Black Love By Mahnoor Shehzaad Readelle50302 (Black Love) Episode 37
Rate this Novel
(Black Love) Episode 37
بہزاد اسے ساکت کھڑا دیکھ رہا تھا آنکھوں کے سامنے اندھیرا سا چھایا
تبھی یوسف صاحب یونیب اور زہرون ہہنچ گئے سامنے کا منظر دیکھ تینوں کے قدم وہی ٹھہر گئے
غزلان مسکراتے ہوئے بہزاد کی جانب دیکھنے لگی جو بت بنا اسی کو دیکھ رہا تھا
“زرمیش کو بچا لینا”
وہ لبوں پر مسکراہٹ سجائے بولی تبھی حامد قریشی نے ایک اور گولی اسکی بازو پر ماری وہ لڑکھڑائی کھائی کی طرف گرنے لگی
“غزلاننننننن”
بہزاد کی چیخ اس قدر اونچی تھی وہاں موجود ہر ایک نفوس اس اونچی اواز میں سہم گیا بہزاد کو اپنا سانس بند ہوتا محسوس ہوا تھا اسکے قریب رہنے سے اسکی سانسیں چلتی تھی اپنے عشق اپنے جنون کو خود سے دور جاتا محسوس کرکے بہزاد کو اپنی جان جاتی نظر آرہی تھی وہ اس طرف بڑھا مگر غزلان کا نام و نشان بھی نہیں تھا یوسف صاحب جہاں کھڑے تھے وہی کھڑے رہ گئے یونیب بہزاد کو اس قدر تکلیف میں دیکھ وہی اسٹل ہو گیا اور زہرون کے ہاتھ میں موجود فون زمین پر گر گیا تھا دھچکا ہی اتنا بڑا لگا تھا
“آج میں نے بہزاد بیگ کو تباہ کردیا آج میں نے اپنا بدلہ پورا کیا”
حامد قریشی لبوں پر فاتحانہ مسکراہٹ سجائے خوشی سے بولا بہزاد نے سرخ انگارہ برستی آنکھوں سے اسے دیکھا تھا
بہزاد جیب سے چاقو نکال کر اسکی جانب بڑھا اور چاقو پیٹ میں گھسا کر نکالا حامد قریشی درد سے کراہ گیا اسکی وحشت بھری آنکھیں حامد کو کانپنے میں مجبور کر رہی تھی دس بات بہزاد نے اسکے ساتھ یہی عمل کیا سب پریشان کھڑے تھے بہزاد اسوقت کوئی وحشی درندہ لگ رہا تھا اسکے الفاظ میں وہ بلیک بیسٹ بن گیا اسکے آدمی گھبراتے ہوئے وہاں سے بھاگ گئی مگر یونیب زہرون انہیں روک کر انکی درگت بنانے لگ گئے
یوسف صاحب کو زرمیش کا خیال اسے اندر سے لانے کیلیے بڑھے اسے آرام سے باہر لے آئے زرمیش کو تسلی ہوئی باہر آئی زہرون یونیب بہزاد یوسف صاحب سب موجود مگر غزلان اسے کئی نظر نہیں آئی
“غزلان آپی”
زرمیش نے یوسف صاحب کی جانب دیکھتے ہوئے پوچھا جس پر یوسف صاحب کی آنکھیں نم ہو گئی
“ڈیڈ آپی ٹھیک تو ہیں”
انہیں یہ روتا دیکھ زرمیش کو خطرہ محسوس ہوا فکرمندی سے پوچھنے لگی یوسف صاحب نفی میں سر ہلا گئے اور زرمیش کو پیروں سے زمین نکلتی ہوئی محسوس ہوئی
بہزاد یونیب زہرون حامد قریشی اور اسکے آدمیوں کا کام تمام کر چکے تھے بہزاد فورا اس جانب بڑھا اور نیچے کی جانب کودنے لگا
“بہزاد تم پاگل ہورہے ہو”
یونیب کی نظر اس پر گئی فورا اس طرف بڑھ کر سے کودنے سے روکتا ہوا نیچے گھسیٹ کر بولا
“مجھے غزلان کو بچانا ہے سمجھے”
قہر برستی سرخ آنکھوں سے اسے دیکھتے ہی وہ واپس سے بڑھا
“نیچے سے چل کر ڈھونڈتے ہیں وہ دیکھو راستہ”
یونیب اسے پھر سے روکتا نیچے کی طرف اشارہ کرتا ہوا بولا بہزاد بغیر کچھ کہے تیزی سے اس طرف بڑھا یونیب بھی پیچھے آیا وہ تینوں وہی کھڑے تھے
“غزلان غزلان”
بہزاد نیچے آتا اس جنگل جیسی جگہ پر چلا چلا کر اسے ناجانے کتنی بار پیار چکا تھا اسکا گلہ بیٹھ گیا تھا
“بہزاد وہ کہی نہیں ہے شاید اسکا تمہارے ساتھ یہی تک تھا”
یونیب بہت ہمت کرکے بہزاد کے کندھے پر ہاتھ رکھے بولا بہزاد اسے دیکھنے لگا
“پاگل ہو تم وعدہ کیا تھا زندگی بھر ساتھ نبھانے کا نہیں وہ مجھے نہیں چھوڑ کر جا سکتی “
بہزاد کی آنکھوں میں یونیب غزلان کے دور جانے کا خوف صاف محسوس کرسکتا تھا اسکی بات پر غصے سے کہتے ساتھ آگے کی جانب. بڑھا اور ڈھونڈنے لگا
انہیں غزلان کو ڈھونڈتے ڈھونڈتے گھنٹہ ہو چکا تھا وہ ہر جگہ دیکھ چکے تھے مگر غزلان نہیں ملی تھی اب تو بہزاد نے بھی امید چھوڑ دی تھی تھک ہار کر بہزاد وہی بیٹھ گیا
“مجھے واقع خوشیاں زیادہ وقت راس نہیں”
بہزاد کی آنکھ سے ناجانے کتنے وقت بعد آنسو نکا تھا ناامیدی سے بولتا وہ سر جھٹک گیا یونیب اسکی حالت دیکھ کر فورا اسکے سینے سے آ لگا تھا اور بہت مشکل سے اسے واپس اس جگہ لایا جہاں تینوں موجود تھے زرمیش اور یوسف صاحب آنسو بہا رہے تھے اور زہرون خاموش کھڑا تھا
“گھر چلنا چاہیے”
یونیب ان تینوں کو دیکھتے ہوئے سنجیدگی سے بولا سب بول چھوٹے چھوٹے قدم اٹھائے چلنے لگی
“غزلان آپی ہمیں ایسی نہیں چھوڑ کر جا سکتی وہ یہی کہیں ہوگی دیکھیں بہزاد بھائی ڈھونڈیں انہیں”
زرمیش اونچی اواز چلاتے ہوئے تو کر بولنے لگی بہزاد اس جگہ کو دیکھ رہا تھا جہاں کچھ دیر پہلے غزلان موجود تھی جس نے اپنی جان پر کھیل کر اسکی جان بچائی تھی مگر ایسی بچانے کا کیا فائدہ جس میں اسکا حسین ساتھ ہی اسے اکیلا چھوڑ گیا تھا
یوسف صاحب بامشکل زرمیش کو ساتھ لیتے چل دیے بہزاد وہی کھڑا تھا
“چلو بہزاد”
یونیب اسے ساکت اور اداس کھڑا دیکھ بولا بہزاد نفی میں سر ہلا گیا
“کیا مطلب”
یونیب اسے دیکھ کر پریشانی سے بولا اور یونیب نے اسے دیکھا
“کچھ وقت اکیلا رہنا چاہتا ہوں “
بہزاد کہتے ساتھ وہی بیٹھ گیا یونیب اسکی حالت کا سمجھ کر خاموشی سے بغیر کچھ کہے چلا گیا
اوہ وہ خالی آنکھوں سے زمین کو دیکھنے لگ گیا۔
(“کیسا لگ رہا ہے”
“بکواس”
“کوئی بھی نہیں اتنا حسین لگ رہا ہے یہ تو ہاں اب جو جیسا ہوتا اسے سب ویسا ہی لگتا ہے”
غزلان اسے دیکھ جان کر بولی بہزاد اسکی بات پر اسے دیکھنے لگا اور غزلان کی نظر جیسے اس مٹی سے لکھے G❤️B پر جم سی گئی تھی چہرے پر الگ ہی مسکراہٹ نمودار تھی)
اسکی بات یاد کرتا بہزاد اسے بیٹھے انگلی زمین پر چلا تا جی❤️ بی لکھنے لگ گیا۔
“جب کسی سے عشق ہوتا ہے نا وہ آپ کا سب کچھ بن جاتا ہے
اور جب وہ عزیز چھوڑ کر جاتا ہے تو اس عاشق کی جان نکل جاتی ہے”💔
وہ سب گھر آ گئے تھے بہزاد اور غزلان کو نہ پاکر عینب رویش راحت بیگم پریشان ہوئی تھی
“غزلان اور بہزاد بھائی کدھر ہیں”
رویش فورا سے اٹھ کر پوچھنے لگی جس پر کسی نے کوئی جواب نہیں دیا سب خاموش رہے عینب اور زہرون کو کچھ گڑبڑ سی لگی
“بتاؤ نا یونیب کہاں ہے وہ دونوں”
رویش اسکی جانب بڑھ کر نے اسے دیکھتے ہوئے پریشانی سے پوچھنے لگی
“غزلان کو دو گولیاں لگ گئی ہے اور وہ کھائی میں جا گری میں نے بہزاد نے بہت ڈھونڈا مگر وہاں غزلان کا اسکا نام و نشان نہیں تھا شاید اس کی زندگی اتنی تھی”
یونیب نظریں. جھکائے لہجے میں اداسی لیے آرام سے بامشکل رویش کو بتا سجا رویش اور عینب اپنی جگہ ساکت ہو گئے
وہ غزلان کے ساتھ گزرے اپنے بہت سے لمحے یاد کرنے لگے کبھی سن دونوں نے سوچا بھی نہیں تھا کہ وہ انہیں چھوڑ کر جائے دونوں کی آنکھیں میں نمیکن پانی آ گیا راحت بیگم یہ سب سن کر بےہوش ہو گئی زرمیش ان کے پاس روتے ہوئے بیٹھی بےہوش ہونے پر پریشان ہوئی
“مام”
زرمیش کی اواز پر وہ سب کو شل کھڑے تھے مڑ کر راحت بیگم کو دیکھنے لگ گئے
“ڈاکٹر کو فون کرو زہرون”
یوسف صاحب فکرمندی سے کہتے ساتگ راحت بیگم کو کمرے میں لے جانے لگے
رویش آنسو بہا رہی تھی یونیب نے اسے اپنے ساتھ لگایا اسکے آنسو صاف کیے
وہی زہرون نے عینب کو پانی تھمایا اس نے زہرون کو دیکھا
“وہ ہمیشہ یوں ہی کرتی تھی اپنی پرواہ نہیں تھی یہی بات بڑی لگتی تھی ڈر تھا مجھے کہیں وہ ہم سب سے دور نہ ہوجائے اور آج وہی ہوگیا”
وہ نم آنکھوں سے لہجے میں اداسی سمائے زہرون سے بولی زہرون نے بغیر کچھ کہے اسے سینے سے لگایا
“بی اسٹروٹنگ”
سینے سے لگائے اسے نرمی سے بولا اسکے سینے میں چھپائے آنسو بہا نے لگی اسکے آنسو یونیب کی شرٹ پر جذب ہورہے تھے۔
کچھ دیر میں ڈاکٹر آ چکے تھے یوسف صاحب باہر آکر صوفے پر بیٹھتے رونے لگے سب ختم ہو گیا تھا انہوں نے آج اپنی بیٹی کو کھویا تھا بڑی بیٹی کو کھویا تھا یونیب رویش کو بٹھاتا یوسف صاحب کی جانب بڑھا اور ان کے قریب بیٹھ گیا۔
“اگر آج آپ ہمت ہار گئے سر تو سب کو حوصلہ اور ہمت کون دے گا ہمیں ہی مضبوط بن کر ان عورتوں کو سہارا دینا ہوگا”
یونیب انکے کندھے پر ہاتھ رکھے انہیں سنجیدگی سے مخاطب ہوا یوسف صاحب نے ایک نظر اسے دیکھا
“ہمت ہارا ہوں میں آج میری بڑی بیٹی میری طاقت چلی گئی”
وہ اداسی سے تکلیف بھرے لہجے میں بولے یونیب انہیں دیکھ رہا تھا
“سر اپنے لیے نہیں اپنی باقی بیٹیوں بیوی کیلیے”
یونیب ان کی جانب دیکھ سمجھاتے ہوئے بولا جس پر یوسف صاحب اثبات میں سر ہلا گئے
“تم ٹھیک کہ رہے ہو میں کوشش کروں گا”
وہ سنجیدگی سے دیکھتے ہوئے اسے مضبوط لہجے میں بول اٹھ کھڑے ہوئے
“ڈیڈ مام کو کیا ہوا “
زرمیش رقتے ہوئے یوسف صاحب کو دیکھ پریشانی سے پوچھنے لگی “بیٹا وہ ٹھیک ہو جائے گی تو نہیں”
اسکے سر پر ہاتھ رکھے وہ نرمی سے بولتے کر حوصلہ دیتے اندر کی جانب بڑھے
تبھی ڈاکٹر باہر آیا سب نے ڈاکٹر کے گرد گھبرا بنایا
“کیا ہوا ہے ڈاکٹر ٹھیک تو ہیں وہ”
یوسف صاحب پریشانی سے ڈاکٹر کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھنے لگے جس پر انہوں نے اثبات میں سر ہلا دیا
“پریشان مت ہو وہ ٹھیک ہیں بس انہیں بہت گہرا صدمہ لگا آپ کو انہیں خوش رکھنا ہوگا انہیب وقت پر خوراک دینی ہوگی وہ ٹھیک ہو جائیں گے”
ڈاکٹر مسکرا کر انہیں بتاتے ساتھ باہر کی جانب بڑھ گیا سب خاموشی سے ایک دوسرے کو دیکھنے لگ گئے
“ہمیں مل کر راحت کی طبیعت کو بہتر بنانا ہوگا غزلان کو کھو چکے ہیں راحت کو نہیں کھو سکتا”
یوسف صاحب مضبوط لہجے میں نم آنکھوں سے ان سب کو مخاطب کرتے ہوئے بولے یوسف صاحب کی بات پر سب نے اثبات میں سر ہلا دیا
“ہم پوری کوشش کریں گے”
وہ سب مل کر بولے یوسف صاحب اثبات میں سر گئے سب اپنے کمروں کی جانب بڑھ گئے کیونکہ ابھی وہ سو رہی تھی
“یونیب ایسا کیوں ہوا ہے کیوں بہزاد بھائی کہاں ہے انکی حالت تو بہت خراب ہوگی”
رویش کمرے میں آتے ہی بیڈ پر بیٹھ کر نم آنکھوں لیے اسے دیکھ پوچھنے لگی
“یہی اللہ کی رضا تھی رویش اور بہزاد وہی بیٹھا ہے اسوقت اسکا اکیلا رہنا بہتر ہے کیونکہ اسوقت بلکل ختم ہوا لگ رہا ہے”
یونیب بیڈ کراون سے ٹیک لگائے رویش کو اپنے ساتھ لگاتے ہوئے اداس لہجے بولا رویش اسکے کندھے پر سر رکھ کر آنسو بہانے لگی اور یونیب اسے بہانے دے رہا تھا تاکہ اسکے دل کا بوجھ ہلکا ہوجائے
“اتنا سب ہوجائے گا واقع ہماری خوشیوں کی کسی کی نظر لگ جاتی ہے کتنے خوش تھے سب اچانک یہ اور غزلان کی موت بہت بڑا حادثہ ہوگیا ہماری فیملی میں”
عینب بیڈ پر بیٹھی خالی نظروں سے زمین کو تک رہی صدنے سے بولی زہرون نے اسے اسکے چہرے پر ہاتھ رکھ کر اوپر اٹھایا
“تم اداس نہ ہو عینب “
وہ اسکے آنسو پونچھنے نرمی سے بولا وہ بس اسے دیکھ رہی تھی
“بہزاد وہ کہاں ہے”
اس نے بغیر کڈی راحت کے زہرون سے بہزاد کے متعلق پوچھا زہرون سر جھٹک گیا
“پاگل بنا وہی بیٹھا ہے جہاں غزلان کو گولیاں لگی تھی”
وہ سر جھکائے اسے بتانے لگا عینب کی آنکھیں مزید بھیگ گئی
“نہیں رہ سکتی گا وہ ان دونوں کا عشق میں نے دیکھا ہے ہلکی سی تکلیف ایک دوسرے کی برداشت نہیں تھی”
لہجے میں اداسی سمائے وہ نم آنکھوں سے ادھر ادھر دیکھتی بولی زہرون اثبات میں سر ہلا گیا اور عینب کی پیشانی پر لب رکھے وہ آنکھیں بند کر گئی
وہ اسی جگہ پر بیٹھا تھا نظریں دیوار سے سر ٹکائے آنکھیں خالی تھی اس کھائی کو دیکھ رہا تھا
“وعدہ کیا تھا توڑ گئی نا وعدہ”
وہ اس جگہ کو دیکھ کر اداسی سے اس جگہ کو دیکھتا بولا
“ابھی تو ساتھ زندگی گزارنس شروع کی تھی کیسے اہنے بہزاد کو یوں اکیلا چھوڑ کر جا سکتی ہو”
وہ اس جگہ کو دیکھ دل میں انتہائی تکلیف سے بولتا کرب سے آنکھیں موند گیا
“تم صرف میرے ہو صرف میرے کڈی لڑکے کا چھونا کیا ساتھ کھڑا ہونا بھی برداشت نہیں ہے “
وہ غزلان کی بات یاد کرکے آنکھیں کھول گیا اور آنکھوں میں نمی تھی بال بکھرے ہوئے تھے جیسے بلکل ختم ہو گیا ہو
“سر گھر چلیں”
تبھی ریاض اسکے پاس آتا گھبراتے ہوئے پوچھنے لگا جس پر بہزاد نے سرخ آنکھیں اٹھا کر اسے دیکھا ریاض دو قدم پیچھے ہوا اور سر جھٹک گیا
“میں یہی آپ کے پاس رہ جاتا ہوں”
ریاض کہتے ساتھ دور جاکر کھڑا ہوگیا اور وہ واپس اسی جگہ کو دیکھنے لگا
“واقع سر کو اس کی عادت ہو گئی تھی اس نے اپنے عشق میں ایسا پاگل کردیا اس کےبغیر رہنا ممکن ہی نہیں ناممکن تھا”
وہ دور سے بہزاد کو دیکھ لہجے میں اداسی سجائے نم آنکھوں سے بولا اور نظریں سامنے کرلی
ریاض کو ہر ایک بات یونیب نے بتائیں تھی اور اسی نے بہزاد کو اسکے پاس جانے کو بھی کیا تھا یونیب کی بات سن بہزاد کی حالت کا سوچتے وہ فورا پہنچ گیا
بہزاد اور غزلان کا عشق خود غرض تھا دونوں ایک دوسرے میں کسی تیسرے کیساتھ کھڑا برداشت نہیں کرتے تھے ان کے عشق کی شدت سے ہر شخص واقف تھا
