Black Love By Mahnoor Shehzaad Readelle50302 (Black Love) Episode 18
Rate this Novel
(Black Love) Episode 18
رویش بیڈ پر لیتی چھت کو تک رہی تھی کمرے میں بلکل خاموشی سے چھائی ہوئی تھی آنکھوں میں نمی تھی اپنے باپ کا چہرہ اسکے دماغ میں گھوم رہا تھا
ماضی۔۔۔
“مجھے یہ نکاح نہیں کرنا پلیزز ابا مجھے پڑھنا ہے”
وہ روتے ہوئے اپنے باپ کے قدموں میں بیٹھی گڑگڑا رہی جب عرفان نے رویش کے منہ پر ایک زوردار تھپڑ مارا۔
“خبردار جو منع کرنے کی کوشش کی تیرے انکار سے ایک کروڑ روپے میرے ہاتھ سے نکل جائے گا “
وہ غصے سے اسے دیکھتے ہوئے چیخ کر بولے رویش لالچی باپ کو دیکھنے لگی جو پیسوں کی خاطر اپنی سگی اولاد اپنی عمر کے شخص سے جو نشہ کرتا تھا اسے بیچ رہا تھا۔
“دفعہ ہوجا اندر”
وہ غصے سے اسے کہنے لگے وہ روتے سسکتے ہوئے چھوٹے چھوٹے قدم اٹھائے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔
“میں یہی کہوں گی بھاگ جا میری بچی تیرا لالچی باپ تیری زندگی برباد کردے گا”
رویش کی والدہ اسکے چہرے پر نرمی سے ہاتھ رکھے اسے دیکھتے ہوئے کہنے لگی رویش نے نم آنکھوں سے اسے دیکھا۔
“بھاگ جاؤ تاکہ وہ آپ کو مار مار کر آپ کی جان لے لے اتنا بیوقوف سمجھا ہوا ہے”
وہ آنکھوں میں نمی لیے خفگی سے اپنی ماں کو دیکھتی بولی جو اسے روتے ہوئے دیکھ رہی تھی۔
“میری خیر ہے میرے ساتھ میرا اللہ ہے میری بچی”
وہ اسے دیکھتے ہوئے سمجھانے والے انداز میں کہنے لگی جس پر رویش نفی میں سر ہلا گئی وہ بھی خاموش ہو گئی۔
اگلی صبح عرفان صاحب کسی کام سے گئے ہوئے تھے اور رویش کی والدہ ہمسائے کے گھر عیادت کیلیے گئی ہوئی تھی رویش نماز ادا کرکے جگہ پر رکھ رہی تھی جب دروازے پر دستک ہوئی وہ اپنی والدہ کا سمجھ کر بغیر پوچھنے دروازہ کھول گئی مگر سامنے کھڑے شخص کو دیکھ کر اسکے چہرے ایک دم خوف زدہ تاثرات نمایاں ہوئے سامنے کھڑا بشیر چہرے پر زہریلی مسکراہٹ سجائے ہوس بھری نظروں سے اسے دیکھتے اندر کی طرف بڑھنے لگا۔
“اا۔۔ابا گھر نہیں بعد میں آنا”
وہ دروازہ بند کرتے ہوئے کانپتے لبوں سے اس سے نظریں چراتے ہوئے بولی
“ارے میری تیکھی مرچ میں ابا سے نہیں اپنی ہونے والی بیگم سے ملنے آیا ہوں”
وہ دروازہ پر اپنی سخت گرفت رکھتا اسے انتہائی گٹھیا لہجے میں کہنے لگا رویش کو گھبراہٹ سی محسوس ہونے لگی اسکی ہوس بھری نظریں اپنے موجود پر دیکھ اسکے اندر خوف مزید بڑھ گیا وہ اندر آیا رویش نے روکنے کی بہت کوشش کی مگر اس نازک موجود کی بس کی بات نہ تھی
اس سے پہلے وہ چیختی بشیر نے اسکے منہ پر ہاتھ رکھ دیا وہ خوف بھری نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی
“اففف اتنا حسن”
وہ اسے گٹھیا نظروں سے دیکھتے ہوئے چہرے پر کمینی مسکراہٹ سجائے بولا اسکے منہ سے شراب کی بو سے رویش کو بےزاریت سے ہوئی تھی رویش ہمت کرتی اسکی جانب پر ٹانگ مارتی اسے خود سے دور کر گئی
“یہ جسم یہ حسن بہت جل”
بشیر انتہائی گٹھیا نظروں سے دیکھتے ہوئے اسکے گالوں پر اپنی انگلیاں محسوس کرواتا ہاتھ نیچے کی جانب لاتا ہنس کر کہنے لگا جب رویش نے جھٹکے سے اسکا ہاتھ ہٹا کر اسکے منہ پر تھپڑ دے کر مارا تھا تھپڑ مارنے کے. بعد اسکا پوتا وجود خوف سے کانپنے لگ گیا وہ سرخ آنکھیں لیے اسے دیکھنے لگا اور اسکے سر سے دوپٹہ ہٹاتا بالوں کو مٹھی میں دبوچا رویش کے چہرے پر تکلیف دل تاثرات نمایاں ہوئے۔
“یہ تھپڑ بہت مہنگہ پڑے گا تجھے جب بنے گی نا میری تیری زندگی حرام کردوں گا”
وہ غصے سے اسکے چہرے کے قریب چہرے کیے غراتے ہوئے بولا
“تیرے پر تو میں تھوکنا بھی نہ پسند کرو اپنا بنانے کا سوچ رہا ہے”
وہ ہنس کر تکلیف بھلائے اسے سرد لہجے میں بولی جس پر وہ زبردست اسکے ہونٹوں پر جھک کر اسکے ہونٹوں کو چھونے لگا رویش نے اسے خود سے دور کرنے کی بہت کوشش کی مگر وہ پتھر کا بنا ٹس سے مس نہ ہوا زبردستی اسکے لبوں کو چھوتا وہ اسے بےبس چھوڑ کر چلا گیا رویش کی آنکھوں سے ایک کے بعد ایک آنسو گال پر گرنے لگا وہ ںےرحمی سے اپنے ہونٹوں کو مسلسل رگڑنے لگی اور وہی زمین پر بیٹھ گئی
تبھی اسکی والدہ آئی اسے یوں روتا سسکتا زمین پر بیٹھا دیکھ وہ دوہرا اسکی طرف بڑھی
“رویش میری بچی کیا ہوا ہے”
وہ اسکے چہرے پر ہاتھ رکھے پیار سے اور پریشانی سے پوچھنے لگی جس پر وہ انکے روتے ہوئے انکے سینے سے جا لگی
اسکی والدہ نے بہت مشکل سے اسے چپ کروایا رویش نے سارا واقع انہیں سنایا اسکی والدہ کو غصہ اور رونا دونوں آرہا تھا۔
“امی میں یہ نکاح کر سکتی مجھے پلیزز بچا لیں”
وہ روتے ہوئے اپنی ماں سے التجا کرتے ہوئے بولی جس پر انہوں نے اسے سینے سے لگایا۔
“تجھے آج رات بھاگنا ہی ہوگا رویش میں تیری ایک نہیں سنو گی مجھے پتہ ہے کیا کرنا ہے”
اپنی والدہ کی بات پر رویش انہیں دیکھنے لگ گئی انہوں نے اسکے آنسو صاف کیے۔
رات کے پہر رویش کی والدہ نے عرفان کے نیند میں نیند کی گولیاں ملا کر اسے دودھ پلا دیا۔
“اٹھو رویش جلدی خ
عرفان کے سوتے ہی کچھ دیر بعد اسکی والدہ نے اسے اٹھایا اسکے بہت منع کرنے کے باوجود ایک ہی ضد پر اٹکی ہوئی تھی اور وہ دبے دبے قدموں سے دروازے کی جانب بڑھ گئی دروازہ کھول کر اسے رکشہ روکنے کا کہا رویش نے رکشہ روکا
“یہ تمہارے ماموں کے گھر کا ایڈریس اور یہ کچھ پیسے ہیں جاؤ اس سے پہلے تمہارا باپ اٹھ جائے”
وہ اسکے کچھ پیسے اور ایک چٹ دیتی بولی جس پر رویش انہیں منع کرنے لگی
“رویش میری فکر مت کرو یہ تمہاری بہتری کیلیے جاؤ”
وہ اسے غصے سے چھڑکتے ہوئے بولی جس پر رویش مجبورا بیٹھ گئی اور رکشے والا اسے اسٹیشن چھوڑ گیا
اسٹیشن اتے ہی پندرہ منٹ بعد لاہور کی ٹرین چل لیتی رویش ڈرتے گھبراتے ہوئے ٹرین میں بیٹھی تھی
اٹھارہ گھنٹے کے سفر کے بعد وہ لاہور کے اسٹیشن پر موجود تھی اور وہاں سے رکشتہ لیتی اسے اپنے ماموں کا ایڈریس دے کر وہاں چھوڑنے کا کہنے لگی۔رکشے والے نے اسے اسکے کہے ایڈریس پر چھوڑ دیا اس نے ڈرتے ہوئے بل بجائی
تبھی چوکیدار باہر نکلا رویش اسے دیکھتی اپنی چادر درست کرنے لگی
“مجھے فیضان صاحب سے ملنا ہے”
چوکیدار کے پوچھنے پر وہ اسے بتانے لگی جس پر چوکیدار اندر گیا اور فیضان صاحب کو بتایا فیضان صاحب نے اس سے ملنے سے صاف کر دیا۔
“جاؤ بی بی وہ نہیں ملنا چاہتے”
چوکیدار باہر اتے ہوئے فیضان صاحب کا پیغام دینے لگا رویش پریشان ہوئی
“انہیں کہیں کہ مدد کی ضرورت ہے پلیزز ایک دفعہ مل لیں”
رویش روتے ہوئے اسے منت بھرے لہجے میں بولی جس پر وہ اسے جانا کا بولتا دروازہ اسکے منہ پر بند کر گیا وہ کچھ دیر وہی بیٹھی رہی مگر کوئی نہ آیا نہ گیا تبھی ہلکی ہلکی بارش ہونے لگ گئی اسکے پاس کوئی جگہ نہیں وہ شیڈ کے نیچے کھڑی ہو گئی پورا دن اس نے انتظار مگر کوئی بھی نہیں آیا بارش رکتے ہی وہ وہاں سے چلی گئی تھوڑا سا آگے چلتے ہی رکشہ اسے ملا تھا
“کہاں جانا باجی”
رکشے والے نے اسے دیکھتے ہوئے پوچھا جس پر رویش نے اسے دیکھا اور یتیم خانے کا بول دیا رکشے والے نے اسے وہی چھوڑ دیا تھا ہفتہ وہاں وہ رہتی رہی پھر راحت بیگم اور یوسف صاحب فرشتہ بن کر اسکی زندگی میں آئے اور راحت بیگم اسے اپنے ساتھ لے آئی
حال۔۔۔
اپنا ماضی یاد کرتے ہی اسکی آنکھیں بھیگ چکی تھی وہ ایک کرب سے آنکھیں بند کر گئی آنسو اسکے رخسار پر گرنے لگے تھے دماغ کی نسیں پٹھنے کے قریب آج اتنے سال بعد کسی شخص کو چاہا جس اسے دھوکے تھا مگر وہ کمزور نہیں پن سکتی تھی۔
وہ تینوں میں موجود بہزاد کا انتظار کررہے تھے جب باہر آیا تو نظر تینوں پر گئی اور پھر نظریں ہائسم کے بازو پر جو غزلان کے کندھے پر موجود تھا اور وہ دونوں کوئی بات کررہے تھے بہزاد ناگواریت سے اسکا ہاتھ دیکھ رہا آنکھوں میں ایکدم سرد پن آیا ماتھے پر سلوٹیں بنی گردن کی رگیں پھول چکی تھی اسکا دل کیا ہائسم کا ہاتھ توڑ کر رکھ دے۔
“لیٹس گو”
وہ سرد اواز سے تینوں کو اپنی جانب متوجہ کر گیا اسکی اواز پر ہائسم نے فورا غزلان کے کندھے سے بازو پر آیا اور اثبات میں سر ہلا دیا
“مجھے ہائسم سے اکیلے میں بات کرنی ہے”
وہ لہجے میں سرد پن کہے سخت نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے بولا اسکی بات پر غزلان اور اینڈی خاموشی سے وہاں سے چلے گئے ہائسم کو خوف محسوس ہورہا تھا وہ اسکی جانب قدم برھائے اسکے قریب آکر کھڑا ہوا ہائسم کے ماتھے پر ٹھنڈے پیسنے آنے لگے
“وہ میری ہے اور تمہیں اچھے سے معلوم ہے جو بہزاد بیگ کا ہے کوئی اسے دیکھے تو اسکی بھی جان لے لیتا ہے”
وہ اسکے چہرے پر سرد نگاہیں گاڑھے انتہائی ڈادک لہجے میں بولا جس پر وہ سانس روکے خوف سے اثبات میں سر ہلا گیا۔
“اس سے دور رہنے میں تمہاری بہتری ہے فرسٹ اینڈ لاسٹ وارننگ دے رہا ہوں”
سرخ سیاہ آنکھیں اسی کے وجود پر مرکوز کیے سرد میں وارن کرنے والے انداز میں بولتا بھاری قدم لیے باہر کی جانب بڑھ گیا اور ہائسم نے اپنی سانس بحال کی
ان دونوں کے اتے ہی چاروں درید کو اسکے انجام تک ہہنچانے کیلیے نکل پڑے۔
پوری رات عینب سو نہیں سکی تھی اس وقت وہ مزے سے اپنی نیند پوری کر رہی تھی اور زہرون کاوچ پر بیٹھا اسی پر نظریں مرکوز کیے ہوئے تھا چہرے پر الگ ہی مسکراہٹ نمودار تھی۔
“نن۔۔۔نن۔ہی۔۔نہیں قری۔۔۔قریب۔۔نہ”
اچانک عینب کے چہرے پر خوف زدہ تاثرات واضح ہوئے اور وہ نیند کانپتے ہوئے بڑبڑانے لگی زہرون اچانک اسکی حرکت بگڑتی دیکھ کر اسکے پاس آیا۔
“عینب عینب”
وہ اسکے بال چہرے سے ہٹاتا نرم انگلیوں کا لمس اسکے ماتھے پر محسوس کرواتے ہوئے اسے پکارنے لگا اسکے پکارنے پر ایکدم اٹھ بیٹھی پیسنے سے چہرہ لت پت تھا
“پلیزز بچا لو مجھے”
وہ زہرون کو اپنے پاس موجود دیکھ فورا اسکے سینے پر منہ چھپائے ڈرے ہوئے انداز میں بولی
“ریلیکس عینب ریلیکس”
وہ اسکے سینے پر بازو حائل کیے پیار سے نارمل کرنے کی کوشش کرنے لگی اسکے سینے میں منہ دیے وہ رونے لگی
“کچھ نہیں ہوا سب ٹھیک ہے سب میں تمہارے پاس ہوں ٹیک اٹ ایزی”
پیار سے اسکے بالوں کو سہلاتے ہوئے اسے نارمل کرنے لگا جب عینب نے اسکے سینے سے منہ اٹھا کر اسکی طرف دیکھا وہ اسی کو دیکھ رہا تھا۔
“کچھ نہیں ہوا نہ کچھ ہوگا میں ہمیشہ تمہارے ساتھ ہوں”
وہ اسکے چہرے پر دونوں ہاتھ رکھے اسے دیکھتے ہوئے بولا عینب اسی کو دیکھ رہی تھی۔
“کیا تم اس شخص کو ڈھونڈ کر میرے سامنے لا سکتے ہو اپنے ہاتھوں سے اس انسان کی جان لینا چاہتی ہوں”
وہ اسے سرخ آنکھوں سے دیکھتے ہوئے بولی جس پر زہرون ایک پل کیلیے خاموش ہوگیا۔
“زہرون کا وعدہ ہے اپنی عینب سے وہ. بہت جلد اس شخص کو تمہارے سامنے لائے گا”
وہ کچھ دیر کی خاموشی کے بعد اسے دیکھتے ہوئے بولا عینب ابھی بھی اسے دیکھ رہی تھی۔
“اگر تم اس شخص کو ڈھونڈ کر میرے سامنے لے آؤ گے میں مان جاؤ گی تم مجھ سے سچا پیار کرتے ہو اور میں ہار مان لوں گی”
وہ اسے دیکھتے ہوئے بولی جس پر زہرون نے اسکا ہاتھ تھاما۔
“بہت جلد تمہارے پاس ہوگا”
وہ اس کا ہاتھ تھامے اسے امید دیتے ہوئے بولا عینب ہلکا سا مسکرائی وہ بھی مسکرایا۔
“فریش ہو جاؤ باہر چلتے ہیں”
وہ مسکراتے ہوئے اسکے بال کان کے پیچھے دیتے ہوئے اسے بولا جس پر وہ خاموشی سے اٹھ کر باتھروم کا رخ کر گئی۔
اسکے جاتے ہی زہرون نے جیب سے فون نکال کر ڈائل کیا اور کان سے لگایا
“ایک ضروری بات کرنی ہے ملو”
وہ کہتے ساتھ فون بند کرتے ساتھ اسکا انتظار کرنے لگا۔
“وہ لڑکی میرے حواسوں پر سوار ہو چکی ہے ماجد”
وہ اپنی پشت کرسی سے ٹکائے سگریٹ کا گہرہ کش لیتے چہرے پر مسکراہٹ سجائے بولا ایک پل کیلیے ماجد حیران ہوا تھا پھر اسے خیال آیا یہ عشق کبھی بھی کسی کو بھی چاہے وہ جس سفاک یا پتھر دل ہو اسے ہو ہی جاتا ہے۔
“صاحب کہیں تو اٹھوا لوں”
وہ اسے دیکھتے ہوئے گھبراتے ہوئے پوچھنے لگا جب اس نے نفی میں سر ہلایا۔
“نہ بناو گا اسے اپنا مگر اسکی رضا مندی سے”
وہ کرسی سے کھڑا ہوتا بیلکونی میں جاتے ہوئے بولا جس پر ماجد خاموش ہو گیا
خان نے سامنے رویش کا حسین چہرہ آیا آنکھوں میں الگ سی چمک آئی تھی۔
“جلد ہی گیلانی اور اسکے آدمیوں کو ٹھکانے لگانا ہے اور پھر ہمیشہ کیلیے وہ اینگری برڈ میری”
گیلانی کا نام لیتے ہی خان کی آنکھیں سرخ ہوئی تھی مگر رویش کا سوچتے ہی اسکے چہرے پر خوبصورت مسکراہٹ نمودار ہوئی تھی اور ایک بار پھر سگریٹ کا کش لگاتے ہوئے اس دھواں باہر اڑایا۔
وہ لوگ درید کے ٹھکانے پر موجود تھے جہاں وہ بہزاد سے چھپ کر کچھ دنوں سے رہ رہا تھا اینڈی نے ٹانگ مار کر اس ہٹ کا دروازہ توڑا سامنے درید کو بیٹھا دیکھا درید کی نظر بھی ان چاروں پر گئی تھی بہزاد اور غزلان کو وہ پہچان گیا تھا اسکے اندر خوف کی لہر دوڑی اس سے پہلے وہ بھاگتا اینڈی اور ہائسم آگے بڑھ کر اسے اپنی قید میں لے چکے تھے بہزاد نفرت بھری نظروں سے دیکھتا اندر کی جانب بڑھنے لگا جب اچانک غزلان پر نظر گئی جو خوف سے وہی کھڑی تھی بہزاد نے اسے دیکھا اسکی جانب بڑھا۔
“چلو”
وہ اسے دیکھتے ہوئے بولا اسکی اواز پر غزلان ہوش میں آئی تھی اور اس نے درید سے نظریں ہٹا کر اسے دیکھا تھا اور نفی میں سر ہلا دیا۔
“ڈرنا نہیں ہے بھولو مت درید بیگ کو اسکے انجام تک ہہنچانا ہے”
وہ اسے دیکھتے ہوئے یاد دلانے لگا اچانک اپنا ماضی سوچتے ہی غزلان کی آنکھیں سرخ پن آیا تھا وہ اہنا ڈر بھلائے بہزاد کیساتھ اندر کی جانب بڑھی درید جو ہائسم اور اینڈی کی قید سے نکلنے کی کوشش کر رہا تھا تبھی بہزاد کے بھاری ہاتھ کا ایک زوردار منہ پڑتے ہی اسکا دماغ گھوم گیا
بہزاد نے اسکا بیگ اٹھایا اور زپ کھولی جس میں ڈرگز موجود تھے وہ ان پر آگ لگانے لگا۔
“یہ کیا کر رہے ہو میرے کڑورں کا نقصان کردیا”
درید اسکی حرکت پر ایک دم چیختے ہوئے بولا بہزاد اسکی طرف بڑھ کر ایک زوردار تھپڑ اسکے منہ پر مار گیا۔
“مجھے بھی اسی طرح غصہ آتا تھا یاد ہے اور اسی طرح تو مجھے تھپڑ مار کر کمرے میں. بند کرتا تھا”
وہ انتہائی سرد لہجے میں سرد نگاہیں اسکے چہرے پر ڈالے اسے دیکھتے ہوئے یاد دلانے لگا اسکی سیاہ سرد اور سرخ آنکھیں دیکھ درید بھی خوف زدہ ہو گیا تھا تبھی اس نے اپنی جیب سے چاقو نکالا۔
“ویسے تو میں. بولتا نہیں ہوں کر گزرتا ہوں مگر تجھے ایسی موت دوں گا کہ تو خود موت مانگنے کیلیے تڑپے گا”
وہ اسے دیکھتے ہوئے بولتے ساتھ سگریٹ جلا کر منہ میں ڈال گیا اور چاقو اسکے سامنے لہرانے لگا درید کو اپنی موت صاف نظر آرہی تھی
“غزلان جتنا غصہ ہے آج اسے مار کر نکال لو”
وہ خود پیچھے ہٹتا غزلان کو سامنے کیے بولا غزلان ایک پل اسے دیکھتے ہوئے خوف زدہ ہوئی
“ایک دفعہ بچ جاؤ تیرے ساتھ وہی سلوک کروں گا جو سات”
ابھی درید بول رہا تھا جب غزلان نے ایک زوردار تھپڑ اسکے منہ پر دے مارا۔
“میں اس وقت غزلان قریشی نہیں قریشی کی بیٹی تمہارے ساتھ کھڑے ہو جو اپنے باپ کی موت کا بدلا تم سے لے کر رہے گی”
غصے سے اسے دیکھتے ہوئے چیخ کر بولی درید اسے دیکھتے رہ گیا غزلان نے ایک اور تھپڑ اسکے منہ پر دے مارا
“تجھے تیری باپ سے گٹھیا موت دوں گا بچ جانے دے اور ایک رات”
ابھی وہ بول رہا تھا جب پیٹھ پر بہزاد نے چاقو ڈالا درید کا چہرہ سرخ ہو گیا تھا
“اکیلی نہیں میں ساتھ ہوں اسکے اگر بری نظر بھی ڈالی تو آنکھیں نکال لوں گا”
وہ پیچھے سے اسکے کان میں وحشت بھری نظروں سے دیکھتے شیر کی دھاڑ سے چلایا تھا درید گھبرا گیا۔
بہزاد کی نظر غزلان پر گئی جو اسکی باتوں سے ڈر گئی تھی۔
“لے چلو میرے گھر تڑپا تڑپا کر موت دوں گا “
بہزاد ہائسم اور اینڈی کو حکم دینے لگا اسکے بولتے ہی وہ فون اسے بےہوشی کا انجیکشن لگائے وہاں سے لے گئے۔
بہزاد غزلان کی جانب بڑھا جو بلکل ساکت کھڑی تھی۔
“غز”
وہ ابھی اسے پکار رہا تھا جب غزلان اسکے سینے سے آ لگی بہزاد اسکے اسی طرح گلے لگنے پر ساکت سا ہو گیا اسکے اس قدر قریب آنے سے دھڑکنیں بےترتیب ہوئی تھی اسکے گرد خودبخود مضبوط حصار بنا گیا اتنے عرصے بعد اسے خود کے اندر سکون اترتا محسوس ہوا تھا
جاری ہے۔
