Barish by Jameela Nawab Readelle 50375 Barish Episode 8
Rate this Novel
Barish Episode 8
Barish by Jameela Nawab
سفورا آج پھر اوپر والے کمرے میں گئی تھی وہ مناہل کو ایک لمحہ بھی برداشت نہیں کر سکتی تھی مگر وہ باجی کے اس خاص عمل کے لئے مناہل کے زندہ وجود کے مطالبے کی وجہ سے اسے زندہ رکھنے پر مجبور تھی ۔۔۔
وہ کمرے میں آئی تو ایک بار پھر گندی بد بو نے اس کا سواگت کیا تھا ۔۔
وہ ناک پر دوپٹہ باندھ کر اب اس کمرے میں موجود تابوتوں کو باری باری کھول رہی تھی
وہ آنکھیں بند کر کے کچھ پڑھتی اور ایسا تاثر دیتی جیسے اسے کوئی خبر ملی ہو ۔۔۔
“اچھا ۔۔۔تو بات اس حد تک بڑھ گئی ہے ۔۔۔۔۔چلو بتاتی ہوں آج باجی کو ۔۔۔”
وہ اس کانچ کی بوتل سے وہ خاص پانی ان دو تابوتوں میں چھڑک کر ان کو کچھ دیر دیکھتی اور مکرو قہقہ لگاتی ۔۔۔۔
اس وقت عصر کا وقت تھا وہ کچھ دیر وہاں بیٹھ کر نیچے آئی تھی مناہل صحن میں بیٹھی بارش کو دیکھتے ہوۓ جائے نماز پر بیٹھی تسبیح کر رہی تھی ۔۔۔۔
سفورا اس کے پاس آ کر بیٹھی تھی اس کی نظر میں نفرت تھی جو سفورا چاہ کر بھی چھپا نہیں پا رہی تھی
مناہل نے مسکرا کر سفورا کی طرف دیکھا تھا
“بہت تیز سمجھتی ہو خود کو تم؟؟؟تم اپنی اوقات مت بھولو ۔۔۔۔۔۔۔تم تو وہ ہو جیسے اس کے پیدا کرنے والے نے بھی نہیں اپنایا ۔۔۔۔۔ناجائز اولاد ۔۔۔۔۔۔گالی ۔،۔۔۔۔گالی ہو تم ۔۔۔۔۔تم کیا سمجھی ایک گالی کو میں اپنے بیٹے کو اپنے سر پر سجانے دے دوں گی ؟؟؟؟”
مناہل کا رنگ فق ھوا تھا وہ تسبیح کرنا بھول گئی تھی اس تیز بارش میں بھی اس کو پسینہ آنے لگا تھا ۔۔۔اس کا جسم تپنے لگا تھا ۔۔۔
“امی ۔۔۔۔آپ ۔۔۔۔”
“خبردار جو مجھے امی کہا ۔۔۔۔پتہ نہیں کس کا گناہ ہو اور مجھے ماں بلاتی ہو ؟؟؟آخری بار سمجھا رہی ہوں دور رہو میرے بیٹے سے ۔۔۔سنا تم نے ؟؟؟”
وہ مناہل کو انگلی دیکھا کر دھمکی دے کر بولی تھی مناہل دم سادھے ان کا یہ رنگ جذب کرنے کی کوشش کر رہی تھی
“اور ہر وقت جائے نماز پر مت بیٹھی رہا کرو ۔۔۔کس بات کی شکر گزاری ہے جو ختم نہیں ہوتی ؟؟؟آخر تمہیں دیا ہی کیا ہے تمہارے اللّه نے ؟؟؟دھبہ بنا کر تمہیں پیدا کیا،پھر نفرت آميز ماحول میں تم بچپن سے جوانی تک پروان چڑھی پھر اس پورے سفر میں ایسی کونسی بات ہے جس پر تم سجدے کرتے نہیں تھکتی؟؟؟؟؟”
سفورا نے مناہل کو اپنے دونوں ہاتھوں سے جنجھوڑ کر چیختے ہوۓ پوچھا تھا
“کیوں کہ وہ ذات ہے ہی عبادت کے قابل،ایک وہ ہی ہے جو اس بات کا حق رکھتا ہے کہ اسے سجده کیا جائے”
“اور رہی بات شکر کی تو کوئی بھی مسلمان تب تک نماز نہیں پڑھ سکتا جب تک وہ ذات اسے اس شرف کے قابل نہیں سمجھتی”
مناہل نے سینہ تان کر کہا تھا
“کچھ تو مجھ میں بھی ایسا ہے نا جو وہ مجھے ایک ناجائز،ایک گالی کو سجدے كی توفيق دیئے ہوۓ ہے،وہ توفيق جو بہت سے عزت دار ۔۔۔۔جائز….اور منتوں مرادوں سے پیدا انسانوں کو نہیں ہے ۔۔۔”
مناہل نے جائے نماز سے اٹھتے ہوۓ کہا تھا وہ رکی تھی
“اس کا مطلب یہ ہوا ۔۔۔۔سعد کی جنت ۔۔۔۔۔۔کہ میرا رب مجھے گالی نہیں سمجھتا ۔۔۔۔۔وہ مجھے عزت دیتا ہے ۔۔۔۔جب اس پورے جہان میں ایک وہ ہی ذات مجھ سے ملاقات کو پسند فرماکر مجھے سجدے پر بلاتی ہے تو اس سے بڑی بھی کوئی بات ہو سکتی ہے اس کی شکر گزاری اور احسان مندی کی ؟؟؟؟”
“جب میں یہ سوچتی ہوں تو میرا دل وہ سب تلخیاں اور نفرتیں بھلا دیتا ہے ۔۔۔۔پھر بس یاد رہتا ہے تو بس اتنا کہ میں اپنے رب كی نظر میں خاص ہوں ۔۔۔۔اور جب بندہ دونوں جہاں کے مالک کی نظر میں کوئی مقام پا لے تو پھر اسے اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ دنیا والے کم ظرف انسان اس کے بارے میں کیا سوچتے ہیں”
“میری ماں جو بھی تھی ۔۔۔میں اتنا جانتی ہوں وہ ضرور بہت مجبور رہی ہوگی ۔۔۔۔اپنے گھر والوں کی عزت بچانے کی خاطر اس نے مجھے خود سے الگ کیا ہوگا ۔۔۔۔میں نے پیدا ہوتے ہی اپنی ماں کی عزت بچا لی ۔۔۔۔میں اس بات پر شکر گزار ہوں ۔۔۔۔۔اور وہ عظیم بیوہ عورت جس نے مجھے پالا ۔۔۔۔۔وہ مجھے نفرت سے ہی سہی مگر میری ہر ضرورت پوری کرتی تھی ۔۔۔۔میں اس گھر میں تھی تو اس کی سونی گود اس کو بے چین نہیں رکھتی تھی ۔۔۔ وہ مجھے کہہ سن کر اپنا دل ٹھنڈہ کر لیتی ۔۔۔۔۔وہ مجھ سے محبت نا کر سکی ۔۔۔مگر میں نے اس کی محرومی کو ختم کر دیا ۔۔۔۔کوئی مجھے جیسے ہی دیکھتا اسے یہی کہتا ۔۔۔تم اکیلی نہیں ہو خالدہ ۔۔۔یہ بچی تمہارا سہارا ہے ۔۔۔۔۔۔میں کسی کے زخموں کا مرحم کسی کا سہارا بنی ۔۔۔یہ بات رب کی شکر گزاری کے لئے کافی نہیں ؟؟؟”
سفورا کو مناہل سے اس حاضر دماغی کی امید نہیں تھی اب كی بار پسینے کی ننھی بوندیں سفورا کے چہرے پر نمودار ہوۓ تھے
“اگر ظرف کے ساتھ سوچا جائے تو اللّه نے جہاں ہمیں بہت سی آزمائشوں میں ڈالا ہوتا ہے وہاں اتنا کچھ دیا بھی ہوتا ہے کہ اگر اس کو ہم گننے بیٹھ جایئں تو محرومیاں اسی وقت دم توڑ دیتی ہیں”
“ساری بات یہاں جمع تفریق کی ہے امی”
مناہل کن پٹی پر ہاتھ رکھ کر اشارہ
کرتے ہوۓ بولی تھی
سفورا کا دل کر رہا تھا سیدھا سیدھا گلا دبا کر مناہل کو ختم کر دے ۔۔۔
مناہل کچن میں جا چکی تھی ۔۔
سفورا چادر اوڑھ کر چھتری لئے باجی كی طرف نکل گئی تھی
باجی کا گھر آج بھی اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا سفورا خود کو تیز بارش سے بچاتی ہوئی بہت آہستہ چل رہی تھی مگر اسی زیادہ احتیاط میں اس کا پاؤں بری طرح پهسلا تھا وہ منہ کے بل گری تھی زیادہ چوٹ نہیں آئی تھی مگر پاس سے گزرتے کچھ لوگوں نے اس کو اس طرح گرتا دیکھ کر بے اختیار قہقہ لگایا تھا وہ غصے سے لال پيلی ہوتی دروازہ زور زور سے پیٹنے لگی تھی
باجی نے دروازہ کھولنے میں کچھ وقت لیا تھا اور اسے غصے سے گھورا تھا
وہ کیچڑ میں لت پت تھی وہ صحن میں لگے ہاتھ والے نلکے سے خود کو دھونے لگی تھی جبکہ باجی اندر کمرے میں چلی گئی تھی
“باجی کوئی ایسا عمل دو مجھے جس سے میں بس ایک پھونک میں ہی ان تمام انسانوں کی جان لے لوں جو مجھے برے لگتے ہیں”
سفورا خود کو جھاڑتی حقارت سے بولی تھی
“هاهاهاهاهاها ۔۔۔۔”
باجی کا طنزیہ قہقہ بلند ہوا تھا
“ارے یہ کیسی خواہش ہے ؟؟؟؟ہم شیطان کو جتنا بھی راضی اور خوش کر لیں ۔۔۔کسی کی جان لینے کا اختیار نہیں ہے ہمارے پاس ۔۔۔ ہاں بس ہم وسيلہ ضرور بن جایا کرتے ہیں اس انسان کو مارنے كا جس كی موت اللّه لکھ دیتا ہے”
“باجی کالا علم بہت طاقت رکھتا ہے اور آپ اس کی بے تاج ملكہ ۔۔۔یہ نا امیدی ؟؟؟خیریت ہے ؟؟”
سفورا نے پریشانی سے پوچھا تھا
“تجھے منع کیا تھا کہ بہو کو نماز سے باز رکھ پھر ہی بات آگے بڑھ پائے گی ۔۔۔کل پھر میرا جسم جلا ہے جیسے ہی تیری بہو پر کام شروع کیا ۔۔ “
“تو باجی اب نماز سے باز کیسے رکھوں اسے ؟؟؟”
سفورا نے بے بسی سے پوچھا تھا
“موبائل نہیں ہے اس کے پاس ؟؟؟”
باجی نے حیرت سے پوچھا تھا
“نہیں ۔۔۔وہ تو نہیں ہے ۔۔ “
سفورا نے جواب دیا تھا
“پھر اسے موبائل لے کر دو ۔۔۔ اور نیٹ بھی ۔۔۔ پھر دیکھنا ۔۔۔۔۔نماز کو اسے بھولے گی کہ ۔۔۔۔مت پوچھ ۔۔۔”
“جانتی ہے سفورا اس کو نیٹ کیوں کہتے ہیں ؟؟؟”
سفورا نفی میں سر ہلا کر قریب ہوئی تھی
“کیوں کہ یہ ایک جال ہے ۔۔۔ایسا جال جس میں کب مسلمان داخل ہوا،کب وہ اس میں پھنسا اور کب وہ اس کا شکار ہو گیا یہ وہ کبھی نہیں جان پاتا ۔۔
“آج کے مسلمان کا صریح اور کھلا دشمن اس کے ہاتھ میں ہوتا ہے جسے وہ آکسیجن كی طرح اپنے ساتھ ساتھ رکھتا ہے ۔۔۔اب تو کسی کو دین اور دنیا سے بیگانہ کرنا ہو تو اسے قیمتی اور جدید موبائل کا تحفہ دے دو اور اسے جہنم کا ایندھن بنا دو ۔۔۔۔هاهاهاهاهاها ۔۔۔۔وہ اتنا گمراہ ہو جائے گا کہ نمازوں کے اوقات بھول جائے گا پڑھنا تو دور ۔۔۔۔۔سنا تھا ہر انسان کے ساتھ ایک شیطان ہوتا ہے جو ہر وقت اس کو برائی پر اکسانے کے لئے ساتھ ساتھ رہتا ہے ۔۔۔۔اب تو وہ شیطان موبائل كی صورت نظر آنے لگا ہے ۔۔ هاهاهاهاها ۔۔۔۔۔اب نہیں بچے گی یہ نئی نسل ۔۔۔۔۔بہت جلد وہ وقت آنے والا ہے سفورا جب کسی کو تباہ کرنے کے لئے ہم جیسے عاملوں کو منتر ٹونوں كی ضرورت نہیں پڑے گی ۔۔۔آج کا مسلمان اپنے ہاتھ سے اس موبائل کے ہاتھوں نیست و نابود ہو جائے گا ۔۔۔۔ هاهاهاهاهاها ۔۔۔۔۔۔یہ موبائل تو ہمارا اور شیطان کا چیلا ہے چیلا ۔۔۔۔۔آدھا کام تو یہ کر دیتا ہے ہمارا ۔۔۔۔۔ہم نے تو بس بوسيده دیوار کو ایک پھونک مار کر گرانا ہوتا ہے ۔۔۔۔”
“یہ شیطانی آلہ صرف مسلمان کا ہی نہیں پوری انسانیت کا دشمن ہے،بچہ اس کی خطرناک شعاعوں سے آہستہ آہستہ اپنے ہر جسمانی عضاء سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے۔۔۔پہلے نظر ۔۔۔پھر اس کی اچھائی اور برائی میں فرق کی حس ۔۔۔اس کے دماغ کو دیمک لگ جاتی ہے ۔۔۔۔دل خوشی اور ذہنی سکون کی تلاش میں اخلاقیات کی ہر حد پار کر دیتا ہے مگر جسم کو سکون نہیں ملتا کیوں کہ سکون کا تعلق روح سے ہے ۔۔۔۔اور کسی بھی كلمہ گو کی روح ایسی شیطانی کاموں میں کبھی بھی پر سکون نہیں ہو سکتی ۔۔۔۔پھر وہ موبائل کا استعمال اور بڑھا دیتا ہے مگر ایک وقت آتا ہے وہ شیطانی آلہ بھی اسے خوشی نہیں دے پاتا ۔۔۔پھر وہ ذہنی بیماری جیسے لوگ ڈیپریشن کا نام دیتے ہیں اس کا شکار ہو جاتے ہیں ۔۔۔۔حد تو تب ہوتی ہے جب وہ سادہ اور فطری گناہ کر کے بھی ذہنی تسکین سے محروم رہتے ہیں پھر وہ اسی خوشی کی تلاش میں اسی گناہ میں رشتوں اور عمروں کا تقدس پامال کرنے لگتے ہیں جس کا ثبوت آئے روز نابالغ بچوں کا اپنے محرم رشتوں اور بڑی عمر کے لوگوں کا اپنی تیسری نسل کی عمر کے برابر کم سن اور نابالغ بچوں کے ساتھ بد فعلی کرنا ہے ۔۔۔مگر سکون پھر بھی نہیں ملتا ۔۔۔۔آخر کار وہ اس ذہنی آسودگی کی تلاش میں نشے کا سہارا لینے لگتے ہیں پھر ان کی زندگی اور موت میں فرق کم رہ جاتا ہے ۔۔۔۔جو لوگ نشے کا سہارا نہیں لیتے وہ ۔۔۔۔اس کی دوسری صورت ۔۔۔۔خود کشی ۔۔۔کو اپنا لیتے ہیں ۔۔۔دیکھا سفورا ۔۔۔کتنی مدد گار چیز ہے یہ موبائل ہم جیسے شیطانی لوگوں کے لئے ۔۔۔۔
بس دس دن کی بات ہے ۔۔۔دس دن تک اس کا اپنے رب سے رابطہ توڑ ۔۔۔۔بس ادھر میں عمل مکمل کر لوں گی ۔۔۔۔پھر جو حالت اس کی ہو جائے گی ۔۔۔اس میں وہ اپنا ہوش کھو دے گی ۔۔۔اللّه اور نماز کو تو چھوڑو ۔۔۔۔۔پھر خاص عمل ۔۔۔۔بس پانچ دن لگیں گے اور ۔۔۔۔اس کا کام تمام ۔۔۔ادھر مجھے خاص شکتیاں مل جائے گی اور دوسری طرف تیری خلاصی ۔۔۔۔پتہ نہیں کیا بات ہے آج کل دیوی مجھ سے خوش نہیں ہے ۔۔۔اس کے بھگت بھوکے رہتے ہیں ۔۔ ان کو ان كی خوراک ٹھیک سے نہیں مل رہی ۔۔۔کوئی گڑ بڑ چل رہی ہے ۔۔۔”
وہ کچھ سوچتے ہوۓ بولی تھی ۔۔۔
“جی باجی ۔۔۔برائی پر اچھائی غلبہ پا رہی ہے ۔۔۔بس کام کی حد تک رہ گیا ہے سب ۔۔،۔۔۔آپ جلدی سے کچھ کریں ۔۔۔ورنہ سب چھن جائے گا ۔۔۔۔”
“میں یہی بتانے آئی تھی ۔۔۔۔جس پر آپ کا یہ شیطانی محل کھڑا ہے اس کی بنیادوں میں پانی پڑنے لگا ہے ۔۔۔پر نکل آئے ہیں لوگوں کے”
سفورا نے فورا سے باجی کی پریشانی میں اضافہ کیاتھا
“آج سب سے پہلے اسی کا بندوبست کرتی ہوں بد ذات انسان ۔۔۔سنا تھا دنیا میں کیئے گئے نيک کام صدقہ جاریہ ہوتے ہیں ۔۔۔۔مگر اب یہ میں ثابت ہوتا دیکھ رہی ہوں ۔۔۔۔تبھی دیوی مجھے منہ نہیں لگا رہی آج کل ۔۔۔۔”
باجی گہری سوچ میں نظر آرہی تھی
اب میں چلتی ہوں ۔۔۔۔۔شام ہونے والی ہے ۔۔۔کوئی دوکان دیکھتی ہوں موبائل لے کر جاتی ہوں پھر ۔۔۔”
سفورا باجی کا ہاتھ چوم کر جاتے ہوۓ بولی تھی ۔۔۔
۔**************
مناہل فجر پڑھ کر اب خوش الحان آواز میں قران پاک کی تلاوت کر رہی تھی باہر ہلکی ہلکی بارش اب بھی ہو رہی تھی
دنیا جہاں کا سکون اس وقت سمٹ کر مناہل کے چہرے پر امڈ آیا تھا وہ جھوم جھوم کر اللّه کے کلام کا سکون اور سرور اپنے دل میں اتار رہی تھی مدھو کی آنکھ اس کی آواز سے کھل گئی تھی دوا کا اثر ختم ہو چکا تھا زخم ٹھنڈے ہو کر زیادہ تکلیف دینے لگے تھے وہ بھی اٹھ کر آج اپنے رب کے حضور سجدہ ریز ہونا چاہتی تھی مگر جسم کا انگ انگ درد سے چیخ رہا تھا وہ بے سدھ دوبارہ لیٹ گئی تھی
مناہل کی نظر جیسے ہی مدھو پر پڑی وہ تلاوت مکمل کر کے اس کے پاس آ کر بیٹھ گئی تھی
“مدھو آپی آپ کو کچھ چاہیے؟؟”
“نہیں ۔۔۔منو ۔۔۔۔۔جو بھی پڑھا بس پھونک دے مجھ پر کچھ سکون میرے دکھتے جسم کو بھی مل جائے ۔۔۔۔”
مدھو کی آواز میں تکلیف نمایاں تھی ۔۔۔مناہل کچھ خاص اسم الہی اس پر پڑھ پڑھ کر پھونکتی جارہی تھی جس سے اس کو سکون ملنے لگا تھا ۔۔۔ بیشک میرے رب کے ناموں میں ہر درد کی دوا پوشیدہ ہے ۔۔۔۔(یہ میں نے خود آزمایا ہوا ہے)
مدھو دوبارہ سو چکی تھی مناہل فجر کے بعد سے اب تک گھر کے چھوٹے چھوٹے کام نپٹا چکی تھی اب اسے بھوک ستانے لگی تھی کل دن کا کھانا وہ رات کو کھا کر ختم کر چکے تھے ۔۔۔
مدھو بیچاری کا حساب دہاڑی دار مزدور والا تھا وہ جس دن مزدوری نا کرتی اس دن بھوکا رہنا پڑتا ۔۔۔گھر میں بجلی تھی جس میں سے بس ایک لائٹ اور رات کے وقت پهنكا لگانے کی اجازت تھی اس کا بل مدھو بہت مشکل سے جکاتی ہاں وہ گھر گرو کی ملكيت تھی جو اب مدھو کا تھا ۔۔۔۔
مناہل دروازے میں کھڑی بارش دیکھ رہی تھی جب مدھو آنکھیں ملتی ہوئی بیٹھ گئی تھی بھوک سے اس کا بھی برا حال تھا
“منو ۔۔۔۔”
وہ آہستہ سے بولی تھی
“جی مدھو آپی ؟؟؟”کچھ چاہیے آپ کو؟؟”
“نہیں ۔۔۔رانی مجھے کچھ نہیں چاہیے ۔۔۔۔بھوک تو تمہیں بھی لگی ہوگی ؟؟”
“جی ۔۔۔۔۔نہیں آپی ۔۔۔۔مجھے بلکل بھوک نہیں لگی”
مناہل نے مسکرا کر مدھو کی مشکل آسان کرنا چاہی تھی
“ادھر جگ میں کچھ پیسے پڑے ہوں گے لا دے مجھے کچھ کھانے کو لاتی ہوں”
مدھو نے اٹھنے کی کوشش كی تھی مگر وہ چکرا کر واپس بیٹھ گئی تھی مناہل تیزی سے اس کے پاس آئی تھی
“آپی ۔۔۔۔آپ مجھے پیسے دے دیں میں ۔۔۔۔میں جا کر لے آتی ہوں کچھ ۔۔۔۔”
“منو ۔۔۔میری رانی ۔۔۔۔مجھے معاف کر دینا ۔۔۔۔میں ۔۔۔۔اپنا وعدہ نبها نہیں سکی ۔۔۔۔تمہیں جانا پڑ رہا ہے ۔۔۔”
مدھو شرمندہ ہوئی تھی
“آپ شرمندہ مت ہو ۔۔۔۔مدھو آپی ۔۔۔۔مجھے میری امی بھی اکثر دوکان پر بھیجا کرتی تھیں”
“بارش اب ہلکی ہے میں جلدی سے کچھ لے کر آتی ہوں”
مناہل چادر میں سر تا پير خود کو لپیٹ کر باہر نکلی تھی گلی خالی تھی وہ یہاں وہاں دیکھتی دوکان کی طرف گئی تھی وہ ایک چھوٹا سا ہوٹل تھا جہاں اندر بہت سے مرد بیٹھے ناشتہ کر رہے تھے ان میں سعد بھی تھا وہ ناشتہ سامنے رکھ کر فقط اسے گھور رہا تھا وہ صدیوں کا بیمار لگ رہا تھا وہ مناہل کی یاد میں کھویا ہوا تھا اس بات سے بے خبر کہ وہ اس کے سامنے کھڑی ہے ۔۔
“بھائی دو روٹی اور چنے کا سالن کتنے کا آۓ گا؟؟؟”
مناہل نے بہت آہستہ سے پوچھا تھا
“50 روپے”
اس کی نظر اپنے ہاتھ میں موجود نوٹ پر پڑی تھی جو پچاس کا تھا اس کا دل گرم گرم چاۓ پینے کا بھی تھا ۔۔۔
“بھائی ایک کپ چاۓ کتنی کی ہے؟؟”
“20 روپے کا کپ ہے پہلی بار آئی ہو کیا کسی دوکان پر ؟؟؟”
وہ بد مزہ سا بولا تھا
“اچھا بھائی۔۔
“سالن کم دے دیں ۔۔۔۔مگر ان پیسوں میں ایک کپ چاۓ کا بھی دے دیں”
“ارے جاؤ جاؤ ۔۔۔۔بی بی ۔۔۔۔تم لوگوں کو کوئی اور کام نہیں ہے جو اس وقت میری دوکان داری خراب کرنے آ گئی ہو ؟؟؟”
“لے جاؤ اپنے پیسے جان چھوڑ دو میری،بھیگ مانگنے کا الگ انداز ہے بھئ۔ ۔۔”
سعد ہوٹل مالک کی آواز سن چکا تھا اس نے دو پراٹھے جو اس نے چکھے بھی نہیں تھے ایک بڑا فل کپ دودھ پتی اور بڑی پلیٹ نہاری کی اٹھا کر مناہل کی طرف بنا دیکھے رکھ دیے تھے جبکہ مناہل دوکان دار کی بات پر آنکھیں زمین میں گاڑے شرم سے پانی پانی ہو گئی تھی
“بل دے چکا ہوں استاد یہ سب ان کو دے دو اور اضافی پیسے مت لینا”
“آپ میرے لئے دعا کرنا ۔۔۔۔۔اللّه مجھے میری زندگی لوٹا دے ۔۔۔”
وہ مناہل کے پاس کھڑا ہو کر آہستہ سے کہہ کر آگے بڑھ گیا تھا مناہل کا دماغ سعد کی آواز پر سائیں سائیں کرنے لگا تھا وہ جب تک کچھ سمجھ پاتی وہ بائیک سٹارٹ کر کے جا چکا تھا
مناہل گم سم سی کھڑی خود کو حقیقت اور خواب میں فرق سمجھا رہی تھی
“ارے بی بی یہ اٹھاؤ اور جاؤ ۔۔۔۔رش مت بناؤ”
وہ اسے وہ سب ایک شاپر میں ڈال کر حقارت سے کہہ رہا تھا
مناہل وہ اٹھا کر بھرے دل کے ساتھ گھر پہنچی تھی وہ کھانا مدھو کے آگے لگا کر خود خاموش سی دور بیٹھ گئی تھی
“کیا ہوا منو؟؟؟کھانا کھاؤ نا ۔۔۔۔کسی نے کچھ کہا ہے تمہیں باہر ؟؟”
مدھو پریشان ہو گئی تھی
“نہیں آپی۔۔۔۔”
وہ خاموشی سے مدھو کے ساتھ بیٹھ کر ناشتہ کرنے لگی تھی ۔۔۔
۔**********”******
بہادر شاہ آج خاموش بیٹھا ہوا تھا منی باہر سے کھیل کر اس کے پاس آ کر بیٹھی تھی
“ابا ۔۔۔۔۔اداس کیوں ہے ؟؟؟”
“اداس نہیں ہوں منی ۔۔۔۔۔بس سوچتا ہوں ۔۔۔۔۔کاش وہ سب نا ہوا ہوتا ۔۔۔۔”
“ابا خود ہی تو کہتا ہے جو ہوتا ہے اچھے کے لئے ہوتا ہے ۔۔۔۔”
منی نے اس کی گود میں سر رکھا تھا
“ہیلو کوئی ہے اندر ؟؟؟؟”
جھونپڑی کے باہر سے آواز آئی تھی
بہادر شاہ اٹھ کر دروازے میں آیا تھا
“قبر کھدوانی ہے جلدی کرو موسم خراب ہے”
وہ جو بھی تھا بہت جلدی میں لگ رہا تھا اس كی سانسیں پھولی ہوئی تھیں بہادر شاہ اس کے ساتھ باہر آیا تھا
وہ 17سال کا جوان اور خوبصورت لڑکا تھا اس کی گھبراہٹ اس کی خوبصورتی میں چار چاند لگا رہی تھی
“بہت گھبرائے ہوۓ لگتے ہو برخوردار ۔۔۔۔کیا معاملہ ہے؟”
بہادر شاہ نے اس کی طرف گھور کر دیکھتے ہوۓ پوچھا تھا
“وہ ۔۔۔۔۔وہ ۔۔۔۔ایکچولی ۔۔۔۔۔میرا مطلب ہے ۔۔۔۔دراصل ۔۔۔میں نے کچھ نہیں کیا ۔۔۔۔۔وہ ۔۔۔۔وہ خود ہی مری ہے ۔۔۔میں ۔۔۔۔۔میں نے تو ۔۔۔۔بس ۔۔۔۔۔۔۔۔آپ جلدی سے اس کی قبر کھود دیں ۔۔۔وہ گاڑی كی ڈگی میں ہے ۔۔۔۔۔میرے پاس کفن بھی نہیں ہے ۔۔۔۔آپ ۔۔۔۔۔آپ پلیز اس کا ۔۔۔۔ارینج ۔۔۔۔۔میرا مطلب ہے ۔۔۔۔بندوبست ۔۔۔کر دیں”
وہ ایک سانس میں بولتا ہوا تھوک نگل کر بولا تھا
بہادر شاہ اس کے ہمراہ گاڑی کی طرف بڑھا تھا اس نے ڈگی کھولی جہاں ایک پندرہ سالہ نہایت ہی خوبصورت لڑکی خون میں لت پت پڑی تھی وہ جس انداز سے پڑی ہوئی تھی ایسا لگ رہا تھا اس کے جسم كی کوئی بھی ہڈی سالم نہیں ہے ۔۔۔
بہادر شاہ کا بے رحم قہقہ بلند ہوا تھا تیز اور ٹھنڈی ہوا چلنے لگی تھی بارش بھی بس آنے والی تھی
بہادر شاہ نے ڈگی بند کر کے اسے اپنے پیچھے آنے کا اشارہ کیا تھا
ہوا کی تیز آواز کانوں میں شور پیدا کر رہی تھی بہادر شاہ لنگڑا کر چلتا ہوا قدرے اونچی آواز میں بولا تھا
“کیا لگتی ہے تیری بیچاری؟؟هاهاهاهاها ۔۔۔۔”
“وہ میری ۔۔۔۔۔چاچو کی بیٹی تھی ۔۔۔۔۔”
وہ چہرے پر ہاتھ پھیر کر گھبرا کر بولا تھا
“چل پوری بات بتا ۔۔۔۔۔طوطہ بن جا،هاهاهاهاها ۔۔۔”
بہادر شاہ ایک جگہ خالی جگہ دیکھ کر قبر کی کھودائی کا کام شروع کرتا ہوا قہقہ لگا کر بولا تھا ۔۔۔
وہ ۔۔۔۔وہ ۔۔۔۔میرا کوئی قصور نہیں ہے ۔۔۔وہ روز میرے ساتھ کالج جاتی تھی ۔۔۔۔اس کو کہیں بھی جانا ہوتا تھا ۔۔۔۔چھوٹی امی اسے میرے ساتھ بائیک پر بیٹھا کر روانہ کر دیتی تھیں ۔۔۔”
“وہ جب میرے پیٹ پر ۔۔۔۔میرے کندھے پر ہاتھ رکھتی ۔۔۔۔مجھے سکون ملنے لگتا اس کے لمس سے ۔۔۔۔”
“پہلے پہل مجھے غصہ آتا ۔۔۔۔۔مگر پھر میں انتظار کرنے لگتا کہ کب چھوٹی امی اسے میرے ساتھ کہیں بھیجیں گی ۔۔۔۔”
“وہ ۔۔۔۔میری ہوس کو محبت سمجھنے لگی تھی ۔۔۔۔۔میں اس کا ساتھ چاہتا تھا ۔۔۔۔۔جو شادی کے وعدے کے بغیر ممکن نہیں تھا ۔۔۔۔”
“پھر اب وہ بنا کسی وجہ کے کوئی نا کوئی جھوٹا بہانہ بناتی ۔۔۔اور ہم گھنٹوں روڈ پر گزار دیتے ۔۔۔۔محبت کے وعدے ۔۔۔۔محبت كی قسمیں ۔۔۔۔مگر یہ سب اس کے لئے کافی تھا ۔۔۔میں ۔۔۔۔میں اب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔محبت کی آخری حد ۔۔۔۔۔۔اس کی محبت کا عملی ثبوت چاہتا تھا ۔۔”
وہ یخ بستہ ہوا میں بھی اپنے خوبصورت چہرے سے پسینے كی ننھی بوندیں ٹشو سے صاف کر رہا تھا ۔۔۔
بہادر شاہ نے کام روک کر اس كی طرف دیکھا تھا
“محبت کا مطلب جانتے ہو ؟؟؟؟؟؟”
بہادر شاہ نے لال ہوتی آنکھوں سے
اس کے کانوں میں چیخ کر کہا تھا
“محبت کسی کے احساس کو دل میں اتارنے کا نام ہے ۔۔۔انسان کی محبت روح کی طلب گار ہوا کرتی ہے جسموں كی ضرورت تو جانوروں کو ہوا کرتی ہے”
بہادر شاہ اس کا چہرہ اپنی طرف کر کے بولا تھا
“جب تمہاری اپنی نیت میں کھوٹ تھا ۔۔۔۔پھر اس معصوم لڑکی سے ثبوت کیوں چاہیے تھا ؟؟؟؟؟؟؟؟”
“کسی کے جگر کے ٹکڑے کو تم نے اتنا معمولی سمجھ لیا کہ اسے اپنی بھوک کے لئے موت کی گھاٹ اتار دیا ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟”
“اپنی شکل دیکھو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور اپنی ۔۔۔۔۔۔۔تھو ۔۔۔۔۔۔۔اپنی سوچ ۔۔۔۔۔۔”
“اس میں سارا قصور میرا نہیں تھا ۔۔۔۔۔یہ بات چھوٹی امی اور میری امی کو بھی تو سوچنی چاہیے تھی کہ ہم دونوں اب بالغ ہو چکے ہیں ۔۔۔بچپن ختم ہو چکا ہے ۔۔۔۔۔۔اب ہماری کچھ ضروریات ایسی ہیں جو کہ فطری ہیں ان پر قابو پانا ہمارے بس كی بات نہیں ہے ۔۔۔”
کسی نے ہمیں نہیں روکا ۔۔۔۔کیوں کہ ہم کزنز تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔کاش ۔۔۔۔کوئی تو ہوتا جس نے ہمیں روکا ہوتا ٹوکا ہوتا ۔۔۔تو آج ۔۔۔۔۔۔ماهم ۔۔۔یو ۔۔۔۔اس حالت میں ۔۔۔۔”
وہ گھٹنوں کے بل بیٹھ کر اب چیخ کر رونے لگا تھا
“میں اسے محبت نہیں کرتا تھا ۔۔۔مگر میں اسے مارنا بھی نہیں چاہتا تھا ۔۔۔۔وہ بہت گھبرا گئی تھی ۔۔۔۔وہ بہت رو رہی تھی ۔۔۔۔وہ کہہ رہی تھی ابھی ابھی میرے ساتھ نکاح کرو ورنہ ۔۔۔۔سب ۔۔۔سب کو بتا دوں گی ۔۔۔۔”
وہ اب زمین پر بیٹھ گیا تھا بارش بھی تیزی ہونے کو تھی ۔۔۔
“میں نے بہت سمجھایا ۔۔۔اپنی مجبوری بتائی کہ ابھی میں اس قابل نہیں ہوا ۔۔۔۔ابھی تو میں 1st year کا سٹوڈنٹ ہوں ۔۔۔۔۔اتنی بڑی بات امی سے کیسے کروں ۔۔۔۔مگر وہ نہیں مان رہی تھی اسے ڈر تھا کہ ۔۔۔۔۔بچہ ۔۔۔۔۔۔بچہ ۔۔۔۔پیدا ۔۔۔۔۔”
وہ زمین پر اب لیٹ گیا تھا وہ چیخ رہا تھا زور قطار رو رہا تھا وہ آواز رونے کی نہیں تھی جو آواز بہادر شاہ کو سنائی دے رہی تھی وہ آواز تو پچھتاوے کی تھی ۔۔۔۔
“میں خود بھی گھبرا گیا تھا ۔۔۔۔مجھے سمجھ نہیں آ رہا تھا جو میں کر چکا ہوں وہ واپس کیسے لوں ۔۔۔اوپر سے دوست بار بار فون کر رہا تھا کہ گھر خالی کرو اس کی فیملی آنے والی تھی ۔۔۔۔بس اسی کھینچاتانی میں وہ ۔۔۔۔وہ بھاگی ۔۔۔۔میں اس کے پیچھے بھاگا ۔۔۔۔۔۔اس کا پاؤں پھسلا اور وہ ۔۔۔سیڑھیوں سے ۔۔۔سیدھی فرش پر جا گری ۔۔۔۔”
“یا اللّه ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟”
“میں یہ سب نہیں چاہتا تھا ۔۔۔۔”
“ماهم میری بہت اچھی دوست تھی ۔۔۔۔۔مجھے اپنا بیسٹ فرینڈ کہتی تھی ۔۔۔اور اب وہ اس طرح ۔۔۔۔۔۔امی ۔۔۔۔۔۔ابو ۔۔۔۔۔۔۔میں آپ لوگوں کو کبھی معاف نہیں کروں گا ۔۔۔۔۔آپ لوگ مجھے اس طرح کزن کے نام پر اسے پیش نا کرتے تو ۔۔۔۔۔۔آپ کو پتہ ہونا چاہیئے تھا ۔۔۔۔اب ۔۔۔۔ہم بڑے ہو گئے ہیں ۔۔۔۔”
“اللّه ؟؟؟؟؟؟میں کدھر جاؤں؟؟؟؟”
“ماهم ؟؟؟؟؟؟؟؟”
وہ بھاگ کر کار کی ڈگی کھول کر بیٹھ گیا تھا
جہاں ماهم آنکھیں کھولے اسے دیکھ رہی تھی ڈگی خون سے بھر چکی تھی بارش تیز ہو چکی تھی وہ ماهم کی میت گود میں اٹھاۓ۔۔۔۔بچوں کی طرح روتا ہوا ۔۔۔۔اسے قبر کے پاس لایا تھا ۔۔۔۔بارش کا پانی ماهم کا خون دھلاتا ہوا اسے شفاف کررہا تھا
بہادر شاہ چپ چاپ اسے دیکھ رہا تھا
وہ ماهم کو نیچے لیٹا کر بھاگتا ہوا گاڑی کی طرف گیا تھا اور گولی چلنے کی آواز پورے قبرستان میں گونجی تھی ۔۔۔
بارش نے ایک بار پھر زور پکڑا تھا بجلی بھی چمک چمک کر قبرستان کو روشن کر رہی تھی ۔۔۔
ادھر ماهم آنکھیں کھولے زمین پر پڑی تھی جبکہ دوسری طرف کار کی ڈرائیونگ سیٹ پر وہ جوان لڑکا سر لٹکاۓ خون میں لت پت پڑا تھا ۔۔۔
“محبت بہت بھاری جذبہ ہے جس کے لئے دل کے ساتھ ساتھ دماغ کا اس کو قبول کرنا بھی ضروری ہے ۔۔۔۔کم عمری میں یہ جذبہ جان ليوا ثابت ہو سکتا ہے کیوں کہ تب انسان پسندیدگی،عادت،ضرورت اور ہوس میں فرق کرنے کے قابل نہیں ہوتا ۔۔۔۔۔”
بہادر شاہ اب دوسری قبر کھود رہا تھا ۔۔۔۔
۔************
یہ ایک حویلی نما بڑا گھر تھا سامنے ایک لائن میں تین بڑے بڑے کمرے ان کے آگے برآمدہ اس کے آگے کھلا وسیع صحن اس میں لگا پرانا ایک برگد کا جوڑا ۔۔۔۔اور داخلی دروازے کے پاس بنی ایک مہمان گاہ جہاں ماسٹر جی اکثر بچوں کو پڑھانے بیٹھ جایا کرتے تھے ۔۔۔
اس وقت پوری حویلی تیز اور طوفانی بارش کی زد میں تھی ماسٹر جی اس مہمان گاہ کے دروازے میں کھڑے بے چین سے سامنے برآمدے کی طرف دیکھ رہے تھے جہاں دائی حاجن خوشی سے ہاتھ ہلاتی نمودار ہوئی تھی
ماسٹر جی اس کے اشارے پر اپنے سر پر ہاتھ رکھ کر تقریبا بھاگ کر اس کی طرف لپکے تھے وہ فورا اندر گئی تھی اور ایک نومولود وجود کو اس کی گود میں رکھ کر بولی تھی
“اللّه بہت خوش ہے آپ سے ماسٹر جی،اور آپ کی سلطانہ بيگم بہت خوش بخت ہیں جی،اس کا ثبوت یہ رحمت ہے جس کو اللّه نے پہلی اولاد کی شکل آپ کی گھر میں اتارا ہے”
دائی حاجن خلوص سے بولی تھی
“بیشک،بیشک۔۔۔میرا رب بہت رحيم ہے،میں نے جو مانگا وہ ہی عطاء کیا”
ماسٹر جی خوشی کے آنسو اپنے کندھے پر موجود سکارف سے صاف کر کے اس بچی کا ماتھا چوم کر بولے تھے ۔۔
“پندرہ سال ۔۔۔۔پندرہ سال انتظار کیا ہے میں نے اس گھڑی کا ۔۔۔بیشک میرے رب کے ہاں دیر ہے اندھیرنہیں ۔۔۔وہ ہی رب ہے جو اپنے بندوں کو اندھیرے میں امید کی کرن دکھاتا ہے ۔۔۔۔وہ اپنے بندوں کو نا امید نہیں ہونے دیتا ۔۔۔میں نے صبر کیا ۔۔۔اور آج اس کا پھل ۔۔۔۔۔”
ماسٹر جی اس بچی کو سینے میں بھینچ کر رو دیے تھے ۔۔۔
“بیشک ۔۔۔۔”
دائی حاجن بھی رو دی تھی
