Black Love By Mahnoor Shehzaad Readelle50302 Black Love (Episode 4
Rate this Novel
Black Love (Episode 4
“سر یہ کیا ہوا ہے آپ کو”
گیلانی جو ابھی بگڑی حالت کیساتھ گھر میں داخل ہوا تھا یونیب اسے دیکھ کر پریشانی سے پوچھنے لگا جس پر گیلانی نے خاموش رہنے کا اشارہ کیا
“اس بارے میں کوئی بات مت پوچھو “invisible man” کو ڈھونڈو یونیب”
وہ سرد اور غصے سے کہتے ساتھ صوفے پر بیٹھ کر بولا یونیب اسے دیکھنے لگ گیا
“Invisible man”
وہ پریشانی سے گیلانی کے منہ سے نکلا لفظ دہرانے لگا جس پر گیلانی نے اثبات میں سر ہلا دیا
“سر یہ کیا بول رہے ہیں مجھے لگ رہا ہے آپ نے پارٹی میں زیادہ ڈرنک کرلی ہے”
وہ اسے دیکھتے ہوئے بتانے لگا جس پر گیلانی نے غصے سے اسے دیکھا
“خاموش رہو تمہیں پہلے بھی ایک کام دیا تھا میں نے اسکا کیا بنا اور اب اس کام پر بھی لگ جاؤ”
وہ غصے سے سرد نگاہوں سے اسے دیکھتے ہوئے کہنے لگا یونیب بھی اسے گھور کر دیکھنے لگا
“وہ کام ہوگیا ہے سر بےفکر رہے آپ اور میں اس انسان کے متعلق بھی پتہ لگاتا ہوں”
یونیب کہتے ساتھ وہاں سے چلا گیا اور گیلانی صوفے سے سر ٹکا گیا.
****
وہ فضل لالا کیساتھ پہلے یوسف صاحب کے فارم ہاؤس میں گئی جہاں زہرون اسٹے کررہا تھا وہ وہاں پہنچی تو فضل لالا زہرون کو بلانے کیلیے گاڑی سے اتر کر فارم ہاؤس کی طرف بڑھ گئے وہ جینز ڈریس شرٹ میں بالوں کو اچھے سے سیٹ کیے اوپر براؤن جیکٹ پہنے بہت ہی زیادہ ہینڈسم لگ رہا تھا ایک پل کیلیے عینب کی نظر اس پر رک گئی مگر وہ نفی میں سر ہلا کر نظروں کا تعاقب دوسری سمت کر گئی
زہرون گاڑی میں آگے فرنٹ سیٹ پر فضل لالا کیساتھ بیٹھ گیا اور فصل لالا نے گاڑی سڑک پر دوہرا دی اس نے شیشے سے عینب کی جانب دیکھا جو باہر دیکھ رہی تھی
“ویسے یہ اسکردو ہے نا”
وہ سامنے دیکھتے ہوئے عینب کو مخاطب کرنے لگا جس پر عینب نے اسے دیکھا
“جی اسکردو”
وہ اسے مختصر سا جواب دیتے ساتھ نظریں پھر سے باہر کی جانب کر گئی اور زہرون خاموش ہوگیا۔
“سب سے پہلی کونسی جگہ دیکھنا پسند کریں گے”
عینب اسے دیکھے بغیر مخاطب کرتے ہوئے پوچھنے لگی زہرون سوچنے لگا کیونکہ پاکستان کے نادرن ایریاز پر اس نے بہت ریسرچ کیا تھا اور اسکردو بھی ان میں شامل تھا۔
“کچوہرہ لیک”
وہ کچھ سوچتے ہوئے بولا عینب نے فوراً اسے دیکھا کیونکہ وہ لیک اسکی بھی فیورٹ تھی
“ارے یہ تو عینب بیٹی کی پسندیدہ جگہ ہے ہر اتوار ہم اسے لے جاتے ہیں”
فضل لالا گاڑی چلاتے ہوئے زہرون کو بتانے لگے جس پر زہرون نے مڑ کر اسے دیکھا عینب باہر دیکھ رہی تھی
“فضل لالا جلدی لے چلیں پھر دیر ہوگئی تو مشکل ہوجاتی ہے “
عینب سنجیدگی سے فضل لالا سے مخاطب ہوئی زہرون چہرہ واپس موڑ گیا اور فضل لالا اثبات میں سر ہلا گئے ۔
وہ دونوں کچوہرہ لیک پہنچ چکے تھے عینب گاڑی سے اتر کر اس جگہ کو دیکھتی آنکھیں بند کرکے ایک گہرہ سانس لینے لگی
“بیوٹیفل”
زہرون نظریں ادھر ادھر گھمائے بولا اور چہرے پر مسکراہٹ آئی اس نے فوراً کیمرے سے تصویریں لینا شروع کردی
“فضل لالا میں آپ کو کال کردوں گی آپ آجائیے گا آپ کو اور بھی کام ہوں گے”
وہ آنکھیں کھولتی فضل لالا کو مخاطب کرتے ہوئے کہنے لگی جس پر فضل لالا خیال رکھنے کا کہتے چلے گئے
“بوٹ پر بیٹھے”
وہ عینب کو مخاطب کرتے ہوئے پوچھنے لگا عینب جو خاموشی سے اس خوبصورت جگہ کو محسوس کررہی تھی اسے دیکھنے لگی
“بیٹھ جاؤ”
وہ سپاٹ انداز میں جواب دیتے ہوئے ادھر ادھر دیکھنے لگ گئی زہرون جو تصویریں کھینچ رہا تھا کیمرہ ہٹا کر اسے دیکھنے لگا
“مجھے کمپنی تو دے سکتی ہو”
وہ اسے دیکھ کر کہنے لگا عینب نے اسے دیکھا
“مجھے ذمہداری تمہیں گھمانے کی دی تھی جو میں نبھا رہی ہوں کمپنی کی امید مجھ سے نہ رکھنا”
وہ اسے سرد لہجے میں بولتے ہوئے کوٹ میں ہاتھ ڈالتی پانی کے تھوڑا قریب کھڑی ہوگئی
“اتنا اٹیٹیوڈ کس بات کا ہے”
وہ اسکے پاس آکر اسے دیکھ کر پوچھنے لگا عینب نے ایک بار اپنی نظریں اسکی جانب کی
“اٹیٹیوڈ نہیں ہے مرد نہیں پسند مجھے تو حیرت ہوتی ہے بزنس ٹائیکون کے بیٹے ہونے کے باوجود تم میں گمھنڈ اور اکڑ نہیں”
عینب اس پر نظریں مرکوز کیے بولی زہرون کے چہرے پر مسکراہٹ آئی
“پہلی بات ہر مرد ایک جیسا نہیں ہوتا رہی دوسری بات مجھے گھمنڈ اور بےفضول کی اکڑ دیکھانے کا شوق نہیں”
وہ تصویریں کھینچتے اور دیکھتے ہوئے اسے جواب دینے لگا عینب اسے بس دیکھتی رہی ۔
“مجھے نہیں پتہ ہر مرد ایک جیسا ہے یا نہیں بس اگر کوئی مرد اچھا لگتا ہے تو صرف ڈیڈ “
وہ اسی کو دیکھتے ہوئے صاف لفظوں میں جواب دے گئی زہرون نے اسے دیکھا اور بس مسکرا سکا۔
وہ دونوں ساتھ ساتھ چل رہے تھے اور اس حسین جگہ کو گھوم رہے تھے زہرون تو مسلسل تصویریں بنا رہا تھا اور وہ خاموشی سے ساتھ چل رہی تھی اچانک اسی ایسا لگا جیسے کوئی جانور اسطرف آرہا ہو وہ تھوڑا گھبراتے ہوئے زہرون کے قریب ہوئی زہرون نے اسے دیکھا
“سب ٹھیک ہے”
وہ اسکے خوفزدہ تاثرات دیکھتے ہوئے پوچھنا ضروری سمجھنے لگا وہ بامشکل اثبات میں سر ہلا سکی اس نے اسطرف دیکھا
“شام ہونے کو ہے فضل لالا کو فون کردوں”
وہ اسے دیکھ کر پوچھنے لگی زہرون نے اسے دیکھا
“ہاں کردو لیکن مجھے کسی ہوٹل میں آج ڈنر کرنا ہے”
وہ اسے دیکھ کر سپاٹ انداز میں جواب دیتے ہوئے بتانے لگا عینب اثبات میں سر ہلا کر فون ملانے لگی
وہ دونوں واپس اسی جگہ جارہے تھے جہاں فضل لالا نے انہیں چھوڑا تھا وہ دونوں چل رہے تھے سائیڈ سے ایک لڑکا تیزی سے بھاگتے ہوئے آرہا تھا عینب سے بڑی طرح ٹکرایا عینب ان بیلنس ہوکر زہرون کے سینے سے جا لگی اس نے نظریں اٹھا کر زہرون کو دیکھا جو اسے ہی دیکھ رہا تھا اور فوراً اس سے الگ ہوتی اس لڑکے کو گھور کر دیکھنے لگی زہرون نے بھی ناگوار نظروں سے اسے دیکھا
“اندھا”
وہ منہ بناتی غصے سے بولتے ہوئے تیز تیز قدم اٹھانے لگی زہرون خود بھی نہیں سمجھ سک رہا تھا وہ اسکا غصہ اور بار بار اس سے بات کیوں کررہا ہے کبھی بھی اس نے ایسا نہیں کیا تھا جس نے اس سے بات کرنا پسند نہیں کی زہرون نے بھی نہیں کی تھی مگر اسے عینب کچھ مختلف اور اچھی لگی تھی
“اتنا غصہ صحت کیلیے اچھا نہیں ہوتا”
وہ اسکے پاس آتے ہوئے اسے بولا عینب نے اسے مڑ کر غصے سے دیکھا
“تم سے مطلب اپنے کام سے کام رکھو”
وہ غصے سے اسے بھی جواب دیتی اور تیزی سے قدم بڑھانے لگی زہرون نفی میں سر ہلا گیا
“تمہیں پتہ ہے اتنے غصے والی لڑکی میں نے اپنی زندگی میں نہیں دیکھی”
وہ اسکے ساتھ چلتے ہوئے پھر سے بات کرنے لگا عینب نے اب کی بار اسے نہیں دیکھا
“مجھ جیسی دیکھے گی بھی نہیں تمہیں”
وہ اسے جواب۔ دیتی گاڑی میں بیٹھ گئی فضل لالا وہاں سے پہلے سے موجود تھے وہ بھی مسکراتے ہوئے گاڑی کی طرف بڑھ گیا
“فضل لالا شنگریلا ریزورٹ لے چلیں”
عینب گاڑی میں بیٹھ کر فضل لالا کو کہنے لگی جس پر فضل لالا اثبات میں سر ہلا گئے اور گاڑی اسٹارٹ کر گئے
***
“مجھے مدد”
یوسف صاحب ابھی بول رہے تھے جب اس نے چہرہ موڑ کر ان پر سیاہ نظریں مرکوز کی
“کام کی بات کریں”
وہ انکی بات کاٹ کر فوراً تیز لہجے میں بولا جس پر یوسف صاحب اثبات میں سر ہلا گئے
“میری بیٹی غزلان قریشی اپنے کسی بہت عزیز کا بدلہ لینا چاہتی ہے درید بیگ سے مجھے تمہاری مدد کی ضرورت ہے”
یوسف اسے دیکھتے ہوئے سیدھی بات بولنے لگے درید بیگ کا نام سن کر اسکی آنکھیں سرخ ہوئی جو یوسف صاحب بخوبی نوٹ کر چکے تھے۔
“اگلا ٹارگٹ وہی تھا میرا کل ہم آرام سے اس بارے بات کریں گے”
وہ کہتے ساتھ وہاں سے بھاری بھاری قدم اٹھاتا سگریٹ منہ ڈالتا وہاں سے چلا گیا یوسف صاحب بھی خاموشی سے چل دیے
وہ سگریٹ پیتا اپنے کمرے میں آیا اور درید کے متعلق سوچنے لگا اس تنہائی نے اس شخص کو سگریٹ پینے کا عادی بنا دیا تھا
“وقت آ گیا ہے”
وہ سرخ آنکھیں لیے لفظ چبا چبا کر بولتے ساتھ سگریٹ منہ سے نکال کر پھینک گیا اور بیڈ کراؤن سے ٹیک لگا کر آنکھیں موند کر نیم دراز سا ہوگیا۔
******
“رویش باجی آپ کا فون بج رہا ہے”
زرمیش اسکے پاس آتے ہوئے اسے فون تھماتے ہوئے بتانے لگی انجان نمر سکرین پر دیکھ کر رویش کے ماتھے پر بل نمودار ہوئے اور وہ فون زرمیش سے لیتی کمرے کی جانب بڑھ گئی
“کون”
کال اٹینڈ کرتے ہی رویش نے سرد لہجے میں دوسری جانب موجود شخص سے سوال کیا
“Rawish”
گھمبیر آواز رویش کے کانوں سے ٹکرائی رویش کے دل نے بیٹ مس کی ۔
“اوہ. تمہیں نمبر کہاں سے ملا میرا “
رویش نے اس سے پوچھنا ضروری سمجھا دوسری طرف اسکے لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آئی تھی۔
“ملنا مشکل نہیں تھا”
وہ لبوں پر مسکراہٹ سجائے اسے بولا اسکی بات پر ناچاہتے ہوئے بھی رویش کے لب مسکرا دیے۔
” کال کرنے کی وجہ”
رویش نے اس سے پوچھنا ضروری سمجھا دوسری طرف موجود شخص نے اب کی بار آنکھیں موند دی
“سکون چاہیے تھا”کہ
وہ آنکھیں بند کیے نرم لہجے میں اسے بولا رویش کے دل نے ایک بار پھر بیٹ مس کی رویش کو خود بھی سمجھ نہیں آرہا تھا ایسا کیوں ہورہا ہے۔
“مجھے ڈیڈ بلارہے گڈ بائے”
کہتے ساتھ وہ فون کٹ کرتی اپنی بےترتیب دھڑکنوں کو ترتیب میں لاتے ہوئے فون دیکھنے لگی اور دوسری طرف یونیب کے چہرے پر مسکراہٹ آئی
“کیا ہورہا ہے مجھے”
وہ الجھے ہوئے انداز میں اسے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگی تبھی فضل لالا نے اسے پکارا وہ فون رکھتی باہر کی طرف بڑھ گئی۔
****
“صاحب کوئی بہزاد صاحب آئے ہیں”
فضل لالا یوسف صاحب کے پاس آتے ہوئے انہیں بتانے لگے یوسف صاحب فوراً اٹھے غزلان رویش اور زرمیش ساتھ راحت بیگم بھی سوچ میں پڑ گئی
“میں آتا ہوں”
یوسف صاحب کہتے ساتھ وہاں سے تیز تیز قدم اٹھائے باہر کی طرف بڑھ گئی
“کون ہے وہ”
راحت بیگم پریشانی سے ان چاروں سے پوچھنے لگی جس پر غزلان رویش اور زرمیش نفی میں سر ہلا گئی
“بلیک بیسٹ ہے”
عینب نے ان سب کی پریشانی کو ختم کیا اور سب اسے دیکھنے لگ گئی۔
“بلیک بیسٹ وہ کون ہے”
راحت بیگم نے عینب کی جانب چہرہ موڑ کر اسے مخاطب کرتے ہوئے تفصیل سے پوچھنا چاہا
“اسکردو کا سب سے خطرناک انسان ہے وہ اسکے گینگ میں صرف ایک وہ ہے اور وہ ایک شخص دس کو آرام سے ختم کرسکتا ہے اسکے دشمن اس سے دور رہنے میں اپنی بھلائی سمجھتے ہیں”
عینب انہیں اسکے متعلق سب انفارمیشن جو ملی تھی وہ بتانے لگی راحت بیگم کو حیرت ہوئی
“تو یہاں کیا کرنے آیا ہے”
راحت بیگم ان چاروں کو دیکھتے ہوئے پوچھنے لگی جس پر عینب نے اسکے یہاں آنے کی وجہ بتائی
“نہیں ہرگز نہیں ایسا نہیں ہوسکتا”
راحت بیگم کہتے ساتھ اٹھ کر چلی گئی اور غزلان عینب رویش اور زرمیش انہیں جاتا دیکھنے لگ گئی
“خیریت تو ہے اتنی خاموشی”
زہرون ڈنر کیلیے یوسف صاحب کے کہنے پر آیا جس پر سب نے اسے دیکھا
“نہیں نہیں سب ٹھیک ہے”
رویش نے اسے فوراً بولا اور زہرون اثبات میں سر ہلا گیا غزلان کمرے کی طرف بڑھ گئی اور زرمیش اسکے پیچھے گئی
“تائیا کہاں ہے”
وہ رویش کو مخاطب کرتے ہوئے پوچھنے لگا نظریں عینب پر مرکوز تھی جو سکرین پر ایکشن مووی دیکھنے پر مصروف تھی
“وہ کسی خاص سے مل رہے ہیں”
رویش اسے جواب دینے لگی مگر زہرون کا عینب کو دیکھنا وہ بخوبی نوٹ کر چکی تھی۔
“اچھا چلو میں پھر بعد میں آؤ گا”
وہ اسے کہتے ساتھ اٹھ کر جانے لگا رویش نے اسے روکا
“وہ ابھی آجائیں تم یہاں تب تک بیٹھ کر مووی دیکھو”
رویش اسے روکتے ہوئے صوفے پر بیٹھنے کا اشارہ کرتی اٹھ کر وہاں سے چلی گئی عینب نے رویش کو کھا جانے والی نظروں سے گھورا
“مووی اچھی لگ رہی ہے”
وہ اسکے ساتھ موجود پاپ کورن کے باؤل سے پاپ کورن اٹھا کر منہ میں ڈالتے ہوئے مزے سے بولا عینب اسے دیکھنے لگ گئی اور بغیر کچھ کہے اٹھ کر وہاں سے چلی گئی زہرون اسے جاتا دیکھنے لگا۔
*****
“نہیں آپ کمال کررہے ہیں میں ایک انجان اور نامحرم کیساتھ اپنی بیٹی کو ہرگز نہ بھیجو بلکل نہیں”
راحت بیگم بیڈ سے اٹھ کر یوسف صاحب کو دیکھتے ہوئے فوراً بولی غزلان رویش زرمیش اور عینب کمرے کے باہر کھڑے سب سن رہے تھے
“آپ کو کیا ہوگیا ہے راحت عجیب باتیں کررہی ہیں کچھ نہیں ہوتا”
وہ اسے دیکھتے ہوئے تھوڑے سرد لہجے میں کہنے لگے جس پر راحت بیگم انہیں دیکھتی رہ گئی
“میں عجیب باتیں کررہی ہوں وہ دونوں ایکدوسرے کے محرم ہوتے تو میں غزلان کو بھیج دیتی ایسی کبھی نہیں بھیجوں گی”
وہ بھی تھوڑا اونچا لہجہ اختیار کیے کہنے لگی نکاح کے نام پر باہر کھڑی غزلان کو شاک سا لگا
“نکاح غزلان کبھی نہیں مانے گی اور نہ ہی وہ”
یوسف صاحب انہیں بتانے لگے راحت بیگم اثبات میں سر ہلا گئی
“تو پھر ٹھیک ہے میری اجازت نہیں ہے اگر وہ جائے گی تو بھول جائے کوئی اسکی ماں ہے “
راحت بیگم اپنا فیصلہ سناتے ہوئے بیڈ پر بیٹھ گئی اور یوسف صاحب اپنا سر پکڑ کر رہ گئے
“میں تو کہتی ہوں کرلو غزلان نکاح”
رویش اسے دیکھتے ہوئے کہنے لگی جس پر غزلان نے اسے دیکھا اور کچھ کہے بغیر وہاں سے چلی گئی۔
*****
“میں آجاؤ غزلان”
یوسف صاحب کمرے کے دروازہ ناک کرتے ہوئے اجازت مانگنے لگے غزلان نے اثبات میں سر ہلا دیا
“بیٹا تمہاری مام نہیں مان رہی اور تم انہیں ناراض کرکے نہیں جاؤں گی”
وہ اسے دیکھتے ہوئے کہنے لگے جس پر غزلان اثبات میں سر ہلا گئی
“لیکن میرے لیے یہ کام کرنا اب لازم ہے مشن ہے میرے لیے میں نکاح کے لیے تیار ہوں”
وہ انہیں دیکھتے ہوئے فوراً بولی یوسف صاحب اسے دیکھنے لگ گئے
“سوچ لو”
یوسف صاحب اسے دیکھ کر پھر سے پوچھنے لگے غزلان انکے پاس سے اٹھی
“سوچ کر ہی یہ فیصلہ کیا ہے اور یہ نکاح بس مشن تک رہے گا مشن جیسے ختم نکاح بھی ویسے ختم”
غزلان سامنے لگی تصویر کو دیکھتے یوسف صاحب کو بتانے لگی وہ اسکی بات سمجھتے ہوئے اثبات میں سر ہلا گئے۔
“بہزاد سے بھی اس متعلق بات کرنی ہوگی پھر مجھے”
یوسف صاحب اسکی پیٹ کو تکتے ہوئے کہنے لگے غزلان نے اپنا چہرہ انکی جانب موڑا
“تو یہ ڈیل رکھے اسکے سامنے اس نے بھی تو بدلا لینا ہے درید سے تو وہ ضرور اس ڈیل کو منظور کرے گا”
غزلان انہیں دیکھتے ہوئے چہرے پر سنجیدہ تاثرات لیے بولی
“ٹھیک ہے”
وہ کہتے ساتھ کمرے سے باہر کی طرف چل دیا اور وہ انہیں جاتا دیکھنے لگ گئی
غزلان اپنی آنے والی زندگی میں کیا ہونے والا تھا اس سے خود بھی انجان تھی
******
“سر آپ کیسے کسی لڑکی کو اپنی زندگی کا حصہ”
ریاض گھبراتے ہوئے بہزاد کو مخاطب کرتے ہوئے دھیمی آواز میں حیرت سے پوچھنے لگا جب بہزاد نے ہاتھ کے اشارے سے اسے روکا
“وہ لڑکی زندگی کا حصہ نہیں اس مشن کا حصہ ہے جیسے مشن ختم وہ لڑکی کا چیپٹر ختم”
بہزاد سنجیدہ لہجے میں سیاہ نظریں درید کی تصویر پر اپنی سرخ انگارہ برستی آنکھیں مرکوز کیے کہنے لگا ریاض کے ہونٹ اسکے جواب پر آپس میں جیسے سل گئے۔
“میں اپنی منزل کے بہت قریب ہوں”
وہ اس تصویر کو نفرت بھری نظروں سے دیکھتے زہر خند لہجے اختیار کیے بولتے ساتھ جیب سے چاقو نکال کر اسے گھنا کر درید کی تصویر پر دے مارا اور ریاض اپنی سانس روکے اسکے پیچھے کھڑا تھا۔
“گو”
وہ ریاض کو سخت لہجے میں حکم صادر کرنے لگا وہ فوراً سے وہاں سے چلا گیا اور اس حیوان نے اس روشن کمرے کو اندھیرے میں کردیا۔
*******
“کیا نہیں کیسے غزلان مان سکتی ہے یقین نہیں آرہا مجھے”
رویش اور زرمیش نے عینب کو حیرت انگیز بات بتائی عینب فوراً اٹھ کھڑے ہوتے ہوئے بولی
“تم سچ بول رہی ہو”
وہ غصے سے دونوں کو دیکھتے ہوئے کہنے لگی جس زرمیش نے اثبات میں سر ہلا دیا جس پر عینب کوئی جواب دیے بغیر باہر کی طرف بڑھی اور نظر غزلان پر گئی
“آر یو سریس”
عینب اسکے سامنے آکر کھڑے ہوتے سرد لہجے میں پوچھنے لگی غزلان کو اپنی کچھ سوچوں میں گم تھی عینب کی آواز سے ہوش کی دنیا میں آئی
“کیا”
وہ ائبرو اچکا کر سنجیدگی سے اسے دیکھے بغیر پوچھنے لگی جب عینب نے اسکا رخ اپنی طرف کیا
“تم نکاح کررہی ہو”
وہ غصے سے اسے دیکھتے ہوئے بولی غزلان اثبات میں سر ہلا گئی
“مگر کیوں کس لیے”
عینب کو واقع حیرت ہوئی وہ جھنجھلائے ہوئے لہجے میں پوچھنے لگی
“میری لائف ہے میری مرضی “
غزلان نے اب کی بار غصے سے اسے جواب دیا یوسف صاحب خاموشی سے غزلان کو دیکھ رہے تھے زرمیش اور رویش بھی خاموش کھڑی تھی
“تم کسی مرد کی ہونے جارہی ہو”
عینب نے ایک بار پھر اسی متعلق سوال کیا جس پر غزلان اسے دیکھنے لگ گئی
“عینب جب اس نے کہ دیا ہے کہ وہ مان گئی ہے تو تمہیں کیوں بار بار پوچھ رہی ہو”
راحت بیگم فوراً بیچ میں مداخلت کرتے ہوئے تھوڑا غصے سے بولی عینب اثبات میں سر ہلاتے ہوئے راحت بیگم کو دیکھنے لگی
“میں کون ہوتی ہوں بولنے والی”
عینب انتہائی سرد لہجے میں کہتے ساتھ غصے سے اپنے کمرے کی جانب بڑھ گئی سب اسے جاتا دیکھنے لگ گئے
جاری ہے
_____________
