Black Love By Mahnoor Shehzaad Readelle50302 (Black Love) Episode 15
Rate this Novel
(Black Love) Episode 15
زہرون جانے سے پہلے عینب سے ملنے کیلیے اسکے کمرے کی طرف بڑھا دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا تو کمرے میں ٹہل رہی تھی مڑی سامنے زہرون کو موجود دیکھ کر وہ تھوڑا گھبرائی۔
“مجھے بات کرنی ہے”
وہ اسکی جذنب قدم بڑھاتے ہوئے اسے کہنے لگا عینب نے اسکی جانب دیکھا۔
“لیکن مجھے تم سے کوئی بات نہیں کرنی ہے تم جاؤ”
وہ اسے ناچاہتے ہوئے بھی سختی سے کہنے لگی
“لیکن مجھے کرنی ہے کیوں کر رہی ہو یہ سب”
وہ اسکے اور اپنے بیچ فاصلہ ختم کرتے ہوئے اسے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگا۔
“کیونکہ میں نے صرف تمہیں ایک دوست مانا ہے اس سے زیادہ کچھ بھی نہیں”
وہ اسے دیکھتے ہوئے چہرے پر سنجیدگی لیے اسے بتاتے ساتگ دروازے کی جانب بڑھی۔
“تمہاری نظر میں وہ سب دوستی تھی”
وہ اسے دیکھتے ہوئے سوالیہ نظروں سے پوچھنے لگا عینب نے اثبات میں سر ہلادیا۔
“ہاں اور اب جاؤ جیسا تم چاہتے ہو ویسا کبھی نہیں ہوگا میں آسٹریلیا جارہی ہوں”
وہ اس سے نہیں چراتے ہوئے مضبوط لہجے میں اسے بولی جس پر وہ اسکے قریب آیا۔
“اگر ایسا کچھ نہیں ہے تو دور کیوں جارہی ہو یہ سب چھوڑ کر صاف صاف کہو مجھ بھاگ رہی ہو”
وہ اسے دیکھتے ہوئے لبوں پر مسکراہٹ سجائے اسے بولنگ لگا۔
“تم یہاں سے جاؤ اس سے پہلے میں چیخوں”
وہ اب کی بار اسے دیکھتے ہوئے غصے سے کہنے لگی زہرون نے گردن اثبات میں ہلا دی
“میں ضد کا بہت برا ہوں تمہیں اپنا بنانا اب ضد بن گئی ہے اور اسکے لیے میں کوئی بھی حد پار کرسکتا ہوں”
وہ آنکھوں میں سرخی لیے سرد لہجے میں اسے بولتے ساتھ بھاری بھاری قدم اٹھائے چلا گیا عینب اسے جاتا دیکھنے لگ گئی۔
“تم مجھ سے ملنے کل آ سکتی ہو”
رویش یونیب سے بار کر رہی تھی جب یونیب نے ملنے کا اسے بولا
“ہاں مل لوں گی”
وہ ںیڈ کراون سے ٹیک لگاتے ہوئے اسے بولی
“کدھر ملنا ہے ویسے”
رویش نے پوچھنا ضروری سمجھا جس پر دوسری جانب یونیب کرسی سے اٹھ کھڑا ہوا
“تمہیں لوکیشن بھیجوں گا شام چھ بجے وہی ملنا مجھ سے”
وہ چہرے پر شاطر مسکراہٹ سجائے اسے کہنے لگا جس پر رویش نے اوکے کردیا اور کال ڈسکنیکٹ کردی۔
“جی خان سر”
اسکے اشارے پر فورا اسکا ملازم گھبراتے ہوئے آگے بڑھ کر پوچھنے لگا۔
“میڈیم پر نظر رکھی ہوئی ہے نا جیسے ہی مشکل میں ہوں فورا فون مجھے انا چاہیے”
وہ باہر دیکھتے ہوئے سگریٹ کے کے گہرے کش لگائے کہنے لگا
“جی سر”
وہ فورا اسکی بار مانتے ہوئے کہنے لگا جس پر وہ بھی گردن اثبات میں ہلا گئی۔
“اس دفعہ آپ کا کام پکا گیلانی صاحب”
یونیب اسکے سامنے موجود مسکراتے ہوئے بولا گیلانی بھی مسکرایا
“بہت خوب یونیب”
وہ اسکے کندھے پر ہاتھ رکھے اسے بولے یونیب کے چہرے کی مسکراہٹ مزید گہری ہوئی۔
“ایک بات بتاؤ”
وہ لان میں ٹہل رہی تھی میڈ کو مخاطب کرتے ہوئے پوچھنے لگی
“جی میم”
وہ اسکے تھوڑا پاس اتے ہوئے مسکراتے ہوئے پوچھنے لگی
“کب سے یہ جاب کر رہی”
وہ اسے دیکھتے ہوئے مسکراتے ہوئے پوچھنے لگی وہ لڑکی بھی اسے دیکھ رہی تھی
“چھ سال”
وہ اسے دیکھتے ہوئے بتانے لگی وہ اثبات میں ہلا گئی
“کیا کبھی کوئی لڑکی یہاں ائی ہے”
وہ اسے دیکھتے ہوئے تفتیشی انداز میں پوچھنے لگی جس. پر لڑکی نے نفی میں سر ہلا دیا
“سر پہلی دفعہ ادھر کسی لڑکی کو لائے ہیں”
وہ اسے دیکھتے ہوئے بولی جس پر غزلان کے لبوں پر مسکراہٹ آ گئی
تبھی بہزاد آتا اسے دیکھائی دیا لیکن وہ اکیلا نہیں تھا اسکے ساتھ تین بار لڑکے موجود تھے غزلان اندر کی جانب بڑھی
“اس روم میں چلو کچھ ڈسکس کرنا ہے”
وہ اسکے اتے ہی ارڈر دیتے ہوئے غصے سے پوچھنے لگا
“ٹھیک ہے چل لیتی ہوں لیکن یہ تو بتاؤ کون ہے یہ عجیب و غریب شکل کے”
وہ اسے دیکھتے ہوئے دھیمے لہجے میں بولی بہزاد اسے دیکھنے لگ گیا اور خاموش رہنے کا اشارہ کیا اور پھر سب روم میں چلے گئے۔
وہ جب بات کر رہے تھے تو غزلان مسلسل بہزاد کو دیکھنے میں مصروف تھی
وہ اچانک اس کا بازو تھام کر اسے کمرے سے باہر لایا اور اسکے اسکے کمرے کی طرف بڑھا
“ایک بات سمجھ نہیں اتی میری یہ فضول حرکتوں مت کرو تمہیں کیا لگتا یہ سب کر کے تم میرے دل میں جگہ بنا کو یہ کبھی نہیں ہوگا غزلان دور رہنے میں بہتری کام پر صرف اور صرف کام پر دھیان ان حرکتوں سے تم مجھے انتہا کی فضول لڑکی لگتی ہو”
وہ غوے میں درشت لہجے میں آنکھوں میں سرد بن لیے اسے بولا غزلان کو باتیں حد سے زیادہ تکلیف دے رہی تھی
“آپ کو مجھے تکلیف دینے میں خوشی ملتی ہے “
اسکی باتیں اس حد تک تکلیف دے رہی تھی وہ مضبوط لڑکی کی آنکھوں میں آج انسو تھے
“ہاں اگر خود کو تکلیف نہیں دینا چاہتی مجھ سے بات نہیں کیا کرو اور دور رہو گا “
وہ اسے مزید تکلیف دینے والے الفاظ سناتے ہوئے وہاں سے چلا گیا غزلان اسے جاتا دیکھنے لگ گئی
“میں رووں گی نہیں مسٹر بہزاد ابھی تک میں تمہارے سامنے غزلان تھی اب غزلان قریشی بن کر آؤ گی”
وہ آنکھوں میں غصہ لیے لہجے میں سختی درے بولتے ساتھ مغرور چال چلتی نیچے کی جانب بڑھ گئی۔
عینب سونے میں مصروف تھی تبھی اس کا فون بجا فون کی رنگ سے اسکی نیند خراب ہو گئی اس نے فون اٹھایا زہرون کالنگ سکرین پر جگمگا رہا تھا اس نے فون اٹینڈ کیا
“بولو”
وہ نیند میں ڈوبی ہوئی اواز میں پوچھنے لگی
“مجھے تم سے ایک امپورٹنٹ بات کرنی ہے شئیر کرنی ہے دوست ہو پلیز آجاؤ”
عینب کے کانوں میں جیسے اواز ٹکرائی وہ ایکدم اٹھ کھڑی ہوئی
“اچھا میں آرہی”
یہ کہتے ساتھ وہ فون کٹ کر کے اٹھی جلدی سے کوٹ پہنا اور کمرے سے باہر کی جانب بڑھ گئی۔
وہ فارم ہاوس پہنچ گئی تھی وہ جیسے پہنچی اس نے بیل بجائی تبھی فورا زہرون نے دروازہ کھولا
“سب ٹھیک ہے کیا بات ہے جو مجھے بلایا”
عینب اندر اتے ہوئے شوز کوٹ اتارتے ہوئے اس سے پوچھنے لگی جب زہرون نے اسکے منہ پر رومال رکھ دیا عینب مڑ کر پھٹی ہوئی آنکھوں سے اسے دیکھنے لگ گئی اور اگلے کی پل وہ اسکی باہوں میں موجود تھی
“سوری لیکن مجھے یہی ٹھیک لگا”
وہ اسے اپنی باہوں میں بھرے اسے دیکھتے ہوئے کہتے ساتھ بیڈ روم میں لے آیا اور اس پر بلینکٹ ڈال کر چلا گیا
ادھے گھنٹے بعد جب عینب کو ہوش ایا اس نے آنکھوں پر جبنش سر بجے بھاری محسوس ہورہا تھا وہ کمرے میں نظر گھمانے لگی اچانک اسے سب یاد ایا اور نظر زہرون پر گئی جو کمرے میں جیب میں ہاتھ ڈالے داخل ہوا
“کیسا لگا سرپرائز”
وہ اسے دیکھتے ہوئے چہرے پر فاتحانہ مسکراہٹ سجائے اسے دیکھتے ہوئے بولا عینب گھور کر اسے دیکھ رہی تھی
“کیسا بدتمیزی ہے یہ تمہیں کوئی امپورٹنٹ بار شئیر کرنی تھی یہ سب”
وہ ںیڈ سے اٹھ کر اسکے سامنے اتے ہوئے چیخ کر کہنے لگی وہ مسکراتے ہوئے اسے دیکھ رہا تھا
“یہی تو امپورٹنٹ بات بتانی ہے نکاح ہونا ہے ہمارا آج ابھی اسی وقت”
وہ مسکراتے ہوئے اسے بولا عینب کو دھچکا لگا
“پاگل تو نہیں میں کوئی نکاح نہیں کر رہی عجیب فضول ضد ہے”
وہ غصے سے بولتے اپنی چپل پہنتی جانے لگی جب زہرون نے اسکی بازو اپنی گرفت میں مضبوطی سے ہے کر اسے اپنی طرف کھینچا
“کیسا تھا ضد کا بہت برا ہوں تم نہیں مانی تو مجھے یہ سب کرنا ہی پڑا”
وہ اسے دیکھتے ہوئے اسکی بازو پر گرفت مضبوط کرتے ہوئے سرد لہجے میں کہنے لگا عینب کے گہرے تکلیف کے آثار صاف نمایاں تھے
“میں ت”
ابھی بول رہی تھی جب زہرون نے اسکے منہ پر انگلی رکھ کر خاموش کروایا
“بہت سن لی تمہاری اگر نکاح کیلیے راضی نہیں ہوگی ابھی اسی وقت خود کو شوٹ کردوں گا “
وہ اپنے ماتھے پر بندوق رکھتے ہوئے اسے بولا عینب ایکدم گھبرا گئی
“فیصلہ تمہیں کرنا ہے”
وہ ٹریگر پر ہاتھ رکھے اسے کہنے لگا عینب کے ہاتھ پیر پھول گئے تھے۔
“بولو شوٹ کرو یا راضی ہو”
وہ اسے سرخ آنکھوں سے دیکھتے ہوئے سرد لہجے میں سر پر بندوق رکھے بولا عینب اسے دیکھ رہی تھی
“تم پاگل ہو یہ کیا”
وہ گھبراتے ہوئے اپنا بازو اسکی گرفت سے نکالنے کی ناکام کوشش کرنے لگی
“کہا تھا ضد کا بہت برا ہوں جلدی بولو”
وہ اسے قریب کرتے ہوئے اب کی بار لہجے میں مزید سختی لیے کہنے لگا
“کیا عجیب ضد ہے یہ زہرون”
وہ اسے دیکھتے ہوئے بےبسی سے اونچی اواز میں بولی
“میں تین تک گنوں گا اگر تم نے جواب نہیں دیا تو یہ چلا دوں گا”
وہ ٹریگر پر انگلی رکھے اس سے دور ہو کر چہرے پر مسکراہٹ سجائے بولا عینب کو اپنی جان جاتی نظر آرہی تھی
“تین، دو”
وہ اونچی اواز میں گنتی کرنے لگ گیا عینب اسے دیکھتے ہوئے نفی میں سر ہلا رہی تھی۔
“ای”
وہ ابھی اپنا الفاظ مکمل کر رہا تھا جب عینب نے چیخ ماری
“اسٹاپ اٹ میں تیار ہوں”
عینب آنکھوں میں غصہ لیے اسے دیکھتے ہوئے کہنے لگی اور زہرون کے چہرے پر فاتحانہ مسکراہٹ آئی
“گڈ گرل”
وہ اسکے چہرے پر ہاتھ رکھے اسے بولا جو عینب نے غصے سے جھٹک دیا۔
کچھ ہی دیر میں مولوی صاحب وہاں موجود تھے عینب زہرون کو لایا اور دونوں کا نکاح ہو گیا دونوں نے نکاح نامے پر سائن کیے مولوی صاحب چل دیے
“مسز زہرون جاوید”
وہ مسکراتے ہوئے اسے دیکھ کر بولا اور عینب نے اسے کھا جانے والی آنکھوں سے گھورا۔
“آج میں تم سے ہماری ملاقات میں جتنی نفرت ظاہر کی تھی اس سے دوگنی کرنے لگی ہوں اس نکاح میں کبھی خوشی نہیں ہوگی”
وہ اسے دیکھتے ہوئے انتہائی غصے سے بولی جس پر زہرون کی مسکراہٹ غائب ہوئی
“تو ارام سے بات مان جاتی یہ سب کرنا ہی نہیں پڑتا”
وہ اسے دیکھتے ہوئے بولا عینب کوئی جواب دیے بغیر اٹھ کر کمرے میں بولی گئی
جارہی ہے۔
