Black Love By Mahnoor Shehzaad Readelle50302 (Black Love) Episode 36
Rate this Novel
(Black Love) Episode 36
بہزاد نے بامشکل اسے چپ کروا کر کچھ دیر کیلیے سلایا تھا وہ اسکے سینے پر سر رکھے آنکھیں بند کیے سورہی تھی بہزاد اسکے گرد حصار بنائے اسکے بالوں پر انگلیاں پھیرتے ہوئے سوچنے میں مصروف تھا بہت سے سوال اس کے ذہن میں گردش کررہے تھے وہ غزلان کا سر آرام سے تکیے پر رکھتا بلینکٹ اس پر ڈالتا ایک نظر اسکے چہرے پر ڈالے باہر کی جانب بڑھ گیا اور غزلان ویسے ہی سوتی رہی تھی
بہزاد باہر آتا یوسف صاحب کی اسٹڈی کی جانب بڑھا تھا جہاں یونیب اور یوسف صاحب بلکل خاموش بیٹھے تھے وہ بھی خاموشی سے وہی آکر بیٹھ گیا
“کچھ لگا پتا”
وہ یوسف صاحب کو دیکھتے ہوئے پوچھنے لگا جس پر وہ نفی میں سر ہلا گئے اور اسے ساری بات سے آگاہ کرنے لگے
“حامد قریشی”
اسکے نام سنتے ہی بہزاد کی آنکھیں سرخ ہوگئی تھی رگیں تن گئی تھی
“اس دفعہ جان سے ماروں گا اسے”
بہزاد طیش میں نفرت بھرے لہجے میں بولتا اٹھ کھڑا ہوا
“بہزاد ہمیں سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنا ہوگا زرمیش اسکی قید میں ہے”
وہ اسے تحمل سے سمجھانے لگا وہ خاموشی سے بیٹھ گیا
“میں رویش کو دیکھ لوں”
خان کہتے ساتھ وہاں سے اٹھ کر چلا گیا اس کے جاتے ہی یوسف صاحب اور بہزاد نے ایک دوسرے کو دیکھا
“ہمیں پہلے تو اس جگہ کا معلوم کروانا ہے جدھر زرمیش کو رکھا ہوا ہے”
یوسف صاحب اسے دیکھتے ہوئے بتانے لگے بہزاد ان کی بات سن کر اثبات میں سر ہلا گیا۔
غزلان کی آنکھ کھلی تو کمرے میں نظر دوہرائی مگر بہزاد موجود نہیں تھا وہ اٹھ کر اسے دیکھنے جارہی تھی جب نظر سائیڈ ٹیبل پر گئی جہاں کال آرہی تھی فون سائلنٹ ہونے کی وجہ سے اسے پتہ نہیں چل سکا اس نے فون اٹھایا ان ناون نمبر سے آتی کال دیکھ غزلان نے آئبرو اچکا گئی
“کون”
فون اٹینڈ کرتی کڑک لہجے میں وہ پوچھنے لگی فون اٹھانے پر حامد قریشی مسکرایا تھا
“تمہاری بہن اسوقت میری قید میں ہے اگر اسے بچانا چاہتی ہو جو ایڈریس بھیج رہا ہوں وہ آکر بچا لو”
حامد قریشی لبوں پر فاتحانہ مسکراہٹ سجائے اسے کہنے لگا دوسری طرف غزلان سوچنے لگی
“کیا گرنٹی ہے میں وہاں آؤ گی تم کچھ نہیں کرو گی اس کیساتھ یا میرے ساتھ”
غزلان نے اسے دیکھتے ہوئے جیسے پوچھنا خاصا لازمی سمجھا حامد قریشی کی مسکراہٹ غائب ہوئی
“اگر اپنی بہن بہت پیاری ہے تو اسکی جان بچا لو ورنہ دو منٹ نہیں لگاؤ گا مارنے میں”
وہ اسے بولتے ساتھ فون سپیکر پر کر گیا تبھی حامد نے اپنے آدمیوں کو اشارہ کیا انہوں نے فورا اپنی گنز اس پر تانی
“اللہ پاگل ہوگئے ہو کیا”
زرمیش اچانک ان تین آدمیوں کے گنز اپنے پر دیکھ چیخ کر بولی غزلان اسکی اواز سنتی پریشان ہوگئی
“بولو اب بھی نہیں آؤ گی آجاؤ بہن خطرے میں ہے ایسا نہ ہو جان چلی جائے بغیر کسی کو بتائے آنا ورنہ اچھا نہیں ہوگا”
حامد قریشی اسے دھمکی دیتے ہوئے بولا غزلان خاموشی سے ٹھیک ہے بولتی فون رکھ کر دراز سے گنز نکالتی جیب میں رکھتی خاموشی سے کمرے سے باہر آئی
عزلان نے نظر ہوتے ٹی وی لاؤنچ اور ارد گرد گھمائی کوئی بھی موجود نہیں تھا
“مجھے زرمیش کو بچانا ہوگا”
وہ خود سے بولتے ساتھ دبے دبے قدم اٹھائے نیچے کی جانب بڑھی اور ٹی وی لاؤنچ عبور کرتی گراج میں آئی اور گارڈ کو خاموش رہنے کا اشارہ کرتی گاڑی میں بیٹھ اسٹارٹ کرتی وہاں سے چلی گئی
بہزاد یوسف صاحب سے بات کرکے کمرے کی جانب بڑھا مگر غزلان کو موجود نہ دیکھ اسکے ماتھے پر بل نمودار ہوئے تھے وہ باتھروم کا دروازہ ناک کرنے لگا مگر کوئی جواب نہیں آیا اچانک اسے خطرہ سا محسوس ہوا
“غزلان کو دیکھا ہے”
عینب کو باہر آتا دیکھ وہ فورا سے مخاطب ہوا عینب نفی میں سر ہلا گئی
“کیوں کمرے میں نہیں ہے”
عینب فکرمندی سے پوچھنے لگی جس پر وہ نفی میں سر ہلا گیا
“کہاں گئی غزلان”
یوسف صاحب جو کمرے کی طرف بڑھ رہے تھے بہزاد اور عینب کی بات پر فکرمند سا پوچھنے لگے
“وہ زرمیش کو بچانے چلی گئی بغیر اپنی پرواہ کیے”
بہزاد فکرمندی اور غصے سے بولتا سر پر ہاتھ رکھ گیا یوسف صاحب بھی پریشان ہوئے تھے۔
ڈرائیو کرتی جو لوکیشن بھیجی وہ اس لوکیشن کے مطابق گاڑی چلا رہی تھی راستہ بلکل سنسنان تھا اس نے فون اٹھایا اور ایک ٹیکسٹ کرکے فون بند کر کے ڈش بورڈ میں رکھ دیا
“مجھے غزلان کے پاس جانا ہوگا میں اسے کچھ نہیں ہونے دے سکتا”
بہزاد پریشانی سے بولتے ساتھ کمرے میں آتا اپنی گنز چاقو اور ماسک اٹھاتا بھاری بھاری قدم لیے باہر کی جانب بڑھنے لگا۔
غزلان مطلوبہ جگہ پر پہنچتے ساتھ گاڑی روک کر گاڑی سے باہر نکلی باہر موجود چار آدمیوں کو دیکھا ایک کے منہ پر اپنی جہنی دوسرے کو مکہ جھڑتی فارغ کر گئی آگے بڑھ کر تیسرے کی گردن زور سے دبوچتی دیوار سے لگائے گردن کا درد نکال گئی وہ کرسی کر زمین پر بوس ہوگیا چوتھا خوف سے وہاں سے بھاگ گیا آج وہ کتنے وقت بعد اس قدر غصے میں تھی۔
غزلان مصروف چال چلتی آنکھوں میں سرخ لیے وہ گن نکال کر ہوش کرتی اسکی جانب بڑھتی بغیر کچھ کہے یا بولے غصے سے تن حامد قریشی کے سر پر تان گئی وہ حیرت سے اسے دیکھنے لگا
“چھوڑ میری بہن کو ورنہ چلادوں گی”
غزلان سفاک لہجے میں آنکھوں میں سرخی لیے غرائی وہ اسے دیکھ رہا تھا اور غزلان کو موجود دیکھ زرمیش کو تسلی ہوئی تھی۔
اس سے پہلے غزلان گن بلاتی حامد قریشی لبوں پر مسکراہٹ سجا گیا اسکے ساتھ ادمی غزلان کے ارد گرد گھیرذ بنا گئے سب کے ہاتھ میں گنز تھے ادھر تن مجھے چلاو گی ادھر وہ تمہیں اور پھر یہ جوان بہن کو اپنی حوس کا نشانہ بنا کر خود اسکی قبر کھود کر اس میں ڈالوں گا امید کرتا ہوں تم ایسا بلکل نہیں چاہتی ہوگی تو گن نیچے رکھ دو”
وہ اطمینان بھرے لہجے میں اسے بولا غزلان گھبرا کر گن نیچے رکھ گئی کیونکہ زرمیش کیساتھ کچھ غلط نہیں ہونے دینا چاہتی تھی
“ماننا پڑے گا کیا پسند ہے قیامت اففف کیا حسن “
وہ اسے گٹھیا نظروں سے دیکھتا خباست بھری مسکراہٹ لبوں پر سجائے داڑھی پر کھجلی کرتا بولا جس پر غزلان کو شدید غصہ آیا
“بکواس بند کر منہ نوچ لوں گی”
وہ غصے سے اسے دیکھتے ہوئے جنگلی بلی کی طرح دھاڑی تھی جس پر حامد مسکرایا
“افف اوپر سے غصہ واللہ”
حامد اسکی ڈھاڑ کو نظرانداز کرتا حوس بھری نظروں سے اسے دیکھتے ساتھ بہزاد کو فون ملانے لگا
وہ گاڑی ڈرائیور کررہا تھا تبھی فون بجا لاپرواہی سے فون اٹھاتا کان سے لگا گیا
“چھوڑو مجھے تم نے دھوکے سے بلایا میں جان لے لوں گی چھونا مت اگر بہزاد کو معلوم ہوا تو وہ تمہیں زندہ جلا دے گا”
فون کان سے لگاتے غزلان ہی چیخنے کی اوازیں سنتے ہی بہزاد کے ماتھے پر بل نمودار ہوگئے آنکھوں میں سرخ اتر آئی گاڑی کی اسپیڈ بڑھا گیا
“سن رہے ہو اپنی حسین بیوی کی اوازیں اگر بچانا چاہتے ہو تو لوکیشن دے رہا ہوں پہنچ جاؤ”
حامد قریشی ہنستے ہوئے مزے سے اسے بتانے لگا
“رکھ فون تیرے جان اپنے ہاتھوں لوں گا”
وہ زیر کی دھاڑ سے چلاتے ساتھ غصے سے فون ڈش بورڈ میں رکھتا مزید اسپیڈ بڑھا گیا
فون بند ہوتے ہی حامد قریشی نے اپنے آدمی کو اشارہ کیا جس نے غزلان کا سر دیوار پر دے کر مارا سر پھٹ گیا خون بہنے لگا
“آپییییی”
زرمیش چیخ کر بولی اسے بھی باندھا ہوا تھا حامد قریشی ہنس رہا تھا
“لے جاؤ اندر دونوں کو”
وہ ایک اور حکم صادر کرنے لگا اسکے ادمی زبردستی ان دونوں کو اندر لے جانے لگے غزلان کے پیروں سے جوتی اتر گئی تھی بال بکھر گئے تھے
“ابھی سب ٹھیک ہوتا ہے پھر کچھ ہو جاتا اللہ میری بچیوں کی حفاظت کرنا “
راحت بیگم روتے ہوئے بےبسی سے بولی یوسف صاحب نے اسے ساتھ لگایا اور تسلی دی
“زرمیش اور غزلان ٹھیک ہوں گے بہت پریشانی ہورہی ہے”
رویش فکرمندی سے بولی یونیب نے اسے دیکھا اور پانی کا گلاس اس جانب بڑھایا
“پانی پیو سب بہتر ہوگا”
یونیب اسے پانی پلاتے ہوئے بولا رویش اثبات میں سر ہلا گئی زہرون اور عینب دونوں پریشان مگر خاموش کھڑے تھے
تبھی یونیب زہرون اور یوسف صاحب کے فون پر ایک ساتھ بیل ہوئی تینوں نے فون دیکھا بہزاد نے لوکیشن سینڈ کی ہوئی تھی
“تم تینوں دھیان رکھنا کہ غزلان اور زرمیش کو بچا کر ہوتے ہیں”
یوسف صاحب تنبیہہ کرتے ساتھ اٹھ کھڑے ہوئے یونیب اور زہرون بھی ساتھ چل دیے وہ دونوں راحت بیگم کے پاس آکر گئی۔
کچھ دیر میں وہ دی گئی لوکیشن پر موجود تھا یہ ایک پہاڑی جگہ تھی جہاں بہت سی کھائی موجود تھی اسکا ادا بھی اسی جگہ پر تھا مگر غزلان اور زرمیش اڈے پر موجود جبکہ بہزاد کو اندر آنے سے منع کیا تھا
بہزاد کو دیکھتے ہی اسکا ادمی حامد کو بلانے گیا تھا حامد قریشی اسکے آنے کا سنتے ہی آدمیوں کو غزلان اور زرمیش پر نظر رکھنے کا بولتا باہر کی جانب بڑھا
“اففف اخر کور تم خوف چل کر آ ہی گئے میرے پاس بہت سے حساب کا بدلہ لینا ہے”
وہ مسکراتے ہوئے اسے دیکھ کر زہریلے لہجے میں بولا اور وہی بہزاد کا دل کیا وہ اسے زمین پر زندہ گاڑھ دے
“غزلان کو میرے سامنے کر”
وہ سرد لہجے میں اسے بولا حامد قریشی مسکرایا
“اتنی جلدی کیا ہے تھوڑا صبر تو رکھو”
اسکے قریب آکر اسے دیکھتے ہوئے مسکرا کر بولا اور بہزاد کو اسکی مسکراہٹ اسوقت انتہائی زہر لگ رہی تھی سرخ انگارہ برستی سیاہ آنکھوں سے اسے گھورنے لگا حامد قریشی اسکی آنکھیں دیکھتا دو قدم پیچھا ہوا اپنے بیٹے کی موت اسے اچھی طرح یاد تھی
“تیری کمزوری تیری بیوی کیساتھ دیکھ میں کیا کرتا ہوں”
حامد قریشی لبوں پر زہریلی مسکراہٹ سجائے بہزاد کا دماغ گرم کر گیا
“ناخن بھی اگر اسے چھوا تو میں تیرے بیٹے سے بدتر موت تجھے دوں گا”
وہ غصے سے آنکھوں میں سرخی لیے چہرے پر پتھریلے تاثرات سجائے تیش میں بولا ایک پل کیلیے حامد گھبرایا
“تو کیا مجھے موت دے گا میں تجھے موت دوں گا ایسی موت تو تڑپ تڑپ کر مرے گا”
حامد بھی غصے سے بولتا جیب سے پستول نکال اسکے آگے کر گیا بہزاد لبوں پر مسکراہٹ سجائے اطمینان سے جیب میں ہاتھ ڈالے کھڑا تھا
“زرمیش مجھے نکلنا ہوگا کسی طرح باہر”
وہ زرمیش کو دھیمی اواز میں بولتی ساتھ پڑا ڈنڈا اٹھا کر سامنے موجود ادمی کی جانب بڑھنے لگی جو پیٹھ کرکے کھڑا تھا اسے ڈنڈا مار کر بےہوش کر گئی وہ سر پر ہاتھ رکھے اسے دیکھ رہا تھا اور زمین پر گر گیا
“تم یہی رکو میں راستہ صاف کرکے آتی “
وہ زرمیش کو وہی بیٹھنے کا بولتے ساتھ آگے کی جانب بڑھی اور وہاں ایک اور شخص کی گردن کا درد نکال کر منہ جھڑتی اسے بھی زمین پر پھینک گئی صرف دو ادمی ہی تھی باقی شاید سارے حامد قریشی کیساتھ تھے وہ زرمیش کو لیتی باہر کی جانب بڑھنے لگی باہر اتے ہی دو آدمیوں سے سامنا ہوا جس میں ایک لڑکے نے پکڑ کر منہ والا تھپڑ دے مارا وہ لڑکھڑائی مگر گری نہیں غزلان اسے ٹانگ مار گئی مگر اس شخص کیساتھ والے نے زرمیش کو پکڑ لیا غزلان اسے دیکھنے لگی اور اچانک نظر بہزاد پر گئی وہ آگے جانا چاہتی تھی مگر زرمیش کو ساتھ لے کر مڑ کر واپس دیکھا تو لڑکا اور زرمیش نہیں تھے وہ شاید زرمیش کو بےہوش کرکے لے گیا تھا
“اوئے لاو اسکی بیوی کو”
بہزاد ہو اطمینان سے کھڑا ہوکر حامد نے اپنے آدمیوں کو حکم دیا بہزاد کی آنکھیں مزید سرخ یو گئی چہرے پر دنیا جہاں کی سختی آئی گئی رگیں غصے سے تن گئی سگریٹ جیب سے نکال کر جلاتا لبوں سے لگا گیا اور اسکے چہرے اور ہر حرکت کو حامد غور سے دیکھ رہا تھا بہزاد سرد سرخ نگاہوں سے دیکھ حامد کو خوف میں مبتلا کررہا تھے جیب سے چاقو نکال کر اسے گھمانے لگا وہ اپنے بیسٹ والے روپ میں آ چکا تھا اس نے گھما کر حامد کی گردن پر چاقو کی ناک رکھی وہ حیرت سے اسے دیکھ رہا تھا
“میں کہتا نہیں ہوں کر گزرتا ہوں روک انہیں”
وہ آنکھوں میں وحشت لیے چلا کر بولا حامد نے ہاتھ کے اشارے سے روک دیا اسکے ماتھے پر پیسنے آنے لگے بہزاد نے اسکی گردن سے چاقو ہٹایا پیچھے ہوا تبھی حامد سیدھا کھڑا ہوتا چاقو اسکے سینے پر رکھ کر ٹریگر پر انگلی رکھ گیا بہزاد بغیر چہرے پر تاثرات سجائے اسے دیکھ رہا تھا
“بہزاد”
غزلان کی اواز کانوں سے ٹکرائی مڑ کر اسے دیکھا غزلان بھاگ کر اسکے سامنے آکر کھڑی ہوئی بہزاد حیرانگی سے اسکی حالت دیکھ رہا تھا ماتھے پر خون کی بوندیں ننگے پیر بکھرے بالوں کیساتھ وہ اسکے سامنے کھڑی تھی اس سے پہلے حامد قریشی گن چلاتا غزلان بہزاد کو سائیڈ پر کرتی سامنے آ گئی بہزاد فورا اسکی جانب بڑھا تھا مگر گن چل گئی اور اواز گونجی ایک سناٹا سا چھا گیا بہزاد غزلان حامد تینوں اپنی جگہ ساکت ہو گئے
جاری ہے۔
