Barish by Jameela Nawab Readelle 50375 Barish Episode 3
Rate this Novel
Barish Episode 3
Barish by Jameela Nawab
منی نے اس لڑکی کو کھینچ کر قبر سے باہر نکلنے میں اس کی مدد کی تھی وہ گارے میں لت پت تھی بارش تیز ہو چکی تھی وہ لڑکی زمین پر اپنی آنکھیں سختی سے بھینچے آڑھی ترچھی لیٹ گئی تھی ۔۔۔
تیز بارش کی بوندیں اس کو گویا دھو رہی تھیں اس کا چہرہ مٹی سے پاک ہو چکا تھا اس نے آنکھیں کھول کر اپنے محسن کو دیکھنا چاہا تھا مگر وہاں وہ قبرستان کے وسط میں رات کے اس پہر تنہا تھی
وہ اٹھنے کی جدوجہد کرنے لگی مگر جسم میں کمزوری اتنی تھی کہ اس نے اس کا وزن اٹھانے سے معزرت کردی تھی
وہ رینگی رینگتی اس طوفانی بارش میں کچھ قبریں عبور کر کے آگے آئی تھی۔۔۔
بجلی بار بار چمک رہی تھی جس سے پورا قبرستان خوفناک حد تک روشن ہو جاتا ۔۔۔
اس طوفانی بارش میں وہ کفن میں لیپٹا وجود جو کسی بچے کی طرح کرولنگ کر رہا تھا جو شروع کے مہںنوں میں ایک جگہ سے دوسری جگہ جانا سیکھتا ہے ۔۔۔۔۔
وہ کھڑی ہو کر اپنی جگہ کا تعین کرنا چاہتی تھی وہ اپنی پوری طاقت جمع کر کے ایک قبر کا نسبتا بلند تختہ پکڑ کر کھڑی ہونے میں کامیاب ہوئی تھی اس نے دوسرے ہاتھ سے خود پے لیپٹے کفن کو پکڑ رکھا تھا دور کہیں سے فجر کی اذان کی آواز سنائی دی تھی جیسے سنتے ہی وہ خوشی سے رونے لگی تھی ۔۔۔
اللّه ہو اکبر ۔۔۔۔۔اللّه ہو اکبر ۔۔۔۔
اس نے موذن کی پکار پر جواب دیا تھا ۔۔۔۔وہ اپنے کانوں کو زور زور سے تھپڑ مار کر اس آواز کا یقین کر رہی تھی ۔۔۔۔
“یا اللّه ۔۔ سنا تھا اذان مرنے کے بعد سنائی نہیں دیتی ۔۔۔۔لوگ مر جانے کے بعد ترستے ہیں اس ایک اذان کی پکار سننے کے لئے ۔۔۔۔ نماز پڑھنے کے لئے ۔۔۔۔توں نے مجھے وہ آخری موقع دے دیا ؟؟؟؟مجھے ۔۔۔۔اذان ۔۔۔۔میں سن سکتی ہوں ۔۔۔ میں ۔۔۔ میں نماز پڑھ سکتی ہوں ۔۔۔۔اللّه ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں زندہ ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“میں زندہ ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں نماز پڑھ سکتی ہوں ۔۔۔۔۔۔”
وہ چیختے ہوۓ بلند آواز سے آسمان کی طرف دیکھ کر درد سے رونے لگی تھی تیز بارش سے اس کی آنکھیں درد کرنے لگی تھیں پانی کے قطرے كنكر کی طرح آنکھوں میں چبھ رہے تھے ۔۔۔
“میں زندہ ہوں ۔۔۔۔۔۔۔میں نے اذان سن لی ۔۔۔۔۔”
“میں ۔۔۔۔۔میں اب کوئی بھی نماز قضا نہیں کروں گی ۔۔۔۔۔”
وہ اب بیٹھ گئی تھی وہ دونوں ہاتھ ملا کر بارش کا پانی اكهٹا کرتی اور وضو کا کوئی فرض پورا کرتی تھوڑی ہی دیر میں وہ وضو مکمل کر چکی تھی اب وہ تیز طوفانی بارش میں نماز پڑھ رہی تھی اس کا جسم ٹھنڈ سے بری طرح ٹھٹھر رہا تھا اس نے بجتے دانتوں کے ساتھ نماز مکمل کی تھی وہ ایسے خوش ہو رہی تھی جیسے کوئی بہت بڑا خزانہ ہاتھ لگ گیا ہو ۔۔۔۔اس کے چہرے پر اس حالت میں بھی بلا کا سکون تھا وہ بار بار سجده کرتی اور آسمان کی طرف آتی تیز بوندوں کو فراموش کئے آسمان کی طرف سر اٹھا کر اللّه کو اپنی طرف سے تشکر سے دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔۔وہ یہ عمل بار بار دوہراتی اور مسکرا کر آسمان کی طرف دیکھتی ۔۔۔اس کی آنکھیں مزید لال ہو چکی تھیں مگر وہ اپنے رب میں اتنا کھو چکی تھی کہ اسے اس بات کی گویا کوئی خبر ہی نہیں تھی ، پرواہ تو دور کی بات ہے ۔۔۔
اس کا جسم مزید یہ ٹھنڈ برداشت کرنے سے قاصر تھا وہ اب کی بار سجدے میں جا کر واپس نہیں اٹھی تھی وہ بے ہوش ہو چکی تھی ۔۔۔
جب اس کی آنکھ کھلی تو اس نے خود کو گرم بستر میں پایا یہ ایک کچا کمرہ تھا جہاں پاس ہی کوئلے سلگا کر کمرے میں ٹھنڈ سے بچنے کا بندوبست کیا گیا تھا ۔۔۔کمرے میں ایک چارپائی اور بھی موجود تھی جسے دیکھ کر لگ رہا تھا کوئی یہاں رضائی میں لیٹا رہا ہے ۔۔۔کمرے میں جگہ جگہ مادھوری کی مختلف مشہور تصاویر لگی ہوئی تھیں جس میں وہ رقص کے خوبصورت انداز اپناۓ مسکرا رہی تھی ۔۔۔
اس نے خود کو دیکھا تو وہ ایک پرانا مگر صاف ستھرا جوڑا پہنے ہوۓ تھی بارش اب بھی ہو رہی تھی مگر اب رفتار کم ہو چکی تھی ۔۔۔
فضا میں چز کے آواز کے ساتھ پکوڑوں کی اشتعال انگیز خوشبو آنے لگی تھی ۔۔۔
وہ اٹھنا چاہتی تھی مگر نقاہت سے سر چکرا رہا تھا کمزوری ایسی کہ بولنا بھی کوئی بہت بڑا کام لگ رہا تھا ۔۔۔
وہ بے بس سی رضائی اوڑھ کر واپس آنکھیں موندے لیٹ گئی تھی جب اس کو کسی کا ہاتھ اپنے ماتھے پر محسوس ہوا تھا اس نے ڈر کر فورا آنکھیں کھول دی تھیں
“نا میرا بچہ ۔۔۔۔۔۔ڈرنا نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔جہاں تم ہو یہاں تمہیں کسی کا ڈر نہیں ہونا چاہیے ۔۔۔۔”
وہ اس کو پیار سے کسی چھوٹے بچے کی طرح پچکار کر پر سکون کر رہی تھی۔۔۔
“چلو اٹھو گرم گرم پکوڑے کھاتے ہیں ساتھ گرم نان اور پودینے کی چٹنی بھی بنائی ہے ۔۔۔چلو اٹھو ہاتھ دھو لو ۔۔۔”
اس بات پر اس لڑکی کی آنکھوں میں آنسو آۓ تھے
“میں اٹھ نہیں سکتی۔۔۔جسم میں جان نہیں ۔۔۔۔ہے ۔۔۔”
وہ بہت درد سے بہت آہستہ آہستہ بولی تھی
“تو کوئی بات نہیں ۔۔۔۔میں ہاتھ دھو دیتی ہوں ۔۔۔ اپنی بنو کو ۔۔۔ابھی لاتی ہوں پانی ۔۔۔”
وہ فورا ایک لوٹے میں پانی لائی تھی
اسے سہارا دے کر بیٹھایا تھا اور اب ہاتھ دھونے لگی تھی وہ اس لڑکی کے ۔۔۔۔
“چلو ۔۔۔اب تم لیٹنا مت میں کھانا لاتی ہوں ۔۔۔۔مجھ بد نصیب کو آج کافی دنوں بعد کسی کا ساتھ ملا ہے ۔۔۔”
وہ دونوں ہاتھوں سے تالی مار کر خوشی سے بولی تھی اس نے ایک پرانا سا خستہ حال ٹیبل لا کر اس کے آگے رکھ کر اپنے گلے میں رسی کی طرح جھولتے دوپٹے سے اس کو صاف کیا تھا ۔۔
پھر وہ ایک ادا سے ایک ٹوٹی سے پلیٹ میں اخبار میں پکوڑے رکھ کر لائی تھی وہ چاہتی تو سب دو چکر میں لا سکتی تھی مگر وہ ایک ایک چیز لچک لچک کر چلتی ہوئی لا رہی تھی ۔۔۔ایسا لگ رہا تھا وہ ناچ رہی ہے ۔۔۔
“چل میری تتلی کھا کر بتا پھر کیسے بنے ہیں؟؟”
وہ دوسری چارپائی آ گے کر کے اس پر چونکڑا مار کر مزے سے بیٹھ گئی تھی
اس لڑکی نے ایک نوالہ لے کر اس نيم خواجہ سرا لڑکی جس کی شکل لڑکی جیسی مگر آواز کسی مرد جیسی تھی اس کی طرف دیکھا تھا جو تعریف کی منتظر اسے تاک رہی تھی
“اچھے ہیں ۔۔۔۔بہت مزے کے ۔۔ “
وہ مسکرا کر بولی تھی تعریف سن کر وہ کھل گئی تھی وہ بیٹھی بیٹھی مانو خوشی سے جھوم گئی تھی
“گرو جی کو بھی بہت پسند تھے میرے ہاتھ کے پکوڑے ۔۔۔۔ادھر بارش کی پہلی بوند گری اور ادھر گرو جی کی پکوڑوں کی فرمائش…..وہ کہا کرتی تھیں ۔۔۔مدھو تو مکمل عورت ہوتی تو تیرا گھر والا تیرے پکوڑوں پر ہی لٹو ہو جاتا ۔۔۔۔تیرا گھر پکوڑوں کی وجہ سے بسا رہتا ۔۔۔۔۔بھلا کبھی کھانے کی چیز سے بھی گھر بسا کرتے ہیں ؟؟؟بس گرو جی کی محبت کا اظہار کا اپنا ہی انداز تھا ۔۔۔۔”
اس کی آنکھوں میں نمی آئی تھی گرو کے ذکر پر ۔۔۔۔”
“چل کھا میری رانی ۔۔۔پتہ نہیں کب سے بھوکی ہوگی توں ۔۔۔۔”
اب وہ خود بھی خاموشی سے کھانے لگی تھی وہ ہر نوالا اچھی طرح سکون سے کافی دیر چبا کر کھاتی پھر دوسرا لیتی ۔۔۔اس نے پورا کھانا کسی مہذب لڑکی کی طرح کھایا تھا بلکل خاموشی میں ۔۔۔کھانا کھانے کے بعد وہ دعا کے انداز میں سر پر دوپٹہ ڈال کر کافی دیر تک اللّه کا شکر ادا کرتی رہی وہ اس ایک وقت کے کھانے پر ایسے شکر گزار ہو رہی تھی جیسے یہ بہت بڑی نعمت ہو ۔۔۔۔وہ شکر کرتی رج نہیں رہی تھی ۔۔۔پھر اس لڑکی پر نظر پڑتے وہ دوپٹہ واپس گلے میں ڈالتے ہوۓ بولی تھی
“ہاتھ کیوں روک لیا بنوں ؟؟؟؟”
“بس ۔۔ اور نہیں کھا سکتی ۔۔۔۔”
“چلو لیٹ جاؤ پھر میں برتن دھو کر آتی ہوں”
وہ کچھ دیر بعد واپس آ کر دوپٹے سے ہاتھ خشک کرتی رضائی میں گھس کر بیٹھ گئی تھی باہر بارش آہستہ آہستہ تیز ہو رہی تھی مگر کمرے میں موجود انگھیٹی کی وجہ سے کمرہ خاصا گرم اور پر سکون تھا
“میرا نام مدھو ہے ۔۔۔۔۔گرو نے رکھا ہے ۔۔۔وہ کہتی تھیں میں ان کی مادھوری ہوں ۔۔۔۔میں ان کو ناچتی ہوئی بلکل ویسے ہی پکی لگتی تھی ۔۔۔۔بس پھر ۔۔۔۔یہی نام پکا ہو گیا میرا ۔۔۔ “
وہ ہاتھ لہرا لہرا کر دل چسپ انداز میں بولی تھی ۔۔۔
“تیرا نام کیا ہے رانی ؟؟؟؟”
اس سوال پر وہ لڑکی پریشان ہوئی تھی ۔۔۔وہ سہم سی گئی تھی
“کیا ہوا بنوں ؟؟؟؟”
“آپ کسی کو بھی میرا نام بتاو گی تو نہیں ؟؟؟”
وہ سر گوشی میں تھوڑا آ گے ہو کر گویا ہوئی تھی
“لے ۔۔۔۔مجھ سے کس نے پوچھنا ۔۔۔۔۔چل پوچھے گا بھی کوئی تو نہیں بتاؤ گی ۔۔۔۔گرو کی قسم ۔۔۔”
وہ شہہ رگ کو ہاتھ سے دبا کر بولی تھی ۔۔۔
“مناہل ۔۔۔۔۔مناہل ہے میرا نام “
۔***************
صبح ہو چکی تھی سعد اپنی چارپائی پر سر پکڑ کر بیٹھا ہوا تھا
سفورا اس کے پاس آ کر بیٹھی تھی
“سعد ناشتہ تیار ہے چلو منہ ہاتھ دھو لو”
“امی ۔۔۔۔”
وہ دونوں ہاتھ سے اپنا چہرے چھپائے بولا تھا
“جی میرا بیٹا ؟؟؟”
“امی ۔۔۔۔مناہل تو آپ کے عمل سے بہتر ہو گئی تھی نا وہ میرے ساتھ بلکل پہلے کی طرح باتیں بھی کرنے لگی تھی میں اس دن اسے بھلا چنگا چھوڑ کر گیا تھا مجھے اچھی طرح یاد ہے وہ بہت خوش تھی اس دن کہہ رہی تھی آج بارش میں ضرور نہائیں گے تم گھر جلدی آجانا ۔۔۔۔پھر جب میں آیا تو وہ مری ہوئی تھی ۔۔۔۔امی دن میں ایسا کیا ہوا تھا ؟؟؟وہ کیسے مری تھی ؟؟؟”
اس بات پر سفورا کا رنگ اڑا تھا
“بیٹا ۔۔۔سعد میری جان میرے بتا دینے سے کیا ہو گا ؟؟؟وہ زندہ ہو جائے گی ان سب سوالوں سے ؟؟؟”
“مت سوچا کرو اس کے بارے میں ،میں جلد ہی تمہارے لئے کوئی لڑکی دیکھتی ہوں ۔۔۔۔پہلے بھی میری پسند تمہاری محبت بن گئی تھی نا ؟؟؟اس بار بھی تمہارا دل جیت لے گی وہ ۔۔۔۔”
“امی ۔۔۔۔”
وہ دونوں ہاتھ جھٹک کر ضبط سے بولا تھا
“امی ۔۔۔۔انسان تھی وہ جیتی جاگتی انسان ۔۔۔۔۔اس کی جگہ کوئی نہیں لے سکتا ۔۔۔۔۔میں محبت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔محبت کرتا تھا اس سے ۔۔۔۔۔۔صرف بیوی نہیں تھی وہ میری ۔۔۔۔۔”
وہ کسی بچے کی طرح رونے لگا تھا سفورا اس کے ساتھ آ کر بیٹھ گئی تھی
“سعد ۔۔۔۔۔مت تکلیف دیا کرو اپنی ماں کو ۔۔۔۔بیٹا اس کو دوبارہ دورہ پڑا تھا اپنے دونوں ہاتھ گلے پر رکھ کر چیخ رہی تھی میں چھت پر تھی میں جب تک نیچے آتی وہ اپنا گلا دبا کر
بے جان ہو چکی تھی ۔۔۔۔”
“بس اس کا ساتھ اتنا ہی لکھا تھا تمہارے ساتھ ۔۔۔بس بھول جاؤ اسے ۔۔۔۔”
سفورا اب مسلسل کچھ پڑھنے لگی تھی
“امی پھر وہ روز میرے خواب میں کیوں آتی ہے ۔۔۔وہ روتی ہے ۔۔۔مجھے اپنے پاس آنے کا کہتی ہے ۔۔۔۔جب اس سے پوچھتا ہوں کہ کیا کمی رہ گئی تھی میری چاہت میں ۔۔۔کیوں چھین لیا مجھ سے خود کو تو اس کے رونے میں مزيد تیزی آ جاتی ہے ۔۔۔وہ کہتی ہے ۔۔۔میرے پاس آجاؤ ۔۔۔۔امی وہاں تیز بارش ہو رہی ہے ۔۔۔۔وہ اس بارش میں دیوانہ وار روتے ہوۓ مجھے اپنے پاس بلاتی ہے وہ جب بھی مجھے کچھ بتانے لگتی ہے آپ ہر بار مجھے اٹھا دیتی ہیں ۔۔۔۔میں نہیں جان پا رہا ۔۔۔۔۔یہ سوال ۔۔میرا دماغ پھٹ جائے گا ۔۔۔۔”
وہ اپنی کنپٹی پر ہاتھ رکھ کر اپنا سر سہلا رہا تھا
وہ دوبارہ رضائی اوڑھ کر لیٹ گیا تھا صحن میں صبح کے وقت بھی اندھیرا سا چھایا ہوا تھا ۔۔۔۔
آج پھر اس کو اذیت دینے کے لئے بارش آنے کو تیار تھی ۔۔۔
وہ اپنا سینہ مسلنے لگا تھا ۔۔۔۔
۔************
سفورا قبرستان میں تیز تیز قدموں سے چل رہی تھی رات کا کوئی پہر تھا ۔۔۔۔ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی بارش کے بعد کی مٹی کی سوندھی سوندھی خوشبو ناک کو بهلی لگ رہی تھی ۔۔۔۔ہوا کبھی تیز ہو جاتی کبھی ایک دم رک جاتی ۔۔۔
سفورا نے آج بھی کفن پہن رکھا تھا وہ وقت دیکھتی اور اس کی رفتار میں اضافہ ہو جاتا ۔۔۔
وہ ڈری سہمی سی کوئی خاص قبر ڈھونڈ رہی تھی
“سفورا ؟؟؟؟؟”
“کدھر جا رہی ہے سفورا ؟؟؟”
اس کے عقب سے کسی کی آواز آئی تھی اس کی سانسیں تیز ہو گئی تھیں وہ بنا دیکھے بولی تھی
“کون ہے وہاں ؟؟؟؟میرا پیچھا مت کرو تم جو بھی ہو میرا کام جیسے ہی ختم ہوا میں یہاں آنا چھوڑ دوں گی ۔۔۔”
وہ گھبرائی سی بول رہی تھی پھر وہ منہ میں کچھ پڑھنے لگی تھی جس سے وہ آواز دوبارہ نہیں آئی تھی
اس نے تشکر کی لمبی سانس کھینچی تھی اب وہ گھڑی دیکھ کر تقریبا بھاگنے لگی تھی
اس کے کانوں میں ایسی آوازیں آنے لگی تھیں جیسے بہت سی عورتیں ایک ساتھ رو رہی ہوں وہ بین ڈال رہیں تھیں سفورا کا دل اس آواز سے منہ کو آیا تھا اس نے ہمت کر کے پیچھے دیکھا تھا
کالے لباس میں ملبوس بہت سی عورتیں ایک میت کے اردگرد بال کھولے بین ڈال کر رو رہیں تھیں ان کے چہرے اتنے بھیانک تھے کہ ان کی شناخت نا ممکن تھی ۔۔۔
میت پر کالی چادر ڈالی گئی تھی جس پر کوئی خاص زبان لکھی ہوئی تھی وہ زور قطار روتے ہوۓ ایک دم خاموش ہو گئیں تھیں اب وہ سر نیچے کئے بیٹھ گئیں تھیں وہ اونگھنے لگیں تھیں گویا سو رہی ہوں
سفورا بے چینی کا شکار ہوئی تھی وہ دبے پاؤں چلتے ہوۓ ان عورتوں کے درمیان میں آ گئی تھی اس نے کانپتے ہاتھوں سے اس کے اوپر سے چادر اٹھائی تھی وہ خود کو اس میت کی صورت دیکھ کر چیخ دبا کر اندر ہی چیخی تھی
اس کو کالے رنگ کے کفن میں رکھا گیا تھا اس کی ناک میں روئی والی جگہ پر کچھ نہیں تھا وہاں سے کالے بچھو باہر آ رہے تھے ۔۔۔
میت والی سفورا ایک دم آنکھیں کھول کر بیٹھ گئی تھی
“تو سفلی کرتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔سفورا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔میری اس حالت کی ذمہ دار تم ہو ۔۔۔”
وہ بیٹھ کر بولی تھی بچھو اس کی ناک سے درجنوں کے حساب سے نکل کر اس کے پورے جسم پر پھیل رہے تھے ۔۔۔
“اس کو جانے مت دینا “
اس سفورا نے ان عورتوں کو چیخ کر کہا تھا وہ جاگ گئیں تھیں وہ بین ڈالتی اٹھ کر سفورا کے گرد گھیرا کم کرتی جا رہی تھیں”
“نہیں ۔۔۔۔۔مجھے جانے دو ۔۔۔۔۔میں نے کچھ نہیں کیا”
وہ چیخی تھی اور مسلسل آنکھیں بند کیئے بول رہی تھی جب کسی نے اس کا کندھا جنجھوڑا تھا
“امی ؟؟؟؟امی ؟؟؟؟”
“کیا ہوا ہے ؟؟؟”
سعد ان کی چارپائی کے پاس بیٹھا ان کو اٹھا رہا تھا
سفورا نے آنکھیں کھولتے ہی لمبی سانس کے ساتھ شکر ادا کیا تھا
بجلی زور سے کڑکی تھی سفورا اٹھ کر بیٹھ گئی تھی اس نے صحن میں دیکھا تھا جہاں تیز بارش میں وہ عورتیں اس میت کے گرد بیٹھی بین ڈال رہی تھیں ۔۔۔
اس نے اپنی تسبیح اٹھا کر کچھ پڑھنا شروع کیا تھا
“امی کتنی بار کہا ہے مت سویا کریں جیتے جی کفن میں ۔۔۔مگر آپ کسی کی سنتی کب ہیں”
سعد سر نفی میں دھن کر دوبارہ سونے لیٹ گیا تھا
سفورا کی نیند اڑ چکی تھی وہ کمرے کا دروازہ بند کر کے رضائی میں گھس گئی تھی جو تھوڑی ہی دیر میں چوں چراں کی آواز کے ساتھ دوبارہ کھلا تھا ۔۔۔
وہ بارش کمرے میں موجود دونوں فرقین کے لئے ہی اذیت کا باعث تھی ۔۔۔۔
۔***************
“ابا ۔۔۔۔۔بھوک لگی ہے ۔۔۔کچھ کھانے کو لا دے ۔۔۔”
بوسیدہ لباس میں ملبوس اندھیری رات جتنی کالی منی نے اپنے پیلے دانتوں کو مسکرا کر دیکھاتے ہوۓ کہا تھا ۔۔۔اس کے بال اتنے گندے تھے کہ ہاتھ کی انگلی بھی پھیریں تو نا پھرے۔۔۔
“میری بیٹی صبر رکھ بارش بہت تیز ہے جھوپڑی کے اندر تک پانی آ چکا ہے اس کا بندوبست کرنے دے پہلے مجھے ۔۔۔۔”
“اباں اس موسم میں تو کوئی قبرستان بھی نہیں آتا ۔۔۔۔۔میری بھوک کیسے مٹے گی
وہ پیٹ پر ہاتھ مارتے ہوۓ بولی تھی
“هاهاهاهاها ۔۔۔۔۔۔ایک تازہ قبر موجود ہے بارش شروع ہونے سے پہلے دفنا کر گئے ہیں ۔۔۔ایک چھوٹا بچا دفنایا ہے شاید ۔۔۔۔تبھی مجھے نہیں کہا خود ہی جو ساتھ آۓ تھے قبر کھود کر دفنا کر چلتے بنے ۔۔۔۔”
اسی وقت ایک قیمتی پينٹ کوٹ میں ملبوس لڑکا چھتری لئے اس جھونپڑی کے اندر آیا تھا ۔۔۔
“سوری سر بارش بہت تیز تھی قبرستان سے نکلنے کا کوئی چارہ نہیں بن رہا تھا کیچڑ بہت زیادہ ہے میں عجلت میں اندر آ گیا ۔۔۔۔بنا پوچھے ۔۔۔۔سوری ۔۔۔۔”
وہ خوبصورت نوجوان لڑکا اپنے کپڑے جھاڑتا ہوا شرمندہ سا بولا تھا اسے دیکھ کر باپ نے بیٹی کی طرف دیکھ کر قہقہ لگایا تھا ۔۔۔
“آجاؤ بیٹھ جاؤ لڑکے ۔۔۔۔اس طوفانی بارش میں رات کے اس پہر کیسے آنا ہوا ؟؟؟”
بہادر شاہ نے جھونپڑی کی چھت کا پانی روکتے ہوۓ اسے بیٹھنے کا اشارہ کرتے ہوۓ کہا تھا
“میں ملک سے باہر تھا اور میری غیر موجودگی میں میری بیوی کی ڈیتھ ہو گئی تھی میں فورا نہیں آ سکا تھا کچھ مالی حالات خراب تھے ایک ہفتہ ہو گیا ہے اس کے وصال کو ۔۔۔ابھی آیا ہوں وقت کم ہے میرے پاس بس اسی لئے بارش کی وجہ سے مجھے وقت کا اندازہ نہیں ہوا ۔۔۔۔ مجھے لگا اس کی آخری آرام گاہ اتنی دور نہیں ہوگی وہ تو گھر والوں سے مل کر گھر سے نکلا تو آتے آتے یہ وقت ہوگیا ۔۔۔۔فورا اپنی پیاری بیوی سے ملنے آیا ہوں ۔۔۔
وہ عام سے انداز میں بتاتا ہوا بیٹھ گیا تھا ۔۔۔۔
“مجھے بہت زیادہ ٹھنڈ لگ رہی ہے کچھ اوڑھنے کو ملے گا ؟؟وہ اپنے دونوں ہاتھ آپس میں رگڑتا ہوا بولا تھا
منی نے سوالیہ نظروں سے باپ کی طرف دیکھا تھا جس کی نظروں میں منی کو جواب مل گیا تھا
