442.5K
18

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Barish Episode 2

Barish by Jameela Nawab

دن چڑھ چکا تھا رات کی طوفانی بارش کی وجہ سے جگہ جگہ پانی کے جوہڑ بن گئے تھے کافی قبریں اندر دهنس گئی تھیں ابھی بھی سورج کا نام و نشان نہیں تھا ایسا لگ رہا تھا شام کا منظر ہے ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی جس میں نهنی بوندیں بھی شامل تھیں

“منی ؟؟؟؟”

چل اٹھ جا کھانا کھا لے ۔۔۔۔جلدی کر لے کوئی آ جائے گا جتنا کھا سکتی ہے کھا باقی دفنا دیتے ہیں “

بہادر شاہ رات والے دونوں آدمیوں کے سینے پر جھک کر ان کی دل کی دھڑکن چیک کرتے ہوۓ پاس سوئی منی کو اٹھا رہا تھا وہ سر كهجاتی ہوئی اٹھ بیٹھی تھی ۔۔۔

“اباں ۔۔۔سیدھا سیدھا چیک کر اگر جسم برف جیسا سرد ہے تو ہاتھ سے کھانا شروع کر دے ۔۔۔۔یہ کالی پینٹ والے کو ۔۔۔یہ جو پرانے کوٹ میں ہے اسے راستے پر پھینک دے ۔۔۔۔اس کو نہیں کھانا ہم نے یہ ہمارے مطلب کا نہیں ۔۔۔۔”

“منی رات سر میں ڈنڈے مار مار کر سلادیا تھا دونوں کو ۔۔۔۔اب سوچ رہا ہوں ۔۔۔۔جانے دیتا تو اچھا تھا ۔۔۔۔”

“وہ کیوں اباں ؟؟؟”

منی پاس آ کر بیٹھ گئی تھی ۔۔۔

“گو شت مزے کا نہیں لگ رہا دونوں کا ڈرائیور کے جسم کا سگرٹ کا ذائقہ ہوگا اور اس امیر کے گوشت میں نِری بغاوت اور حسد کی آمیزش ہوگی ۔۔۔۔اگلا شرابی بھی تھا ۔۔۔۔”

“اباں اس شرابی کا دل نکال کر دے مجھے ۔۔۔یہ کم عمر لگ رہا ہے ۔۔۔فلسفہ نہ جھاڑ اباں “

“اچھا چل پہلے اس ڈرائیور کو گاڑی میں چھوڑ آتے ہیں ۔۔۔۔رات کا سوچ کر یہ یہی سمجھے گا کوئی خواب دیکھا ہے ۔۔۔۔۔پھر اس امیر زادے کا دل اور جگر میں اپنی بیٹی کو دیتا ہوں ۔۔۔”

“ٹھیک ہے اباں ۔۔۔۔”

منی خوش ہوئی تھی وہ دونوں ڈرائیور کو اٹھا کر اس کی ایمبولینس میں چھوڑ آئے تھے اب وہ جلدی سے واپس آئے تھے جہاں وہ شخص ہوش کی دنیا میں واپس آ چکا تھا مگر سر میں چوٹ کی وجہ سے وہ سر کو پکڑ کر بیٹھا ہوا تھا خون ابھی بھی اس کے سر سے بہہ رہا تھا کپڑے گیلے ہونے کی وجہ سے وہ سارے کپڑوں میں پھیل چکا تھا ۔۔۔۔وہ صورت حال سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا اسی لمحے وہ دونوں باپ بیٹی وہاں پہنچے تھے ۔۔۔

اس سے پہلے کے وہ کوئی مزاحمت کرتا منی اس کی گردن پر جهپٹ گئی تھی جبکہ باپ نے اس کے سر پر ڈنڈوں کی بارش کر دی تھی ۔۔۔

“تھو ۔۔۔۔اباں ذرا بھی مزے کا نہیں اس کا خون ۔۔۔۔۔اتنا نشہ کرتا رہا ہے کہ خون کی مٹھاس ہی غائب ہے ۔۔۔چل دفنا کر آتے ہیں ۔۔۔۔اپنے بھائی کے پاس پہنچ گیا یہ تو ۔۔۔۔”

منی بد مزہ سی اس کے مردہ وجود کو پیچھے جھٹک کے بولی تھی

“جهلی اس کا دل تجھے نکال کر دیتا ہوں وہ تو کھالے”

بہادر شاہ نے کسی بھیڑیے کی طرح اسے چیر پھاڑ کر اس کا دل نکالا تھا اب منی اسے سیخ پر لگا کر بھون رہی تھی

بہادر شاہ اس کا باقی ماندہ وجود اكهٹا کر رہا تھا وہ جھونپڑی میں موجود ایک چھوٹے سے بكسے سے کفن نکال کر اس میں اب اسے لپیٹ رہا تھا

“اباں دل مزے کا ہے لگتا ہے بہت ہی گناہ گار تھا دل کی ہر فرمائش پوری کی تھی دل کو خوش رکھتا تھا”

وہ آنکھیں بند کیئے مزہ لیتے ہوۓ بولی تھی

“ہاہاہاہاہا ۔۔۔۔چل اسے دفنا کر آتے ہیں تا کہ فرشتے اس کی کاروائی شروع کریں ۔۔۔۔جہنمی سالا ۔۔۔”

“اباں کفن کیوں ضائع کیا اس پر ؟؟؟یہ کفن کا حقدار تو نہیں لگتا اپنا سگا بھائی اغوا کر کے مروا دیا اس نے اور پھر بنا جنازے کے کسی جانور کی طرح دفنا دیا رات کے اندهیرے میں کسی گناہ کی طرح ۔۔۔۔”

“منی کفن کا حق ہم نہیں چھین سکتے کسی سے ۔۔۔۔ہم نے بس اپنا کام کرنا تھا کر لیا ۔۔۔چل ٹھکانے لگاکر آتے ہیں ۔۔۔۔۔وہ ہی مٹی جسے یہ مہذب انسان بھول گیا تھا

هاهاهاهاها۔۔۔۔۔

وہ بھول گیا تھا وہ یہ دولت اگر اپنے بھائی سے چھین سکتا تھا تو اپنی قسمت میں لکھنے کا اختیار تھوڑی ہے اس کے پاس ۔۔۔جیسی کرنی ویسی بهرنی “

بہادر شاہ نے خوفناک قہقہ لگایا تھا

وہ دونوں اسے اس کی بھائی کی قبر میں موجود تابوت میں اسے اس کے اوپر لٹا کر دفنا رہے تھے جب دور سے ایک جنازہ آتا نظر آیا تھا دونوں نے تیزی سے اپنا کام نپٹا کر اپنی جھونپڑی کا رخ کیا تھا

منی نے جھونپڑی کی حالت درست کی تھی جبکہ بہادر شاہ دروازے میں آنے والے جنازے کا منتظر تھا دو آدمی اس کے پاس آۓ تھے

“یہاں کے گورکن تم ہو ؟؟؟؟”

بہادر شاہ کا قہقہ بلند ہوا تھا ۔۔۔۔

۔****************

“امی ؟؟؟”

“یہ سامان سنبھال لیں اور کھانا دے دیں مجھے بہت بھوک لگی ہے”

سعد دروازہ بند کر کے اندر آیا تھا جبکہ سفورا کمرے میں خاموش بیٹھی تھی

“امی ؟؟؟”

وہ اپنے گرد راکھ کا دائرہ سا بنا کر سر نیچے کیئے بیٹھی ہوئی تھی اس نے لال آنکھوں سے سعد کی طرف دیکھا تھا اور اپنی انگلی ہونٹوں پر رکھ کر چپ رہنے کا اشارہ کیا تھا سعد نے ناگواری سے دیکھ کر خود ہی کچن سے کھانا لے کر کھانے لگا تھا

وہ کھانا کھا کر واپس کمرے میں آیا تھا جہاں سفورا اب جھاڑو سے راکھ صاف کر رہی تھی اوپر سے شام کی اذان ہونے کو تھی

“امی ۔۔۔۔آپ نے پھر شروع کر دیا یہ سب ؟”

“قاری صاحب نے منع کیا تھا نا اس سب سے ؟؟؟؟”

سفورا بنا کوئی جواب دیئے اپنا کام مکمل کر کے سعد کے ساتھ آ کر بیٹھی تھی

“سعد کتنی بار کہا ہے جب میں یہ سب کر رہی ہوتی ہوں تو مجھ سے کوئی بات مت کیا کرو ۔۔۔۔ذرا سا دھیان ہٹا اور سارے موکل غائب…۔۔آج بھی کوئی خبر نہیں دی ۔۔۔۔”

“کیسی خبر امی ؟؟؟آخر کیا چل رہا ہے یہ سب ؟؟؟”جب مناہل زندہ تھی تب آپ کہتی تھی اس کے علاج کے لئے یہ سب کر رہی ہوں وہ تو پھر بھی چلتی پھرتی چلی گئی میری زندگی سے پھر اب یہ سب کس لئے ؟؟؟”

“وہ خاص قوتیں ہیں سعد انسان نہیں ہیں جو کام پورا ہو جانے پر رقم دی اور جان چھڑوا لی۔۔۔۔ وہ چیزیں اتنی جلدی پیچھا نہیں چھوڑتیں ان کی بات سننی پڑتی ہے خبر رکھنی پڑتی ہے اگر ایسا نہ کیا جائے تو وہ آپ کے خلاف ہو کر کسی اور کی وفاداری میں آپ کو نقصان پہنچا سکتی ہیں ۔۔۔۔”

“امی ہمیشہ آپ شام کی اذان کے وقت اور رات کے بارہ بجے ہی یہ سب کیوں لے کر بیٹھ جاتی ہیں ان اوقات میں ویسے ہی دل تنگ ہوتا ہے بندے کا اور آپ یہ سب کر کے اور پریشان کر دیتی ہیں مجھے ۔۔۔”

سعد برسوں کا بیمار لگ رہا تھا جب سے اس کی بیوی مناہل اس دنیا سے اچانک گئی تھی وہ تب سے سو نہیں پایا تھا وہ بے چین تھا ۔۔۔ وہ مضطرب سا بس اپنے حصے کی سانسیں پوری کر رہا تھا ۔۔۔

وہ زرد چہرہ لئے اپنا بستر ٹھیک کر کے منہ پر ہاتھ رکھے اداس سا لیٹ گیا تھا دن بہ دن اس کی صحت گر رہی تھی جس نے سفورا کو سخت پریشان کر رکھا تھا

اب سفورا بڑی سی موٹے موٹے بڑے دانوں والی تسبیح لئے کچھ پڑھ رہی تھی وہ ہر بار سركل پورا ہو جانے پر سعد کو پھونک مار دیتی ۔۔۔سعد نے ایک نظر ماں کو یہ عمل کرتے دیکھا ۔۔۔

ایک آنسو اس کی آنکھوں سے نکل کر گال پر آیا تھا آج اسے مناہل شدت سے یاد آ رہی تھی ۔۔۔وہ ماضی میں کھوگیا تھا

“مناہل ؟؟؟؟میری مناہل ؟؟؟؟”

“کدھر ہو تم ؟؟؟سموسے لایا ہوں ساتھ پودینے کی چٹنی بھی ہے بس بارش آنے والی ہے پھر بارش میں بھیگ بھیگ کر کھائیں گے ۔۔۔”

سعد نے حسب عادت بنا مناہل کو دیکھے کچن میں سامان رکھتے ہوۓ اپنا پورا پروگرام بتایا تھا

سفورا خاموش کھڑی اپنے اكلوتے بیٹے کی اپنی کل کی آئی بیوی کے لئے دیوانگی دیکھ رہی تھی

“امی ؟؟؟کدھر ہے آپ کے سعد کی جان ؟؟؟”رات کے8بج رہے ہیں اوپر سے موسم بھی خراب ہے “

“ماں کو پکڑا دیتا یہ سب سعد، ضروری ہے کہ ہر چیز اس کے ہاتھ میں ہی تهمائی جائے ۔۔۔ایک مہنے تک تو امی امی کرتا نہیں تهكتا تھا اور اب ماں سامنے کھڑی بھی نظر نہیں آ رہی ؟؟؟”

سعد نے شاپر رکھ کر ماں کے گرد بازو حائل کر کے ان کو پیار سے چارپائی پر بیٹھا کر خود ان کے قدموں میں دونوں ہاتھ پکڑ کر بیٹھ گیا تھا

“امی آپ میری جنت ہیں اور جنت کا کسی کے ساتھ کیا جوڑ ؟؟؟اپ میرے دل کی ٹھنڈک ہیں آپ بہت معتبر ہیں میرے لئے آپ ایسی چھوٹی بات کر کے مجھے گناہ گار مت کیا کریں پلیز امی۔۔۔۔وہ وہ ہی لڑکی ہے جیسے میں نے نکاح والے دن ہی دیکھا تھا بس وہ مکمل طور پر فقط آپ کی پسند تھی پھر اگر میں آپ کی پسند کو محبت کرنے لگا ہوں تو اس میں غلط تو کچھ نہیں نا میری پیاری امی ۔۔۔۔۔میں بہت خوش ہوں بہت زیادہ ۔۔۔۔ایسا لگتا ہے میں اب جینے لگا ہوں ۔۔۔اور یہ سب آپ کی وجہ سے ہے سراسر آپ کی وجہ سے ۔۔۔تو کیا اپ مجھے خوش دیکھ کر خوش نہیں ؟؟؟”

سفورا کسی گہری سوچ میں تھی اس نے محض مسکرا کر سر ہلایا تھا

“میری پیاری امی”

سعد نے ماں کے ماتھے پر بوسہ دیا تھا دھول اڑاتا ہوا کا طوفان آ چکا تھا صحن میں موجود برگد کا درخت جھومنے لگا تھا

سعد تیزی سے سیڑھیاں چڑھ کر چھت پر گیا تھا جہاں مناہل گم سم سی آسمان کی طرف دیکھ رہی تھی اس کا دوپٹہ ہوا میں اڑ کر کسی اور کی چھت پر جانے والا تھا جب سعد نے اسے پکڑ کر مناہل کے گرد لپیٹا تھا وہ سعد کو دیکھ کر مسکرائی تھی ۔۔۔

“ارے آ گئے آپ ؟؟؟”

“جی ۔۔۔۔سموسے لایا ہوں”

“واو ۔۔۔۔۔۔چلیں نیچے چلتے ہیں ۔۔۔بارش تیز ہو جائے بس پھر کھاتے ہیں ۔۔۔۔”

وہ کسی بچے کی طرح خوشی سے اچھل کر بولی تھی

بارش کی نهنی بوندیں دھیرے دھیرے تیز ہونے لگی تھیں وہ دونوں نيم گیلی حالت میں ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے نیچے اترے تھے جہاں سفورا ہاتھ میں تسبیح تیزی سے گھوماتی ان کی طرف سپاٹ چہرہ لئے دیکھ رہی تھی

سعد اور مناہل ایک دوسرے میں اتنے مگن تھے کہ ان کو سفورا کی کوئی خبر نہیں تھی ایک دم بجلی زور سے کڑکی تھی جس نے رات کو دن میں بدلہ تھا پورا صحن اور برگد کا درخت پتا پتا روشن ہوا تھا ساتھ ہی بارش نے بھی زور پکڑ لیا تھا جس کے ساتھ ہی علاقے کی بجلی بھی غائب ہوئی تھی

مناہل بھاگ کر کچن میں آئی تھی وہ دو سموسوں کو چٹنی میں ڈبو کر ہاتھ میں اٹھاۓبمسکراتی ہوئی سعد کے پاس آئی تھی جو مکمل طور پر بھیگ چکا تھا

“منہ کھوليں سعد”

وہ پیار سے اسے ایک بائٹ دے کے پھر خود لے کر خوشی سے اچھلی تھی دونوں بہت خوش تھے وہ آسمان کی طرف دیکھ کر یک زبان چلا چلا کر بول رہے تھے

“اللّه اور تیز ۔۔،۔۔اور تیز کر دیں بارش ۔۔۔۔اللّه آج ساری رات بارش ختم نا ہو ۔۔۔۔۔”

وہ دیوانہ وار اس برگد کے درخت کے گرد چکر کاٹ کر ایک دوسرے کے آگے پیچھے بھاگ رہے تھے ان کی خوشی کے قہقے اس تیز بارش میں بھی آواز پیدا کر رہے تھے ۔۔۔

بجلی ایک بار پھر زور سے کڑکی تھی مناہل کے گرد کالے برقعے والی بہت سی عورتیں نظر آئی تھیں جیسے دیکھ کر سفورا کے چہرے پر مسکراہٹ ایک دم گہری ہو گئی تھی ۔۔۔۔۔

_______________________

منی کی آنکھ بھوک سے کھل گئی تھی وہ باپ کو سوتا دیکھ کر اکیلی ہی قبرستان کی طرف نکل گئی تھی ہلکی ہلکی بارش اب بھی ہو رہی تھی وہ مختلف قبروں پر ہاتھ سے ان کی مٹی کو چھو کر ان کی عمر کا اندازہ لگا رہی تھی کیوں کہ روز روز کی بارش سے ساری قبریں ایک جیسی ہی لگتی تھیں نئی پرانی سب کی سب خستہ حالت میں ہو جاتی تھیں۔۔۔

وہ سر كهجاتی رات کے اس پہر کیچڑ زدہ زمین پر ایسے چل رہی تھی گویا کسی پارک میں ہو بنا کسی ڈر اور خوف کے ۔۔۔

بجلی کی کڑک سے پورا قبرستان روشن ہوا تھا منی کی نظر ایک قبر پر پڑی تھی جو بارش کی وجہ سے اندر گرگئی تھی اس کے اندر موجود سفيد گارے زدہ کفن بجلی کی چمک میں صاف نظر آیا تھا مگر بات یہ نہیں تھی جس نے منی کو وہاں رکنے پر مجبور کیا تھا ۔۔۔

“اس کفن سے باہر حرکت کرتا ہاتھ اس کی توجہ کا مرکز بنا تھا وہ نسوانی ہاتھ تھا جو خود پر مٹی ہٹانے کی جدوجہد میں تھا وہ جو بھی تھی وہ چیخ بھی رہی تھی ۔۔۔

“مجھے سانس نہیں آ رہی ۔۔۔۔مجھے باہر نکالو ۔۔۔۔کوئی ہے ؟؟؟میری مدد کرو ۔۔۔۔خدا کے لئے ۔۔ میں زندہ ہوں ۔۔۔۔۔میں زندہ ہوں ۔۔۔۔۔مجھے بچا لو کوئی ۔۔۔۔میری آنکھیں گيلی مٹی سے بھری ہوئی ہیں ۔۔۔میری سانس ۔۔۔۔۔۔میرا دم گھٹ رہا ہے “

منی کے کانوں میں اس کی آواز صاف سنائی دی تھی

منی کی بھوک کا انتظام ہو چکا تھا وہ قہقہ لگا کر اس قبر کی جانب بڑھ رہی تھی ۔۔۔

بارش آہستہ آہستہ تیز ہو رہی تھی ۔۔۔۔