280.4K
41

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Black Love) Episode 31

یونیب ہفتہ ہوسپٹل گزار کر گھر آیا رویش اور بہزاد اسے احتیاط سے بیڈ روم میں لائے تھے رویش وہاں سے اٹھ کر کمرے سے چلی گئی اسکے جاتے ہی بہزاد نے خان کو دیکھا
“کون تھے وہ لوگ”
بہزاد اسکے پاس بیٹھتے ہوئے ماتھے پر لب بل لیے اسے دیکھ کر پوچھنے لگا
“رویش کا باپ تھا”
خان نے اسے جواب دیا بہزاد نے سر کو خم دیا یونیب اسے ہی دیکھ رہا تھا
“تم اب گھر جاؤ بھابی ویٹ کر رہی ہوں گی”
وہ اسے دیکھنے ہوئے کہنے لگا بہزاد نے اثبات میں سر ہلایا اور خیال رکھنے کا بولتے سا بھاری بھاری قدم لیے باہر کی طرف بڑھ گئی
اسکے جاتے ہی رویش کمرے میں آئی اور اسکے پیچھے والا تکیہ درست کرتی اسے آرام سے بٹھانے لگی وہ خاموشی سے اسے دیکھ رہا تھا
“یہ کھاؤ اسکے بعد میڈیسن لینی ہے”
وہ اسے دیکھے بغیر فروٹس کی پلیٹ آگے کرتے ہوئے بولی یونیب اسے دیکھ رہا تھا
“میں نے کچھ کہا ہے”
یونیب کو خود کو دیکھتا پاکر وہ تھوڑی اونچی اواز میں کہنے لگی
“تم کھلاؤ”
وہ چہرے پر دنیا جہاں کی معصومیت سجائے اسے کہنے لگا رویش آنکھیں چھوٹی کیے اسے دیکھنے لگ گئی
“کیوں تم چھوٹے بچے ہو”
وہ گھور کر اسے دیکھتے ہوئے بولی جس پر وہ بس ہلکا سا مسکرایا
“ہونہہ”
رویش اسکی معصومیت میں منہ بسورے اسے کھلانے لگ گئی اور وہ اسے اپنی نظروں کے حصار میں لیے کھانے لگا اسکے بعد رویش نے اسے میڈیسن کلائی اور پلیٹ اٹھا کر وہ جانے لگی جب یونیب نے اسے اسکی شرٹ سے کھینچ کر قریب دونوں کی سانسیں آپس میں ٹکرا رہی تھی اسکی قریب سے سکون محسوس کرتی رویش آنکھیں بند کر گئی یونیب نے اسکے ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں میں قید کرکے خود کو سکون دینے لگااور وہ آنکھیں بند کیے اسکی قربت اور سانسوں کی خوشبو محسوس کرنے لگ گئی۔


عینب بیٹھی ہوئی تھی زہرون لیٹا اسے دیکھ رہا تھا عینب اسکی نظروں سے کنفیوز ہورہی مگر ظاہر نہ کرتے ہوئے موبائل میں مگن رہی تبھی زہرون کا فون بجنے لگا زہرون نے ہاتھ اٹھا کر سائیڈ ٹیبل سے فون اٹھایا اور عینب نے ٹائم دیکھا جہاں گیارہ بج رہے وہ فون اٹھا کر باہر کی طرف بڑھ گیا
“اسوقت کس کا فون “
وہ سوچتے ہوئے اٹھ کر چپل پیروں میں گھساتی باہر آئی اور چھپائے کر اسے دیکھنے لگ گئی زہرون فون سن چکا تھا وہ فون کان سے ہٹانے لگا اچانک نظر سائیڈ موجود وال پر لگے مرر پر گئی اسکا عکس دیکھ زہرون کو شرارت سوجھی
“سمجھو نا ابھی نہیں آیا سکتا میں”
وہ فون کان سے لگائے بول رہا تھا عینب اسکی باتیں سن رہی تھی
“میری جان مین تم سے ہی صرف پیار کرتا ہو”
وہ عینب کو دیکھ کر مسکراہٹ دبائے بولا کر بولا اور یہ سننے کی دیر تھی عینب اس طرف بڑھی
“کس سے بات کر رہے ہو تم”
عینب غصے سے سرخ چہرہ لیے اسکا گربیان ہاتھ میں لیے پوچھنے لگی زہرون اپنی ہنسی بامشکل روک رہا تھا
“میں نے کچھ پوچھا ہے تم سے مسٹر زہرون”
عینب کا غصہ اسکے خاموش رہنے پر مزید بڑھا وہ اونچی اواز میں بولی
“کسی کا نہیں”
زہرون بغیر تاثرات چہرے پر سجائے نارمل سا بولا عینب. آنکھیں چھوٹی کیے اسے دیکھنے لگ گئی
“بہرا سمجھا ہوا ہے سنا میں نے جو تم کہ رہے تھے کون ہے وہ”
وہ غصے سے اسکے مزید نزدیگ اتے گھور کر سرد لہجے میں بولی اور زہرون کو وہ اس وقت حد سے زیادہ حسین لگ رہی تھی
“کوئی نہیں ہے”
وہ اپنی اداکاری کنٹینیو رکھتے ہوئے اسے بولا عینب نے جھٹکے سے اسے چھوڑا
“جان سے ماروں گی تمہیں بھی اور اس بھوتنی کو بھی”
غصے سے اسکی طرف انگلی اٹھائے وہ جل کر بولی زہرون کی ہنسی اب کرنا بامشکل تھی وہ اونچا اونچا ہنسنے لگ گیا عینب اسے پریشانی سے دیکھنے لگ گئی
“کیوں ہنس رہے ہو”
وہ اسے آئبرو اچکا کر دیکھتے ہوئے پوچھنے لگی زہرون نے اسکی جانب قدم اٹھائے جیسے وہ آگے قدم اٹھا رہا تھا عینب پیچھے کی جانب اٹھا رہی تھی
“میری زندگی میں صرف ایک ہی بھوتنی ہے اسکا نام ہے عینب زہرون”
وہ اسکی کمر میں بازو ڈالے کر قریب کرتے ہوئے نظروں کے حصار میں لیے جذبات بھرے لہجے میں بتانے لگا عینب کو اپنی سانسیں تھمتی ہوئی محسوس ہوئی
“پپ۔۔پھر وہ فون میں”
عینب کنفیوز سی ہوتی اسے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگی زہرون نے اپنے ہونٹ اسکے کان کے قریب کیے عینب آنکھیں بند کت گئی
“فون پر کوئی نہیں تھا میں نے تمہیں. مرر سے دیکھنے لیا تو تنگ کیا مائی بیوٹیفل وائف”
کان میں بھاری اواز میں سرگوشی کرتا عینب کی ہارٹ بیٹ تیز کروا گیا اور اسکی گال پر پر لب رکھے وہ آنکھیں بند کیے اسکا لمس محسوس کررہی تھی باڈی ہلکی ہلکی کانپ رہی تھی اگر زہرون نے اسے نہ تھاما ہوتا تو شاید وہ اب تک کھڑی نہ ہوتی
“دور رہو مجھے سے بدتمیز بےشرم جھوٹے اوور”
زہرون نے جیسے ہی تھوڑا فاصلہ اختیار کیا عینب جھٹکے سے اسے الگ کرتی اور سے تگپڑوں کی بارش اسکے فولاد جیسے بازو پر کرنے لگی زہرون اطمینان سے کھڑا اسکے تھپڑ کھا رہا تھا
“کسی کو بہت ہی زیادہ جلن ہورہی تھی”
زہرون اسے زچ کرنے کے پورے موڈ میں آچکا تھا عینب گھور کر سسے دیکھنے لگی
“مجھ سے بات کرنے کی ضرورے جھوٹے مکار انسان”
غصے سے مکہ اسکے بازو میں مارتی گھور کر کہتی کمرے کی طرف بڑھ گئی زہرون اسے جاتا دیکھ مسکرانے لگ گیا۔


وہ شاور لے کر باہر آئی شورٹ شرٹ جو پیٹ سے تھوڑی نیچی تھی اوت گلہ بھی کافی ڈیپ تھا ٹراوزر پہنے وہ ٹاول کو بالوں سے ازاد کیے تھے بہزاد کے گھر نہ ہونے کی وجہ سے اس نے ابھی یہ ڈریس پہنا تھا وہ جانتی تھی وہ دیر سے آئے گا اس لیے بال خشک ہوتے ہی وہ دوسرا ڈریس پہننے کا ارادہ رکھتی تھی وہ ٹاول جگہ پر رک گئی ڈریسنگ کے سامنے آئی اور بالوں کو سلجھانے لگی تبھج دروازہ کھلنے کی اواز سے غزلان مرر سے اسے اندر آنے والے شخص کو دیکھنے لگی بہزاد کی نظر اس پر گئی اور وہ وہی ساکت ہو گیا غزلان نظریں جھکا گئی ڈریس ہی اس نے کچھ ایسا پہنا ہوا تھا بہزاد کے قدم خودبخود اس جانب بڑھے وہ سانس روکے بلکل اسٹل کھڑی کانپتی ٹانگوں کیساتھ کھڑی تھی بہزاد نے اسے بازووں سے تھا۔ کر اسکا رخ اپنی طرف کیا وہ نظریں نہیں ملا سک رہی تھی اسے حد سے زیادہ شرمندگی ہورہی تھی بہزاد نے گھوری پر ہاتھ رکھ اسکا چہرہ اوپر اٹھایا جہاں سرخی چھائی ہوئی تھی اسکے لب مسکرائے
بہزاد کی نظر غزلان کے لبوں پر گئی جہاں پانی کی دو تین بوندیں تھی اپنے انگوٹھے سے اسکے لبوں پر پھیرنے لگا غزلان آنکھیں بند کر گئی اور بہزاد فورا اپنے اور اسکے فاصلے ختم کرتے ساتھ اسکے لبوں پر جھک گیا اور اسکی سانسیں خود میں قید کرنے لگا وہ بند آنکھوں سے اسکا لمس محسوس کررہی تھی گیلے بالوں کی وجہ سے پانی کی بوندیں اسکی کمر پر گر رہی تھی جس سے اسے الجھن سی ہورہی تھی تبھی بہزاد کا فون بجا مگر وہ اسے نظرانداز کرتا اپنے کام میں مگن رہا تھا ایک ںار پھر سے فون بجنے لگا اور بہزاد ہوش میں آتا غزلان کے ہونٹوں کو آزادی بخشتا غصے سے فون گھورنے لگا کال اٹینڈ کرتا غزلان کو دیکھنے لگا جو ابھی بھی آنکھیں بند کیے کھڑی تھی اسکے لبوں پر مسکراہٹ رینگی اور بہزاد نے اسے اپنے ساتھ لگایا
“بولو”
اسے اپنے ساتھ لگائے سپاٹ لہجے میں پوچھنے لگا
“سر درید مر چکا ہے”
دوسری جانب سے آئی خبر سن کر اسکی مسکراہٹ مزید گہری ہوئی تھی
“ڈیٹس گڈ”
کہتے ساتھ وہ فون بند کر چکا تھا آج وہ اپنا مقصد پورا کر چکا تھا غزلان نے اسکی طرف دیکھا
“کیا ہوا”
وہ اسے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگی بہزاد فون جیب میں ڈالتا مسکرا کر اسے دیکھنے لگا
“درید مر چکا ہے”
وہ اسے دیکھتے ہوئے بتانے لگا غزلان کے چہرے پر بھی خوشی صاف ظاہر ہورہی تھی کچھ دیر پہلے والی شرم و حیا بھلائے وہ بہزاد کے سینے سے لگ گئی
“تھینکیو سو مچ”
وہ سینے سسے لگی آنکھیں بند کیے بولی اسکے ساتھ اس طرح سینے سے چپکی وہ چھوٹی سی بچی لگ رہی تھی بہزاد کے چہرے پر مسکراہٹ پھر آ گئی
بہزاد غزلان کو الگ کرتا گود میں اٹھا گیا غزلان اسے دیکھنے لگ گئی
“مجھے لگتا ہے مجھے اپنا کام کنٹینیو کتنا چاہیے”
وہ اسے گہری نظروں سے دیکھتے ہوئے شوخیہ لہجے میں بولتا غزلان ادھر ادھر دیکھنے لگ گئی
“آپ تھکء ہوئے ہیں آپ کو ریسٹ کرنا چاہیے”
اس سے نظریں چراتی لب دباتے ہوئے بولی بہزاد اسی پر نظریں مرکوز کیے ہوئے تھا
“میرہ تھکاوٹ تمہیں اپنے قریب محسوس کرتے ہی ختم ہو جاتی ہے”
جذبات سے چور لہجے میں کہتا وہ غزلان کی دھڑکنیں تیز کروا گیا تھا۔


“نہیں میرے دوست تمہارا بدلہ میں لوں گا”
حامد قریشی کی آنکھوں میں اس وقت خون دوڑ رہا طیش میں چیخ کر بولا
“سر آپ کیا کریں گے”
اسکے ملازم نے گھبراتے ہوئے پوچھا حامد قریشی نے مڑ کر اسے دیکھا
“درید کے قاتل کو ڈھونڈ کر اسکی جان لوں گا”
حامد قریشی اسے دیکھ لفظ چبا چبا کر بولے جس پر ملازم اسے دیکھنے لگا
“لیکن سر وہ آپ کا رشتے دار نہیں دوست”
ملازم گھبراتے ہوئے اسے دیکھ کر کہنے لگا جس پر وہ سرخ انگارہ برستی آنکھوں سے اسے دیکھنے لگا
“وہ مجھے میرے رشتے داروں سے بھی زیادہ عزیز تھا سمجھے”
انتہائی غصے سے بولتا وہ ملازم کو خوف میں مبتلا کر چکا تھا جس پر گھبراتے ہوئے ملازم اثبات میں سر ہلا گیا
“جلدی پتہ کرواو کس نے یہ کام کیا ہے “
صوفے پر بیٹھتے ساتھ سگریٹ لبوں سے لگائے حکم صادر کرنے لگا
“جی سر میں جلد اس جلد پتہ لگانے کی کوشش کرتا ہوں”
وہ اسے دیکھتے ہوئے فودا سے بولا جس پر وہ اثبات میں سر ہلا گئی اور ملازم وہاں سے چلا گیا
“تم جو کوئی بھی بہت جلد تمہاری زندگی برباد ہوجائے گی”
سگریٹ سلگھاتا ہوا وہ لبوں پر زہریلی مسکراہٹ سجائے بولا


رویش اسکے سینے پر سر رکھے مزے سے لیٹی ہوئی تھی یونیب کی نظریں اس پر مرکوز پر تھی
“باہر چلیں کہیں”
وہ اسی پر نظریں جماتے ہوئے پوچھنے لگا رویش اسکی باتیں اسکے مزید نزدیگ ہوئی
“نہیں بلکل نہیں ہم نہیں جائیں گے باہر ہرگز نہیں تم بھی نہیں جاؤ گے باہر”
وہ اسکے سینے میں چھپائے سر نفی میں ہلاتے ہوئے ایک ہی بات کر رہی تھی
“پھر میں کام کیسے کروں گا”
وہ اسے دیکھ آئبرو اچکاتے ہوئے پوچھنے لگا رویش نے سینے سے منہ ہٹا کر اسے دیکھا
“گھر پر تم کہیں نہیں جاؤ گے صرف میرے سامنے رہو گے”
وہ اسے دیجھتے ہوئے معصوم بچی کی طرح کہنے لگی یونیب کے لبوں پر مسکراہٹ آئی
“اینگری گرل وہ سب مر چکے ہیں مجھے کوئی کچھ نہیں کر”
یونیب ابھی بول رہا تھا جب رویش نے اسکی بات کاٹ دی اور اسے گھورا
“کیا نا نہیں میں تمہیں کھونا نہیں چاہتی ہوں اس لیے پلیزز مان جاؤ میری بات”
رویش اسے دیکھ آنکھوں میں نمی لیے معصومیت سے بولی یونیب اسے دیکھ رہا تھا اور چہرے پر سجائے معصومیت پر یونیب ہار مان گیا اور اثبات میں سر ہلا گیا جس پر وہ مسکرائی اور اسکے سینے پر سر رکھ گئی۔
“اینگری گرل تو مجھ سے میری سوچ سے بھی زیادہ چاہتی ہے”
یونیب اپنے سیدھے ہاتھ کی انگلیاں رویش کے الٹے ہاتھ کی انگلیاں میں گھسانے ہوئے جذبات سے کہنے لگا رویش اسے دیکھ مسکرادی۔


غزلان کے بہت اسرار ہرنے کے بعد بہزاد نے اسے کھانا بنانے کی اجازت دی تگی وہ بہزاد کیلیے خود کھانا بنانا چاہتی تھی اس وقت وہ دونوں ہی کچن میں موجود تھے غزلان مختلف سبزیان کٹ بورڈ میں کاٹ رہی تھی وہ سائیڈ پر کھڑا نظریں اسی پر مرکوز کیے اسکے چہرے ہے تاثرات دیکھ کر بہے لطف اندوز ہورہا تھا جب غزلان کی نظر بھی اس پر گئی وہ مسکرا دی اور کٹ ساتھ ساتھ کرنے لگی اچانک انگلی پر کٹ لگ گیا
“آہہہ”
غزلان کی چیخ نکلی بہزاد فورا اس طرف بڑھا بہزاد نے اسکا ہاتھ پکڑا کٹ اسے لگا تھا مگر اسکی چیخ اور آنکھوں میں نمی دیکھ بہزاد بیگ کو اسکی تکلیف اپنی تکلیف محسوس ہو رہی تھی وہ اسے دیکھ رہا تھا وہ بھی اسے دیکھ رہی تھی۔ کٹ اتنا بڑا نہیں تھا لیکن اچانک لگنے پر اسے تھوڑی تکلیف ہوئی تھی
“افف بیوقوف لڑکی دھیان سے کرنا تھا “
وہ اسکا ہاتھ تھامے سر پر چپٹ لگا کر تھوڑا خفگی سے کہنے لگا
“ہاں مجھے تو پتہ تھا جیسے کٹ لگ جائے گا اور یہ سب آپ کی وجہ سے ہوا ہے”
وہ منہ بنائے ہوئی اپنی بھی ناراضگی ظاہر کیے بولی اسکی بات پر بہزاد ہے لبوں پر مسکراہٹ آئی
“میری وجہ سے کیسے”
اسکی نکلتے خون کو ٹشو سے صاف کرتے ہوئے آئبرو اچکائے پوچھنے لگا
“آپ مجھے نہ یوں گھور گھور کر دیکھتے اور نہ مجھے آپ پر پیار آتا اور نہ ہی یہ ہوتا”
وہ اسے دیکھ چہرے پر معصومیت سجائے اسے کہنے لگی بہزاد اسے سن رہا تھا
“اتنا درد ہورہا ہے کیا اگر زیادہ ہورہا ہے اور تمہیں لگ رہا ہے میری غلطی ہے تو سوری”
بہزاد اسکے چہرے پر اپنے ہاتھ رکھے بال پیچھے ہٹاتا نرمی سے بولا غزلان نے منہ بسورا
“نہیں میں تو بس تنگ کررہی تھی آپ کو”
وہ مسکراتے ہوئے بولتی اس کے سینے سے لگ گئی بہزاد نفی میں سر ہلاتا اسے خود میں بھیج گیا۔