442.5K
18

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Barish Episode 1

Barish by Jameela Nawab

“سعد بیٹا اٹھو اٹھ کر تار پر سے کپڑے اکھٹے کر لاؤ ۔۔۔۔بادل گرج رہے ہیں ۔۔۔بارش بھی آتی ہی ہوگی ۔۔۔چل میرا پُتر نہیں اٹھ سکتی میں گرم رضائی سے اب رات کے اس وقت میں ۔۔۔”

سعد گہری نیند میں تھا شاید کوئی جواب نہیں آیا تھا سفورا کو ۔۔۔

اس کی نظر جیسے ہی گھڑی پر پڑی وہ فورا اٹھ کر بیٹھی تھی ۔۔۔اس نے سعد کو جھنجھوڑ کر نیند سے اٹھایا تھا جو اس کے پاس والی چار پائی پر سو رہا تھا وہ سیدھا اٹھ کر بیٹھ گیا تھا وہ پانچ منٹ تک ایک ہی سمت میں مسلسل دیکھ رہا تھا

“امی ۔۔۔۔۔کتنی بار کہا ہے مت اٹھایا کریں مجھے اس طرح سے اتنی مشکل سے مناہل میرے پاس آئی تھی ۔۔۔جب بھی وہ میرے پاس آ کر کچھ کہنے لگتی ہے آپ مجھے اٹھا دیتی ہیں ۔۔۔۔۔میں پاگل ہو جاؤں گا ان سوالوں کے جواب خود سے سوچ سوچ کر ۔۔۔۔۔”

“اور کفن کیوں پہن رکھا ہے آپ نے آج پھر ؟؟؟؟”

“بس مجھے یہی پہن کر سونا پسند ہے ۔۔۔”

بجلی زور سے کڑکی تھی جہاں کھلے صحن میں سیاہ برقعے میں کوئی اندر دیکھتا ہوا کھڑا نظر آیا تھا سفورا نے جلدی سے خود کو رضائی کے اندر لپیٹ کر اپنا چہرہ اندر کیا تھا

بارش شروع ہو چکی تھی وہ لال اینٹوں سے بنا ہوا صحن بارش کی بوندوں سے لال ہونے لگا تھا اور ہوا اتنی تیز کے صحن میں لگا برگد کا درخت جھک کر زمین سے لگتا نظر آتا ۔۔۔

سعد نے جلدی سے صحن میں تار سے گر کر یہاں وہاں بکھرے کپڑوں کو اكهٹا کیا تھا وہ خود بھی بھیگ چکا تھا ۔۔۔

“میرے پاس آجاؤ ۔۔۔۔۔”

سعد کے کان میں ایک نسوانی آواز سنائی دی تھی ۔۔۔۔جس پر وہ ساكن سا کھڑا اس یخ بستہ موسم میں بھیگتا چلا گیا ۔۔۔۔

۔************،*****

وہ ایک سرکنڈوں اور چھوٹی چھوٹی باریک لکڑیوں سے بنی ہوئی جھونپڑی تھی جس میں آٹھ سے دس لوگ آرام سے آ سکتے تھے جس میں نیچے پھٹا پرانا سا بستر بچھایا گیا تھا کچھ کھانے کے برتن اور ضرورت کا کچھ سامان ایک طرف پڑا تھا

جھونپڑی میں اس طوفانی رات میں بھی کوئی نہیں تھا گھر کے مکين اس میں موجود نہیں تھے رات کے دو بجے کا وقت تھا ۔۔۔

اب وہ باپ بیٹی اس کے اندر داخل ہوۓ تھے جو بہت خوش لگ رہے تھے

وہ بوسیده اور بدبو دار کپڑے پہنے ہوۓ تھے دونوں کی صفائی اپنی بد ترین حالت میں تھی جگہ جگہ سے پھٹے ہوۓ کپڑے کیچڑ لگنے کی وجہ سے مزيد بوسیده لگ رہے تھے

لڑکی کے بال گہرے بھورے تھے جو گندگی اور بارش میں بھیگ کر اور بھی برے لگ رہے تھے اس کے بال اس کے سینے پر دونوں طرف پھیلے ہوۓ تھے اس کا لباس کسی بھی قسم کے دوپٹے سے عاری تھا

“اباں آج تو بہت مزہ آیا ۔۔۔۔۔بس ٹھنڈ زیادہ تھی آج ۔۔۔۔اور کھانا بھی بہت سرد ۔۔۔۔۔”

“دانت بج رہے تھے میرے کھاتے ہوۓ ۔۔۔ “

“وہ تازہ مال تھا جھلی ۔۔۔۔تازہ مال ۔۔۔۔۔۔مزہ تو آنا ہی تھا ۔۔۔۔۔اور حرارت کیسے آتی اس میں ؟؟؟؟فرق تو ہوتا ہے نا زندگی اور موت میں ؟؟؟”

“موت تو سرد ہی ہوا کرتی ہے نا جهلی ۔۔۔۔”

“اباں چل اب سوتے ہیں ۔۔۔۔”

وہ نيم غنودگی میں بولتی ہوئی لیٹ گئی تھی

باپ نے جھونپڑی سے نکل کر دیکھا تھا جہاں ایک گاڑی آ کر رکی تھی ایک بندہ بھاگتا ہوا اس کے پاس آیا تھا

“تم ہو یہاں کے گورکن ؟؟؟؟”

بہادر شاہ نے اپنا سر اثبات میں ہلایا تھا وہ ایک ہاتھ سے اپنے پیلے دانتوں میں سے تيلی مار کر پهنسا ہوا گوشت نکال رہا تھا

“میت کس کی ہے ؟؟؟؟”

“میرے بھائی کی ۔۔۔۔۔اس کو جلدی دفنانا ہے سرد خانے سے لا رہے ہیں میت ایک مہینہ پہلے کی ہے ۔۔۔۔”

“لا وارث پڑی تھی کیا ؟؟؟”

بہادر شاہ کے اس سوال پر وہ شخص شرمنده سا ہوا تھا

“نہیں ۔۔۔۔وہ در اصل اس کو اغوا کر کے مار دیا گیا تھا ۔۔۔۔۔شکل شناخت کے قابل نہیں تھی تو ۔۔۔۔پولیس نے سرد خانے میں لاش بهجوا دی ۔۔۔۔”

“اب میری ماں نے پہچانا ہے میرے بھائی کو ۔۔۔۔تو فورا دفنانے آئے ہیں ۔۔۔قبر کھود دو ۔۔۔”

وہ شخص کسی طرح سے بھی غم زدہ نہیں لگ رہا تھا ایسا لگ رہا تھا بس اپنا فرض پورا کرنا چاہتا ہے ۔۔۔وہ مزيد کسی سوال سے بچنے کی خاطر فورا واپس ایمبولینس میں بیٹھ گیا تھا

بہادر شاہ نے اندر سے قبر کھودنے کا سامان لیا تھا اور ایمبو لینس میں جا کر تابوت میں پڑی لاش کے قد کا اندازہ لگایا تھا ۔۔۔ڈرائیور اور اس شخص کے علاوہ اس میت کے ساتھ کوئی بھی نہیں تھا میت نيلی ہو رہی تھی

بارش زوروں پر تھی قبرستان میں اس وقت عجیب سا خوف پھیلا ہوا تھا ۔۔۔۔

بہادر شاہ لنگڑاتا ہوا چلتا ہوا بنا کسی چھتری کے قبرستان کے وسط میں گیا تھا اب وہ قبر کھود رہا تھا ۔۔۔

وہ جو گھڑا بنا رہا تھا وہ تیز بارش سے فورا بھر گیا تھا وہ اس بات پر تنگ ہونے کی بجاۓ قہقہ لگا رہا تھا ۔۔۔

وہ قبر کھود چکا تھا وہ پر اسرار مسكراہٹ لئے اب اس طوفانی رات میں ایمبولینس کے فرنٹ لائٹ کے سامنے کھڑا ہو کر میت لانے کا اشارہ کر رہا تھا

“گورکن تم بھی آجاؤ میت بہت بھاری ہے اور قبر بہت دور یہ ہم دو لوگوں کے بس

کا کام نہیں ہے ۔۔۔”

اس بات پر بہادر شاہ لنگڑاتا ہوا ادھر آیا تھا ان تین لوگوں نے مل کر اس میت کو اس پانی سے بھری ہوئی قبر میں ڈالا تھا اب وہ تیزی سے مٹی ڈال رہے تھے ۔۔۔

ایک دم بجلی زور سے کڑکی تھی جس پر وہ ڈرائیور اور وہ آدمی خوفزدہ ہوۓ تھے ۔۔۔

قبرستان میں آنا آسان تھا مگر اب قدم مَن مَن کے محسوس ہو رہے تھے ۔۔۔

وہ دونوں بڑی مشکل قدم اٹھا رہے تھے ایسے جیسے زمین پر کوئی ایسی مقناطیسیت تھی جو قدم پکڑ رہی تھی ۔۔۔۔

“ارے صاحب ۔۔۔۔میرا گھر ادھر ہی ہے بہت جگہ ہے ادھر رات میرے پاس ہی گزار لو ۔۔۔”

بہادر شاہ ایک دم سے ان کے سامنے آ کھڑا ہوا تھا بجلی ایک بار پھر تیزی سر کڑکی تھی ۔۔۔

ان دونوں نے تیز بارش میں اس خوفناک قبرستان میں چاروں طرف دیکھا تھا ۔۔۔