280.4K
41

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Black Love) Episode 9

وہ ریڈ کلر کے فراک میں ساتھ میں جینز پہنے سیاہ بالوں کو پونی میں قید کیے لائٹ سے میک ایپ میں وہ انتہا کی حسین لگ رہی تھی دو پل کیلیے یونیب کی نظر اس پر جم سی گئی تھی وہ اسکی جانب آتی کرسی کھسکا کر بیٹھ گئی
“وجہ بتاؤ گے یہاں بلانے کی مجھے”
وہ اسے دیکھتے ہوئے ائبرو آچکا کر پوچھنے لگی جس پر یونیب نے اپنے گاگلز اتار کر سائیڈ پر رکھے
“یوں ہی اپنا موڈ کچھ بہتر کرنا چاہ رہا تھا”
وہ نظریں اسی پر مرکوز کیے کہنے لگا جس پر رویش اپنی مسکراہٹ بامشکل چھپا سکی۔
“اچھا مجھے لگا کوئی بات کرنی ہے”
وہ جان کر انجان بننے کی کوشش کرتے ہوئے نظریں ادھر ادھر گھمانے لگ گئی
“کیا پیو گی”
وہ ٹیبل پر ہاتھ رکھے اسے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگا رویش نے بھی اسے دیکھا
“میرے خیال سے کافی کا پلان تھا”
وہ بھی اسی طرح ٹیبل پر بازو رکھے اسی کے انداز میں یاد دلانے لگی
جس پر یونیب نے ویٹر کو بلایا اور آرڈر دیا۔
کچھ ہی دیر میں ویٹر کافی کے کپ کے کر ان دونوں کی طرف آ گیا اور ساتھ پانی کا گلاس بھی موجود تھا جو غلطی سے ویٹر سے رویش پر گر گیا
“اوہ”
رویش پانی گرنے کی وجہ سے ایکدم کھڑی ہوکر بولی ویٹر گھبرا گیا یونیب غصے سے ویٹر کو گھورنے لگا
“سس۔۔سوری سر”
وہ کانپتے لبوں سے اسے دیکھتے ہوئے شرمندگی سے نظریں چرا کر کہنے لگا
“کوئی بات نہیں آپ واشروم بتادے میں صاف کرکے آتی ہوں”
رویش ایکدم سے نرم لہجے میں کہنے لگی ویٹر نے اسے واشروم کا بتایا اور وہ واشروم کی جانب بڑھ گئی اور ویٹر خاموشی سے چلا گیا۔
“کیا کررہا ہے یہ یونیب”
تبھی گیلانی کی آواز اس شخص کے کانوں میں گونجی۔
“سر ابھی تک تو پکان کے مطابق سب کررہا ہے”
اس کے آدمی نے فوراً گیلانی کو جواب دیا جس پر گیلانی کے لبوں پر مسکراہٹ آئی۔
یونیب نے رویش کی کافی میں کچھ میڈیسنز ڈال کر چمچ سے اچھی طرح ہلا دیا تبھی وہ آتی دیکھائی
“ٹھیک ہو تم”
وہ نارمل انداز میں کافی پیتے ہوئے اسے دیکھ پوچھنے لگا رویش اثبات میں سر ہلا کر بیٹھ گئی
“سوچ رہا ہوں شادی کرلوں اب”
کافی پیتے ہوئے وہ رویش کی جانب دیکھتے ہوئے کہنے لگا رویش نے کافی کا کب لبوں سے لگایا
“کون لڑکی تم سے شادی کرے گی پہلے راضی تو کرو”
وہ مذاقیہ انداز میں اسے بولی جس پر یونیب کے لبوں پر مسکراہٹ آئی
“بہت سی لڑکیاں ہے “
وہ مسکراتے ہوئے اسکا جواب دینے لگا رویش گھور کر دیکھنے لگی یونیب قہقہ لگا کر ہنسا
کچھ ہی دیر یوں باتیں کرتے کرتے کافی ختم ہوگئی اور وہ دونوں یوں ہی باتیں کرنے لگ گئے تبھی اچانک رویش کو چکر سے آنے لگے کچھ ہی دیر میں وہ دنیا سے بیگانہ بےہوش ہوگئی۔
یونیب نے بل رکھا اور اسی ویٹر کو اشارہ کرتے ہوئے چلا گیا۔


“دھیان سے گاڑی سے اترنا یہاں کوئی چھپا ہوگا لازمی”
بہزاد نے اسے فکرمندی سے بولا جس پر وہ گن لاڈ کرتی گاڑی سے اتری اور وہ بھی اترا اس سے پہلے بہزاد کے دشمن اس پر فائر کرتے بار گولیاں غزلان اور آٹھ گولیاں بہزاد نے چلا کر انکا کام تمام کردیا جیسے ہی وہ دونوں بےجان ہوئے غزلان نے بہزاد کو تالی مارنے کیلہے ہاتھ آگے بڑھایا مگر وہ تو جیب میں گن رکھ کر تیز تیز قدم اٹھائے آگے کی جانب بڑھ رہا تھا۔
“افف اپنی بیوی کو چھوڑ کر کیسے چلنے لگ گئے”
وہ اسکے پاس تیزی سے بھاگتے ہوئے پھولے ہوئے سانس سے کہنے لگی بہزاد اسے نظرانداز کرتا قدم اور تیزی سے بڑھانے لگا
“خود کو میری بیوی کہنا بند کرو”
وہ انتہائی سخت لہجے میں کہنے لگا جس پر غزلان نے اسے دیکھا
“اللہ تعالیٰ جی مانا میں نے کبھی بندہ نہیں مانگا تھا لیکن اگر مل گیا تو اس قدر کھڑوس تو نہ دیتے”
وہ اسکے ساتھ چلتے ہوئے مسلسل زبان چلا رہی تھی جب بہزاد نے قدم روک کر سرد نگاہوں سے اسے دیکھا غزلان گھبرائی
“خاموش”
وہ اسے سرد نگاہوں سے دیکھے تھوڑا آکر بولا غزلان بھی اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اسے دیکھنے لگ گئی۔
“نہیں ہوتی “
وہ آنکھیں دیکھائے کہنے لگی اور پہلی دفعہ زندگی میں اس شخص بلیک بیسٹ جیسے انسان کے سامنے اس طرح زبان چلائی تھی ناجانے کیوں مگر بہزاد کو غصہ نہیں آیا تھا۔ وہ کچھ کہے بغیر واپس سے قدم آگے کی جانب بڑھا گیا اور غزلان کے لبوں پر مسکراہٹ آئی۔


“تم واقع ایسے سادہ سے ہو”
عینب اسکے ساتھ چلتے ہوئے یوسف ہاؤس میں قدم رکھے پوچھنے لگی زہرون نے اسے دیکھا
“کوئی شک ہے تمہیں”
وہ اسے دیکھ کر پوچھنے لگا جس پر عینب نفی میں سر ہلا گئی
“میں اپنی سادگی سے ہی لوگوں کے دل جیت لیتا ہوں جیسے کہ تمہارا”
وہ شوخیہ لہجے میں اسے دیکھتے ہوئے کہنے لگا عینب اسے دیکھنے لگ گئی
“ویری فنی چلو “
وہ منہ بنائے بولتی ڈائننگ کی جانب جانے کا اشارہ کرنے لگی وہ مسکرا کر ڈائننگ کی طرف بڑھ گیا اور عینب کمرے کی طرف آگئی
“گھوم کر آ گئے آپ”
یوسف صاحب اسے دیکھ کر مسکراتے ہوئے پوچھنے لگے جس پر زہرون اثبات میں سر ہلا گیا
“رویش کہاں ہے”
زہرون کرسی کھسکا کر بیٹھتے ہوئے زرمیش کو دیکھ کر پوچھنے لگا
“کسی کام سے گئی تھی ابھی تک نہیں آئی فون بھی آف جارہا ہے”
زرمیش اسے بتانے لگی اچانک یوسف صاحب جو پریشانی لاحق ہو گئی
“اتنی دیر کبھی باہر رہی نہیں ہے”
وہ فکرمندی سے کہنے لگے راحت بیگم بھی پریشان ہو گئی
“ڈونٹ وری تھوڑی دیر تک آجائے گی “
تبھی عینب آتے ہوئے ان دونوں کو تسلی بخشتی بولی جس پر وہ دونوں اسے دیکھنے لگ گئے۔
“کوئی چھوٹی بچی نہیں ہے وہ”
وہ راحت بیگم کے ہاتھ پر ہاتھ رکھے پیار سے کہنے لگی جس پر راحت بیگم اثبات میں سر ہلا گئی۔


رویش نے آنکھوں پر جبنش کرتے بھاری سر کیساتھ اس نے پورے کمرے میں نظر گھمائی اور سب یاد کرنے لگی سر پر زور دینے کی وجہ سے اسے کچھ یاد نہیں آرہا بلکہ سر مزید درد کررہا تھا
تبھی دروازے پر دستک ہوئی اور کوئی اکیس سالہ لڑکی کمرے میں داخل ہوئی
“اسلام و علیکم میم”
وہ چہرے پر مسکراہٹ سجائے اسے دیکھتے ہوئے کہنے لگی رویش نے اسے دیکھا
“وعلیکم السلام میں کہاں ہوں”
وہ اسے دیکھتے ہوئے پریشانی سے پوچھنے لگی لڑکی بس مسکرا کر اسے دیکھ رہی تھی
“میم آج کچھ پیے گی کچھ کھائیں گے”
وہ لڑکی اسکی بات کو نظرانداز کرتی کھانے پینے کا پوچھنے لگی
“میں نے پوچھا ہے میں کہاں ہو”
وہ اس دفعہ تھوڑا غصے سے کہنے لگی تبھی کسی کے پیروں کی آواز سے اس لڑکی اور رویش کا دھیان اسطرف گیا
“گو”
وہ اس لڑکی کو حکم صادر کرتا سگریٹ لبوں سے لگائے رویش کی جانب دیکھنے لگ گیا اور وہ لڑکی ایک سکینڈ لگائے بغیر وہاں سے غائب ہوگی۔
“اوہ تو یہ تم نے کیا ہے”
رویش سرخ نگاہوں سے سامنے موجود شخص کو گھورتے ہوئے کہنے لگی جس پر وہ ہلکا سا مسکرایا۔


“پاگل انسان ہے اگر اتنی دیر پیدل چلنا تھا تو گاڑی اتنی دور کیوں روکی”
غزلان اور بہزاد مسلسل بیس منٹ سے چل رہے تھے غزلان تو بہت تھک چکی تھی اس لیے منہ بنائے کہنے لگی
“کچھ کہا”
وہ چلتے ہوئے اسے دیکھ کر پوچھنے لگا جس پر غزلان نفی میں سر ہلا گئی
“تھوڑا دیر کہیں بیٹھ جائیں تھک گئی ہوں میں”
وہ اسکے ساتھ چلتے ہوئے اسے دیکھ کر پوچھنے لگی بہزاد نے اسے دیکھا
“لگتا ہے مشن پر تمہارا دھیان نہیں ہے”
وہ اسے دیکھتے ہوئے تھوڑا سرد لہجے میں کہنے لگا غزلان منہ بنا گئی
“میرا پورا دھیان ہے من میں مگر اسکا مقابلہ کرنے کیلیے ہمت بھی چاہیے جو چلتے ہوئے ختم ہورہی ہے”
وہ منہ بنائے اسے دیکھتے ہوئے جواب دینے لگی اور بہت آہستہ آہستہ چلنے لگی
“ہمیں جلدی سے وہاں پہنچنا ہے”
یہ کہتے ساتھ اس نےکچھ کہے بغیر اسے گود میں اٹھا لیا اور غزلان اسے دیکھنے لگ گئی۔ غزلان کی نظریں کوئی پانچ منٹ تک اس پر مرکوز رہی۔
“کوئی اتنا پیارا کیسے ہوسکتا ہے”
وہ اسی پر نظریں جمائے دل سے کہنے لگی بہزاد نے ائبرو اچکا کر اسے دیکھا غزلان ہوش میں آئی۔
“پل پل تجھے دیکھنا ہر پل کی عادت بن گئیث ہے”🙈♥️
“اگر جلدی پہنچنا تھا تو گاڑی سے اتنی جلدی کیوں اترے”
وہ اسے دیکھتے ہوئے سنجیدہ لہجے میں پوچھنے لگی تبھی بہزاد اپنے بلیک بیسٹ والے روپ میں واپس آتے ہوئے جیب سے چاقو نکال کر گھما کر اپنی سیدھی جانب پھینک گیا جو شخص اسے شوٹ کرنے کیلیے تیار تھا وہ بےجان سا ہوگیا تھا
“ماننا پڑے گا تمہیں صحیح الفاظ لوگ استعمال کرتے ہیں”
غزلان اسے بڑی آنکھیں کیے دیکھتے ہوئے مسکرا کر کہنے لگی بہزاد خاموشی سے بس چلتا رہا تھا۔
یہ بات بھی اس کے متعلق مشہور تھی وہ دشمن کو معلوم بھی نہیں ہونے دیتا کہ اسے معلوم ہے دشمن کہاں چھپا ہوا ہے بہت سے دشمن اس سے دور رہتے ہیں لیکن کچھ کو پھر وہ اپنے انداز میں ختم کرتا ہے
“تم تھک تو نہیں جاؤ گے”
وہ اسکی گردن پر بازو ڈالے نظریں اسی پر جمائے اس سے پوچھنے لگی
“جب تھکو گا پھینک دوں گا “
وہ بھی اسی کو دیکھتے ہوئے کہنے لگا جس پر غزلان منہ بسور گئی اور بہزاد کے لبوں پر ایک ہلکی سی مسکراہٹ آئی جو وہ ایک سکینڈ پر عائب کرگیا۔
“اور کتنا راستہ ہے ویسے”
وہ کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد پوچھنے لگی بہزاد نے اسے پھر سے دیکھا
“جب تمہیں نیچے گراؤں گا سمجھ جانا پہنچ گئے”
وہ اسے جان کر کہنے لگا غزلان غصے سے گھورنے لگ گئی
“مجھے نیند آرہی ہے پھر سے “
وہ نظریں ادھر ادھر نظریں گھمائے اسے بولی بہزاد ایک سکینڈ کیلیے بھی نہیں رک رہا تھا
“سوجاؤ”
وہ چلتے ہوئے اسے کہنے لگا جس پر غزلان جو ادھر ادھر دیکھ رہی تھی اسے دیکھنے لگی
“آپ کو ڈر نہیں لگے گا”
وہ اسے دیکھتے ہوئے تھوڑا خوف زدہ لہجے میں کہنے لگے جس پر بہزاد نفی میں سر ہلا گیا
“ٹھیک ہے”
وہ کہتے ساتھ اپنا سر اسکے سینے سے ٹکا کر آنکھیں بند کر گئی بہزاد جے دل نے بیٹ مس کی اس کے قدم ایکدم رک گئے اپنی کیفیت سے وہ بھی انجان تھا
“کیا ہوا ہے”
اسکے ایک قدم قدم روکنے پر غزلان نے آنکھیں کھول کر اسے دیکھ کر پوچھنا لازمی سمجھا وہ نفی میں گردن ہلاتے خود کو نارمل کرکے چلنے لگ گیا۔


“رویش مر چکی ہوگی جس”
گیلانی یونیب سے فون بات کرتے ہوئے پوچھنے لگا جس پر یونیب کے لبوں پر مسکراہٹ آئی
“مر تو جانا چاہیے تمہیں”
دوسری جانب سے یونیب کی آواز آئی جس پر گیلانی مسکرایا
“میں یوسف کو برباد ہوتا دیکھنا چاہتا ہوں اور تم نے جو کیا اسکا انعام تمہیں جلدی ملے گا”
وہ زہریلی مسکراہٹ سجائے یونیب کو بولا دوسری جانب انعام سنتے ہی یونیب کے لبوں پر مسکراہٹ آئی۔
“یعنی میں کل آجاؤ انعام کیلیے”
یونیب گیلانی سے پوچھنے لگا جس پر وہ قہقہ لگا کر ہنسا اور اسے ہاں میں جواب دے کر فون رکھ دیا
“میں ایسے ہی شک کررہا تھا وہ یونیب ہے کبھی عشق مشوقی کے چکر میں نہ پڑنے والا “
گیلانی صوفے پر بیٹھتے ہوئے خود سے کہتے ساتھ سگریٹ کا گہرہ کش لگانے لگا


” دو بج چکے ہیں اور رویش کا کچھ اتا پتہ نہیں”
راحت بیگم ٹہلتے ہوئے فکرمندی سے کہنے لگی دوسری طرف یوسف صاحب بہت پریشان بیٹھے تھے زرمیش بھی رو رہی تھی۔
“اسکا فون مسلسل آف جارہا ہے مجھے جاکر دیکھنا ہوگا “
عینب ان دونوں کو دیکھتے ہوئے کہنے لگی یوسف صاحب اور راحت بیگم نے اسے دیکھا
“نہیں تم اکیلی نہیں جاؤ گی اتنی رات کو علاقہ ایسا ہے یہاں کچھ بھی ہوسکتا ہے”
یوسف صاحب فوراً فکرمندی سے کہنے لگے جس پر زہرون کھڑا ہوا
“میں ساتھ چلوں گا ہم دونوں ڈھونڈ کر آتے ہیں”
زہرون عینب کیساتھ کھڑے ہوتے ہوئے کہنے لگا جس پر وہ اثبات میں سر ہلا گئے
“خیال سے جانا تم لوگ”
راحت بیگم فکرمند لہجے میں بولی اور وہ دونوں راحت بیگم کو تسلی دیتے ڈھونڈنے لگ گئے۔
“مجھے ڈر لگ رہا ہے زہرون اگر رویش کو”
عینب باہر آتے ہوئے خوف سے کہنے لگی زہرون نے اسے فوراً ٹوکا
“ایسا نہ سوچا کچھ نہیں ہوگا”
وہ اسے حوصلہ دیتے ہوئے کہنے لگا عینب جو اتنی مضبوط اندر کھڑی تھی اسکی آنکھوں سے دو موتی ٹوٹ کر رخسار پر گر گئے جس پر زہرون اسے دیکھنے لگا
“تمہیں ہمت نہیں ہارنی عینب”
وہ اسکے چہرے پر ہاتھ رکھے پیار سے کہنے لگا جس پر عینب اثبات میں سر ہلا کر اسکے سینے سے لگ گئی۔
“تھینکیو”
وہ اسکے سینے سے لگی بولی زہرون ایک منٹ اسٹل ہوگیا اور پھر اسکے گرد حصار بنادیا اور چہرے پر مسکراہٹ آئی۔
جاری ہے