Black Love By Mahnoor Shehzaad Readelle50302 (Black Love) Episode 11
Rate this Novel
(Black Love) Episode 11
زرمیش کے جانے کے بعد زہرون اور عینب وہی صوفے پر بیٹھے تھے عینب بہت زیادہ پریشان تھی۔
“زہرون مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے کہیں رویش کیساتھ کوئی کچھ کرنہ لیں”
وہ اسے دیکھتے ہوئے انتہائی فکرمند لہجے میں بولی زہرون نے اسے دیکھا
“تم کیوں بھول رہی ہو وہ ایک بریو لڑکی ہے وہ اپنے ساتھ کچھ غلط نہیں ہونے دے گی”
زہرون اسے دیکھتے ہوئے تسلی بخشنے لگا عینب اثبات میں سر ہلا گئی۔
“کاش میں بھی اسوقت ایک بریو گرل ہوتی”
عینب آنکھوں میں نمی لیے نظریں سامنے مرکوز کیے کہنے لگی زہرون نے اسے دیکھا۔
“کیا مطلب”
وہ اسے دیکھتے ہوئے پریشانی سے پوچھنے لگا عینب نے اسے دیکھا۔
“میرا ماضی بہت زیادہ بھیانک ہے جوابھی بھی میرے خواب میں آکر مجھے خوف دلواتا ہے”
وہ آنکھوں میں نمی لیے زہرون کو جواب دینے لگی زہرون کے ماتھے پر بل نمودار ہوئے۔
“کیا ہوا تھا تمہارے ماضی میں شئیر کرو”
وہ اسے دیکھتے ہوئے فوراً اسکے پاس گھٹنوں کے بل بیٹھتے ہوئے پوچھنے لگا جس پر عینب نے اسے دیکھا
اس سے پہلے وہ کچھ بولتی تبھی فون بجا عینب اور زہرون کا دھیان فون کی طرف گیا۔
“کون”
آن ناون نمبر سے آتی کال وہ اٹینڈ کرتی پریشانی سے پوچھنے لگی زہرون اٹھ کھڑا ہوا
“عینب میں رویش”
رویش کہ آواز جیسے ہی کانوں سے ٹکرائی اسکی پریشانی جیسے ختم ہو گئی
“کہاں ہو تم کیسے ہو “
عینب کے لہجے میں پریشانی فکرمندی سب صاف ظاہر تھی
“میں ٹھیک ہوں کل آجاؤ گی تم فکر مت کرو”
رویش نے اسے بتایا عینب اس سے پہلے کچھ بولتی مگر دوسری طرف سے فون کٹ ہوگیا۔
“اللہ تیرا لاکھ لاکھ شکر ہے وہ ٹھیک ہے”
عینب کو اب سکون سا محسوس ہوا تھا وہ جتنی بری جتنی پتھر دل بنتی تھی دل میں ان سب کو اپنا سمجھتی تھی
“کہا تھا میں نے”
زہرون اسے دیکھتے ہوئے کہنے لگا جس پر عینب مسکراتے ہوئے اثبات میں سر ہلا گئی
“چلو اب تم چلے جاؤ تمہیں بھی نیند آرہی ہوگی”
عینب فون رکھ اسے دیکھتے ہوئے کہنے لگی زہرون اثبات میں سر ہلا گیا اور وہ اپنے کمرے کی طرف قدم بڑھا گئی۔
“جتنی مرضی بری بن جاؤ مگر تم ایسی نہیں ہو مس عینب”
وہ اسے جاتا دیکھ کر دل میں کہتا جیب میں ہاتھ ڈالے وہاں سے باہر کی جانب قدم بڑھا گیا
رویش کا معلوم ہوتے ہی جیسے دونوں وہ بات بھول ہی گئے جو کررہے تھے۔
بہزاد بہت تیزی سے گاڑی سڑک پر دوہرا رہا تھا غزلان خاموشی سے کبھی ادھر تو کبھی ادھر دیکھ رہی تھی کیونکہ اس نے بولنے سے صاف منع کیا ہوا تھا۔
“اچھی لگ رہی ہو”
بہزاد نے پہلی دفعہ خود اسے مخاطب کیا غزلان نے اسے دیکھا
“میں تو بلکل سمپل ہوں کہاں سے پیاری لگ رہی”
وہ اسے دیکھتے خود پر ایک نظر ڈالتے ہوئے کہنے لگی بہزاد نے بالوں میں ہاتھ پھیرا
“خاموش بیٹھی”
وہ اسے دیکھے بغیرجواب دینے لگا غزلان نے بہت برا منہ بسورا اور سامنے دیکھنے لگ گئی۔
“اسٹاپ”
وہ ایک چیختے ہوئے کہنے لگی بہزاد نے فوراً بریک پر پیر رکھ کر اسے دیکھا۔
“کیا”
وہ ائبرو اچکا کر اسے دیکھ سنجیدگی سے پوچھنے لگا جب وہ اسے کوئی جواب دیے بغیر گاڑی سے اتر کر اس چھوٹے سے بلی کے بچے کو دیکھنے لگ گئی۔
“تمہیں لگی تو نہیں”
وہ اسے اپنے ہاتھوں میں اٹھائے پیار سے بولی بہزاد اسے ہی دیکھ رہا تھا اس نے سیٹ سے اپنا سر ٹکا دیا
“چلو دھیان سے چلی جاؤ”
وہ اسکے بالوں پر ہاتھ کر نیچے اتار کر بولی اور واپس گاڑی کی طرف آئی بہزاد نے سرد نگاہوں سے اسے دیکھا۔
“انسان ڈرائیونگ پر دھیان دے اگر ابھی وہ گاڑی کے نیچےآ جاتا تو”
وہ اسکے غصے کو اگنور کرتی اپنا غصہ اس پر ظاہر کرکے احساس بھرے لہجے میں بولی۔
“مجھے کہیں سے تم ایک کلر گرل لگتی “
وہ اسے دیکھتے ہوئے سختی سے کہنے لگا جس پر غزلان کے چہرے پر فوراً سنجیدگی در آئی۔
“میں خطرناک بروں کیلیے ان جانوروں یا بے گناہ انسانوں کیلئے”
وہ انتہائی سنجیدگی سے اسے دوٹوک جواب دیتے ساتھ باہر کی جانب دیکھنے لگ گئی بہزاد نے خاموشی سے گاڑی اسٹارٹ کردی۔
“میم آپ کے لیے کھانا لائی ہوں کھا لیں آپ نے کچھ بھی نہیں کھایا ہوا بیس گھنٹے ہونے والے ہیں”
میڈ کمرے میں آتے ڈش اسکے سامنے رکھتے ہوئے کہنے لگی رویش نے اسے دیکھا۔
“سمجھ نہیں آتی ایک بات بھوک نہیں ہے مجھے کہاں ہے تمہارا سر”
وہ چیختے ہوئے اسے دیکھتے ہوئے بولی میڈ سہم گئی تبھی خان نے کمرے میں قدم رکھا
“افف اللہ اتنا غصہ”
وہ اس پر نظریں مرکوز کیے کہنے لگا رویش اٹھ کر فوراً اسکے مقابل میں کھڑی ہوئی
“مجھے ابھی اسی وقت گھر جانا ہے”
وہ لفظ چبا چبا کر اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے کہنے لگی خان کے لبوں پر مسکراہٹ آئی۔
“شام کو اور اگر جانا ہے تو خاموشی سے کھانا کھاؤ ورنہ تمہیں ساری زندگی بھی یہاں رکھ سکتا ہوں”
وہ سادہ سے لہجے میں اسے کہتے ساتھ وہاں سے چلا گیا اسکے لہجے سے اسکی میڈ بھی حیران تھی رویش اسے دیکھنے لگ گئی۔
“جاؤ”
رویش بیڈ پر بیٹھ کر میڈ کو دیکھتے ہوئے کہنے لگی جس پر وہ خاموشی سے چلی گئی اور رویش کو مجبوراً کھانا کھانا پڑا
خان کھڑکی سے کھڑا اسے دیکھ رہا تھا اسے کھانا کھاتا دیکھ نا چاہ کر بھی لبوں پر مسکراہٹ آئی۔
“یہ خان سر ہے نا”
اسکی سرونٹ اسے مسکراتا دیکھتے ہوئے فکرمندی سے دوسری سرونٹ کو مخاطب کرکے پوچھنے لگی جس پر وہ بھی حیرت زدہ سی اثبات میں سر ہلا گئے
وہ دونوں پہنچ چکے تھے فجر کی اذانوں کی آواز ہر جگہ گونج رہی تھی۔
“جاتے ہوئے کتنا زیادہ ٹائم لگا آتے ہوئے بلکل نہیں”
وہ اسے دیکھتے ہوئے حویلی پر نظریں کیے بولی جس پر وہ اسے دیکھنے لگا۔
“میرے خیال سے میں نے گاڑی کافی اسپیڈ سے چلائی”
وہ اسے جواب دیتے ساتھ گاڑی سے اتر گیا غزلان بھی اتری اور دونوں حویلے میں داخل ہوئے۔
“ریاض کہیں نہیں نظر آرہا ہے”
وہ اسے دیکھتے ہوئے حویلی پر نظر گھمائے کہنے لگی بہزاد صوفے پر بیٹھا۔
“چھٹیوں پر ہو وہ”
وہ اسے جواب دیتے ساتھ پانی کا گلاس لبوں سے لگا گیا غزلان بھی اسکے ساتھ آکر بیٹھی
“پیاس بھی لگتی ہے آپ کو”
وہ مسکراتے ہوئے حیرت زدہ سے انداز میں پوچھنے لگی بہزاد نے گلاس منہ سے ہٹایا اور اسے دیکھا
“میرے خیال سے میں انسان ہوں”
وہ سخت لہجے میں گلاس ٹیبل پر رکھتے ہوئے بتانے لگا غزلان اثبات میں سر ہلا گئی۔
“لگتے نہیں ہے نا”
وہ اسے دیکھتے ہوئے بڑی سنجیدگی سے بولی جس پر وہ نفی میں گردن ہلا کر جانے لگا
“آہہہہہ”
غزلان کی چیخ سے بہزاد کے بڑھتے قدم ایکدم رکے اس نے مڑ کر اسے دیکھا
“الو بنایا بڑا مزا آیا”
وہ بولتے ساتھ اونچا قہقہ لگا کر ہنسی اور بہزاد نے غصے سے اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرا
“مان لے مسٹر بہزاد فکر ہے آپ کو میری”
وہ بالوں میں اسی کی طرح ہاتھ پھیرے اسکے بلکل سامنے کھڑی بولی بہزاد نے سر نگاہیں اسکے چہرے جماتے ہوئے اسکی جانب قدم آگے بڑھائی اسکی گرم سانسوں کی تپش خود پر محسوس کرکے غزلان بےبس ہورہی تھی۔
“لاسٹ ٹائم کہ رہا ہوں دور رہو سمجھی اور مت بھولو یہ نکاح ہے صرف کاغذی ہے”
وہ اسے دیکھتے ہوئے سرد لہجے میں کہنے لگا اسکی بات پر غزلان خوف میں مبتلا ہونے کے بجائے لبوں پر مسکراہٹ سجائے اسے دیکھنے لگ گئی۔
“سب یاد ہے مگر اس دل کے ہاتھوں مجبور ہوں “
وہ چہرے پر مسکراہٹ سجائے انتہائی معصومیت سے کہنے لگی جس پر وہ بغیر کچھ کہے کمرے کی جانب بڑھنے لگا غزلان پیچھے کھڑی مسکرائی
“سنیں مجھے ڈر لگے گا اتنی بڑی حویلی میں آج تو ریاض بھی نہیں ہے اگر میں آج آپ کے رام میں سوجاؤ”
وہ اسے جاتا دیکھتے ہوئے بولی جس پر اسکے قدم رکے اور کچھ کہے بغیر خاموشی سے کمرے کی جانب بڑھا گیا۔
“یس”
اسکی خاموشی کا مطلب ہاں میں سمجھتی خوشی سے کہتی اسکے پیچھے کمرے کی طرف ۔آئی
“تم میرے خاص بندوں میں ہو اور یہ تمہارا انعام”
وہ اسے کچھ پیسے تھماتے کہنے لگا یونیب کے لبوں پر مسکراہٹ آئی۔
“شکریہ سر”
وہ پیسے جیب میں رکھتے ہوئے اسے شکریہ ادا کرتا وہاں سے باہر کی جانب قدم بڑھا گیا۔
“سمجھو آدھے سے زیادہ کام ہوگیا ہے”
یونیب باہر آتے ساتھ فون کان سے لگائے انتہائی دھیمی آواز میں بولتے ساتھ دوسری جانب موجود شخص کی بات سن کر فون فوراً بند کرگیا اور جیب سے سگریٹ نکال کر لبوں سے لگا گیا۔
“جی یوسف صاحب”
وہ یوسف صاحب کی آئی کال کو اٹینڈ کرتے ہوئے پوچھنے لگا
“رویش تمہارے ساتھ ہے کیا”
یوسف صاحب فکرمند لہجے میں اس سے پوچھنے لگے یونیب نے ایک نظر فون پر ڈالی اور ریسٹورنٹ والا منظر آنکھوں کے سامنے آیا
“نہیں پارٹی کے بعد ہماری کوئی ملاقات نہیں ہوئی”
یونیب نے فوراً نارمل لہجے میں بڑی صفائی سے جھوٹ بولا جس پر وہ اچھا کہ کر کال ڈسکنیکٹ کر گئے۔
اوہ وہ اس رات کی تاریکی میں سگریٹ کے گہرے گہرے کش لگائے اپنے اندر سکون اتار رہا تھا۔
“شام ہو چکی ہے مجھے جانا ہے اب میرے گھر”
جیسے ہی خان اسکے کمرے میں آیا رویش فوراً اٹھتے ہوئے اسے بولی
“مجھے ایک ضروری کام سے جانا ہے ہم کل صبح نکلے گے”
وہ سنجیدگی سے اسے جواب دیتے ساتھ وہاں سے جانے لگا روش اسکی جانب قدم بڑھانے لگی
“کیا مطلب ہے مسٹر میں تمہیں جان سے بھی مار سکتی ہوں “
وہ طیش میں آتے ہوئے چیختے ہوئے اسے بولی اس نے مڑ کر اسے دیکھا
“کھانا کھا لینا رات کا کل ہم پکا جائیں گے”
وہ ناچاہتے ہوئے بھی اپنا لہجہ تھوڑا سرد کرتے ہوئے حکم دینے والے انداز میں کہنے لگا رویش نے فوراً جیب میں ہاتھ مار کر گن نکالی اور اسکے سر تان دی
“کیا کرنا چاہتے ہو تم میرے ساتھ مجھے معمولی یا بیوقوف لڑکی سمجھنے کی ہرگز کوشش میں کرنا “
وہ آنکھیں بند سرخی لیے سخت لہجے میں اسے دیکھتے ہوئے کہنے لگی ناچاہ کر بھی خان کے لبوں پر مسکراہٹ آئی۔
“دھوکہ نہیں دوں گا صبح تک اگر نہ پہنچایا تمہیں تمہارے گھر تو جس چاہے کرلیا میرے ساتھ”
وہ اسکی گن نیچے کرتے ہوئے نرمی سے کہتے ساتھ اسکی گال تھپتھپاتے ہوئے وہاں سے باہر جانے لگا
“اگر کل صبح نہ پہنچایا تو واقع تمہاری جان لے لوں گی”
وہ اسے جاتا دیکھ فوراً سے کہنے لگی جس پر خان اثبات میں سر ہلا کر کمرے سے چلا گیا۔
“مجھے چکر آرہے ہیں یہ خان سر ہی ہے نا”
اسکی میڈ دن بدن خان کے رویے سے حیرت زدہ سی ہورہی تھی
“ہاں جو سامنے والے کی ایک نہیں سنتے وہ اس لڑکی اتنی باتیں کیسے برداشت کررہے ہیں”
ساتھ موجود سرونٹ میڈ کو سنبھالتے ہوئے پریشانی سے کہنے لگی۔
“کھانا پہنچاؤ”
تبھی خان کی زرد آواز دونوں کے کانوں سے ٹکرائی وہ فوراً سیدھی ہوکر کھڑی ہوگئی۔
“خیر تو ہے اتنی صبح صبح مسٹر”
وہ اسے دیکھتے ہوئے حیرت سے کہنے لگی زہرون کے چہرے پر مسکراہٹ آئی
“ہم کل کوئی بات کررہے تھے میرے خیال سے”
وہ اسے دیکھتے ہوئے مسکرا کر یاد دلانے لگا عینب رات یاد کرتے ہوئے ایکدم گھبرائی
“ناشتہ لگ چکا ہے آجائیں”
میڈ آتے ہوئے ان دونوں کو کہنے لگی جس پر عینب اثبات میں سر ہلا کر ڈائننگ ٹیبل کی جانب چلی گئی زہرون کو بھی خاموشی سے جانا پڑا لیکن عینب سے وہ بات کرکے ہی رہے گا یہ طہ کرچکا تھا۔
وہ دونوں ناشتے کی میز پر موجود تھے زہرون کی نظریں اسی پر مرکوز تھی اور عینب بھی اسے دیکھ رہی تھی۔
“اموشنل ہوکرمیں نے اپنا پاسٹ بولنے تو لگی لیکن اب مجھے بتاتے ہوئے ڈر لگ رہا ہے”
وہ دل میں بولتی جوس کا گلاس لبوں سے لگا گئی اور اسکی نظروں سے کنفیوز ہوتی نظریں جھکا گئی۔
“پتہ نہیں کیوں میں تمہیں کھونے سے ڈرنے لگی ہوں”
وہ نظریں جھکائے ٹوسٹر پر نظریں مرکوز کیے بولی یوسف صاحب نے زہرون کو پکارا۔
“جی انکل میں کھا رہا ہوں”
وہ ہوش میں آتے ساتھ فوراً بولتا ناشتے کرنے لگ گیا۔
وہ بیڈ پر لیٹا ہوا تھا اور وہ فجر کی نماز ادا کرنے میں مصروف تھی نظریں غزلان پر ہی مرکوز تھی اسلام پھیر کر اس نے آئبرو اچکا کر اسے دیکھا
“لائٹ آف ہوگی”
وہ اسے دیکھتے ہوئے سختی سے کہنے لگا جس پر وہ اسے اگنور کرتے ہوئے دعا کیلیے ہاتھ اٹھائے در مانگنے میں مصروف ہوگئی
پانچ مسلسل دعا مانگتی وہ جائے نماز اٹھا کر جگہ پر رکھتی کاؤچ پر آ گئی۔
“لائٹ آف”
وہ جو چہرے پر ہاتھ رکھ اسکی دعا ختم ہونے کا انتظار کررہا تھا فوراً سے اسے اپنے سے ہاتھ ہٹا کر اسے دیکھا اور بولا
“کردیں نا آپ مجھے بہت نیند آرہی ہے”
وہ اسے دیکھے بغیر اپنے پر بلینکٹ ڈالتے ہوئے بولی جس پر وہ غصے سے اٹھا اور اسکے کاؤچ کی جانب قدم بڑھایا
“کیا”
وہ آنکھوں میں خوف لیے اسے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگی ہارٹ بیٹ مس ہوئی وہ اپنا چہرہ اسکے قریب کیے سائیڈ پر ہاتھ رکھتا سوئچ بورڈ سے لائٹ آف کرگیا غزلان آنکھیں بند کر گئیی۔
“گڈ نائٹ”
وہ کہتے ساتھ واپس بیڈ پر چلا گیا غزلان نے آنکھیں کھولی تو کمرا تاریکی میں ڈوبا ہوا تھا اس نے آنکھوں میں حیرت سے جاؤں کی لیفٹ سائیڈ پر دیکھا جہاں سوئچ بورڈ موجود تھا
“ہر چیز ہی عجیب”
وہ منہ بنائے خود سے بولتی ایک نظر بہزاد پر ڈال کر بلینکٹ ٹھیک کرتی آنکھیں بند کر گئی۔
جاری ہے۔
