Black Love By Mahnoor Shehzaad Readelle50302 (Black Love) Episode 7
Rate this Novel
(Black Love) Episode 7
غزلان کا دھیان ادھر نہیں تھا اسکی نظر سب لوگوں پر موجود تھی تبھی اس شخص نے گولی چلائی بہزاد نے فوراً اسے کھینچ کر دیوار سے لگایا وہ پریشانی سے اسے دیکھنے لگ گئی۔
“آر یو میڈ “
وہ اسے دیوار سے لگائے اسکے بلکل قریب کھڑے کہنے لگا اسے اسکی جھلسا دینے والی سانسیں اپنے چہرے پر محسوس ہوئی تھی وہ تیز ہوتی ہارٹ بیٹ کیساتھ اس غزلان ناسمجھی سے اسے دیکھنے لگی
“مطلب”
وہ آئبرو اچکائے اس سے پوچھنے لگی بہزاد پھر سے قریب ہوا
” دھیان کہاں تھا اگر گولی لگ جاتی تو”
وہ اسے دیکھتے ہوئے غصے سے بولا غزلان کو اسکی بات اب سمجھ آئی
“تو کیا ہوتا”
وہ اسے دیکھتے ہوئے انجان بنتی پوچھنے لگی بہزاد نے اپنا چہرہ اسکے چہرے کے نزدیک کیا
“تمہاری جان چلی جاتی”
وہ اسکی سیاہ آنکھوں میں دیکھتے ہوئے جواب دینے لگا
“تو آپ کو میری جان سے کیا کہیں مجھے کھونے سے ڈرنے تو نہیں لگے”
وہ بھی اسی کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے چہرے پر مسکراہٹ سجائے پوچھنے لگی بہزاد کے چہرے پر سخت تاثرات صاف واضح ہوئے
“واٹ ربیش”
وہ سختی سے اسکے بازوؤں میں گرفت مزید سخت کرتے ہوئے کہنے لگا
“ربیش کیا اگر بچایا تو میں تو یہی سمجھوں گی”
وہ درد کو مسکرا کر سہتے ہوئے اسے جواب دینے لگی جس پر وہ مزید تپ گیا
“آئی ڈونٹ کئیر میری بلا سے تم جیو یا “
وہ اسے غصے سے سخت تیور لیے اسکے بلکل نزدیک ہوکر بولنے لگا اچانک نظر اسکی بیوٹی بون پر گئی اور نظریں ایکدم وہی رک سی گئی اور الفاظ وہی رہ گئے غزلان اس میں سے آتی خوشبو سے بےبس ہوتی آنکھیں بند کر گئی دونوں طرف ہارٹ بیٹ مس ہوئی تھی۔تبھی فائرنگ کی آواز سے ہوش میں آئے
“ہٹیں مجھے بچانا ہے”
وہ اسے سائیڈ پر کرتی اپنی گن نکال کر اس طرف بڑھی اور سائیڈ پر چھپے لوگوں کی جانب نشانہ بنا کر فائز اسٹارٹ کر گئی
سب لوگ وہاں سے بھاگ نکلے تھے یوسف صاحب بہزاد غزلان یونیب اور رویش وہاں موجود اقر فائرنگ مسلسل ہورہی تھی رویش دوسری طرف منہ کیے فائر کررہی تھی جب یونیب کی نظر اسکی بیک پر موجود چھپے شخص پر گئی وہ فوراً اسے بازو سے کھینچ کر سائیڈ پر لایا رویش اسے دیکھنے لگ گئی
“کیا ہے”
وہ گن اسکی طرف کیے ائبرو آچکا کر پوچھنے لگی یونیب کے چہرے پر مسکراہٹ آئی
“اسے پیچھے کرو ابھی جان سے جاتی “
وہ گن کو سائیڈ پر کرتے ہوئے کہنے لگا رویش اسے جانچتی نظروں سے دیکھنے لگ گئی
“تمہیں فڑق پڑتا ہے”
وہ اسے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگی اسکے سوال پر یونیب نے اسے دیکھا اس سے پہلے وہ کچھ بولتا تبھی یوسف صاحب نے ان دونوں کو وہاں سے جانے کا کہا جس پر یونیب رویش کا ہاتھ تھامتا باہر کی جانب بڑھ گیا
“سر سر آپ کہاں ہے”
غزلان یوسف صاحب کو موجود نہ پاکر اونچی آواز میں پوچھنے لگی مگر کوئی جواب نہیں آیا غزلان کے ہاتھ میں گن موجود تھی مگر وہ یوسف صاحب کی وجہ سے اس پاس دھیان نہیں دے رہی تھی اسکے پیچھے کوئی شخص ہاتھ میں گن لیے اسکی طرف نشانہ بنائے ٹریگر پر ہاتھ رکھا اس سے پہلے بہزاد نے چاقو اسکی کمر پر دے مارا وہ شخص درد سے کراہ کر زمین پر گر گیا اور وہ اپنی سیاہ آنکھوں سے سرخی لیے اسے گھور کر دیکھ رہا تھا تبھی غزلان مڑی نظر بہزاد پر گئی اور پھر اس لاش پر گئی
“مجھے لگتا ہے مرنے کا بہت شوق ہے”
وہ اسے سرد لہجے میں جیب میں ہاتھ ڈالے کہنے لگا غزلان کے لبوں پر مسکراہٹ آئی
“اور مجھے لگتا ہے آپ کو بچانے کا”
وہ اسے اسی کے انداز میں جواب دینے لگی وہ اسی پر نظریں مرکوز کیے ہوئے تھا غزلان اسے نظرانداز کرتی یوسف صاحب کو پھر سے ڈھونڈنے لگ گئی
“اوہ کدھر”
وہ اسے اندر جاتا دیکھتے ہوئے پوچھنے لگا جس پر غزلان نے مڑ کر اسے دیکھا
“سر کو دیکھنے”
وہ اسے بتانے لگی جس پر وہ آگے بڑھ کر اسکا ہاتھ مضبوطی سے تھام کر باہر کی طرف بڑھنے لگا
“سب لوگ جا چکے ہیں”
وہ تیز تیز قدم اٹھائے کہتے ساتھ باہر کی جانب بڑھ گیا اور وہ اسے دیکھنے لگ گئی وہ دونوں باہر آئے تو راحت بیگم نے غزلان کو سینے سے لگایا
“اب ہمیں نکلنا ہے”
بہزاد غزلان کو دیکھتے ہوئے یاد دلانے لگا جس پر غزلان اثبات میں سر ہلا گئی اور سب مل کر وہ بہزاد کیساتھ چل دی۔
“اب مجھے بھی جانا ہے”
یونیب رویش کو دیکھتے ہوئے پوچھنے لگا جس پر رویش نے اسے دیکھا
“تو جاؤ”
وہ اسے نارمل انداز میں کہتی آگے بڑھنے لگی جس پر اس نے اسکا ہاتھ پکڑ کر روکا وہ اسے گھور کر دیکھنے لگی
“جلد ملیں گے”
وہ اسے مسکراتے ہوئے دیکھ کر کہتے ساتھ اسکا ہاتھ چھوڑتا وہاں سے چلا گیا رویش اسے جاتا دیکھنے لگ گئی۔
“مجھے سوری بولنی چاہیے غلط کیا ہے”
عینب جب سے آئی تھی کمرے میں ٹہلتے ہوئے خود سے بولنے لگی اور کوٹ پہنتی وہ باہر کی طرف بڑھ گئی
“عینب بچے رات کے اس پہر جہاں”
فضل لالا اسے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگے جس پر عینب نے انہیں دیکھا
“فارم ہاؤس مجھے زہرون سے ایک کام ہے لالا”
وہ انہیں دیکھتے ہوئے بتاتے ساتھ گاڑی میں بیٹھتی چلی گئی اور وہ اسے جاتا دیکھنے لگ گئے
“کون”
دروازہ ناک ہونے پر زہرون روم سے اٹھ کر باہر آتے ہوئے پوچھنے لگا دوسری طرف سے کوئی جواب نہیں آیا تو زہرون نے دروازہ کھول دیا سامنے عینب کو اتنی رات کو موجود دیکھ کر تھوڑی حیرت ہوئی
“تم”
وہ اسے دیکھ کر ائبرو اچکا کر پوچھنے لگا جس پر وہ اسے دیکھنے لگ گئی
“مجھے سوری کرنی تھی میں اندر آجاؤ”
وہ اسے دیکھتے ہوئے خود ہی بولی جس پر زہرون نے اسے راستہ دیا وہ اندر آگئی زہرون پر اسے تھوڑا بہت یقین ہوگیا تھا
“دیکھو میں تمہیں تھپڑ مارنا نہیں چاہتی تھی پتہ نہیں کیسے اچانک لگ گیا مجھے دل سے اپنی غلطی کا احساس ہے اس لیے رات کے اس وقت تمہیں سوری کرنے آئی ہوں”
وہ اسے دیکھتے ہوئے دل سے شرمندہ ہوتی معافی مانگنے لگی زہرون اسے ہی دیکھ رہا تھا
“کوئی نہیں غلطی میری بھی ہے زبردستی ڈانس کرنے لگ گیا تھا تم سے اسکے لیے سوری”
وہ اسے دیکھے بغیر دروازہ بند کرتے ہوئے کہنے لگا جس پر وہ خاموش رہی۔
“کافی پیو گی”
وہ اسے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگا عینب نے اسے دیکھا اور اثبات میں سر ہلا گئی
اوہ وہ کچن کا رخ کرگیا عینب نے اسے دیکھا اور خاموشی سے بیٹھ گئی فارم ہاؤس دیکھنے میں بہت پیارا تھا
کچھ ہی دیر میں وہ کافی بنا کر اسکے سامنے پیش کر چکا تھا عینب نے ایک کپ اٹھا لیا
“دوستی کرو گے مجھ سے”
عینب کافی پیتے ہوئے اسے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگی زہرون نے فوراً اسکی دیکھا۔
“کیا”
زہرون کے اسطرح دیکھنے پر وہ آئبرو اچکا گئی جس پر اسکے چہرے پر مسکراہٹ آئی
“ہنسنے کی ضرورت نہیں ہے مجھے تھپڑ مارنے پر واقع شرمندہ ہوں اس لیے دوستی کا ہاتھ بڑھا رہی ہوں تھام لو”
وہ اسکی طرف ہاتھ بڑھاتے ہوئے مسکرا کر بولی زہرون نے اسکا ہاتھ تھام لیا اور اپنی طرف کھینچ لیا
“چیلنج جیت گیا میں”
وہ اسکی سرمئی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے مسکرا کر کہنے لگا عینب کی ہارٹ بیٹ مس ہوئی وہ فوراً سے ہوش میں آئی
“ہاں پتہ ہے”
وہ اس سے ہاتھ چھڑواتی کافی پیتے ہوئے کہنے لگی جس پر زہرون کے لبوں پر دلفریب مسکراہٹ آئی اور وہ بھی کافی کا کپ لبوں سے لگا گیا۔
“چلیں”
غزلان جیکٹ پہنتے ہوئے نیچے اترتی اسے دیکھ کر بولی بہزاد کی نظریں بھی اسی پر مرکوز تھی دونوں نے بلیک جیکٹ پہنی ہوئی تھی
“ریاض”
وہ اسے نظرانداز کرتے ہوئے ریاض کو اشارہ کرتا باہر کی طرف بڑھ گیا وہ بھی پیچھے آئی
ریاض نے ان دونوں کا سمان رکھا اور وہاں سے چلا گیا وہ گاڑی میں آکر بیٹھی بہزاد کی نظر اس پر گئی
“سنبھل کر رہنا راستے میں بہت کچھ ہوگا”
وہ اسے دیکھتے ہوئے تنبیہ کرتے ہوئے بولا غزلان نے اسے دیکھا
“کیا مطلب”
وہ ناسمجھی سے اسے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگی اور بہزاد اس کم عقل لڑکی کو دیکھ رہا تھا
“اوہ سمجھ گئی یو میں دشمن وار کرسکتے ہیں”
وہ ازکی بات دیر سے ہی سہی مگر سمجھتے ہوئے فوراً مسکرا کر کہنے لگی اور وہ گاڑی اسٹارٹ کر گیا
“ہم کتنے دیر میں ویسے پہنچے گے”
غزلان اسے دیکھتے ہوئے دو منٹ کے خاموشی کے بعد سوال پوچھنے لگی بہزاد نے اسے دیکھا
“مجھے زیادہ بولنے والے لوگ نہیں ہے “
وہ اسے دیکھتے ہوئے لہجے میں سرد پن لیے کہنے لگا غزلان اسکے غصے میں انے کی وجہ سے بغیرکوئی جواب دیے ادھر ادھر دیکھنے لگ گئی۔
“مجھے بھوک لگی ہے”
کچھ دیر ہی ہوئی تھی غزلان نے اسے دیکھتے ہوئے کہا جب اس نے پیچھے ہاتھ بڑھا کر ایک شاپر بیگ اسکے ہاتھ میں دے دیا مگر بولا کچھ نہیں غزلان نے بھی خاموشی سے شاپر بیگ پکڑ گئی۔
تبھی اچانک بہزاد کی نظر پیچھے موجود گاڑی پر گئی جو ناجانے کب سے اسکا پیچھا کررہی تھی اس نے مڑ کر دیکھا مگر اندھیرے ہونے کی وجہ سے کچھ نظر نہیں آیا
تبھی فائرنگ شروع ہو گئی بہزاد نے اپنی گن نکالی اور غزلان پریشان مڑ کر دیکھنے لگی
“تم سٹریمنگ سنبھالو میں اسے دیکھتا ہوں”
وہ غزلان کو دیکھتے ہوئے کہنے لگا غزلان اسے دیکھنے لگی بہزاد نے گن لوڈ کرکے شیشے سے باہر ہوکر فائر کیا
“شکل کیا دیکھ رہی”
وہ غصے سے اسے اب کی بار کہنے لگا غزلان ہڑبڑا کر سٹیرنگ سنبھالنے لگی
“آر یو میڈ یہ پہاڑی علاؤہ ہے ایسے ہم گر جائیں گے”
وہ سٹیرنگ سنبھالتے ہوئے اسے انہیں سخت تیور لیے کہنے لگا اسکے اسطرح غصے پر کہنے پر غزلان کو شدید غصہ آیا وہ اپنی سیٹ سے اٹھی اور اسکی گود میں آ کر سٹیرنگ سنبھالنے لگی تبھی بہزاد جو کھڑکی سے باہر فائرنگ کررہا تھا اچانک اسے دیکھا
“ایسے کیا دیکھ رہے ہو خود ہی تو بولا”
وہ اسے اسطرح دیکھتے ہوئے منہ بنائے کہتے ساتھ ڈرائیونگ پر مصروف رہی
بہزاد نے چھ سات فائر اکٹھے اسکی گاڑی میں کردے جس سے شاید گاڑی پنچڑ ہوگئی اور وہی رک گئی
“ہٹو اب”
بہزاد گن سامنے رکھتے ہوئے اسے بولا غزلان نے مڑ کر اسے دیکھا ان دونوں کے بیچ ایک انچ کا فاصلہ بھی نہیں تھا غزلان کے دل نے بیٹ کی اور اسکے بالوں میں سے آتی خوشبو بہزاد کو مدھوش کررہی تھی دونوں کی سانسیں ایک دوسرے سے الجھ رہی تھی غزلان کو ایسا لگا اسکا دل ابھی باہر آجائے گا سیاہ نظریں سیاہ نظروں پر جمی ہوئی تھی اس سے گاڑی کہیں ان بیلنس ہوکر گرتی بہزاد نے گاڑی کو بریک لگائی جھٹکا آنے کی وجہ سے غزلان اس پر گر گئی۔
“نظریں جب آپس میں ٹکراتی ہیں پھر دنیا مدھوش سی لگتی ہے”🙈♥️
“کیوں بچایا تم نے اسے”
گیلانی چلاتے ہوئے یونیب سے کہنے لگا یونیب نے اسے دیکھا
“کیونکہ سر مجھے نہیں پتہ تھا کہ وہ سب آپ نے کروایا ہے اگر ایسا ہوتا تو میں کبھی نہ بچاتا”
وہ اسے دیکھتے ہوئے جواب دینے لگا گیلانی نے غصے سے اسے دیکھا
“اب تم اسے قتل کرو گے میں یوسف کو برباد ہوتے دیکھنا چاہتا ہوں”
وہ چیخ کر کہنے لگا جس پر یونیب اثبات میں سر ہلا گئی
“صحیح وقت پر آپ کو اس لڑکی لاش یہاں موجود ملے گی”
یونیب نے بھی تھوڑا سرد لہجے میں بولا جس پر گیلانی کے لبوں پر مسکراہٹ آئی
“یہی بات کی امید تھی تم سے تم جاسکتے ہو”
وہ اسے مسکراتے ہوئے سگریٹ کے گہرے کش لگانے میں مصروف ہوگیا
وہ کہتی ناجانے کب سے کروٹیں بدل رہی تھی عجیب الجھی ہوئی تھی
“مجھے کیوں برا نہیں لگا جب اس نے آئی لو یو کہا مجھے تو بلکہ اچھا لگا کہیں مجھے یونیب نہیں تم یہ سب سوچ بھی کیسے ہوسکتی ہو مجھے ان میں نہیں پڑنا”
رویش فوراً سے اپنی سوچ جھٹکتے ہوئے بولی تبھی اسکا فون بجا
“گڈ نائٹ”
یونیب کا میسیج دیکھ کر لبوں پر مسکراہٹ خودبخود نمودار ہو گئی اور وہ آنکھیں بند کر گئی۔
وہ کرسی پر اپنی پشت ٹکائیں آنکھیں موندے لیٹس ہوا تھا اسکی آنکھوں کے سامنے رویش کا گھبرایا چہرہ آیا
“I need her”
وہ آنکھیں کھولے گھمبیر لہجے میں کہنے لگا لبوں پر مسکراہٹ نمودار ہوئی۔
“سر گیلانی کا کیا کرنا ہے”
اسکے آدمی نے آکر اس سے پوچھا سامنے موجود شخص کے ماتھے پر بل نمودار ہوئے
“گیٹ آؤٹ”
وہ غصے سے دھاڑا جس پر وہ آدمی گھبرا گیا اور خوف سے باہر چلا گیا
“بہت جلد تمہیں اپنا بناؤ گا”
کہتے ساتھ اسکی تصویر دیکھنے لگا جو گیلانی کی پارٹی پر اس نے بنائی تھی۔
بہت کم لوگ اس شخص کو جانتے تھے اس کے کچھ دشمن یا پھر اسکے اپنے ساتھ اسے جانتے تھے اس لیے اس نے اپنا نام”invisible man” رکھا تھا
جاری ہے۔
