Black Love By Mahnoor Shehzaad Readelle50302 (Black Love) Last Episode
Rate this Novel
(Black Love) Last Episode
وہ اسی طرح کب سے اس کے سینے سے لگی ہوئی تھی بہزاد نے اسکا سر اپنے سینے سے ہٹایا تو وہ بےہوش تھی بہزاد کے ماتھے پر بل نمودار ہوئے اسکی نظر خون سے بھری شرٹ پر گئی جہاں خون بہ رہا تھا
“غزلان غزلان”
وہ اس سے پہلے گرتی بہزاد اسے اپنی باہوں میں تھامے گال پر ہاتھ رکھے نرمی سے پکارنے لگا غزلان بےہوش تھی اسکا سر اپنی گود میں رکھ کر زمین پر بٹھاتا اس نے جیب سے فون نکالا
“ریاض فورا سے پہلے یہاں پہنچو”
وہ حکم صادر کرتا فون بند کر کے غزلان کو ہوش میں لانے کی کوشش کرنے لگا مگر وہ بےہوش تھی زیادہ بھاگنے اور چلنے سے اسکے زخم سے خون بہنے لگا تھا
کچھ دیر بعد ریاض وہاں موجود تھا اسکی نظر غزلان پر گئی وہ اپنی جگہ ساکت ہو گیا
“جلدی دروازہ کھولو”
بہزاد اسے باہوں میں اٹھایا اونچی اواز میں ساکت کھڑے ریاض کو ہوش میں لایا وہ فورا اثبات میں سر ہلا کر دروازہ کھول گیا اور بہزاد بیٹھا
“ہوسپٹل چلو”
وہ اسے ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھتے دیکھ بولا اسکے لہجے میں موجود فکرمندی کا اندازہ ریاض صاف لگا سکتا تھا ریاض نے گاڑی تیزی سے سڑک پر دوہرا دی تھی
“ویک اپ غزلان تمہیں کچھ نہیں ہوگا ویک ایپ”
اسکے چہرے پر ہاتھ رکھے وہ اسکی گال تھپتھپاتے ہوئے بےچینی سے بول رہا تھا پورا راستہ وہ اسے جگانے کی کوشش کرتا رہا مگر وہ بےہوش رہی تھی
وہ ہوسپٹل پہنچ چکے تھے اندر اتے ہی اس نے غزلان کو سٹریچر پر لٹایا نرس اور ڈاکٹر اس جانب آئے
“ایمرجینسی ہے سر”
نرس نے پریشانی سے بولا ڈاکٹر نے اسے آپریشن تھریٹر میں لے جانے کا حکم دیا وہ اسے آپریشن تھریٹر کی جانب لے گئے
“مجھے میری بیوی بلکل ٹھیک چاہیے کسی بھی حال میں”
وہ ہر لفظ کو چباتے ہوئے غرایا ڈاکٹر بھی گھبرا سی گئی اور بغیر کچھ کہے اندر کی جانب بڑھ گئی
بہت وقت ہوگیا تھا مگر غزلان ابھی بھی آپریشن تھریٹر میں تھی بہزاد کی پریشانی بڑھتی چلی جارہی تھی
ریاض نے یونیب کو فون کرکے ایک ایک بات سے آگاہ کیا یونیب کو جہاں غزلان کے مہینے بعد ملنے پر حیرت اور خوشی بھی تھی اور ہوسپٹل میں موجود اسے پریشانی ہوئی تھی
“یونیب کیا ہوا”
رویش اسے یوں ساکت بیٹھا دیکھ پریشانی سے پوچھنے لگی یونیب ہوش میں آیا
“مجھے بہزاد کے پاس جانا ہے رویش”
وہ اسکے چہرے پر ہاتھ رکھ کر بولتا جانے لگا رویش اسے دیکھ رہی تھی
“ٹھیک تو ہیں نا وہ یونیب”
رویش اسکے پیچھے اس کے پاس آکر پوچھنے لگی یونیب اثبات میں سر ہلا کر تیز تیز قدم اٹھائے چلا گیا اور رویش کو کچھ ٹھیک نہیں لگا تھا۔
وہ جیسے ہی ہوسپٹل آیا نظر ریاض اور بہزاد پر گئی ریاض کھڑا تھا اور بہزاد جیب میں ہاتھ ڈالے ٹہل رہا تھا پریشانی چہرے سے صاف ظاہر ہورہی تھی
“بہزاد”
یونیب اسکے پاس آکر اسے پکارنے لگا بہزاد نے مڑ کر اسے دیکھا اسے دیکھ وہ فورا اس کے گلے سے لگ گیا
“پریشان نہ ہو یار سب ٹھیک ہوجائے گا”
وہ اسکی کمر پر تھپکی دیتے ہوئے تسلی دینے لگا بہزاد نے اثبات میں سر ہلا دیا
“ڈاکٹر پیشنٹ”
تبھی ڈاکٹر باہر آیا اور بہزاد اور یونیب کی نظر اس پر گئی ڈاکٹر دیکھ گھبرائی
“دیکھیے زخم کافی گہرا ہے اور خون بہت زیادہ بہ گیا ہے ہم اپنی پوری کوشش کررہے ہیں”
سنجیدگی سے اسے کہتے ساتھ وہ آگے کی جانب قدم بڑھا گئی اور بہزاد خاموشی سے بیٹھ گیا
بہت وقت گزر گیا تھا مگر غزلان کی کنڈیشن پریکٹیکل ہی تھی ڈاکٹر بتا رہی تھی بہزاد کی ہمت اب جواب دے گئی تھی وہ وہاں سے اٹھا قدم بڑھائے اور باہر آ گیا یونیب اسے جاتا دیکھ رہا تھا مگر بولا کچھ نہیں ہے
بہزاد باہر آیا نظر ساتھ موجود مسجد پر گئی اور عشاء کی اذانوں کی اواز کانوں سے ٹکرائی تھی
آج وہ حیوان اپنے عشق کی زندگی کی بھیگ خدا سے مانگنے کیلیے چل دیا تھا وہ اندر آیا اور جوتی اتارتا ساتھ موجود شخص پر نظر ڈالی وہ جیسے وضو کررہا تھا بہزاد اسے دیکھ کر ویسے ہی وضو کرنے لگا سر پر ٹوپی پہنی اور اس ادمی کے ساتھ چل دیا بچپن میں کہیں اس نے نماز پڑھی آج پندرہ سال بعد شاید وہ مسجد میں آیا اسکے دل میں ٹھنڈک سی اتری تھی اس نے دو نفل کی نیت باندھی اور نماز ادا کرنے لگا نفل ادا کرکے سلام پھیرا دعا کیلیے ہاتھ اٹھائے اسکے ہاتھ کانپ رہے تھے آنکھوں سے آنسو خودبخود نکل رہے تھے اچانک اسکے ذہن میں ایک بات آئی
“جو نماز نہیں پڑھتا رب کا ذکر نہیں کرتا اسکی زندگی بیکار ہے”
یہ بات یاد کرتے ہی دل میں ایک خوف سا پیدا ہوا تھا وہ جانتا تھا حالات نے اس قدر پتھر دل اور حیوان بنایا تھا مگر خدا سے تعلق بلکل ختم کرنا یہ تو سب سے بڑی بیوقوفی تھی
“جو کسے کے ساتھ برا کرتا ہے خدا اپنے بندے کا بدلہ اس شخص سے خود لیتا ہے”
ایک اور بات اس کے ذہن میں آتے ہی بہزاد کا دل خوف سے کانپنے لگا وہ شخص کو لوگوں کو خوف میں مبتلا کرتا تھا آج خود خوف میں تھا آنکھوں سے ایک ایک کرکے ساتھ آنسو گال پر بہ رہے تھے مگر بولنے کی کچھ ہمت نہیں ہورہی تھی
“اللہ میری غزلان کو ٹھیک کردیں”
کانپتے لبوں سے وہ آنکھیں بند کیے دل سے دعا کرنے لگا اور کافی دیر اپنا سر سجدے میں دیے بیٹھا رہا دل کی بےچینی شاید آج ختم ہو گئی تھی اسے اسوقت اس طرح سجدے میں سر رکھ کر آنسو بہانا سکون دے رہا تھا
گھنٹے بعد وہ مسجد سے باہر آیا اور ہوسپٹل واپس آیا جہاں ریاض اور یونیب ویسے موجود تھے اسے دیکھ یونیب فورا اس جانب بڑھا
“غزلان بھابی کو ہوش آیا گیا وہ روم میں ہے”
یونیب فورا اس جانب بڑھتا اسے مسکرا کر بولا بہزاد اثبات میں سر ہلا کر کمرے میں آیا جہاں وہ آنکھیں بند کیے بہت کمزور لگ رہی تھی بہزاد اسکی جانب بڑھا اسکا ہاتھ مضبوطی سے گرفت میں لیے دیکھنے لگا
“بہزاد”
اپنے ہاتھ میں کسی کا لمس محسوس کرکے وہ آنکھیں کھولیں اسکا نام پکارنے لگی
بہزاد فورا اس طرف بڑھا اسکا چہرہ اپنے ہاتھ میں تھاما اور اسکے ناک سے ناک مس کی غزلان آنکھیں بند کر گئی
“تم ٹھیک ہو”
بہزاد اسکے چہرے پر اپنی گرم سانسیں محسوس کیے پوچھنے لگا
“تمہیں اپنے پاس موجود کرکے بلکل ٹھیک ہوں”
غزلان بھی اسکے چہرے پر اسی طرح ہاتھ رکھے مسکراتے ہوئے بولی بہزاد نے اسکے لبوں کو ہلکے سے چھوا اسکی ایک گال پر لب رکھے اسکی دوسری گال پر اسکی پیشانی پر اپنے ہونٹوں کا لمس محسوس کروانے لگا غزلان اسکا لمس محسوس کر سکون محسوس کررہی تھی
“آئی لو یو”
اسے دیکھ مسکراتے ہوئے بولی بہزاد اسے نظروں کے حصار میں لیے اسکے ہاتھ چومنے لگا غزلان مسکرائی
“بہزاد”
یونیب بغیر ناک کیے اندت آکر اسے پکارنے لگا سامنے کا منظر دیکھ وہ نظریں جھکا گیا اور چلا گیا غزلان بھی نظریں جھکا گئی
“میں آتا ہوں”
وہ مسکراتے ہوئے اسے دیکھ کر بولتا باہر کی جانب بڑھ گیا اور وہ بھی مسکرا دی
یونیب نے اسے ڈیوز کلئیر کرنے کا بولا بہزاد نے کیے اور یونیب کا اور ریاض کا دل سے شکریہ ادا کیا
اگلی دن غزلان ڈسچارج ہو گئی اور یونیب بہزاد ریاض تینوں یوسف ہاوس کی جانب چل دیے
وہ سب راحت بیگم کو ٹی وی لاؤنچ میں لیے بیٹھے تھے تبھی غزلان یونیب بہزاد اندر داخل ہوئے غزلان کو دیکھ سب جو حیرت کا جھٹکا لگا
“غزلان آپی”
زرمیش اسے سامنے دیکھ حیرت سے پکارنے لگی غزلان کے لب مسکرائے زرمیش اٹھ کر فورا اس کے گلے سے لگی راحت بیگم کی خوشی سی آنکھیں نم ہو گئی
“آپ ٹھیک ہیں پتہ ہے میں کتنا اداس ہوگئی تھی کتنا مس کیا شکر ہیں آپ ٹھیک ہیں”
زرمیش اسے گلے لگی مسلسل بولتی چلی جارہی تھی غزلان مسکرائی
“اب تو آ گئی میں”
وہ بھی اسکے گرد حصار بنائے محبت سے بولی جس پر زرمیش مسکرا دی
وہ راحت بیگم کے پاس آئی راحت بیگم نے انہیں گلے سے لگایا راحت بیگم اسے دیکھتے ہی جیسی بلکل ٹھیک ہو گئی پھر یوسف صاحب سے ملی باری باری سب سے ملی عینب کے گلے لگی عینب کی آنکھیں نم ہو گئی غزلان اسے دیکھنے لگی اور مسکرا دی عینب بھی مسکرادی غزلان اور عینب جتنا مرضی لڑتی تھی دونوں کے دل میں ایک دوسرے کیلیے ہمدردی فکر ہمیشہ سے تھی
رویش کی جانب بڑھی رویش نے اسے گلے لگایا اور رویش اسے اپنے سامنے موجود دیکھ بےحد خوش تھی
“مجھے کتنی خوشی ہورہی ہے آپ کو یہاں موجود دیکھ کر”
رویش مسکرا کر اسے کہنے لگی سب مسکرادیے اور غزلان ان سب کے بیچ بیٹھ گئی غزلان کا اچانک آنا حیرت انگیز تھا مگر اسکے ٹھیک اور زندہ ہونے پر سب بہت خوش تھے وہ سب باتیں کررہے تھے بہزاد اسی پر نظریں مرکوز کیے ہوئے تھا جو ان سب کیساتھ کس قدر خوش لگ رہی تھی۔
“یونیب بہت چھیچھوڑا پن کر لیا آفس کیلیے دیر ہورہی ہے بریک فاسٹ کرلو”
یونیب جو کب سے اسکی گردن اسکے گال پر ہونٹوں کا لمس چھوڑ رہا تھا رویش منہ بنائے اسے بولی یونیب نے اسے حصار میں لیا
“اینگری گرل تم سے دور نہیں رہا جاتا”
اسکے کان میں سرگوشی کرتے ہوئے بولا جس پر رویش کی ہارٹ بیٹ مس ہوئی
“میرے معصوم ہسبینڈ چلتے بنے”
اسے پیچھے کرتی وہ مسکرا کر بولتی ڈائننگ کی جانب بڑھ گئی یونیب بھی پیچھے آیا
اچانک رویش کو الٹی سی محسوس ہوئی تھی وہ ایک دم اٹھ کر باتھروم کی جانب بڑھی یونیب کو پریشانی ہوئی تھی
“رویش تم ٹھیک ہو”
وہ اسے دیکھتے ہوئے فکرمندی سے پوچھنے لگا رویش نفی میں سر ہلا گئی
“کل سے وومٹنگ اور سر چکرا رہا ہے”
رویش اسے دیکھتے ہوئے بتانے لگی یونیب نے اسے بٹھایا اور خفگی سے اسے دیکھا
“کیوں نہیں بتایا مجھے رکو ڈاکٹر کو فون کرتا ہوں میں”
یونیب نے کہتے ساتھ ڈاکٹر کا نمبر ملایا اور اسے گود میں اٹھائے روم میں لے آیا
کچھ دیر بعد ڈاکٹر آیا رویش کا چیک ایپ کیا اور خوشخبری سنائی وہ پریگننٹ ہے رویش اور یونیب دونوں ہی بےحد خوش تھے
غزلان اور عینب کو بھی ایک مہینے پہلے یہ نیوز ملی تھی اور اب رویش کو بھی یہ نیوز مل گئی
“تھینکیو سو مچ جانم”
پیار سے اسکی گال چھوتا محبت سے بولا وہ مسکرادی
زہرون عینب کو بیڈ سے اترنے نہیں دیتا زہرون کو باہر دیکھ وہ اٹھنے لگی تبھی وہ سامنے آکر کھڑا ہوگیا عینب واپس لیٹ گئی
“کدھر”
سینے پر بازو باندھے اسے دیکھ سنجیدگی سے پوچھنے لگا جس پر عینب منہ بسور گئی
“تھک گئی ہوں نا بیٹھ بیٹھ کر یار پلیزز سمجھو”
چہرے پر معصومیت سجائے اسے دیکھتے ہوئے کہنے لگی زہرون اسکے پاس آیا اسکے چہرے پر ہاتھ رکھا اسکی گردن پر لب رکھے عینب آنکھیں بند کر گئی
“چھیچھوڑے”
اسکی حرکت پر ہمیشہ دیے جانے والا لقب اسے دیتے ہوئے بولی زہرون مسکرایا
“میری بیوی بیڈ پر بیٹھ بیٹھ کر تھک گئی ہے”
اسکی گال کھینچتے ہوئے بچوں کی طرح پوچھنے لگا عینب بھی اثبات میں سر ہلا گئی
“چلو آؤ واک پر چلتے”
زہرون اسکا ہاتھ تھامے اسے بولا عینب خوش ہو گئی اور اسکے ساتھ چلنے لگی دونوں واک کررہے تھے ساتھ باتیں بھی کررہے تھے عینب زہرون کیساتھ بہت حسین زندگی گزار رہی تھی
پانچ سال بعد ۔۔۔۔۔۔
یوسف صاحب نے ایک آفس کھول لیا تھا پانچ سال پہلے ہی یہاں وہ یتیم بچوں اور جن کیساتھ زیادتی کا زبردستی ہوتی تھی ان کی مدد کرتے تھے غلط راستے کے بجائے ایک سیدھے راستے انہوں نے ایسے لوگوں کی مدد کرنے کا سوچا تھا اور یہ مشورہ بہزاد نے دیا بہزاد یونیب یوسف صاحب زہرون مل کر اس آفس میں کام کررہے تھے زندگی سب کی بےحد سکون سے گزر رہی تھی
زرمیش اپنی اسٹڈیز پر پورا فوکس کررہی تھی اور اسکے میڈیکل میں بہت اچھے نمبرز آئے تھے اور وہ ڈاکٹر بننے کیلیے دن رات محنت کررہی تھی ساتھ راحت بیگم کا خیال بھی بہت رکھتی تھی راحت بیگم کی طبیعت بھی سب بہت بہتر ہو گئی تھی
عینب اور زہرون کا بیٹا ہوا تھا چار سال کا جس کا نام دونوں نے صائم رکھا تھا جو ہمیشہ عینب کو چپکا رہتا تھا زہرون خاصا جیلس ہوتا تھا
“پالی مما”
وہ اسکے گردن پر بازو ڈالے زہرون کے سامنے اسکی گال پر لب رکھے بولا عینب مسکرائی اور زہرون کھا جانے والی نظروں سے گھورا تھا
“اب یہ چھیچھوڑا نہیں لگ رہا تمہیں”
زہرون مل کر لیپ ٹاپ سے نظریں ہٹائے عینب سے بولا اسکی جیلسی پر عینب ہنس دی
“نہیں کیونکہ یہ میرا بیٹا ہے پیارا بیٹا”
وہ مسکراتے ہوئے اسے دیکھ کر بولتی اسکی گال پر جھک گئی اور زہرون جل بھن کر کام کرنے لگ گیا
“اللہ ایسی ظالم اور ایسا ٹھرکی بیٹا کسی کو نہ دیجیے گا جب دیکھو میری بیوی کیساتھ چپکا رہتا ہے”
زہرون لیپ ٹاپ پر انگلیاں چلاتا منہ بنائے بولنے لگا عینب اپنی ہنسی بامشکل روک رہی تھی اور صائم غزلان کی گردن میں منہ دیے گیا عینب کی مسکراہٹ مزید گہری ہوئی اور زہرون بس اپنے ٹھرکی بیٹے کو دیکھتا رہا تھا عینب صائم کو ہٹاتی زہرون کے پاس آنے لگی تھی صائم نے پھر سے رونا شروع کردیا
عینب اسے اٹھائے زہرون کے پاس آئی اور اسکی گال پر جھک گئی
“کون اپنے بیٹے سے اتنا جیلس ہوتا ہے غصہ ہوتے ہو تبھی نہیں آتا تمہارے پاس”
وہ اسے پیار سے سمجھانے لگی زہرون نے اسے دیکھا اور پیار سے صائم کو اٹھانے لگا صائم گھور کر اسے دیکھنے لگا اور منہ پھیر گیا
“ہونہہ آتا ہی نہیں میرے پاس”
منہ بنائے وہ عینب سے بولا عینب ہنس دی اور خود صائم کو زہرون کی گود میں دیا اور دونوں مل کر صائم سے کھیلنے لگ گئے اور وہ ہنس رہا تھا۔
رویش اور یونیب کی بھی بیٹی ہوئی تھی تین سال کی تھی جس کا نام امامہ رکھا تھا جو یونیب کو بہت پسند تھا یونیب کی تو جان تھی اسکی بیٹی رویش بھی اس سے بہت لاڈ سے رکھتی تھی
امامہ زمین پر چلتی آگے کی جانب جارہی تھی یونیب جو رویش کو لاکٹ پہنا رہا تھا اسے دیکھ دونوں اسکے پیچھے بھاگے تاکہ وہ گر نہ جائے سیڑھیاں جو تھی آگے
“امامہ”
وہ فورا اس کے پاس آئے اور اسے یونیب نے گود میں اٹھایا وہ اسے دیکھ گال پر لب رکھ گئی
“چلو میری جان اندر”
اسے گود میں لیے بولتا رویش کو ساتھ لگائے پیار سے کہنے لگا وہ چل رہے تھے امامہ رویش کے منہ پر انگلیاں پھیر رہی تھی
“حرکتوں پر بلکل تم پر گئی ہے”
یونیب امامہ کو چوم کر رویش سے بولا رویش گھور کر دیکھنے لگ گئی
‘”ضدی اور غصے میں تم پر”
وہ بھی مزے سے جواب دیتی امامہ کو اپنے گود میں لے گئی وہ اسے دیکھ رہا تھا اور پھر دونوں ہنس دیے
یوسف صاحب نے آج ایک پارٹی رکھی تھی جس میں ان کے کچھ دوست اور سب گھر والے کو بلایا تھا
وہ گرے کلر کی ساڑھی میں ملبوس بالوں کو کھول کر کرل کیے لائٹ سے میک ایپ میں ہونٹوں پر ریڈ لپسٹک لگائے پیروں پر ہیلز چڑھائے بہت حسین لگ رہی تھی اور اپنی پانچ سال کی بیٹی حور کو بھی فراک پہنائے ہوئے تھی بلکل غزلان پر گئی تھی ڈریسنگ پر بیٹھی وہ غزلان کو دیکھ رہی تھی تبھی بہزاد گرے پینٹ کورٹ میں ملبوس ہیوی بئیرڈ میں بالوں کو نفاست سے سجائے ہمیشہ کی طرح بہت ہینڈسم لگ رہا تھا نظر غزلان پر گئی اسکے لب مسکرا دیے اور اسکے قریب آکر پیچھے سے حصار میں لیا وہ جو پرفیوم لگا رہی تھی اسکی قید میں آتی وہ مسکرائی تھی
“پرفیکٹ لگ رہے ہیں آج ہم ساتھ”
وہ مرر سے اسے دیکھتے مسکرا کر بولی تھی بہزاد بھی مسکرایا تھا
“ہمیشہ لگتے ہیں”
کہتے ساتھ بہزاد نے اسکے بال آگے کر کے اسکی بیک پر لب رکھے غزلان اسکے لمس محسوس کرتی آنکھیں بند کر گئی اور سامنے بیٹھی ان کی معصوم پیاری بیٹی حور آنکھوں پر ہاتھ رکھ گئی اسکی حرکت پر بہزاد مسکرایا اور اسے گود میں لیا
“ڈیڈ کی پرنسس”
پیار سے کہتے ساتھ اسکی گال کو چوما غزلان مسکرائی تھی
اور تینوں پارٹی کیلیے چل دیے تھے
سب ہی اپنی زندگی میں خوش تھے عینب زہرون صائم کیساتھ ایک بہت خوشگوار زندگی گزار رہے تھے یونیب رویش اپنی بیٹی امامہ کیساتھ بہت ہیپی تھے اور غزلان کی زندگی میں تو بہزاد اور حور کا ساتھ سب سے حسین ساتھ تھا
پارٹی بہت اچھی ہوئی تھی یوسف صاحب اور راحت بیگم اپنے سب بچوں کو خوش دیکھ بےحد خوش تھے
“تھک گئی ہوں میں”
بہزاد جو حور کو گود میں لیے تھا غزلان ہیلز اتارتی ہوئے بچوں کی طرح بولی بہزاد نے اسے دیکھا اور سوتی ہوئی حور کو اسے پکڑا کر اسے باہوں میں اٹھایا غزلان مسکرادی کمرے میں آتے ہی حور کو غزلان نے بیڈ پر لٹا دیا اور جیولری اتارنے اور کپڑے چینج کرنے کیلیے ڈریسنگ کے سامنے ائی بہزاد نے اسکی جیولری اتاری اسکی گردن پر لب رکھے
“تھکی ہوئی ہو نا میں جیولری بھی اتار دیتا اور کپڑے بھی چینج کروا دیتا ہوں”
وہ اسکے قریب ہوکر کان میں جھک کر خمار الود اواز میں بول اسکی دل کی دھڑکنیں بےترتیب کر گیا جیولری اتارنے کے بعد اسکی ڈوڑی کھولی پلو ہٹایا روم کی لائٹس آف کی اور ساڑھی اتارتے ساتھ اپنا لمس جگہ جگہ محسوس کرواتا اسے بےبس کر گیا اور اپنی شدتیں اس پر نچھاور کرنے لگ گیا بہزاد اسکی سانسیں خود میں قید کر رہا تھا اور وہ نازک جان اس کی شدتیں برداشت کررہی تھی
صبح غزلان اپنی اور اسکی کافی بنا کر ٹی وی لاؤنچ میں آئی اور بہزاد نے اسے اپنی گود میں بٹھا لیا غزلان مزے سے اسکی گردن میں بیٹھ کر کافی پیتے ہوئے کوئی بچی لگ رہی تھی بہزاد اسے دیکھ رہا تھا
“بہزاد میں سوچ رہی تھی”
غزلان ابھی بول رہی تھی بہزاد نے اسکے جملہ اسکے بولنے سے مکمل کر دیا
“کہ کہیں گھومنے چلتے ہیں”
بہزاد کے بولنے پر غزلان مسکرائی اور اسکی گال پر لب رکھ دیے
“ہاں نا چلتے ہیں”
وہ لہجے میں پیار لیے اسے بولی اور کافی کا کپ لبوں سے لگا گئی بہزاد نے اسے قریب کرکے کافی والے ہونٹوں پر لب رکھے
“اتنے پیار سے کہو گی جان بھی دے دوں گا”
وہ اسے گہری نظروں سے دیکھتے ہوئے بولا غزلان مسکرادی
“جان تو پہلے سے میری ہے آپ پورے کے پورے میرے ہیں”
پیار سے اسکے سینے پر سر رکھے بولی بہزاد کے لبوں پر دلفریب مسکراہٹ آئی
تبھی حور دونوں ہاتھ کمر پر رکھے انہیں دیکھنے لگی بہزاد نے اسے دیکھا
“تھول گئے متھے (بھول گئے مجھے)”
اسکے اس قدر کیوٹ بولنے پر بہزاد اور غزلان دونوں مسکرادیے اور بہزاد نے اسے گود میں اٹھا لیا اپنی زندگی کے دو عزیز لوگوں کو اپنے قریب محسوس کر اس نے خدا کا شکر ادا کیا تھا
ختم شد۔۔۔۔
