280.4K
41

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Black Love) Episode 35

عینب آج وائٹ کلر کے ڈریس میں گلے میں دوپٹہ لیے لائٹ سے میک ایپ میں اپنا عکس شیشے میں دیکھنے لگی کانوں میں ٹوپس پہنے وہ اسوقت بےحد پیاری لگ رہی تھی تبھی زہرون کمرے میں آیا اور نظر اس پر گئی اسے سر تا پیر دیکھ وہ وہی ساکت رہ گیا عینب مرر سے اسے دیکھ ہلکا سا مسکرائی تھی
“کچھ لوگ تو آج مارنے پر تلے ہیں”
وہ چہرے پر دلفریب مسکراہٹ سجائے اسکی جانب قدم بڑھائے بولا عینب مسکرائی زہرون نے اسے پیچھے سے حصار میں لیا
“سنا تھا مگر آج دیکھ بھی لیا میک ایپ سے واقع تک لڑکیوں کو بہت فائدہ ہے”
وہ مرر سے اسکا عکس دیکھتا ہنس کر بولا عینب نے اسے گھورا اور کہنی ماری
“اوئچچ یار تم تو میری ہڈی توڑنے چلی تھی”
وہ اسے دیکھتے ہوئے منہ بنائے بولا عینب نے اپنا رخ اسکی جانب کیا
“اگر زیادہ بولو تو منہ توڑ سکتی ہوں بہت اچھا توڑتی ہوں میں منہ”
وہ اسے گھور کر دیکھتے ہوئے مکہ بنائے بولی زہرون ہنسنے لگ گیا
“اچھا خاصا لڑکی لگی تھی تم مجھے پھر وہی گنڈوں والی حرکتیں”
وہ اسے مسکرا کر بولتے ساتھ اسکے چہرے پر ہاتھ رکھے کہنے لگا عینب مسکرائی
“جی ہاں بلکل میں جیسی ہوں ویسی رہوں گی کیونکہ تمہیں میں ایسی پسند آئی تھی”
وہ مسکراتے ہوئے اسے دیکھ مزے سے جواب دیتی پرفیوم چھڑکنے لگی زہرون نے اسے پھر سے قید میں لیا
“بلکل”
کہتے ساتھ اسکی گال پر لب رکھ گیا عینب آنکھیں بند کر گئی
“چلیں دیر ہورہی ہے”
وہ وال کلاک پر نظر ڈالتی پوچھنے لگی جس پر زہرون اثبات میں سر ہلا گیا اور دونوں چل دیے۔


رویش بھی سفید رنگ نے اور میں ملبوس لائٹ سا میک ایپ کیے جانے کیلیے بلکل تیار تھی وہ صوفے پر بیٹھا اسے دیکھ رہا تھا
“اینگری گرل تم مجھے روز مارنے کا ارادہ کرتی ہو یار ایک دفعہ مار دو”
وہ اسے محبت پاش نظروں سے دیکھتے ہوئے بولا رویش اسے ناسمجھی سے دیکھنے لگی
“مطلب”
وہ معصومیت سے بولتی سیدھا یونیب کے دل میں اتر رہی تھی وہ اسے نظروں کے حصار میں لیے اسکی جانب بڑھا
“کچھ نہیں میں کیا سوچ رہا تھا”
یونیب اسکا ہاتھ تھامتا اسے سر تا پیر دیکھ بولا رویش اسے ہی دیکھ رہی تھی
“کیا”
وہ آئبرو اچکائے اس سے پوچھنے لگی یونیب نے جھٹکے سے اسے اپنے قریب کیا
“چھوٹو ڈنر پر ساتھ ٹائم اسپینڈ کرتے ہیں”
اسکے پیشانی سے پیشانی ملاتا وہ شوخیہ لہجے میں بولا رویش نظریں جھکا گئی
“وہ میں کیا بول رہی ہو ڈیڈ انتظار کررہے ہیں بہت دل سے بلایا ہے انہوں نے مجھے چلنا چاہیے”
رویش اسی کے انداز میں اسے بولتی اسکا ہاتھ تھامے باہر کی جانب بڑھنے یونیب مسکراتے ہوئے اسکے ساتھ چلنے لگا۔


وہ سب لوگ وہاں پہنچ چکے تھے باری باری سب سے ملے اور سب اہنی چئیرز سنبھال کر بیٹھ گئے
“آج تم سب جان نہیں سکتے مجھے کتنی خوشی ہورہی ہے میری چاروں بیٹیاں میرے ساتھ اتنی خوش ہیں اتنے ٹائم بعد ان کی زندگی میں خوشی آئی ہے میری نظر ہی نہ لگ جائے”
راحت بیگم نم آنکھوں سے انہیں دیکھتے ہوئے بولی جس پر وہ چاروں مسکرادی
“آپ بھی بیسٹ مدر ہیں ہمیشہ ہمارے لیے سوچا ہے”
غزلان عینب رویش زرمیش مسکراتے ہوئے ایک ساتھ بولے سب مسکرادیے
“میرے خیال سے آرڈر کر دینا چاہیے”
یوسف صاحب کے کہنے پر سن نے اثبات میں سر ہلا دیا اور انہوں نے ارڈر کردیا
یوسف صاحب کی نظر بہزاد پر گئی جو غزلان پر نظریں مرکوز کیے اسے مسکراتی آنکھوں سے دیکھ رہا تھا
پھر ان کی نظر یونیب پر گئی جو رویش جو بلکل بچوں کی طرح ٹریٹ کررہا تھا اسکے بال بار بار ٹھیک کرنا اسکا دوپٹہ سیٹ کرنا انکی مسکراہٹ مزید گہری ہوئی
اور پھر ان کی نظر زہرون اور عینب پر گئی جو دونوں باتیں کرتے مسکراہے تھے ان کے دل کو اطمینان ہوا تھا آج وہ تینوں لڑکیاں جنہوں نے اتنا سب اپنے ماضی میں گیا بھیانک ماضی تھا انکا مگر حال خوبصورت تھا
کھانا آ چکا تھا سب لوگ کھانا کھا رہے تھے اور سب آپس میں باتیں کررہے تھے ہر نفوس کے چہرے پر مسکراہٹ سجی ہوئی تھی اور وہ لوگ بلکل ایک ہیپی فیملی لگ رہے تھے
“ایک فیملی پکچر تو بنتی ہے”
زرمیش کہتے ساتھ فون میں کیمرہ آج کرتی سیلفی لینے لگ گئی سب کیمرے کی جانب دیکھنے لگ گئے اور زرمیش نے پکچر کلک کرلی
“آپ سب بیٹھیں میں واشروم سے ہوکر آئی”
زرمیش کہتے ساتھ کرسی کھسکا کر مسکرا کر ایکسکیوز کرتی باتھروم کی جانب بڑھ گئی۔


وہ ہاتھ دھوتی چہرے پر پانی کی چھینٹی مارتی اور نظریں اوپر کی جانب اٹھا کر مرر میں دیکھا اپنے پیچھے ایک ادمی کو کھڑا زرمیش کو حیرت ہوئی
“ایکسکیوز می یہ لیڈیز واشروم ہے”
وہ اسے دیکھتے ہوئے سرد لہجے میں بولی مگر وہ مسکراتے ہوئے بغیر کچھ کہے اسکے منہ پر رومال رکھ گیا زرمیش پھٹی آنکھوں سے دیکھنے لگ گئی سب اتنا اچانک ہوا کچھ کر بھی نہیں سکی تھی پانچ منٹ میں وہ بےہوش ہو چکی تھی وہ اسی لیے ایک نظر واشروم کی جانب جہاں کوئی نہیں تھا لیتا پچھلے دروازے سے نکل گیا
“ایکسکیوز می مجھے یہ کال اٹینڈ کرنی ہے”
زہرون کہتے ساتھ اٹھ کر چلا گیا سب لوگ اثبات میں سر ہلا گئے وہ فون کان سے لگائے باہر آیا اور بات کرنے لگا تبھی نظر اسکی ایک لڑکی اور ادمی پر گئی
“یہ کمرے تو زرمیش نے “
وہ اسے غور سے دیکھتا خود سے بولتے ساتھ آگے کی جانب قدم بڑھانے لگا اور زرمیش کا چہرہ دیکھتے ہی زہرون کے ہاتھ سے فون برا تھا
“اے رک کون ہے تو”
زہرون غصے سے اس طرف برھا تھا مگر اس سے پہلے ڈرائیور گاڑی سے اسٹارٹ کرتا زن سے بھگا گیا
“شٹ
غصے سے بولتا فون اٹھاتا اندر کی جانب بھاری قدم اٹھا گیا
“زرمیش کو زیادہ دیر نہیں ہوگئی”
غزلان پریشانی سے کہنے لگی جب زہرون وہاں آیا سب نے اسے دیکھا
“زرمیش کیڈنیپ ہوگئی ہے پتہ نہیں کوئی ادمی اسے گاڑی میں بے ہوشی کی حالت میں ڈال کر جارہا تھا میں پیچھا بھاگا مگر وہ جا چکا تھا”
زہرون ان سب کو دیکھتے ہوئے بتانے لگا سب لوگ ایکدم کرسی سے اٹھ کھڑے ہوئے
“ایک منٹ تم نے گاڑی کا نمبر تو نوٹ کیا”
یونیب نے فورا اس سے پوچھا جس پر زہرون نے اثبات میں سر ہلا کر بتایا
“تھینک گاڈ”
یوسف صاحب فورا سے بول گئے لیکن راحت بیگم کی طبیعت پھر سے خراب ہونے لگی
“ڈونٹ وری مام وہ مل جائے گی”
عینب اور رویش راحت بیگم کو تسلی دیتی انہیں کرسی پر بٹھانے لگی غزلان اپنی جگہ ساکت تھی
“غزلان”
بہزاد نے اسے پکارا وہ ہوش میں آتی اسے دیکھنے لگی
“زرمیش زرمیش کو کچھ ہوگیا نہیں مجھے بچانا ہوگا اسے”
غزلان فورا سے بولتی باہر کی جانب بڑھنے لگی بہزاد نے اسکا ہاتھ تھام کر اسے روکا
“کچھ نہیں ہوگا اسے ریلیکس”
وہ اسے دیکھتے ہوئے اعتماد بھرے لہجے میں کہنے لگا جس پر غزلان کی آنکھیں بھیگ گئی
یونیب بہزاد زہرون نے گھر جانے میں بہتری سمجھی وہ ان سب کو لیتے گھر کی جانب بڑھ گئے


راحت بیگم کی حالت مزید خراب بگڑتی چلی جارہی تھی بگڑتی بھی کیسے نہ وہ بچپن سے ان کے پاس رہی تھی
زرمیش یوسف صاحب اور راحت بیگم کو سڑک پر پڑی ملی تھی تب وہ چار دن کی بچی تھی وہ اونچا اونچا تو رہی تھی اسکی اواز سنتے ہی راحت بیگم اس طرف گئی اور اس چھوٹی سی بچی جو اس طرح گرمی میں پڑا دیکھ انکے دل کو کچھ ہوا اور بغیر کچھ سوچے اسے گود میں. کہتی وہ یوسف صاحب کے ساتھ گھر آگئی تب سے اب تک وہ ان کیساتھ تھی راحت بیگم سب سے قریب بھی اسے کی تھی راحت بیگم اور یوسف صاحب کا خیال تھا جس گھر زرمیش ہوئی ہے انہیں شاید اولاد نہیں چاہیے تھی یا شاید بیٹی نہیں چاہیے تھی مگر اس دن کے بعد سے وہ انہیں اپنی بیٹی ماننے لگے اسکا نام بھی راحت بیگم نے ہی رکھا تھا اور زرمیش ان سب سے لاعلم انہیں اپنے سگا ماں باپ ہی سمجھتی تھی۔
“راحت بیگم حوصلہ کریں میں اور یونیب جارہے ہیں وہ مل جائے گی سب ٹھیک ہوگا”
یوسف صاحب انہیں تسلی بخشتے اٹھ کھڑے ہوئے یونیب بھی اٹھا اور وہ دونوں چل دیے
عینب اور رویش راحت بیگم کے پاس ہی بیٹھی تھی اور انہیں تسلی دے رہی تھیں


“غزلان پلیزز calm down”
بہزاد اسے مسلسل روتا اور پریشان دیکھ چہرے پر ہاتھ رکھے نرمی سے بولا
“میں نہیں ہوسکتی اس نے ہمیشہ مجھے بڑی بہن سمجھا ہے میرے لیے بہت قیمتی ہے وہ “
وہ اسے دیکھتے ہوئے اداسی سے بتانے لگی بہزاد نے اپنی انگلیوں سے نرمی سے اسکے آنسو صاف کیے
“کچھ نہیں ہوگا کچھ بھی نہیں ہوگا اسے میں وعدہ کرتا ہوں تم سے وہ بلکل ٹھیک گھر آئے گی”
بہزاد اسے دیکھتے ہوئے پراعتماد لہجے میں بولتا سینے سے لگا گیا غزلان اسکے سینے سے لگی آنکھیں بند کر گئی
“پلیزز بہزاد اسے بلکل ٹھیک گھر کے آئے ورنہ مجھے ٹینشن لگی رہے گی”
غزلان اس کے سینے سے لگی اداسی سے بولی بہزاد اثبات میں سر ہلا گیا۔


زرمیش کو جیسے ہوش آیا اس نے آنکھیں کھولی خود کو ایک انجان جگہ موجود پاکر اسے پریشانی ہوئی اور وہ سارا منظر یاد کرتی ارد گرد نظریں گھمانے لگی سامنے حامد قریشی کا انجان نظروں سے دیکھا
“کون ہو تم کیوں مجھے رکھا ہے “
وہ بغیر ڈرے یا گھبرائے اسے دیکھ کر ارد لہجے میں پوچھنے لگی جس پر حامد قریشی کے لبوں پر مسکراہٹ آئی
“حامد قریشی کہتے ہیں مجھے بچے اور اتنی جلدی بھی کیا ہے یہ سب جاننے کی سکون سے رہو”
وہ بہت ہی خباثت بھری مسکراہٹ سجائے آنکھوں میں عجیب چمک لیے بولا زرمیش کھا جانے والی نظروں سے دیکھنے لگ گئی
“جلدی بتاؤ ورنہ ماروں گی”
گن نکالتی اسکی جانب کیے غصے سے بولی حامد قریشی ہنسنے لگ گیا
“یہ بچوں کے کھیلنے کی چیزیں نہیں ہے”
وہ ہنس کر طنز کرتا بتانے لگا جس پر زرمیش کے چہرے پر دلفریب مسکراہٹ آئی
“جب چلے گی تو معلوم ہوجائے گا کون بچہ ہے”
وہ مسکراتے ہوئے اسے کی جانب رخ کیے بولی جس پر وہ مسکراہٹ برقرار رکھتا دیکھنے لگا
“اپنی فیملی کی جان پیاری ہے ایک سکینڈ بھی نہیں لگے گا تمہارے گھر کے ایک ایک افراد کو ماردوں گا”
وہ مسکراہٹ برقرار رکھے اسے بولا جس پر وہ ایک دم خاموش ہو گئی۔
“ملاو اسکے باپ کو فون”
زرمیش کو بیٹھنے کا بولتے ساتھ اس نے اپنے آدمی کو دیا جس پر وہ فورا کال ملاتا اسکی جانب بڑھا
“کون”
حامد قریشی نے فون سپیکر پر کیا یوسف صاحب کی اواز سنائی دی
“حامد قریشی تمہاری بیٹی اسوقت میری قید میں ہے”
وہ مسکراتے ہوئے ہنستے ہوئے بولا یوسف صاحب کے ماتھے پر نمودار ہوئے
“کیا دشمنی ہے تمہاری جو بھی ہے مجھ سے نمٹو میری بیٹی کو چھوڑ دو”
یوسف صاحب غصے سے درشت لہجے میں بولنے جس پر حامد کی مسکراہٹ گہری ہوئی
“تمہارے سے نہیں تمہارے بڑھ داماد بہزاد سے ہے خیر یہ کہنے کیلیے فون کیا تھا بیکار کی کوششیں کرنا چھوڑ دو کیونکہ وہ گاڑی اور جگہ ہے ڈھونڈ سکتے ہو تو ڈھونڈ لو اپنی لاڈلی بیٹی کو”

وہ زہریلی مسکراہٹ سجائے بولتا فون کٹ کر گیا اور یوسف صاحب فون دیکھتے رہ گئے تھے۔

کیا ہوگا نیکسٹ میں کمنٹ سیکشن میں بتائیں!!!