280.4K
41

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Black Love) Episode 5

نکاح کیلیے مولوی صاحب موجود تھے غزلان اپنے کمرے میں بیٹھی تھی اور بہزاد نیچے ٹی وی لاؤنچ میں موجود تھا دو انجان لوگ ایک ایسے رشتے بندھنے جارہے جہاں محبت خود بخود دل میں بس جاتی ہے لیکن دونوں تھے بھی تو ایک جیسے اگر وہ حیوان تھا تو وہ بھی اپنے اندر کئی راز چھپائے بیٹھی تھی۔

مولوی صاحب پہلے غزلان کے پاس گئے اور پھر بہزاد سے اب وہ دونوں ایک دوسرے کے نکاح میں موجود تھے

نکاح کے بعد غزلان کو نیچے لایا گیا ایک طرف رویش دوسری طرف زرمیش موجود تھی وہ گھر کے عام سے کپڑوں میں ہی موجود تھی عینب نے تو نکاح میں شرکت تک نہیں کی تھی جیسے ہی وہ ٹی وی لاؤنچ میں پہنچے غزلان کی نظر اس پر گئی اور سیاہ نظریں وہی جم گئی اس نے کبھی خواب میں بھی نہیں سوچا تھا کوئی مرد اس قدر خوبصورت ہوسکتا ہے وہ بت بنی اسے دیکھ رہی تھی وہ پتھر دل لڑکی کے دل نے ناجانے کتنے عرصے بعد کسی مرد کو دیکھ کر دل دھڑکا تھا اور دوسری طرف اس وجود نے اسے دیکھنا تک گوارہ نہیں کیا تھا کیونکہ وہ اپنی زندگی میں کسی بھی لڑکی کو نہیں لانا چاہتا تھا یہ لڑکی بھی اس کیلیے ایک مشن تھی۔

“غزلان”

رویش اسے اسٹل کھڑا دیکھ کر ہلکا سا ہلا کر پکارنے لگی غزلان ہوش میں آئی یوسف صاحب اور راحت بیگم خاموش تھے مگر راحت بیگم کو ایک تسلی تھی کہ اب وہ دونوں ایک محرم رشتے میں بندھ چکے ہیں۔

“چلیں”

وہ ریاض اور یوسف صاحب کی جانب نظریں اٹھا کر دیکھتے ہوئے سرد سپاٹ لہجے میں بولا یوسف صاحب نے اثبات میں سر ہلایا اور غزلان کے سر پر ہاتھ رکھا اور راحت بیگم نے اسے سینے سے لگایا اور ماتھے پر بوسہ دیا

“مشن سیکسفل ہوگا”

رویش اسکے کان میں ہلکی آواز میں مسکراتے ہوئے کہنے لگی غزلان کے چہرے پر بھی ہلکی سی مسکراہٹ آئی سب سے ملنے کے بعد اس نے ایک نظر عینب کے کمرے میں ڈالی جس کا دروازہ بند تھا

بہزاد گاڑی کی کیز وغیرہ اٹھا کر بھاری بھاری قدم لیے باہر کی طرف بڑھ گیا یوسف صاحب نے اسے بھی جانے کا اشارہ کیا وہ بھی اسکے پیچھے گئی

وہ باہر آئی تو وہ گاڑی کی ڈرائیونگ سیٹ سنبھالے بیٹھا تھا غزلان کی نظر پھر اس پر گئی دل میں ایک خوف پیدا ہوا یہ بھی سب مردوں جیسا ہوا تھا لیکن اب وہ کمزور نہیں مضبوط تھی بہت مضبوط اسے ڈرنے کی ضرورت نہیں تھی وہ خاموشی سے فرنٹ سیٹ کا دروازہ کھولتی بیٹھ گئی۔

“بیلٹ باندھو”

وہ نظریں سامنے مرکوز کیے سرد لہجے میں اسے بغیر دیکھے بولا غزلان اسکے بولنے پر فوراً سیٹ بیلٹ باندھ گئی اور اس نے بہت ہی تیزی سے اس پہاڑی علاقے میں گاڑی دہرائی۔

کچھ دیر بعد گاڑی ایک سیاہ خوبصورت سی حویلی کے باہر رکی غزلان کی نظر اس حویلی پر گئی بہزاد گاڑی سے اترا اسکو دیکھ کر غزلان بھی اتری اور اسکے پیچھے پیچھے چلنے لگی

دونوں نے جیسے ہی حویلی میں قدم رکھا اندھیرے میں ڈوبی یہ حویلی ایک پل کیلیے غزلان کو بھی خوف میں ڈال چکی تھی وہ جیسے جیسے چل رہا تھا غزلان پیچھے پیچھے چل رہی تھی

“وہ روم ہے کل صبح سے پہلے یہاں سے باہر نہیں نکلو گی کسی بھی چیز کی ضرورت ہو ریاض کو آواز لگاؤ گی سب مل جائے گا”

وہ اسے کمرے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اس پر حکم صادر کرنے لگا غزلان نے اسے دیکھا جیسے ہی اسکی سرخ وحشت بھری سیاہ آنکھوں پر نظر گئی تو غزلان کو وہ اندر سے بہت بکھرا ہوا لگا وہ جو اسٹل کھڑی اسے دیکھ رہی تھی بہزاد نے گردن موڑ کر اپنی سرد نگاہیں اسکے چہرے پر پہلی مرتبہ ڈالی اور آئبرو اچکا کر اسے دیکھا

“تم واقع میں اتنے ہینڈسم ہو”

غزلان اس میں کھوئی بےساختہ بول گئی اسکی بات پر وہ اسے بس دیکھتا رہ گیا غزلان فوراً ہوش میں آئی

“وہ ہے روم ٹھیک ہے”

وہ بات کو بدلتے ہوئے اسے بولتے ساتھ کمرے کی طرف قدم بڑھا گئی اور وہ اسے جاتا دیکھنے لگا

ہر کسی نے آج تک اسے بھیڑیا حیوان جلاد بےرحم سفاک کہا تھا پہلی دفعہ کسی نے اسے ہینڈسم بولا تھا

“صاحب چوہدری کا پتہ لگ گیا ہے”

تبھی ریاض آتے ہوئے اسے بتانے لگی ریاض کے بتانے پر اسکی آنکھیں ایکدم سرخ ہوگئی جیسے کسی نے ان پر خون ڈال دیا اب وہ انسان نہیں حیوان لگ رہا تھا وہ اپنے اصل روپ میں آچکا سر کو ہڈی سے ڈھکتے چہرے پر ماسک لگائے سگریٹ جلاتا وہ بہت تیز قدم اٹھائے باہر کی طرف بڑھ گیا اور ریاض اسکے پیچھے گیا غزلان اس حویلی میں اب بلکل اکیلی تھی۔

*******

بہزاد چوہدری کے اڈے پر پرسکون سا داخل ہوا تھا اور اندر داخل ہوتے ہی اس نے اسکے سامنے کھڑے دو آدمیوں کی گردن کو دبوچ کر ان دونوں کا سر ایک دوسرے سے ٹکرا کر انہیں زمین پر پھینکا چوہدری جو مزے سے بیٹھا تھا اچانک اٹھ کھڑا ہوا اور سامنے آتے شخص کو پہچاننے کی کوشش کرنے لگا اسکے سر سے ہڈی اتارتے ہی چوہدری کے آدمیوں کی جان پر بن گئی تھی انکی سانسیں تھم سی گئی ہاتھ پیر ڈھنڈے پڑنے لگے تھے ریاض پیچھے کھڑا ہوگیا اور وہ اطمینان سے کرسی پر بیٹھ کر اپنی سیاہ سرد نگاہیں چوہدری پر مرکوز کر گیا۔

“ہو تو تم نے مجھے ڈھونڈ ۔۔۔۔۔ ہی لیا لیکن مجھے ختم کرنا اتنا آسان نہیں سمجھے کوشش کرکے دیکھ لو “

وہ رک کر مگر ہمت سے اسکی آنکھوں میں دیکھ کر بول رہا جب بہزاد کے لبوں پر ایک مسکراہٹ نمودار ہوئی جیب سے چاقو نکال کر اپنے ہاتھ میں گھمانے لگا

ریاض اسے چاقو گھماتا دیکھ کر فوراً اپنے اندر خوف سے تھوک نگل گیا چوہدری بولے جارہے تھے کیونکہ وہ اسے بولنے دے رہا تھا اچانک بہزاد نے سیدھا اسکے پیٹ کو نشانہ بنایا تھا اور چوہدری کے الفاظ منہ میں ہی رہ گئے تھے اور چہرے پر تکلیف کے آثار صاف نمایاں تھے وہ کرسی سے اٹھا اور اسکی گردن کو اپنی مٹھی میں انتہائی سخت گرفت سے دبوچنے لگا

“بب۔۔ببی…سٹ “

وہ سرخ چہرے سے بامشکل بول سکا جب بہزاد نے چاقو نکال کر اسکے پیٹ پر خبایا چوہدری کی سانسیں رک گئی

“بلیک بیسٹ

میں بولتا نہیں کر گزرتا ہوں”

وہ سفاک لہجے میں کہتے ساتھ اسکے کپڑوں سے چاقو صاف کرتا وہ پرسکون سا سگریٹ منہ میں ڈالتا اپنے ذہن کو پرسکون کرتا وہاں سے چل دیا ریاض بھی اسکے پیچھے فوراً چلنے لگ گیا۔

*****

غزلان کو بہت شدید پیاس لگی ہوئی تھی وہ تین چار آوازیں ریاض کو لگا چکی تھی مگر وہ تو آنے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا وہ خود اٹھ کر کمرے سے باہر آئی اور کچن ڈھونڈنے لگی

“اففف اتنی بڑی حویلی ہے کہاں ملے گا پانی بندہ کمرے میں جگ ہی رکھ لیتا”

لاپرواہی سے چلتے ہوئے وہ غصے سے کہتے ساتھ کچن ڈھونڈ رہی تھی جب اچانک غزلان کو کسی کے پیروں کی آواز آئی جیسے کوئی چل رہا ہو

“کون ہے”

وہ ایکدم مڑ کر غصے سے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگی مگر کوئی جواب نہ آیا

تبھی کوئی غزلان کی پیٹھ پر سے چاقو کا وار کرنے لگا گردن پر چاقو لگنے ہی لگا تھا مگر اس سے پہلے اس شخص کی ہاتھ بہزاد کی گرفت میں آ چکا تھا لیکن غزلان کو ہلکا سا کٹ لگ گیا وہ اپنی گردن پر خون کی دو بوندیں دیکھنے لگ گئی وہ اسکے ہاتھ پر سخت گرفت ڈالتا اسے گھما کر ایک مکہ اسکے منہ پر چھڑ دیا غزلان آواز سے مڑی تو بہزاد کسی شخص کو دبوچے کھڑا تھا وہ لڑکا سہما ڈرا کھڑا تھا

“مجھے معلوم تھا چوہدری کا”

وہ جیب سے چاقو نکال کر ہاتھ میں گھماتے ہوئے اس شخص کو دیکھ کر بولتے ہوئے مزید خوف میں مبتلا کرنے لگا اور نظریں غزلان کی جانب کی گردن پر لگا کٹ وہ دیکھ چکا تھا

“منع کیا تھا کیوں باہر آئی جاؤ”

وہ اسے غصے سے دیکھتے ہوئے چیخ کر بولا غزلان اسے دیکھنے لگ گئی

“آئی سیڈ گو”

وہ اب کی بار اور بھی تیز آواز میں دھاڑا غزلان گھبرا کر کمرے کی جانب قدم بڑھا گئی اور بزہان نے اس شخص کو ایک سکینڈ لگائے بغیر بےجان کردیا

******

“نننن۔۔۔نہیں میرے پاس مت آؤ نہی۔۔۔۔نہیں پلیزز دور رہو۔۔مجھ سے”

کمرا بلکل اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا وہ نیند میں چہرے پر خوفزدہ تاثرات لیے گھبرائے ہوئے لہجے میں کانپتے وجود کیساتھ بڑبڑا رہی تھی

“چھوڑ۔۔دو مجھے”

وہ ایکدم چیخ کر بولتی فوراً آنکھیں کھول گئی چیخنے کی وجہ سے یوسف صاحب اور راحت بیگم پریشانی سے اٹھے اور عینب کے کمرے کی طرف بڑھ گئے اور رویش اور زرمیش بھی اپنے اپنے کمروں سے پریشانی سے نکل کر عینب کے کمرے کی طرف بڑھے

“عینب بیٹا”

یوسف صاحب کمرے میں آتے ہوئے لائٹ آن کرکے اسے پکارنے لگے عینب نے انہیں دیکھا راحت بیگم فوراً اسکی طرف بڑھی عینب انکے سینے سے لگ گئی

“وہ وہ مجھے مار”

وہ گھبرائے ڈرے لہجے میں انکے سینے میں منہ دیے بامشکل بول سکی

“کچھ نہیں ہے میری بچی خواب تھا ایک ڈراؤنا”

وہ اسے سینے سے لگائے چہرے پر ہاتھ پھیرے پیار سے کہنے لگی عینب انکے سینے میں منہ چھپائے ہوئی تھی یوسف صاحب رویش اور زرمیش خاموشی سے عینب کو دیکھ رہے تھے۔

یہ خواب اسکا پیچھا نہیں چھوڑتا تھا بہت وقت بعد لیکن یہ خواب ضرور آتا تھا جو نڈر مضبوط عینب کو خوف میں مبتلا کردیتا تھا یوں ہی کب سے راحت بیگم کے سینے سے لگی وہ نیند میں چلی گئی۔

راحت بیگم پیار سے اسکا سر تکیے پر رکھے بلینکٹ اس پر ڈالتی آیت الکرسی پڑھ کر پھوکتی وہ اٹھ کھڑی ہوئی کمرے کی لائٹ آف کرکے وہ سب اپنے کمروں کی طرف بڑھ گئے۔

******

“ہائے”

رویش جو یوسف صاحب کے کسی کام سے یہاں پر آئی تبھی یونیب کی آواز سن کر مڑ کر اسے دیکھا

“تمہیں اور کوئی کام نہیں ہے میرا پیچھا کرنے کے علاؤہ”

وہ اسے غصے سے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگی یونیب اسکے نزدیک ہوا

“کیا کروں اس دل کے ہاتھوں مجبور ہوں یہ صرف تمہارے قریب رہنا چاہتا ہے”

وہ اسکے کان کے قریب ہوکر سرگوشی کرتے ہوئے بولا رویش فوراً دور ہوئی اور غصے سے اسے دیکھا

“چیپ باتیں مجھ سے نہ کرو بےفضول سی اور قریب مت آیا کرو میرے سمجھے”

وہ اسے غصے سے کہتے ساتھ بیگ پہنتی وہاں سے تیز قدم اٹھائے چلی گئی

“یہ اتنی آسانی سے قابو نہیں آنے والی اچھی خاصی رقم ہاتھ سے چلی جائے گی”

یونیب اسے جاتا دیکھتے ہوئے منہ بنائے غصے سے کہتا آگے کی جانب بڑھ گیا

“سر نظر ہے اس پر وہ آپ کا کام ہی کررہا ہے”

سائیڈ پر موجود کھڑا شخص جس کی نظریں یونیب پر تھی آہستہ سے بولا

“اوکے”

دوسری جانب سے جواب سنتے ہی وہ کہتے ساتھ وہاں سے تیز قدم بڑھائے آگے کی جانب بڑھا

********

وہ اسکے کمرے میں آیا جہاں غزلان نماز ادا کر کےجائے نماز کو جگہ پر رکھ رہی تھی بہزاد کی نظر ایک پل اس پر ٹھہر سی گئی مگر اگلے ہی لمحے وہ ہوش میں تھا

“یہاں خیریت”

وہ اسے دیکھ حیرت زدہ سی بولی وہ اسے جواب دیے بغیر قدم اسکی جانب بڑھانے لگا

“بیٹھو”

اسکے پاس آکر کھڑے ہوتے ہوئے اسے حکم دینے والے انداز میں کہنے لگا جس پر غزلان بیٹھ گئی

اس نے غزلان کے سر پر لپٹا اسکارف کی طرح دوپٹہ ہٹایا وہ اسے دیکھ رہی تھی

“کک۔۔۔۔کیا کررہے ہو”

وہ ایکدم گھبراتے ہوئے اسے دیکھ کر کہنے لگی جس پر بہزاد نے لبوں پر انگلی رکھ کر خاموش کروایا۔

اور اسکی کٹ پر مرہم لگانے لگا غزلان اسے دیکھنے لگ گئی تھی اس نے پہلا مرد دیکھا تھا جو کسی عورت کے زخم پر مرہم لگا رہا تھا

“یہ زخم میری وجہ سے ہوا تھا”

وہ بینڈچ کرتے ہوئے نظریں اسکے چہرے پر مرکوز کیے بولا سیاہ نظریں سیاہ نظروں سے ٹکرائی اور ان دونوں کے بیچ ایک انچ کا فاصلہ تھا جب وہ فرسٹ ایڈ باکس اٹھانے کیلیے جھکا تو اسکی گرم سانسیں کی تپش محسوس ہوئی وہ آنکھیں بند کر گئی ہارٹ بیٹ بہت تیز ہوئی تھی بہزاد فرسٹ ایڈ باکس اٹھاتا ایک نظر حسین سراپے پر ڈال کر اٹھ گیا۔

“ہم کل نہیں پڑسوں جائیں گے کچھ کام ہے مجھے”

بہزاد جاتے ہوئے دروازے پر رک کر اسے سپاٹ لہجے میں بتاتے وہاں سے چلا گیا

“یہ دوسرے مردوں سے چینچ ہے”

وہ بولتے ساتھ چہرے پر مسکراہٹ سجا گئی تھی

******

“ڈیڈ سفدر کا پتہ چل چکا ہے”

رویش یوسف صاحب کے پاس آتے ہوئے انہیں دیکھ کر بتانے لگی یوسف صاحب نے اسے دیکھا

“گڈ”

یوسف صاحب اسکے بتانے پر آنکھوں میں چمک لیے بولے

“کیا کرنا ہے آپ بتائیں اسکا انجام”

رویش انکے پیچھے کھڑی انہیں دیکھتے ہوئے پوچھنے لگی یوسف صاحب نے مڑ کر اسے دیکھا

“اسکے گھر میں بلاسٹ کردو”

یوسف صاحب انتہائی سرد لہجے میں آنکھوں میں سرخی لیے بولے رویش انکی بات سنتے ہی اثبات میں سر ہلا گئی

“شام تک یہ کام ہو جائے گا”

وہ انہیں کہتے ساتھ کمرے سے باہر کی طرف بڑھ گئی اور یوسف کے اندر ایک سکون سا محسوس ہوا

“انکل عینب نہیں آئی فضل لالا کیساتھ”

تبھی زہرون اندر آتے ہوئے یوسف صاحب کو مخاطب کرنے لگا یوسف صاحب خود کو نارمل کرتے چہرے پر مسکراہٹ سجائے اسے دیکھنے لگے

،”ہاں عینب کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے اس وجہ سے کل وہ لے جائے گی بےفکر رہو”

وہ اسے دیکھ کر بتانے لگے زہرون اثبات میں سر ہلا گیا مگر عینب کی فکر اسے ہوئی تھی

“زیادہ خراب ہے”

وہ یوسف صاحب کو دیکھتے ہوئے فکرمند لہجے میں پوچھنے لگا جس پر یوسف صاحب نے ایک نظر اسے دیکھا

“نہیں بس بخار ہے”

وہ اسے دیکھتے ہوئے جواب دینے لگے زہرون اثبات میں سر ہلا گیا

“آج میں بزی نہیں ہوئی آج میرے ساتھ گھومنے چلو”

یوسف صاحب اسکے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہنے لگے زہرون ہلکا سا مسکرایا اور چلنے لگے

عینب جو صبح سے اب کمرے سے نکلی تھی زہرون کی نظر اس پر گئی نائٹ ڈریس میں کھلے بالوں کیساتھ وہ اسوقت کوئی معصوم گڑیا لگ رہی تھی

“عینب بیٹا کدھر”

یوسف صاحب کی بھی نظر اس پر گئی تو اسے مخاطب کرتے ہوئے پوچھنے لگے انکی بات پر عینب نے مڑ کر انہیں دیکھا

“ڈیڈ وہ کچھ کھانے جارہی”

وہ جواب دیتے ساتھ زہرون کو نظرانداز کرتی نیچے کی طرف بڑھ گئی اور وہ دونوں بھی چل دیے۔

*******

وہ اسکے بعد کمرے سے باہر نہیں نکلی تھی اور اب اسے بہت بھوک لگ رہی تھی وہ ریاض کو دو آوازیں دے چکی تھی لیکن شاید وہ اسوقت بھی گھر میں موجود نہیں تھا

وہ بےدھیانی میں چلتی سیڑھیاں اتر کر نیچے آرہی تھی جب کسی پتھر کی بنی چیز سے ٹکرائی تھی

“آہہ”

غزلان کے منہ سے ہلکی سی چیخ نکلی بال ہٹا کر اس نے سامنے موجود شخص کو دیکھا جو چہرے پر ہمیشہ کی طرح خوفناک تیور سجائے کھڑا تھا

“کیوں نکلی باہر”

وہ غصے سے اسے دیکھ کر پوچھنے لگا غزلان نے اسے دیکھا

“بھوک لگی تھی مجھے جو مجھے ہر چیز دے سکتا ہے ایک آواز تو سنتا نہیں میری”

غزلان تھوڑے غصے سے اسے بتانے لگی بہزاد نے اسکی جانب قدم بڑھائے غزلان تھوڑا سا گھبرائی

“مل جائے گا کھانا اندر جاؤ”

وہ سس پر سیاہ سرد نگاہیں جمائے غصے سے بولا جس پر غزلان نے بھی اسکی آنکھوں میں دیکھا

“اس حویلی میں بھوت چڑیلیں یا جن رہتے ہیں جو میں باہر نہیں آ سکتی ہوں”

وہ بغیر ڈرے اسے دیکھتے ہوئے کہنے لگی جس پر بہزاد جے غصے سے بالوں میں ہاتھ پھیرا

“لڑکی جتنا”

بہزاد ابھی بول رہا تھا غزلان نے اسے ٹوکا بہزاد کی آنکھیں سرخ ہونے لگی

“غزلان قریشی غزلان قریشی نام ہے میرا”

وہ اسے اپنی پہچان اسے دیکھے بغیر ڈرے بتانے لگی بہزاد اسکے چہرے پر جھکا

“لڑکی ملی بھی تو ٹکر کی”

ریاض جو سائیڈ پر کھڑا دونوں کو سن رہا تھا دل میں بولنے لگا چہرے پر مسکراہٹ آئی

“جس کام کیلیے آئی ہو اس حد تک محدود رہو ناؤ گو”

وہ انتہائی سرد لہجہ اختیار سرخ آنکھیں اسکے چہرے پر جمائے بولا غزلان سیک پل کیلیے سہمی اس نے بہت سے مردوں کو قتل کیا تھا مگر یہ کوئی عام مرد نہیں تھا یہ وہ جان گئی تھی وہ خاموشی سے کمرے کا رخ کر گئی۔

جاری ہے۔