280.4K
41

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Black Love) Episode 2

یونیب کی نظریں ناجانے کب سے اس پر جمی ہوئی تھی جب رویش نے غصے سے اسکا ہاتھ اپنے منہ سے ہٹایا اور غصے سے اسے دیکھا

“کون ہے یہ لوگ”

وہ ہلکی آواز سے اسے دیکھتے ہوئے پوچھتے ساتھ نظریں ان لوگوں کی جانب کر گئی جس پر یونیب تھوڑا پیچھے ہوا

“گیلانی کے دشمن”

وہ مختصر سا جواب دے گیا اسکے جواب پر رویش نے مڑ کر اسے دیکھا

“تم کیا کام کرتے کو گیلانی کیلیے”

وہ اسے دیکھتے فوراً سے پوچھنے لگی یونیب کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ آئی

“اسسٹنٹ سمجھ لو”

یونیب پھر سے تین لفظوں کا جواب دیتے ساتھ جیب میں ہاتھ ڈالے اسے دیکھنے لگا رویش نے اسے دیکھا وہ واقع اسکی مدد کرسکتا تھا

“بائے دا وے تم کون ہو”

وہ اسے سر تا پیر دیکھتے ہوئے جانچتی نظروں سے دیکھ کر سوال کرنے لگا اسکا اسطرح دیکھنا رویش کو عجیب لگا

“یوسف خانزادہ کی تیسرے نمبر والی بیٹی رویش “

وہ نارمل انداز میں اسے جواب دینے لگی اسکی بات پر یونیب کو تھوڑی حیرت ہوئی

“مجھ سے دوستی کرلو فائدے میں رہو گی”

وہ اسکی جانب دوستی کا ہاتھ بڑھاتے ہوئے بولا رویش نے اسے دیکھا

“ہم دشمن یا دشمن کے کسی ساتھی سے دوستی کا ہاتھ نہیں بڑھاتے اور مجھے تمہاری دوستی کی بلکل ضرورت نہیں ہے”

وہ غصے سے اسے جواب دیتی اسکے ہاتھ سے انگوٹھی لیتی وہاں سے جانے لگی زرمیش بھی اٹھی اور اسکے ساتھ بڑھنے لگی

جب گیلانی کے دشمنوں میں سے ایک نے زرمیش کی جانب پستول کی رویش نے زرمیش کو سائیڈ پر کرکے جیب سے پستول نکال کر اسکی طرف کی اور تین گولیاں ایک ساتھ اس کو ماردی اور زرمیش کا ہاتھ تھامتی بھاگتے ہوئے گاڑی میں بیٹھ گئے وہ بس اسے جاتا دیکھنے لگا۔

“میرا شکار تو خود چل کر میرے پاس آ گیا”

وہ چہرے پر فاتحانہ مسکراہٹ سجائے اسکی گاڑی میں نظریں جمائے بولا۔

*******

ساؤتھ افریقہ کی خوبصورت سڑک پر بہت تیزی سے یہ گاڑی چل رہی تھی اس میں موجود شخص نے گاڑی ایک بہت بڑی بلڈنگ کے باہر روکی اور ایک خوبصورت نوجوان اس گاڑی سے باہر نکلا لمبے قد کا کسرتی جسامت وہ بہت ہی زیادہ دیکھنے میں ہینڈسم تھا اوپر سے اسکی لک سے وہ اور ڈیشنگ لگتا تھا تبھی وہ گاڑی کا دروازہ بند کرتا مغرورانہ چال چلتا اس بلڈنگ کے اندر داخل ہوا

“زہرون تم یہاں خیریت”

جاوید صاحب اپنے بیٹے کو اپنے آفس میں موجود پاکر حیرت سے پوچھنے لگا

جاوید صاحب ساؤتھ افریقہ کے ٹاپ تھری بزنس ٹائیکون میں شمار ہوتے تھے وہ ساؤتھ افریقہ کے مشہور بزنس ٹائیکون تھے انکا ایک ہی بیٹا تھا بہت عرصہ پہلے وہ لوگ پاکستان سے ساؤتھ افریقہ آ گئے اور یہاں انہوں نے اپنا بزنس شروع کیا جس میں بہت ترقی ہوئی تھی۔

“جی مجھے پاکستان جانا ہے”

وہ انہیں دیکھتے سیدھی بات کہتے ساتھ کرسی کھسکا کر بیٹھا جس پر وہ اسے دیکھنے لگا

“کیوں بیٹا تمہیں یہاں کون سی آسائش نہیں مل رہی جو پاکستان جانا چاہتے ہو “

وہ اسکی طرف چہرہ موڑ کر پریشانی سے پوچھنے لگے جس پر اس نے انہیں دیکھا

“مجھے بس جانا ہے پاکستان کے ناردن ایریا دیکھنے ہیں”

وہ انہیں دیکھتے ہوئے بولا جس پر وہ خاموش ہو گئے اور لیپ ٹاپ پر نظریں کرگئے

“ٹھیک ہے میں تمہارے انکل سے بات کرتا ہوں تم تیاری کرو”

وہ لیپ ٹاپ استعمال کرتے ہوئے مسلسل زہرون کی نظر خود پر محسوس کرکے بولے جس پر اسکے چہرے پر فاتحانہ مسکراہٹ نمودار ہوئی اور وہ اٹھ کر بغیر کچھ کہے چلا گیا۔

********

وہ اسکردو شہر میں رہتے تھے جو گلگت بلتستان پاکستان میں واقع ہے اسکردو ضلع اور بلتستان ڈویژن کے دارلحکومت کے طور پر کام کرتا ہے اسکردو دریائے سندھ اور شگر کے سنگم پر وادی اسکردو میں تقریباً 2500 میٹر کی بلندی پر واقع ہے اسکردو ایک بہت ہی خوبصورت شہر ہے

وہ اپنے کمرے کی۔ بیلکونی میں موجود بلیک کافی کا مگ ہاتھ میں تھامے نظریں باہر مرکوز کیے ہوئے تھی صبح ہے وقت یہاں کا منظر بہت حسین تھا مگر وہ خود کو فریش کرنے کیلیے یہاں موجود انہیں ان سب چیزوں میں کوئی خاص دلچسپی نہیں تھی

“مجھے سر کو درید قریشی کے متعلق بتانا ہوگا”

وہ بلیک کافی کا گھونٹ بھرتے ہوئے لہجے میں سختی لیے بولی اور اندر کی جانب بڑھ گئی

“غزلان آپی”

تبھی زرمیش کمرے میں داخل ہوتی اسے پکارنے لگی غزلان کی نظر اس پر گئی اور اسے دیکھا

“آپ کو پتہ ہے کل عینب آپی آپ کی شکایتیں لگا رہی تھی ڈیڈ کو”

وہ اسکے پاس آتے ہوئے اسے دیکھ کر بتانے لگی اسکی بات پر غزلان کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ آئی لیکن اگلے ہی پل وہ چھپا گئی

“اسکو یہی کام ہے “

وہ زرمیش کو جواب دیتے ساتھ اٹھ کر جانے لگی جب زرمیش نے اسکا ہاتھ پکڑ کر واپس بٹھایا غزلان آئبرو اچکائے اسے دیکھنے لگی

“تھوڑی دیر باتیں کرے نا مجھ سے”

وہ اسے بولتے ساتھ گود میں ہمیشہ کی طرح سر رکھتی باتیں کرنے میں مصروف ہوگئی غزلان اسے سننے لگ گئی۔۔

*******

اسوقت وہ سب لوگ ٹی وی لاؤنچ میں موجود تھے یوسف صاحب کھڑے تھے اور سب کی نظریں ان پر مرکوز تھی

“بتائیں بھی یوسف کیا ہوا ہے”

راحت بیگم یوسف صاحب کو دیکھتے ہوئے پریشانی سے کہنے لگی جس پر وہ انہیں دیکھنے لگے

“میرے بھائی جاوید کا بیٹا زہرون آرہا ہے پاکستان”

یوسف صاحب نے انہیں بتایا جا پر سب نے انہیں دیکھا راحت بیگم کے چہرے پر مسکراہٹ آئی

“بہت اچھا بچہ ہے مجھے تو خوشی ہوئی یہ جان کر کب آرہا ہے”

وہ انہیں دیکھ خوشی سے پوچھنے لگی یوسف صاحب مسکرائے

“کچھ دنوں تک”

وہ انہیں جواب دینے لگے غزلان زرمش عینب اور رویش چاروں ایکدوسرے کو دیکھنے لگ گئی

“آپ لوگوں کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے اس کے آنے پر اسکو علیحدہ جگہ ملے گی رہنے کی بس یہی بتانا تھا آپ سب لوگ اپنے اپنے روم میں جاسکتی ہیں”

یوسف صاحب ان چاروں کو پریشان دیکھ انکی پریشانی کم کرتے ہوئے انہیں بولے جس پر چاروں اٹھ کر جانے لگی ۔

“مجھے تو سمجھ ہی نہیں آرہی ہے آ ہی کیوں رہا ہے وہ بھی ساؤتھ افریقہ سے تم دیکھ لینا رویش وہ بہت والا ٹھرکی ہوگا”

عینب غصے سے کمرے میں جاتے ہوئے رویش سے مخاطب ہوئی رویش نے اسے دیکھا

“ڈونٹ وری ہمارے پاس اسکا ٹھرک پن ختم کرنے کیلیے یہ کام آئے گے”

رویش آنکھ دبا کر کہتی اسے پستول دیکھانے لگی عینب بھی مسکرا دی اور دونوں اپنے اپنے کمروں کی طرف بڑھ گئی۔

********

رویش کمرے میں چلتے ہوئے گیلانی کے متعلق سوچ رہی تھی جتنا اسے اسکے متعلق معلوم ہوا تھا وہ یوسف صاحب کو بتانے کا ارادہ کرتے ہوئے کمرے سے باہر کی طرف بڑھی وہ جیسے ہی نیچے کی جانب بڑھی سامنے سے آتے شخص کو دیکھ کر حیرت سی ہوئی تھی

“تم”

رویش غصے سے اسکی جانب بڑھتے ہوئے اسے دیکھ کر کہنے لگی یونیب نے اسکی جانب دیکھا

“یہاں کیا کررہے ہو میرے گھر میں”

رویش غصے سے لال چہرہ لیے اسے دیکھ کر پوچھنے لگی یونیب اسکی بات پر مسکراتے ہوئے اسے دیکھنے لگا

“گیلانی سر نے ایک ماسک پارٹی رکھی ہے اسکے لیے انوائیٹ کرنے آیا ہوں”

وہ اسے دیکھتے ہوئے مسکراتے ہوئے بتانے لگا رویش کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ آئی

“شاید تم کل والی بات بھول گئے ہو مسٹر”

وہ غصے سے اسکی طرف دیکھتے ہوئے اسے کل والی بات یاد دلانے لگی یونیب نے دو قدم اسکی جانب بڑھائے

“میں باتیں بھلانے والوں میں سے نہیں ہوں”

وہ اسکے چہرے کے قریب جھک کر جواب دیتا پیچھے ہوکر وہاں سے چلا گیا اور رویش اسے گھور کر دیکھتی رہ گئی اور یوسف صاحب کے کمرے کی جانب بڑھ گئی

“ڈیڈ وہ مجھے گیلانی کے بارے میں کچھ معلوم ہوا ہے”

وہ کمرے میں آتے ہوئے یوسف صاحب کو مخاطب کرتے ہوئے بولی جس پر انہوں نے اسے دیکھا

“تم آج رات گیلانی کی پارٹی میں جارہی ہو زرمیش کے ساتھ لیکن خیال رہے گیلانی کو اس بات کا معلوم نہ ہو”

وہ اسکی جانب انویٹیشن کارڈ بڑھاتے ہوئے بولے جس پر رویش انہیں دیکھنے لگی جس پر وہ فوراً اثبات میں سر ہلاتی وہ کارڈ تھامتی چلی گئی۔

*********

“سر مجھے ضروری بات کرنی ہے”

غزلان اسٹڈی میں آتے ہوئے یوسف صاحب جو مخاطب کرتے ہوئے بولی یوسف صاحب نے اسے دیکھا

“جی غزلان بیٹا کہو”

یوسف صاحب لہجے میں نرمی لیے اسے دیکھ کر بولے وہ ہلکا سا مسکرائی

“درید بیگ سر مجھے اسکے بارے میں بہت کچھ معلوم ہے میں اسے اسکے انجام تک پہنچانا چاہتی ہوں”

غزلان یوسف صاحب کو دیکھتے ہوئے انتہائی سرد لہجے میں درید کے حوالےسے واقف کروانے لگی وہ اسے دیکھنے لگی۔

“درید بہت خطرناک انسان ہے اور وہ ایک اکیلا اسکا پورا گینگ ہے اس کیلیے کسی باس جیسے شخص کا ساتھ ہمارے لیے ضروری ہے تم یہ کام اکیلے نہیں کرسکو گی”

یوسف صاحب اسے دیکھتے ہوئے سمجھانے والے انداز میں کہنے لگے غزلان نے انہیں دیکھا

“ٹھیک ہے میں کسی اس جیسے شخص کے بارے میں پتہ کرواتا ہوں”

یوسف صاحب اسے اپنی جانب امید بھری نظروں سے دیکھتے ہوئے فوراً بولی جس پر غزلان اثبات میں سر ہلا گئی

“بلیک بیسٹ”

تبھی عینب کی آواز کانوں سے ٹکرائی غزلان اور یوسف صاحب نے اسے دیکھا

“جی ڈیڈ اگر اس جیسا خطرناک انسان ڈھونڈنا ہے تو اسکا اپنا بیٹا اور سب سے خطرناک انسان اسوقت اس علاقے کا وہی ہے تو مجھے تو یہی لگتا ہے اس کام میں اسکی مدد لینی چاہیے آپ لوگوں کو”

عینب انہیں دیکھتے ہوئے مشورہ دینے لگی جس پر یوسف صاحب اثبات میں سر ہلا گئی اور غزلان بس عینب کو دیکھ رہی تھی

“غزلان تم بےفکر ہو جلد ہی اس شخص کا بھی کچھ کرتے ہیں”

یوسف صاحب اسے امید دیتے ہوئے کہنے لگے جس پر غزلان اثبات میں سر ہلا کر اسٹڈی سے چکی گئی عینب اسے جاتا دیکھنے لگ گئی۔

********

رویش بلیک کلر فراک میں جو نیچے سے امبریلا جیسا کھلا ہوا تھا بہت ہی حسین تھا بالوں کو سٹریٹ کرکے لائٹ سے میک میں وہ بہت ہی حسین لگ رہی تھی وہ تینوں اسوقت ٹی وی لاؤنچ میں بیٹھے ہوئے تھے رویش جیسے ہی نیچے آئی تینوں کی نظر اس پر گئی

“کیسی لگ رہی”

رویش ان تینوں کو دیکھتے ہوئے پوچھنے لگی زرمیش جتنی سادہ تیار ہوئی تھی رویش بہت حسین تیار ہوئی تھی

“بہت حسین لڑکی”

عینب فوراً بولی زرمیش نے بھی اسکی تعریف کی رویش مسکرائی

“غزلان تم بھی بتاؤ”

رویش اسے دیکھتے ہوئے مخاطب کرنے لگی غزلان نے اسے دیکھا

“جو ہوہی خوبصورت کو اسکی تعریف کیا کرے ویسے بہت خوبصورت لگ رہی ہو”

غزلان اسے دیکھتے ہوئے مسکرا کر بولی رویش کے چہرے پر دلفریب مسکراہٹ آئی اور عینب کا منہ بن گیا

“چلو”

رویش زرمیش کا ہاتھ پکڑے بولی وہ دونوں ان دونوں سے ہاتھ ہلائے چلی گئی عینب نے غزلان کی جانب غصے سے دیکھا

“لوگوں کو اپنا بنانا میں بہت تیز ہو تم”

عینب انتہائی غصے سے کہنے لگی جس پر غزلان نے اسے دیکھا

“مجھے کسی کو شوق نہیں ہے اپنا بنانے کا”

غزلان اسے سنجیدگی سے جواب دیتی سامنے لگی مووی پر نظریں مرکوز کر گئی

“وہ تو پتہ لگتا ہی ہے”

عینب کھر سے اسے غصہ دلانے کیلیے بولی غزلان نے سرد نگاہیں اسکی جانب کی

“تم سے بات کرنا بیکار ہے اتنی نفرت نہ کرنا مجھ سے کہ ایک دن خود پچھتاؤ”

غزلان غصے سے اسے جواب دیتے ساتھ اپنا فون لیتی اوپر کی جانب بڑھ گئی اور عینب دیکھنے لگی

“نفرت نہیں ہے مجھے تم سے لیکن اچھی بھی نہیں لگتی ہو”

عینب اسے جاتا دیکھ کر زہر خند لہجے میں کہنے لگی اور نظریں سکرین پر مرکوز کر گئی۔

*********

وہ دونوں مارکی میں موجود تھے جہاں پارٹی تھی وہ بہت ہی خوبصورت مارکی تھی اور ڈیکوریٹ تو غضب کا ہوا ہوا تھا اندر جانے سے یوسف صاحب نے جو بلیو ٹوتھ اسے دی تھی رویش نے وہ کان میں لگائی اور آگے بڑھ کر باہر موجود شخص پر انویٹیشن کارڈ اسے تھانوی اور زرمیش اور رویش دونوں نے چہرے پر ماسک لگایا اور اندر کی طرف بڑھ گئی

رویش کی نظر یونیب پر گئی جو بلیک پینٹ کورٹ میں ملبوس بالوں کو اچھے سے سیٹ کیے بھاری بئیرڈ میں اسوقت بہت ہی ہینڈسم لگ رہا تھا اسکی نظر اندر آتی ان دو لڑکیوں پر گئی رویش کو تو وہ آنکھوں سے ہی پہچان گیا اسکے چہرے پر مسکراہٹ آئی

“یہ کیوں مسکرا رہا ہے کہیں اسے شک تو نہیں ہوگیا “

رویش اسے مسکراتا دل میں بولی تبھی یوسف صاحب کی آواز آئی

“گیلانی پر نظر رکھنا بس”

یوسف صاحب کی بات پر وہ اسکے کرتی آگے بڑھ گئی زرمیش اسکے ساتھ ساتھ موجود تھی وہاں ہر لڑکی غضب کی ڈریسنگ کرکے آئے تھی رویش سب کو ہی دیکھ رہی تھی

“You look damn gorgeous girl”

تبھی یونیب اسکے پاس آتا اسکے کان کے قریب ہوکر سرگوشی کرنے لگا جس پر رویش نے فوراً اسے دیکھا

“Thank you”

وہ انتہائی سخت لہجے میں زبردستی مسکراہٹ لبوں پر سجائے بولی یونیب جواباً مسکرایا

“ٹھرکی نمبر ون”

رویش غصے سے اسے دیکھتے ہوئے دل میں کہنے لگی اور وہاں سے چلی گئی

تبھی میوزک اسٹارٹ ہوگیا سب لڑکا لڑکی آپس میں کپل ڈانس کرنے لگے گیلانی جو مسلسل رویش کو دیکھ رہا تھا میوزک اسٹارٹ ہونے پر اسکی جانب قدم بڑھائے یونیب کی نظر اس پر گئی اس نے رویش کی جانب ہاتھ بڑھایا رویش نے نظریں ادھر ادھر گھمائی لیکن یوسف صاحب کی بات یاد کرتے ہوئے فورا ڈانس ہاتھ تھام گئی اور وہ اسے درمیان میں لے آیا

“تم بہت پیاری ہو “

گیلانی مسکراتے ہوئے اسے دیکھ کر چہرے پر ہاتھ پھیرنے لگا رویش نے اسکا ہاتھ پکڑ کر نیچے کردیا اور اسے دیکھنے لگی

“تھینکیو یہ پارٹی کس لیے”

وہ مسکراتے ہوئے اسکے ساتھ ڈانس کرتے ہوئے کہنے لگی جب گیلانی اسکی کمر میں اپنا ہاتھ ڈال کر اسے تھوڑا قریب کیا یونیب جو سائیڈ پر دونوں پر سرد نگاہیں مرکوز کیے کھڑا تھا ویٹر کو اشارہ کیا ویٹر نے اسے جوس دیا

“سمجھ لو میرا بہت بڑا دشمن اس دنیا سے چلا گیا ہے”

گیلانی مسکراتے ہوئے بتانے لگا رویش کے چہرے پر مسکراہٹ آئی گیلانی نے اسے گھمایا تبھی رویش کی نظر یونیب پر گئی جو اسی کو دیکھ رہا تھا

“دشمن کا نام تو بتائیں”

رویش ڈانس کرتے ہوئے اس سے باتیں نکلوانے لگی گیلانی نے اسکے بازو پر اپنی انگلیوں کا لمس پھیرا رویش کو اسکا چھونا حد سے زیادہ عجیب لگا

“نام چھوڑو بس سمجھو وہ میرے بہت راز جانتا تھا”

گیلانی اسکا رخ دوبارہ سے اپنی طرف کیے اسے بولا ڈانس کرتے کرتے اسکا ہاتھ تھامتا اوپر کی جانب بڑھ گیا رویش گھبرا گئی اور یونیب کے ماتھے پر ایکدم بل آئے وہ انہیں جاتا دیکھنے لگ گیا

*******

“پلیزز مجھے نہیں جانا تمہارے ساتھ”

لڑکی اس سے ہاتھ چھڑواتی روتے گڑگڑاتے ہوئے کہنے لگی جس پر اس شخص نے اسکے منہ پر تھپڑ مارا

“شادی کرکے آئی ہو نا میرے ساتھ “

وہ پان سے بھرے منہ کیساتھ حوس بھری نظروں سے دیکھتے ہوئے غصے سے کہنے لگا لڑکی منہ دوسری طرف موڑ گئی غزلان جو ایک سائیڈ پر چل رہی تھی یہ سب دیکھنے لگی تںھی چہرہ نقاب سے ڈھک کر اس طرف بڑھی اور اسکی گردن پر بغیر ڈرے چاقو رکھ دیا اس شخص کو اپنی گردن پر کچھ محسوس ہوا نظریں نیچے کی چاقو دیکھنے لگا

“کککککون۔۔۔۔ہو۔۔۔تم”

وہ کانپتے لبوں سے پوچھنے لگا جس پر غزلان مسکرائی

“لڑکی کو چھوڑو ورنہ جان سے جاؤ گے”

وہ انتہائی سخت لہجے میں اسکے کان میں بولی وہ لڑکا گھبرا گیا جس پر وہ لڑکی بھی گھبرا گئی

“ککک۔کیوں”

وہ پھر سے ہمت جما کرتے ہوئے کہنے لگا جس غزلان نے اسکی گردن پر ہلا سا کٹ لگایا

“جان پیاری ہے نا “

وہ اسے پھر سے بولی جس پر کٹ دیکھ وہ لڑکا گھبرا گیا اور اس لڑکی کا ہاتھ چھوڑا اور چہرے پر خوف لیے مڑ کر اسے دیکھا سیاہ سرخ آنکھیں دیکھ وہ گھبرا کر رہ گیا اور فوراً بھاگ گیا اس کے جاتے ہی غزلان نے چاقو واپس جیب میں ڈالا اور اس لڑکی کا ہاتھ تھامے سامنے والے ریسٹورنٹ میں چلی گئی۔

*******

اوپر آتے ہی گیلانی اسے کمرے میں لے آیا رویش تھوڑا گھبرا رہی تھی مگر نارمل چل رہی تھی

“تم اتنی حسین ہو مجھے تھوڑا تو اپنا حسن دیکھاؤ”

وہ اسکے چہرے پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہنے لگا رویش تھوڑا پیچھے ہوئی

“کیا مطلب مسٹر”

وہ اسکا ہاتھ جھٹکتی غصے سے بولی گیلانی اسکا انداز دیکھنے لگا

“کیا مطلب میری یہ رات حسی”

وہ ابھی بول رہا تھا جب رویش نے منہ پر دے کر تھپڑ مارا

“شیٹ ایپ مجھے ایسی لڑکی سمجھنے کی غلطی بھی مت کرنا بےغیرت بےشرم بڈھے”

رویش کھا جانے والی نظروں سے اسے دیکھتے بیڈ پر دھکا دیتی کمرے سے جانے لگی جب گیلانی غصے سے اٹھتا دروازہ بند کرتا اسے دروازے سے لگایا

“میں تمہیں نہیں چھوڑوں گی بے غیرت انسان”

رویش چیختے ہوئے گیلانی سے اپنا آپ چھڑوانے کی کوشش کرتے ہوئے چیخ کر بولی یوسف صاحب اسکی آوازیں سن کر بےحد پریشان ہورہے تھے

“انتہائی کمینا ہے یہ شخص”

یوسف صاحب غصے سے بولی

دوسری طرف زرمیش بہت پریشان ہوئی ہوئی تھی کیونکہ اسے رویش کہیں نہیں دیکھ رہی تھی

“رویش باجی”

وہ اسے پکارنے لگی مگر رویش کہیں بھی نہیں دیکھی وہ اسے ڈھونڈنے کیلیے ہال میں گھومنے لگی

“چھوڑو مجھے “

وہ پورا زور لگاتے ہوئے اپنا آپ چھڑوانے کی کوشش کرنے لگی مگر ناکام رہی تبھی گیلانی کے سر پر کسی نے واس دے کر مارا وہ سر پکڑ کر مڑ کر دیکھنے لگا اس سے پہلے وہ زمین پر گر گیا رویش گیلانی کو اور پھر سامنے موجود شخص کو دیکھنے لگی جو اپنا چہرہ ڈھکے اسکے سامنے موجود تھا

جاری ہے۔

کون ہے جس نے رویش کی جان بچائی ہے کمنٹ سیکشن میں بتائیں؟؟