Barish by Jameela Nawab Readelle 50375 Barish Episode 4
Rate this Novel
Barish Episode 4
Barish by Jameela Nawab
مناہل ظہر پڑھ کر جائے نماز اٹھا رہی تھی جب مدھو دوپہر کا کھانا اٹھا کر اندر آئی تھی
“چل بنو کھانا کھاتے ہیں”
دونوں نے خاموشی سے کھانا کھایا تھا اب مدھو برتن رکھ کر واپس آئی تھی وہ ایک پرانے بكسے سے دو جوڑے نکال کر مناہل کے پاس لائی تھی
“منو بتاؤ ان میں سے کونسا جوڑا پہنوں ؟؟؟رات یک جگہ فنکشن پر جانا ہے میں نے ۔۔۔۔بیٹا ہوا ہے کسی کا پورے پندرا سال بعد ۔۔۔۔بہت بڑا فنکشن ہے ۔۔۔بڑے لوگ ہیں ۔۔۔یہ بڑی بڑی گاڑیاں ۔۔۔۔”
“مگر مجھ محض ایک خواجہ سرا کی نظر میں وہ بہہہت غریب ہیں ۔۔۔جو بیٹا بیٹی میں الجھے ہوۓ ہیں ابھی تک ۔۔۔۔۔اس بات کا احساس ہی نہیں ہے کہ ان کی اولاد کم از کم کسی ایک طرف تو ہے ہماری طرح کوئی بد نصیب نہیں پیدا ہو گیا، کوئی سوچتا ہی نہیں ہے کہ اگر تو ان کی اولاد بیٹی کی بجاۓ خواجہ سرا پیدا ہوئی ہوتی تو وہ کدھر جاتے ۔۔۔۔مگر افسوس بیٹا بیٹی کا تضاد ۔۔۔۔
مدھو کافی مرعوب لگ رہی تھی
“دونوں ہی اچھی ہیں ۔۔۔مگر یہ زیادہ اچھا ہے ۔۔۔”
مناہل نے ایک کو ہاتھ میں پکڑ کر کہا تھا
“اچھا میں رات کو لیٹ آؤں گی ۔۔۔تم اچھے سے دروازہ بند کر لینا ۔۔۔اور پھر میں وہاں سے فارغ ہو کر گرو سے مل کر پھر گھر آؤں گی ۔۔۔صبح ہو جائے گی مجھے آتے آتے ۔۔۔”
“آپ فجر کے وقت ہی کیوں جاتی ہیں روز قبرستان آپ کو ڈر نہیں لگتا مدھو آپی ؟؟”
“هاهاهاهاها ۔۔۔۔۔”
مدھو پیٹ پکڑ کر کافی دیر بلند آواز سے ہنستی رہی ۔۔۔مناہل کے چہرے پر بھی اس کی اس بھرپور ہنسی پر مسکراہٹ آئی تھی
“یہ ڈر کیسے کہتے ہیں میری رانی ؟؟؟”
“عورت ہوتی تو عزت کا ڈر ہوتا ۔۔۔۔۔مرد میں نہیں ہوں ۔۔۔۔۔اور جو ڈر مجھے ڈرا سکتا تھا اس سے میں دن میں بھی گزر جاتی ہوں ۔۔۔۔۔خواجہ سرا کا دل تھوڑی ہوتا ہے مکمل لوگ ہمیں جانداروں میں بھی نہیں گنتے ۔۔۔۔۔ہم تو کھلونا ہیں جسے کھیل کر توڑ دیا جاتا ہے ۔۔۔۔”
مدھو کی بات سے مناہل کو اپنے سوال پوچھنے پر شرمندگی ہوئی تھی
“میرا مطلب تھا ۔۔۔قبرستان ۔۔۔گهپ اندھیرا ۔۔۔۔پھر بارش ۔۔۔میرا مطلب وہ خوف اور ڈر تھا ۔۔۔
“میری ماں باپ کون ہیں میں نہیں جانتی ۔۔۔۔جس انسان نے مجھے اپنی گود كی گرمی دے کر زندہ رکھا وہ وہاں دفن ہے۔۔۔۔ایک اسی جگہ تو مجھے ڈر نہیں لگتا ۔۔۔ایسا لگتا ہے ۔۔۔۔ماں کی گود میں آگئی ہوں ۔۔۔۔پہلے نماز ۔۔ پہلے اللّه ۔۔۔۔۔پھر قبرستان ۔۔۔گرو کی قبر ۔۔۔۔میرا فرض دونوں جگہ فاتحہ پڑھ کر پورا ہوتا ہے منو ۔۔۔۔۔”
“پورا دن پھر وہ روٹی کمانے کا رونا ۔۔۔۔اور میں نہیں چاہتی کہ میں اپنے پیٹ کی آگ بجھانے کی خاطر اپنے محسن کو بھول جاؤں ۔۔۔بس اسی لئے صبح اٹھتے ساتھ ہی ۔۔۔”
“اس دن بھی میں گرو سے ملنے جا رہی تھی تو تمہیں بیہوش پایا پھر ۔۔۔ایک رکشہ گزر رہا تھا بس اس کی مدد سے تمہیں گھر لے آئی”
“آپ کے گرو کو کیا ہوا تھا ؟؟؟”
“بیمار تھے ۔۔۔۔”
“تم مکمل لوگ تو بہت خوش نصیب ہوتے ہو ۔۔۔میں تم لوگوں کی عداوتیں دیکھ کر حیران ہو جاتی ہوں ۔۔۔۔ہر بندہ فقط اپنی سوچ کی وجہ سے دکھی ہے ۔۔۔۔جانتی ہو رانی دکھ کیا ہوتا ہے ؟؟؟”
“جب نا باپ ہو،نا ماں ہو،نا بھائی ہو،نا بہن ہو،نا شوہر ہو ،نا بیوی ہو،نا بیٹا،نا بیٹی ۔۔۔۔۔۔حد تو یہاں آ کر ختم ہوجاتی ہے جب کوئی ہم سے انسانیت کا رشتہ بھی نہیں رکھتا ۔۔۔۔ارے ہماری جنس نہیں بنائی اللّه نے مگر دل تو ہمارا بھی ہے جو دکھتا ہے ۔۔۔۔ارے ہماری بھی آنکھیں ہیں ۔۔۔۔جو اکثر بھیگ جایا کرتی ہیں ۔۔۔۔۔”
“ساری عمر ہوش سنبهالنے سے بھی پہلے سے روٹی کا نوالہ کھانا مقصد رہ جاتا ہے ہماری زندگی کا ۔۔۔۔
کوئی نہیں ہوتا جو سر پر ہاتھ رکھ کر ہمیں کھانا گھر پر دے ۔۔۔۔بعض اوقات یہ مکمل لوگ ہمارا سانس لینا بھی نا ممکن کر دیتے ہیں ۔۔۔تم مکمل لوگ کیا جانو ادھورا ہونا کتنا بڑا دکھ ہے ۔۔۔ارے تم لوگوں کو تو اپنے مکمل ہونے کی نعمت تک کا احساس نہیں ۔۔۔۔ہاہاہاہاہاہاہا ۔۔۔۔۔رانی مجھے اکثر لگتا ہے ہم لوگوں پر اللّه کا زیادہ کرم ہے کیوں کہ ہمیں صرف جسمانی طور پر ادھورے ہیں مگر تم لوگ تو زہنی طور پر ادھورے رہ گئے ہو ۔۔۔۔هاهاهاهاها ۔۔۔ “
وہ تالی مار کر ہنسی تھی مناہل کو اس ان پڑھ خواجہ سرا کی باتوں پر حیرانی ہوئی تھی وہ دم سادھے اس کی باتوں کو سن رہی تھی وہ کہتی بھی کیا پلٹ کر ؟؟؟آج تو مدھو نے خواجہ سرا ہو کر بھی ثابت کر دیا تھا کہ یہ گلی محلوں میں ہر کسی حلانکہ چھوٹے بچوں سے ذلیل ہونے والی حقیر سمجھی جانے والی ذات بھی عقل سمجھ رکھتی ہے ۔۔۔مدھو مزيد بولی تھی
“میں نے زندہ انسانوں سے اتنے نقصان اٹھاۓ ہیں پھر مردہ انسانوں سے کیسا ڈر ؟؟؟؟ڈرنا ہے تو زندہ لوگوں سے ڈرو جو تمہیں اپنی زبان سے مار دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں ۔۔۔ایک مرا ہوا شخص تو نفرت اور آنا کی جنگ سے بہت آگے نکل جاتا ہے۔۔۔یاد رکھنا منو زندہ انسان ایک مرے ہوۓ سے کئ زیادہ خوفناک اور خطرناک ہوتا ہے ۔۔۔”
“آپ بہت گہری باتیں کرتی ہیں مدهو آپی ۔۔۔”
مناہل نے ان کے جوڑے کو واپس پکڑاتے ہوۓ کہا تھا
“گہری باتیں کرنے کے لئےگہرت زخم برداشت کرنے پڑتے ہیں رانی ۔۔۔۔۔یہ گہری باتیں بہت قیمت لیتی ہیں ۔۔۔۔کاش میرا گرو زندہ ہوتا ۔۔۔۔”
“اچھا آج میں آپ کو تیار کروں گی ۔۔۔۔اپنے ہاتھوں سے”
مناہل نے موضوع گفتگو کو بدلنے کی کوشش کی تھی
“مدھو آپی چلیں آپ کے بال بناتی ہوں”
وہ پاس ہی لگے پرانے سے شیشے کے ساتھ جڑے فريم سے كنگی اٹھا کر لے آئی تھی مدھو کو اس بات سے گرو كی یاد شدت سے آئی تھی وہ كنگی کرتے ہوۓ بولی تھی
“مدھو آپی میں سمجھ رہی تھی مجھے قبر سے نکلنے میں بھی آپ نے میری مدد کی تھی وہ جو بھی تھا مجھے بچا کر غائب ہو گیا تھا”
ہوگا کوئی اللّه کا بندہ جو اپنے بندے کو بچانے کے لئے اوپر والے نے بھیجا ہوگا ۔۔۔۔اللّه کا بندہ احسان تلے دبانے کے لئے،آنکھوں میں اپنا رعب دیکھنے کے لئے کھڑا تھوڑی رہتا ہے ۔۔۔وہ تو اپنا کام کیا اور یہ جا وہ جا ۔۔۔”
مدھو نے آنکھیں موندے سکون سے کہا تھا
مناہل اس محسن کے بارے میں سوچنے لگی تھی
“مدھو آپی مجھے بارش بہت پسند ہے ۔۔۔۔آنے والی ہے نہائیں؟؟؟”
“میری پیاری منو بخار ہو جائے گا ٹھنڈ ہے بہت ۔۔۔۔”
مدھو نے مناہل کو ہاتھ سے پکڑ کر اپنے سامنے بٹھا کر نرمی سے ٹالا تھا
“مجھے نہیں ہوتا کچھ بھی آپی ۔۔۔۔اب تو مجھے یہ بھی نہیں یاد میں کب سے نہیں نہائی…”
“آپی آج کیا تاریخ ہے ؟؟؟”
مدھو نے ایک خستہ حال ،جگہ جگہ ٹیپ لگے موبائل کو نکال کر آج کی تاریخ بتائی تھی جسے سن کر مناہل کا دل ڈوبا تھا وہ ذیرلب بولی تھی
“آج دو مہینے ہو گئے مجھے بارش میں نہاۓ”
باہر بارش گرج چمک کے ساتھ تیز ہوئی تھی
مناہل بھاگ کر مٹی والے چھوٹے سے کچے صحن میں نکل گئی تھی
وہ ہاتھ پھیلا کر آ سمان کی طرف منہ کر کے بند آنکھوں سے بارش میں بھیگنے لگی تھی ۔۔۔
بارش اتنی تیز تھی کہ وہ فورا بھیگ گئی تھی مدھو حیران پریشان اسے دیکھ رہی تھی
“اللّه تمہارا دکھ ختم کر دے رانی”
وہ ذیرلب بڑبڑائی تھی
۔********************
“تم ابھی تک سو رہی ہو ؟؟؟سعد آج پھر بنا ناشتہ کئے نکل گیا ہے ؟؟؟؟”
سفورا نے نفرت سے سوئی ہوئی مناہل کے سر پر کھڑے ہو کر کہا تھا وہ آنکھیں ملتی بیٹھ گئی تھی
“امی ۔۔۔۔وہ رات بارش میں بھیگنے سے بخار ہو گیا تھا بس اسی لئے سعد نے اٹھایا نہیں مجھے ۔۔۔”
وہ اپنا سر دبا رہی تھی اب
“امی بہت درد ہے سر اور پورے جسم میں .۔۔”
“تو یہ کہانیوں والی زندگی چھوڑ کیوں نہیں دیتی تم ؟؟؟؟میرے بیٹے کو سرے عام نہانے پر لگا رکھا ہے ؟؟؟
سفورا کی بات سے مناہل کی آنکھیں پوری کھل گئی تھیں وہ حیران پریشان ان کی طرف دیکھ رہی تھی
اس سے پہلے کے وہ مزید کچھ کہتی سعد تیزی سے اندر آیا تھا
“اٹھو مناہل موسم خراب ہے اس لئے تمہیں بائیک پر نہیں لے کر گیا صبح ۔۔ ابھی رکشہ لایا ہوں باہر کھڑا ہے چلو ڈاکٹر کے پاس چلتے ہیں۔۔۔”
مناہل نے سہم کر سفورا کی طرف دیکھا تھا سعد مناہل کی گرم شال اٹھا کر اس کو اوڑھا کر باہر لے آیا تھا وہ ڈاکٹر کے پاس چلے گئے تھے
“ہر طرح سے معمولی بیوی ڈھونڈ کر لائی ہوں سعد کی مگر یہ ہے کہ کچھ نظر ہی نہیں آتا اس کے علاوہ ۔۔۔۔لگ رہا ہے سعد کے باپ کے رشتہ داروں کے پاس بھیجنا پڑے گا مناہل کو بھی ۔۔۔”
وہ اپنی کالی چادر اوڑھے چھتری لئے گھر سے باہر نکل آئی تھی وہ تیز تیز قدم چلتی روڈ سے نیچے ایک کچے راستے پر ہو گئی تھی بارش بہت تیز تھی راستہ سنسان تھا
وہ ایک پرانے سے مکان کے آگے رک گئی تھی دروازہ پہلے ہی کھلا تھا ہر طرف کافور کی تیز بو پھیلی ہوئی تھی اندر ایک عورت سر سے پاؤں تک کالے لباس میں ملبوس تھی وہ کھلی کھڑکی سے آسانی سے دیکھی جا سکتی تھی وہ بہت سی انسانی ہڈیاں اپنے گرد رکھ کر ترتیب دے رہی تھی۔۔۔
سفورا کو دیکھ کر وہ بلکل بھی حیران نہیں ہوئی تھی جیسے اس کے آنے كی اطلاع اسے پہلے ہی مل گئی ہو ۔۔۔
“آگئی ہو بیٹھ جاؤ بہت خاص عمل کرنے لگی ہوں اس کے لئے خاص موسم اور تیز بارش کا انتظار کرنا پڑتا ہے ۔۔ “
سفورا خاموشی سے بیٹھ گئی تھی اس عورت نے درمیان میں موجود کالا کپڑا اوپر اٹھایا تھا جس کے نیچے بہت سے انسانی بالوں کا ڈھیر لگا تھا اس نے ایک تصویر ان بالوں کے اوپر رکھ کر اس کو آگ لگا دی تھی ساتھ ساتھ وہ کچھ پڑھ رہی تھی جس کے ساتھ ہی ساری کھڑکیاں خود سے بند ہوگئی تھیں اب کمرے میں گهپ اندھیرا ہو گیا تھا بارش پہلے ہی زوروں پر تھی اس عمل سے وہ تصویر والی لڑکی کی روح وہاں حاضر ہوئی تھی وہ سہم کر اس عورت کو دیکھ رہی تھی
“پیچھا چھوڑ دے اس لڑکے کا ۔۔۔۔۔ورنہ تیرے ساتھ اچھا نہیں ہوگا ۔۔۔۔اپنے ماں باپ کے گھر چلی جا ۔۔۔خود طلاق لے کر ۔۔۔ورنہ ایسے ہی پل پل تڑپے گی ۔۔۔”
وہ عمل والی عورت چیخ کر بولی تھی
“م م م م م ۔۔۔میں مممممم۔۔۔۔محبت ۔۔۔۔ ککککرتی ہوں ۔ . “
وہ سہم کر بولی تھی
پھر اس نے کچھ دیر کچھ پڑھا جس سے وہ غائب ہو گئی اور سب پہلے جیسا ہوگیا وہ اب سفورا کی طرف متوجہ ہوئی تھی
“میری بہو پر کوئی کرنے کے لئے ایسا عمل بتا دے باجی کہ بس ختم ہو جائے دنوں میں ۔۔۔ سخت تنگ ہوں میں اس بد ذات سے ۔۔۔”
“مجھے ایک بہت خاص عمل کے لئے ایک زندہ وجود کی ضرورت ہے ۔۔۔۔اس سے میرا کام بھی ہو جائے گا ۔۔۔ اور تمہارا بھی ۔ . “
وہ کچھ سوچ کر بولی تھی
سات دن تک شام کی اذان کے وقت تم نے یہ منتر پڑھ کر اس پر پھوکنا ہے اور اس کے میلے کپڑے مجھے لا کے دینے ہیں ۔۔۔۔اس کا ٹوٹا ہوا ناخن اور كنگی کے بال ۔۔۔ یہ سب لے آ کل تک پھر اس پر کام شروع کرتے ہیں”
اس بات پر سفورا نے اس کا ہاتھ چوم کر اپنے ماتھے پر لگایا تھا
۔***************
منی نے ایک بد بودار رضائی اس جوان کو اوڑھنے کو دے دی تھی وہ اس میں موجود تیز بو کے بھبھوکے سے ناک بند کر کے رہ گیا تھا مگر مجبور تھا وہ اسے اوڑھ کر لیٹ گیا تھا
“بچے ہیں تمہارے ؟؟؟”
بہادر شاہ تیز نظروں سے اسے اندر تک جانچتے ہوۓ پوچھ رہا تھا
“نہیں ۔۔۔۔میں شادی کے بعد دو دن بعد ہی واپس چلا گیا تھا”
وہ اپنی جیب میں سے رومال نکال کر اپنی ناک پر لپیٹ کر بولا تھا
“کیوں ؟؟؟؟”اتنی جلدی کس بات کی تھی ؟؟؟”نئی نویلی کم عمر بیوی کون چھوڑ کر جاتا ہے اتنی جلدی ؟؟؟”
وہ لڑکا جو ٹیک لگا کر مطمئن سا بیٹھا تھا اس سوال پر سیدھا ہو کر بیٹھ گیا تھا
“وہ ۔۔۔۔۔وہ ۔۔۔دراصل میری چھٹی ختم ہو گئی تھی ۔۔۔شادی کا دن آتے آتے پردیس کا بلاواہ آگیا بس پھر بيلا کو چھوڑ کر جانا پڑا مجھے ۔۔۔۔بہت اچھی لڑکی تھی وہ ۔۔۔ “
“مری کیسے ؟؟؟”
“امی بتا رہی تھیں بیمار تھی وہ ۔۔۔”
“جوان جہان کم عمر لڑکی کو اچانک ایسا کیا ہوا کہ وہ بچ ہی نا پائی ۔۔ “
“نمونیا،ڈبل نمونیا”
“ٹھنڈ تو تمہیں بھی بہت لگتی ہے،لگ رہا ہے تمہیں بھی وہ ہی ہونے والا ہے “
بہادر شاہ نے منی کی طرف کن انکھیوں سے دیکھا تھا منی کے ہاتھ میں سیخ تھی وہ مسلسل اس پر ٹاکی مار رہی تھی
“کیا ؟؟؟؟؟کیا ہو جائے گا مجھے ؟؟؟”
“نمونیا ۔۔۔ وہ بھی ڈبل هاهاهاهاها ۔۔ . “
بہادر شاہ کا قہقہ بلند ہوا تھا بارش نے زور پکڑا تھا اب جھونپڑی میں پانی زیادہ آنے لگا تھا بستر بھی گیلا ہونے لگا تھا ہوا کی تیز آواز اس منظر کو اور خوفناک کر رہی تھی
وہ لڑکا پھیکی سی ہنسی هنسا تھا
“چلو منی اس کو بيلا کی قبر پر لے کر چلتے ہیں
“ابھی بارش بہت زیادہ تیز ہے ۔۔۔ابھی کیسے ۔۔۔۔۔بارش رک جائے پھر ۔۔۔۔پھر میں خود ہی چلا جاؤں گا ۔۔۔”
وہ لڑکا محفوظ ہوتا ہوا بولا تھا
‘؟؟
“نہیں ابھی چلتے ہیں اتنی دور سے آ گئے ہو پھر ابھی کیسے صبر سے بیٹھ گئے ہو ؟؟؟چلو۔۔ “
بہادر شاہ اسے اس کی چھتری تهما کر ساتھ آنے کا اشارہ کر کے باہر نکل گیا تھا منی اس لڑکے کو کھڑی دیکھ رہی تھی
وہ لڑکا حیران پریشان ان کے ساتھ ہو لیا تھا بہادر شاہ لنگڑاتا ہوا تیز تیز طوفانی بارش میں آگے آگے جا رہا تھا جبکہ وہ لڑکا اس کے ساتھ قدم ملانے کی غرض سے تقریبا بھاگ رہا تھا منی اس کے پیچھے اٹکھیلیاں کرتی ہوئی جا رہی تھی
تیز تیز چلتا ہوا بہادر شاہ ایک دم رک گیا تھا بجلی زور سے کڑکی تھی وہ لڑکا دونوں ہاتھ گھٹنوں پر رکھ کر ہانپ رہا تھا
“ایک منٹ ۔۔۔ سر میری بات سنیں ۔۔۔۔آپ کو کیسے پتہ بيلا کی قبر کہاں ہے ؟؟؟”
بارش نے پہلے سے زیادہ زور پکڑا تھا دوبارہ بجلی کی چمک سے پورا قبرستان روشن ہوا تھا بہادر شاہ نے ہاتھ سے ایک قبر کی طرف اشارہ کیا تھا جس پر “بيلا زوجہ فاروق ” عمر 20سال لکھا تھا وہ لڑکا یہ دیکھ کر انجانے خطرے کی گھنٹی سننے لگا تھا وہ بھاگنے کے لئے پیچھے پلٹا تھا جہاں منی ایک قبر پر بیٹھی دونوں ہاتھوں میں بارش کا پانی بھر کر کھیل رہی تھی
وہ لڑکا بنا سمت کا تعین کئے اندھا دھند بھاگنے لگا تھا وہ کافی دیر مسلسل بھاگنے کے بعد سانس بحال کرنے رک گیا تھا چھتری وہ پھینک چکا تھا وہ بری طرح بھیگ چکا تھا اور ابھی بھی بارش زوروں پر تھی
اس نےآنکھیں بند کئے خود کو پر سکون کر نے کے بعد جیسے ہی آنکھیں کھولیں بجلی کی تیز کڑک سے پورا آسمان روشن ہوا تھا اس کے پیر یہ دیکھ کر بے جان ہوۓ تھے کہ وہ اب بھی بيلا کی قبر کے سا منے کھڑا تھا ۔۔
اس نے پھٹی آنکھوں سے بے سود ہوتے پیچھے دیکھا تھا جہاں بہادر شاہ اور منی اسے کھڑے دیکھ رہے تھے
کوئی چیز اس کو اپنے پیٹ کے آر پار جاتی محسوس ہوئی تھی اس نے خود کو نیچے دیکھا تو یہ وہ ہی سیخ تھی جو اس نے منی کو صاف کرتے ہوۓ دیکھا تھا پھر کوئی چیز زور سے اس کے سر سے ٹکڑائی تھی جس سے خون کا فوارہ چھوٹا تھا
“چل اباں اس کی بیوی کی قبر کھول اس ہم جنس پرست کی مجھ پر ایک بوٹی بھی حرام ہے”
منی ہاتھ جھاڑ کر ایک قبر پر بیٹھ گئی تھی
“ابھی زندہ ہے مرنے تو دے منی”
بہادر شاہ اس کی جیکٹ اتارتا ہوا مصروف سا بولا تھا
“یہ اپنے جنس کے لوگوں سے جسمانی تعلق رکھتا
تھا ۔۔۔عورت میں تو اس کی دل چسپی ہی نہیں تھی پھر کیوں اس نے اس معصوم کو اپنی ظالم ماں اور بہنوں کو اپنے نام پر نوکرانی بنا کر دے دیا تھا ؟؟؟
“آخر ان کے رویے نے اس بیمار معصوم لڑکی کی جان لے لی ۔۔۔۔اباں ۔۔۔۔اس کی سانسیں چل بھی رہی ہیں تو دفنا دے اسےتا کہ اس کو اس درد اور گھٹن کا احساس ہو جو بيلا اس کی یاد اور اس کی ماں اور بہنوں کی نفرت میں کاٹتی رہی ہے ۔۔۔تھو ۔۔۔۔۔۔ہم جنسوں پر خدا کی لعنت ۔۔۔”
منی اس پر تھوک کر چلتی بنی تھی جبکہ بہادر شاہ نے اس کے لئے اس کی بیوی کی قبر کھودنا شروع کی تھی
وہ ہوش و حواس میں تھا سب سمجھ رہا تھا مگر پیٹ اور سر کی تکلیف کی وجہ سے کسی قسم کی مزاحمت سے قاصر تھا
بہادر شاہ نے جیسے ہی اس کی بیوی کی قبر کھولی اس میں سے بيلا کا قہقہ بلند ہوا تھا وہ اٹھ کر بیٹھ گئی تھی اس کا چہرہ نيلا سفيد تھا وہ دونوں باہیں پھیلاۓ بولی تھی
“آج انکار مت کرنا فاروق،میرے پاس آؤ”
فاروق کا رنگ اڑ چکا تھا وہ ڈر خوف اور تکلیف میں کسی ایک کی شدت کا اندازہ لگانے سے قاصر تھا
بہادر شاہ نے اسے اٹھا کر بيلا کی طرف گھسیٹا تھا وہ اپنی پوری طاقت جمع کر کے بھی کوئی خاطر خواہ مزاحمت نہیں کر پایا تھا
اس نے بيلا کے اوپر اسے لیٹا دیا تھا بيلا نے اس کا سر اپنے ہاتھوں میں پکڑ لیا تھا وہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے اسے دیکھ رہا تھا ایک دم اس کی شکل بھیانک ہوئی تھی وہ بھاگنا چاہتا تھا مگر قبر مٹی اور پانی سے بھرنے لگی تھی ۔۔۔
اب کی بار بجلی چمکنے پر ہلکی سی روشنی کی لکیر نظر ائی تھی پھر بہادر شاہ نے آخری مھٹی مٹی کی ڈالی اور قبر میں صرف بيلا کا بھیانک چہرہ ہی نظر آرہا تھا وہ اتنا ڈر ہوا تھا کہ پلکیں جھپکانا ہی بھول گیا تھا ۔۔۔ دھیرے دھیرے اس کے جسم سے جان نکلی تھی ۔۔۔لگ بھگ پوری رات وہ موت کی دعا مانگتا رہا ۔۔ . مگر گناہ جس کا وہ مرتكب رہا تھا ۔۔۔ایسے میں تو ۔۔۔موت کو مہربان ہوتے بھی وقت لگا کرتا ہے ۔۔۔۔۔
بہادر شاہ واپس جھونپڑی میں آیا تھا جہاں منی سو رہی تھی وہ بھی آ کر لیٹ گیا تھا
