Black Love By Mahnoor Shehzaad Readelle50302 (Black Love) Episode 24
Rate this Novel
(Black Love) Episode 24
“بیٹا یہ ڈریس دراب نے تمہارے لیے پسند کیا ہے امید ہے تمہیں پسند آیا ہوگا”
سانیہ بیگم مسکراتے ہوئے رویش کو دیکھ اسے ڈریس دیتے ہوئے بولی رویش بھی ہلکا سا مسکرادی
“پیارا ہے بہت”
وہ پھیکی مسکان لبوں پر سجائے انہیں بولی جس پر وہ مسکرائی۔
“تیار ہو جائیں آپ”
وہ مسکراتے ہوئے اسے دیکھ کر بولتی اٹھ کر کمرے سے چلی گئی۔
رویش اس ڈریس کو دیکھنے لگی آنکھوں میں نمی تھی کیوں اسکے ساتھ ہی کیوں ہوتا تھا یہ سوچتے ہی اسکی آنکھیں نم ہوگئی۔
تبھی عینب کمرے میں داخل ہوئی اور اسے دیکھا۔
“ڈریس پیارا ہے”
وہ اسکے پاس بیٹھتے ہوئے بولی اسکی اواز پر رویش نے بند آنکھیں کھولی۔
“اگر نہیں خوش اس نکاح سے تو انکار کردو”
وہ اسکا اداس چہرہ دیکھتے ہوئے ڈریس پر نظریں مرکوز کرگئی
“تمہیں میری فکر کیوں ہو رہی ہے”
رویش اسے دیکھتے ہوئے سنجیدگی سے پوچھنے لگی عینب کے لبوں پر مسکراہٹ نمودار ہوئی۔
“نہیں فکر نہیں ویسے ہی کہا تھا خیر تم خود اپنی زندگی برباد کر رہی ہو تو میں کیا بولوں”
لاپرواہی سے اسے بولتی اٹھ کر چلی گئی رویش اسے جاتا دیکھ رہی تھی۔
“تم جیسی دیکھاتی ہو عینب تم ویسی نہیں ہو”
اسے جاتا دیکھ وہ چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ سجائے کہنے لگی۔
بہزاد کی آنکھ کھلی نظر کمرے میں گئی غزلان کو موجود نہ پاکر اسکے ماتھے پر سلوٹیں نمودار ہوئی
“کہاں گئی ہے یہ”
وہ پریشانی سے کہتے ساتھ بیڈ سے اتر کر واشروم کی طرف بڑھ مگر اسکا دروازہ تھوڑا سا پہلے سے ہی کھلا تھا بہزاد پریشان ہوا۔
وہ کمرے سے باہر نکلتا کچن کی طرف بڑھ گیا مگر غزلان وہاں بھی موجود نہیں تھی۔
“سٹیفنے”
اس نے میڈ کو روعبدار اواز میں پکارا وہ فورا اسکے سامنے آگئی۔
“میڈیم کہاں ہے”
وہ اسے دیکھتے ہوئے سخت لہجے میں پوچھنے لگا جس پر وہ خاموش رہی
“کچھ پوچھا ہے”
اسکا خاموش کھڑا رہنا بہزاد نے اونچی اواز میں چیخا وہ سہمی۔
“سسس۔۔سر م۔۔میں نے نہ۔۔نہی”
وہ نظریں جھکائے گھبراتے ہوئے ہاتھ مسل کر بتاںے لگی اسکی ادھوری بات سنتا وہ اسے بولتا چھوڑ کر باہر کی طرف بڑھ گیا۔
بہزاد گھر کی بیک سائیڈ پر گیا جہاں نظر غزلان پر گئی جو مسکراتے ہوئے اس پاس سب دیکھنے میں مصروف تھی اسے دیکھتے ہی بہزاد کی جان میں جان آئی تھی ناجانے کیوں اسے کھونے کا خوف اسکے اندر بیٹھ چکا تھا۔
“بہزاد یہ”
وہ بہزاد کو یہاں دیکھ مسکرا کر اسکی طرف بڑھ کر کچھ پوچھنے لگی بہزاد نے فورا اسے زور سے سینے سے لگا گیا غزلان پریشان ہوئی۔
“بہزاد سب ٹھیک ہے”
وہ اسے سینے سے لگا دیکھ پریشانی سے پوچھنے لگی بہزاد اس سے الگ ہوکر اسکی پیشانی پر لب رکھ گیا اور اثبات میں سر ہلا دیا
” ٹھیک نہیں لگ رہا مجھے”
وہ اسے دیکھتے ہوئے فکرمندی سے پوچھنے لگی بہزاد اسکا ہاتھ تھامے اسے اندر لے جانے لگا
“کچھ نہیں ہوا”
وہ اسے اندر کی جانب لے جاتا بولا جس پر غزلان خاموش ہوگئی۔
عینب وائٹ کلر کے خوبصورت سے نفیس سے ڈریس میں ملبوس لائٹ سے میک ایپ میں بالوں کو کھول کر پشت پر پھیلائے کانوں میں بھاری جھمکے وہ بہت ہی زیادہ حسین لگ رہی تھی مرر کے سامنے کھڑی اپنا عکس دیکھنے میں مصروف تھی تبھی زہرون وائٹ شلوار قمیض میں ملبوس بالوں کو نفاست سے سیٹ کیے ہاتھ میں برینڈڈ گھڑی پہنے اسکے پیچھے آکر کھڑے ہوتے ہی اسے حصار میں لیا۔
“پیچھے ہثو”
وہ اسکے اس طرح اپنے قریب آنے پر ناراضگی ظاہر کرتی اسے پیچھے کرنے لگی۔
“بہت حسین لگ رہی ہو”
وہ گہری نظروں سے اسے دیکھتے ڈھٹائی سے اسکی کمر پر گرفت مضبوط کرتا گھمبیر اواز میں بولا۔
“میں کل رات والی ہوں جسے اتنا ڈانٹا تھا”
وہ اسے مرر سے گھورتے ساتھ اسکے حصار کی سعی کرتی بولی۔
“یار امپورٹنٹ کال تھی تمہارا مجرم ڈھونڈ رہا ہوں وہ مجھے کچھ بتارہا تھا اسی وجہ سے مجھے تھوڑا غصہ آ گیا ورنہ میں اور تم پر غصہ نہیں ہو سکتا”
وہ اسکا رخ اپنی طرف کیے اسکے نرم گال پر اپنے ہاتھ رکھے محبت سے بولا عینب ایک پل آنکھوں میں دیکھ کر سب کچھ بھلا بیٹھی۔
“آئی ایم سوری”
وہ اسکے چہرے پر نظریں مزید گہری کرتا گھمبیر اواز میں بولا عینب کے دل نے بیٹ مس کی زہرون کی نظریں اسکے ہونٹوں پر تھی وہ چہرہ قریب لانے لگا اچانک یونیب کے فون پر میسیج کی ٹون بجی اور عینب ہوش میں آتے ساتھ فورا دور ہوئی۔
“ہمیں چلنا چاہیے دیر ہورہی ہے”
وہ اس سے دور ہوتی برہم لہجے میں بولتی کمرے سے باہر نکل گئی اور زہرون نے گھور کر موبائل سکرین کو دیکھا۔
ریڈ ڈریس میں ملبوس جس ہر گولڈن نفیس سا کام ہوا ہوا تھا لائٹ سے میک ایپ پر ہونٹوں پر ڈیڈ لپسٹک لگائے جو اسکی دودھیانہ رنگت پر بہت جچ رہی تھی بھاری جیولری زیب تن کیے وہ کوئی شہزادی لگ رہی تھی مگر چہرہ بجھا بجھا سا تھا۔
“چلیں نیچے”
زرمیش اسکے پاس اتے ہوئے کہنے لگی جس پر عینب ایک سائیڈ سے وہی دوسری طرف سے زرمیش نے اسے تھاما وہ خاموشی سے ان دونوں کیساتھ چل دی۔
وہ جیسے ہی سیڑھیاں اتر کر نیچے آئی سانیہ بیگم اور راحت بیگم کے منہ سے خودبخود ماشاءاللہ نکلا کیونکہ لگ ہی وہ اس قدر خوبصورت رہی تھی اسے ٹی وی لاؤنچ میں بٹھایا گیا۔
“نکاح شروع کیجیے”
یوسف صاحب کے بولنے پر مولوی صاحب اثبات میں سر ہلا کر رویش کے قریب جاکر بیٹھے جو اپنے ہاتھ مسل رہی تھی رہتے رہتے اسے یونیب کا خیال آرہا کہیں وہ پاگل پن میں کچھ کر نہ لے دل میں اسکی حفاظت کی دعا وہ خدا سے مانگ رہی تھی
“رویش عرفان ولد عرفان آپ کا نکاح یونیب خان ولد ریان خان کیساتھ حق مہر دس لاکھ روپے کیا آپ کو قبول ہے”
مولوی صاحب کے پوچھنے پر رویش نے فورا نظریں اٹھا کر یوسف صاحب اور راحت بیگم کی جانب دیکھا۔
“آپ کے ہیرو نے آپ کو اپنا بنا لیا ہے”
تبھی زرمیش اسکے کان میں سرگوشی کرتے ہوئے بولی اسکی بات پر رویش کے لبوں پر خوبصورت مسکراہٹ آئی
“کیا آپ کو قبول ہے”
مولوی صاحب کے دوبارہ پوچھنے پر رویش نے اثبات میں سر ہلا دیا مولوی صاحب نے ایک بات پھر پوچھا جس پر سس نے ہامی بڑھی اور مولوی صاحب ڈرائنگ روم کی جانب بڑھ گئے یوسف صاحب عینب کو دیکھ کر مسکرا دیے
(“ڈیڈ مجھے بات کرنی ہے آپ سے”
عینب کمرے میں آتے ساتھ یوسف صاحب کو سنجیدگی سے مخاطب کرنے لگی یوسف صاحب نے اسکی جانب دیکھا۔
“ڈیڈ رویش اس رشتے سے خوش نہیں ہے وہ یونیب کو پسند کرتی ہے آپ کیا اپنی بیٹی ہی خوشی نہیں دیکھیں گے”
عینب انکے سامنے بیٹھتے ہوئے انہیں دیکھ کر بتانے لگی یوسف صاحب اسے دیکھ رہے تھے
“اگر کرتی تھی پسند تو بتایا کیوں نہیں کیوں رضا مند ہوگئی “
یوسف صاحب اسے دیکھتے ہوئے پریشانی سے پوچھنے لگے
“اس لیے کیونکہ آپ نے اس سے پہلی دفعہ کچھ مانگو ہے جس وجہ سے وہ اپنی خوشیاں قربان کررہی ہے”
عینب انہیں دیکھتے ہوئے مسکرا کر بتانے لگی یوسف صاحب نے سر کو خم دیا۔
“تم جاؤ میں خود دیکھ لوں گا یہ سب”
یوسف صاحب اسے دیکھ کر بولے وہ اثبات میں سر ہلا کر وہاں سے چلی گئی عینب کا کام بس یوسف صاحب کے کان میں یہ بات ڈالنا تھا کیونکہ وہ بہت اچھے سے جانتی تھی انکے لیے سب سے پہلے اپنی بیٹیوں کی خوشیاں عزیز تھی
“یونیب مجھ سے ملنے گھر آؤ”
یوسف صاحب عینب کے جاتے ہی یونیب کو فون کرتے اسے گھر بلانے کا حکم دینے لگے جس پر یونیب ٹھیک ہے کہ کر فون بند کر گیا
کچھ ہی دیر میں وہ یوسف صاحب کے گھر موجود تھا جہاں ہر طرف خاموشی چھائی ہوئی تھی سب لوگ شاید سو چکے تھے وہ سیدھا یوسف صاحب کی اسٹڈی کی جانب بڑھ گیا۔
“سر آپ نے بلایا”
وہ اسٹڈی میں آتے ہوئے انہیں دیکھ کر بولا یوسف صاحب اسے ہی دیکھ رہے تھے اور اسے بیٹھنے کا اشارہ کیا
“رویش سے کتنی محبت کرتے ہو”
یوسف صاحب اسکی نڈھال حالت سے ہی کچھ اندازہ کر چکے تھے مگر پھر بھی پوچھنے لگے۔
“وہ ایک دفعہ جو بول دے گی مجھے میں وہی کروں گا اس قدر کرتا ہوں آج بھی اس نے کہ دیا اسکا نکاح ہے آج کے بعد سامنے نہ آؤ نہیں آؤ گا “
وہ انہیں دیکھتے ہوئے لہجے میں افسردگی لیے انہیں دیکھتے بغیر بولا اتنا ٹوٹا ہوا اتنا اداس شاید انہوں نے اسے اپنی ماں کی موت کے وقت دیکھا تھا۔
“اتنی جلدی ہار مان گئے”
وہ اسے دیکھتے ہوئے مذاقیہ انداز میں پوچھنے لگے یونیب نے فورا انکی جانب دیکھا
“ہار نہیں مانا اسکی بات کو اہمیت دی ہے”
وہ انہیں دیکھتے ہوئے سنجیدہ لہجے میں بتانے لگا جس پر یوسف صاحب کے لب مسکرا دیے۔
“تو اسی کا باپ کی رہا ہے کل چھ بجے تم یوسف مینشن میں موجود ہوگے تمہارا اور رویش کا نکاح ہوگا”
یوسف صاحب کی بات پر وہ فورا سے انہیں دیکھنے لگ گیا اسکے چہرے پر مسکراہٹ نمودار ہوئی
“ایک شرط ہے لیکن”
یوسف صاحب اسکے مسکرانے پر اسے دیکھ کر بولے یونیب کی مسکراہٹ سمٹی
“میری رویش کو بہت خوش رکھو گے آج تک جیسے میں اسکا محافظ بنا ہوں اب تمہیں بننا ہے”
یوسف صاحب اسے دیکھتے ہوئے بتانے لگے جس پر یونیب اثبات میں سر ہلا گیا یوسف صاحب مسکرادیے)
وہ دونوں ایک دوسرے کے محرم بن چکے تھے تبھی رویش کی نظر یونیب پر گئی جو بلیک شیروانی میں ملبوس بالوں کو نفاست سے سجائے بڑھی ہوئی بئیرڈ میں اس وقت وہ بہت ہی زیادہ ہینڈسم ہے رہا تھا چہرے پر عجیب مسکراہٹ نمودار تھی اسے دیکھتے ہی یونیب ایک پل کیلیے ساکت ہو گیا تھا اسکے دل میں بہت سے جذبات پیدا ہوئے مگر ان پر قابو پاتا وہ رویش کیساتھ بیٹھا۔
“مسٹر مسز یونیب”
زرمیش مسکراتے ہوئے اونچی اواز میں کہنے لگی سب لوگوں کے چہرے پر مسکراہٹ نمودار ہوئی۔
دراب پیچھے خاموشی سے کھڑا تھا صبح یوسف صاحب نے اسے قدم سے سمجھایا تھا جس پر وہ خاموش ہو گیا تھا وہ خوش تھا ان دونوں کیلیے مگر رویش کے نہ ملنے پر اداس تھا شاید اس لیے کیونکہ جس سے وہ اتنے وقت سے ریلیشن میں تھا رویش کی خوبصورتی پر وہ اسے ہرٹ کرگیا تھا۔
یونیب اور رویش خان ہاوس پہنچ چکے تھے گاڑی سے اتری کر اس نے رویش کی جانب کا دروازہ کھولا رویش مسکرا کر اسکا ہاتھ تھامتی باہر نکلی یونیب نے دروازہ بند کیا اور رویش کو فورا ہی باہوں میں بھر لیا تھا وہ پہلے تو حیران ہوئی مسکرادی
“تو کیا میڈیم آج آپ مجھ پر غصہ نہیں ہوں گی”
وہ اسے گود میں اٹھائے چلتے ہوئے اسے دیکھ کر مسکرا کر پوچھنے لگا رویش نے چھوٹی آنکھیں کرکے اسے دیکھا
“میں ہر وقت تو نہیں ہوتی تھی غصہ”
وہ منہ بناتی اسکی گردن میں بازو ڈالے بتانے لگی یونیب کی مسکراہٹ گہری ہوئی
“آپ کے اسی غصے نے تو ہمیں آپ پر فدا کیا ہے مائی اینگری گرل”
اسکی ناک دباتے ہوئے جذبات بھرے لہجے میں بولتا کمرے کے اندر داخل ہوا کمرے میں آتے ہی اس نے اسے بیڈ پر لٹا دیا اور اسکے ماتھے پر لب رکھ دیے رویش آنکھیں بند کر گئی
“تم نے کیسے ڈیڈ کو منایا”
اسکے دور ہوتے ہی رویش کے ذہن میں جو کب سے سوال رہا گے پوچھ بیٹھی۔
“تم نے بات کی تھی نا یوسف سر سے”
یونیب اسے دیکھتے ہوئے اسے کہنے لگا رویش ایکدم اٹھ کر بیٹھی اور اسے دیکھا
“نہیں میں نے کوئی بات نہیں کی تھی”
رویش اسے دیکھتے ہوئے بتانے لگی یونیب کو حیرت ہوئی
“تو پھر کس نے خیر میرے خیال سے ویڈنگ نائٹ ہے پہلے اتنی حسین لگ رہی ہو تم اب کوئی اور بات نہیں”
کہتے ساتھ وہ اسکے سر سے دوپٹہ اتار سائیڈ پر کرتے ہوئے اپنا ہاتھ اسکے بنے جوڑے کی جانب بڑھا گیا اسکی پنز نکال کر اسکے بال پشت پھر ہھیلادیے رویش کی دھڑکنیں بےترتیب ہونے لگی تھی حلق سوکھ گیا تھا اسکی قریب اسر جھلسا دینے والی سانسیں اسے بےبس کررہی تھی وہ زور سے آنکھیں بند کر گئی یونیب اسکے بالوں میں ہاتھ ڈالے اسکی خوبصورت بڑی بڑی آنکھوں پر جھک اپنے ہونٹوں کا لمس محسوس کروایا اسکے بعد اسکی ایک گال پر لب رکھے دوسری گال پر رویش کی ریڑھ کی ہڈی میں سنسناہٹ سی دوڑی اسکا جسم تھوڑا تھوڑا کانپنے لگا یونیب نے اسکی ناک ناک اپنے لب سے چھوا اور بڑی بےباکی سے اپنے لب اسکے لبوں پر رکھ دیے اور اسکی سانسیں خود میں قید کرنے لگ گیا رویش نے اسکی شرٹ کس مضبوطی سے پکڑ لیا اور اسی طرح وہ اسے بیڈ پر لٹا کر اپنی شدتیں اس پر نچھاور کرنے لگا وہ بےبس سی خود میں سمٹی اسکی شدتیں برداشت کررہی تھی۔
غزلان کو ابھی خاصی سردی لگ گئی تھی اور بہت تیز بخار بھی ہوا ہوا تھا جس کی وجہ سے بہزاد نے اسے بلینکٹ میں لٹایا ہوا تھا ہیٹینگ سسٹم وہ آن کرچکا تھا غزلان گہری نیند سورہی تھی۔
بہزاد نے اسکے ماتھے پر ہاتھ رکھ کر بخار چیک کرنا چاہا بہت تیز تھا اور اسے فلو بھی اچھا خاصا ہورہا تھا۔
” غزلان کا بخار تیز ہورہا ہے کچھ بتاؤ جس سے اترے”
وہ سٹیفنے کے پاس اتے ہوئے اسے دیکھتے لہجے میں پریشانی لیے پوچھنے لگا
“ٹھنڈے پانی کی پٹیاں انکے سر پر رکھنے سے بخار کم ہوجائے گا”
اسٹیفنے نے اسے دیکھتے ہوئے بتایا بہزاد اثبات میں سر ہلا گیا ڈھنڈا پانی فرج سے نکال کر ایک باول میں ڈالتی پٹی ڈش میں رکھ کر بہزاد کی جانب ڈش بڑھا گئی
“تم سوپ بناؤ”
وہ اسے ایک اور حکم دیتے ساتھ ڈش تھامتا چلا گیا
کمرے میں آکر بہزاد اسکے قریب آکر بیٹھا اور اسکے ماتھے پر پٹی رکھی اپنے ماتھے پر کچھ محسوس کرتی اسکی نیند خراب ہوئی بامشکل تھوڑی سی آنکھیں کرکے اپنے قریب بیٹھے بہزاد کو دیکھا اور اسکا ہاتھ ماتھے سے ہٹانا چاہا۔
“اس سے بخار جلدی ٹھیک ہوگا غزلان”
وہ اسکا ہاتھ پیچھے کرتا گال سہلاتے ہوئے پیار سے کہنے لگا غزلان برا سا منہ بناتی اسکے ساتھ لگ گئی بہزاد نے اسکے ماتھے پر لب رکھے
کچھ دیر بعد سٹیفنے سوپ لیے کمرے میں آئی ٹیبل پر رکھتی بغیر کچھ کہے خاموشی سے چلی گئی
“غزلان ویک آپ”
وہ اسکے بالوں میں انگلیاں پھیرتا دھیمی اواز میں اسے بیدار کرنے لگا وہ کسمسائی اور بامشکل اٹھ کر بیٹھی بہزاد نے اسکی بیک پر کزن رکھ دیا تاکہ وہ کمفرٹیبل بیٹھ سکے۔
“میں مریض نہیں ہوں نہیں پیوں گی میں”
وہ سوپ کو دیکھتی برا سا منہ بنائے اسے بچوں کی طرح بولی بہزاد نے اسے دیکھا
“یہ بہت مزے کا ہے ٹیسٹ کرکے دیکھو اور ضد بلکل نہیں کرنی “
کہتے ساتھ بہزاد نے اسکی جانب چمچ بڑھایا غزلان روتی شکل بنا کر اسے دیکھتی بامشکل پینے لگی بہزاد اسکے چہرے کے تاثرات دیکھتا کر مسکرا دیا
“کتنا منع کیا تھا کور کرکے باہر جایا کرو”
وہ اسے سوپ ہلاتے ہوئے تھوڑے غصے سے بولا غزلان منہ بسور گئی بہزاد نے اسے سوپ ہلاتے کے بعد دوائی دی اور اسے واپس لٹا کر اسکے قریب آنے گیا غزلان اسے ادھر ادھر کی باتیں کرتے ساتھ سو گئی بہزاد اسکے سر پر بیٹھا نظریں اسکے چہرے پر مرکوز کیے ہوئے تھے کب اسکی آنکھ لگی اسے معلوم ہی نہ ہو سکا۔
جاری ہے۔
