Black Love By Mahnoor Shehzaad Readelle50302 (Black Love) Episode 13
Rate this Novel
(Black Love) Episode 13
بہزاد اور غزلان یوسف ہاؤس پہنچ چکے تھے غزلان باری باری سب سے ملی عینب جو چائے پینے کیلیے نیچے آرہی تھی اسے دیکھ کر موڈ خراب ہوا تھا۔
“آجاؤ عینب”
راحت بیگم اسکے قدم سیڑھیوں پر رکتے دیکھ اسے مخاطب کرتے ہوئے کہنے لگی غزلان کی نظر اس پر گئی عینب خاموشی سے نیچے آ گئی۔
وہ سب مل کر ٹی وی لاؤنچ میں چائے پی رہے تھے جب زہرون آیا اور نظر غزلان اور بہزاد پر گئی۔
“ارے واہ بڑے بڑے لوگ آج تو آئے ہوئے ہیں”
وہ مسکراتے ہوئے کہتے ساتھ بہزاد کی جانب ہاتھ بڑھا گیا بہزاد نے ایک نظر اسے دیکھا اور ہاتھ ملایا وہ سامنے عینب کیساتھ موجود خالی کرسی پر بیٹھ گیا۔
“تم اسوقت یہاں خیریت تو ہے”
راحت بیگم اسے یہاں موجود دیکھتے ہوئے پریشانی سے پوچھنے لگی جس پر زہرون نے انہیں دیکھا
“وہ آج عینب نہیں آئی تو سوچا خود چلا جاؤ آج ہم نے گھومنے جانا تھا نا کٹپنا ڈیزرٹ”
وہ راحت بیگم کو دیکھتے ہوئے مسکرا کر کہنے لگا جس پر وہ اثبات میں سر ہلا گئی۔
“اوہ واؤ تم وہاں جارہے ہو دونوں میری فیورٹ ہے سب مل کر چلیں”
غزلان فوراً سے خوشی سے کہنے لگی وہ کچھ وقت بہزاد کیساتھ اچھا گزرانا چاہتی تھی
“ہاں سب مل کر چلے جاؤ بچوں اور مجھے اور میری بیگم کو تھوڑا وقت اکیلے میں”
یوسف صاحب مسکرا کر کہنے لگے جس پر سب ہنس دیے اوہ سب لوگ جانے کیلیے راضی ہوگئی۔
“تم سب جاؤ میں نہیں جارہی”
عینب کہتے ساتھ اوپر کی طرف بڑھ گئی زہرون اسکی بات پر اسے دیکھنے لگ گیا اور اسکے پیچھے گیا ۔
“کیا ہوا ہے عینب”
وہ اسکے پاس روم میں آتے ہوئے کہنے لگا جس پر عینب نے اسے دیکھا
“کچھ نہیں مجھے کیا ہونا طبیعت نہیں ٹھیک میری بس”
وہ اسے دیکھتے ہوئے نارمل ہونے کی کوشش کرتے ہوئے کہتے ساتھ کاؤچ پر بیٹھ گئی زہرون اسکے پاس آکر بیٹھا۔
“پلان تو ہم دونوں کا تھا اور میں تمہارے ساتھ وہاں جانا چاہتا ہوں اپنے دوست کی اتنی سی بھی بات نہیں مانو گی”
وہ اسے آرام دہ لہجے میں معصومیت سے مناتے ہوئے بولا عینب نے چھوٹی آنکھیں کیے اسے دیکھا۔
“یہ معصوم۔بننے کی ایکٹنگ نہ کرو بلکل اچھے نہیں لگ رہے “
وہ اسکی شکل کو دیکھتے ہوئے منہ بنائے کہنے لگی زہرون مسکرایا
“چل رہی ہو نا”
وہ اسے مسکرا کر دیکھتے ہوئے پوچھنے لگا عینب بھی مسکرائی
“صرف تمہارے لی”
وہ ابھی بول رہی تھی جب زہرون کے اچانک پھر سے دیکھنے میں اسکے الفاظ منہ رہ گئے
“میرا مطلب میرا اپنا موڈ بن گیا ہے”
وہ فوراً سے بات کا رخ بدلتے ہوئے بولی اور باتھروم کی جانب بڑھ گئی۔
وہ سب وہاں پہنچ چکے تھے زرمیش عینب زہرون غزلان اور بہزاد تو آگے چلنے لگے رویش وہی کھڑی نمبر ڈائل کرنے لگ گئی۔
“مجھے کچھ نہیں سننا تم اسی وقت کٹپنا ڈیزرٹ پہنچو فوراً”
رویش حکم دینے والے انداز میں بولتی اسکی بات سنے بغیر فون کٹ کر گئی اور دوسری طرف یونیب فون کو دیکھتا رہ گیا۔
“پیاری ہے نا یہ جگہ”
وہ بہزاد کیساتھ چلتے ہوئے اسے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگی بہزاد نے اسے دیکھا
“میں نے سنا تھا تمہیں ایسی جگہیں نہیں پسند”
وہ اسے دیکھتے ہوئے اسکے بارے میں سنی گئی بات اسے بتانے لگا
“لیکن اب لگنے لگی ہے ایک دفعہ پہلے آئی تھی اس وقت بہت اکیلی اور بہت زیادہ ڈپریسد تھی اور آج آئی ہوئی ہوں خوش ہوں کوئی اپنا ساتھ ہے”
وہ اسکے ساتھ چلتے ہوئے آخری لفظ اسے دیکھ مسکرا کر کہنے لگی بہزاد دو پل اسے دیکھتا رہ گیا۔
“مجھے اپنا نہ کہو میں کسی کا نہیں ہو”
وہ اسے ٹوٹے ہوئے لہجے میں جواب دینے لگ گیا غزلان نے اسے دیکھا۔
“جب میں آپ کو دیکھتی ہوں آپ سے بات کرتی ہوں مجھے آپ اپنے جیسے آخری شخص لگتے ہو ہاں ہوں گے آپ جیسے بہت لیکن آپ کسی کے جیسے نہیں”
وہ اسے دیکھتے ہوئے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ سجائے دل میں کہنے لگی بہزاد کی نظریں بھی اسی پر مرکوز تھا
“اچھی لگتی ہو تم لیکن میں اچھا نہیں ہو تمہارے لیے بلکل نہیں”
وہ اسی کو دیکھتے ہوئے دل میں کہنے لگا دونوں کی نظریں ایک دوسرے پر ہی مرکوز تھی ایک ساتھ دل نے بیٹ مس کی تھی۔
“کتنے اچھے لگ رہے ہیں دونوں”
زرمیش رویش کے پاس آتے ہوئے اسے بتانے لگی رویش کی نظریں بھی ان دونوں پر گئی لبوں پر مسکراہٹ خودبخود آ گئی اور اثبات میں سر ہلا گئی۔
“مٹی کیساتھ کھیلیں”
عینب اسے دیکھتے ہوئے کہنے لگی زہرون اثبات میں سر ہلا گیا اور دونوں بیٹھ کر مٹی سے کھیلنے لگ گئے۔
“بچپن میں ایسے ہی مٹی سے کھیلتی تھی “
وہ مٹی سے کھیلتے ہوئے مسکرا کر کہنے لگی زہرون مسکرایا۔
“تم یہاں کیسے مطلب فیملی وغیرہ چھوڑ کر”
زہرون اسی پر نظریں مرکوز کیے پوچھنے لگا جس پر عینب کے چہرے ہاتھ ایکدم رک گئے وہ اسے دیکھنے لگ گئی۔
“بتایا تو ہے میرا ماضی بہت بھیانک ہے میرے لیے میں وہ سب یاد نہیں کرنا چاہتی”
وہ اسے دیکھتے ہوئے جواب دیتی اٹھ کھڑی ہوئی زہرون نے اسے دیکھا اور وہ بھی کھڑا ہوا۔
“اس دن تم مجھ سے شئیر کررہی تھی پھر اچانک کال آ گئی شئیر کرو کیا ہوا تھا”
وہ اسکے سامنے کھڑا ہوتے ہوئے اسی دن کی ادھوری بات اسے یاد دلانے لگا جس پر عینب اسے دیکھنے لگ گئی۔
“ابھی نہیں ابھی یہاں گھومنے آئے ہے نا”
وہ بات بدلتے ہوئے فوراً چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ لائے اسے کہنے لگی زہرون اسے دیکھنے لگ گیا
“تو پھر پرامس کرو آج رات فارم ہاؤس آکر مجھ سے سب شئیر کرو گی”
اسکی بات عینب کے چہرے کی مسکراہٹ غائب ہوگئی وہ اسے دیکھنے لگ گئی زہرون بھی اسے دیکھ رہا تھا عینب اثبات میں سر ہلا گئی۔
“بولو کیوں بلایا ہے”
یونیب رویش کو دیکھتے ہوئے پوچھنے لگا رویش نے غصےسے اسے دیکھا۔
“اس دن کیا ہوا تھا مجھے بتاؤ”
وہ اسے دیکھتے ہوئے سینے پر بازو باندھے اس سے سرد لہجے میں پوچھنے لگی
“مجھے پوچھنا چاہیے اس دن کہاں غائب ہوئی تھی تم پتہ نہیں کیوں بےہوش ہو گئی تھی میں پریشان سا ویٹر کو بلانے گیا جب واپس آیا تم وہاں نہیں تھی”
یونیب بہت صفائی سے جھوٹ بولتے ہوئے اسے نارمل انداز میں بتانے لگا
“یہ سب ہوا تھا کیا”
وہ اسے دیکھتے ہوئے کنفیوز سی ہو کر بولی یونیب نے اثبات میں سر ہلا دیا
“کہاں گئی تھی تم”
وہ اسے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگا رویش سوچنے لگ گئی اور اسکی سوال پر اسے دیکھا
“یعنی خان نے جھوٹ کہا جانتی تھی جھوٹ بول رہا ہے”
رویش کو اس وقت خان پر انتہا کا غصہ آنے لگا وہ خود میں۔ بڑبڑانے لگی
“کون خان”
وہ اسے دیکھتے ہوئے ناسمجھی سے پوچھنے لگا رویش اپنی سوچوں کو جھٹکتی اسے دیکھتے لگ گئی۔
“کوئی نہیں سوری مجھے لگا تم وہاں چھوڑ کر چلے گئے مجھے”
رویش اسے دیکھتے ہوئے شرمندگی سے بولی یونیب اسے دیکھنے لگ گیا
“تم سوری بھی بولتی ہو”
وہ حیرت سے بولا رویش ہنسنے لگ گئی یونیب بھی مسکرایا
“کوئی بات نہیں اب تو سب کلئیر ہے”
وہ مسکرا کر اسکے چلتے ہوئے کہنے لگا رویش اثبات میں سر ہلا گئی لیکن اسے رہ رہ کر خان پر غصہ آرہا تھا
“تم ہنستے بھی ہو”
وہ اسے مسکراتا دیکھتے ہوئے بولی اسکی بات یونیب اسے دیکھنے لگ گیا
“الحمدللہ”
یونیب کے جواب پر وہ پھر سے مسکرائی اور اسے طرح مسکراتے ہوئے وہ چلنے لگ گئے۔
“سوری میں نے جھوٹ بولا لیکن میرے لیے میرا کام ضروری ہے”
وہ اسے دیکھتے ہوئے دل میں بولنے لگا رویش نے اسے دیکھ کر آئبرو اچکائی جس پر وہ نفی میں سر ہلا گیا۔
غزلان بھی مٹی سے کھیل رہی تھی اس نے مٹی میں G❤️B لکھا اور بہزاد کو دیکھا
“کیسا لگ رہا ہے”
وہ اسے دیکھتے ہوئے مسکراتے ہوئے کہنے لگی بہزاد اسے دیکھ رہا تھا جو دن بدن اسکے قریب ہوتی جارہی تھی اور اسے اپنا ہمدرد سمجھنے لگ گئی تھی
“بکواس”
وہ سخت لہجے میں کہتا نظریں کا تعاقب دوسری سمت کر گیا غزلان اسکی جگہ پر آکر کھڑی ہوئی
“کوئی بھی نہیں اتنا حسین لگ رہا ہے یہ تو ہاں اب جو جیسے ہوتے ہیں انہیں سب ویسا ہی لگتا ہے”
وہ اسے دیکھتے ہوئے منہ بنائے جان کر بولی بہزاد اسکی بات پر اسے دیکھنے لگ گیا اور غزلان کی نظریں جیسے اس پر مٹی پر لکھے G❤️B پر جم سی گئی تھی چہرے پر الگ ہی مسکراہٹ نمودار تھی۔
“کل رات ہم نے لندن کیلیے نکلنا ہے”
وہ اسے دیکھتے ہوئے بتانا لازمی سمجھنے لگ گیا غزلان اثبات میں سر ہلا گئی۔
“لندن میں ہم ڈھونڈیں گے کیسے”
وہ اسکے ساتھ بیٹھتے ہوئے اسکے بازو میں بازو ڈالے پوچھنے لگی بہزاد نے اسے دیکھا
“میرا کام ہے وہ”
وہ اسے جواب دیتا نظریں سامنے مرکوز کر گیا اور غزلان کے چہرے پر مسکراہٹ آئی۔
“اس قدر حسین بھی کوئی کیسے ہوسکتا ہے تو نے کبھی خواب میں بھی نہیں سوچا ہوگا تو کسی مرد کے پیچھے پاگل ہو جائے گی”
وہ اسی پر نظریں مرکوز کیے دل میں دیوانہ پن والے الفاظ بولنے لگی ۔
رات کے پہر وہ سب لوگ واپسی کیلیے نکل رہے تھے ان میں سوائے بہزاد کے سب موجود تھے وہ پیچھے آرہا تھا جب سامنے تین لڑکے اور ایک لڑکی نظر آئی وہ سب آپس میں ایک دوسرے کو دیکھنے لگ گئے۔
“کون ہو تم”
زہرون سب کو اسطرح اپنے سامنے دیوار بنا کھڑا دیکھ غصے میں پوچھنے لگا
“اس علاقے مجید کے آدمی کچھ حساب برابر کرنے ہیں”
ان میں سے ایک لڑکا انتہائی غصے سے بولا زہرون کچھ بولتا جس پر غزلان نے زہرون کو ہاتھ کے اشارے روک دیا
” کیسے حساب”
وہ جیب میں ہاتھ ڈالتی سرد لہجے میں سرد نگاہیں ان پر جمائے پوچھنے لگی
تبھی اس لڑکے نے گن غزلان کی طرف کی غزلان کے چہرے پر مسکراہٹ آئی اس سے پہلے وہ شوٹ کرتا بہزاد نے پیچھے سے اسکی کمر پر چاقو کھوپ ڈالا وہ وہی بےجان سا ہوگیا درد سے کراہ کر وہ زمین پر بے سود ہوگیا اسکے ساتھی اسے دیکھنے لگ گئے اور لڑکی نے مڑ کر دیکھا دو منٹ کیلیے اسکی نظریں اسی پر مرکوز ہوگئی
“اوہ تو بیسٹ جتنا سنا تھا اس سے کئی زیادہ ہینڈسم ہو”
وہ چہرے پر دلفریب مسکراہٹ سجائے اسکی گردن بازو ڈالنے لگی تھی جب غزلان اسطرف بڑھ کر اسکا رخ اپنی طرف کر گئی۔
“چھونے کی کوشش بھی مت کرنا سمجھی”
غزلان آنکھوں میں سرخ لیے طیش میں بولی وہ لڑکی اسے دیکھنے لگ گئی۔
“کون ہے بے تو”
وہ اسے دیکھتے ہوئے بغیر ڈرے پوچھنے لگی جس پر غزلان نے گن نکال کر اسکے سر پر رکھی
“میں بتانے سے زیادہ کرنا پسند کرتی ہوں”
وہ اسے دیکھتے ہوئے بولی بہزاد ااے دیکھنے لگ گیا یہ تو جملہ وہ ہمیشہ بولتا تھا ناچاہ کر بھی اسکے لبوں پر مسکراہٹ آئی۔
تبھی مجید کے آدمیوں نے فائرنگ شروع کردی وہاں سے عینب رویش اور یونیب نے بھی فائزنگ اسٹارٹ کردی زہرون مار سکتا تھا مگر یہاں مارنے والا کام نہیں تھا اسی دوران بہزاد نے دونوں کے پیٹ میں ایک ساتھ چاقو مارے اس دوران گولی اسکے بازو کو ہلکا سا چھوٹی مگر اس حیوان کو کوئی فرق نہ پڑا اور وہ دونوں مجید کے آدمی پہلے آدمی کے جیسے چیخ کر زمین پر بےجان سا گر گئے۔
“جان پیاری ہے”
غزلان اس لڑکی کو دیکھتے ہوئے پوچھنے لگی وہ اسی کو دیکھ رہی تھی۔
“چلتی بنو اگلی بار راستے میں نہ آنا اور میرے بندے کو دیکھنے کی جرات کی نہ تو دو سکینڈ لگائے بغیر زندہ زمین پر گاڑھ دوں گی”
غزلان آنکھوں میں وحشت لیے انتہائی سرد لہجے میں صفائی وہ لڑکی خاموش کھڑی رہی بہزاد دو پل اسے دیکھتا رہ گیا اسے بلکل الگ غزلان دیکھی تھی۔
“وہ صرف اور صرف غزلان قریشی یعنی میرا ہے”
غزلان بولتے ہوئے اس وقت کسی جنونی سے کم نہیں لگی کہتی آگے بڑھ گئی
وہ سب لوگ چلنے لگ گئے جب اس لڑکی نے گن نکال کر نشانہ عینب کی پیٹھ پر کیا غزلان اپنی گن جیب میں رکھنے کیلیے مڑی تو نظر اس پر گئی اس سے پہلے گولی عینب کو لگتی غزلان اسے سائیڈ پر کرکے آگے آ گئی اور جھک گئی گولی ہوا میں چلی گئی کسی کو بھی نہ چھوئی عینب اسے دیکھتی رہ گئی اور وہ لڑکی بھاگ گئی۔
“تم ٹھیک ہو”
عینب اسکے پاس اسے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگی جس پر غزلان اثبات میں سر ہلا گئی
“تم”
وہ اسے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگی عینب اثبات میں سر ہلا گئی وہ سب ان دونوں کو دیکھ رہے تھے بہزاد اسطرف فوراً بڑھا
“تمہیں گولی تو نہیں لگی نا آر یو اوکے”
وہ اسکے گال پر ہاتھ رکھے فکر کرتے ہوئے پریشانی سے پوچھنے لگا اسکے اسطرح پوچھنے پر غزلان کے لبوں پر مسکراہٹ آئی
“آگر اتنے پیار سے پوچھتے تو گولی بھی کھا لیتی”
وہ اسکے تھوڑا قریب چہرہ کیے ہلکی آواز میں کہنے لگی بہزاد اسے دیکھنے لگ گیا
“واٹ ربیش بتاؤ تم ٹھیک ہو”
اب کی بار بہزاد غصے سے پوچھنے لگ گیا غزلان سے اثبات میں سر ہلا گئی اور وہ سب ان دونوں کو دیکھ رہے تھے کہیں سے انہیں یہ رشتہ کاغذی نہیں لگ رہا تھا ایکدوسرے فکر خیال سے جیسے پسند کی شادی ہوئی ہو۔ بہزاد نے اسے اٹھایا اور سب آگے کی جانب بڑھ گئے
“پھر بعد میں مت کہنا مجھے کوئی پرواہ نہیں سب نے دیکھ لیا اب تو”
غزلان اب کی بار آنکھ مار کر مسکراتے ہوئے بولتی اسے پھر سے تنگ کرنے لگی
“ہاں بس مشن کی وجہ سے “
وہ فوراً سے اسے وضاحت دیتے ہوئے آگے بڑھ گیا غزلان مسکرا کر اسے دیکھنے لگ گئی
“چل جھوٹا”
مسکراتے ہوئے کہتی بھاگ کر اسکی طرف بڑھ گئی اور وہ سب اپنی اپنی کار میں بیٹھ کر یوسف ہاؤس کی جانب بڑھ گئے۔
بہزاد اور غزلان سیدھا حویلی ہی آئے تھے بہزاد روم میں چلا گیا تھا غزلان بھی اسکے پیچھے آئی
وہ کمرے میں آئی تو بیڈ سے لیٹا ہاتھ میں سگریٹ لیے اسکے گہرے گہرے کش لگا رہا تھا
غزلان اسکے پاس آئی اور اسکا بازو تھاما بہزاد جو آنکھیں بند کیے لیٹا تھا اچانک آنکھیں کھول کر اسے دیکھنے لگ گیا۔
“یہ کیا کررہی ہو تم”
وہ اپنا بازو اسکے ہاتھ سے جھٹکتے اس سے پوچھنے لگ گیا غزلان نے پھر سے اسکا بازو پکڑا۔
“زخم ہوا ہے تو مرہم کررہی ہوں یاد ہے جب پہلے دن میں اس حویلے میں آئی تھی تو مجھے بھی چوٹ لگی تھی اور تم نے مجھے مرہم لگائی تھی اب میرا فرض ہے”
وہ اسے دیکھتے ہوئے بتاتے ساتھ مریم کرنے لگ گئی اور وہ اسے دیکھنے لگ گئی۔
“ویسے اگر تم مجھے ساتھ کرتے نا اپنے اس لڑکی کی کیا ان لڑکوں کو بھی ختم کردیتی”
وہ اسے دیکھتے ہوئے اونچی آواز میں اور جوش سے کہنے لگ گئی بہزاد اسے دیکھ کر اثبات میں سر ہلانے لگ گیا۔
“تمہارا نام کلر لیڈی رکھ دینا چاہیے”
وہ اسے دیکھتے ہوئے کہنے لگا غزلان اسے دیکھنے لگ گئی اور ائبرو اچکا گئی
“کیوں”
وہ اسے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگی بہزاد تھوڑا قریب چہرہ جھکائے دیکھنے لگا
“مارنے کا شوق اور اپنی خوبصورتی سے تم لوگوں کا قتل آرام سے کرسکتی ہو”
وہ اسے دیکھتے ہوئے گھمبیر آواز میں اسکے کان میں سرگوشی کرتے ہوئے کہنے لگا غزلان اسکی بات پر لبوں پر مسکراہٹ سجا گئی۔
“یعنی میں نے آپ کا بھی اپنی خوبصورتی سے قتل کیا”
وہ آئبرو اچکاتے ہوئے مسکراتے ہوئے پوچھنے لگی جس پر وہ دور ہوا۔
“میں نے انسانوں کا کہا ہے بقول تمہارے میں انسان نہیں ہوں”
وہ اسے بولتے ساتھ وہاں سے اٹھ کھڑا ہوا اور غزلان اسے دیکھنے لگ گئی اور منہ بسور کر رہ گئی۔
“سچا دوست تو وہی ہوتا ہے نا جو آپ کے بارے میں سب کچھ جانتا ہو تو مجھے اسے سب بتانا چاہیے اگر ساتھ رہا تو واقع سچا اور نہ رہا تو پھر صرف وہ نام کا دوست ہے”
یہ کہتے ساتھ عینب کوٹ پہنتی وہ وہاں پہنتی زہرون کے فارم ہاؤس کی طرف بڑھ گئی۔
“مجھے پتہ تھا تم آؤ گی”
اسے بموجود دیکھ کر وہ مسکراتے ہوئے کہنے لگا عینب اندر آئی اور کاؤچ پر بیٹھی۔
“تم واقع جاننا چاہتے ہو”
وہ اسے دیکھتے ہوئے افسردگی سے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگی زہرون اثبات میں سر ہلا گیا۔
ماضی۔۔۔
“ع۔۔ععع۔۔عینب”
عینب کے کانوں میں اپنی والدہ کی کھانستی اور کانپتی ہوئی آواز ٹکرائی وہ فوراً صحن سے کمرے کی طرف بڑھی
“امی آپ کی حالت تو مزید بگڑ رہی ہے اگر دوا نہ لا کھائی تو زیادہ بگڑتی جائے گی”
وہ اپنی والدہ کی حالت دیکھتے ہوئے بےبسی سے بولی جس پر انہوں نے اسکے چہرے پر پیار سے ہاتھ رکھا۔
“تیرے بابا۔۔۔ تو کلب۔۔ کی۔۔بکنگ کروانے۔۔گئے۔۔ہیں۔”
وہ کانپتے لبوں کیساتھ ٹھہر ٹھہر کر الفاظ ادا کرنے لگی عینب اپنی ماں کی حالت دیکھ رونے لگ گئی۔
“امی میں جاتی ہوں میڈیکل سٹور میں”
وہ روتے ہوئے انہیں دیکھتے ہوئے کہنے لگی جس پر اسکی والدہ نے اسے منع کرنا چاہا لیکن وہ بغیر سنے چادر لپیٹتی کچھ پیسے اٹھاتی گھر سے باہر نکل گئی
گھڑی اسوقت ایک بجا رہی تھی صرف ایک ہی میڈیکل اسٹور کھلا تھا عینب نے جلدی سے دوائی کی اور واپس جانے کیلیے گلی میں مڑی تبھی سامنے سے ایک شخص نشے کی حالت میں آرہا تھا عینب تھوڑی سہم سی گئی لیکن نظریں جھکا کر چادر کو مُٹھی میں دبوچتی سائیڈ سے گزرنے لگی جب وہ شخص اسکے سامنے آکر راستہ روک گیا
“حسین دوشیزہ رک تو”
بولتے ہوئے اسکے منہ سے بو آرہی تھی اس نے عینب کے چہرے کو چھونا چاہا عینب بےبسی سے کانپتے ہوئے ہاتھ اسکی جانب بڑھایا اور گال پر ڈر کر مارا اس شخص نے طیش میں اسکا بازو پکڑ کر زمین پر پٹکا دوائی کا شاپر دور جا گرا اسکی کہنی میں چوٹ لگ گئی آنکھوں میں نمی آ گئی اور وہ غصے اور حوس بھری نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا۔
“پلیزززز۔۔پلیزززز۔۔۔جان۔۔”
وہ ابھی سسکتے اور روتے ہوئے اس سے التجا کررہی تھی جب اس نے اسکے منہ پر ہاتھ رکھ اسکو خاموش کروادیا اور اسکے ساتھ زبردستی کرنے لگ گیا۔
صبح فجر کی اذانیں ہر طرف گونج۔ رہی تھی وہ بگڑی اور بےہوشی کی حالت میں وہی زیادتی کا نشانہ بنی زمین پر پڑی تھی کچھ لوگ نماز ادا کرنے کیلیے اپنے گھروں سے نکلے تو نظر اس پر گئی۔
“لگتا ہے گھر سے بھاگی ہوئی لڑکی ہے”
ایک شخص نے کہا جس پر باقی کے مرد بھی اثبات میں سر ہلانے لگ گئے
“کیا ہوا سب خیریت ہے”
تبھی مجید صاحب کی آواز آئی تو سب آدمی مڑ کر انہیں دیکھنے لگ گئے وہ آگے آئے اور نظر عینب پر گئی جیسے انکے پیروں تلے زمین نکل گئی
“عیی۔۔عینب”
وہ اسے اس حالت میں دیکھتے ہوئے صدمے میں پہنچ چکے تھے عینب نے بھائی نے اسے اٹھایا اور ہسپتال لے گیا
ہسپتال سے اسکے باپ اور بھائی کو معلوم ہوا وہ زیادتی کا نشانہ بنی ہے لیکن انکی نظر میں عینب نے انکا ناک کٹوا دیا تھا اسے کسی کو منہ دیکھانے کے قابل نہیں چھوڑا تھا۔
“پیشنٹ کی کنڈیشن اب بہتر ہے”
ڈاکٹر انہیں دیکھتے ہوئے بتانے لگی جس پر مجید صاحب نے اپنے بیٹے کو ناگواری سے اشارہ کیا
وہ سب جیسے ہی گھر پہنچے تو عینب اسکے بھائی اور باپ کو معلوم ہوا سائرہ بیگم یعنی عینب کی ماں اس دنیا میں نہیں رہی تھی
“تیری وجہ سے ہوا ہے منہوس پیدا ہوتے ہی کیوں نہیں مار ڈالا تجھے”
وہ نفرتے بھرے لہجے میں چیخ کر بولے اپنی ماں کی موت کی خبر سن کر عینب صدمے سے زمین پر پڑی تھی۔
تبھی کچھ لوگ گھر میں داخل ہوئے آج عینب کا نکاح تھا اور یہ سب عینب کے سسرال والے تھے وہ سب کو اس حالت میں دیکھ کر پریشان ہو گئے۔
“کیا ہوا ہے عینب”
فائق عینب کے پاس بیٹھتے ہوئے پیار سے پوچھنے لگا اسکی آواز پر عینب ہوش میں آئی اور اسے دیکھا
“ہائے ہائے کیا ہوگیا سحر بیگم اس لڑکی سے کریں گے اپنے بیٹے کا نکاح جو کل سڑک پر بغیر چادر کے زمین پر پڑی تھی دو تین لوگوں کا تو کہنا ہے ایک لڑکے کیساتھ دیکھا آوارہ ہے آوارہ ہے بھلا اتنی رات کو گھر سے باہر نکلنے کا مقصد”
ایک عورت کی نظر جیسے ہی عینب پر گئی وہ فائق کی والدہ کے کان بڑھنے لگی یہ سب باتیں سن کر فائق کھڑا ہوگیا
“یہ سچ ہے کیا”
فائق اسے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگا عینب کھڑی ہوئی اسے دیکھا
“یہ سچ نہیں ہے میرا کوئی قصور نہیں اس شخص نے زبردست”
وہ روتے ہوئے بامشکل فائق کو اپنی صفائی بتارہی تھی جب اس نے اسے خاموش رہنے کا اشارہ کیا
“مجھے کچھ نہیں سننا”
وہ غصے سے بولا عینب اسے سرخ آنکھوں سے دیکھ رہی تھی وہاں موجود ہر شخص یہ تماشا دیکھنے میں دلچسپ تھا
“فائق تمہیں سننا ہوگا تم نے کہا تھا تم پیار کرتے کو شادی کرو گے”
وہ رستے اور چیختے ہوئے احتجاج بھرے لہجے میں بولی جس پر وہ ہنسنے لگ گیا۔
“شادی اور تم جیسی کریکٹر لیس لڑکی سے میرے اتنے برے دن نہیں آئے تم میرے قابل کیا تم کسی مرد کے قابل نہیں”
وہ اسے سب کے سامنے ذلیل کرتے ہوئے چیختے ہوئے کہنے لگا اور اپنے خاندان والوں کو لیتا چلا گیا
وہ پھر سے روتے سسکتے واپس زمین پر بیٹھ گئی
“اٹھ نکل جا اس گھر سے اس گھر میں رہنے کا کوئی حق نہیں”
تبھی مجید صاحب نے اسے بازو سے اٹھا کر دھکا دیا تو دروازے سے جا لگی
“ابا پلیزز میرا یقین کریں کوئی قصور نہیں ہے میرا”
وہ اپنے باپ کے پیروں پر گرتے ہوئے روتے ہوئے کہنے لگی جس پر انہوں نے اپنے پیر پیچھے کیے
“اسے دھکے دے کر نکال دو اور دروازہ بند کردو ۔میری آج سے کوئی بیٹی نہیں”
واندر جاتے ہوئے اپنے۔ بیٹھ سے کہتے چلے گئے عینب کے بھائی نے زبردستی اسے اٹھایا اور گھر سے باہر نکالنے لگا
“پلیزز نہ نکالیں میں کہاں جاؤ گی ہے کون میرا “
وہ چیختے روتے ہوئے التجا کررہی تھی مگر اسکی سننے والا کوئی نہیں تھا اور اسکے بھائی نے گھر سے نکال کر دروازہ بند کردیا
اور اس ایک رات نے عینب کی زندگی بدل کر رکھ دی۔
حال
“ہر انسان کو صرف باتیں بنانے آتی ہیں کوئی کسی کی بےبسی یا مجبوری نہیں دیکھتا”
عینب روتی آنکھوں سے زہرون کو دیکھنے ہوئے بتانے لگی زہرون اسکی کہانی سن کر رو دیا تھا
زندگی میں پہلی دفعہ اس لڑکی نے زہرون کو روکا دیا تھا زہرون نے اسکے آنسو صاف کیے وہ اسے دیکھ رہی تھی۔
جاری ہے۔
