے”
وہ بہت ہی زیادہ سختی سے کہتے ساتھ خود بھی کرسی کھسکا کر بیٹھا اور غزلان خاموش رہنے میں ہی بہتری سمجھی۔۔


“کیسے کیسے وہ بچ سکتی ہے”
گیلانی چیختے ہوئے یونیب کو دیکھ کر پوچھنے لگا یونیب اسے دیکھ رہا تھا

“مجھے نہیں پتہ سر میں نے تو پوئزن ہی ڈالا”
وہ پریشانی سے اسے دیکھتے ہوئے بتانے لگا گیلانی اسے دیکھنے لگا

“پوائزن ہی اگر ڈالا تو وہ مری کیوں نہیں یونیب”
وہ چیختے ہوئے پوچھنے لگا یونیب اسے دیکھنے لگ گیا

“مجھے نہیں پتہ سمجھ نہیں آرہی کیوں نہیں مری”
وہ اسے دیکھتے ہوئے بتانے لگا گیلانی خاموشی سے اسے دیکھنے لگ گیا

“اگر تم منافق نکلے تو جان سے جاؤ گے یاد رکھنا اور ہاں کہیں محبت وحبت میں رحم تو نہیں آ گیا نا”
وہ اسے دیکھتے ہوئے خباست بھرے لہجے میں بولے یونیب انہیں دیکھنے لگ گیا۔

“رحم کھانا یونیب نے سیکھا ہی نہیں”
وہ اسے دیکھتے ہوئے صاف الفاظ میں کہتے ساتھ باہر کی جانب قدم بڑھا گیا اور گیلانی اسے جاتا دیکھنے لگ گیا

جاری ہے