Black Love By Mahnoor Shehzaad Readelle50302 (Black Love) Episode 34
Rate this Novel
(Black Love) Episode 34
وہ دونوں مطلوبہ جگہ پر پہنچتے چکے تھے بہزاد گاڑی سے باہر نکلا غزلان کی طرف آیا دروازہ کھولا اور اسکا ہاتھ تھاما
“باہر آؤ”
غزلان اسکے ہاتھ تھامنے پر اسکی جانب رخ موڑ کر پوچھنے لگی جس پر بہزاد ہاں بس وہ اسکا ہاتھ تھامتی باہر آئی گئی
غزلان چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی بہزاد کے ہمراہ آگے کی جانب قدم بڑھانے لگی غزلان کا دل عجیب کیفیت میں مبتلا تھا
“ہم جا کہاں رہے ہیں”
غزلان نے اب کی بار پوچھا اسکے پوچھنے پر بہزاد نے اسے دیکھا
“ڈیٹ پر”
وہ اسکے قریب ہوکر اسکے کان پر جھک کر سرگوشی کرتے ہوئے بولا جس پر وہ مسکرادی لکڑی کی بنی زینوں پر غزلان کو کھڑا کرتا اسکے عقب میں آکر اسکی آنکھوں پر بندھی پٹی کھولنے لگا اچانک تاریکی سے روشنی پاکر اسکی آنکھیں چمک گئی آنکھیں چھوٹی کیے وہ پہلے بہزاد اور پھر سامنے موجود جھیل کو دیکھنے لگی اور پھر بہزاد اسکا ہاتھ تھامے نیچے لایا اس لیک کے قریب لایا وہ ہاتھ پھیلائے اس پرسکون جگہ کو محسوس کرنے لگی بہزاد اسے مسکرا کر دیکھ رہا تھا تیز ہوا کے جھونکے آکر ان سے ٹکرا رہے تھے نکلا شفاف پانی میں دونوں کا عکس نظر آرہا تھا وہ بہزاد کو بھلائے اس جگہ میں کھوئی ہوئی تھی
“میڈیم آپ کا ایک عدد ہسبنڈ بھی ساتھ ہے بھول گئی کیا”
بہزاد اسے شکوہ کناں نظروں سے دیکھتے ہوا بولا اسوقت صرف وہ دونوں ہی یہاں موجود تھے
“آپ کون”
غزلان کمر پر ہاتھ رکھے اسے دیکھتے ہوئے سوچ کر بولی بہزاد اسکے انداز پر مسکرایا اور اسے قریب کرکے اسکے چہرے کے قریب جھکا
“میں کون ہوں”
اسکے حسین چہرے پر گہری نظریں جمائے پوچھنے لگا جس پر وہ گھبرا گئی
“ہاں ہاں یاد آگیا میرے ہسبنڈ بہزاد بیگ”
وہ چہرے پر ہاتھ رکھے مسکرا کر بولی بہزاد کی مسکراہٹ مزید گہری ہوئی اور اسکی ناک سے اپنی ناک مس کی۔
خاموشی میں ہوا اور لہروں کی اواز ارتعاش پیدا کررہی تھی فلک پر مہتاب جگمگا رہا تھا
وہ ہاتھ میں ہاتھ ڈالے اس حسین جگہ پر چل رہے تھے غزلان مبہوت زدہ سی یہ منظر دیکھ رہی تھی۔
“یہ سب میرے لیے”
غزلان اسے دیکھتے ہوئے نم آنکھوں سے پوچھنے لگی بہزاد اثبات میں سر ہلا گیا اور اسے سینے سے لگایا
“بہزاد مجھے واقع یقین نہیں آرہا خواب لگ رہا ہے”
وہ اسکے سینے سے لگی نظریں ارد گرد گھمائی بولی اسکی بات وہ مسکرایا
“مسز بہزاد یقین کرلیں”
اسے اپنے میں مزید بھیج کر مسکرا کر بتانے لگا غزلان بھی مسکرا دی
غزلان نے نظریں اٹھا کر بہزاد کو دیکھا جو پہلے سے اسے دیکھ رہا تھا سیاہ آنکھیں سیاہ آنکھوں سے ٹکرائی اور ڈھیروں جذبے سمٹ آئے تھے غزلان کے چہرے پر آئے بالوں کو اپنے ہاتھوں سے پیچھا کرتا اسکی پیشانی سے پیشانی ٹکرا گیا
“میں یہ سب کبھی نہیں بھول سکوں گی کبھی اگر دور ہوئی تو یہ سب یاد کرکے مسکرا دوں گی”
وہ آنکھیں بند کیے اس حسین پر منظر کو دیکھتے ہوئے بولی جس پر بہزاد مسکرایا
“یاد کرنے کی نوبت نہیں آئی گی تمہیں بھولنے اور دور کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے میرا”
وہ اسے دیکھتا ہوا انتہائی محبت سے بولا غزلان مسکرادی اور آگے بڑھ کر اسکی گال پر لب رکھ دیے بہزاد اسے دیکھنے لگ گیا اسکے حیران ہونے پر غزلان مسکرائی
“یہ روز مل سکتی ہے مجھے”
وہ اسکا ہاتھ تھامتا چلتے ہوئے مسکرا کر پوچھنے لگا جس پر غزلان مسکراتے ہوئے نفی میں سر ہلا گئی
بہزاد اور غزلان ایک خوبصورت بنے پتھر کی طرح والی جگہ پر بیٹھ گئے غزلان نے اسکے کندھے پر سر رکھا بہزاد اسکی کمر پر بازو حائل کیے تھا دونوں نظریں سامنے مرکوز کیے اس حسین لمحے کو خاموشی سے گزار رہے تھے غزلان کا دل کیا یہ لمحہ کبھی ختم ہی نہ ہو وقت تھم جائے اور وہ یوں ہی بہزاد کیساتھ ساری زندگی گزار دے
تبھی اچانک بارش کی بوندیں گرنے لگی غزلان اور بہزاد دونوں کو بھی اپنے ہاتھ اور چہرے پر محسوس ہوئی تھی دونوں نے نظریں اوپر اٹھا کر دیکھا
“اہہہ بارش”
غزلان خوشی سے چہکتے ہوئے بولی بہزاد بھی اسے دیکھ رہا تھا
“مجھے لگتا ہے ڈیٹ خراب “
وہ داڑھی پر ہاتھ پھیرا غزلان سے بولا غزلان نفی میں سر ہلا گئی
“ارے نہیں اب تو مزا آئے گا”
وہ مسکرا کر بولتی دونوں ہاتھ پھیلاتے گھومنے لگی تھی بہزاد سینے پر بازو باندھے اسے دیکھ رہا تھا
غزلان کی زندگی میں بہزاد رنگ واپس لے آیا تھا اور وہی بہزاد کی زندگی میں پیار واپس آئے گیا وہ دونوں جو ادھورے جی رہے تھے ایک دوسرے کے ہوکر دونوں نے خود کو مکمل کر لیا تھا
“غزلان چلو اندر سردی لگ جائے گی”
بہزاد اسے کہتی کے بنے ایک ہٹ کی طرف اشارہ کرتا بولا غزلان نے اسے دیکھا
“نہیں لگے گی مجھے سردی ڈونٹ وری “
وہ اسے دیکھتے ضدی انداز میں بولتی واپس سے بارش سے لطف اندوز ہونے لگی
“سردی لگ جائے گی تمہیں”
بہزاد اسکا ہاتھ تھامتی نرمی سے بولتا ہٹ کی طرف قدم بڑھانے لگا جب غزلان نے منہ بنا کر اسے دیکھا
“ابھی مزا آنے لگا تھا ہر چیز سے روک دیتے ہیں”
وہ منہ بسورے اسے شکوہ کناں نظروں سے دیکھتے بولی بہزاد کو اسوقت وہ ایک معصوم بچی لگی تھی
وہ دونوں ہٹ میں آئے لکڑی کا بنا ہٹ بہت ہی حسین تھا سیڑھیاں اتر کر سب سے پہلے نیچے چھوٹا سا ٹی وی لاؤنچ تھا جو بہت خوبصورت ڈیکوریٹ کیا ہوا تھا سامنے ہی اوپن کچن موجود تھا لیفٹ سائیڈ پر ایک روم تھا روم کا دروازہ کھول کر وہ غزلان کو اندر لایا
“کتنا پیارا ہے یہ ہٹ”
وہ مسکراتے ہوئے اشتیاق سے ایک ایک چیز کو دیکھنے لگی جس پر بہزاد مسکرایا
غزلان کی نظر وال پر گئی جہاں اسکی ہزاروں تصویریں تھی اسی حیرانگی ہوئی
“میری تصویریں اتنی ساری”
وہ مسکراتے ہوئے اسے دیکھ کر پوچھنے لگی بہزاد بھی اسے عقب میں آکر کھڑا ہوا
“ہاں جب جب مجھے بہت حسین یعنی ظالم حسینہ لگتی تھی تو میں تمہاری پکچر لے لیتا”
وہ اسے نظروں کے حصار میں لیے اسکے قریب آکر خمار الود اواز میں بولا جس پر غزلان مسکرائی
“چور میری تصویریں چوری سے لی ہے”
وہ اسے دیکھتے ہوئے چھوٹی آنکھیں کیے معصومیت سے بولتی سیدھا بہزاد کو اپنے دل میں اترتی محسوس ہو رہی تھی
“تو اس طرح سے تم مجرم ہوئی”
وہ اسکے آنکھوں میں دیججتے ہوئے بولا غزلان نے آئبرو اچکائے پوچھنے چاہا
“دل بتانا بھی تو ایک جرم ہے”
وہ انکی دبا کر شوخ لہجے میں بتاتا مسکرانے لگا اور غزلان اسکی مسکراہٹ دیکھنے میں مگن ہو گئی
“اوہ میں تو بھول گئی میرے کپڑے گیلے ہیں”
وہ اچانک کمر پر گیلانی محسوس کرتی ہوش میں آتی سر پر چٹ لگا کر کہتی اسکے سامنے سے بات کر ڈریسنگ کے سامنے آئی
بہزاد بھی اسکے پیچھے آکر کھڑا ہوا غزلان مرر سے اسکا عکس دیکھنے لگی بہزاد نے اسکے ہاتھوں پر ہاتھ رکھ کر اسکی زپ کو کھولا اور اپنی انگلیاں اسکی کمر پر پھیرنے لگا اسکا لمس محسوس کرتی وہ کسی سوکھے پتے کی مانند لرزنے لگی بہزاد نے اسکے کندھے سے فراک سرکتے ادھر اپنی ہونٹوں کا لمس محسوس کروایا تھا
“کپڑوں کی ضرورت نہیں پڑے گی آج رات ظالم پری”
جذبات بھرے لہجے بولتا اسکی کمر پر بازو کر اسکی گردن پر جھک کر کا بجا پیار کرنے لگا غزلان سانس روکے آنکھیں کیے ساکت کھڑی تھی وہ اسکی حالت سے محفوظ ہوا اسکا رخ اپنی طرف کرتا شدت سے اسکے ہونٹوں پر جھک کر اپنا لمس محسوس کروانے لگا غزلان کا وجود ہلکا ہلکا سا کانپ رہا تھا بہزاد نے مسکراتے ہوئے اسے گود میں اٹھایا سائیڈ لیمپ آف کرتا اس پر جھک گیا
“آج کی رات تمہارے وجود کی ایک ایک جگہ میرا لمس ہوگا تمہاری روح تک پہنچوں گا ظالم حسینہ”
بھاری نشیلی اواز میں. بولتا اسکی دھڑکنیں بےترتیب کرتا اس پر شدتیں نچھاور کرنے لگا وہ نازک جان اسکی شدتیں برداشت کرنے لگی اور ساری رات وقفے وقفے سے یہی عمل بہزاد اس پر دہراتا رہا
سورج کی روشنی گلاس وال سے ہوتی غزلان کے چہرے پر پر رہی تھی جس سے اسکا بہزاد مزید نکھر رہا تھا چہرے پر دلفریب مسکراہٹ سجائے بہزاد کی ٹی شرٹ پہنے پرسکون سو رہی تھی
بہزاد کی آنکھ کھلی نظر ساتھ اس سے حسین سراپے پر گئی اسے دیکھتے ہی بہزاد کے لبوں پر مسکراہٹ رینگی تھی
“گڈ مارننگ مائی بیوٹی کوئن”
اسکے کان کے قریب گھمبیر اواز میں سرگوشی کرتے ہوئے بولا غزلان کا چہرہ سرخ ہونے لگا وہ اسکے سینے میں منہ چھپا گئی بہزاد اسکی حرکت پر مسکراتے ہوئے اسکی کمر کے گرد مضبوط بازو حائل کرگیا
“مارننگ”
وہ اسکے سینے میں منہ چھپائے دھیمی اواز میں بولی بہزاد آنکھیں بند کر گیا دونوں کی زندگی یہ سب سے حسین لمحے تھے
وہ فریش ہوکر کمرے سے باہر آئی نظر ٹیبل پر گئی جہاں سے سی ڈشز موجود تھی غزلان بہزاد کو دیکھنے لگی
“آپ کو کھانا اتا ہے بنانا”
وہ حیرت سے اسے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگی بہزاد نے اثبات میں سر ہلا دیا
“غزلان بہزاد بیگ آپ کا بندہ ملتی ٹیلینٹڈ ہے”
وہ مسکراتے ہوئے اسے دیکھ کر بولتا جوس کا جگ ٹیبل پر رکھ اسکا ہاتھ تھام کر ڈائننگ پر لایا اور کرسی کھسکا کر اسے بیٹھنے کا اشارہ کیا وہ مسکراتے ہوئے اسے دیکھ رہی تھی
“واہ میرا ہسبنڈ تو سب سے بیسٹ ہے”
مسکراتے ہوئے کہتے ساتھ وہ ناشتہ کرنے لگ گئی بہزاد بھی اسکی بات سر کو خم دیتا ناشتہ کرنے لگا اور غزلان کو اپنے ہاتھوں سے کھلانے لگا وہ مسکراتے ہوئے کھا رہی تھی ۔
تبھی غزلان کا فون بجا اور اس نے ایک منٹ کا اشارہ کرکے ہاتھ صاف کیے اور فون اٹھایا
“اسلام و علیکم سر”
وہ فون کان سے لگائے فورا بولی جب دوسری طرف یوسف صاحب نے مسکراتے ہوئے سلام کا جواب دیا
“کوئی کام تھا خیریت”
وہ پریشانی سے چہرے ہاتھ رکھ کر پوچھنے لگی بہزاد نے اسجی طرف جوس کا گلاس کیا غزلان اسے ہاتھوں سے پینے لگی
“جی خیریت آج میں نے ساری بیٹیوں کو ڈنر پر انوائٹ کیا ہے مجھے امید ہے آپ ضرور آئے گی بہزاد کیساتھ”
یوسف صاحب نے اسے فون کرنے کی وجہ بتائیں انکی بات پر غزلان مسکرائی
“جی ضرور ہم آئیں گے”
غزلان کہتے ساتھ اللہ حافظ کرتی فون رکھ گئی بہزاد ازے دیکھنے لگا
“سر نے ڈنر پر انوائٹ کیا ہے آج رات”
بہزاد کے دیکھنے پر وہ اسے بتانے لگی جس پر وہ سر کو خم دے گیا
“ناشتہ بہت ہی مزے کا تھا روز مجھے یہی ناشتہ کرنا ہے”
وہ فون سائیڈ پر رکھتی دل سے تعریف کرتی اسے بولی بہزاد نے چہرے پر ہاتھ رکھ کر اسے دیکھا
“بندہ حاضر ہے مگر ایک شرط ہے اگر یہ سہولت چاہیے تو اسکے بدلے آپ کو کس دینی ہوگی “
وہ اسے گہری نظروں سے دیکھتے ہوئے مسکرا کر بتانے لگا غزلان اسکی بات قہقہ لگا کر ہنسی
“ٹھیک ہے دن”
وہ جاتے ہوئے بولی بہزاد کی مسکراہٹ گہری ہو گئی غزلان کرسی سے اٹھی
“اب چلنا چاہیے ہمیں”
وہ اسے کھڑا کرتے ہوئے بولی بہزاد نے اسے قریب کیا اور چہرے پر ہاتھ رکھا
“کیوں بور ہوگئی مجھ سے”
وہ اسے دیکھتے ہوئے سنجیدگی سے پوچھنے لگا غزلان نفی میں سر ہلا گئی
“غزلان بہزاد بیگ کبھی آپ سے بور نہیں ہوسکتی میں ہر اس لمحے مسکراتی ہوں جس لمحے آپ ساتھ ہوتے ہیں ایسا خیال بھی کبھی ذہن میں مت لائیے گا”
غزلان جذبات بولتے ساتھ بہزاد کے سینے سے لگ گئی بہزاد کے لبوں پر دلفریب مسکراہٹ نمودار ہوئی۔
