280.4K
41

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Black Love) Episode 27

صبح اسکی آنکھ کھلی نظر کمرے میں دوہرائی رات کو وہ یونیب کے سینے پر ڈر رکھ کر سوئی تھی مگر اب وہ اسے کہیں بھی نظر نہیں آرہا تھا رویش پریشان ہوئی تھی تبھی اسکی نظر سائیڈ ٹیبل پر موجود ایک چٹ پر گئی تھی۔

“وارڈروب میں تمہارے لیے ایک نیو ڈریس لایا ہوں پہن کر تیار ہو جانا سرپرائز ہے”
وہ چٹ پر لکھا پڑھنے لگی پڑھتے ساتھ لبوں پر مسکراہٹ بکھر گئی اور فورا اٹھ کر وارڈروب کی طرف بڑھی جہاں خوبصورت سی ایک سرخ رنگ کی میکسی تھی اسے دیکھ کر رویش کی مسکراہٹ مزید گہری ہوئی تھی۔

“بیوٹیفل”
وہ مسکراتے ہوئے اسے دیکھ کر بولتے ساتھ تھام کر واشروم کی جانب بڑھ گئی۔
کچھ دیر میں شاور لینے کے بعد وہ اسی سرخ میکسی پر ملبوس تھی جو اسکی دودھیانہ رنگت میں بہت جچ رہی تھی وہ ڈریسنگ کے سامنے آکر کھڑی ہوتی ڈرائیر سے بال سکھانے لگ گئی گال سکھاتے ہی وہ بالوں کو کیچڑ میں قید کرتی اپنے آپ کو تیار کرنے لگ گئی
لائٹ سے میک ایپ میں ملبوس خوبصورت بالوں کا جوڑا بنائے ہونٹوں پر ڈیپ ریڈ لپسٹک لگائے کانوں میں ائیر رنگز پہنے پیروں پر سینڈیلز چڑھائے وہ غضب کی لگ رہی تھی ڈریسنگ پر سے یونیب کا پرفیوم اٹھاتی خود پر چھڑکتی ایک نظر مرر میں دیکھ کر مسکرا دی

“میڈیم نیچے ڈرائیور آپ کا ویٹ کر رہا ہے”
تبھی یونیب کی سرعنٹ دروازہ ناک کرکے اندر آتی اسے دیکھ کر مسکراتے ہوئے بولی جس پر وہ مسکرائی اور اثبات میں سر ہلا کر نیچے کی جانب بڑھ گئی۔
وہ نیچے آتی گاڑی میں بیٹھ گئی ڈرائیور سیٹ سنبھالتا گاڑی سڑک پر دوہرا گیا اور گاڑی ایک جگہ پر رک گئی رویش نے ڈرائیور کو دیکھا تو ڈرائیور نے اتر اسکے لیے دروازہ کھولا وہ اتری اور باہر آئی ڈرائیور چلا گیا

“یو لک لائک آ پرنسس مائی اینگری گرل”
تبھی اپنے کانوں میں بھاری گھمبیر اواز سن کر اسکی ہارٹ بیٹ مس ہوئی یونیب نے اسکی آنکھوں پر ہاتھ رکھا

“یونیب”
رویش نے اسے پکارا یونیب نے اسکا ہاتھ مضبوطی سے اپنے ہاتھ میں تھاما اور قدم بڑھانے لگا

“میں تمہارے پاس ہی ہوں”
اسے بولتے ساتھ وہ اندر کی جانب بڑھ گیا اور اندر اتے ہی اس نے اسکی آنکھوں کے آگے سے ہاتھ ہٹایا پورا جسم سجا ہوا بیچ میں ایک موجود ٹیبل پر تھے جس کے سرد گرد دو کرسیاں موجود تھی سائیڈ پر ایک بیڈ پڑا تھا جو سجا ہوا اور اسکے گرد خوبصورت سے کرٹن لگے ہوئے تھے ایک وال پر رویش کی بےشمار تصویریں تھی وہ یہ سب دیکھ مسکرائی اور اسے دیکھا جو اسکے پیچھے کھڑا تھا۔

“تھینکیو سو مچ”
وہ اسکے سینے لگی خوشی سے بولی تھی اور یونیب نے اسکے گرد مضبوط حصار قائم کیا۔

“میں تمہارے چہرے یہ حسین مسکراہٹ لانے کیلیے کچھ بھی کرسکتا ہوں”
اسے خود سے الگ کر کے سر تو پیر دیکھ گہری نظروں سے بولا تھا اس کال ڈریس میں یونیب کو وہ سیدھا اپنے دل میں اترتی محسوس ہو رہی تھی۔اور رویش کے چہرے پر شرمیلی مسکراہٹ آئی

“مجھے بھوک لگ رہی ہے”
اسے دیکھنے ہوئے منہ بنائے بچو کی طرح بولی یونیب اسکا ہاتھ اسے ٹیبل پر لے آیا
دونوں نے مل کر کھانا کھایا اسکے بعد رویش نان اسٹاپ بولنے لگ گئی وہ چہرے پر ہاتھ رکھے گہری نظریں اسکے حسین سراپے پر ڈالے اسکے ہونٹوں کو غور سے دیکھ رہا تھا اسے سمجھ اسکی باتیں سمجھ نہیں آرہی تھی۔
تبھی یونیب اچانک کرسی سے اٹھا اور اسکے ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں میں قید کر لیا اچانک ہونے اسکے حملے پر اسکی آنکھیں پھیل گئی یونیب نے اسے چئیر سے اٹھا کر اسکی کمر میں ہاتھ کر اپنے قریب کرکے اسکی سانسیں خود میں قید کرنے لگا اسی طرح ہونٹوں کو نشانہ بنائے وہ اسے چلتے چلتے اسکا بیڈ کی جانب لے گیا اور اسے بیڈ پر لٹایا رویش کو اپنی سانسیں بند ہوتی محسوس ہوئی یونیب اس پر رحم کھاتا اپنے ہونٹ اس سے الگ کر گیا وہ اسے دیکھ کر نظریں جھکا گئی یونیب نے چہرے پر مسکراہٹ آئی

“آج کی رات تن بہت بھاری گزرنے والی اینگری گرل”
پیار سے کہتے ساتھ اسکے بال سہلاتے ہوئے اسکے ماتھے پر لب رکھ گیا رویش کی سانسیں رک سی گئی وہ آنکھیں بند کر گئی اس میں سے آتی خوشبو محسوس کرکے یونیب کے لبوں پر پھر ایک بار پھر مسکراہٹ نمودار ہوئی۔
وہ اسکی گال پر لب رکھ کر اسکی دوسری گال پر جھکا وہ آنکھیں بند کیے یونیب کی شرٹ جو مضبوطی سے پکڑے ہوئے تھی وہ اسے دیکھ کر مسکرایا اور اسکے ہونٹوں پر ایک بار پھر شدت سے جھک گیا ہونٹوں کو آزادی بخشتا وہ اسکی گردن پر آیا اور ادھر بےلوث محبت نچھاور کرنے لگ گیا وہ معصوم ننھی جان اسکی شدتیں برداشت کرتی خود میں سمٹ رہی تھی جسم کانپ رہا تھا پوری رات وہ اسے اپنی محبت کی برسات میں برساتا رہا ۔


صبح اسکی آنکھ کھلی نظر رویش پر گئی جو اسکی ٹی شرٹ میں ملبوس پرسکون سی اسکے حصار میں سو رہی تھی اسے دیکھ کر یونیب کے چہرے پر دلفریب مسکراہٹ آئی۔

“تھینکیو سو مچ رات اس قدر حسین بنانے کیلیے”
کان کے قریب جھک کر وہ گھمبیر اواز میں بولا وہ تھوڑا سا ہلی اور واپس سو گئی وہ غور سے اسکے نقوش دیکھنے لگ گیا سورج کی روشنی اسکے چہرے پر پڑ رہی تھی جس سے اسکا چہرے کی خوبصورتی میں مزید اضافہ ہورہا تھا یونیب نے اپنے لب ایک بار پھر اسکی لبوں سے چھوئے روءش کی آنکھ کھلی گئی اس نے اسے دیکھا

“سکون سے سونے بھی نہیں دیا”
منہ بسورے اسے دیکھ کر نظریں برستی بولی یونیب اسکے بالوں پر اپنی انگلیاں پھیرنے لگا۔

“گیارہ بج گئے ہیں جناب گھر نہیں جانا”
اسے دیکھتے ہوئے وہ پوچھنے لگا جب رویش نے اپنا منہ اسکے سینے میں چھپایا

“نہیں میرا دل نہیں کم از کم تم یہاں میرے ساتھ تو ہو گھر جاؤ گی تم کام کرنے کیلیے جاؤ گے”
اسکے سینے پر منہ چھپائے وہ معصومیت سے بولی یونیب نے اسکے گرد مضبوط حصار بنایا

“تو پھر میں رات والے موڈ”
ابھی وہ شوخیہ لہجے میں بول رہا تھا رویش اس سے دور ہونے لگی مگر یونیب کی گرفت مضبوط تھی

“مجھے گھر جانا ہے”
اسکے سینے میں منہ دیے گھبرا کر بولی جب یونیب نے اسکی گردن پر انگلیاں پھیرنے اور اسکے بازووں پر اپنی انگلیوں کا لمس محسوس کروایا رویش کی ہارٹ بیٹ ایکدم رک گئی ریڑھ کی ہڈی میں ایک سنسناہٹ سی دوڑی وہ مزید اسکے سینے میں چھپنے لگی اسکے ساتھ چپکی وہ بلکل کوئی چھوٹی بچی لگ رہی تھی۔
یونیب اسے سیدھا لٹا کر اسکے اوپر اور چہرے پر کچھ شرارتیں لٹھوں کو پیچھے کرکے اسے مسکراتے ہوئے دیکھنے لگا جس سانس روکے آنکھیں بند کیے لیٹی ہوئی تھی

“تھینکیو”
اسے دیکھ وہ مسکراتے ہوئے کہتے ساتھ اسکی پیشانی پر لب رکھ گیا رویش نے آنکھیں کھول کر اسے دیکھا اور مسکرائی۔

“تھینکیو سو مچ مجھے اتنا اسیشل ٹریٹ کتنے کیلیے”
مسکراتے ہوئے اسے دیکھ کر بولی یونیب نے اسکے چہرے پر ہاتھ رکھا

“تم ہمیشہ میرے بہت اسپیشل رہو گی”
اسے دیکھتے ہوئے بولتے ساتھ اسکی بالوں کی خوشبو سونگھنے میں مصروف ہو گیا۔


ناشتہ کرنے کے بعد وہ دونوں گھر کیلیے نکل چکے تھے یونیب کل بائیک پر یہاں آیا جس کی وجہ سے رویش اور وہ بائیک پر موجود تھے رویش آگے بیٹھی تھی یونیب اسکے پیچھے بیٹھ کر چلا رہا تھا وہ ساتھ ساتھ کوئی ایسی حرکت کرتی جس پر یونیب مسکرانے لگ جاتا۔

“یونیب میرا چھلی کھانے کا بہت دل ہورہا ہے”
اسے دیکھتے ہوئے وہ منہ بناتی بولی یونیب نے اسے دیکھا تبھی نظر سامنے چھلی لگائے ایک شخص پر گئی رویش کے چہرے پر مسکراہٹ آئی
دونوں اتر کر چھلی لینے لگ گئے رویش مسکراتے ہوئے اسے دیکھ رہی تھی
عرفان صاحب جو اسکو ہی ڈھونڈ رہے تھے اچانک اس پر نظر پڑتے ہی وہ ایک حیران ہوئے اور پھر چہرے پر فاتحانہ مسکراہٹ آئی

“چلیں”
وہ اسے دیکھ کر پوچھنے لگی جس پر یونیب اثبات میں سر ہلا گیا اور یونیب کی نظر عرفان پر گئی جو رویش کو گھور کر دیکھ رہا تھا غصے سے اسے دیکھتا وہ رویش کا ہاتھ تھامتا بائیک پر بیٹھ کر چل دیا اور رویش مسکراتے ہوئے اس سے باتیں کرنے اور چھلی کھانے میں مصروف تھی انکے تھوڑا دور جاتے ہی عرفان اپنی گاڑی میں بیٹھا اور ان کا پیچھے کرنے لگ گیا

“یونیب یہ میرا بیسٹ سے بھی بیسٹ ڈے تھا تھینکیو تھینکیو”
وہ لوگ گھر پہنچے تو رویش اسکا ہاتھ تھامے چل رہی تھی یونیب نے اسکا ہاتھ تھاما اور روم میں لے آیا

“مجھے کچھ الگ طریقے کا تھینکیو چاہیے”
کہتے ساتھ وہ اپنی گال پر اشارہ کرنے لگا رویش کے چہرے پر مسکراہٹ آئی اور اوپر کی جانب اٹھائییکدم کر بامشکل اسکی گال تک پہنچی یونیب تھوڑا جھکا رویش نے اپنے لب اسکی گال پر رکھ دیے اور فورا پیچھے ہونا چاہا جب یونیب نے گرفت بہت مضبوط کر لی رویش اسے دیکھنے لگ گئی۔

“ادھر”
وہ اپنی دوسری گال پر اشارہ کرتے ہوئے بولا رویش کو مجبورا اسکی اس گال پر بھی لب رکھنے پڑے اسکے نرم لمس کو محسوس کرتے یونیب کو سکون ملا یونیب نے اپنے ماتھے پر اشارہ کیا رویش گھور کر دیکھتی تھوڑی مزید اوپر ہوتی اس پر لب رکھ گئی وہ مسکرایا

“ادھر”
آنکھوں میں شرارت لیے اپنے ہونٹوں پر اشارہ کرتے بولا رویش نے آنکھیں دیکھائی

“میں خود کر لیتا ہوں”
کہتے ساتھ اسکے لبوں پر ہوتی شدت سے جھکا اور اپنی گرفت مزید مضبوط کرلی۔

“اوہ تو یہاں رہتی ہے رویش اس عاشق کیلیے بھاگی تھی گھر سے”
وہ بنگلے پر نظر ڈالتے داڑھی کجھلاتے ہوئے منہ بنائے بولا

“میرا کام تو ہو گیا”
کہتے ساتھ چہرے پر زہریلی مسکراہٹ سجا کر وہاں سے چلا گیا ۔


“رویش مجھے ضروری کام ہے رات میں آجاؤ گا”
تیار ہو کر بالوں کو نفاست سے سجائے کر اسے اپنے ساتھ لگائے بولا

“جاؤ سب تم بس کاموں پر ہی دھیان دو گے”
وہ برا سا منہ بناتے ہوئے بولی جس پر یونیب اسے دیکھنے لگا اور سکی پیشانی پر لب رکھا

“کل پورا دن تمہارے ساتھ تھا ضروری نہ ہوتا تو کبھی نہ جاتا”
پیار سے کہتے ساتھ اسے گلے سے لگایا وہ منہ بنائے اسے دیکھ رہی تھی

“سمائل”
اسکا منہ بنا دیکھ وہ مسکراتے ہوئے اسے بولا جس پر وہ مسکرائی یونیب نے اسکی ناک سے اپنی ناک مس کی

“مجھے پھر ایسا کرو ڈیڈ کے گھر چھوڑ دو”
اسے دیکھتے ہوئے منہ بنائے بولی جس پر یونیب اثبات میں سر ہلا گیا اور دونوں چل دیے۔

جاری ہے