Black Love By Mahnoor Shehzaad Readelle50302 (Black Love) Episode 30
Rate this Novel
(Black Love) Episode 30
بہزاد بہت دیر بعد غزلان سے الگ ہوا رویش کی نظریں آپریشن تھریٹر میں موجود تھی غزلان خاموشی سے ایک ایک نظر دونوں پر ڈال رہی تھی
تبھی ڈاکٹر باہر آیا رویش فورا اس طرف بڑھی بہزاد بھی اس جانب بڑھا
“ڈاکٹر یونیب کیسے ہیں”
رویش کو دیکھتے ہوئے سنجیدگی سے پریشانی سے پوچھنے لگی
“مشن سیکسفل رہا ہے کچھ دیر میں انہیں ہوش آجائے گا ابھی تھوڑی میں انہیں روم میں شفٹ کردیا جائیے گا آپ سب مل لیجیے گا”
ڈاکٹر کہتے ساتھ وہاں سے چکے گئے اور رویش کی پریشانی کم ہوئی اور بہزاد بھی بے فکر ہوا اس نے غزلان کی جانب دیکھا جو مسکراتے ہوئے اسے دیکھ رہی تھی
“میں گھر بتادوں”
غزلان کہتے ساتھ فون نکال کر عینب کا نمبر ملا کر اسے بتانے لگی
“یونیب خطرے سے باہر ہے اب”
عینب راحت بیگم زہرون اور زرمیش کو دیکھتے ہوئے بتانے لگی تینوں نے شکر ادا کیا
تبھی یوسف صاحب گھر میں داخل ہوئے اور سب کو یوں تھوڑا پرسکون بیٹھا دیکھ انہیں پتہ لگ گیا یونیب ٹھیک ہے
وہ بغیر کسی سے کوئی بات کیے اوپر کمرے کی طرف بڑھ گئے اور وہ سب بھی بس خاموشی سے انہیں جاتا دیکھنے لگ گئے
یونیب کو روم میں شفٹ کردیا گیا تھا مگر وہ بے ہوش تھا رویش اسکے پاس خاموش بیٹھی اسے دیکھ رہی تھی
“عادت بنا دی مجھے اپنی مجھے بچانے کے چکر میں خود کو تکلیف دے دی بہت ہیرو بننا آتا ہے اگر کچھ ہو جاتا تو کبھی سوچا کہ تمہاری اینگری گرل تمہارے بغیر رہ سکتی نہیں تمہیں. میری کہاں فکر ہے تمہیں تو بس مجھے تنگ کرنے میں مزا آتا ہے کس نے کہا تھا وہاں آنے کو میں خود کو بچا لیتی لیکن نہیں خود کو اذیت تکلیف اور میرے سامنے ہیرو بننے کا تمہیں بہت شوق ہے نا”
وہ آنکھوں میں نمی لیے اونچی اواز میں اسے دیکھتے خفگی سے بول رہی تھی جب یونیب کی اہستہ اہستہ آنکھیں کھلی رویش اسے دیکھنے لگ گئی
“یار تم تو۔۔۔۔ مجھ معصوم کے ہوسپٹل ہوتے ۔۔۔ہوئے بھی اپنا غصہ۔۔۔ نہیں بھلا رہی ہو”
وہ اسے دیکھتے ہوئے بامشکل مسکراتے ہوئے رک کر بولا رویش اسے دیکھنے لگی۔
“بھاڑ میں جاؤ ادھر تم زندگی اور موت سے بچ کر آئی ہو تمہیں مذاق سوجھ رہا ہے “
غصے سے اسے گھورتے ہوئے ناراض لہجے میں بولی یونیب اسے دیکھ رہا تھا
“یقین اسوقت اتنی حسین لگ رہی ہو میرا دل رومینس کرنے کا”
وہ ابھی بول رہا تھا جب اس نے اسکے ہونٹوں پر ہاتھ رکھا اور گھورا
“خبردار جو اب کچھ بولا تم نے”
آنکھیں دیکھاتے ہوئے پورے حق سے کہتے اسکے چہرے پر ہاتھ پھیرا ایک نظر اس کی حالت پر ڈالتی اسکی آنکھیں نم کو گئی یونیب اسکی نم آنکھیں دیکھ نفی میں سر ہلانے لگ گیا۔
بہزاد اسکے ہوش میں آتے ہی ساتھ غزلان کو لیے روم کی جانب بڑھا اور اسے دیکھا یونیب نے بھی نظریں اٹھا کر اس طرف دیکھا
“کیسے ہو”
وہ اسے دیکھتے ہوئے سنجیدگی سے پوچھنے لگا جس پر وہ سر کو خم دے گیا
“تمہارے سامنے”
اسے دیکھ وہ مذاقیہ انداز میں بولا رویش اور غزلان کے لبوں پر مسکراہٹ آئی اور بہزاد کے لب تھوڑا اوپر کو اٹھے۔
بہزاد اور غزلان بھی شام تک گھر آ گئے تھے اب خان کے پاس رویش اور اسکا ادمی ماجد موجود تھا
بہزاد فریش ہوکر باتھروم سے باہر آیا نظر غزلان پر گئی جو بیڈ کراون سے سر ٹکائے شاید لیٹے لیٹے سو گئی تھی جس پر بہزاد اسے دیکھ کر مسکرا دیا اور اسکی طرف بہت اسے ٹھیک کرکے پورا ساتھ اسکے ماتھے پر لب رکھ دیے اور خود بھی اسکے پاس آکر لیٹ گیا تبھی غزلان نے اپنا رخ اسکی طرف کیا اور اسکا سر سیدھا اسکے سینے سے لگ گیا وہ اسکے گرد مضبوط حصار بناتا اس کو اپنے میں بھیج دیا
صبح اسکی آنکھ کھلی نظر بہزاد پر گئی جو اسے اپنے میں قید کیے پرسکون سا سورہا تھا وہ اسکی قید سے بہت مشکل سے نکلتی باتھروم کی طرف بڑھ گئی کچھ دیر بعد فریش ہوکر وضو کیے وہ باہر آئی اور دوپٹہ لیتی وہ جائے نماز بچھا کر فجر ادا کرنے لگ گئی بہزاد کی اچانک آنکھ کھلی اور نظر غزلان پر گئی جو آنکھیں بند کیے دعا کیلیے ہاتھ اٹھائے خدا سے باتیں کرنے میں مصروف تھی چہرے پر دنیا جہاں کا سکون تھا اور اس وقت وہ بہزاد کے سیدھا دل میں اتر رہی تھی دعا مانگنے کے بعد چہرے پر ہھیرتی جائے نماز واپس جگہ پر رکھ بہزاد کی طرف دیکھا اور مسکرا دی
“اٹھ گئے ہیں آپ فریش ہوجائے میں بتیک فاسٹ دیکھتی ہوں”
وہ اسے دیکھتے ہوئے کہتے ساتھ جائے نماز جگہ پر رکھتے ہوئے بولی بہزاد بیڈ سے اٹھا اور اسکی کلائی پکڑ کر اسے کھینچا اور اسکی گردن پر اپنے لب رکھے غزلان آنکھیں بند کر گئی کچھ دیر بعد سے اسے خود سے الگ کرتا باتھروم کی طرف بڑھ گیا اور غزلان سرخ چہرہ لیے نیچے کی جانب بڑھ گئی
“گڈ مارننگ میڈیم”
ریاض غزلان کو دیکھتے ہوئے مسکرا کر بولا غزلان نے سر کو خم دیا
“ناشتہ تیار ہے”
غزلان اسکی جانب دیکھ سپاٹ لہجے میں پوچھنے لگی
“جی جی تیار ہے”
ریاض اسے فورا بتانے لگا غزلان نے اب کی بار اسے دیکھا
“لگا رویش ڈائننگ پر”
سنجیدگی سے کہتے ساتھ ڈائننگ ٹیبل کی طرف بڑھ گئی اور ریاض کچن کی طرف بڑھ گیا
عینب اور زہرون آج ہی گھر واپس آئے تھے وہ اتے ساتھ مرر کے سامنے کھڑی بال کھول کر اسے سلجھانے لگ گئی اور بالوں کا جوڑا بنانے لگی تبھی زہرون نے پیچھے حصار میں لیا اسکے چلتے ہاتھ ایکدم رکے تھے
“کچھ لوگ بہت چپ ہیں”
اسے مرر سے دیکھتے ہوئے بولا جس پر عینب نے کیچڑ لگایا اور خاموش رہی
“عینب”
زہرون نے اسکا رخ اپنی طرف کر کے اسکے چہرے پر نظر ڈالتے ہوئے اسے دیکھ پوچھنے لگا عینب نے اثبات میں سر ہلایا
“کیا ہوا ہے تمہیں”
اسکے چہرے پر ہاتھ رکھتے وہ فکرمندی سے پوچھنے لگا عینب نے نظریں اٹھا کر اسے دیکھا
“تم رو کیوں رہی ہو”
عینب کی آنکھوں میں نمی دیکھتے وہ پیار سے پوچھنے لگا عینب نفی میں گردن ہلا گئی
“بتاؤ عینب ہم اچھے دوست بھی ہیں”
اسکی گال سہلاتا مسکراتے ہوئے اسے بولا جس پر عینب بغیر کچھ کہے زہرون کو سینے سے لگ گئی زہرون پریشانی سے اسکے گرد مضبوط حصار قائم کر گیا
“تم نہ اب باہر نہ جانا اگر تمہیں”
اسکے سینے سے لگی دھیمی اواز میں بولتے بولتے ایکدم خاموش ہو گئی
“آگے”
زہرون اسکی فکر پر مسکراتے ہوئے پوچھنے لگا جس پر عینب فورا اس دور ہوئی زہرون نے آئبرو اچکا کر پوچھا
“کچھ نہیں”
اس کے ہاتھ سے اپنا ہاتھ نکالتی جانے لگی زہرون نے اسے دیکھا
“ٹھیک ہے تمہیں تو مجھ سے بات نہیں کرنی ہے میں باہر جارہا ہوں”
زہرون جان کر اسے تنگ کرتا باہر کی طرف جانے لگا عینب نے اسے جاتا دیکھ روکا
“نہیں تم باہر نہیں جاؤ گے بات نہیں ہے کوئی بھی”
عینب اسکی طرف بڑھ کر اسے روکنمتے ہوئے بولی زہرون مسکرایا
“صاف کہو مجھے کھونے سے ڈر رہی ہو”
وہ مسکراتے ہوئے شوخ لہجے میں پوچھنے لگا جس پر عینب نے اسے دیکھ ا
“مجھے بھوک لگی ہے”
عینب اسکی بات نظرانداز کرتی باہر کچن کی طرف بڑھ گئی اور وہ بھی مسکراتے ہوئے پیچھے آیا
خان کو ہوسپٹل میں دو دن ہو چکے تھے رویش روم میں آئی اسے ٹھیک کرکے بٹھایا اور اسکے بال ٹھیک کرنے لگی یوسف صاحب اور راحت بیگم اس سے مل گئے تھے
“چلو سوپ پیو اسکے بعد میڈیسن بھی لینی ہے”
رویش اسکی طرف سوپ کا چمچ کرتے ہوئے بتانے لگی یونیب نے سوپ پی لیا
اسی طرح رویش نے اسے سوپ ہلایا اور باتیں وغیرہ ساتھ ساتھ کرتی رہی اور پھر اسے میڈیسن دینے لگی خان پلک چھپکائے اسے دیکھ رہا تھا۔
“تم تھک نہیں گئی”
یونیب اسے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگا رویش نے اسے دیکھا
“کیوں”
وہ اسے دیکھتے ہوئے آئبرو اچکائے پوچھنے لگی
“میری خدمت کرکے مجھ مریض کا خیال رکھ کر “
یونیب اسے دیکھتے ہوئے بتانے لگا رویش نے گھور کر اسے دیکھا
“یہ جو مریض ہے نا وہ میرا ایک عدد شوہر ہے خدمت کرنا فرض ہے “
وہ غصے سے اسے دیکھتے ہوئے منہ بنائے بولی یونیب مسکرانے لگا
“اور ہاں کیا یاد کرو گے کتنی اچھی بیوی ملی ہے”
رویش اتراتے ہوئے مسکرا کر بتانے لگی یونیب کے چہرے پر مسکراہٹ آئی وہ اس وقت اسے بےحد کیوٹ لگی اور اس نے اسے کھینچ کر اسکے لبوں پر لب چھوئے وہ بس اسکی حرکت دیکھتی رہ گئی
بیلکونی میں کھڑا وہ سگریٹ لبوں سے لگائے پینے میں مصروف تھا تبھی غزلان بلیک کافی لیے آئی اور اسے دیکھا
“بہزاد یہ مت پیے یہ صحت کیلیے بلکل بھی ٹھیک نہیں ہے”
غزلان اسے سگریٹ پیتا دیکھ خفگی سے بولی بہزاد نے ایک نظر اسے دیکھا
“اگر. نہیں پھینکا تو میں نہیں کروں گی”
غزلان اسے خود کو دیکھتی منہ بولی بہزاد نے سگریٹ منہ سے نکال کر پھینک دیا
“اور کچھ “
کافی تھامتا اسے دیکھ کر پوچھنے لگا غزلان ہلکا سا مسکرائی اور نفی میں سر ہلا گئی
“یونیب بھائی سے ملنے نہیں جانا”
غزلان نظریں سامنے مرکوز کیے اس سے پوچھنے لگی
“جاؤ گا تھوڑی دیر تک”
وہ اسے دیکھتے ہوئے بتانے لگا غزلان نے اثبات میں سر ہلا دیا
“یہ کچھ دن بہت برے تھے”
اسے دیکھ وہ سنجیدگی سے بتانے لگی جس پر بہزاد اثبات میں سر ہلا گیا۔
“پپ۔۔۔پپپلیززز۔۔ججج۔۔جانے دو”
درید زمین پر بیٹھا تڑپتے ہوئے کہنے لگا بہزاد کے ادمی اسے خاموشی سے تڑپتا دیکھ رہے تھے
“ممممیں تممم۔ہارے آگے ہاتھ جوڑ۔۔۔تا ہوں”
درید چار دنوں میں بہت کمزور اور جسم کے ہر کونہ میں تکلیف اور درد ہورہی تھی
اور آج شاید اسکا آخری دن تھا جو سب اس نے کیا تھا آج اسے ویسے ہی بھیانک موت مل رہی تھی وہ تڑپ سسک رہا تھا منتیں کر رہا تھا مگر کوئی نہیں سن رہا تھا کچھ ہی دیر میں اسکی اوازیں اور اسکے جسم تڑپنا چھوڑ دیا دونوں آدمیوں نے ایک دوسرے کو دیکھا
“مر گیا ہے شاید”
ایک ادمی نے بولا جس پر ساتھ والے ادمی نے اثبات میں سر ہلا دیا
“بہزاد سر کو بتانا ہوگا”
کہتے ساتھ جیب سے فون نکالا اور نمبر ڈائل کر کے کان سے لگایا
جاری ہے
