Black Love By Mahnoor Shehzaad Readelle50302 (Black Love) Episode 38 part 1
Rate this Novel
(Black Love) Episode 38 part 1
“چلیں روم میں”
بہزاد غزلان کی جانب دیکھ پوچھنے لگا جو اس کے سینے سے ڈر ٹکائے آدھی نیند میں تھی
“ہمم مگر آپ مجھے اٹھا کر لے جائیں میں نہیں چل سکتی”
وہ اسکی جانب چہرہ کیے نیند سے سرخ ہوتی آنکھوں سے بولی بہزاد نے اسے باہوں میں اٹھایا اور اسے دیکھنے لگا جو آدھی بند ہوتے آنکھوں سے مسکرا کر اسے دیکھ رہی تھی
“کبھی کبھی آپ بہت پیارے ہینڈسم اور کیرنگ لگتے ہو کبھی آپ بیڈ میں حیوان لگتے ہو کیوں”
وہ اسے دیکھتے ہوئے نیند میں ڈوبی اواز میں پوچھنے لگی بہزاد کے لب ہلکے سے مسکرائے
“دونوں چہروں سے واقف رکھتا ہوں”
اطمینان سے جواب دیتا کمرے میں لایا غزلان نے اسکی گردن پر گدگدی کی جس پر بہزاد نے اسے گھوری سے نوازا
“نہ میں نہیں ڈرتی بیکوز آئی ایم مسز بہزاد”
اسکی گھوری کا بغیر اثر لیے وہ مسکراتے ہوئے بول کر آنکھیں موند گئی بہزاد نے اسکی شہ رگ پر لب رکھے اور اسے نظروں کے حصار میں لیے ناجانے کب تک بیٹھا رہا تھا۔
رات سے صبح ہو چکی تھی وہ ویسا ساکت بیٹھا نظریں اسی جگہ ٹکائے ہوئے تھا یر لمحے وہ اسے یاد کررہا تھا ریاض اس کے پاس وہی موجود تھا رات کا ایک ایک سکینڈ اس کے لیے بامشکل گزرا تھا صرف ایک رات وہ اس کے بغیر بامشکل گزار سکا تھا تو ساری زندگی تو ناممکن سی بات تھی
“تو آپ کو میری جان سے کیا کہیں مجھے کھونے سے ڈرنے تو نہیں لگے”
غزلان کے کہے گئے الفاظ بہزاد کے کانوں سے ٹکرائے تھے وہ سیاہ آنکھیں بند کر گیا تھا بال بکھرے ہوئے تھے سیاہ آنکھیں پوری رات جاگنے سے سرخ تھی بلکل کوئی دیوانہ سا لگ رہا تھا۔
صبح رویش اور عینب اٹھے اور ناشتہ کی تیاری کرنے لگے مل کر ناشتہ بنانے کر وہ دونوں راحت بیگم کے کمرے کی جانب بڑھے جو بیڈ کراون سے ٹیک لگائے ساکت بیٹھی دونوں کی آنکھیں نم ہو گئی مگر دونوں کو مضبوط بننا تھا
“گڈ مارننگ مام”
دونوں لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ سجائے بولی ان کی اواز پر وہ ہوش میں آئی
“چلیں ناشتہ کرلیں میں نے اور عینب نے اپنے ہاتھوں سے بنایا ہے”
مسکراتے ہوئے انہیں دیکھ کر رویش بولی جس پر راحت نے دونوں پر نظر ڈالی
“مجھے بھوک نہیں پھر کبھی”
وہ نم آنکھوں سے کہتے ساتھ نظریں جھکا گئی اور وہ دونوں ایک دوسرے کو دیکھنے لگ گئی
“مام آپ کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے اگر آپ نے کھانا نہیں کھایا تو زیادہ خراب ہوجائے گی آپ ضد نہ کریں کھا لیں ڈیڈ بھی کتنے پریشان ہیں “
عینب پیار سے راحت بیگم کو سمجھاتے ہوئے اسے بولی جس پر وہ خاموشی سے رویش کے ہاتھوں سے کھانے لگ گئی عینب ہلکا سا مسکرائی اور وہاں سے اٹھ کر چلی گئی ان کے سامنے کمزور نہیں پڑ سکتی تھی۔
وہ اپنے کمرے کی بیلکونی میں آئی آنسو بہاتے ساتھ آنکھیں موند گئی
“کھایا آنٹی نے کھانا”
رویش کو کمرے میں آتا دیکھ یونیب پوچھنے لگا جس پر رویش نے اثبات میں سر ہلا دیا
“تم ادھر آؤ”
اسے بیڈ پر بیٹھنے کا اشارہ کرتا وہ نرمی سے بولا رویش خاموشی سے بیٹھ گئی
“تم بھی کچھ کھا لو”
کہتے ساتھ یونیب نے بریک پر بٹر لگا کر اسکی جانب کیا جس پر وہ اسے دیکھنے لگی
“بھوک نہیں”
وہ نم آنکھوں سے سر جھٹک کر بولی یونیب نے اس کے چہرے پر آئے بالوں کو کان کے پیچھے دیا
“میرے لیے”
وہ اسے دیکھتے ہوئے چہرے پر ہاتھ رکھے پیار سے مخاطب ہوا جس پر رویش خاموشی سے کھانے لگ گئی یونیب کے ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آئی
“بہزاد بھائی ٹھیک تو ہوں گے”
رویش بریڈ کھانے کے بعد فکرمندی سے پوچھنے لگی یونیب نے اسے دیکھا
“نہیں”
وہ سنجیدگی سے جواب دیتا اسے جوس ہلانے لگا رویش اسے دیکھ رہی تھی
“آپ کو جانا چاہیے تھا یونیب ان کے پاس”
وہ اسے دیکھتے ہوئے جوس پینے کے بعد یونیب اثبات میں سر ہلا گیا
“بس جارہا”
کہتے ساتھ ٹرے سائیڈ پر کرتا اس کے ماتھے پر لب رکھے وہ باہر کی طرف بڑھ گیا رویش اسے جاتا دیکھنے لگ گئی
یوسف ہاوس بلکل خاموشی میں چھایا ہوا تھا جیسی اس گھر میں قیامت سی آنکھیں گئی تھی۔
“آپ کا مجرم آپ کے سامنے ہے سر”
ڈیٹیکو زہرون کی جانب دیکھتے ہوئے اور پھر سامنے اس شخص کو دیکھ بولا زہرون آنکھوں میں نفرت لیے اسے دیکھ رہا تھا کمزور اس شخص آنکھوں کے نیچے ہلکے نشے میں دھت بکھرے بال وہ واقع ایک حوس پرست شخص لگ رہا تھا زہرون نے ڈیکٹیو کو وہاں سے جانے کا اشارہ کیا وہ خاموشی سے چلا گیا
“کتنی لڑکیوں کو زیادتی کا نشانہ بنایا ہوا ہے”
وہ انتہائی سرد لہجے میں اسے سرد نگاہوں سے گھورتے پوچھنے لگا وہ نشے میں دھت سر اٹھا کر اسے دیکھنے لگا زہرون بغیر اس کی سنے اسے گربیان سے پکڑے گاڑی کی جانب بھاری قدم اٹھا گیا اسے گاڑی میں دھکا دیتے وہ گاڑی لاک کرکے ڈرائیو سیٹ سنبھال فام ہاوس کی جانب بڑھ گیا گاڑی کی رفتار بہت تیز رکھی تھی
فام ہاوس پہنچتے ہی اس نے گاڑی روک اسے نکالا اور فام ہاوس میں لے جا کر اسکے بھاری وجود کو زمین پر پھینکا اس شخص کو سر زمین سے ٹکرایا اسے تھوڑا ہوش آیا
“ککون ہے بے تو”
تھوڑا گھبرا کر اسے دیکھ پوچھنے لگا زہرون سرخ آنکھوں سے اسے دیکھ رہا تھا
“وہ جس کی بیوی کیساتھ تو نے زیادتی کی تھی اسے ختم کردیا تھا آج بدلہ لے کر رہوں گا”
غصے سے سرخ آنکھوں سے ہر لفظ چبا کر بولتا وہ اسے پریشان کر گیا وہ گھبرا کر اسے دیکھ رہا تھا
“آج تجھے موت دوں گا تو ساری زندگی یاد رکھے گا”
غصے سے غرا کر بولتے ساتھ وہ اسے وہی چھوڑ کر فام ہاوس کام کرتا گاڑی میں بیٹھ یوسف صاحب کے گھر کی جانب بڑھ گیا
فام ہاوس چھوٹا سا تھا وہاں سے نکلنے کا کوئی راستہ بھی نہیں تھا اس لیے وہ اسے وہاں ایسی چھوڑ آیا تھا۔
دوپہر ہو چکی تھی دو عورتیں اس کھائی والے علاقے سے گزر رہی تھے جب ان کی نظر ایک لڑکی جو درخت سے چپکی غیر حالت میں پڑی تھی خون اسکے پورے جسم پر تھا بےہوش اور زخمی تھی وہ دونوں اس طرف بڑھے تھے
“امی یہ تو غزلان آپی ہے جنہوں نے مجھے اس بڑھے شخص سے بچایا تھا یاد ہے آپ کو کچھ دن فلیٹ میں رہی تھی انہوں نے بچایا تھا کیا ہوا انہیں”
وہ لڑکی غزلان کا چہرہ فورا سے یاد کرتی اپنی ماں کو بتانے لگی اسکی ماں بھی پریشان ہوئی
“شاید مر چکی ہیں یہ”
کہتے ساتھ اسکے ہاتھ کی نبس چیک کرنے لگی وہ لڑکی پریشانی سے اسے دیکھ رہی تھی
“بہت ہلکی ہلکی اس کی دل کی دھڑکن چل رہی تھی دس پرسنٹ زندہ ہے”
اس کی ماں نبس چیک کرنے کے بعد اسے بتانے لگی وہ لڑکی پریشان ہوئی
“امی پلیززززز آپ کسی طرح جڑی بوٹیوں سے انکی جان بچا لیں آپ دائی ہیں”
وہ بےبسی سے اپنی کی منتیں کرتے ہوئے بولی جس پر وہ اس سے دیکھ کر پھر غزلان کو بامشکل اٹھانے دونوں نے مل کر اس بےجان سے وجود کو اٹھایا جو بلکل حرکت نہیں کر رہا تھا
وہ بامشکل اسے سہارا دیے گھر کی جانب بڑھ گئے اور گھر اتے ہی اسے چارپائی پر لٹا دیا دونوں اسکے گرد بیٹھ گئے اس لڑکی جس کا کشمالہ تھا اسکی ماں غزلان کا ٹھیک سے معائنہ کرنے لگی اور کشمالہ کو کچھ جڑی بوٹیوں لانے کا بولا وہ اثبات میں سر ہلا کر فورا اندر کی جانب بڑھی تھی
“بہزاد اٹھو بہت ہوا”
خان اسکے پاس موجود اس کا کاتھ تھامے بولا بہزاد نے اسکے ہاتھ ہاتھ جھٹکا یونیب اسے دیکھنے لگا
“خود آجاؤ گا”
سنجیدگی سے کہتے ساتھ چابی جیب سے نکال کر گاڑی کی جانب بڑھ گیا یونیب نے ریاض جو اشارہ کیا وہ اثبات میں سر ہلا کر دوسری گاڑی اسکے پیچھے لگائے چل دیا
بہزاد بہت ہی تیز رفتار سے گاڑی چلا رہا تھا اس قدر کے گاڑی کی بریکس بھی فیل ہو سکتی تھی
“اللہ پلیززززز واپس لادو اسے”
بہزاد نے شدت سے آنکھیں بند کیے دعا مانگی تھی اور آنکھیں کھول سامنے دیکھا گاڑی ان بیلنس ہوئی اور کار درخت سے جا لگی بہزاد کا سر سٹرینگ پر لگا وہ خون بہنے ریاض فورا گاڑی روکے پریشانی سے اترا
“سر سر”
وہ پریشانی سے اسکی گاڑی کے قریب اسکا سر اٹھا کر اسے ہوش میں. لانے کی کوشش کرنا لگا مگر وہ ویسے ہی سیٹ سے ٹکائے آنکھیں موندے بےہوش تھا
ریاض نے فون نکالا اور یونیب کو ملایا ساری بات سے آگاہ کیا وہ آنے کا بولتا فون رکھ گیا
” یہ عشق اگر روح سے ہوتا ہے جب وہ چھوڑتا ہے
تو کمبخت دوسرے کو تباہ کر دیتا ہے”💔
جاری ہے۔
