Barish by Jameela Nawab Readelle 50375 Barish Episode 14
Rate this Novel
Barish Episode 14
Barish by Jameela Nawab
آج سلطانہ کو ایک خاص اور اہم چلا کاٹنے قبرستان جانا تھا مگر اس کی طبیعت پورا دن خراب رہی ۔۔۔۔
رات کے 12بج رہے تھے ہلکی ہلکی بوندا باندی ہو رہی تھی وہ پیٹ پر ہاتھ رکھے درد سے کراہتی ہوئی ننگے پير گھر سے نکلی تھی ۔۔۔۔
گُهپ اندھیرا ۔۔۔۔بارش کی ننھی بوندیں ۔۔۔۔۔دور کہیں چیل بولنے کی آواز پر وہ آسمان کی طرف دیکھتی اور تھوڑا تیز چلنے کی کوشش کرتی مگر درد زور پکڑ رہا تھا وہ بمشکل ایک گلی میں پہنچی تھی جب اس كو اب کسی دوسری مدد گار عورت کی ضرورت پیش آئی تھی ۔۔۔
رات کے اس پہر کسی عورت کا گھر سے باہر ہونا ممکن نہیں تھا وہ درد سے بے چین سامنے موجود گھر کا دروازہ کھٹکھٹا کر ادھر ہی بیٹھ گئی تھی ۔۔۔
اندر سے کسی بچے کے رونے کی آواز آ رہی تھی
“سو جا ۔۔۔۔سو جا ۔۔۔میرا بیٹا ۔۔۔سو جا ۔۔۔”
کسی ماں کی اپنے بیٹے کو چپ کروانے کی آواز برابر آ رہی تھی ۔۔
“بہو ۔۔۔۔یہ ایسے نہیں سوۓ گا اس کا پیٹ پھولا ہوا ہے ۔۔۔تمہیں کہا بھی تھا ابھی بہت چھوٹا ہے مت چھڑواؤ اپنا دودھ ۔۔۔”
ایک نسوانی آواز سلطانہ کے کان سے ٹکڑائی تھی
تیز ہوا ۔۔۔۔اور ساتھ ہی بارش بھی تیز ہوگئی تھی ۔۔۔
سلطانہ نے دروازے زور دے کر دبايا تھا ۔۔۔۔درد تھا کہ بڑھتا جا رہا تھا ۔۔۔
وہ بوڑھی عورت دروازے پر آ کر کون ہے اس وقت پوچھ رہی تھی ۔۔۔
“میری طبیعت بہت خراب ہے ۔۔۔مجھے ۔۔۔مجھے مدد کی ضرورت ہے ۔۔۔وہ پیٹ پر دونوں ہاتھ رکھے کرب سے بمشکل بول پائی تھی ۔۔۔
اس بوڑھی عورت نے بسمہ اللّه پڑھ کر دروازہ کھول دیا تھا ۔۔۔
“سفورا ۔۔۔۔سفورا ۔۔۔بیٹا جلدی آؤ ۔۔۔سعد کو اس کے باپ کو پکڑا کر ۔۔ “
ساس نے سلطانہ کا ہاتھ پکڑ کر اسے اندر کیا تھا ۔۔۔
سفورا چہرے پر ناگواری لئے ادھر آئی تھی سلطانہ کا آخری وقت قریب تھا وہ دونوں جلدی سے اسے ایک گودام نما کمرے میں جہاں ایک ٹوٹی سی چار پائی پڑی تھی لے آئی تھیں کیوں کہ اس کے علاوہ دو ہی کمرے تھے ایک میں سسر اور دوسرے میں سعد کے ابو لیٹے ہوۓ تھے ۔۔۔۔
سفورا اور اس کی ساس نے اس کے پاس موجود تھیں ۔۔۔
وہ مشکل اور کٹھن وقت گزرا تھا اور ایک بچے کے رونے کی تیز آواز بارش میں شامل ہوئی تھی ۔۔۔
سلطانہ طویل تکلیف کی وجہ سے غنودگی میں چلی تھی ۔۔۔
سفورا کی ساس نے بچی کو نہلا دھلا کر گود میں اٹھایا اور سعد کے باپ کے پاس گئی تھی ۔۔جو سعد کو چپ کروانے میں لگے ہوۓ تھے ۔۔
“چل میرا پتر سعد کو مجھے دے دے اس بچی کے کان میں آزان دے ۔۔۔اس کو بتا ۔۔ اس کا خالق دونوں جہان کا بادشاہ ہے ۔۔۔۔اس کو بتا ۔۔۔یہ ایک مسلمان گھر میں پیدا ہوئی ہے ۔۔ “
سعد اپنے جیسی چھوٹی چیز کو دیکھ کر پہلے حیران پھر خوش ہوا تھا وہ چہرے پر مسکراہٹ لئے اس بچی کو دیکھ رہا تھا سعد کی عمر تب ڈیڑھ سال تھی ۔۔۔
سعد کے ابو نے اذان دے کر اس کپڑے میں لپٹی بچی کے ماتھے پر بوسہ دے کر اپنی ماں کو پکڑا دی تھی اب اس نے بچی کو سعد کے پاس بستر پر لیٹا دیا تھا سعد اس کو ڈر ڈر کر ہاتھ لگاتا پھر ایک دم پیچھے ہٹ جاتا ۔۔۔وہ کھلکھلا کر ہنس رہا تھا اس کی دادی سعد کی الماری میں سے سعد کا ایک پرانا جوڑا نکال کر اس بچی کو پہنا رہی تھیں ۔۔۔
سلطانہ اس بات سے بے نیاز کے اس کی اولاد کیا پیدا ہوئی ہے کافی راتوں کی جاگی سکون سے سو چکی تھی ۔۔۔سفورا اس کی صفائی ستھرائی کر کے اس کے اوپر رضائی ڈال آئی تھی ۔۔۔
وہ جب آئی تو اس کی ساس سعد کا فيڈر دھو کر اسی کا ڈبے والا دودھ بنا کر اس کو پلا رہی تھی ۔۔ جبکہ سعد اس کا ننھا ہاتھ پکڑتا پھر شرما کر دادی کے پیچھے چھپ جاتا ۔۔۔
“خالا سعد کا فیڈر اس کو دینے کی کیا ضرورت تھی ؟؟؟”
وہ غصے اور بد لحاظی سے بولی تھی
“ارے بہو ۔۔۔۔تو کیا کرتی ۔۔۔۔بچی بھوک سے نڈھال ہو رہی تھی اس کی ماں تو سب گھوڑے گدھے بیچ کر سو گئی ہے ۔۔ اوپر سے صبح کے تین بج رہے ہیں ۔۔۔طوفانی بارش ۔۔ ورنہ میں سعد کے ابا کو بھیج کر سب نیا منگوا لیتی ۔۔۔”
وہ پر سکون سے اس بچی کا ماتھا چوم کر بول رہی تھیں ۔۔
“اور تم ابھی تک جاگ رہے ہو ۔۔چلو اٹھو ۔۔۔دماغ خراب کر کے رکھا ہے میرا تم سب نے مل کر ۔۔ “
وہ اپنے شوہر سعد کے باپ کی طرف جتا کر بولی تھیں وہ نفی میں افسوس ملی نظروں سے سفورا کو دیکھتے ہوۓ سر ہلا کر سونے لیٹ گئے تھے ۔۔
دادی اس بچی کو اپنے کمرے میں لے گئی تھیں سعد اس کے پیچھے اداس سا دیکھتا ہوا ماں کی گود میں سو گیا تھا
صبح دادی نماز پڑھ کر دوبارہ سو گئی تھیں جبکہ بارش اب بھی جل تھل مچائے ہوۓ تھی دن کے آٹھ بجنے کو تھے آج چونکہ اتوار کا دن تھا سعد کے ابو کی بھی چھٹی تھی ۔۔۔سفورا کو ایک دم رات والی اس عورت کا خیال آیا تھا وہ سوئے ہوۓ سعد کے اوپر لحاف ٹھیک کر کے اس گودام کی طرف گئی تھی اس سے پہلے کے وہ اندر جاتی ۔۔ اندر سے آتی آواز نے اس کے قدم روک لئے تھے ۔۔
“میں بس دوپہر تک آ جاؤں گی ۔۔۔۔تم ان دونوں کے همزاد پر خاص نظر رکھو ۔۔”
“وہ جگہ ہم بہت جلد چھوڑنے والے ہیں ۔۔ “
سلطانہ کی آواز سفورا کے کانوں سے ٹکرائی تھی سفورا نے ایک کالا سایہ اس گودام سے نکل کر باہر جاتا دیکھا تھا جو ان کے صحن میں لگے برگد کے درخت سے ہوتا ہوا غائب ہوا تھا ۔۔
سفورا کو شروع سے ہی اس قسم کی عجیب و غریب چیزوں کے بارے میں جاننے کا بہت شوق تھا وہ خوشی خوشی اندر گئی تھی جہاں سلطانہ آرام سے سو رہی تھی ۔۔۔
وہ اپنے اس وہم پر حیران تھی ۔۔۔کہ اگر یہ سو رہی تھی تو ابھی وہ آواز اور سایا ۔۔۔۔
“باجی ۔۔۔۔”
وہ سلطانہ کے پاس بیٹھ کر اس کو جگاتے ہوۓ بولی تھی ۔ ۔۔
“هممم ۔۔۔۔۔۔وہ کہتی ہوئی کچھ یاد آنے پر فورا اٹھ کر بیٹھی تھی ۔۔۔۔
سفورا کو لگا اسے اپنی ولاد کی فکر نے اٹھا دیا ہے مگر اصل بات رات والے عمل کا ادھورا رہ جانا تھا ۔۔۔
“اٹھ گئی میری دھی چل اب اپنی بیٹی کو اپنے سینے کی گرمی دے ۔۔ تا کہ تمہاری ممتا کو چین آجائے ۔۔۔”
اسی وقت دادی بچی کو اٹھاۓ اندر آئی تھیں لفظ بچی سن کر سلطانہ کے چہرے پر ناگواری آئی تھی ۔۔۔مگر وہ مسکرا کر اس کو اپنی گود میں لے کر بیٹھ گئی تھی ۔۔
“بارش رک گئی ہے کیا ؟؟میں اب گھر جاؤں گی ۔۔۔اس کے ابو پریشان ہو رہے ہوں گے ۔۔۔”
سلطانہ نے بات بنائی تھی ۔۔۔
“ہاں ہاں کیوں نہیں بیٹا ۔۔ مگر تم اتنی رات کو اس حالت میں باہر آئی کیوں تھی ؟؟”
دادی نے خلوص سے پوچھا تھا جبکہ سفورا کو یخنی چڑھانے اور ناشتے کا انتظام کرنے بھیجا تھا جس پر وہ ایک نظر غصے کی اپنی ساس پر ڈال کر چلی گئی تھی
“وہ ۔۔۔۔دراصل مجھے نیند میں چلنے کی عادت ہے ۔۔ روز وہ تالا لگا کر سوتے ہیں رات بھول گئے تو میں ۔۔۔نکل آئی ۔۔ “
سلطانہ نے بہت خوبصورتی سے جھوٹ بولا تھا ساتھ ساتھ وہ بچی کو دبا رہی تھی بچی ایک دم زور زور سے چیخنے لگی تھی دادی نے اسے اپنی گود میں لے کر چپ کروایا تھا اب وہ اسے ادھر سے اپنے کمرے میں لے آئی تھیں جہاں اسے فیڈر بنا کر سعد کے ساتھ لیٹا دیا تھا سعد نے آنکھ کھلتے ہی اس ننھے وجود کو اپنے پاس دیکھ کر اس پر ہاتھ رکھ کر وہ دوبارہ سو گیا تھا
سلطانہ کی جان دادی کے سوالوں اور اس بچی سے ایک ساتھ چھوٹ گئی تھی ۔۔۔
سفورا یخنی اور نا شتہ لائی تھی سلطانہ وہ کھا کر اب جانے کے لئے اٹھی تھی کیوں کہ بارش بھی تھم چکی تھی ۔۔۔
اس سے پہلے کے دوبارہ بارش آتی وہ گھر پہنچنا چاہتی تھی
وہ اس بچی کو اٹھا کر اس گھر سے نکل گئی تھی جبکہ سعد نے اس بچی کے جانے پر رو رو کر پورا گھر سر پر اٹھا لیا تھا وہ دروازے کی طرف ہاتھ کر کر کر دونوں ہاتھ منہ پر رکھ کر روتا رہا ۔۔۔
بارش تھمنے كی وجہ سے بہت سے لوگ گهروں سے نکل کر اپنے کام نپٹانے باہر آ چکے تھے ۔۔۔سلطانہ کافی آگے آ کر ایک خالی گلی میں مڑی تھی جہاں اس وقت کوئی نہیں تھا وہاں دو گهروں کے درمیان ایک گھر کی جگہ خالی تھی جس جگہ کو محلے والوں نے کچرا کنڈی بنا دیا تھا دو تین محلوں کا کچرا ادھر ہی پھینکا جاتا ۔۔۔۔
اس نے کسی کو بھی اپنی طرف متوجہ نا ہونے کی تسلی کی اور اس بچی کو اس ڈھیر پر لیٹا دیا ۔۔۔وہ پر سکون سی اپنا انگوٹھا چوس رہی تھی ۔۔
سلطانہ اب تیزی سے اپنی منزل پر پہنچی تھی ۔۔۔زچکگی کے بعد کا اب اسے ایک خاص عمل کرنا تھا ۔۔۔
وہ اپنے کمرے میں موجود دونوں تابوتوں کے پاس گئی تھی ان پر ایک خاص پانی ڈال کر اب وہ کچھ پڑھنے بیٹھ گئی تھی ۔۔۔
زچگی کے پہلے چالیس دن اسے خاص شیطانی عبادت کرنی تھی ۔۔۔جس سے اس کی طاقت میں اضافہ ہونا تھا ۔۔۔۔اب اس کا ارادہ کسی آبادی والی جگہ پر شفٹ ہو کر اپنے علم سے لوگوں کے ناجائز کام کر کے پیسہ كمانا تھا ۔۔۔
ایسا ہی ہوا ۔۔۔۔اس نے چالیس دن پورے ہوتے ہی آبادی سے تھوڑا دور کچی روڈ پر پرویز کی جمع کمائی سے ایک گھر لیا تھا ۔۔۔
بہت جلد ہی اس کا چرچا ہوا تھا ۔۔۔۔اور اسے
“باجی”
کے نام سے جانا جانے لگا ۔۔۔۔۔
بیشک ۔۔۔۔ساری بات رجحان کی ہوا کرتی ہے ۔۔۔اپنے مطلب کا بندہ ۔۔۔۔پاتال میں بھی مل جاتا ہے ۔۔۔۔”۔
۔**************
سعدیہ اور مدثر بے ولاد تھے بہت علاج کے باوجود بھی وہ اس خوشی سے محروم رہے تھے ۔۔۔مدثر واپڈا میں ملازم تھا ۔۔۔
گھر اپنا تھا ۔۔۔سرکاری نوکری ۔۔۔بجلی فری تھی ۔۔ گھر میں ہر آسائش تھی ۔۔۔بس اولاد کا غم ان سب سہولتوں کا مزہ کرکرا کر دیتا ۔۔۔
سعدیہ مدثر کے لئے ناشتہ بنا کر اس کے پاس بیٹھ گئی تھی ۔۔۔آج وہ معمول سے زیادہ اداس اور چپ چپ تھی ۔۔۔۔۔جس کی وجہ مدثر سمجھ گیا تھا ۔۔
وہ ناشتہ چھوڑ کر اس کا ہاتھ پکڑ کر بیٹھ گیا تھا
“دیکھو سعدیہ ۔۔۔اللّه نے سب دیا ہے ہمیں جس کا کوئی خواب دیکھتا ہے ۔۔۔اگر اولاد نہیں دی تو اس میں بھی کوئی مصلحت ھوگی ۔۔۔۔اللّه کی رضا میں جو خوش نہیں ہوتا نا ۔۔۔اللّه اس سے ناراض ہو جاتا ہے۔۔۔
حدیث قدسی (مفہوم)
“اے ابن آدم !
ایک تیری چاہت ہے اور ایک میری چاہت ہے۔ہوگا تو وہ ہی جو میری چاہت ہے ۔پس اگر تو نے سپرد کردیا
خود کو ،اس کے جو میری چاہت ہے ۔
تو میں بخش دوں گا تجھے وہ،جو تیری چاہت ہے، اور اگر تو نے تو گردانہ کی اس سے، جو ہے میری چاہت ہے، تو میں تھکا دوں گا تجھ کو اس میں جو یہے تیری چاہت، پس ۔۔۔۔۔ھر ہوگا وہ ہی جو میری چاہت ہے ۔”
مدثر نے اسے اللّه کی رضا میں قائل کرنا چاہا تھا ۔۔
“ہم بچہ گود لے لیتے ہیں مدثر ۔۔۔خاندان میں کوئی ایسا نہیں جو ہمیں اپنا بچہ دے۔ ۔۔آپ ایسا کریں آج ہی میرے ساتھ چلیں ہم ایدھی سینٹر سے بچہ گود لے لیتے ۔۔۔۔ہمارا گھر مکمل ہو جائے گا ہیں نا ؟؟میری ممتا کو بھی سکون آ جائے گا آپ ناشتہ کریں پھر چلتے ہیں ؟؟؟”
وہ خوشی سے چہک کر بولی تھی ۔ .
“میری جان ایدھی والے بہت سخت شرائط پر بچہ گود دیتے ہیں ۔۔۔۔بہت مشکل ہے ۔۔۔وہاں سے بچا ملنا ۔۔۔۔چلو میں ناشتہ کر لوں پھر اپنے ایک دوست کے پاس سے ہو کر آتا ہوں اس کا کام مختلف فلاحی اداروں کے ساتھ ہے ۔۔۔وہ کچھ اچھا اور بہتر حل بتا سکے گا ۔۔ “
سعدیہ نے پوری خوشی سے رضامندی دی تھی ۔۔ اب وہ خوشی خوشی ناشتہ کرنے لگے تھے ۔۔۔
مدثر آپ ایسا کریں پہلے نکر والے بابے سے سبزی لا دیں پھر دوست کے پاس چلے جایئں ۔۔۔آپ کی واپسی پر میں بھی فارغ ہو جاؤں گی ۔۔۔پھر ہم اپنی بیٹی لینے ساتھ چلیں گے ۔۔ “
سعدیہ برتن اٹھاتے ہوۓ بولی تھی جبکہ مدثر بائیک پر ٹاکی لگا رہا تھا ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی جبکہ بارش کسی خاص وقت کی منتظر ُرکی ہوئی تھی ۔۔۔
“بیٹی ؟؟؟”بیٹا کیوں نہیں ؟؟”
مدثر نے حیرانگی سے پوچھا تھا
“جی مدثر ۔۔۔میری کوئی بہن نہیں تھی ۔۔۔امی بھی بہت جلدی چلی گئی ۔۔ مجھے بیٹی چاہیے وہ میری بیسٹ فرینڈ بنے گی ۔۔۔۔میری همراز ۔۔۔۔آپ کی چغلیاں کرنے کے لئے کوئی تو ہونا چاہیے ۔۔۔”
وہ دل سے خوش ہوتے ہوۓ بولی تھی
“هاهاهاهاها ۔۔۔ واہ بھئ ۔۔۔مجھ سے عدوت ،پلس ۔۔۔۔بغاوت کی تیاری ۔۔۔۔۔میں ایسا کروں گا تم دونوں کے بیچ سے نکل جاؤں گا ۔۔۔پھر تم اکیلی کڑھتی رہنا اپنی بیٹی كی ساتھ “
مذاق میں کی گئی یہ بات ۔۔۔۔فرشتہ سن چکا تھا ۔۔ اس نے اس پر آمین بولا تھا ۔۔۔اسی لئے کہتے ہیں مذاق میں بھی غلط بات ۔۔ کوئی بد دعا نہیں دینی چاہیے ۔۔۔۔وقتِ قبولیت ۔۔۔۔۔کبھی بھی ہو سکتا ہے ۔۔۔
وہ بیوقوف میاں بیوی اس بات پر بھی دل کھول کر ہنسے تھے مدثر باہر سبزی لینے چلا گیا تھا سعدیہ کچن میں برتن دھونے بیٹھ گئی تھی ۔۔۔وہ ابھی ایک برتن ہی دھو پائی تھی جب مدثر سعدیہ سعدیہ کرتا واپس آیا تھا سعدیہ ہاتھ دوپٹے سے سکھاتی کچن سے نکلی تھی
مدثر کے ہاتھ میں چند گهنٹوں کی لڑکوں کے کپڑے پہنے ایک بچی پکڑے ہوۓ تھی ۔۔۔جو آنکھیں کھولے مدثر کو بغور دیکھ رہی تھی
“سعدیہ ۔۔۔۔ہماری بیٹی ۔۔۔۔۔یہ ۔۔۔۔کوئی ظالم ادھر کوڑے میں پھینک گیا ہے ۔۔ “
وہ خوشی اور دکھ کے ملے جلے جذبات لئے نم آنکھوں اور بھاری آواز سے بول رہا تھا وہ اس کو چومتا جاتا اور شرٹ کے كف سے آنسو پونچھتا جاتا ۔۔
وہ دونوں بچی کو دیکھ کے مسلسل رو رہے تھے بچی کو اندر لانے کی دیر تھی بارش نے زور پکڑ لیا تھا ۔۔۔
“واہ اللّه تیری قدرت ۔۔۔۔کہیں تو کوئی اولاد کے لئے دن رات ترس رہا ہے اور کسی کے لئے اتنی فالتو چیز ہے کہ نو ماہ پیٹ میں رکھ کر بھی اس کے دل میں اس کی محبت نہیں جاگی ۔،۔۔۔۔”
سعدیہ بچی کو گود میں اٹھاے روتے روتے بولی تھی ۔۔
وہ دونوں بہت خوش تھے سعدیہ اور مدثر نے اس بچی کا نام مناہل رکھا تھا ۔۔۔
لوگ آ آ کر مبارک باد دیتے ۔۔۔۔۔انہوں نے محلہ بھر میں مٹھایاں بانٹی تھیں کچھ لوگ دل سے ان کی بھری گود دیکھ کر خوش تھے تو کچھ حسد کا شکار دل میں بغض رکھے محض منہ سے خوشی کا اظہار کر کے چلتے بنے ۔۔۔
کہتے ہیں اگر اللّه کوئی دعا قبول نہیں کر رہا تو اس کے لئے ضد نا کریں کیوں کہ آپ نہیں جانتے کہ اس دعا کو پورا نا کر کے اللّه نے اس کے بدلے میں آپ کو کس کس نعمت سے نوازا ہے ۔۔۔مگر انسان کبھی بھی اس مصلحت کو نہیں سمجھنا چاہتا ۔۔۔یہی ادھر ہوا تھا ۔۔
سعدیہ کو اولاد دے کر اللّه نے شوہر کا ساتھ لے لیا تھا ۔۔۔
پندرہ دن ہی گزرے تھے جب اس کی موت کرنٹ لگنے سے ہوئی تھی ۔۔۔اس کی میت صحن میں پڑی تھی سعدیہ چپ چاپ مناہل کو گود میں اٹھائے اسے محض دیکھ رہی تھی اس کے کانوں میں بار بار مدثر کا قہقہ اور وہ الفاظ گونج رہے تھے ۔۔۔۔
” هاهاهاهاها میں ایسا کروں گا تم دونوں کے بیچ سے نکل جاؤں گا ۔۔۔”
“نہیں ۔۔۔۔۔۔نہیں۔۔۔۔آپ نہیں کر سکتے ایسا ۔۔۔۔میں کبھی نہیں معاف کروں گی آپ کو مدثر ۔۔۔۔کس کے سہا رے چھوڑ کر جارہے ہیں ہمیں ۔۔۔ اللّه کے بعد تو کوئی نہیں تھا ہمارا ۔۔،مدثر ۔۔۔۔۔”
وہ چیخ کر تکلیف کی آخری حد لئے ہوۓ تھے بادل زور سے گرجے تھے ۔۔۔بارش نے زور پکڑلیا تھا ۔۔۔۔آدمیوں نے جلدی سے میت برآمدے میں كی تھی سعدیہ بیہوش ہو گئی تھی کچھ عورتیں مناہل کو گود میں لے کر سعدیہ کو ہوش میں لانے کی کوشش کر رہی تھیں ۔۔۔
وقت تھم سا گیا تھا ۔۔۔سعدیہ ہر وقت مناہل کو گود میں اٹھائے رکھتی ۔۔۔۔
وہ گھر کا کام جیسے تیسے نپٹا کر مناہل کے ساتھ مدثر کی باتیں کرتی مگر کچھ لوگوں کی زبان نے اس سے یہ خوشی بھی لے لی ۔۔۔
ایسا ہی ایک دن تھا جب کوئی رشتہ دار خاتون سعدیہ کے پاس آئی تھی مگر اسے لوٹا پوٹا ویران دیکھنے کی بجاۓ مناہل کے ساتھ خوش دیکھ کے اس کے کلیجے میں مانو سانپ لوٹے تھے ۔۔۔اس کی زبان فورا حرکت میں آئی تھی ۔۔۔
“میرا دل تو سعدیہ تمہاری حالت دیکھ کر منہ کو آتا ہے ۔۔۔کسے پل بھر میں سہاگن سے بیوگی ۔۔۔۔۔”
وہ دوپٹہ منہ پر رکھ کر رونا روکنے کی ایکٹنگ کرتے ہوۓ بولی تھی ۔۔۔
سعدیہ جو مناہل کو پیار کر رہی تھی ایک دم اس کی بات سے اداس ہوئی تھی ۔۔۔اس کا زخم کو ایک بار پھر کریده گیا تھا ۔۔۔اس کی آنکھیں آنسووں سے دھندلی ہوئی تھیں ۔۔۔
“جانے یہ منحوس کس کا گناہ ہے ۔۔۔۔تمہارا شوہر کھا گئی ۔۔۔۔اور تم ہو کے اپنی مجرم کو سینے سے لگا کر بیٹھ گئی ہو ۔۔۔نکال باہر کرو ۔۔۔ویسے تم سے مجھے اس بیوقوفی کی ذرا برابر بھی امید نہیں تھی سعدیہ ۔۔۔”
“اللّه توبہ ۔۔۔پتہ نہیں پیدا ہوتے ہی ادھر اپنے ماں باپ کے ساتھ اس جنم جلی نے کیا کیا کیا ہوگا ۔۔۔تبھی ۔۔۔تبھی تو انہوں نے بھی نکال باہر کیا ورنہ لڑکی ذات ۔۔۔ہیں ۔۔۔لڑکی ذات اپنی عزت کون ایسے پھینکتا ہے ۔۔۔”
وہ کانوں کو ہاتھ لگا لگا کر سعدیہ کے سر پر ہاتھ پهير کر اب سعدیہ کے تاثرات دیکھ رہی تھی جس سے اس کو تیر نشانے پر لگتا نظر آ چکا تھا ۔۔۔
اب وہ خاموشی سے چاۓ کے موٹے موٹے گھونٹ بھرتی شیطانی مسکراہٹ لئے باہر موسم کا جائزہ لے رہی تھی ۔۔۔
وہ دن تھا ۔۔۔۔جب سعدیہ کے دل میں مناہل کے لئے نفرت کا بیج بوگیا تھا ۔۔۔وہ اب بھی مناہل کا ہر کام کرتی مگر ممتا والی گرمی کہیں کھو گئی تھی ۔۔۔
جب مناہل بولنے لگی اس نے سعدیہ کو امی کہا وہ دل ہی دل میں بہت خوش ہوئی مگر اس کے دل میں مناہل کے لئے ایک فاصلہ آ چکا تھا ۔۔
اسے جب بھی اپنی بیوگی کا احساس ہوتا وہ بلا وجہ کے مناہل کو ڈانٹتی ۔۔۔تھوڑی بڑی ہوئی تو مارتی بھی ۔۔ مناہل گھر کا ہر کام سعدیہ کوخوش کرنے کے لئے کرتی مگر اس نے سعدیہ کی آنکھوں میں کبھی اس محبت کو نہیں دیکھا جو وہ اس ماں میں چاہتی تھی ۔۔۔۔
کسی کے چند جملوں نے ایک ماں سے اس کی بیٹی اور ایک بیٹی سے اس کی ماں چھین لی تھی ۔۔۔
سعدیہ کو شوہر کے ڈیوٹی کے دوران موت واقعہ ہونے کی وجہ سے ایک بڑی رقم ملی تھی ۔۔۔پینشن الگ ۔۔۔ بجلی تا عمر فری تھی ۔۔وہ سودا سلف لانے مناہل کو بھیجتی وہ سعدت مند اولاد چپ چاپ ماں کا ہر حکم بجا لاتی گھر کا کام بھی کرتی اور رات کو سعدیہ کو اس کے سو جانے تک دباتی ۔۔۔وہ جب بھی امی کہتی سعدیہ اسے نفرت سے اس کو کیسی کا گناہ کہتی اور اسے سزا کے طور بارش میں نکال دیتی ۔۔۔
مناہل ساری ساری رات بارش میں بھیگ کر صحن میں گزار دیتی ۔۔۔آہستہ آہستہ بارش نے اسے اپنا لیا ۔۔۔۔وہ بارش کے ساتھ اپنے دل کی ہر بات کرتی۔ ۔۔۔اسی دوران سعدیہ نے اس کا ایڈمشن ایک سركاری اسکول میں کروا دیا تھا ۔۔۔وہ میٹرک کر چکی تھی اور اب وہ 17سال کی تھی ۔۔۔
سعدیہ ہر وقت کھانستی رہتی ۔۔۔۔اسے ٹی۔بی ہو چکی تھی ۔۔۔اور جس اسٹیج پر اس کی تشخیص ہوئی تھی اس کا علاج ممکن نہیں تھا ۔۔۔پھیپھڑے بری طرح متاثر ہوۓ تھے ۔۔
اسی دوران سفورا تک ایک پریشان حال ماں کا حال پہنچا تھا جو ایک جوڑے میں اپنی بیٹی کی شادی کرنا چاہتی تھی ۔۔۔
وہ سفورا کو مناہل کی اصلیت بتا چکی تھی ۔۔۔جس پر اس کو کوئی اعتراض نہیں تھا ۔۔۔
نکاح ہو چکا تھا اب سفورا اور سعد مناہل کے منتظر تھے ۔۔۔
مناہل سادہ سا لال جوڑا پہنے سعدیہ کے پاس کمرے میں آئی تھی جو ۔۔منہ پر ہاتھ رکھے لیٹی ہوئی تھی ۔۔
وہ سعدیہ کے پاؤں پکڑ کر چپ چاپ آنسو بہا رہی تھی ۔۔
“آپ ۔۔۔آپ بیمار ہیں ۔۔۔۔آپ کا ہر حکم میرے لئے خدا رسول کے بعد افضل ہے ۔۔۔مگر ابھی اپ کو میری ضرورت تھی ۔۔۔۔آپ کا خیال کون رکھے گا ۔۔۔اپ خود سے کوئی بھی کام ۔۔۔۔نہیں کر سکتیں ۔۔۔میں ۔۔۔۔میں ۔۔۔آپ کو بہت زیادہ یاد کروں گی ۔۔۔”
“آپ کو اس طرح بیمار چھوڑ کر کیسے جاؤں ؟؟؟؟”
وہ درد سے چیخی تھی ۔۔۔وہ سعدیہ کے پیروں پر سر رکھ کر دیوانہ وار رو رہی تھی سعدیہ نے منہ سے ہاتھ ہٹا کر اس کی طرف دیکھا تھا
“مناہل ۔۔۔۔”
“جی ۔۔۔۔”
وہ فورا اٹھ کر سعدیہ کے پاس سر کی طرف نیچے بیٹھ گئی تھی
“میں یہ بات خدا کو حاضر ناظر جان کر کہتی ہوں جتنی تم نے میری خدمت کی ہے میری پیٹ سے نکلی اولاد بھی ہوتی تو وہ بھی نا کرتی ۔۔۔”
مناہل نے سعدیہ کا ہاتھ بھری آنکھوں سے چوم لیا تھا
“میں جانتی تھی ۔۔۔تم آج بھی اتنی ہی معصوم ہو جتنی جب مدثر تمہیں لے کر آئے تھے تب ۔۔۔۔۔۔میں تمہیں مار کرڈانٹ کر خود بھی ہمیشہ اذیت میں رہی ہوں ۔۔۔جانتی ہو میں تمہیں بارش میں معصومیت سے پہلے روتا اور پھر اس سے باتیں کرتا دیکھ بہت روتی ۔۔۔۔۔۔میری آنکھیں بھی اس بارش کے ساتھ برستی تھیں ۔۔۔”
“میرا مرض بہت بڑھ چکا ہے ۔۔”
“مجھے ڈاکٹر نے صاف کہا ہے ۔۔۔اب ہم کچھ نہیں کر سکتے ۔۔۔زندگی موت خدا کے ہاتھ میں ہے مگر ۔۔۔مجھے خود بھی محسوس ہوتا ہے میں اندر سے ختم ہو چکی ہوں ۔۔۔۔مجھے بہت پچھتاوا ہے ۔۔۔وہ خالہ جن کے چند جملے مجھے ہر بار تمہارے پاس آ نے سے روک لیتے تھے ۔۔۔۔آج ۔۔ آج اتنا عرصہ گزر گیا مگر ان چند باتوں کی گونج میرے کانوں میں آتی ہے ۔۔۔وہ کب کی چل بسی ۔۔ کاش ہم کسی کو کوئی مشورہ دیتے ہوۓ ایک بار ضرور سوچ لیں کہ ہمارے چند الفاظ کسی سے اس کی زندگی کا مطلب چھین سکتے ہیں ۔۔۔۔۔میں تم سے بہت محبت کرتی ہوں مناہل ۔۔۔اپنی اس ۔۔۔۔۔۔دکھی ۔۔۔۔۔ماں کو معاف کر دینا ۔۔۔”
لفظ ماں سن کر مناہل کے رونے میں اور بھی شدت آئی تھی سعدیہ دونوں ہاتھ جوڑے زور قطار رو رہی تھی ۔۔۔
“میں ۔۔۔۔میں ۔۔ آپ کو امی ۔۔ “
مناہل نے ان کے سینے پر سر رکھ کر پوچھا تھا ۔۔
“ہاں ۔۔۔میری بچی ۔۔۔بولوں ۔۔ میری روح کو سکون ملے ۔۔ “
“امی۔۔۔۔۔”
مناہل نے ماں کو بیٹھا کر اس کو اپنی باہنوں میں بھینچ لیا تھا ۔۔۔۔
ماں بیٹی نے جی بھر کر غبار نکالا تھا ۔۔
“مناہل میں ۔۔۔اپنا سب تمہارے نام کر چکی ہوں ۔۔۔بنک میں کچھ لاکھ ۔۔ یہ گھر ۔۔۔۔یہ سب میرے بعد تمہارا ہے ۔۔۔۔میں نے اس کے کاغذ اپنی وصیت ۔۔۔بنک کے لوکر میں ركهوا دی ہے ۔۔ تم کبھی بھی یہاں رہ سکتی ہو ۔۔ “
یاد رکھنا مناہل میری جان ۔۔۔تم لاوارث نہیں تھی ۔۔۔یہ گھر میں نے وصیت میں تمہارے نام لکھ کر ثابت کیا ہے ۔۔۔تم بلکل ویسی بیٹی ثابت ہوئی ہو جیسی میں اپنے رب سے مانگا کرتی تھی ۔۔۔بیشک تم جیسی فرمابردار اولاد قسمت والوں کو ملا کرتی ہے ۔۔۔تم ضرور میری کسی نيكی کا صلہ ہو ۔۔۔کسی کی وجہ سے کسی کی موت نہیں ہوتی ۔۔۔۔مدثر کا وقت مقرر تھا وہ میری بد بختی نہیں تھی مگر جس طرح تم نے مجھے سنبھالا ۔۔۔۔وہ میری خوش بختی ضرور تھی ۔۔۔”
سعدیہ دیوانہ وار مناہل کا منہ چوم رہی تھی ۔۔اس کی ممتا نے آج اسے رخصت کرتے ہوۓ بے بسی سے جوش مارا تھا ۔۔۔افسوس آج 18سال بعد اس رشتہ دار عورت کی ان چند جملوں کا سحر ٹوٹا تھا ۔۔ افسوس ۔۔۔۔
“ارے ۔۔۔جلدی کرو ۔۔۔۔بارش تیز ہو رهی ہے ۔۔ “
سفورا ماں بیٹی کو لپٹا دیکھ کر غصے سے بولی تھی ۔۔۔
“جا ۔۔۔جا میری بچی اللّه تمہیں دنیا جہاں کی خوشیاں دے ۔۔۔تم ہمیشہ آباد رہو ۔۔۔۔”
مناہل ماں کی دعا کے ساتھ روتی دھوتی سعد کے ہمراہ چلی گئی تھی ۔۔۔
مناہل کی شادی کو ایک ہفتہ ہی ہوا تھا جب سعدیہ کی تکلیف ختم ہوئی تھی ۔۔۔اور وہ اپنے مدثر کے پاس چلی گئی تھی ۔۔۔۔
مناہل کو سعد نے سنبهالا تھا ۔۔۔ایک طرح مناہل کی فکر اللّه نے ختم کی تھی وہ ہر وقت سعدیہ کے لئے پریشان رہتی ۔۔۔جب آپ کسی کی تکلیف کا خاتمہ نا کر سکتے ہو ۔۔۔تو اس کی موت ۔۔۔۔دل میں صبر اور سکون ڈال دیتی ہے ۔۔۔
تیز بارش ۔۔۔۔۔۔سکون ۔۔۔آخری آرام گاہ ۔۔
۔**************
(یہ سین مناہل کی پیدائش کے چالیس دن بعد باجی کے دوسری جگہ شفٹ ہو جانے کے بعد کے ہیں)
اس نئی باجی کی آمد کی خبر سفورا تک بھی پہنچی تھی ۔۔۔
وہ پہلی فرصت میں ہی ادھر گئی تھی ۔۔۔اس نے باجی کو فورا پہچان لیا تھا
بیٹی کا پوچھنے پر سلطانہ عرف باجی نے چند دن بعد اس کی موت کا بتا يا تھا ۔۔وجہ تیز بارش میں بھیگنے کی وجہ سے نمونیہ تھی ۔۔۔۔
سفورا باجی كی مریدی میں آ گئی تھی ۔۔۔وہ اس سے جادو سیکھنے لگی ۔۔۔طرح طرح کے شیطانی چیلے کاٹتی ۔۔۔انہی کے بل بوتے پر اس نے اپنے ساس سسر کو موت کی گھاٹ اتار دیا تھا ۔۔۔۔شوہر اسے اس شیطانی عمل سے روکتا ۔۔ یہ اس کی بھی دشمن بن گئی ۔۔۔۔
اس نے ایک تیر سے دو شکار کئے تھے ۔۔۔اس نے مختلف چیلے کاٹ کر اپنے ساس سسر اور شوہر کو ان خاص موقعوں پر بلی چڑھا کر خاص شکتیاں حاصل کی تھیں ۔۔۔
شوہر کی پینشن سے گھر چلتا رہا ۔۔۔باجی نے بہادر شاہ اور منی کے همزاد کا تابوت سفورا کو دے دیا تھا اور اس پر وہ خاص پانی روزانہ ڈالنے کی تاکید بھی سختی سے كی تھی ۔۔کیوں کہ اب باجی بہت بڑی عامل کے طور پر جانی جانے لگی تھی ۔۔۔اس کے آستانے پر جاہل اور کمزور عقیدے کی عورتوں کا تانتا بندھا رہتا ۔۔۔اس کو بہت سے کالےکام کرنے ہوتے اس ٹف روٹین میں اس کے لئے وقت نکالنا نا ممکن ہو چکا تھا لہذا یہ کام سفورا کو سونپ دیا گیا تھا جو وہ بلا نا غہ انجام دے رہی تھی ۔۔۔
وقت تیزی سے گزرتا گیا ۔۔۔۔سعد کی شادی ہوئی اور سفورا نے باجی کی مدد سے مناہل پر بھی جادو کروا کر قبر میں اتار دیا ۔۔۔
مگر روح ان دونوں کی بجاۓ کسی تیسری جگہ قيد ہو چکی تھی یہ کام اس موکل کا تھا جو اب مسلمان ہو چکا تھا اس نے اپنے صوفی بزرگ عالم كی مدد سے سفورا کے عمل کو نا کام کر دیا تھا ۔۔۔۔اور وہ روح اس پاک بزرگ کی حفاظت میں آ گئی تھی ۔۔۔۔چالیس دن گزرے اور وہ روح مناہل کے جسم میں چلی گئی ۔۔۔شیطان اس کا کچھ نا بگاڑ سکا ۔۔۔قبر پر سیل نا ہونے کی وجہ سے وہ آسانی سے اس کو پھاڑ پائی تھی ۔۔۔
منی نے اس کو نکلنے میں مدد کی تھی ۔۔۔وہ یہ جان چکی تھی کہ وہ اس کی سوتيلی بہن ہے مگر وہ فلحال اس سے زیادہ اس کی کوئی مدد نہیں کر سکتی تھی ۔۔۔
۔***************
(یہ سین تب کے ہیں جب سعد اور سفورا مناہل کو دفنا کر واپس گھر آۓ تھے ۔۔۔)
سعد دکھ سے بے حال تھا ۔۔۔بارش بھی زوروں پر تھی صبح ہونے کو تھی ۔۔۔صبح کے چار بج رہے تھے سفورا سعد سے نظر بچا کر باجی کی طرف نکلی تھی ۔۔
وہ جلدی جلدی تیز بارش كی پرواہ کئے بنا چلتی جا رہی تھی ۔۔
باجی کے گھر پہنچتے ہی اس نے شکر کیا تھا دروازہ کھلا تھا وہ تقریبا بھاگ کر اندر گئی تھی ۔۔۔
اندر کا منظر بہت ہولناک تھا باجی بے بس سی آنکھیں پھاڑے چھت کی طرف دیکھ رہی تھی اس کے جسم کا کوئی بھی حصہ نظر نہیں آ رہا تھا وہ ہی لال کیڑیاں جنہوں نے ایک بار سفورا کو بھی کاٹا تھا باجی کے پورے جسم پر کاٹ رہی تھیں اس کے جسم سے خون رس رہا تھا اور سوجن بھی ہو چکی تھی اس کا منہ کان ناک ہر جگہ انہی لال باریک کیڑیوں کی بھرمار تھی ۔۔
سفورا کو دیکھ کر اس نے کیڑیوں سے بھرا منہ بمشکل کھول کر بولنا شروع کیا تھا اس کی زبان اور ہونٹ بھی خون و خون اور سوجے ہوۓ تھے ۔۔
“سب ختم ۔۔۔سب ختم کر دیا توں نے سفورا ۔۔۔توں میرے ہاتھوں میری اپنی ہی اولاد ۔۔ کو مروانا چاہا ۔۔۔۔وہ ۔۔۔وہ اس پرویز كی اولاد تهی ۔۔ جیسے ہم جیسا کوئی مارنے كی پاداش میں اپنی ہی تباہی کو آواز دینا تھا ۔۔۔۔میں تباہ ہو گئی سفورا ۔۔۔تم جیسی کم عقل عورت پر بھروسہ کر کے ۔۔۔وہ عجیب سی آواز میں بہت مشکل سے ایک ایک لفظ بول رہی تھی کیڑیاں اب اس کے حلق میں گھس رہی تھیں ۔۔۔وہ اتنی تکلیف میں تھی کہ تکلیف کی آواز نکالنا بھی دو بھر ہو رہا تھا ۔۔۔
سفورا کراہت کی شکلیں بنا کر اس کی طرف حیرانگی اور خوفزدہ نظروں سے دیکھ رہی تھی ۔۔
“میرا ایسا کوئی نہیں ہے ۔۔۔جس سے میں محبت کرتی ہوں ۔۔۔اس کا عذاب سیدھا مجھ پر آیا ہے ۔۔۔مگر تمہاری جان تو تمہارے بیٹے میں ہے اب تم دیکھنا ۔۔۔وہ قطرہ قطرہ موت مرے گا ۔۔۔۔”
باجی نے کیڑیوں سے لبریز ہاتھ اوپر اٹھا کر کہا تھا
“باجی ۔۔۔باجی مجھ سے غلطی ہو گئی ہے ۔۔۔۔اب میں سب کیسے ٹھیک کروں ۔۔۔باجی ۔۔۔مجھے بتائیں ۔۔ “
سفورا ہاتھ جوڑ کر روتے ہوۓ بولی تھی . ۔
“پرویز ۔۔۔پرویز كی قبر پر جاؤ ۔۔۔۔اس سے معافی مانگو ۔۔۔”
باجی نے کی سانس اب تکلیف سے اکھڑنے لگی تھیں
“جاؤ ۔۔۔اپنا علم میں تمہیں سونپتی ہوں ۔۔۔تم سے اپنا بدلہ لینے كی اس سے بڑی کوئی سزا ہو ہی نہیں سکتی ۔۔۔۔۔اے شیطانی طاقتوں میں تم سب کو حکم دیتی ہوں ۔۔۔۔حکم دیتی ہوں ۔۔۔کہ آج سے تم سب سفورا کے ہر حکم کو بجا لاؤں گے اور اسی كی مریدی کرو گے ۔۔۔۔”
ایک کالا سایا باجی سے نکل کر سفورا میں جا گھسا تھا ۔۔۔سفورا خوف کے مارے بیہوش ہوگئی تھی ۔۔۔
باجی کی روح پرواز کر چکی تهی اس کا وجود اب بھی وہ ہی لال کیڑياں کھا رہی تھیں ۔۔
ان میں کچھ سفورا پر بھی چڑ چکی تھیں مگر وہ بیہوش تھی ۔۔۔
تیز بارش ۔۔۔۔۔شیطان ۔۔۔۔۔۔اور شیطان کا خوفناک انجام ۔۔۔
