Black Love By Mahnoor Shehzaad Readelle50302 (Black Love) Episode 20
Rate this Novel
(Black Love) Episode 20
گاڑی ایک سنسنان راستے میں چل رہی تھی جب اچانک گاڑی چلتے چلتے ایکدم رک گئی غزلان پریشانی سے اسے دیکھنے لگ گئی جب بہزاد گاڑی سے نکل کر دیکھنے لگ گیا۔
“کیا ہوا”
پانچ منٹ وہ انتظار کرتی رہی جب بہزاد واپس نہیں آیا تو وہ خود ہی گاڑی سے نکل کر اسکے پاس آکر پوچھنے لگا
“پنچڑ ہوگئی ہے”
وہ اسے دیکھے بغیر جواب دینے لگ گیا اور خاموشی سے بہزاد کو ٹائر چینج کرتا دیکھنے لگی۔
“تم بیٹھو اندر”
وہ اسے حم دینے والے انداز میں کہنے لگا جس پر وہ خاموشی سے واپس گاڑی میں بیٹھنے کی جانب بڑھنے لگی
تبھی ساتھ سے ایک لڑکا گزرا اور غزلان کو جان کر چھوا غزلان نے گھور کر اسے دیکھا اور فورا اسکے سامنے آئی
“چھوا کیسے”
غزلان انتہائی سخت میں سامنے کھڑے لڑکے کو سرخ آنکھوں سے دیکھ کر بولی
“ایسے”
سامنے موجود شخص بغیر ڈرے ڈھٹائی سے اسے چھونے لگا تھا مگر اس سے پہلے اسکا ہاتھ کسی کی گرفت میں آ چکا تھا
“چھونا کسے کہتے ہیں میں بتاتا ہوں”
وہ غصےسے اسکا ہاتھ اپنی گرفت میں لیے دوسرے ہاتھ سے اسکی گردن کو دبوچ سرخ آنکھوں سے دیوار سے لگا گیا وہ شخص اسکی سیاہ سرخ انگارہ برستی آنکھوں میں دیکھ خوفزدہ ہوگیا اور پیچھے کھڑی غزلان کے چہرے پر ایک دلفریب مسکراہٹ نمودار ہوئی تھی۔
بہزاد اسے دیوار سے پن کرکے اپنے بیسٹ والے روپ میں آتا جیب سے چاقو نکال کر اسے گھما کر اس ہاتھ پر کٹ لگا گیا وہ شخص درد سے کراہ گیا اسکا ہاتھ اسکے کلائی سے الگ ہوچکا تھا وہ خوف سے سامنے موجود شخص کو دیکھ رہا تھا جسم کانپنے لگا تھا ہاتھ پیر ڈھنڈے پڑ چکے تھے بہزاد نے اسکی گردن کو فوراً سے گرفت سے چھوڑا
“جان لے لیتا اگر ہلکا سا بھی چھوا ہوا ہوتا”
وہ وحشت بھری نظروں سے دیکھتے ہوئے ڈارک لہجے میں کہتے ساتھ اس شخص کو مزید خوف میں مبتلا کردیا تھا وہ خوف زدہ سے تیز رفتار سے بھاگ گیا
“آئی لو یو”
غزلان جو پیچھے کھڑی تھی اسکے قریب آکر بغیر ڈرے اسکے کان میں مسکرا سرگوشی کرتے ہوئے بولی اس نے سرد نگاہوں سے اسے دیکھا اور وہ ڈھٹائی سے مسکراتے ہوئے اسے دیکھ رہی تھی
وہ دونوں گھر پہنچے غزلان بغیر کوئی بات کیے اوپر کی جانب بڑھنے لگی
“میرے روم میں جاؤ”
وہ اسے اوپر جاتا دیکھتے ہوئے بولا غزلان کے بڑھتے قدم رکے اس نے مڑ کر اسے دیکھا جو چہرے پر سنجیدگی سجائے اسی کو دیکھ رہا تھا وہ خاموشی سے بہزاد کے روم کی جانب بڑھ گئی۔
بہزاد میڈ کو غزلان کا سمان اسکے روم میں شفٹ کرنے کا حکم دیتے ساتھ روم میں آیا
کمرے میں داخل ہوتے ہی غزلان باتھروم سے باہر نکلی بہزاد کی نظر اس پر گئی جو خاموش خاموش تھی۔
“آر یو اوکے”
وہ اسے دیکھتے ہوئے پریشانی سے پوچھنے لگا غزلان اسکے سوال پر اسے دیکھنے لگا۔
“میں تو ٹھیک ہوں کیا آپ ٹھیک ہو”
وہ اسے دیکھتے ہوئے جواب دیتی وہی سوال اس سے کرنے لگی وہ سر کو خم دے گیا۔
“لگے نہیں تم ٹھیک”
وہ اسے دیکھتے ہوئے بالوں میں جوڑا بناتے ہوئے بولی بہزاد نے اسے دیکھا۔
“تم یا آپ ایک سوچو کبھی آپ تو کبھی تم کہ رہی ہوتی”
وہ اسے دیکھتے ہوئے سینے پر بازو باندھے انتہائی سنجیدگی سے بولا غزلان نے اسے دیکھا۔
“آپ”
وہ اسے دیکھتے ہوئے چہرے پر ہلکی سی مسکان لیے اسے بولی اسکے اس انداز پر نا چاہتے ہوئے بھی بہزاد کے لب ہلکے سے مسکرائے غزلان کی مسکراہٹ گہری ہوئی اور اسکی جانب بڑھ گئی۔
“Do you love me”
وہ اسکے بلکل سامنے کھڑی سینے پر بازو باندھے اس پر نظریں مرکوز کیے سنجیدہ لہجے میں پوچھنے لگی سامنے کھڑا وجود اسے دیکھنے لگا
“I don’t know”
وہ سنجیدہ لہجے میں اس پر نظریں جمائے بولا غزلان اسے دیکھنے لگی سچ ہی تو بولا تھا اس شخص نے اس جیسے سیاہ اور پتھر دل انسان کو کیا معلوم تھا پیار کیا ہوتا ہے
” پھر کیوں کیا قریب مجھے اپنے جب دور تھی تو دور کی رکھنا تھا عادت ڈالی ہے آپ نے غزلان قریشی جس چیز کی عادت ڈال لیتی ہے جسے چاہ لیتی ہے اسے اپنا بنا کر رہتی ہے اور میں آپ کو اپنا بنا کر رہوں گی یاد رکھیے گا”
وہ اسکا کالر اپنی مٹھیوں میں دبوچتی سیاہ آنکھوں میں غصہ لیے اسے دیکھتے ہوئے سرد لہجے میں بولی سامنے موجود شخص ایک منٹ کیلیے پھر سے حیران ہوا
“یہ پاگل پن ہے”
وہ اسکی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے سرد لہجے میں بولا
“پاگل پن ہے پاگل پن صحیح ضد ہے تو ضد صحیح لیکن آپ صرف میرے ہیں صرف میرے”
وہ اسکے تھوڑا قریب ہوتی ضدی انداز میں بولی بہزاد درید بس اپنے سامنے اس شدت پسند لڑکی کو دیکھ رہا تھا۔
“کلب میں کہا تھا آپ نے آپ میرے ہیں پھر یہ سب کیوں”
وہ اسے خاموش دیکھتے ہوئے یاد دلاتے ہوئے اب کی بار چیخ کر بولی بہزاد اسی کو دیکھ رہا تھا۔
“جس کی عادت ڈالتا ہوں وہ چھوڑ جاتے ہیں”
بہزاد اداس لہجے میں بولتے ہوئے کوئی معصوم سا بچہ لگا تھا غزلان نے پہلی بار اداسی محسوس کی تھی۔
“ایسا نہیں ہوگا میں کبھی نہیں چھوڑوں گی بہت پیار کرتی ہوں ہمیشہ کروں گی”
وہ اسے اداس دیکھتے ہوئے اسکے چہرے پر ہاتھ رکھے اسے پیار سے بولی۔
“پیار کے قابل نہیں ہو تم”
بہزاد کے کانوں میں یہ اواز ٹکرائی وہ ایک جھٹکے سے غزلان کو خود سے الگ کر گیا۔
“پیار کے قابل نہیں ہوں میں لیو می آلون”
وہ اسے سرد و سرخ آنکھوں سے دیکھتے ہوئے سخت تیور لیے بولا غزلان کچھ کہے بغیر باہر کی جانب بڑھ گئی۔
زہرون عینب سے تھوڑا روڈلی بات کر رہا تھا جو عینب کو بہت محسوس ہوئی تھی وہ دونوں بیٹھے جب عینب دونوں کیلیے کافی بنا کر لائی اور ایک اسکی جانب بڑھا دیا اور اسکے ساتھ آکر بیٹھ گئی۔
“کیسی بنی ہے”
عینب اسے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگی زہرون نے اسکی جانب دیکھا۔
“اچھی بنی ہے”
وہ اسے دیکھتے ہوئے مختصر سا جواب دینے ساتھ کافی پینے لگ گیا۔
“تم ناراض ہو”
وہ اسے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگی زہرون نفی میں سر ہلا گیا
“تم ہو تمہارے انداز سے پتہ لگ رہا ہے”
وہ اسکے نفی میں سر ہلانے کے. باوجود اس سے بولی زہرون نے اسے دیکھا
“نہیں ہوں”
وہ اسے دیکھتے ہوئے پھر سے سنجیدہ لہجے میں بتانے لگا
“ہو”
وہ پھر سے وہی بولی زہرون نے گہرہ سانس لے کر غصہ ضبط کیا۔
“بس برا لگا تھا چھپ کر تمہارا کھڑا ہونا”
وہ اسے دیکھتے صاف لفظوں میں بتا گیا عینب نظریں جھکا گئی۔
“سوری”
وہ منہ بنائے اسے کہنے لگی جب زہرون نے اپنا چہرہ اسکے قریب کیا تھا
“تمہیں میری ناراضگی سے فڑق کرتا ہے کیا”
وہ اسے گہری نظروں سے دیکھتے ہوئے چہرے پر مسکراہٹ سجائے بولا عینب اچانک اسکے قریب آنے پر گھبرا گئی
“چپ کرکے کافی پیو پتہ نہیں ہو نمبر ون ٹھرکی سے میری شادی کروا دی ہے”
وہ غصے سے اسکے لبوں سے کافی کا لگ لگاتی بولتے ساتھ وہاں سے اٹھ گئی زہرون اسے جاتا دیکھتے ہوئے مسکرانے لگی عینب نے اندر جاتی ہی سکھ کا سانس لیا۔
“ہاں یونیب کہو”
گیلانی چہرے پر مسکراہٹ سجائے فون کان سے لگائے پوچھنے لگا
“سر کیا آپ آج کا ڈنر میرے ساتھ کرنا پسند کریں گے”
وہ لہجے میں مٹھاس لیے اسے دیکھتے ہوئے کہنے لگا دوسری جانب گیلانی کے لبوں پر مسکراہٹ آئی
“ٹھیک ہے کر لوں گا”
کہتے ساتھ گیلانی نے فون بند کردیا اور یونیب خان کی آنکھوں میں اس وقت الگ ہی چمک تھی۔
“گیلانی کو تم لے کر آؤ گے ماجد”
وہ اسے حکم صادر کرتے ساتھ فون پر نمبر ڈائل کرنے لگا پیچھے کھڑے ماجد نے اثبات میں سر ہلا دیا
“بہزاد آج ہم گیلانی کو اسکے انجام تک پہنچا کر رہیں گے”
وہ چہرے پر الگ ہی مسکراہٹ سجائے بہزاد کو بتانے لگا
“بہت خوب لیکن ہم نہیں تم اسے انجام تک پہنچا رہے اسکے”
بہزاد گیلانی کی موت کا سنتے ہی خوش ہو کر یونیب سے بولا۔
“تمہارا ساتھ سب سے زیادہ ضروری تھا جو تم نے دیا”
وہ اسے مسکراتے ہوئے کہنے لگا بہزاد اثبات میں سر ہلا گیا
“ہمیشہ دوں گا”
وہ اسے سنجیدگی سے جواب دینے لگا یونیب کے چہرے پر مسکراہٹ آئی
“یقین ہے مجھے”
وہ اسے پراعتماد لہجے میں بولا اسکے یقین پر بہزاد نے سر کو خم دیا اور فون بند کردیا۔
رویش صبح سے سو مرتبہ فون دیکھ چکی ہے مگر نہ تو یونیب کا کوئی ٹیکسٹ آیا تھا اور نہ ہی کوئی کال وہ برا سا لیے بیٹھی تھی۔
“آئے گا نا تو مر کر بھی نہیں بات کروں گی شکل بھی نہیں دیکھوں گی سمجھتا کیا ہے خود کو “
غصے سے لال ہوتی وہ اپنے آپ کو بتانے میں مصروف ہو گئی تبھی زرمیش کمرے میں آئی
“خیریت تو ہے نا”
زرمیش اسے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگی اسکی اتے ہی وہ اپنا غصہ کنٹرول کرتی اثبات میں سر ہلا گئی۔
“ڈیڈ بلارہے ہیں”
وہ اسے دیکھتے ہوئے بتانے لگی رویش فورا اٹھی اور چپک پیروں میں گھساتی یوسف صاحب کے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔
“آپ نے بلایا ڈیڈ”
وہ کمرے میں آتے ہوئے انکی پیٹھ کو تکتے ہوئے پوچھنے لگی یوسف صاحب نے مڑ کر اسے دیکھا
“بیٹھو”
وہ اسے نرم لہجے میں بیٹھنے کا اشارہ کرنے لگے جس پر وہ خاموشی سے بیٹھ گئی۔
“سنا ہے عرفان یہاں سکردو میں موجود ہے”
وہ سے دیکھتے ہوئے چہرے پر سرد تاثرات سجائے پوچھنے لگے جس پر رویش اثبات میں سر ہلا گئی
“میں نے دیکھا تھا”
وہ سر جھکائے اداسی سے بتانے لگی یوسف صاحب سر کو خم دے گئے۔
“ہو سکے تو اب گھر سے کم ہی نکلنا کیونکہ وہ تمہیں ہی ڈھونڈتا ہوا یہاں آیا ہے”
یوسف صاحب اسے تنبیہہ کرنے لگے جس پر وہ اثبات میں سر ہلا گئی
“جی ٹھیک ہے ڈیڈ”
وہ سر جھکائے کہنے لگی یوسف صاحب نے اسکے سر پر ہاتھ رکھا۔
“گھبرانے کی بلکل ضرورت نہیں ہے تمہارے ڈیڈ تمہیں کچھ نہیں ہونے دیں گے”
وہ اسکے سر پر شفقت بھرا ہاتھ رکھے حوصلہ دیتے ہوئے بولے وہ مسکرائی۔
“آرام کرو میری بچی مجھے کام سے جانا ہے”
وہ اسے کہنے لگے جس پر رویش خاموشی سے چلی گئی اور یوسف صاحب بھی اپنی گن رکھتے ہوئے باہر کی طرف بڑھ گئے۔
ماجد گیلانی کو یونیب کی بتائی جگہ پر پہنچا چکا تھا وہ جیسے ہی گاڑی سے اترا کسی نے منہ پر رومال رکھ دیا گیلانی نے مزاحمت کی مگر پانچ منٹ بعد وہ بے ہوش ہو گیا اسے اٹھا کر ایک کمرے کی جانب لے گئے
کچھ ہی دیر میں گیلانی کو ہوش آیا خود کو ایک تاریکی میں ڈوبے کمرے میں موجود دیکھ کر اسے عجیب گھٹن سی محسوس ہوئی تھی۔
“کیسے ہو گیلانی صاحب”
تبھی گیلانی کے کانوں سے یونیب کی اواز ٹکرائی وہ قدم بڑھاتھا بلکل اسکے قریب آنے کر کھڑا ہوا۔
“تتت۔۔تم “Invisible man”
گیلانی اسے دیکھتے ہی پچھلی دفعہ والا منظر یاد کرتے ہی گھبرا کر بولا
“کیا ہے نا پچھلی ملاقات میں ہی جان سے مار دیتا مگر کچھ حساب رہتے تھے اتنی سکون کی موت نہیں دینا چاہتا تھا”
کہتے ساتھ اس نے چہرے پر سے ماسک ہٹایا اور گیلانی ساکت ہو گیا
“یونیب تم تم اتنے بڑے دوغل”
وہ ابھی بول رہا تھا جب یونیب نے اسکا منہ اپنی ہاتھ میں دبوچ کر سرخ آنکھوں سے اسے دیکھا۔
“ہاں میں یونیب خان ریان خان کا اور آمینہ خان کا بیٹا کچھ یاد آیا “
وہ اسے نفرت بھری نگاہوں سے دیکھتے ہوئے زہرون خند لہجے میں غرایا
پندرہ سال پہلے کا منظر یاد کرتے ہی گیلانی کا چہرہ زرد پڑنے لگا تھا۔
“اسی دن تہ کر لیا تھا کہ بدلہ لوں گا ناجانے تجھ سے بدلا لینے کیلیے کیا کچھ نہیں کرنا پڑا تیرا حکم ماننا یونیب خان جس کے نیچے ادمی ہوتے ہیں وہ تجھ جیسے بےغیرت کی باتیں سن رہا تھا”
کہتے ساتھ یونیب نے اسٹیل کے بنے اسٹینڈ پر زور سے اسکا کا تھا وہ چیخ اٹھا۔
“تکلیف ہوئی مجھے بھی ایسے ہی تکلیف ہوئی تھی جب میرے ماں باپ کو اس دنیا سے بھیجا تھا”
وہ وحشت بھرے لہجے میں کہتے ساتھ بغیر اس پر رحم لگائے بار بار اسکے سر پر مارنے لگ گیا گیلانی کا خون نکلنے لگ گیا تھا۔
“ابھی شروعات ہے تم ایسی موت دوں گا اپنے کیے پر پچھتائے گا گیلانی”
کہتے ساتھ بلینڈ نکال کر اسے سرخ وحشت بھری سے دیکھتے ہوئے اسکے ہاتھوں پر ایک کے بعد ایک کٹ لگاتا گیا وہ تڑپ رہا تھا مگر کچھ بولنے کی ہمت نہیں تھی اور مقابل کو اسے تکلیف پہنچا کر بے حد سکون دل رہا تھا۔
اسکے بعد چاقو نکال کر اس نے گیلانی کے سامنے لہرایا اسکا خوف سے پورا وجود کانپنے لگا اپنی بھیانک موت اسے صاف نظر آرہی تھی
چاقو اسکے پیٹ پر ڈالا گیلانی کی زوردار چیخ نکلی چہرہ سرخ ہو گیا تھا یونیب نے اگلے ہی لمحے باہر نکلا یہ حرکت بھی اس نے کوئی کو سے دو بار دوہرائی وہ مارنے کی حالت میں پہنچ چکا تھا کام بےجان ہورہا تھا
“پلی۔۔۔پلیززز۔۔مم۔۔۔عع۔ممعاف۔۔۔کرد”
وہ بامشکل کانپتے تڑپتے ہوئے ہاتھ جوڑتے ہوئے بولا یونیب نے چہرے پر طنزیہ مسکراہٹ آئی۔
“معاف”
وہ ہنس کر بولتے ساتھ اسکے زخمی اور خون سے بھرے جسم کو دیکھتا خود میں سکون اترتا محسوس کر رہا تھا۔
“آجائیں”
تبھی یونیب نے کسی کو پکارا اور وہ اندر داخل ہوا گیلانی کے سامنے اور یونیب کیساتھ آکر کھڑا ہوا تھا تو گیلانی نے دیکھنے کیلیے نظریں اٹھائی وہ کوئی اور نہیں یوسف صاحب تھے وہ اسے دیکھ کر تلخ مسکراہٹ لبوں پر سجا گئے
“تمہیں ہار مبارک گیلانی”
کہتے ساتھ جیب سے ہستول نکال کر تین سے چار گولیاں چلا دی اور گیلانی بےجان ہو گیا یوسف صاحب اور یونیب ایک دوسرے کو دیکھ کر مسکرادیے
“ویلڈن یونیب”
وہ اسے شاباشی دیتے ساتھ وہاں سے چلے گئے اور اپنی زندگی کا سب سے بڑا مقصد پورا کر لیا تھا۔
“کاش ٹھکانے لگا دینا”
باہر اتے ہی ماجد کو کہتے ساتھ خون سے بھرے ہاتھ اور کپڑے دیکھتا ساتھ والے روم میں چلا گیا تھا
اب صرف اسے ایک کام کرنا تھا رویش کو ساری حقیقت بتا کر اسے ہمیشہ کیلیے اپنا بنانا تھا۔
“یہی سونے کا ارادہ ہے”
بہزاد لان میں غزلان کیساتھ آکر بیٹھتے ہوئے نظریں سامنے مرکوز کیے پوچھنے لگا
“ہاں جی”
وہ سپاٹ لہجے میں اسے دیکھے بغیر جواب دیتے ساتھ اٹھنے لگی۔
“کمرے میں”
اس سے اپنا ہاتھ چھڑواتی جانے لگی جب اس نے پکڑ کر اسے قریب کھینچا۔
“کیا چاہتی ہو ہر وقت مناتا رہوں”
وہ اسکے چہرے پر آئی شرارتی لٹھ کو پیچھے کرتے ہوئے گہری نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے گھمبیر اواز میں بولا۔
“تو مت منائیں دور رہیں میں صرف انہیں کے قریب آنا پسند کرتی جنہیں میری قدر ہو”
کہتے ساتھ اسے خود سے الگ کرنے کی کوشش کرتے ہوئے غصے سے بولی ۔
“یقین جانو اس وقت خطرناک چڑیل لگ رہی ہو”
وہ اسے دیکھتے چہرے پر سنجیدگی سجائے اسے بولا اسکے خطرناک چڑیل کہنے پر غزلان کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا۔
“خطرناک چڑیل میں تو پھر آپ ہوئے ڈینجریس بھوت نہ میرا لڑنے کا موڈ ہے اور نہ ماننے کا بہت غصے میں ہوں انفیکٹ میرا بات کرنے کا ہی دل نہیں ہے مجھے جانا ہے”
اسکی گرفت میں مچلتے ہوئے گھور کر اسے دیکھتے ہوئے یاد بہزاد نے گرفت ڈھیلی کی اور غزلان منہ بناتی اندر چلی گئی۔
“تم نہیں سمجھ پا رہی”
اسے جاتا دیکھ وہ ایک سرد آپ بھرتا دل میں بولتے ہوئے وہی بیٹھ گیا۔
