280.4K
41

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Black Love) Episode 19

غزلان ہوش میں آتے ہی اس سے الگ ہوئی تھی وہ کسی کے سامنے کمزور ہرگز نہیں پڑنا چاہتی تھی وہ اس ہٹ سے باہر آ گئی بہزاد بھی اسکے پیچھے گیا تھا اور دونوں گاڑی بیٹھتے گھر کی جانب بڑھ گئے تھے راستہ خاموشی سے طہ کیا تھا
گھر پہنچتے ہی وہ گاڑی سے نکلتے ساتھ تیز قدم اٹھائے اندر کی جانب بڑھی بہزاد بھی اسکے پیچھے آیا غزلان کے ذہن میں بہزاد کی کی گئی اس دن والی باتیں یاد آئی وہ اسے اگنور کرتی کمرے کی طرف بڑھ گئی بس خاموشی سے اسے جاتا دیکھ رہا تھا۔
“ریاض ضرورت ہے تمہاری”
وہ فون نکال کر نمبر ڈائل کرتے اسے سپاٹ سے لہجے میں بولتا کال کٹ کر گیا
غزلان کمرے میں آتے ہی باتھروم میں گھس گئی کچھ دیر چہرے پر پانی چھینٹے مارنے کے بعد خود کو نارمل کرتی وہ وضو کرنے لگی وضو کرتے ہی وہ باہر آکر وارڈروب سے دوپٹہ نکالتی حجاب کی شکل میں سر پر ڈالتی نماز پڑھنے لگ گئی۔
نماز ادا کرنے کے بعد کچھ دیر وہ خدا سے باتیں کرنے میں مصروف رہی باتیں خدا سے کرکے وہ اب بہتر محسوس کر رہی تھی جائے نماز جگہ پر رکھتی اسے پیاس محسوس ہوئی تھی نظر سائیڈ ٹیبل پر پڑے جگ پر پڑی جو خالی تھا وہ اٹھاتی کمرے سے نکل کر نیچے کی جانب بڑھ گئی۔
فرج سے پانی کی بوتل نکالنے کیلیے وہ جھکی تو اپنے پیچھے کوئی محسوس ہوا وہ فورا مڑی تو بہزاد کو کھڑا دیکھ وہ اس سے فاصلہ اختیار کرتی فرج سے جا لگی بہزاد کی گہری نظریں خود پر محسوس کرتے وہ کنفیوز ہوئی تھی۔
“کیا چاہیے”
وہ اسے دیکھتے ہوئے نرم سے لہجے میں پوچھنے لگا غزلان نے گلے میں تھوک نگلی
“جو چاہیے ہوگا میں خود لے لوں گی آپ کی مدد کی ضرورت نہیں”
اسے کہتے ساتھ پیچھے کرتی فرج سے پانی کی بوتل نکال کر گلاس میں پانی ڈال کر پینے لگی تین گلاس وہ ایک ساتھ بہزاد اسی پر نظر کیے اسے دیکھ رہا تھا وہ اسے اگنور کرتی پانی کا جگ بھرتی واپس اوپر کی جانب بڑھنے لگی
“غزلا”
وہ اسکی کلائی تھامے اسے پکارنے لگا غزلان نے فورا اپنا ہاتھ جھٹکا۔
“اپنی کہی بات یاد رکھیں بہزاد بیگ”
وہ سرد لہجے میں اسے یاد دلاتی غصے سے اوپر کی جانب بڑھ گئی بہزاد اسے جاتا دیکھ رہا تھا
وہ اپنی کیفیت سے خود ہی پریشان تھا اسکی سمجھ میں کچھ نہیں آرہا تھا وہ نہیں چاہتا تھا وہ اسکے قریب بھی جائے مگر اس دل کے ہاتھوں مجبور ہوتا وہ خودبخود اسکی جانب بڑھتا جارہا تھا اسے کسی اور کیساتھ برداشت نہیں کرسکتا تھا ہاں اسے اسکی عادت ہو گئی تھی وہ یہ مان گیا مگر اسے اس سے عشق ہو گیا یہ بہزاد بیگ ماننے کیلیے تیار نہ تھا۔
“میں بھی غزلان قریشی ہوں بہزاد بیگ تمہارے منہ سے اعتراف کروا کر رہوں گی”
وہ کمرے میں آتے ہوئے چہرے پر ایک دلفریب مسکراہٹ سجائے بیڈ پر بیٹھتے ہوئے بولی۔


عینب زہرون کو گھمانے کیلیے باہر لے آیا تھا وہ دونوں ساتھ واک کررہے تھے۔
“تمہیں میرے ماضی میں ہونے والے واقع کچھ لینا دینا تم نے سچ میں قبول کیا ہے یا کوئی مقصد ہے کوئی مرد اتنا اچھا نہیں ہو سکتا”
عینب اسکے ساتھ چلتے ہوئے ایک نظر اس پر ڈالتی سنجیدگی سے پوچھنے لگی اسکی بات پر زہرون نے اسے دیکھا۔
“تمہیں کیا لگتا ہے”
وہ جیب میں ہاتھ ڈالے اسی کے انداز میں بدلے میں سوال کرنے لگ گیا۔
“دل کہتا ہے تم واقع مجھ سے محبت کرتے جبکہ دماغ کہتا ہے تم بھی ہر مرد کی اپنے مطلب کے ہو”
وہ اس پر نظریں مرکوز کیے دل میں کہنے لگی جس پر زہرون نے اسکی جانب دیکھا۔
“بتاؤ”
اسکے جواب نہ دینے پر زہرون نے پھر پوچھا عینب ہوش میں آئی۔
“مجھے نہیں پتہ تم خود کو مجھ سے بہتر جانتے ہو”
وہ اسے دیکھتے ہوئے جواب دیتی بال ٹھیک کرنے لگی زہرون کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ آئی۔
“یعنی تمہیں میری محبت پر شک ہے”
وہ اسے دیکھتے ہوئے بولا جس پر عینب اسے دیکھنے لگی
“مگر یاد دیکھنا میں تمہیں اس قدر چاہوں گا کہ تمہیں تمہارے شک کرنے پر افسوس ہوگا”
وہ اسے گہری نظروں سے دیکھتے ہوئے بولا عینب اسکے اس طرح پر خودبخود نظریں جھکا گئی۔


یونیب رویش کو دس کالز کرچکا تھا مگر رویش نے ایک بھی ریسیو نہیں کی تھی اور راحت بیگم نے. بھی سختی سے گھر سے باہر نکلنے سے منع کیا تھا وہ دو دن سے بخار میں تپ رہی تھی جب ایک بار پھر سے فون بجا اب کی بار فون خان کا تھا اس نے تیسری بیک پر ریسیو کیا
“جی”
فون اٹھاتے ہی رویش نے فون کرنے کا مقصد پوچھا تھا
“کیسی ہیں”
وہ لہجے میں فکرمندی لیے نرمی سے اس سے مخاطب ہوا تھا
“ٹھیک ہوں”
وہ خان پر غصہ ہونا چاہتی تھی مگر اس کا نرم انداز اسے خاموش کروا گیا تھا۔
“ہم کچھ دیر بات کرسکتے ہیں اگر آپ کرنا چاہیں”
خان اسے تحمل سے بولا پہلی دفعہ اس نے کسی سے بات کرنے کی خواہش کی تھی رویش نے گہرہ سانس لیا۔
“میرے سر میں درد ہے بہت میں نہیں کر سکتی سوری”
سپاٹ لہجے میں اسے جواب دیتی رویش کال کٹ کر گئی تھی اور خان فون دیکھنے لگ گیا تھذ رویش کی اواز ان کر وہ خود میں سکون محسوس کر رہا تھا۔
لیکن اچانک اسکے ذہن میں ماضی کا وہ سب سے بھیانک اور دردناک دن آیا اسکی آنکھیں سرخ ہو گئی تھی۔
ماضی۔۔۔۔
“میری ماں کو کچھ مت کرو”
دس سالہ بچہ اپنی ماں کی بےبسی پر گڑگڑاتے ہوئے منتیں کر رہا تھا۔
“اپنا آپ میرے حوالے کردے ورنہ تیرا بچہ اس دنیا سے چلا جائے گا”
گیلانی اسے حوس بھری نظروں سے دیکھتے ںےرحمی سے بولا جس پر آمینہ محترمہ نفی میں سر ہلا گئی ریان خان نے گیلانی کے والد کو قتل کیا تھا تب گیلانی اکی سال کا تھا کیونکہ وہ پولیس میں تھے اور گیلانی کا والد گیلانی کی طرح بے غیرت تھا جب گیلانی کو اپنے باپ کی موت کے قاتل معلوم ہوا تھا بدلہ لینے کیلیے اس نے پہلے ریان خان کا قتل کیا اور اسکی بیوی اور بیٹے کو بھی قتل کرنے کا ارادہ کیا جب وہ اسکے گھر ہہنچے تو ریان خان کی بیوی کا حسن دیکھتے ہی گیلانی اپنے باپ کی طرح بےغیرتی پر اتر آیا اور اسکے ساتھ زبردستی کرنے کی کوشش کرنے لگا مگر آمینہ بیگم نے اپنے آپ بہت بچایا اور وہ ابھی بھی ان سب کیلیے راضی نہیں ہوئی تھی۔
“مار اسکے بیٹے کو”
تبھی گیلانی نے اپنے ادمی کو حکم دیا جس پر آمینہ چیخ اٹھی۔
“اسے کچھ مت کرو جو کرنا ہے میرے ساتھ”
وہ بےبسی سے سسکتے ہوئے چیخ کر بولی اسکے بیٹے نے کچھ بولنا چاہا آمینہ بیگم نے اپنی قسم دے کر اسے کچھ کرنے سے روک دیا اپنے شوہر کو وہ پہلے کھو چکی تھی اپنے بیٹے کو کھونے کی ہمت ان میں نہیں تھی جس پر گیلانی کے لبوں پر کمینی مسکراہٹ نمودار ہوئی اور وہ اسے زبردستی کمرے میں لیے چلا گیا اور گیارہ سالہ لڑکا بےبس سا بیٹھا تھا اتنی جھوٹی عمر میں وہ زیادتی کسے کہتے ہیں سمجھ گیا تھا اسکی ماں کے ساتھ زیادتی کرنے کے بعد گیلانی نے اسے قتل کردیا
“یہ کیا کیا تو نے تجھے چھوڑو گا نہیں”
گولی کے چلنے اور گیلانی کے باہر نکلتے جب وہ اندر داخل ہوا اپنی ماں کو بےجان سا پڑا دیکھ وہ غصے سے چیخ کر بولا تھا جس پر گیلانی ہنسنے لگ گیا۔
“چھوڑ دو اسے چھوٹا ہے”
گیلانی اسکی گال تھپتھپاتے ہوئے بولتے ساتھ باہر چلا گیا اور اس وقت اس دس سال کے بچے کی آنکھوں میں خون اترانا تھا اسکے ذہن میں صرف ایک ہی بات تھی اپنے باپ اور ماں کی موت کا بدلا لینا۔
“بہت جلد تجھ سے اپنے ماں باپ کی موت کا بدلہ لوں گا اور اگر اسی طرح تجھے نہ تڑپایا تو میرا نام بھی یونیب خان نہیں”
وہ سرخ آنکھوں کیساتھ غصے سے چیخ کر بولا تھا جس نے اسکا ہنستا بستا گھر برباد کردیا تھا۔
حال۔۔۔
اس کی آنکھیں اس وقت بھی انتہائی سرخ تھی ماضی کا وہ دن اس کیلیے سب بھیانک دن تھا۔
“بہت جلد میرا مقصد پورا ہوگا گیلانی تجھے ایسی موت دوں گا یاد رکھے گا”
وہ انتہائی سفاکیت سے بولتا آنکھیں موند گیا تھا۔
ماجد اور وہ دونوں ہی گیلانی کیلیے کام کرتے تھے مگر ماجد اصل میں یونیب کا اپنا بندہ تھا جسکا ہر وقت ساتھ رہنا یونیب کیلیے ضروری تھا کیونکہ رویش کی پل پل کی رپورٹ وہی اسے دیتا تھا اور یہ سب ایک پلان کے مطابق تھا جو یونیب گیلانی کیلیے کام کر رہا تھا کیونکہ گیلانی کو ختم کرنا اتنا اسان نہیں تھا بس اس لیے وہ اسکا بھروسہ جیت کر موت دینا چاہتا تھا یونیب خان کا بس ایک یہی مقصد تھا مگر گیلانی کو اسکے انجام تک ہہنچاتے ہی وہ رویش ہو ساری حقیقت سے آگاہ کرتا اسکے ساتھ ایک نئی زندگی شروع کرنا چاہتا تھا۔


وہ صبح سے ہی اسے اگنور کر رہی تھی ریاض سے وہ بہت خوشی سے کہتے تھی ابھی بھی وہ ریاض کیساتھ باتیں کر رہی تھی اور مسکرا رہی تھی۔
“ریاض بات سنو”
تبھی وہ بہزاد کی اواز پر ایکدم سے گھبراتا فورا بہزاد کی جانب بڑھا تھا بہزاد اسے کوئی بتانے لگا جس پر وہ اثبات میں سر ہلاتا چلا گیا ریاض کے جاتے ہی غزلان اندر جانے لگی۔
جب وہ اسکا ہاتھ مضبوطی سے اپنی گرفت میں لیے بھاری بھاری قدم لیے بڑھنے لگا
“Leave my hand”
وہ اسے دیکھتے ہوئے غصے سے بولی مگر وہ اسکی بات کو نظرانداز کرتا اسے روم میں لایا اور دھکا دے کر اپنے سامنے کھڑا کیا
“مسئلہ کیا ہے”
وہ اسکی جانب اپنی سرخ آنکھیں کیے اسے دیکھتے ہوئے انتہائی سخت لہجے میں چیخا ایک پل کیلیے وہ سہم گئی
“پرابلم ہی کیا ہے وہی کررہی ہوں جو آپ چاہتے تھے”
وہ اسے دیکھتے ہوئے اسکی آنکھوں میں دیکھنے کی ہمت کرتے ہوئے اسے بولی وہ اسکے چہرے کے قریب جھکا
“بس میرے قریب رہو گی تم مائنڈ اٹ”
وہ اسکے چہرے کے قریب جھکا اور ایک ایک لفظ چبا کر بولا اسکی گرم سانسوں کی تپش اسکے چہرے کو جھلسا رہی تھی
“تو صاف لفظوں میں کہیں نا مسٹر میرے سے دور نہیں رہ سکتے”
وہ چہرے پر فاتحانہ مسکراہٹ سجائے آنکھوں میں چمک لیے اسے بولی اور ایک پل کیلیے سیاہ آنکھیں سیاہ آنکھوں سے ٹکرائی سامنے موجود شخص کی بیٹ مس ہوئی۔
“جو کہا ہے بس وہی کرو”
وہ اس سے دور ہوتا اسے بولتا وہاں سے مغرور چال چلتا چلا گیا اور پیچھے اسکے چہرے پر تبسم بکھرا۔


“تم یہی رہو میں پانچ منٹ میں آرہا ہوں”
وہ اسے دیکھتے ہوئے بولتے ساتھ جیب میں ہاتھ ڈالے آگے کی جانب بڑھ گیا عینب اسے جاتا دیکھنے لگ گئی اسکے تھوڑا دور جاتے ہی وہ بھی اس کے پیچھے گئی۔
“تم یہ کام کردو گے پیسے تمہیں منہ بولے ملیں گے لیکن کام جلدی ہونا چاہیے”
وہ سامنے موجود شخص کو دیکھتے ہوئے ساری بات بتاتے ساتھ بولا جس پر سامنے موجود ڈیٹیکو اثبات میں سر ہلا گیا عینب چھپ کر دونوں کی باتیں سن رہی تھی۔
اس سے بات کرتا زہرون واپس مڑا سائیڈ پر دیوار سے لگ کر چھپ گئی وہ اس طرف آتا اپنے قدم روک گیا وہ زہرون کی پیٹھ دیکھنے لگ گئی۔
“چلو”
زہرون اسے بولتے ساتھ مڑا عینب اسے دیکھنے لگ گئی اور نظریں شرمندگی سے جھکا گئی۔
“وہ میں تو بس یوں ہی گھو”
عینب اپنی صفائی میں بول رہی تھی جب زہرون نے اسے ٹوکا۔
“میں نے نہیں پوچھا”
وہ سنجیدگی سے اسے کہتا آگے کی جانب قدم بڑھانے لگا وہ عینب کو دیکھ چکا تھا اور اس کا اس طرح چھپ کر باتیں سننا زہرون کو پسند نہ آیا وہ خاموشی سے اسکے پیچھے چل رہی تھی۔


“جی بولیں کیا کام ہے”
زرمیش رویش کے روم میں آتے ہوئے اسے دیکھ کر سپاٹ لہجے میں پوچھنے لگی۔
“ناراض ہو مجھ سے”
وہ اسے دیکھ کر اٹھ کر بیٹھ کر پوچھنے لگی زرمیش اسے دیکھ رہی تھی۔
“نہیں بس برا لگا”
وہ منہ بنائے اسے معصومیت سے بولی رویش نے اسے اپنے پاس آنے کا اشارہ کیا وہ اسکی جانب بڑھی۔
“میں بیمار تھی اور بہت پریشان تھی اس وجہ سے تمہیں پتہ وہ یونیب انتہائی گٹھیا انسان نکلا ہے”
وہ زرمیش کو دیکھتے ہوئے سب بتانے لگی یونیب کا نام لیتے ہی چہرہ سرخ ہوا تھا
“مجھے نہیں لگتا وہ بہت اچھے ہیں”
زرمیش معصومیت سے اسے دیکھتے ہوئے یونیب کی حمایت کرنے لگی رویش نے گھور کر اسے دیکھا۔
تبھی رویش کا فون بجا یونیب کا نام سکرین پر جگمگاتا دیکھ اسے شدید غصہ آیا زرمیش اسے اٹھاتا نہ دیکھ کر خود ہی کال اٹینڈ کرگئی۔
“رویش”
یونیب نے گھمبیر اواز میں اسکا نام پکارا نا چاہتے ہوئے بھی رویش کے دل نے بیٹ مس کی۔
“کہ دو زرمیش میں جھوٹے اور دھوکے باز لوگوں سے بات نہیں کرتی”
وہ اپنی ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے غصے سے کہنے لگی اسکی بات پر وہی دوسری طرف یونیب مسکرایا۔
“یہ ناراضگی جلد ختم کردیں گے بس ایک دن سب بتاؤ گا”
وہ اسے دیکھتے ہوئے مسکراتے ہوئے بولا زرمیش بھی مسکرائی رویش اسکی اواز پر غور کرنے لگ گئی۔
“تمہاری اواز خان سے بہت ملتی ہے”
خان کی اواز کا خیال اتے ہی وہ یونیب کو بولی یونیب خاموش رہا اور کال بند کر گیا ۔
“دیکھا تم نے مجھے کیسے اگنور کیا ہے کبھی بھی بات نہیں کروں گی”
وہ منہ بسورے اسکے اگنور کر شدید غصہ ہوتی زرمیش سے کہنے لگی۔
“کل خود ہی منا لیں گے”
وہ رویش کی گردن پر بازو ڈالے مسکرا کر بولی رویش بس سر کو خم دے گئی اور پھر زرمیش اور رویش خوب باتیں کرنے لگے تھے۔


بہزاد کے کہے مطابق وہ پورا دن اسکے قریب ہی رہی گے اس وقت وہ گھر سے باہر جارہا تب جب غزلان کو پیچھا آتا دیکھ اسکے قدم رکے۔
“مجھے ضروری کام ہے گھر رہو”
وہ اسے دیکھتے ہوئے سنجیدگی سے کہنے لگا غزلان اسے ہی دیکھ رہی تھی۔
“میں اکیلی گھر رہو مجھے نہیں رہنا ساتھ لے چلو نا”
درید کو یاد کرتے وہ تھوڑا ڈرتے ہوئے کہنے لگی جس پر اسکا گھبرایا ہوا چہرہ دیکھ خاموش سے اسکی بات مان گیا
“شکریہ”
وہ چہرے پر مسکراہٹ سجائے بولتی اسکے ساتھ گاڑی میں بیٹھ گئی اور بہزاد گاڑی سڑک پر دوہرا گیا۔
کچھ ہی دیر میں اس نے گاڑی کلب کے باہر روکی غزلان اسے دیکھنے لگ گئی
“ہم۔یہاں کیوں آئے ہیں”
وہ ناسمجھی سے اسے دیکھتے ہوئے سوال کرنے لگی بہزاد نے اسے دیکھا
“درید کے ایک ادمی کا کام تمام کرنے”
وہ سفاک انداز میں بولتا گاڑی سے باہر نکلا غزلان بھی اسکے ساتھ باہر نکلی چہرہ ماسک سے ڈھکے وہ اندر کی جانب. تھا غزلان اسکے پیچھے گئی۔
“تم یہی انتظار کرو”
اسے کہتے ساتھ وہ کلب کے اندر بنے روم کی طرف بڑھ گیا غزلان اثبات میں سر ہلا گئی۔
درید کے ادمی کے روم میں آتے ہی سامنے اسے موجود دیکھ کر آنکھوں میں وحشت بھر آئی بغیر ادھر ادھر اپنا چاقو جیب سے نکال کر گھماتے ہوئے اسکی گردن اڑا گیا وہ شخص بے جان سا زمین پر گر گیا اپنے چاقو پر لگا خون اسکے کپڑوں سے صاف کرتا باتھروم کی طرف بڑھ کر اپنے خون سے بڑھے ہاتھ صاف کرتا سر چہرے پر پڑی دو تین خون کی بوندیں صاف کرتا جیسے آیا تھا ویسے جانے لگا۔
“ہیلو ہینڈسم اتنی جلدی کہاں”
روم سے باہر نکلتے ایک لڑکی نشے میں دھت اسکے قریب آتی چہرے پر انگلی ہھیرتی ہوئے بولی بہزاد اسے خود سے دور کرنے لگا جس سے وہ ان بیلنس ہوتی گرنے لگی جب بہزاد نے اسکا بازو پکڑ کر سنبھلا ناجانے کیوں وہ تھوڑا ڈر رہا تھا اگر غزلان اسے اس لڑکی کیساتھ دیکھ لیتی تو شاید غصے سے پاگل ہو جاتی۔
“میری اج رات حسین بنا دو”
بہزاد اسے وہاں موجود صوفے پر بیٹھانے لگا تھا جب وہ اسکے سینے سے لگی بےباکی سے بولی تھی۔
“میں بناتی ہوں نا تمہاری رات حسین”
غزلان جو بہزاد کو دیکھنے کیلیے آرہی تھی اپنی آنکھوں سے سارا منظر دیکھ غصہ ساتویں اسمان کو پہنچ چکا تھا آنکھیں سرخ ہو گئی اسکی بات پر غصے سے اسکی طرف بڑھ کر سختی سے بولی۔
“کوئی تماشا مت کرو چلو وہ ڈرنک ہے “
بہزاد اس لڑکی کو خود سے الگ کرتے ہوئے غزلان کا ہاتھ پکڑ کر اسے جانا کا بولنے لگا
“ایسے کیسے منہ نہ نوچ لوں اس چڑیل کا”
وہ غصے سے پاگل ہوتی چیخ کر بولتی بہزاد سے ہاتھ چھڑواتی کسی شیرنی کی طرح اس پر چیخی تھی بہزاد نے پیچھے سے اسے کمرے سے پکڑ کر لڑکی کے قریب جانے سے روکنا چاہا۔
“آر یو میڈ”
سامنے موجود لڑکی غزلان کو اس قدر غصے سے دیکھتے ہوئے بولی
“I will kill you he is only only mine”
وہ بہزاد کی قید سے نکلنے کی کوشش کرتی اسکی بات مزید آگ بگولہ ہوتی چیخی وہ لڑکی گھبرا گئی بہزاد اسے روکنے کی کوشش کر رہا تھا بہت سے لوگ وہاں موجود ہو گئے جو ادھے سے زیادہ نشے میں تھے
“میں صرف تمہارا ہوں ریلیکس غزلان”
لوگوں کی بھیڑ دیکھتا وہ اسکے کان کے قریب سرگوشی کرتے ہوئے اسے پرسکون کرنے کیلیے بولا غزلان نے مڑ کر اسے دیکھا
“چھوڑیں میں اسکو نہیں چھوڑو گی چھوا کیسے”
وہ اسکا یہ پاگل پن والا انداز دیکھ کر خود بھی ایک پل کیلیے ساکت ہو گیا تھا اسکے معاملے میں وہ بہت زیادہ پوزیزو تھی وہ یہ بات سمجھ گیا تھا
“اس وقت وہ ہوش میں نہیں ہے اور تم غصے میں اپنا ہوش کھو بیٹھی ہو لیٹس گو”
بہزاد اسے زبردستی گود میں اٹھاتا کلب سے لے جانے لگا وہ اسکی گود میں مچلتی نیچے اتارنے کا بول رہی تھی بہزاد نے اسکے غصے سے سرخ ہوتے چہرے پر نظر ڈالی کو اس وقت غصے میں اسے. بہت حسین لگ رہا تھا۔
“میں نہیں چھوڑو گی اسے کیسے کیسے وہ آپ کے اتنے قریب آ سکتی ہے”
کلب سے باہر نکلتے ہی بہزاد اسے نیچے اتارتا اسکا ہاتھ تھامے گاڑی کی طرف لے جانے لگا جب وہ اسکی گرفت سے ہاتھ جھٹک کر سرد لہجے میں کہنے لگی۔
اسے ریلیکس کرنے کا بہزاد کو صرف ایک ہی طریقہ سمجھ آیا اسے جھٹکے سے قریب کرتے ساتھ وہ اسکی پیشانی پر اپنے ہونٹوں کا نرم لمس محسوس کروا کر اسکی ہارٹ بیٹ ایکدم تیز کرگیا اتنا نرم لمس محسوس کرتی غزلان آنکھیں موند گئی۔
“ایک بات یاد رکھیے گا میں کسی لڑکی کو آپ کیساتھ کھڑا برداشت نہیں کر سکتی تو قریب آنا تو پھر بہت دور کی بات ہے”
اسکی پیشانی سے لب ہٹا کر اسے پرسکون کرتا بہزاد اسے دیکھنے غزلان ہوش کی دنیا میں واپس آتی اسے شدت بھرے لہجے میں کہنے لگی
“کیا کرو گی پھر”
وہ ازکے چہرے کے قریب جھک کر اسے گہری نظروں سے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگا
“جان سے ماروں گی یاد رکھیے گا”
وہ اسے دیکھتے ہوئے جنونی انداز میں کہتی گاڑی کی جانب قدم بڑھا گئی بہزاد اسے جاتا دیکھ رہا تھا
کبھی کبھی وہ بہزاد کو حیران کر دیتی تھی انداز سے لے کر الفاظ بھی وہ بہزاد جیسے بولتی تھی۔