280.4K
41

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Black Love) Episode 6

شام کے پہر وہ سارے کام یعنی کچھ لوگوں کو انکے انجام تک پہنچا چکا تھا گھر میں داخل ہوا تھا اور آتے ساتھ وہ کاؤچ پر بیٹھا تھا

“بلیک کافی”

وہ ریاض کو حکم دیتے ساتھ وہاں سے اٹھتا اوپر کمرے کی طرف بڑھ گیا تھا ریاض کچن کا رخ کرگیا

“کچھ چاہیے تھا آپ کو”

ریاض غزلان کو کچن میں موجود دیکھتے ہوئے اسے پوچھنے لگا اسکے پوچھنے پر غزلان نے اسے دیکھا

“بلیک کافی پینی تھی لیکن سمان نہیں مل رہا”

غزلان سپاٹ سے لہجے میں ریاض کو بتانے لگی ریاض نے بلیک کافی کا سمان نکسال کر اسکے سامنے رکھا

“میں بنادیتا ہوں میں سر کی بھی بنارہا ہوں”

ریاض غزلان کو دیکھتے ہوئے مسکرا کر کہنے لگا غزلان نے گردن موڑ کر اسے پھر سے دیکھا

“میں بنارہی ہوں نا تمہارے سر کی بھی بنادیتی ہوں دے دینا”

وہ اسے دیکھتے ہوئے تھوڑے غصے سے بولی جس پر ریاض خاموش ہوگیا

“نکاح بھی کچھ اپنی جیسی کیساتھ ہی کیا ہے”

ریاض چہرے پر مسکراہٹ سجائے دل میں کہنے لگا اور غزلان بلیک کافی بنانے میں مصروف ہوگئی۔

“تم جاؤ میں دے بھی دوں گی انہیں”

غزلان اسے کھڑا دیکھ کر حکم دینے والے انداز میں کہتی کافی ڈش میں کپ رکھنے لگی ریاض کچھ کیے بغیر چلا گیا اور غزلان بہزاد کے کمرے کی جانب بڑھ گئی۔

وہ اسکے کمرے کے باہر موجود تھی غزلان نے دروازہ ناک کیا ہارٹ بیٹ بہت تیز تھی

“آجاؤ”

وہ کرسی سے پشت ٹکا کر آنکھیں موندے بولا جس پر وہ دروازہ کھولتی اندر داخل ہوئی اس نے نظریں کمرے میں گھمائی پورا کمرا انتہائی بکھری حالت میں پڑا تھا

وہ قدم اٹھائے اسکی طرف بڑھ رہی تھی وہ اسکے قریب آکر کھڑی ہوئی بولنے ہی لگی تھی

“رکھ دو “

اس کے بولنے سے پہلے وہ اسے کہنے لگا غزلان کو تھوڑی حیرت سی ہوئی اور اسے حیرت سے دیکھتی ٹیبل پر مگ رکھ چکی تھی کسی لڑکی کا ہاتھ پاکر اسکے ماتھے پر بل نمودار ہوئے بہزاد نے سیاہ نظروں کو پیچھے کی جانب موڑا سامنے اسے موجود پاکر آنکھیں سرد ہوئی۔ غزلان اسے دیکھنے لگی

“ریاض کہاں ہے”

وہ اسے دیکھتے ہوئے سخت لہجے میں پوچھنے لگا غزلان بغیر ڈرے اسے دیکھتے ہوئے اسے دیکھ رہی تھی

“نیچے”

وہ کافی کا مگ لبوں سے لگا کر اسے دیکھتے ہوئے بتانے لگی بہزاد نے اپنی مٹھیاں بھینچی

“تم یہاں کیوں آئی”

وہ اپنا غصہ ضبط کرنے کی کوشش کرتے ہوئے سرد مگر دھیمہ لہجہ اختیار کیے پوچھنے لگا

“کافی دینے میں اپنے لیے بنا رہی تھی تو مجھے ریاض نے آکر بتایا آپ کو بھی ضرورت ہے تو میں نے آپ کی بھی بنادی اور خود دینے چلی آئی”

غزلان بغیر پرسکون سے انداز میں اسے دیکھتے ہوئے بتانے لگی اسکی بات پر بہزاد کا میٹر گھوما

“اپنے کام سے کام رکھو مجھ سے دور رہو میں لاسٹ ٹائم کہ رہا ہوں “

وہ ایک ایک لفظ چبا چبا کر اور انتہا کے غصے سے کہنے لگا غزلان اسکی سیاہ آنکھوں میں دیکھ رہی تھی

“کمرا ٹھیک کردو آپ کا”

وہ اسکے کمرے کا حال دیکھ اسکی بات کو نظرانداز کرتے ہوئے کافی کا مگ اسکے مگ کیساتھ رکھ کر بولی بہزاد اسے بہت ہی غصے سے دیکھ رہا تھا اور غزلان اسکے بیڈ سے چیزیں اٹھانے لگی

بہزاد غصے سے اسکی جانب بڑھا اور اسکے بازو کو اپنی ہاتھ کی سخت گرفت میں دبوچ کر اسکا رخ اپنی طرف کیا غزلان اچانک حملے پر ہڑبڑا گئی

“سمجھ نہیں آئی میری بات دور رہو”

وہ غصے سے اسکے بازوؤں کو دبوچ کر اپنے قریب کیے سرد نگاہیں اس کے چہرے پر مرکوز کیے کہنے لگا غزلان درد سے آنکھیں بند کر گئی اس میں آتے آتی خوشبو غزلان کو بےبس بنا رہی تھی

“مجھے درد ہورہا ہے”

وہ آنکھیں بند کیے تھوڑا ڈرے ہوئے لہجے میں اسے کہنے لگی بہزاد اسکے چہرے کے نقوش کو بہت غور سے دیکھ رہا تھا اسکی بات سے وہ جو مدھوش ہورہا تھا ایکدم ہوش میں آیا

“میں صرف درد دینے کیلیے ہوں بہتر یہی ہے دور رہو مجھ سے”

وہ اسے جھٹکے سے خود سے دور کرتے ہوئے کہنے لگا غزلان اسے دیکھنے لگ گئی

“اور میں درد سہ جانے والوں میں سے ہوں”

وہ چہرے پر مسکراہٹ سجائے اسے دیکھ کر دوٹوک انداز میں جواب دینے لگی غزلان اسوقت خود بھی بہت الجھی ہوئی تھی وہ ایسا کیوں کررہی ہے مگر اسکا دل اسے یہ سب کرنے پر مجبور کررہا تھا

“Leave me alone”

وہ اسکے جواب پر دھاڑا تھا غزلان ایک پل کیلیے سہم سی گئی تھی اور اس بار اس نے وہاں سے جانے میں ہی اپنی بہتری سمجھی تھی۔

******

یوسف کے حکم کے مطابق وہ سفدر کے گھر میں بلاسٹ کر چکی تھی وہ بلاسٹ کرتی اپنا چہرہ ڈھک کر گاڑی کی طرف تیز تیز قدم بڑھانے لگی رویش کو ایسا محسوس ہوا کوئی شخص اسکا پیچھا کررہا تھا رویش نے مڑ کر غصے سے اسے دیکھا مگر وہاں کوئی نہیں تھا اپنا وہم سمجھ کر وہ واپس سے مڑ کر چلنے لگی تبھی پیچھے موجود شخص نے چاقو نکالا شاید سفدر کا کوئی بندہ تھا اور اسکی کمر پر مارنا چاہا لیکن اس سے پہلے کوئی اس شخص کو شوٹ کر چکا تھا گن میں سیلنسر ہونے کی وجہ سے آواز نہیں آئی تھی وہ شخص کراہ کر زمین پر گر گیا رویش کو اپنے پیچھے عجیب ہلچل سی محسوس ہوئی اس نے ایک بار پھر مڑ کر دیکھا سامنے کھڑے شخص کو دیکھ حیرت ہوئی

“آپ یہاں معلوم کیسے ہوتا ہے میرے متعلق”

رویش اسے حیرت بھرے لہجے میں دیکھ کر بولی اس نے اسکی طرف قدم بڑھائے

” نہیں ایک کام سے آیا تھا آپ کو دیکھا تو آپ کے پاس آ گیا بائے دا وے آپ یہاں “

وہ اسکے پاس آتے ہوئے پوچھنے لگا چہرہ آج بھی اس نے ڈھکا ہوا تھا

“مجھے کچھ کام تھا”

رویش سنجیدگی سے اسے دیکھ کر بتاتے ساتھ آگے کی جانب قدم بڑھانے لگی وہ بھی اسکے قدم سے قدم ملا کر چلنے لگا

“مجھے بھی ایک بہت ضروری کام تھا”

وہ بھاری گھمبیر آواز میں اسے دیکھتے ہوئے کہنے لگا جس پر رویش نے اسے دیکھا

“اچھا مجھے گھر جانا ہے پھر ہوگی ملاقات”

وہ اسے دیکھ کر کہتے ساتھ زیادہ بات کیے بغیر گاڑی میں بیٹھ کر گاڑی سڑک پر دوہرا گئی اور وہ اسے جاتا دیکھنے لگ گیا اور نظریں اس لاش پر گئی جسے جلدی میں سائیڈ پر کر گیا

“جو بھی اسے ہلکی سی خروش پہنچانے کا سوچے گا اسکی جان نکال لوں گا”

وہ سخت لہجے میں سرد نگاہیں اس لاش پر گاڑھے بولتے ساتھ اسے سائیڈ پر کرکے اٹھ کھڑا ہوا۔

*******

“اب طبیعت کیسی ہے”

عینب زہرون کو آج پھر گھمانے کیلیے لائی ہوئی تھی اسکی طبیعت کل سے بہت بہتر تھی زہرون نے پوچھنا لازمی سمجھا۔

“تمہارے سامنے ٹھیک کھڑی ہو تو اسکا مطلب میں ٹھیک ہوں”

وہ اسے سرد لہجے میں جواب دیتے ساتھ قدم آگے کی جانب بڑھا گئی زہرون اسے دیکھنے لگ گیا

“تم مجھ سے ہر وقت یوں ہی بات کرو گی غصہ کیے بغیر بھی تو بات ہوسکتی ہے”

وہ اسکے قریب آتے ہوئے اسکی تصویر کھینچ کر پوچھنے لگا عینب نے اسے دیکھا

“دس پندرہ دن کیلیے آئے ہو مجھ سے کوئی توقع مت رکھنا مسٹر اور پکچر ڈیلیٹ کرو”

وہ اسے بیزاری سے جواب دیتے ساتھ اسکردو کی مشہور جگہ کھپلو ویلی کو دیکھنے میں مصروف ہو گئی جو بہت ہی خوبصورت تھی

“نہیں تین مہینے کیلیے اور چیلنج کرتا ہوں تم مجھ سے دوستی کرلو گی اور تمہیں یہ بتاؤ گا ہر مرد ایک جیسا نہیں ہوتا”

وہ اس جگہ کی تصویریں اپنے کیمرے میں محفوظ کرتے ہوئے اسے کہنے لگا عینب نے مڑ کر اسے دیکھا

“ڈن تم بھی یہی اور میں بھی یہی دیکھتے ہیں”

وہ اسے دیکھ کر اسی کے انداز میں بولی زہرون نے مسکرا کر اسے دیکھا

“ڈن ویسے مردوں سے نفرت اتنی ہے کیوں”

وہ اسے دیکھتے ہوئے کہنے لگا عینب نے اسے مڑ کر دیکھا اچانک ذہن کئی سال پیچھے گیا وہ جو اتنی مضبوط کھڑی تھی آنکھوں میں ایکدم نمی آ گئی جو زہرون نے بخوبی نوٹ کی تھی

“بس ہے وجہ”

وہ اپنی سوچ جھٹک نارمل لہجے میں کہتے ساتھ نظریں جھکا گئی

“اوکے گیس کرتا ہوں میں”

وہ اسکے ساتھ چلتے ہوئے سوچتے ہوئے کہنے لگا عینب اسے دیکھنے لگ گئی

“اوہ ہوسکتا ہے تم کسی لڑکے کو پسند کرتی ہو اس نے چیٹ کیا ہو اس لیے”

وہ اسے دیکھتے کچھ سوچ کر بولا عینب کے چہرے پر طنزیہ مسکراہٹ آئی

“اتنے بےوقوف نہیں ہو تم مسٹر”

وہ طنزیہ مسکراہٹ سجائے طنزیہ لہجے میں کہنے لگی جس پر زہرون نے اسے دیکھا

“تمہارا ماضی تھا بھول کر آگے بڑھو”

وہ اسکی بات کا مطلب سمجھتے ہوئے اسے سمجھانے لگا عینب اسے دیکھنے لگ گئی

“بہت آگے بڑھ چکی ہوں تمہاری سوچ سے بھی”

وہ اسے دوٹوک انداز میں جواب دینے لگی جس پر وہ بس مسکراتے ہوئے اسے دیکھنے لگ گیا

“شاید تمہارے اس انداز پر دل ہار بیٹھوں میں”

زہرون کو اسے شب کرنے میں بہت مزا آرہا تھا اس لیے چھیچھوڑے انداز میں کہنے لگا

“اگر دل ہارو گے نا تو جان سے جاؤ گے”

وہ اسے غصے سے جواب دیتے ساتھ اپنی گن دیکھتی آگے بڑھ گئی اور زہرون پیچھے کھڑا مسکرایا۔

*******

“کہاں ہے وہ”

اسکے حکم پر وہ اسکے کمرے میں موجود تھا بہزاد ہمنہ سگریٹ لیے گہرے گہرے کش لگائے پوچھنے لگا

“صاحب آپ کے کمرے کے بعد اپنے کمرے سے نہیں نکلی ابھی تک”

ریاض اسے گھبراتے ہوئے بتانے لگا بہزاد نے اثبات میں سر ہلا دیا

“بلا کر لاؤ”

وہ اسے ایک اور حکم دیتے سگریٹ ختم کرکے اٹھ کر بیلکونی کے پاس آ کھڑا ہوا اور ریاض اثبات میں سر ہلا کر کمرے سے چلا گیا

“آپ نے بلایا”

وہ کمرے کے باہر کھڑی اسکی پیٹ کو تکتے ہوئے پکارنے لگی جس پر بہزاد نے ہاں میں گردن ہلائی اور بیلکونی میں آنے کا اشارہ کیا

“کل تمہارے سر نے ایک پارٹی رکھی ہے وہ اٹینڈ کرتے ہی رات کے وقت ہم نے مری کیلیے نکلنا ہے بہت احتیاط سے ہمیں اس کام کو سر انجام دینا ہوگا”

وہ نظریں سامنے مرکوز کیے جیب میں ہاتھ ڈالے کہنے لگا غزلان کی نظریں اس پر ہی مرکوز تھی

“شکایت نہیں ملی گی”

وہ اس پر نظریں مرکوز کیے فوراً بولی جس پر بہزاد نے اسے دیکھا غزلان بھی اسے دیکھ رہی تھی

“نہیں غزلان مت بھولو وہ درید کا بیٹا ہے”

وہ نظریں اس کے چہرے سے ہٹاتی فوراً سے دل میں بولی بہزاد کی نظریں اسکے حسین چہرے پر مرکوز تھی

“کچھ کہنا ہے”

وہ اسکی آنکھیں پڑھتے ہوئے سنجیدہ لہجے میں پوچھنے لگا جس پر غزلان نے اسے دیکھا

“درید آپ کا باپ “

وہ اسے دیکھ کر دل میں آئی بات اس سے پوچھنے ہی لگی تھی جب بہزاد نے اسکے ہونٹوں پر انگلی رکھ کر خاموش کروادیا سیاہ آنکھیں ایکدم سرخ ہوگئی غزلان آنکھیں بڑی کیے دیکھ رہی تھی دل نے ایک بیٹ مس کی۔

“آج کے بعد اس متعلق کچھ مت بولنا اور باپ کہنے کی غلطی اگلی بار نہ ہو سمجھی”

بہزاد نے اسکے قریب ہوئے اسکے چہرے پر اپنی سرخ سیاہ نظریں جمائے غصے سے غرایا غزلان کی آنکھوں میں ایک پل کیلیے خوف آیا اسکی آنکھوں میں جو وحشت تھی کوئی بھی انسان خوف میں مبتلا ہو جاتا۔

“گو”

وہ اسکے ہونٹوں سے انگلی ہٹا کر واپس چہرہ سامنے کیے کہنے لگا غزلان وہاں سے چلی گئی۔

*******

آج یوسف صاحب نے ایک پارٹی سفدر کو اسکے انجام تک پہنچانے کی خوشی میں ارینج کروائی تھی کچھ قریبی دوستوں اور گھر کے سب لوگ اور گیلانی کو انوائیٹ کیا تھا۔

آہستہ آہستہ سب مہمان آنے لگ گئے مارکی کو بہت ہی خوبصورتی سے سجایا گیا تھا اور عینب رویش زرمیش نے مختلف رنگ کے حسین فراک زیب تن کیے ہوئے تھے تینوں ہی ڈول لگ رہی تھی زہرون گرے پینٹ کورٹ میں ملبوس بالوں کو اچھے سے سیٹ کیے بہت ہی زیادہ ڈیشنگ لگ رہا تھا۔

بہزاد بلیک پینٹ اور بلیک شرٹ میں ملبوس بالوں کو اچھے سے سیٹ کیے بھاری بئیرڈ میں ہاتھوں میں برینڈڈ گھڑی پہنے وہ اسوقت کمال کا لگ رہا تھا سیاہ جیسے بنا ہی اس خوبصورت شخص کیلیے تھا وہ ٹی وی لاؤنچ میں موجود تھا

تبھی غزلان سفید رنگ کے پیروں تک آتے بہت ہی خوبصورت فراک زیب تن کیے بالوں کو کھولے لائٹ سے میک ایپ پر پیروں پر ہیلز چڑھائے غضب لگ رہی تھی

“سر میم آ گئی”

ریاض کے بتانے پر اسکی نظریں غزلان کی طرف اٹھی وہ واقع میں سنڈریلا کی طرح لگ رہی تھی وہ اسے سر تا پیر دیکھنے لگا غزلان بھی اسے اسطرح تیار دیکھ کر اسٹل ہو گئی تھی دونوں کی نظریں ایکدوسرے پر تھی

“اففف کتنا ہینڈسم لگ رہا ہے نا”

وہ اسے دیکھتے ہوئے چہرے پر مسکراہٹ سجائے دل میں کہنے لگی بہزاد کی نظریں بھی اسی پر مرکوز تھی

“بہت حسین”

بہزاد کے دل نے بھی اسے دیکھ کر یہی الفاظ کہے تھے وہ چل کر اسکے مقابل میں آ کھڑی ہوئی تھی اور دونوں کی نظریں ایک دوسرے پر ہی جمی ہوئی تھی ریاض دونوں کو دیکھ رہا تھا۔

“سر چلیں”

ریاض کی آواز سے بہزاد ایکدم ہوش کی دنیا میں سجا اور چہرے پر فوراً سنجیدہ تاثرات سجائے اثبات میں سر ہلا گیا اور غزلان اسکے پیچھے چلنے لگی۔

وہ دونوں مارکی پہنچ چکے بہزاد نے مضبوط گرفت اسکے ہاتھ ڈال کر اسکا ہاتھ تھاما کوئی بھی لڑکی ہوتی اسے درد شدید ہوتا درد محسوس تو غزلان کو بھی ہوا تھا مگر اسکا اسطرح ہاتھ تھامنا اسے بہت پسند آیا تھا وہ درد کو بھلائے مسکرا کر اسے دیکھنے لگی وہ دونوں مارکی میں داخل ہوئے وہاں موجود ہر شخص کی نظر ان دونوں پر ٹک گئی وہ دونوں ساتھ جچ ہی اس قدر رہے تھے جیسے بنے ہی ایکدوسرے کیلیے تھے یوسف صاحب اور راحت بیگم کی بھی ایک پل کیلیے نظر ان پر ٹھہر سی گئی تھی وہ دونوں چلتے ہوئے یوسف صاحب کے پاس آئے غزلان یوسف صاحب اور راحت بیگم سے ملی زرمیش بھاگ کر اسکے پاس آئی اور سینے سے لگی

“سنڈریلا”

وہ اسکے گلے سے لگی اسکے کان میں سرگوشی کرتے ہوئے کہنے لگی غزلان کے لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آئی تھی اسکے بعد وہ سب سے ملی تھی عینب نے بس اسے دیکھا تھا

مارکی کی ساری لائٹس آف ہوچکی تھی لائٹ کا جو فوکس تھا وہ کچھ کپلز پر تھا جو ڈانس کررہے تھے۔

“نیو کپل ہے ڈانس تو بنتا ہے”

زہرون ان دونوں کو دیکھ کر کہنے لگا بہزاد نے سرد نگاہوں سے اسے دیکھا غزلان کے چہرے پر ایک بار پھر مسکراہٹ رینگی۔

“ہاں بلکل ٹھیک کہ رہے ہے نا مائی پرنس”

وہ زہرون کی بات پر مسکراہٹ سجائے اسے دیکھ کر بغیر ڈرے بولی جس پر بہزاد سخت تیور لیے اسے دیکھنے لگا

“سو لیٹس گو”

زہرون ان دونوں کو دیکھ کر بولا جس پر غزلان اسے دیکھنے لگ گئی بہزاد اسکا ہاتھ تھامے تیز تیز قدم اٹھائے اسے بیچ میں لے آیا

“بہت شوق ہے نا کپل ڈانس کرنے کا”

وہ اسے سرد لہجے میں سیاہ سرخ نگاہیں اسکے چہرے پر گاڑھے اپنے قریب کیے بولا اسکی گرم سانسوں کی تپش غزلان کو بے بس بنا رہی تھی وہ ایک پل سہمی بہزاد نے اسے تیز گھمایا اسے لگایا تھا وہ گرجائے گی مگر شاید وہ بھول چکا تھا وہ غزلان قریشی تھی کوئی عام لڑکی نہیں تھی۔

“بہت زیادہ”

بہزاد نے جب گھما کر اسکے چہرے کا رخ اپنی طرف کیا وہ اسے اسی کے انداز میں بولی بہزاد ایک پل کیلیے اسے دیکھتا رہ گیا

“آپ کو کچھ بدلی ہوئی لگی ہے غزلان”

یوسف صاحب راحت بیگم جو دیکھتے ہوئے پوچھنے لگے جس پر وہ اثبات میں سر ہلا گئی

“میں بھی یہی چاہتی تھی اس بچے کی زندگی میں خوشیاں آجائیں”

وہ مسکراتے ہوئے کہنے لگی یوسف صاحب بھی مسکرادیے۔

“ڈیڈ نے گیلانی کو انوائیٹ کیا تھا”

رویش جو بار بار نظریں اینٹر والی جگہ پر کیے زرمیش سے پوچھنے لگی جس پر زرمیش نے اسے دیکھا

“کیا تو تھا پر آپ کو کس کا انتظار ہے”

زرمیش اسکی نظروں کا تعاقب کرتے ہوئے پوچھنے لگی جس پر رویش نے اسے دیکھا

“میں کس کا کروں گی انتظار”

وہ اسے دیکھتے ہوئے کندھے آچکا کر کہتے ساتھ نظریں دوسری طرف کر گئی

“اوہو حسن تو سامنے سامنے کھڑا ہے”

تبھی یونیب آتے ہوئے رویش پر نظریں جمائے کہنے لگا اسکی آواز پر اس نے فوراً مڑ کر اسے دیکھا

“کہاں رہ گئے تھے تم”

وہ غصے سے اسے دیکھتے ہوئے کہنے لگی یونیب کے چہرے پر مسکراہٹ آئی

“کیوں انتظار کررہی تھی تم میرا”

وہ اسکے قریب ہوکر اسکے حسین چہرے پر نظریں جمائے پوچھنے لگا جس پر رویش نے آنکھیں بڑی کیے اسے پیچھے کیا

“اتنے برے دن نہیں آئے میرے”

وہ اسے کہتے ساتھ وہاں سے اپنا فراک سنبھالتی چلی گئی اور یونیب کے چہرے پر مسکراہٹ آئی اور اسکے پیچھے آنے لگا۔

“ڈانس کرنا چاہو گی میرے ساتھ”

زہرون اسکے پاس آتے ہوئے اسے دیکھ کر ہاتھ آگے کیے پوچھنے لگا عینب نے ایک نظر اسے دیکھا اور پھر کچھ کہے بغیر وہاں سے جانے لگی

“خاموشی کا مطلب ویسے ہاں ہوتا ہے”

زہرون کہتے ساتھ اسکا ہاتھ تھام کر اسے گھما کر اسکی کمر میں ہاتھ ڈال کر قریب کر گیا عینب اسے غصے سے دیکھنے لگی

“چھوڑو مجھے”

وہ اسے غصے سے بولتی اسکی قید سے نکلنےکی کوشش کرنے لگی مگر وہ ڈھٹائی سے اس کیساتھ ڈانس کرنے لگ گیا عینب کا غصہ ساتویں آسمان کو پہنچ گیا اس نے بغیر سوچے سمجھے اسکے منہ پر تھپڑ دے مارا زہرون سمیت سب شاک کی کیفیت میں مبتلا تھا ایک دم مارکیٹ میں خاموشی سی چھا گئی تھی عینب بھی اچانک گھبرا گئی زہرون کی آنکھیں سرخ ہو گئی وہ اسے دیکھ رہا تھا

“عینب”

یوسف صاحب کی روعبدار آواز سے عینب اس سے نظریں ہٹاتی انہیں دیکھنے لگی

“ڈیڈ میں ایسا کرنا نہیں چاہتی تھی سچ میں سوری”

عینب فوراً سے گھبراتے ہوئے اپنی غلطی کا احساس کرتے ہی بولی یوسف صاحب اسے دیکھنے لگ گئے

“تم ٹھیک ہو زہرون”

یوسف صاحب اسے نظرانداز کرکے اسے دیکھ کر پوچھنے لگے وہ اثبات میں سر ہلا گی

“میں ٹھیک ہوں”

زہرون کہتے ساتھ ایک نظر عینب پر ڈالتا وہاں سے چلا گیا اور عینب اسے جاتا دیکھنے لگ گئی

“ڈیڈ”

عینب انہیں پکارنے لگی یوسف صاحب نے غصے سے اسے دیکھا اور کچھ کہے بغیر وہاں سے چلے گئے

“میں تو صرف تمہیں ہی غصے والی سمجھتا تھا توبہ یہ تو تم سے بھی ایک ہاتھ آگے ہے”

یونیب جو رویش کیساتھ کھڑا تھا اسے مخاطب کرتے ہوئے کان پر ہاتھ رکھے کہنے لگا

“مطلب کیا ہے تمہارا”

وہ غصے سے اسے دیکھ کر کہنے لگی یونیب کے چہرے پر مسکراہٹ آئی

“اگر ابھی کھڑے کھڑے بولو آئی لو یو تو کیا کرو گی”

وہ اسکے کان کے قریب ہوکر گھمبیر آواز میں سرگوشی کرتے ہوئے کہنے لگا اسکی بات پر رویش کے دل نے بیٹ مس کی چہرے پر مسکراہٹ ائی جو فوراً چھپا گئی یونیب اسے دیکھ رہا تھا

“سر پھاڑ دوں گی تمہارا”

وہ چہرے پر سنجیدہ تاثرات لیے اسے مڑ کر دیکھتے ہوئے کہنے لگی جس پر یونیب پیچھے ہوا

“آیا سمجھ”

وہ مسکرا کر کہتے ساتھ وہاں سے چلا گیا اور رویش اسے جاتا دیکھ رہی تھی

“مجھے غصہ کیوں نہیں آیا اسکی بات پر”

وہ اسے جاتا دیکھ کر خود سے الجھے ہوئے انداز میں بول کر جوس پینے لگی

عینب شرمندگی سے وہاں سے گھر چلی گئی تھی وہ ایسا نہیں چاہتی تھی مگر زہرون اسکے ساتھ زبردستی کررہا تھا لیکن اسے یوں سب کے درمیان اسے تھپڑ نہیں مارنا چاہیے تھا اسے اپنی غلطی کا شدت سے احساس ہورہا تھا وہ گاڑی میں بیٹھی مسلسل یہی سوچ رہی تھی۔

“سر کام ہوگیا ہے”

یونیب بلیو ٹوتھ ان کرکے ہلکی آوازسے چہرے پر مسکراہٹ سجائے کہنے لگا دوسری طرف گیلانی کے چہرے پر فاتحانہ مسکراہٹ آئی

“کام کردو”

یونیب کی کال کٹ کرکے گیلانی دوسرے بندے کو فون کرکے حکم صادر کرنے لگ گیا اسکے کہتے ہی اس نے فائرنگ شروع کردی

اچانک فائرنگ پر وہاں موجود ہر شخص گھبرا گیا اور بہزاد کی نظر ایک چھپے شخص پر گئی جو گن غزلان کی جانب کیے کھڑا تھا۔

جاری ہے۔