280.4K
41

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Black Love) Episode 22

غزلان کی آنکھ کھلی خود کو بہزاد کی باہوں میں موجود پایا یہ صبح غزلان کیلیے خوبصورت صبح تھی وہ بہت مشکل اسکی باہوں سے نکلتے ساتھ اسکا سر تکیے پر رکھتے ساتھ بیڈ سے اتر کر باتھروم کی طرف بڑھ گئی۔
کچھ ہی دیر میں وہ فریش ہوکر باہر آئی بہزاد اسی طرح گہری نیند سورہا تھا دو منٹ غزلان اسے دیکھتے رہی سوتے ہوئے وہ بلکل کسی معصوم بچے جیسا لگ رہا تھا غزلان نے لبوں پر مسکراہٹ بکھری وہ بالوں کو کیچڑ میں قید کیے کمرے سے باہر کی جانب بڑھ گئی۔
“گڈ مارننگ”
کچن میں آتے ہی میڈ کو دیکھتے ہوئے وہ مسکراتے ہوئے کہنے لگی میڈ نے اسے دیکھا
“گڈ مارننگ میم”
وہ حیرت اور خوشی سے ملے جلے تاثرات سے اسے جواب دینے لگی۔
“آج بریک فاسٹ میں بناؤ گی”
غزلان نے میڈ کو دیکھتے ہوئے بولا میڈ اس سے پہلے کچھ بولتی غزلان نے اسے خاموش رہنے کا اشارہ کردیا جس پر وہ خاموش ہو گئی اور چلی گئی
غزلان ناشتے بنانے میں مصروف ہوگئی وہ ناشتہ تیار کر چکی تھی بس بلیک کافی رہ گئی تھی جو وہ اب بنانے لگی تھی۔
“گڈ مارننگ”
تبھی بہزاد کچن میں آتے ساتھ اسے پیچھے سے حصار میں لیے گھمبیر اواز میں بولتا غزلان کی ہارٹ بیٹ تیز کر گیا اسکے چلتے ہاتھ ایکدم رکے۔
“مارننگ”
وہ مسکراتے ہوئے تیز ہارٹ بیٹ کیساتھ جواب دینے لگی بہزاد نے اسکی گردن پر نرمی سے لب رکھ دیے جب اسکی اگلی ہی حرکت پر وہ آنکھیں بند کر گئی۔
“بر۔۔بریک۔۔فاسٹ ریڈی ہے آپ بیٹھیں میں لگاتی ہوں”
وہ گھبراتے ہوئے رک رک کر الفاظ ادا کرتی کپ میں بلیک کافی ڈالنے لگی بہزاد اسکی حالت سے لطف اندوز ہورہا اپنی مسکراہٹ ضبط کرتے ساتھ وہ ڈائننگ پر بیٹھ گیا۔
غزلان بریک فاسٹ ٹرے پر سجائے ڈائننگ پر آئی نظر اس پر گئی جو سیاہ شرٹ اور گرے پینٹ پر ملبوس چہرے پر سیاہ بال بکھرے ہوئے بڑھی ہوئی بئیرڈ میں چہرے پر سنجیدگی سجائے وہ اس وقت بہت ہی زیادہ ڈیشنگ لگ رہا تھا غزلان نے بریک فاسٹ ڈائننگ پر رکھا وہ کرسی کھسکا کر خود بیٹھی بہزاد اسکے بیٹھتے چہرے پر خوبصورت مسکراہٹ سجائے گہری نظروں سے اسے دیکھنے لگ گیا اسکے اس طرح دیکھنے پر غزلان نظریں جھکا گئی۔
“بریک فاسٹ آج تم نے بنایا ہے”
وہ ایک نظر سامنے موجود چیزوں پر ڈالتے ہوئے اسکی جانب دیکھتا بولا
“جی کھا کر بتائیں کیسا بنا ہے”
وہ مسکراتے ہوئے چہرے پر ہاتھ رکھے اسے کہنے لگی بہزاد اثبات میں سر ہلا گیا
“آج بنایا اگلی دفعہ کچن میں جانے کی ضرورت نہیں ہے”
وہ چہرے پر سنجیدگی سجائے اسے آرڈر دینے والے انداز میں کہنے لگا غزلان خاموش رہی بہزاد ناشتہ کرنے میں مصروف ہوگیا۔
“کیسا بنا”
وہ اسے کھاتا دیکھتے ہوئے خود بھی کافی کا کپ لبوں سے لگائے پوچھنے لگی
“بہت زبردست لیکن نیکسٹ ٹائم نہیں میڈ ہیں موجود”
وہ اسے دیکھ کر جواب دیتا پھر سے کہنے لگا غزلان اثبات میں سر ہلا گئی۔گئی اور دونوں ناشتہ کرنے میں مصروف ہوگئے۔


وہ دونوں روم میں تھے غزلان بپر لیٹی ہوئی تھی بہزاد اسکے بالوں میں انگلیاں چلا رہا تھا اور اسکے چہرے پر اپنی گہری نظریں مرکوز کیے ہوئے تھا۔
“اگر کبھی مجھے کچھ”
غزلان ابھی بول رہی تھی جب بہزاد اسکی جانب چہرہ جھکائے اپنے لب اسکی لبوں پر رکھ اسے خاموش کروادیا غزلان کی آنکھیں ایکدم بڑی ہوگئی وہ اچانک اس پر حملہ کرتا تھا جس سے وہ شاک ہو جاتی تھی۔
“آج کے بعد فضول مت بولنا”
وہ اسکے لب اسکے لبوں سے ہٹا کر اسکے چہرے کے مزید قریب جھکتا اسے سرد لہجے میں بولا غزلان اسکی قربت اور خوشبو سے بےبس ہو رہی تھی۔
“اتنے شدت والے شخص ہیں آپ”
وہ اسے دیکھتے ہوئے انتہائی معصومیت سے پوچھنے لگی اسکے معصومیت سے پوچھنے پر بہزاد کے لبوں پر مسکان آئی۔
“میں بہت شدت پسند ہوں اور تمہارے معاملہ میں زیادہ ہوں اب خود کے پیچھے پاگل کیا ہے تو برداشت کرنا پڑے گا آج تک تم نے بہزاد بیگ ہو غصہ دیکھا تھا اب تم اسکا عشق دیکھو گی”
وہ اسکے چہرے پر اپنی انگلیوں کا لمس محسوس کرواتے ہوئے جذبات سے بھرے لہجے میں بولا غزلان اپنے سانس رکے سرخ پڑتے چہرے سے اسے دیکھ رہی تھے۔
“تیار ہو جاؤ”
وہ اس سے دور ہوتے ہوئے اسے بولا غزلان اٹھ کر بیٹھی اور اسے دیکھا۔
“تیار کیوں”
وہ اسے دیکھتے ہوئے آئبرو اچکائے سوچتے ہوئے پوچھنے لگی
“شام کو ہمیں ایک پارٹی میں جانا ہے”
اسکی جانں دیکھتے ہوئے وہ چہرے پر سنجیدگی سجائے بتانے لگا۔
“اور ہم نے اس پارٹی پر کیوں جانا ہے”
غزلان اسے دیکھتے ہوئے ایک اور سوال پوچھنے لگی
“کیونکہ درید کے ادمی کو ختم کرنا ہے اگر درید کو مار دیا تو اسکا وہ آدمی زندہ بچا تو ہمارے لیے خطرہ ہے”
وہ اسے دیکھتے ہوئے لہجے میں سختی کیے بتانے لگا اسکی بات سمجھتے ہی غزلان اثبات میں سر ہلا گئی۔


غزلان سرخ رنگ کی خوبصورت سی میکسی میں ملبوس بالوں کو جوڑے میں قید کیے دو شرارتی لٹھ آگے چہرے پر پھیلائے بلیک ہیلز پیروں پر پہنے لائٹ سے میک میں وہ بہت ہی حسین لگ رہی تھی ڈریسنگ کے سامنے آتی اپنا عکس شیشے میں دیکھتے ساتھ وہ پیچھے کی جانب ہاتھ بڑھائے زپ بند کرنے لگی
بہزاد بلیک پینٹ کوٹ میں ملبوس وائٹ ڈریس شرٹ نیچے پہنے بالوں کو نفاست سے سجائے چہرے پر ہمیشہ کی طرح سنجیدگی لیے وہ بہت ہینڈسم لگ رہا تھا کمرے میں داخل ہوتے ہی نظر غزلان پر گئی وہ اس وقت واقع میں بہزاد کے سیدھا دل میں اتری تھی بہزاد اسکے پیچھے آکر کھڑا مرر سے غزلان کی نظر اس پر گئی سیاہ آنکھیں سیاہ آنکھیں ٹکرائی اور دونوں کی بیٹ بھی ایک ساتھ مس ہوئی تھی۔
“You look damn beautiful my beauty queen”
وہ اسکے کان کے قریب اپنے لب لاتے ہوئے شدت سے بھرے انداز میں بولتے ساتھ اسکی زپ بند کرنے لگا بہزاد نے اپنا انگوٹھا اسکی بیک میں پھیرتے ساتھ زپ بند کی غزلان کی ریڑھ کی ہڈی میں وہ سنسناہٹ سی دوڑی سانس تھم سی گئی گال ہو چکے تھے اسکی نظریں مسلسل خود پر محسوس کرتے غزلان نظریں جھکا گئی۔
“چلیں”
اپنا رخ اسکی جانب کیے بامشکل نظریں اٹھا کر اسے دیکھتے ہوئے بولی بہزاد دونوں ہاتھ ڈریسنگ پر رکھتا اس پر جھکا غزلان تھوڑا پیچھے ہوئی
“ارادہ بدلنے کا دل کر رہا ہے”
وہ اسے دیکھتے ہوئے شوخ لہجے میں بولا غزلان کی ہارٹ بیٹ پھر سے تیز ہوگئی اسکی ہارٹ بیٹ کی اواز اس خاموشی میں بہزاد کو صاف سنائی دے رہی تھی۔
“لیٹس گو”
وہ اس سے دور ہوتے ہوئے بولتے ساتھ باہر کی جانب بڑھ گیا اسکے جاتے غزلان نے ایک گہرہ سانس لیا۔
“اففف جان لینے کا ارادہ ہے انکا میری”
وہ دل پر ہاتھ رکھتی اپنی ہارٹ بیٹ نارمل کرتی خود سے بولتے ساتھ میکسی سنبھالتے باہر کی طرف بڑھ گئی۔
راستے میں بھی بہزاد کی نظریں بار بار غزلان کو خود پر محسوس ہو رہی تھی کچھ ہی دیر میں وہ لوگ جہاں پارٹی ارگنائز تھی وہاں موجود تھے
بہزاد نے اپنا بازو اسکی جانب بڑھایا غزلان نے فورا ہی اپنا بازو بہزاد کے بازو میں ڈالا اور دونوں اندر کی طرف بڑھ گئے۔
“میری نظروں سے دور مت ہونا مسز بہزاد”
وہ اندر اتے ہی اسکے کان میں سرگوشی کرتے ہوئے کہنے لگا غزلان مسکراتے ہوئے اثبات میں سر ہلا گئی۔
“میں پانچ منٹ میں کام کرکے ایا”
کہتے ساتھ بہزاد ادھر ادھر دیکھتے آگے کی جانب قدم بڑھا گیا جب نظر درید کے ادمی پر جاے ہی بہزاد کی آنکھیں سرخ ہو گئی اور وہ بھاری بھاری قدم اٹھائے اسکی جانب بڑھ گیا۔
اسے گردن سے دبوچ کر سائیڈ پر پالا اسکی گردن اس قدر سخت دباؤ تھا کہ وہ شخص سانس بھی مشکل سے لے پارہا تھا اسکی سرخ انگارہ برستی آنکھوں کو دیکھتے ہی اس شخص کا وجود خوف سے کانپنے لگا مقابل اسکی وحشت سے بہت اچھے سے واقف تھا وہ کھڑے کھڑے انسان کو ختم کردیتا تھا۔
“کک۔۔کککیا چاہی۔۔چاہیے۔۔مم۔۔ممیں۔۔۔سسس۔۔سب دے دوں۔۔گا ب۔۔۔بس مممارنا نہ نہیں”
ٹھہر ٹھہر کر رک رک کانپتے وجود کیساتھ بامشکل اپنے الفاظ مکمل کر سکا
“میں جب کرنے پر آئی تو کر گزرتا ہوں”
کہتے ساتھ بہزاد بیگ ایک منٹ میں انسان سے حیوان بنا میں سے چاقو نکال کر اسکے سامنے لہرایا اور گھماتے ہی سیدھا اسکی گردن کو نشانہ بنایا اور وہ شخص زمین پر گر گیا۔
بہزاد چاقو ہمیشہ کی طرح اس شخص کے کپڑوں سے صاف کرتے ساتھ اندر بنے روم کی طرف بڑھ کر اپنے ہاتھ اور شرٹ پر لگی خون کی بوندیں کو صاف کرتا باہر کی طرف بڑھا۔
“چلیں”
وہ اسکے پاس آتا اسکا ہاتھ تھامتا کہتا اسے اپنے ساتھ باہر لے جانے لگا غزلان خاموشی سے چل دی۔


دونوں جیسے ہی گھر پہنچے غزلان گاڑی سے اتری اس سے پہلے وہ اندر کی جانب بڑھی بہزاد اسے اپنی گود میں اٹھا چکا تھا غزلان اسے دیکھنے لگ گئی آج بہزاد بیگ اسے واقع حیران کرنے پر لگا تھا لیکن اگلے ہی لمحے اسکے چہرے پر مسکراہٹ نمودار ہوئی
کمرے میں آتے ہی اسے بیڈ ہٹاتے ساتھ وہ اپنا کوٹ اتار کر بیڈ پر پھینکتا اسکے اوپر آیا اور اسکے چہرے پر انگلی ہھیرا وہ آنکھیں بند کر گئی بہزاد نے اپنے ہونٹ اسکی پیشانی پر رکھ دیے غزلان نے بہزاد کی شرٹ زور سے پکڑ لی بہزاد اسکی گال کو لبوں سے چھوتے ساتھ دوسری گال پر یہی عمل دہرانے لگا اور پھر اسکے ہونٹوں کو نشانہ بنا لیا وہ خود میں سمٹی اسکی شدت برداشت کر رہی تھی کچھ دیر بعد بہزاد نے اسکے ہونٹ ازاد کیے اور اسے دیکھا وہ آنکھیں بند کے سانس لے رہی تھی۔
بہزاد جیسے ہی اس سے دور ہوا غزلان نے آنکھیں کھولی بہزاد اسکے ساتھ لیٹ گیا اور اسکے گرد بازو حائل کیے غزلان نے اسکی سینے پر سر رکھ دیا۔
“بہزاد مجھے آپ کا ماضی جاننا ہے”
وہ اسکے سینے پر سر رکھے اسے دیکھ کر بولی بہزاد نے اسے دیکھا۔
ماضی۔۔۔۔
“نن۔۔ننہیں۔۔ڈیڈ۔۔مام کو نہیں ماریں پل۔۔۔۔یزز”
سات سالہ بچہ اپنی ماں کی زندگی کی بھیگ سسکتے ہوئے مانگ رہا تھا۔
“چپ بلکل چپ”
درید چیختے ہوئے اسے بولی وہ سہم گیا۔
“آج یہ حال صرف تمہاری وجہ سے ہے نہ تم اتے اس دنیا میں نہ مجھے یہ بدکردار سمجھتا”
مدیحہ اس سات سال کے بچے کو نفرت بھری نظروں سے دیکھتے ہوئے غصے سے بولی جس پر وہ مزید رونے لگ گیا۔
“ہاں میں آج بھی اسی اپنی اولاد نہیں مانتا اور اب تو میرے کسی کام کی نہیں”
کہتے ساتھ درید نے اسے گولی ماردی اور زمین پر جا گری وہ سات سال بچہ ایک جگہ ساکت ہو گیا تھا اتنی چھوٹی عمر میں اسکی ماں چلی گئی ںےشک ڈانٹتی تھی چیختی مگر اسکا خیال بھی تو رکھتی تھی۔ اسکے دن کے بعد اس نے اپنے باپ سے بات کرنا چھوڑ دی تھی۔
ایک ہفتے بعد ہی درید کای عائشہ نامی لڑکی سے دوسری شادی کرکے گھر میں آ گیا اس کیساتھ بہت پیار سے رہتا تھا وہ سات سالہ بچہ خوش تھا اسکی ایک اور ماں آ گئی مگر عائشہ تو اسے دیکھنے کا بھی پسند نہیں کرتی تھی۔
ایک سال گزر گیا عائشہ کے ہاں ایک بیٹا ہوا تھا بہزاد اسکے قریب جاتا تو عائشہ اسے فورا دور کر دیتی ہوں ہی تین سال گزر گئے۔
“ماما آپ مجھ سے بھی پیار کیا کرو”
گیارہ سالہ بہزاد عائشہ بیگم کے پاس اتے ہوئے اداسی سے بولا انہوں نے اسے دیکھا
“پیار تو پیار کے قابل ہے ہی نہیں تو ایک ناجائز اولاد ہے”
وہ اسے غصے سے کہتے ساتھ چلی گئی بہزاد انہیں جاتا دیکھ رہا تھا۔
“اے لڑکے آج سے تم اسٹور روم میں سو گے وہ کمرا میرے بیٹے کا ہے”
درید اسے دیکھتے ہوئے سخت لہجے میں کہتے ساتھ اسکا سمان اسکے کمرے سے نکالنے لگے وہ بس خاموشی سے سب دیکھ رہا تھا بولتا بھی تو کوئی اسکا ساتھ نہ دیتا خاموشی سے اسٹور روم میں رہنے لگ گیا
کچھ دن بعد درید کی بہن اور باپ آیا یعنی بیگ صاحب بیگ صاحب بہزاد کو بہت پیار کرتے تھے مگر درید کی بہن بھی اسے دیکھنا گواراہ نہیں کرتی تھی۔
ایک دن بیگ صاحب نے درید کو کسی لڑکی کیساتھ زبردستی کرتے دیکھ پکڑ لیا تھا انہیں وہاں لانے والا بہزاد تھا درید انہیں دیکھتے ہی فورا اٹھ کھڑا ہوا بیگ صاحب نے اسکے منہ پر دے کر تھپڑ مارا تھپڑ کے بدلے درید نے اپنے آگے سگے باپ کی جان لے لی اور بہزاد کو اتنا مارا وہ روتے ہوئے اسٹور روم کی طرف بڑھ گیا اب کوئی بھی نہیں تھا اسکے پاس پیار کرنے والا اسکی سگی ماں جو اس سے تھوڑا بہت پیار کرتی تھی اسکا دادا جو اس اتنا پیار کرتا تھا دونوں ہی اسے چھوڑ کر چلے گئے
بہزاد پورا پورا دن بھوکا رہتا تھا کوئی اس سے کھانے کا نہیں پوچھتا تھا تین گزر چکے تھے وہ صرف پانی سے گزارا کر رہا ہے اسٹور روم سے باہر نکلنے پر پابندی تھی ایک دن تیز بارش ہوئی اسٹور روم کی چھت تھوڑی سی ٹوٹی ہوئی تھی جس سے سارا پانی اسٹور روم میں آیا اور بہزاد بھی بھیگا جس سے اسے بہت تیز بخار ہو گیا مگر اسے پوچھنے کیلیے کوئی بھی نہیں تھا سب اسے ناجائز اولاد سمجھ کر اپنے سے دور رکھتے تھے مگر اس میں بارہ سال کے بچے کا کیا قصور جس کا بچپن ان سب نے مل کر تباہ کیا تھا بہزاد کی نظر کھڑکی پر گئی وہ خاموشی سے کچھ بخار میں اٹھتے ساتھ اس کھڑکی سے بہت مشکل سے نکلا وہ یہاں سے بھاگنے کا ارادہ کر چکا تھا اور خود سے عہد کیا تھا وہ اپنی ماں اور اپنے دادا کی موت کا بدلہ درید سے لے کر رہے گا تھوڑی دور بھاگتے ہی وہ تھک گیا راستے میں اسے بزرگ ادمی میں ملا جس نے کچھ دیر اس سے باتیں کی اور اسے کھانے کیلیے بسکٹ دیا اور بہزاد اسکے ساتھ اسکے گھر چل دیا وہ بزرگ ادمی ایک سال اسکے ساتھ رہا تھا اور جاتے جاتے اپنی ساری پراپرٹی بہزاد کے نام کرگیا تھا۔
حال۔
بہزاد کی آنکھوں میں نمی تھی شاید وہ سب سوچ کر پہلی دفعہ غزلان نے اسے اتبا ٹوٹا ہوا پایا تھا وہ اسکے سینے سے سر اٹھا کر اسکے ماتھے پر لب رکھ گئی بہزاد نے آنکھیں بند کرلی۔
“مجھے تمہارے ماضی میں کیا ہوا تھا وہ بھی جاننا ہے”
بہزاد نے اسے دیکھتے ہوئے بولا اسکی کی اواز بامشکل نکلی تھی غزلان اسکی بات پر اثبات میں سر ہلا گئی کتنے عرصے سے وہ درد اپنے اندر رکھے بیٹھی تھی مگر بہزاد پر وہ یقین کرسکتی تھی۔
ماضی…
درید اور قریشی بہت گہرے دوست تھے دونوں نے مل کر ایک بزنس کرنے کا سوچا ادھے ادھے پیسے ملا کر دونوں نے بزنس شروع کردیا مگر ایک سال بعد ہی درید کی اصلیت قریشی کے سامنے آئی تھی کہ وہ لڑکیوں کا ریپ کرتا تھا اسی وجہ سے قریشی نے اس سے دوستی ختم کتنی چاہی اور اسکے جتنے پیسے بھی بزنس میں لگے تھے اسے واپس لٹانے چاہے درید کو جب معلوم ہوا تو بزنس کے پیسوں میں سے اچھی خاصی بڑی رقم لیتے ساتھ وہاں سے فرار ہونا چاہا جیسے ہی اسے یہ معلوم ہوا قریشی اسے پکڑنے کیلیے بھاگا چودہ سال کی غزلان جو اس وقت بھی کافی بہادر تھی اپنے باپ کیساتھ درید کو پکڑنے کیلیے گئی
درید نے جیسے ہی قریشی اپنے قریب آتا دیکھا تو تین چار گولیاں اسکے سینے پر چلا دی غزلان جو قریشی صاحب کے پیچھے آرہی تھی انہیں اس حالت میں دیکھ کر وہ بےیقینی سے انکی بیٹھ کر رونے لگی تھی
“ڈیڈ نہیں نہیں ڈیڈ آپ اپنی غزلان کو چھوڑ کر نہیں جا سکتے”
وہ روتے ہوئے انہیں ہلا کر بولی درید کی نظر اس پر گئی تو اس روتی ہوئی بچی پر بغیر رحم کھائے اسے وہی اپنی درندگی کا نشانہ بنا دیا وہ چیختی رہی خود کو بچانے کی نا کام سی کوشش کرتی رہی مگر مقابل انسان تھوڑا تھا حیوان تھا اسے اس پر ذرا رحم نہیں آیا۔
حال۔۔
بہزاد کو درید پر اس وقت حد سے زیادہ غصہ آرہا تھا دل چاہ رہا تھا ابھی ابھی کے اسے زمین پر گاڑھ دے مگر وہ اسے بہت بھیانک موت دینے چاہتا تھا
اس نے روتی ہوئی غزلان کو اپنے سینے سے لگایا اور اسکے آنسو بہت نرمی سے صاف کیے
“درید کو اسکے کیے کی سزا دیں گے اور ہم دونوں مل کر اپنی زندگی حسین بنائیں گے”
وہ اسکے آنسو صاف کرتے ہوئے مسکراتے ہوئے بولا غزلان اسکی بات اثبات میں سر ہلا گئی بہزاد نے ایک بار پھر اسے سینے میں چھپا لیا۔
جاری ہے