Barish by Jameela Nawab Readelle 50375 Barish Episode 15
Rate this Novel
Barish Episode 15
Barish by Jameela Nawab
منی اور ماسٹر جی کی زندگی بظاہر نارمل تھی وہ دونوں اپنے اپنے کام کرتے زیادہ تر وہ کچھ نا کھاتے مگر جب کبھی کھاتے تو گوشت کا سالن ۔۔۔ان کا دل گوشت کھا کھا کر تنگ آ گیا تھا مگر سبزی وغیرہ کھانا نا ممکن سا لگتا تھا ۔۔۔شروع شروع میں جب کوئی دال یا سبزی لے آتا وہ بس اس کو دیکھ دیکھ کر ہی ترستی آنکھوں سے نظريں چرا لیتے ۔۔۔
دماغ ہاتھ کو سبزی کا نوالا تک بنا کر کھانے کا حکم ہی نا دیتا ۔۔۔۔جسم میں حاکم تو کہیں دل اور کہیں دماغ ہوا کرتا ہے ۔۔۔
اگر دل اپنی من مانی کر جائے تو اکثر گناہ ہو جایا کرتے ہیں ۔۔۔۔مگر جہاں دماغ کی حاكيمت ہو وہاں نتیجہ جرم کے طور نکلتا ہے ۔۔۔۔
جرم اور گناہ میں میرے نزدیک جرم زیادہ خطرناک نتائج لے کر سامنے آیا کرتا ہے کیوں کہ گناہ میں اکثر ہماری نادانی اور اپنی ذاتی غرض شامل ہوتی ہے گناہ سے سراسر ہم اپنا نقصان سب سے زیادہ اور پہلے کرتے ہیں ۔۔۔مگر جہاں اپنے ہوش و حواس میں رہ کر ہم اپنے دماغ کی سنتے ہیں پھر ہمارا مقصد کسی کی تباہی سب سے پہلے ہوتا ہے ۔۔۔۔۔مجرم اور گناہ گار میں بہت فرق ہے ۔۔۔گناہ گار بندہ اکثر اپنے اور اللّه کے علاوہ کسی کا مجرم نہیں ہوتا مگر ۔۔ مجرم ۔۔۔۔اپنا اللّه اور پوری انسانیت کا گناہ گار ہوتا ہے ۔۔۔۔
بہت کم وقت لگتا ہے ۔۔۔ گناہ گار سے مجرم بننے میں ۔۔۔ گناہ گار کی طلب معافی ہوا کرتی ہے مگر مجرم کو سزا دے کر گناہ گاری کا احساس دلائے بغیر معافی دینا اس کو جرم کا ایک اور موقع دینا ہے ۔۔۔
قصہ مختصر ۔۔۔۔۔۔گناہ گار اور مجرم دونوں ہی نا پسندیدہ ہیں ۔۔۔۔۔بہتر ہے دل اور دماغ میں سے کسی ایک کو بھی مكمل حاكميت نا دی جائے ۔۔۔دل کی تب تک مانو جب تک وہ گناہ پر نہیں اکسا رہا جہاں یہ حد پار لگے ۔۔۔حاكميت دماغ کو دے دو ۔۔۔تب تک اس كی مانو جب تک وہ جرم سے روکے ہوۓ ہے ۔۔۔
اگر فیصلہ بہت مشکل لگے تو دل کی مان لو ۔۔۔کیوں کہ دل میں اللّه بستا ہے ۔۔۔۔دل کے فیصلے اکثر دماغ بھی مان لیا کرتا ہے ۔۔۔مگر دل کی اکثر ساری عمر گزر جاتی ہے مگر وہ دماغ کا فیصلہ مان نہیں پاتا ۔۔ ۔۔۔ویران دل ۔۔۔۔کو دماغ کبھی سبز نہیں کر سکتا ۔۔۔۔مگر دل ۔۔۔دماغ میں جینے کی نئی امنگ بھر سکتا ہے ۔۔۔
ماسٹر جی اور منی ۔۔۔کی حاكميت نا دل کی تھی نا دماغ کی یہاں تو معاملہ ہی الٹ تھا ۔۔۔وہ مکمل تھے ۔۔۔ہاں مکمل ۔۔۔۔۔نہیں ۔۔۔ دل اور دماغ کے بغیر انسان اور جانور میں کوئی فرق نہیں ۔۔۔جہاں کچھ پانے کی چاہت ۔۔۔ کچھ پانے خواہش نا رہے پھر بس کھا پی کر سونا تو انسان كہلوانے کے لئے کافی نہیں ۔۔۔
بہرحال ماسٹر جی ایک ماہ چار پائی پر گزار لینے کے بعد ۔۔۔باقاعدگی سے اسکول جانے لگے تھے ۔۔۔
وہ پڑھاتے منہ پر ہاتھ رکھ کر ایک طرف ہو کر گوشت کی الٹی کرنے لگتے ۔۔۔۔ان سے محبت اور اپنائیت کی وجہ سے اکثر ان کے شاگرد ان کو ایسا دیکھ کر رو پڑتے ۔۔۔جب جب ان کا همزاد وہاں آدم خوری کرتا وہ اس کا ذائقہ اپنے منہ میں محسوس کرتے ۔۔۔۔ان کو ہر وقت متلی رہتی ۔۔۔آخر وہ قے کر کے پُر سکون ہو جاتے یہی حال منی کا تھا ۔۔۔۔سلطانہ نے پل پل ماسٹر جی اور منی ۔۔۔کو حرام کھانے کا احساس دلايا تھا ۔۔۔اکثر وہ اور منی با آواز بلند رو دیا کرتے ۔۔۔
منی ۔۔۔بھی اسکول جانے لگی تھی ۔۔۔وہ بلا شبہ صاف رنگ کی بھوری آنکھوں والی خوبصورت لڑکی تھی۔۔۔۔قد کھاٹ بھی اچھا تھا اسے وہاں اکثر مذاق کا نشانہ بنایا جاتا ۔۔۔۔وہ جب کلاس کے دوران بھاگ کر قے کرنے جاتی تو کچھ خدا کی بنائی حدود کو بھولی ہوئی لڑکیاں اس کو پریگننٹ پریگننٹ کہہ کر ذلیل کرتیں ۔۔۔وہ وقت منی کے لئے کسی ناقابل برداشت سزا کی طرح تھا ۔۔۔۔ مگر وقت کی ایک خوبی جو بہت خوبصورت ہے ۔۔۔وہ یہ کہ وہ اچھا ہو یا برا گزر ہی جایا کرتا ہے ۔۔۔منی کا برا وقت بھی گزرتا چلا گیا ۔۔۔۔مشکل تھا مگر ۔۔۔۔۔۔گزر گیا ۔۔۔۔
(یہاں یہ بات یاد رہے کہ همزاد کی عمر نہیں بڑھتی ۔۔۔۔جب منی کا همزاد قيد کیا گیا تھا تب وہ چھ سال كی تھی ۔۔۔اس کا همزاد جو قبرستان میں ہے وہ اب بھی چھ سال کی بچی کا ہی ہے مگر جو منی دنیا میں ایک مکمل انسان ہے اس کی عمر میں اضافہ وقت کے ساتھ ہی ہوا ہے،همزاد کی عمر نہیں بڑھتی یہ میں نے ادھر فرض کیا ہے اصل میں کیا حساب ہوتا ہوگا یہ بس ھم سب کا اللّه جانتا ہے بیشک)
منی 25 کی ہو چکی تھی ۔۔۔بی۔اے کے بعد اس نے بی۔ایڈ پرائیویٹ کیا تھا
جس کا نتیجہ آنے والا تھا وہ گھر پر ہوا کرتی تھی آج کل جب ماسٹر جی کی ریٹائرمنٹ کا دن آن پہنچا تھا ۔۔۔
پورا گاؤں آج اسکول میں ماسٹر جی کو الوداع کرنے پہنچا ہوا تھا ۔۔۔اسکول کھچا کھچ ہر عمر کے لوگوں سے بھرا ہوا تھا ۔۔۔
ماسٹر جی کی شان میں ہر استاد،اسکول کے پرنسپل اور کچھ طلبہ نے کچھ باتیں اسٹیج پر آ کر مائیک میں کہیں تھیں ۔۔۔
ماسٹر جی ۔۔۔مسلسل اپنے صافے (سکارف نما كپڑا)
سے اپنی تر آنکھیں صاف کرتے اور مسکرا کر ارد گرد محبت کرنے والوں کو دیکھ کر رب کا شکر ادا کرتے ۔۔۔۔۔اسی دوران ایک خوب رو جوان اسٹیج پر آیا تھا جو ماسٹر جی كی پہچان میں نہیں آ رہا تھا ۔۔۔
وہ خوبصورت پينٹ شرٹ کے اوپر لیدر جيكٹ میں ملبوس ایک ہاتھ میں چھتری تھامے بھاگ کر اسٹیج پر آیا تھا ۔۔ کیوں کہ بادل مسلسل برس برس کر ماسٹر جی کے جانے پر رو رہے تھے ۔۔
وہ ایک ادا سے اپنے گيلے بالوں کو ترتیب دیتا بولنا شروع ہوا تھا ۔۔۔
تقریب کا ارینج اسکول کے ایڈیٹوریم میں کیا گیا تھا
“السلام علیکم ۔۔۔۔۔میرا نام احد ہے ۔۔۔۔آپ میں سے شاید ہی کوئی مجھے جانتا بلکہ پہچانتا ہو ۔۔۔۔مگر میرا یہاں آنے کا مقصد اس انسان کو خراج تحسین پیش کرنا ہے جو انسانوں میں بسا ایک فرشتہ ہے ۔۔۔۔مجھے خدا اور میری ماں کے بعد اگر کسی نے زندگی دی ہے تو وہ ۔۔۔۔۔۔تو وہ آپ ہیں ماسٹر جی ۔۔۔”
احد کی آواز بات کرتے کرتے بھاری ہو گئی تھی ۔۔۔وہ مائیک سے پیچھے ہٹ کر ایک طرف گهٹنوں کے بل بیٹھ کر آنکھیں مل رہا تھا ۔۔۔اس كی آنکھیں لال ہو چکی تھیں وہاں موجود اساتذہ میں سے ایک نے اٹھ کر اس کا کندھا تھپتھپایا تھا ۔۔۔اس کو پانی کا ایک گلاس لا کر دیا گیا وہ دو گھونٹ بھر کر ٹشو جيب میں رکھتا تیزی سے مائیک پکڑ کر کھڑا ہوا تھا ۔۔
ماسٹر جی کسی معصوم بچے کی طرح اس کی طرف دیکھ رہے تھے ۔۔۔ان کا دل بری طرح گوشت کی ہمک سے خراب ہو رہا تھا وہ اس سے الگ پریشان تھے ۔۔۔
“میری ماں ۔۔۔۔۔میرے مرحوم باپ کے بعد ۔۔۔۔۔۔اپنے دوسرے شوہر کے ساتھ بھیج دی گئی ۔۔۔۔وہ روتی رہی ۔۔۔گڑگڑاتی رہی مگر ۔۔۔ نانا جی نے ان کا نکاح کر کے رخصت کردیا ۔۔۔۔اب میں سارا دن گلی میں آوارہ گردی کرتا ۔۔۔مجھے روکنے ٹوکنے والے تو مجھ سے چھن گئے تھے ۔۔۔۔”
ایک بار پھر اس کی آواز بھاری ہوئی تھی ۔۔۔وہ آنسو اپنے اندر اتار کر بولا تھا ۔۔
ایک دن تیز بارش ہو رہی تھی ۔۔۔میں ٹھنڈ میں کھانستا ہوا بخار میں تپ رہا تھا ۔۔۔ماں تو تھی نہیں نا جو مجھے اس بارش میں باہر آنے سے روکے رکھتی ۔۔ ااور ابو تو ۔۔۔۔۔۔اس دنیا میں ہی ۔۔۔۔۔نہیں ۔۔۔۔تھے ۔۔ “
وہ نچلا لب کاٹ کر بولا تھا اب کی بار اس نے آنسو صاف نہیں کیئے تھے ۔۔۔
یہ تب كی بات ہے جب ماسٹر جی نئے نئے سركاری ماسٹر بنے تھے ۔۔۔۔ان کی نظر مجھ پر پڑی انہوں نے مجھ سے گھر پوچھا اور ساتھ چلے آئے ۔۔۔انہوں نے میرے نانا جی ۔۔۔اور ماموں کو بہت محبت سے میری ذمہ داری،صحت اور تربیت کا احساس دلايا ۔۔۔انہوں نے پیسے کا رونا رویا ۔۔۔ماسٹر جی نے ان کو مجھے روزانہ اپنے پاس بھیجنے کی تاكيد کی ۔۔۔۔میں تو ویسے بھی ایک بوجھ تھا ۔۔ ۔۔۔فرق پڑتا تو اتنا کہ اب میں گلیوں میں نہیں ماسٹر جی کے ساتھ اسکول اور پھر ان کے گھر پر ہوتا ۔۔۔۔۔مسٹر جی دن رات مجھے اچھے برے کی تمیز بھی سکھاتے اور مجھے پڑھائی بھی اپنی نگرانی میں كرواتے ۔۔۔۔۔ایسے ہی مجھے انہوں سائنس کے ساتھ پرائیویٹ میٹرک کا امتحان دلا دیا ۔۔۔۔۔نویں اور دسویں کی تیاری کے دوران میں مستقل ان کے پاس رکنے لگا تھا ۔۔۔ مجھے پڑھنے کا کوئی شوق نہیں تھا ۔۔۔مگر ۔۔ ان کی محبت اور مجھے اپنی اہمیت بتانے کا انداز اتنا سحر انگیز تھا کہ میں رات اور دن میں بنا فرق کیے پڑھنے لگا ۔۔۔۔پڑھائی کا بیج ۔۔۔۔انہوں نے بو دیا تھا مجھے بس اب اسے ہوا اور پانی فراہم کرنا تھا ۔۔
مجھے آج بھی وہ دن یاد ہے ۔۔۔۔جب ۔۔۔۔میرا میٹرک کا نتیجہ ہاتھ میں پکڑے ماسٹر جی کسی معصوم بچے کی طرح زاروقطار روئے تھے ۔۔۔
میں ۔۔۔میں چاروں اضلاع میں پرائیویٹ طالب ہو کر بھی اول آیا تھا ۔۔۔
وہ اپنا چہرہ دونوں ہاتھوں میں چھپا کر دوسری طرف پیشانی کر کے کچھ دیر کھڑا رہا تھا
اس بات پر پورا ھال تالیوں سے گونجا تھا ماسٹر جی کے آنسوؤں میں بھی تیزی آئی تھی ۔۔۔۔ساتھ بیٹھی نقاب اور بڑی چادر میں لپٹی منی نے فخر سے اپنے باپ کی طرف دیکھ کر ان کے آنسو اپنی انگلیوں کی پورے سے صاف کیئے تھے ۔۔۔
“یہ دنیا ازل سے چڑھتے سورج کی پجاری رہی ہے”
میں اس وقت ایک نام بن گیا تھا بہت سے پرائیویٹ اسکول لپک کر گاؤں آئے تھے وہ مجھے اپنے اسکول میں ایف۔اس ۔سی میں داخلہ دے کر میری کامیابی کو اپنے نام کے ساتھ جوڑنا چاھتے تھے ۔۔۔
مجھے ماسٹر جی کی ناراضگی کا ڈر تھا کہ کہیں وہ یہ نا سمجھیں کہ میں ان کے ساتھ احسان فراموشی کرنے والا ہوں ۔۔۔مگر میں جب بھی ان کی طرف دیکھتا ۔۔۔ان کی چہرے پر ایک عجیب سا سکون ہوتا وہ بس یہ جان کر خوش تھے کہ اب میں گلیوں میں کیڑے مکوڑے کی طرح نہیں رینگوں گا ۔۔۔۔ ان کو اس بات سے کوئی سروکار نہیں تھا کہ میری کامیابی کا سہرا دنیا کس کے سر با ندھتی ہے ۔۔۔میں ان کی دعاؤں میں ایک پرائیویٹ کالج جو کہ ایک این ۔جی ۔او کے ساتھ بھی منسوب تھا ان کے ساتھ شہر آ گیا ۔۔۔۔جہاں میرے ہاسٹل اور کھانے پینے کا ہر انتظام بلکل مفت تھا ان کو بس میری کامیابی سے مطلب تھا ۔۔۔۔
میں ماسٹر جی کو ہر وقت اپنے ساتھ بیٹھا دیکھتا ۔۔۔۔جب بھی ارادے تھکن کا شکار ہوتے ان کا ہاتھ میرے کندھے پر مجھے تھپكی دیتا ۔۔۔۔میری آنکھوں کے آ گے ان کے چہرے کا سکون آتا میں پھر سے نئے سرے سے پُرجوش ہو کر پڑھنے لگتا ۔۔۔
ماسٹر جی اکثر کہا کرتے تھے ایک بات ہمیشہ یاد رکھنا ۔۔
یہ دنیا عقل مند ذہین انسان کو تو ہرا سکتی ہے مگر ایک محنتی اور مستقل مزاج انسان دنیا کے لئے ایک پہاڑ کی مانند ہوتا ہے جسے وہ کبھی نہیں ہلا سکتی ۔۔بس محنت کرو ۔۔۔اللّه نے آج تک کسی کی محنت کا پھل اپنے پاس نہیں رکھا ۔۔۔
بس میں جُتا رہا ۔۔۔وقت گزرتا گیا ۔۔۔میں نے محنت کی اس ذات نے اپنا وعدہ نبھایا ۔۔۔ہر سال وظیفہ ملتا رہا ۔۔۔آخر مجھے اسی دوران باقی کی تعلیم کے لئے سركاری خرچہ پر باہر بھیج دیا گیا ۔۔۔
اور آج ۔۔۔۔میں ایک کامیاب ڈاکٹر اور سرجن ہوں ۔۔۔میں جو ہوں ماسٹر جی آپ کی وجہ سے ہوں ۔۔۔آپ نے اس دن تیز بارش میں مجھے اپنا ہاتھ نا دیا ہوتا تو آج ۔۔۔۔۔۔۔میں شاید ہوتا ہی نا یا شاید کسی جيل میں چوری یا کسی اور جرم کی سزا کاٹ رہا ہوتا ۔۔۔اور آج جب میں یہاں آ رہا تھا کوئی تانگہ کوئی رکشہ کچھ بھی گاؤں کے اندر والے اسٹاپ پر نہیں تھا ۔۔۔میرے پاس اپنی گاڑی نا ہوتی تو میں یہاں پہنچ ہی نا پاتا ۔۔۔ایک بندے سے جو سائیکل پر تھا اس سے وجہ پوچھی تھی تو وہ چلتے چلتے ہی بولا ۔۔۔مطلب وہ بات کا جواب دینے کے لئے بھی رکنا نہیں چاہتا تھا . ۔۔۔کہتا آج ہمارے ماسٹر جی ریٹائرڈ ہو رہے ہیں آج گاؤں میں مقامی چھٹی ہے ۔۔۔۔سب ادھر جمع ہیں ۔۔۔میں لیٹ ہو رہا ہوں بابو ۔۔۔
احد کا چہرہ آنسوؤں سے پوری طرح بھیگ چکا تھا وہ بھرائی ہوئی آواز بولا تھا
ماسٹر جی ۔۔۔
“I love you”
احد اسٹیج سے اتر کر سامنے بیٹھے ماسٹر جی کے قدموں میں سر رکھ کر زور قطار رو رہا تھا ماسٹر جی اس کے سر پر ہاتھ رکھے ۔۔۔نم آنکھوں سے مسکرا رہے تھے ۔۔۔پورا حال تالیوں سے گونج اٹھا تھا ہر آنکھ ماسٹر جی پر فخر محسوس کرتی اشک بار ہوئی تھی ۔۔۔
“اب میں ۔۔۔اس پوری تقریب کے مہمان خاص ۔۔ بہادر شاہ ۔۔۔نہیں نہیں ۔۔ہمارے دل کی دھڑکن مسٹر جی کو دعوت دیتا ہوں کہ وہ آ کر اپنے خیالات کا اظہار کریں ۔۔۔”
ميزبان استاد کی آواز نے سحر توڑا تھا احد ماسٹر جی کا ہاتھ پکڑ کر ان کو اسٹیج پر لایا تھا ۔۔۔ماسٹر جی گلا کھنکار کر چہرے پر تبسم سجاۓ مائیک پکڑ کر کھڑے ہو گئے تھے ایک طالب علم نے ان کے لئے کرسی رکھی تھی مگر انہوں نے ہاتھ کے اشارے سے انکار کر دیا تھا ۔۔۔
“السلام علیکم ۔۔۔۔۔”
وعلیکم السلام”
اجتمائی جواب دیا گیا ۔۔۔
“میں نہیں جانتا ۔۔ میں نے ایسا کیا کر دیا ہے جو اللّه نے مجھے اتنی زیادہ محبتوں اور عزت سے نوازدیا ہے ۔۔۔میں ۔۔۔۔میں واقعی نہیں جانتا کیوں کہ میں نے تو صرف ایک معلم ہونے کا فرض نبھایا ہے ۔۔۔۔جو مجھے نبھانا ہی تھا ۔۔۔۔وہ ۔۔۔وہ میرا فرض اور کام تھا ۔۔۔۔بیشک میرے رب نے یہ عزت میری قسمت میں لکھ بھیجی تھی ۔۔۔۔میرا ۔۔۔۔۔میرا ۔۔ . مجھے اپنا اس میں کوئی بھی کمال نہیں نظر آتا ۔۔۔۔بس ۔۔۔میری بےبے ۔۔۔۔۔۔۔میری جنت ہمیشہ ایک ہی بات کیا کرتی تھیں ۔۔۔ وہ ۔۔۔ان پڑھ ۔۔۔۔سادہ ۔۔۔اور بہت معصوم تھیں ۔۔۔۔وہ ہمیشہ رات مجھے سلاتے ہوۓ ۔۔۔میرے سر میں ہاتھ پھیرتیں اور کہتیں ۔۔۔بہادر شاہ پتر ۔۔۔کل توں کتنا ہی کامیاب ہو جاوے ۔۔۔اپنی اوقات مت بھولنا ۔۔۔تو جانتا ہے اپنی اوقات ؟؟؟
میں روز جان بوجھ کر مسکرا کر نفی میں سر ہلا دیتا ۔۔۔وہ روز اسی وقت اٹھتیں اور صحن سے اپنی مٹھی مٹی سے بھر کر میرے آگے کر دیتی ۔۔ یہ ہے تیری اوقات ۔۔۔۔میں ہنس کر کہتا بے بے میں مٹی کیسے ہو سکتا ہوں یہ تو مٹھی کھلتے ہی نیچے گر جاتی ہے میرا اور اس کا کیا جوڑ ؟؟؟”
وہ ہاتھ جاڑ کر سکون سی کہتی ۔۔۔جب انسان اپنی مٹھی کھولتا ہے(اوقات سے باہر آتا ہے) تو وہ اس مٹی سے زیادہ تیزی سے زمین بوس ہوتا ہے ۔۔۔بس پتر اپنی اوقات مت بھولنا ۔۔۔ایک بات کہوں پتر تو مجھ سے کتنی محبت کرتا ہے ؟”
میں ان کو جپھی ڈال کر کہتا۔۔۔۔ بہت زیادہ ۔۔۔۔ ۔۔ اور وہ میرے ماتھا چوم کر کہتیں اپنے استاد کی محبت اس حد سے شروع کرنا ۔۔۔ اور اللّه جس حالت میں بھی رکھے اس کی رضا میں شکر کرنا ۔۔۔۔شکر میں اللّه نے جو سکون رکھا ہے اس کی قيمت کوئی نا شکرا نہیں جان سکتا ۔۔۔
بس میں نے ان تین باتوں پر آج تک عمل کیا ۔۔۔آپ سب سے یہی کہوں گا ماں،باپ دادا دادی کی تعلیم پر مت جاؤ ۔۔۔۔ان کے تجربے کو اہم مانو ۔۔۔۔۔ان کے سفيد بال ۔۔۔۔آپکی ڈگڑی کو غلط ثابت کرنے کی اہلیت ركهتے ہیں ۔۔۔ان کی عزت کرو ۔۔۔ان کے پاس بیٹھ کر ان سے آج کی جدید دنیا کا کوئی بھی مسئلہ شیئر کرو وہ اس کا جواب اپنے حساب سے ضرور دیں گے ۔۔۔۔ان کے جھکے ہوۓ سر ۔۔۔۔جھکے ہوۓ کندھے اس سفر کو مکمل کرنے کا ثبوت ہیں جس کا آغاز تم کرنے جا رہے ہو ۔۔۔اندر کیا ہوگا ۔۔۔۔اس زندگی کے دروازے پر بیٹھے اس بوڑھے
سے جان لو ۔۔
آپ بہت امیر ہیں ۔۔۔کہ مغرب کی طرح آپ اکیلے نہیں ہیں آپ کے پاس دادا ،دادی ،نانا، نانی موجود ہیں ۔۔ یقین مانیئے ۔۔۔۔یہ لوگ خود میں ایک مکمل درس گاہ ہیں ۔۔۔۔ان کو جاہل اور فرسوده جان کر مت جھٹکو ۔۔ وہ آپ کی جڑیں ہیں ۔۔۔۔آپ اگر سرسبز ہیں تو اس کی وجہ آپ کے والدین اور یہ چار لوگ ہیں جو آپ کو ہرا کرتے کرتے سوکھ گئے ہیں ۔۔۔یاد رکھیں ۔۔۔۔اگر آپ اپنی جڑ کی حفاظت نہیں کریں گے تو آپ زیادہ دیر ہرے نہیں رہ سکتے ۔۔۔۔”
پورا ہال تالیوں سے گونج اٹھا تھا ۔،۔۔
“میرے دوستوں ۔۔۔میری بچوں ۔۔۔میری بہنوں ۔۔۔میری بیٹیوں ۔۔۔وقت کی قدر کریں ۔۔۔
“If you kill(waste) it(time) today,it will definately kill you tomorrow”
اگر آپ آج وقت کو ضائع کرتے ہیں تو کل یہ وقت یقنا آپ کو ضائع کر دے گا”
(یہ بات میرے محترم استاد سر انور علی چوہدری اکثر کہا کرتے تھے
اللّه ان کو لمبی صحت والی زندگی دے آمین ثم آمین)
آخر میں اتنا کہوں گا اپنے والدین کے بعد اپنے اساتذہ کے احسان کو کبھی مت بھولیں ۔۔۔۔ہمارے پاس آپ کو پالنے پوسنے کے بعد باقی کچھ بھی نہیں بچا ہوتا ۔۔۔ہم نے آپ کو وہ دیا ہوتا ہے جو آپ کی نافرمانی کے باوجود بھی ہم واپس نہیں لے سکتے ۔۔ ہم نے آپ کو اپنا وقت دیا ہوتا ہے ۔۔۔۔ہم نے آپ کو اپنی زندگی دے دی ہوتی ہے ۔۔۔ساری عمر کما کر بھی کبھی کوئی استاد ایک سائیکل سے زیادہ نہیں خرید پاتا ۔۔ ہماری ساری عمر کی کمائی آپ کا روشن مستقبل ۔۔۔۔آپ کے لبوں سے عزت اور محبت کے چند الفاظ ہوتے ہیں ۔۔۔۔آپ سب سے گزارش ہے اپنے کسی بھی استاد کو مت بھولیں ۔۔۔ہو سکے تو ان سے ملنے چلے جایئں ۔۔۔۔یہ ممکن نا ہو تو ان کو فون کر لیں ۔۔۔کسی پرانی کتاب میں کسی پرانی ڈائری میں کسی پھٹے ہوۓ سیاہ صفحے پر مٹا مٹا سا ۔۔۔۔دھندلا ہی سہی ۔۔۔مگر کہیں تو ان کا پی۔ٹی۔سی۔ایل کا رابطہ نمبر ہو گا نا ؟؟؟
فون کر کے دیکھیں ۔۔۔آپ کو زندگی میں کامیاب کرنے کی دوڑ میں وہ رعب دار بلند آواز اب وقت کے چابک سہہ سہہ کر پست ہو چکی ہوگی ۔۔۔۔ مگر وہ آپ کا اپنا کوئی پرانہ حوالہ ۔۔۔۔۔اپنا تعارف ذرا سا یاد کروانے پر دوبارہ جی اٹھیں گے ۔۔ہو سکتا ہے وہ آپ کو پہچان نا پائیں …مگر پھر بھی وہ آپ کے چند روپوں کی فون کال پر دل سے آپ کو دعا ضرور دیں گے ۔۔۔ان کا شکریہ بولیں ۔۔۔۔آپ کچھ بھی نا کہیں تو وہ فقط آپ کے یاد رکھنے پر ہی نہال ہو جایئں گے ۔۔۔
استاد کی اصل پینشن اس کے طلبہ ہوتے ہیں ۔۔۔
اگر یہ نہیں ہو سکتا تو جب نماز پڑھتے ہو نا ؟؟؟بس دعا میں اپنے تمام اساتذہ کے شفیق چہرے آنکھوں کے سامنے لا کر ان کے لئے صحت اور لمبی زندگی اور اگر حیات نا ہو تو مغفرت ضرور مانگ لیا کریں ۔۔۔”
ماسٹر جی اب خاموش ہوۓ تھے ایک بار پھر نم آنکھوں سے سب نے ان کو تالیوں سے داد دی تھی وہ مزيد چند الوداعی جملے ادا کرنا چاھتے تھے مگر اب ان کے لیے قے کو روکنا نا ممکن ہو گیا تھا وہ تیزی سے لنگڑا کر اسٹیج سے اترے تھے احد ان کے اس مسئلے سے نا واقف تھا وہ ان کو اس طرح بات بیچ میں چھوڑنے پر حیران ہوا تھا وہ ان کو سہارا دینے اٹھ کر بھاگ کر ان کی طرف بڑھا تھا مسٹر جی ہال سے نکل کر کھلے میدان میں نکلے تھے جہاں ہلکی ہلکی بارش اب بھی ہو رہی تھی انہوں نے منہ بھر کر قے کی تھی جس میں ایک انسانی انگلی صاف دیکھی جا سکتی تھی احد سکتے میں ان كی طرف دیکھ رہا تھا ماسٹر جی شرمندہ شرمندہ سے احد کو دیکھ کر اب اپنا منہ صافے سے صاف کر رہے تھے اب ماسٹر جی نے دور سے آتی منی کو دیکھا تھا جو منہ پر ہاتھ رکھے جلدی سے ایک جگہ بیٹھ کر قے کر رہی تھی ۔۔۔
مسٹر جی احد کا ہاتھ پکڑے واپس اندر گئے تھے آج روزانہ کی طرح قے کے بعد ان کی طبیعت بوجھل نہیں ہوئی تھی بلکہ ان کو تیز بھوک لگی تھی ۔۔
تحفے تحائف کے سلسلے کے بعد اب آہستہ آہستہ لوگ ماسٹر جی کو دعائیں دیتے جا رہے تھے ۔۔۔
“ماسٹر جی آپ کب سے بیمار ہیں ؟؟؟میں اپ کو اپنے ساتھ لے کر جانا چاہتا ہوں ۔۔۔”
احد ماسٹر جی اور منی دونوں کی طرف دیکھ کر بولا تھا ۔۔۔
“میں ٹھیک ہوں بیٹا ۔۔۔بس فلحال گھر جانا چاہتا ہوں بہت بھوک لگی ہے ۔۔۔”
“ابا ۔۔۔آج مجھے بھی بہت بھوک لگی ہے ۔۔۔۔”
منی فورا بولی تھی ۔۔۔
احد اتنی سنجیدہ سوال پر باپ بیٹی کے جواب پر ایک بار پھر حیران ہوا تھا ۔۔۔
“سلام ماسٹر جی ۔۔۔بس اپنی گڈی(رکشہ) تیار ہےبس آپ کی راہ ویکھ رہا ہے ۔۔۔”
ایک رکشہ ڈرائیور اپنائیت سے پاس آ کر بولا تھا اس سے پہلے کہ ماسٹر جی کوئی جواب دیتے تین چار مزيد آ کر ماسٹر جی کو ساتھ لے جانے کی ضد کرنے لگے تھے ۔۔۔وہ آپس میں بحث پر اتر آئے تھے ۔۔۔
ماسٹر جی پریشان کھڑے صورتحال سے نپٹنے کا کوئی طریقہ ڈھونڈ رہے تھے ۔۔احد نے ان كی مشکل آسان کردی تھی ۔۔۔
“آپ سب چلے جایئں ماسٹر جی کو میں خود اپنی گاڑی میں گھر چھوڑ کے آؤں گا”
وہ سب افسوس سے سر ہلاتے ماسٹر جی کو سلام کرکے چلے گئے تھے
احد نے عزت سے فرنٹ ڈور کھول کر ماسٹر جی کو بیٹھنے کو کہا تھا ۔۔۔
منی بھی بیٹھ چکی تھی وہ تھوڑی آگے گئے تھے جب ایک سبزی کی دوکان دیکھ کر منی نے ابا کو مخاطب کیا تھا ۔۔
“ابا ۔۔۔دو منٹ رکیں میں نے ادھر سے سبزی لینی ہے”
احد نے گاڑی روک دی تھی وہ خود اتر کر یہ کام کرنا چاہتا تھا مگر گاڑی کی بریک لگنے کی دیر تھی منی بھاگ کر دوکان پر گئی تھی وہ دس منٹ تک شاپر میں مختلف چیزیں ڈالتی اور پھر آنسو صاف کرتی ۔۔۔اب وہ دوبارہ گاڑی میں آ کر بیٹھ گئی تھی ۔۔
“میں خود لے آتا ۔۔۔اپ نے ویسے ہی ۔۔۔تكک ۔۔۔ل ۔۔۔ی ۔۔ ف “
“ابا آپ جانتے ہیں میں کیا لائی ہوں ؟؟؟”
منی احد كی بات کاٹ کر تھوڑا سا آگے ہو کر باپ کا کندھا پکڑ کر بولی تھی
احد کو بھی اس شاپر میں دلچسپی ہوئی تھی وہ فورا متوجہ ہوا تھا
منی روتے ہوئے وہ شاپر ہاتھ میں پکڑے باپ کو دِکھا رہی تھی
جو بھنڈی،پیاز،ہری مرچوں اور ٹماٹروں سے بھرا ہوا تھا احد ہکا بكا باپ بیٹی کو دیکھ رہا تھا جو ایک عام سی سبزی کی خریداری پر اس طرح خوشی سے رو رہے تھے ۔۔۔
“ابا آج ہم دونوں سبزی کھائیں گے ۔۔۔۔میں بہت مزے دار بناؤں گی سالن ۔۔۔ابا ۔۔۔۔میں ۔۔۔۔میں بہت خوش ہوں ۔۔ ابا ۔۔۔لگتا ہے ہم ٹھیک ہو رہے ہیں”
وہ بهرائی ہوئی آواز میں بولی تھی ۔۔۔
“الحمدللّٰه۔۔۔۔۔میری بیٹی ۔۔ مجھے بھی لگتا ہے ۔۔۔یا اللّه تیرا شکر ۔۔”
(یہ سین تب کے ہیں جب باجی کی خوفناک ہلاکت ہوئی تھی اور سفورا نے بھی مناہل کو دفنانے اور باجی کے سفورا کو مرتے مرتے کالا علم سونپنے کے بعد بیہوش ہونے کی وجہ سے ماسٹر اور منی کے همزاد پر وہ پانی نہیں چھڑکا تھا ۔۔۔باجی کی موت سے بھی اس جادو کا اثر کمزور ہوا تھا اور کافی اقساط میں ان کو گوشت خوری کرتا نہیں دیکھایا گیا تھا جس پر آپ میں سے اکثر نے وجہ پوچھی تھی یہی وجہ تھی )
“احد بیٹا ۔۔۔آپ حیران مت ہو ۔۔۔۔آج منی 25 کی ہے ۔۔۔جب یہ چھ برس کی تھی نہ ۔۔مطلب آج سے 19 سال پہلے ۔۔۔۔تب کا ہم صرف گوشت ہی کھا رہے ہیں ۔۔۔آج 19 سال بعد سبزی کھانے کو دل کیا ہے ۔۔۔بیشک میرا رب بے مثال ہے ۔۔۔وہ ترسانے کا ارادہ کر لے تو ایک معمولی سمجھی جانے والی نعمت سامنے ہو کر بھی کھا نے کی توفيق چھین سکتا ہے ۔۔۔”
ماسٹر جی نے اللّه کا شکر ادا کرتے ہوۓ بولا تھا
“جی ماسٹر جی بے شک ۔۔۔مگر میں بتا رہا ہوں آپ دونوں کو اپنے ساتھ لے کر جاؤں گا آپ کا علاج کرواؤں گا ۔۔۔”
“یہ گھر آ گیا ہمارا ۔۔۔”
بارش تیز ہو چکی تھی احد نے ماسٹر جی کے اوپر چھتری پکڑ کر ان کو گھر کے اندر جانے میں مدد دی تھی ۔۔۔
منی نے مزيدار بهنڈی پکائی تھی ۔۔۔وہ ہر نوالے پر شکر ادا کرتے ہوۓ رغبت سے زیادہ عقیدت سے کھانا کھا رہے تھے ۔۔۔
تیز بارش ۔۔۔۔۔تین انسان ۔۔۔۔خدا کا رزق ۔۔۔۔۔اور خدا کی رحمت ۔۔۔
۔*****************
بہادر شاہ بیٹھا بے مقصد مٹی کھود رہا تھا منی پاس آ کر بیٹھی تھی ۔۔۔
“ابا ۔۔۔یہ سب کب ختم ہوگا ۔۔۔”
ہو جائے گا ختم جهلی اس طرح اللّه کی رحمت سے نا امید نہیں ہوتے ۔۔۔بہادر شاہ پھولی سانس لئے بولا تھا
قبرستان کے گیٹ پر ایک ایمبولنس آ کر رکی تھی ۔۔۔جس کے اندر سے ایک روتی دھوتی بوڑھی عورت باہر نکلی تھی جس کے ساتھ ایک درميانی عمر کا جوڑا بھی تھا وہ بھی بری طرح رو رہے تھے ۔۔
بارش آنکھ مچولی کھیل رہی تھی کبھی شروع ہوتی تو کبھی ایک دم ختم ہو جاتی ۔۔۔
وہ آدمی تیز قدم چلتا ہوا بہادر شاہ کے پاس آیا تھا
“السلام علیکم ۔۔۔بھائی یہ قبر ہمیں دے دو ۔۔۔جس کے لئے کھود رہے ہو اس کی دوسری کھود لینا ۔،۔۔”
“هاهاهاهاها ۔۔۔”
بہادر شاہ نے قہقہ لگایا تھا
“میت ہی دفنانے آۓ ہو نا ؟؟؟تمہاری بے چینی سے تو لگ رہا ہے گناہ دفنانے آۓ ہو ۔۔۔۔”
بہادر شاہ نے رازداری سے قریب ہو کر پوچھا تھا اس بات پر وہ شخص تلملا اٹھا تھا ۔۔۔
“اولاد جب والدین کے ساتھ ساتھ اللّه کی باتوں کو جھٹلاتی ہے تو وہ کسی گناہ کی سزا سے کم نہیں ہوتی ۔۔ اپ میرے ساتھ آ کر خود دیکھ لیں میری ۔۔۔۔میری بیٹی کا عبرت ناک انجام”
وہ شخص بہادر شاہ کا ہاتھ پکڑے چل پڑا تھا وہ ايمبولنس تک پہنچے تھے اس آدمی نے دروازہ کھول کر بہادر شاہ کی مدد سے میت باہر نکال کر رکھی تھی ۔۔۔
بادل زور سے گرجے تھے بارش کو برسنے کی گویا اجازت ملی تھی ۔۔۔
“میری بچی میں کتنا سمجھاتی تھی اسے ۔۔۔یہ کبیرہ گناہ ہے چھوڑ دے اسے ۔۔۔۔ہاآاااۓۓۓےے۔۔۔”
لڑکی کی دادی اس کا سٹریچر پکڑ کر بیٹھ کر روتے ہوۓ بول رہی تھی ۔۔۔
بہادر شاہ نے اس آدمی سے آنکھوں ہی آنکھوں میں وجہ پوچھی تھی جس پر اس نے دکھ سے اس میت سے پورا کپڑا ایک جھٹکے سے ہٹا دیا تھا جیسے دیکھ کر بہادر شاہ کا دل لرز گیا تھا وہ اپنے دونوں ہاتھ سر پر رکھ کر بیٹھ گیا تھا ۔۔۔
وہ ایک 35 سے 40 کے درمیان لڑکی تھی جس کی زبان کسی مگر مچھ کی طرح بڑی،موٹی اور کانٹے دار ہو کر اس کے پورے جسم پر لپٹ کر آخر میں اس کی گردن کے گرد گھومی ہوئی تھی
جس سے اس کی آنکھیں ابل کر باہر آ چکی تھیں ۔۔۔
بہادر شاہ اس کا گناہ سمجھ چکا تھا ۔۔۔
“میں خود مدرسے میں استانی ہوں ۔۔۔مگر میری اپنی ولاد اس گناہ میں ایسے ملوث ہوئی کہ ۔۔۔۔۔آج اس کے اپنے گناہ نے ہی اس کی جان لے لی ہے ۔۔۔”
لڑکی کی ماں اب پھوٹ پھوٹ کر رو دی تھی ۔۔
“غیبت،چغلی اور بہتان ۔۔۔۔۔نے اس کی جان لے لی ۔۔۔”
“هاهاهاهاها ۔۔۔۔ارے یہ بھی مردہ گوشت کھاتی تھی ؟؟؟”
بہادر شاہ نے طنز کیا تھا
“کیا مطلب ؟؟”
لڑکی کے باپ نے میت پر چادر ڈالتے ہوۓ پوچھا تھا ۔۔۔
“جانتے ہو ہم صرف زنا کو ہی فاحشہ گناہ سمجھتے ہیں وہ برائی جو کھلے عام کی جائے ۔۔۔مگر اصل میں غیبت زنا سے بڑا فاحشہ گناہ ہے ۔۔۔ جو بنا سوچے سمجھے کی جاتی ہے ۔۔۔
اور یہ اپنے بھائی کی غیر موجودگی میں اس کے مردہ گوشت نوچ نوچ کر کھانے کے مترادف ہے جو کہ گناہ کبیرا ایسا گناہ جو معاف نہیں ہوتا ان میں سے ہے ۔۔۔۔ہم اپنی تمام نيكیاں مفت میں کسی دوسرے کے اعمال نامے میں منتقل کر دیتے ہیں ۔۔۔۔کیا کوئی شخص آپ کو اتنا زیادہ محبوب ہوسکتا ہے ؟؟؟”
بہادر شاہ نے ان تینوں کی طرف دیکھا تھا دادی روتے ہوۓ بولی تھیں
“میری پوتی ہر وقت فون پر کبھی کسی کی بات لے کر بیٹھ جاتی کبھی کسی كی ۔۔۔۔اس کو کسی کی پردہ پوشی کا کوئی احساس نہیں تھا ۔۔۔۔اور آج ۔۔۔ یہ جس حالت میں ہے ۔۔۔ہم کسی کو اس کی شکل نہیں دکھا پارہے ۔۔۔میں بہت سمجھاتی رہی جو کسی کی غیبت اور کردار کشی کرتا ہے اللّه اسے اس کے اپنے گھر میں ذلیل اور رسوا کر دیا کرتا ہے مگر اس نے میری ایک نا مانی ۔۔۔اس کی زبان نے مزيد گناہ بولنے سے انکار کر دیا ۔۔۔ اور اسی کی جان لے لی ۔۔۔”
“بھائی آپ جلدی سے میری بیٹی کو دفنا دیں ۔۔۔۔ہم بہت پریشان ہیں کسی خاندان والے کو پتہ چل گیا اور اس کی یہ حالت دیکھ لی تو ہم کسی کو منہ دیکھانے کے قابل نہیں رہے گے ۔۔۔”
باپ ایک دم جیسے ہوش میں آیا تھا
بہادر شاہ نے اس لڑکی کی میت سے کپڑا ہٹا کر اس کی پتھرائی آنکھوں کو دیکھا تھا ۔۔۔۔
“افسوس تم نے اپنے قبر کے لئے کوئی نيكی نہیں چھوڑی ۔۔۔سب کسی ٹافی کی طرح بانٹ دیں ۔۔۔۔اب قبر میں کیا ساتھ لے کر جائے گی ؟؟؟؟”
بہادر شاہ نے قبر کھودی اور اس کے باپ کی مدد سے اسے قبر میں اتار دیا ۔۔۔اس كی زبان پر فورا کالے بچھو بڑے بڑے ڈنگ نکال کر مارنا شروع ہوۓ تھے ۔۔۔کچھ اس کی پتھرائی ہوئی آنکھوں میں سوراخ کر رہے تھے ۔۔۔وہ ایک خالی ہاتھ میت تھی ۔۔۔خالی ہاتھ میت پر قبر میں رحم نہیں عذاب کیا جاتا ہے ۔۔۔ویسے بھی اس نے غیبت سے اپنی زبان سے خود اپنی ہر نيكی کا حق دار کسی اور کو بنایا تھا ۔۔۔”
اب وہ تمام لوگ جو اسے خود سے كمتر اور کچھ خود سے بہتر لگا کرتے تھے وہ ان كی برائیاں کر کر کے اپنی زبان كی تسکیں کیا کرتی تھی ۔۔۔وہ اپنے اپنے گهروں میں اس تیز بارش میں پر سکون سو رہے تھے اور وہ اپنی زبان کا عذاب اب قیامت تک بھگتنے والی تھی ۔۔۔
بہادر شاہ اس خالی ہاتھ لڑکی کی قبر کو تیز بارش اس کے گھر والوں کے جانے کے بعد کھڑا دیکھتا رہا ۔۔۔وہ اس تیز بارش میں بھی اس کی قبر سے نکلتے شعلے دیکھ سکتا تھا ۔۔۔
وہ شعلے تیز بارش میں بجھانے سے قاصر تھی ۔۔۔
تیز بارش ۔۔۔۔۔آگ ۔۔۔۔اور خالی ہاتھ لڑکی ۔۔۔
