280.4K
41

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Black Love) Episode 39

عینب اور وہ جیسے فارم ہاوس پہنچے اندر آئے تو وہ ٹی وی لاؤنچ میں موجود ویسے ہی پڑا تھا
عینب نے جیسے اسے دیکھا اسکے سامنے وہ اسکی زندگی کا سب سے بھیانک کسی فلم کی طرح آنکھیں کے سامنے آیا اسکی آنکھیں نم ہو گئی اسکی آنکھوں میں اس شخص کیلیے نفرت کی انتہائی تھی زہرون اسے دیکھ رہا تھا
“اسے اپنے ہاتھوں سے ختم کرکے بدلہ لو”
زہرون انتہائی سرد لہجے میں چیخ کر بولا عینب نے اسے دیکھا
“اسے اپنے ہاتھوں سے ہی ماروں گی اس شخص نے میری زندگی برباد مجھ پر داغ لگایا ہے ایسے گناہ کی سزا مجھے دی جس میں بےگناہ تھی”
وہ سرد لہجے میں ہر لفظ چبا چبا کر بولتے ساتھ جیب سے گن نکال گئی وہ شخص گھبرا کر اسے دیکھنے لگا
“صرف میرے ساتھ نہیں ناجانے کتنی لڑکیوں کو زیادتی کا نشانہ بنایا ہوگا تم نے “
نفرت بھرے لہجے میں بولتے ساتھ گن کا رخ اسکے سامنے کیا وہ شخص نفی میں سر ہلایا
“بہت انتظار کیا تھا اس دن کا میں نے”
وہ اسے دیکھتے ہوئے آنکھوں میں چمک لیے بولتے ساتھ ٹریگر پر ہاتھ رکھتی اسے دبا گئی سیدھا بولی سینے پر لگی ایک بار پھر وہی عمل عینب نے دوہرایا زہرون خاموشی سے کھڑا دیکھ رہا تھا وہ شخص تڑپتے کانپتے بےجان ہوگیا عینب نے گن پھینک دی
زہرون نے اپنے ادمی کو بلایا اور اسکی لاش ٹھکانے لگانے کا بولا جس پر وہ اسکا حکم مسکرا اس بےجان وجود کو لیتا چلا گیا
عینب صوفے پر بیٹھے رونے کر رونے لگ گئی زہرون گھٹنوں کے بل بیٹھ کر اسکے چہرے کو دیکھنے لگا
“میری زندگی برباد کی اس شخص نے”
وہ نم آنکھوں سے اسے دیکھتے ہوئے اداسی سے بولی
“اور اب یہ شخص تمہاری زندگی بہت حسین بنائے گا”
زہرون اپنی انگلیوں کے پوروں سے اسکے پونچھتے بہت نرمی سے بولا تھا جس پر وہ ہلکا سا مسکرائی تھی
“آئی لو یو”
وہ ہونٹوں پر مسکراہٹ سجائے اسکے ہاتھ تھامے بولی زہرون کے لب مسکرائے
“ہائے ایک یہی آئی لو یو سننے کیلیے کتنا انتظار کیا میں نے”
وہ مسکراتے ہوئے بولتے ساتھ اسکے چہرے کے قریب اپنا چہرہ چہرہ عینب کی دھڑکنیں اک دم تیز ہو گئی وہ اسکے ہونٹوں پر فوکس کہے اسکے لبوں پر جھک گیا عینب آنکھیں اور سے بند کر گئی اسکا وجود ہلکا سا کانپ رہا تھا زہرون نے شدت سے اسکے لبوں پر اپنے لبوں کا لمس محسوس کروایا اور اسکی سانسیں اپنے میں قید کرلی
“عینب زہرون یہ عام سا عاشق تم سے عشق پاگلوں کی طرح کرتا ہے اور کرے گا اور اب وعدہ کرتا ہوں تمہیں ساری زندگی خوش رکھوں گا”
اسکے چہرے پر گہری نظریں جمائے شدت جذبات سے بولتے ساتھ اسکی گردن پر جھکا اسکے لمس محسوس کرکے عینب کی ریڑھ کی ہڈی میں اک سنسناہٹ سی دوڑی۔


بہزاد دو دن سے ہسپتال میں موجود تھا ابھی اسکے زخم ٹھیک نہیں ہوا تھا داڑھی مزید بڑھ گئی تھی بال بکھرے ہوئے تھے آنکھوں کے نیچے ہلکے مگر وہ ایسے بھی بہت کشش لگ رہا تھا یونیب اسکے پاس موجود تھا اور اسکا خیال رکھ رہا تھا یوسف صاحب ہر روز آکر اسکی طبیعت کا معلوم کر جاتے تھے گھر میں رویش اور زرمیش مل کر راحت بیگم کا خیال رکھ رہے تھے ۔
کشمالہ کی ماں غزلان کا علاج کررہی تھی اسکے ہاتھوں پیروں کو حرکت کروانے کی کوشش کر رہی تگ اسکی سانسیں ابھی چل دی تھی مگر ہوش یا کوئی حرکت وہ نہین کر پارہی تھی کشمالہ اسکے ہوش میں آنے کیلیے بہت زیادہ دعائیں کررہی تھی مگر ابھی وہ ہوش میں نہیں آئی تھی۔
اسی طرح لگتی گزر گیا بہزاد ڈسچارج ہوچکا ہے یونیب زبردستی اسے یوسف ہاوس لے آیا کیونکہ اسے کسی بھی حالت میں اکیلا نہیں چھوڑ سکتا تھا وہ یہاں بھی پورا پوتا دن کمرے میں رہتا تھا تین دن سے شام میں اس امید سے وہ اسی جگہ پہنچ جاتا جہاں غزلان کھائی میں گری تھی کہ کاش وہ آجائے مگر ایسا نہیں ہوتا تھا
وہاں غزلان کا جسم ہلکا ہلکا حرکت کرنا شروع ہو چکا تھا اور آنکھیں بھی کھلی تھی لیک ایک ہی جگہ لیٹی ہوئی تھی نہ کچھ بول رہی تھی نہ اٹھ پا رہی تھی خون بھی جسم سے نکلنا کم ہوگیا تھا کشمالہ اسے فریش جوس روز بنا کر ہلا رہی تھی جس سے خون کی کمی کم ہورہی تھی
دن اسی طرح گزرتے گئے اور پندرہ دن ہو چکے تھے اس واقع کو بہزاد حویلی نہیں گیا تھا اگر جاتا تو شدت سے اسکی یاد آتی تھی اسکی کمی محسوس ہوتی تھی اسے تکلیف ہوتی تھی اس لیے حویلی جانے کے بجائے کچھ وقت وہ باہر پیدل چل کر گزار دیتا تھا
“اففف یار کیا لڑکی ہے”
دو اوارہ کرکے وہاں سے گزر رہے تھے سامنے ایک لڑکی کھڑی شاید ٹیکسی کا انتظار کررہی تبھی اسکا مکمل جائزہ لیتے وہ مسکرا کر کمینگی سے بولے بہزاد نے مڑ کر دیکھا
لڑکی گھبرا رہی دے اور وہ اس پر کمنٹس پاس کیے جارہے تھے وہ گھبرا ہوئے آگے بڑھ گئی بہزاد ان دونوں کی جانب بڑھا اور ایک کے کندھے پر اپنا پتھر جیسا ہاتھ رکھ کر دباو ڈالا اس لڑکے کے کندھے پر درد ہوا اس نے مڑ کر دیکھا سامنے موجود شخص کی آنکھیں اس قدر سرد اور سرخ تھی کہ کانپنے میں مجبور ہوگئے دوسرا کی بھی ٹانگیں تھر تھر کانپنے لگ گئے وہ انہیں سیاہ سرد سرخ آنکھوں سے دیکھی جیب سے چاقو نکال اسے گھمانے لگا
“بب۔۔ببیسٹ”
دونوں کانپتے لبوں اور کانپتے وجود سے خوف سے بولے اور بھاگنے کی کوشش کرنے لگے ایک کے بازو پر چاقو اور دوسرے کو گردن کی انتہائی سختی سے روبچا دونوں کی سانس رک گئی
“بلیک بیسٹ”
کہتے ساتھ دونوں کو دھکا دے کر زمین پر برا گیا جسے کا گلہ پکڑا تھا وہ گلہ کھنکھاڑنے لگا اور فورا وہاں سے بھاگ نے میں بہتری سمجھی چاقو سے خون صاف کرتا وہ واپس میں جیب میں رکھتا وہی پھر سے ٹہلنے لگ گیا۔


“کھانا کھا لو یونیب”
وہ ٹرے ہاتھ میں تھامے کمرے میں آتے ہوئے اسے دیکھتے ہوئے بولی یونیب جو بیڈ کراون سے سر ٹکائے ہوئے تھا اسکی اواز پر سیدھا ہوا
“تم نے کھایا”
اسے دیکھتے نرمی سے مخاطب ہوا رویش نفی میں سر ہلا گئی
“ادھر آؤ”
ٹرے اسکے ہاتھ سے لیتا اپنی گود میں بٹھانے لگا رویش بیٹھ گئی اسے دیکھا یونیب نے نوالہ بنا کر اسکی جانب کیا رویش ہلکا سا مسکراتے ہوئے کھانے لگی اب کی بار رویش نے نوالہ توڑ کر یونیب کو کھلایا اس طرح دونوں نے ایک دوسرے کو کھانا کھلایا اور یونیب نے اسکے ماتھے پر لب رکھ رہے اور ساری تھکاوٹ جیسے ایکدم ختم ہو گئی رویش اسے دیکھ رہی تھی
“تم میری زندگی کا سب سے حسین تحفہ ہو”
رویش اسکی ناک سے ناک مس کرتی پیار سے بولی یونیب ہلکا سا مسکرایا اور اسے خود میں بھیجا تھا رویش اسکے قریب محسوس کرکے پہلے سے بہت بہتر تھی


آج عینب کچن میں موجود تھی اور زہرون کیلیے اپنے ہاتھوں سے خود ناشتہ بنا رہی تھی چہرے پر خوشی صاف ظاہر تھی
تبھی زہرون نے اسے پیچھے سے حصار میں قید کیا اور اسکی گردن پر جھکا
“زہرون پیچھے ہو اور ڈائننگ پر بیٹھو میں ناشتہ لگا رہی”
وہ اسے دیکھ کر مسکراتے ہوئے بولتے ساتھ پلیٹ میں بریڈ نکالنے لگی
“مجھے تمہارے قریب رہنا ہے”
وہ اسکے کندھے پر سر رکھتا گھمبیر اواز میں بولا عینب نے گھور کر اسے دیکھا اور چھڑی اسے دیکھائی
“استغفراللہ توبہ یار میں جارہا ہوں”
فورا سے سیدھا ہوتا وہ ڈائننگ پر بیٹھ گیا اور عینب مسکراتے ہوئے سارا ناشتہ ڈائننگ پر لگانے لگی چہرے پر ہاتھ رکھے وہ اسکے پر انداز پر غور کررہا تھا وہ بھی مسکراتے ہوئے اسی دیکھنے لگی اور ناشتہ کرنے لگ گئی زہرون آگے ہوکر اسکی لبوں کو چھوتا واپس جگہ پر بیٹھا اور عینب ساکت ہو گئی زہرون مسکرایا


ایک مہینہ گزر چکا تھا غزلان اب پہلے سے بہتر تھی زخم میں درد تھا مگر اٹھ بھی سک رہی بھی رہی تھی اور جسم حرکت بھی کر رہا تھا
وہ خاموش بیٹھی تھی تبھی کشمالہ اسکے پاس آئی غزلان نے اسے دیکھا
“کیسی ہے طبیعت آپ کی”
مسکراتے ہوئے اسے دیکھ کر پوچھنے لگی غزلان اثبات میں سر ہلا گئی
“غزلان بیٹا یہ پی لو زخم جلدی ٹھیک ہو جائے گا”
کشمالہ کی سکتی کوئی قہوہ بنا کر لاتے ہوئے اسکی جانب کیا غزلان نے خاموشی سے پی لیا
“مجھے جانا ہے پلیززززز آنٹی اور کشمالہ جانا دیں میری فیملی کے پاس جانا امپورٹنٹ ٹھیک ہوں میں”
وہ قہوہ پینے کے بعد مسکراتے ہوئے انہیں دیکھتے ہوئے بولی جس پر وہ دونوں خاموش ہو گئی
“پلیززززز”
غزلان نے ایک بار پھر منٹ کی جس پر وہ اثبات میں سر ہلا گئے غزلان خوش ہوئی
“بہت شکریہ میری جان بچانے کا میرا خیال رکھنے کا آپ دونوں کو کبھی بھی میری ضرورت ہو ہمیشہ یاد رکھیے گا”
مسکراتے ہوئے وہ ان دونوں سے بول کر اٹھ جسم میں. درد کی ایک لہر دوڑی مگر برداشت کرگئی
“میں وہاں تک آپ کیساتھ چلتی ہوں جہاں آپ کو گولی لگی تھی آگے پھر چلی جانا آپ”
کشمالہ فورا سے اٹھ کر بولی غزلان اسکی بات مان گئی اور اسکی والدہ کو اللہ حافظ کرتی وہ دونوں چل دی غزلان بہت تیزی سے قدم اٹھا رہی تھی
کچھ ہی دیر چلنے سے وہ اس جگہ پہنچ گئے غزلان اور کشمالہ کے قدم رکے
“اب تم جاؤ آنٹی پریشان ہوجائے گی”
غزلان اسے سمجھاتے ہوئے بولتے ساتھ آگے بڑھ گئی اور کشمالہ خاموشی سے اثبات میں سر ہلا گئی
“خیال رکھیے گا”
کشمالہ مسکراتے ہوئے اسے بولی غزلان بھی مسکرا کر اثبات میں سر ہلا گئی اور دونوں اپنے اپنے راستے چل دی
وہ مسلسل چل رہی تھی ایک نشائی کی نظر اس پر گئی غزلان کا پورا جسم میں درد ہورہا تھا وہ بامشکل قدم اٹھا سک رہی تھی نشائی کو اپنے قریب آتا دیکھ وہ پریشان ہوئی وہ لڑتی اسے مار دیتی مگر اس میں ہمت نہیں تھی اس لیے وہاں سے بھاگنے میں بہتری سمجھی
“اوہ حسینہ رک تو”
نشے میں دھت وہ حوس بھری نظروں سے دیکھ اسے ہنس کر بولا غزلان مزید تیز بھاگ نے زخم کا درد بڑھتا جارہا تھا اور وہ چہرہ پیچھے موڑ بس بھاگ رہی تھی
بہزاد ایسے ہی جیب میں ٹہل رہا تھا جب کوئی وجود سیدھا اس کے سینے سے آ ٹکرایا بہزاد اپنی جگہ ساکت ہو گیا تھا
“بہزاد”
اسکے سینے سے سر ٹکائے وہ اسکی خوشبو سے ہی اسے پہچان گئی تھی بہزاد کے کانوں سے جیسے اس کی اواز ٹکرائی اس کی ہارٹ بیٹ مس ہوئی کچھ وقت پل تھم سا گیا تھا
“غزلان تم ٹھیک ہو تم کہاں تھی”
بہزاد اسکا چہرہ اٹھائے اسکے چہرے پر دونوں ہاتھ رکھے لہجے میں فکرمندی لیے اسکے چہرے کو غور سے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگا غزلان کے لب ہلکے سے مسکرائے
“میں ٹھیک ہوں”
وہ اسے دیکھتے ہوئے مسکرا کر بولی بہزاد نے اسے زور سے سینے میں بھیجا ایک دوسرے کو اپنے قریب محسوس کر جیسے دونوں کی جان میں جان آ گئی تھی
“اپنی غزلان کو اپنی آنکھوں کے سامنے بلکل ٹھیک کھڑا دیکھ اس کے اندر سکون سا اترا تھا”
“مس کیا مجھے”
اسکے سینے میں منہ چھپائے نم آنکھوں سے بولی بہزاد کی اس کے گرد مزید مضبوط ہوئی
“میں تمہارے بغیر ادھورا ہوں مجھ سے دور جانے کا سوچنا بھی مت ورنہ میری جان چل”
بہزاد شدت سے بھرے لہجے میں اسکے کان میں سرگوشی کرتے ہوئے بولا جب غزلان نے سر اٹھا کر نم آنکھوں سے گھورا وہ اسکے اس طرح گھورنے پر خاموش ہوکر مسکرا دیا غزلان ویسے ہی گھور رہی تھی بہزاد نے اسکی پیشانی پر لب رکھے غزلان آنکھیں بند کیے اسکے لمس سے سکون محسوس کررہی تھی
دونوں کی سانسیں ایک دوسرے کیساتھ ہونے سے چلتی تھی۔
جاری ہے۔۔
ہاں جی تو کیسی لگی قسط اور پھر آپ کی پیاری رائٹر نے کتنی اچھی قسط دی ہے اب میرے پیارے ریڈڈر اپنی رائٹر کو خوش کریں اور مجھے سکینڈ لاسٹ پر کل ہی چار سو لائکس اور پیارے پیارے کمنٹس چاہیے