442.5K
18

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Barish Episode 6

Barish by Jameela Nawab

“رانی میں جا رہی ہوں روٹی کما کر لاتی ہوں ۔۔۔۔ بتاؤ کیا لاؤں شام کے کھانے کے لئے۔۔۔۔۔ کیا کھانے کا دل ہے میری منو کا ؟؟؟”

مدھو چہرے کو مصنوئی زیبائش سے آراستہ کرتی ہوئی خلوص سے پوچھ رہی تھی

“آپی ۔۔۔۔ایک بات تو بتائیں؟؟”

“پوچھ لے میری بنو ،پہلے اجازت مت لیا کر”

وہ ادا سے تالی مار کر بولی تھی

“آپ ۔۔۔۔۔۔۔تنگ نہیں آتیں روز اس طرح ۔۔۔۔۔بن سنور کر ۔۔۔۔۔۔۔ناچ کر ۔۔۔۔۔۔مطلب اپنی ذات کا تماشہ بنا کر آپ کو برا نہیں لگتا ؟؟؟”

“هاهاهاهاها ۔۔۔۔۔”

مدھو اس بات پر پیٹ پکڑ کر قہقے لگانے لگی تھی وہ لوٹ پوٹ ہوئی تھی

“آپی بتائیں نا”

“نہیں ۔۔۔۔۔مناہل ۔۔۔۔۔میں بہت خوش ہوں ۔۔۔اپنے کام سے”

مدھو ایک دم سنجیده ہوئی تھی وہ اب لال سرخی کی ڈبل کوٹنگ کر رہی تھی مناہل کو مدھو کی بات عجیب لگی تھی اور وہ خاموش ہو گئی تھی

مدھو خود پر آخری نظر ڈال کر دوپٹہ گلے میں ڈال کر مناہل کے پاس آ کر بیٹھ گئی تھی

“دیکھو رانی ۔۔۔۔ہم باقی انسانوں کی طرح ایک دوسرے کی جيب پر نظر نہیں ركهتے ۔۔۔۔جیسے مُلا کی دوڑ مسجد تک ہے نا ویسے ہی ۔۔۔۔ہماری دو وقت کی روٹی تک ۔۔۔۔۔۔۔ہم آج پیٹ بھر کر کھا لیں تو شکر کے ساتھ سو جاتے ہیں اس یقین کے ساتھ کہ جس نے آج بھوکا نہیں رکھا وہ کل بھی نہیں رہنے دے گا ۔۔۔۔ہم دوسروں کا حق کھانے میں چال بازی نہیں کرتے ۔۔۔کوئی منصوبہ بندی نہیں ۔۔۔۔ہم خواجہ سراؤں میں مکمل انسانوں سے زیادہ ایکتا ہوتی ہے ۔۔۔۔

پھر جب مکمل انسان 24گھنٹے میں سے 18 گھنٹے روزانہ دوسروں کا حق کھانے میں گزار رہا ہے جب وہ اس کام سے تنگ نہیں ہوتا تو پھر ہم تو بس اللّه کی بناوٹ پر مجبور ہیں دو وقت کی روٹی کے لئے یہ سب کرنے پر ۔۔۔۔۔ہاں منو ۔۔۔۔۔میں تنگ نہیں ہوتی ۔۔۔۔میں پر سکون ہو کر سوتی ہوں کیوں کہ میں نے اپنی محنت سے بس دو وقت کی روٹی کھائی ہوتی ہے کسی کے حق سے کسی کی آہ نہیں کھائی ہوتی ڈھلتی شام میں ۔۔۔۔”

“آپی آپ بہت گہری باتیں کرتی ہیں،میرے دل پُر سکون ہوجاتا ہے ۔۔۔۔ہر سوال کا جواب ہے آپ کے پاس ۔۔ “

“ہاے منو ۔۔۔۔۔یہ دل نہیں قبرستان ہے ۔۔۔۔۔بہت کچھ اپنے ہاتھوں سے دفنایا ہے تیری مدھو آپی نے یہاں ۔۔۔گہرائی آپو آپ آجاتی ہے پھر لفظوں میں ۔۔۔۔”

مدھو کی آنکھوں میں کاجل پھیلنے لگا تھا

“آپی آپ اداس مت ہو،آپ بہت پیاری لگ رہی ہیں”

مناہل نے اس کی اداسی بانٹنی چاہی تھی

“منو پتہ ہے میرا بہت دل کرتا تھا میرا بھی شوہر ہوتا،بچے ہوتے ۔۔۔۔ایک مکمل گھر ۔۔۔۔۔مگر اب ۔۔۔”

مدھو اپنے ہاتھوں کی طرف دیکھنے لگی تھی وہ خاموش ہوئی تھی

“مگر اب ؟؟؟”

مناہل نے مدھو کا چہرہ اوپر اٹھایا تھا

“جب سے عورت کو

“میرا جسم میری مرضی”

کہتے سنا ہے میرا دل بدل گیا ہے ۔۔۔۔یہ سوچ کر عجیب لگتا ہے کہ وہ ایک خواجہ سرا کی زندگی مانگ رہی ہے ۔۔۔۔وہ باپ،بھائی،شوہر اور بیٹے کی غیرت کو خود کی آزادی کی راہ میں زنجير کی طرح سمجھتی ہے ۔۔۔۔ سوچتی ہوں خواجہ سرا ہی ٹھیک ہوں ۔۔۔۔۔۔عورت سر پر غیرت اور حفاظت کی چھت کو بوجھ سمجھ کر روڈوں پر نکل کر یہ مطالبہ کر رہی ہے کہ اسے ایک خواجہ سرا کی زندگی گزارنے کا حق دیا جائے ۔۔۔۔

پھر کیا کروں گی میں ایسی عورت بننے کی خواہش کرکے عورت تو شوہر اور گھر گرہستی کو قید کا نام دے رہی ہے ۔۔۔۔وہ خدا کی ناراضگی مول لیئے بیٹھی ہے ۔۔۔۔میں خواجہ سرا کم از کم اپنی حد تو نہیں توڑ رہی ۔۔۔۔ میں خواجہ سرا ہی بهلی ہوں ۔۔۔”

مدھو کی بات سن کر مناہل کا پسینہ چھوٹ گیا تھا اس نے بے اختیار باہر دیکھا تھا جہاں بارش برسنے کو تیار تھی ۔۔۔

“مدھو آپی موسم خراب ہے اس موسم میں کون ناچ گانے کا فنکشن رکھے گا ۔۔۔”

“مناہل تم بہت بھولی ہو،شیطانی کاموں کو خراب موسم کچھ نہیں کہتا ۔۔۔۔آندھی ہو یا طوفان ایسے کام ملتوی نہیں ہوتے ۔۔۔ خراب موسم مسجد میں جا کر نماز پڑھنے سے روک لیتا ہے ۔۔۔خراب موسم میں ٹھنڈہ پانی وضو میں روکاوٹ بن سکتا ہے ۔۔۔۔مگر یہاں ۔۔۔۔۔۔مرزا صاحب کے ہاں جا رہی ہوں ۔۔۔خیر سے تیسری بیوی بیا کر لاۓ ہیں ۔۔۔بہت بڑا فنکشن ہے ۔۔۔علاقے کے بہت کم خواجہ سرا بلائے ہیں ان چند خوش نصیبوں میں میرا نام بھی شامل ہے”

“اتنے امیر ہیں تو پھر تو سب کو ہی بلانا بنتا تھا”

مناہل دروازے میں آکر کھڑی ہوکر بولی تھی وہ بارش کی شدت کا اندازہ لگانے اٹھی تھی جو بس آنے کو تھی

“اب ناچ گانے کا کام گھر کی عورت نے جو سنبھال لیا ہے،ہم خواجہ سرا تو بس بچا ہوا کھانا لے کر لوٹ آتے ہیں”

“اچھا میں چلتی ہوں تم دروازہ اچھے سے بند کر لینا جب تک میری آواز سے تسلی نا ہو کسی کے لئے بھی کھولنا مت”

مدھو ایک پرانی مگر صاف شال اوڑھ کر گندی سی چھتری لے کر جانے کو تھی

“آپی میں نے تو باہر ویسے بھی نہیں جانا آپ باہر سے تالا لگا کر چلی جائیں جیسے ہمیشہ سے لگایا کرتی تھیں”

مناہل نے پہلی بوند کو ہاتھ میں بھر کر کہا تھا عصر ہونے کو تھی وہ مدھو کے جانے

کے بعد نماز پڑھنے اندر آئی تھی

۔*************

مناہل کی آنکھ کھلی تو اس نے خود کو اپنے کمرے میں لیٹے پایا ۔۔۔سعد کچن میں تھا جبکہ سفورا اس کے پاس بیٹھی تسبیح پر کچھ پڑھ رہی تھی

وہ گزشتہ رات کا سوچ کر اٹھ کر بیٹھ گئی تھی اس کی سانس پھول گئی تھی گلا خشک کانٹا ہونے لگا تھا

“لیٹ جاؤ آرام سے”

سفورا نے اپنی ضرورت سے زیادہ كاجل سی بھری آنکھوں کو ایک دم کھول کر کہا تھا

“امی ۔۔۔۔۔وہ ۔۔۔۔۔سعد ۔۔۔۔مجھے پیاس لگی ہے”

مناہل حلق پر ہاتھ پھیر کر بولی تھی

اتنے میں سعد کھانے کی ٹرے لئے اندر آیا تھا

“اٹھ گئی ہو مناہل ؟؟؟چلو اٹھو ہاتھ دھلواتا ہوں پھر کھانا کھاتے ہیں میں نے مٹن کڑاہی بنائی ہے تمہاری من پسند ۔۔۔”

سعد آنکھوں میں چمک لئے جوش سے بولا تھا

مناہل نے سعد کو ہاتھ کے اشارے سے پاس آنے کو کہا تھا سعد فورا آ کر بیٹھا تھا

“سعد ۔۔۔۔۔رات کو ۔۔۔۔وہ وہ کون تھا جو مجھے اپنی طرف کھینچ رہا تھا؟؟؟”

مناہل سعد کے کندھے پر سر رکھ کر سہم کر بولی تھی جس پر سفورا کے چہرے پر چمک آئی تھی

“ارے کوئی نہیں تھا تمہیں جب منع کیا تھا ڈاکٹر نے دوبارہ بارش میں نہانے سے تو تمہیں کیا ضرورت تھی مناہل ۔۔۔۔بخار تیز تھا اور ٹھنڈ بھی ایسے میں تم اس طوفانی بارش میں رات کے اس پہر نہانے نکل گئی ڈر تو لگنا ہی تھا ۔۔۔۔۔تمہارا وہم ہے سب ۔۔۔ایسا کچھ نہیں تھا میں جب تمہیں اپنی جگہ پر نا پا کر باہر آیا تو تم بلکل اکیلی برگد کے درخت کے نیچے تیز بارش میں بیہوش پڑی تھی پھر میں تمہیں اندر لے آیا اور اب تم بلکل ٹھیک ہو”

“بس کھانا کھاؤ تا کہ بخار کی دوائی دوں”

سعد اس کے سر کو پیار سے سہلاکر بولا تھا

“بارش سے تمہیں ایسی نفرت کروا دوں گی کہ یاد رکھوگی”

سفورا نے خود سے دل میں کہا تھا وہ باہر دیکھ رہی تھی جہاں ٹپ ٹپ بارش برس رہی تھی گو کہ رفتار ابھی کم تھی

“سعد مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے دل عجیب عجیب سا ہو رہا ہے،جیسے،جیسے کچھ ہونے والا ہے بہت برا”

“مناہل میری جان بس نارمل سا بخار ہے تم پھر سے اچھا محسوس کرنے لگوگی ۔۔۔۔”

سعد مسکرا کر بولا تھا

مناہل کو آج سفورا کچھ عجیب لگ رہی تھی وہ سعد کے کندھے کے ساتھ سر ٹکائے سہمی سی، کن انکھیوں سے سفورا کو دیکھ رہی تھی سعد کو بھی اس بات کا اندازہ ہوا تھا

“امی آپ دم کریں نا مناہل پر،اس کو ٹھیک کریں”

سعد تڑپ کر بولا تھا

“سعد باہر بارش تیز ہونے والی ہے میں مناہل کے لئے ڈر کا تعویز لے کر آتی ہوں وہ یہ گلے میں ڈال لے گی تو اس کا ڈر بھاگ جائے گا”

سفورا اٹھتے اٹھتے مناہل پر سر تا پير پھونک مار کر بولی تھی سعد کو تسلی ہوئی تھی ماں کی اس دلچسپی اور فکر پر۔۔۔

“امی بارش تیز ہونے والی ہے آپ کل چلی جاتیں کچھ دیر میں مغرب بھی ہونے والی ہے”

سعد کھڑا ہو کر ماں کے پاس آیا تھا جو برآمدے میں اپنی چادر اوڑھ کر چھتری لئے تیار کھڑی تھی

“نہیں وقت کم ہے میرا علم کہتا ہے مناہل پر سایا ہو گیا ہے اس کا حل بہت جلد کرنا ہی مناسب رہے گا”

وہ کہہ کر رکی نہیں تھیں

بادل زور سے گرجے تھے سفورا کالی چادر اوڑھے تیز تیز قدم چلتی جا رہی تھی وہ حسب معمول کچے راستے پر جیسے ہی مڑی اس کی نظر باجی کے بوسیده گھر پر پڑی تھی جو آبادی سے قدرے ہٹ کے تھا وہ اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا اور شام کے اذان بھی ہونے لگی تھی

وہ دروازہ کھٹکھٹا کر کھڑی ہوگئی تھی بارش تیز ہو گئی تھی بجلی چمکی تھی بے دھیانی میں اس کی نظر دروازے کے نچلے حصے پر پڑی تھی جہاں سے عجیب و غریب سے کوئی حشرات تیزی سے باہر آ رھے تھے کچھ سفورا کے اوپر بھی چڑھ گئے تھے جو تیز جلن کے بعد ناقابل برداشت خارش کرنے لگے تھے سفورا پاگلوں کی طرح چھتری پھینک کر اپنا پورا جسم کجھانے لگی تھی جہاں وہ خارش کرتی وہاں سفيد پيپ والا دانا بن جاتا وہ اسی وقت پھٹ جاتا اور اس کا پانی پهيل کر مزيد خارش جلن اور آخر میں تیز درد پیدا کرتا وہ سخت مشکل میں آ گئی تھی ۔۔

اسی وقت باجی نے دروازہ کھولا تھا وہ سفورا کی حالت دیکھ کر اسے کھینچ کر اندر لے آئی تھی

اسے اندھیرے کمرے میں لا کر اس کو ایک لال رنگ کا مرہم لگانے لگی جس سے تھوڑی دیر میں سفورا پر سکون ہوگئی تھی مگر ان دانوں کے چھالے ابھی بھی موجود تھے

“باجی یہ کیا تھا ؟؟؟اور اس طرح اندھیرا کیوں کر رکھا ہے ؟؟”

“خاص عمل کر رہی تھی کسی خاص اللّه کے بندے پر اسی کی وجہ سے میرا عمل الٹا پڑ گیا اور یہ زہریلی کیڑیاں کمرے میں بھرنے لگی بہت مشکل سے ان کو باہر بھیجا ہے،مجھے بھی بہت کاٹا ہے”

وہ خود کو دیکھانے لگی تھیں جہاں نسبتا بڑے اور بھیانک چھالے تھے

دونوں بیٹھ گئی تھیں باجی نے کمرے کا بلب روشن کر لیا تھا

ایک دم کمرہ پیلی روشنی سے بھر گیا تھا کمرے میں جا بجا کفن کے مختلف حصے بکھرے پڑے تھے جن پر خون کے چھینٹے ڈالے گئے تھے ایک طرف کچھ جگہ پر دھواں کیا گیا تھا

سفورا نے مناہل کی كنگی کے بال،میلے کپڑے اور ناخن

جو وہ اس کی بے ہوشی میں کاٹ لائی تھی باجی کو پکڑاتے ہوۓ پوچھا تھا

“آج کے دور میں کون اتنا نيک ہے جو عمل ہی الٹا پڑ گیا وہ بھی آپ جیسی پہنچی ہوئی عامل کا ۔۔۔۔۔۔باجی ایسی بھی کیسی نيكی جو آپ کے عمل کے آگے ڈھال بن کر بچا گئی اس کو ؟؟؟”

“پانچ وقتی نمازی ہے”

“تو کیا نماز میں اتنی طاقت ہے؟؟؟”

سفورا چیزیں باجی کو تھما کر اب اپنا شاپر بند کر رہی تھی گرہ لگا کر

“آج کا مسلمان پانچ وقت کی نماز کی اہمیت اور فوائد جان کر اس کی پابندی شروع کر دے تو ہم جیسے اسی دن اپنا بستر گول کر کے جنگلوں میں نکل جائیں سفورا”

باجی کی بات میں طنز کا عنصر نمایاں تھا

“نماز میں بہت طاقت ہے جب بھی کسی نمازی پر عمل کروایا جاتا ہے مجھ سے میں بہت کم یا شاید کبھی کامیاب نہیں ہوئی اگر کبھی ہوئی ہوں تو وہ وقتی اثر ثابت ہوا ہے،کروانے والا کچھ ہی دنو ں میں شکایت کے ساتھ واپس آیا ہے ۔۔۔ پانچ وقت کی نماز جو پڑھنے والے کے گرد ایسا مضبوط حصار کھینچ لیتی ہے اس کا توڑ اکثر بلکل ناممکن ہو جاتا ہے،لہذا کسی کو اپنے عمل کے تابع کرنے کے لئے سب سے پہلے مجھے اس کو ایسے کاموں میں لگانا پڑتا ہے جس سے وہ نماز میں سستی اور قضاء کرنے لگے ۔۔۔۔”

“تو کیا کسی کو بے نمازی کرنا آسان کام ہے ؟؟؟”

سفورا نے کمرے کے باہر دیکھا تھا جہاں رات کا اندھیرا پھیل چکا تھا اور اب بارش زور پکڑ چکی تھی

“ہاں ۔۔۔۔۔ان لوگوں کو جو نماز میں مستقل نہیں ہوتے،مطلب کبھی کوئی پڑھ لی کوئی چھوڑ لی جو لوگ یہ نہیں جانتے کہ ہر نماز كی اپنی اہمیت اور کام ہے ۔۔۔۔ایسے لوگوں کا دل بدلنا بہت آسان ہوتا ہے”

“ہاں مگر کچھ ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جن کو نماز بوجھ لگنے لگتی ہے نماز پڑھ کر بھی وہ بے سکون اور بے چین رہتے ہیں مگر وہ پھر بھی اس کی ادائیگئ میں ناغہ نہیں کرتے وہ اس بات کو کبھی بھی فراموش نہیں کرتے کہ نماز فرض ہے یہ اتنی معمولی نعمت نہیں ہے جسے انسانی موڈ کی نظر کیا جائے ۔۔۔ ایسے لوگوں پر جادو کرنا ناممکن سا ہوجاتا ہے سفورا ۔۔۔۔اور آج جس کا عمل الٹا ہوا ہے یہ بھی پانچ وقت کا نمازی ہے”

باجی اپنی ناکامی پر غمگین ہوگئیں تھی پھر کچھ یاد آنے پر وہ دوبارہ بولی تھی

“تیری بہو تو نمازی نہیں نا ؟؟؟”

“فجر نہیں پڑھتی سوئی رہتی ہے باقی سب میں باقاعدگی ہے بہت ۔۔۔۔۔”

“هاهاهاهاها ۔۔۔۔پھر تو اس پر عمل زیادہ مشکل نہیں ہوگا سفورا ۔۔۔۔جو نماز سب سے افضل ہے وہ اسی میں کوتاہی کرتی ہے تو ۔۔۔۔۔بس تمہارا کام سمجھو ہو گیا ۔۔۔ “

باجی اب دلچسپی سے مناہل کی مطلوبہ چیزیں دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔

جبکہ سفورا تیز بارش كی طرف دیکھ رہی تھی اور وہ دل ہی دل میں باجی کے تجربے کو داد دے رہی تھی کیوں کہ رات ہی وہ اپنے عمل کا اثر مناہل کو خوفزده کر کے دیکھ چکی تهی ۔۔۔۔

“اچھا باجی اجازت دیں میں نکلوں رات زیادہ ہو رہی ہے”

“ہاں تم جاؤ میں ابھی مناہل پر عمل شروع کرتی ہوں اسے زندہ رکھنا ہے فلحال اسے ان باقی مانده چار نمازوں سے بھی ہٹانا ہے اس کے بعد اس کے جسم كی ضرورت ہوگی مجھے ایک خاص عمل کے لئے ۔۔۔”

باجی نے اپنے عمل کی تیاری کے لئے چیزیں ترتیب دینا شروع کردی تھیں اور ساتھ ہی سفورا کو جانے کا اشارہ کیا تھا جس پر سفورا نے فوری عمل کیا تھا وہ طوفانی بارش میں گھر كی طرف نکل گئی تھی

۔۔۔۔

سفورا گھر پہنچی تو سعد اس کا منتظر کھڑا تھا

“امی بہت دیر کردی آپ نے مجھے فیکٹری سے کب سے کال آئی ہوئی ہے دو دن کی چھٹی پر جو لڑکا اپنی جگہ کام پر لگایا تھا اس کے گھر میں کوئی مسئلہ ہو گیا ہے اب اس كی جگہ مجھے اس کی نائٹ کرنی پڑے گی انکار بھی نہیں کر سکتا تھا اسی کے دم پر جب چاہے چھٹی کرتا ہوں، میں بس آپ کا منتظر تھا مناہل سو گئی ہے آپ اس کے پاس ہی سو جایئں آج”

“مناہل کو بتا دیا ہے ؟؟”

“جی امی”

سعد اپنا رین کوٹ پہن کر تیز بارش میں بائیک لے کر نکل گیا تھا سفورا پرسکون سی گھر کا مین دروازہ بند کر کے خشک كپڑے پہننے اپنے کمرے میں گئی تھی

“رات کا کوئی پہر تھا جب مناہل کی آنکھ کھلی تھی وہ جانتی تھی سفورا اس کے ساتھ موجود چارپائی پر سوئی ہوگی اور سعد فیکٹری جا چکا ہوگا اس نے آنکھیں کھول کر کمرے كی کھڑکی کی طرف دیکھا تھا جو تیز بارش اور ہوا كی وجہ کھل اور بند ہو رہی تھی بارش بہت تیز تھی

اس نے کل رات کا سوچ کر سہم کر سفورا کی طرف کروٹ بدلی تھی مگر جو منظر اس نے دیکھا وہ گزشتہ رات سے زیادہ خوفناک تھا

سفورا کفن پہنے کسی میت کی طرح سیدھی لیٹی سو رہی تھی مناہل کی چیخ پر اس نے اپنی كاجل سے لبریز کالی آنکھیں کھول کر مناہل كی طرف دیکھا تھا جس سے مناہل کا سانس بند ہونے کو تھا

سفورا اپنا حلیہ بھلائے اب چارپائی پے اٹھ کر بیٹھ گئی تھی مناہل کی مسلسل چیخوں کو روکنے کے لئیے اس کے پاس چل کر آرہی تھی ایسا لگ رہا تھا کوئی کفن پہنے میت چارپائی سے اٹھ کر اس کی طرف آرہی ہے اس سے پہلے کے مناہل کا دل بند ہوتا سفورا فوراً

بولی تھی کیوں کہ اس خاص عمل کے لئے اس کا زندہ رہنا ابھی بہت ضروری تھا

“میں ہوں مناہل تمہاری امی،ڈرو مت مجھ سے”

وہ مناہل کے پاس بیٹھ گئی تھیں اور وقت دیکھ کر اس پر کچھ پڑھ پڑھ کر پھونکنے لگی تھیں تھوڑی ہی دیر مناہل دوبارہ سو گئی تھی

وہ سوتے ہوۓ بھی مسلسل ہچکیاں لے رہی تھی ۔۔۔

سفورا نے اس گڑیا کو اس کے بيڈ کے نیچے کچھ پڑھ کر خاص وقت دیکھ کر چھپا دیا ۔۔۔

اس کے کام کا باقاعده شاندار آغاز ہو چکا تھا وہ مطمئن سی اپنی جگہ پر جا کر لیٹ گئی تھی جبکہ بارش کی شدت میں تیزی آئی تھی ۔۔۔

۔*****”*********”*

منی بیٹھی ایک ٹہنی کے ساتھ کھیل رہی تھی جبکہ بہادر شاہ دروازے میں کھڑا کڑکتی بجلی اور تیز بارش میں آسمان کی طرف دیکھ رہا تھا

جیسے ہی بجلی چمکتی ایسا لگتا آسمان دو ٹکڑوں میں بٹ گیا ہے

وہ دونوں ہاتھ کمر پر رکھے پریشان سا لگ رہا تھا

“اباں اندر آجا کیا دیکھ رہا ہے باہر؟؟”

منی ٹہنی ہاتھوں میں جُھلاتی چل کر باپ کے پاس آئی تھی

“منی آج کچھ بہت برا ہونے والا ہے،یہ آسمان دیکھ رہی ہے کیسا غضبناک ہورہا ہے”

وہ آسمان كی طرف اشارہ کر کے بولا تھا جو ایک بار پھر پورا روشن ہوا تھا

“ایسا لگتا ہے آج یہ بجلی زمین پر بھی گرے گی”

“آواز سنی توں نے منی ؟؟؟”

“ابا ہر انسان اپنے عمل کی فصل کاٹے گا اگر کسی پر گرے گی تو اس کے اپنے كرتوت اس کے آگے آئے ہوں گے، توں کیوں پریشان ہوتا ہے چل اندر آجا”

بہادر شاہ نے کوئی جواب نہیں دیا تھا وہ ہنوز آسمان کو تاک رہا تھا منی بھی اب دلچسپی سے یہاں وہاں دیکھ رہی تھی

“وہ دیکھ منی”

بہادر شاہ نے قبرستان کے داخلی دروازے کی طرف اشارہ کیا تھا جہاں ایک مرد اور ایک عورت چھتری لئے داخل ہوۓ تھے عورت بڑی سی چادر اوڑھے ہوۓ تھی جو بہت آہستہ آہستہ ٹھہر ٹھہر کر چل رہی تھی جیسے کوئی جسمانی تکلیف میں مبتلا ہو ۔۔۔۔۔

“منی نے ایک نظر ڈال کر اندر کا رخ کیا تھا جبکہ بہادر شاہ اب بھی کھڑا انہی کو دیکھ رہا تھا جو رات کے دوسرے پہر اس طوفانی موسم میں قبرستان میں داخل ہوۓ تھے ۔۔۔

وہ دونوں اب بہادر شاہ کے پاس آکر رکے تھے

“اپ یہاں کے گورکن ہیں ؟؟؟”

بہادر شاہ نے اثبات میں سر ہلا کر اندر آنے کا اشارہ کیا تھا وہ خود دروازے سے پیچھے ہٹا تھا وہ دونوں اندر آچکے تھے

اس خاتون کو بیٹھنے میں بھی اس آدمی کی مدد درکار ہوئی تھی وہ تکلیف کی آوازیں نکالتی ہوئی بڑی مشکل بیٹھی تھی اس کے ایک ہاتھ میں کچھ ڈھکا ہوا تھا

“سر ہمیں ایک قبر کھدوانی ہے لیکن یہ کام صبح ہونے سے پہلے پہلے ہو جانا چاہیے ۔۔۔ہم بارش ركنے کا انتظار نہیں کر سکتے”

وہ آدمی اس عورت کی آنکھوں میں دیکھ کر جتا کر بولا تھا

جس پر اس نے لال آنکھوں سے اسے دیکھا تھا جن میں تکلیف ہی تکلیف تھی

“بن جائے گی قبر ۔۔۔۔قبر کا کیا ہے ۔۔۔۔۔کسی اور کے لئے قبر کھدوانا کونسا مشکل کام ہے صاحب۔۔۔۔”

“مگر میت کدھر ہے ؟؟؟وہ صبح آئی گی؟؟؟”

اس سوال پر وہ شخص تھوڑا محظوظ ہوا تھا وہ اس عورت کے نسبتاً قریب ہو کر بیٹھ گیا تھا وہ سفاکی سے بولا تھا

“میت ہم ساتھ لاۓ ہیں”

اس کے ساتھ ہی اس نے اس عورت کی گود سے چادر اوپر اٹھائی تھی جہاں ایک خوبصورت چند گھنٹوں کی نومولود بچی انگوٹھا چوس رہی تھی

وہ بچی کافی بھوکی لگ رہی تھی وہ جتنی رغبت سے انگوٹھا چوس رہی تھی بارش کا شور نا ہوتا تو اس کا شور کانوں میں شور ضرور پیدا کرتا

منی بچی دیکھ کر خوشی سے اس کے پاس آگے ہوئی تھی جبکہ بہادر شاہ اس کے باپ کو حیرانگی سے گھورنے لگا تھا

“صاحب یہ تو زندہ اور بھوکی بھی لگ رہی ہے؟؟؟؟”آپ اس کو میت کیسے بول سکتے ہیں ؟؟؟”

بہادر شاہ کے لہجے میں حیرانگی کا عنصر نمایاں تھا

جس پر وہ عورت پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی تھی

“کتنی حسرت تھی مجھے کہ میری پہلی اولاد بیٹا ہوگی میں اپنے سرکل کے تمام لوگوں کو دعوت دے کر خوب جشن مناؤں گا ۔۔۔یہ مجھے آخر تک یہی کہتی رہی کہ ڈاکٹر نے بیٹا ہی بتایا ہے۔۔۔۔مگر آج بیٹی پیدا کردی ہے”

وہ ناگواری سے اس عورت کو دیکھ کر بولا تھا جیسے یہ اس کے بس کی بات تھی ۔۔۔۔

“میں چاہتا ہوں اس سے پہلے کہ کسی کو خبر ہو ہم اس کو دفنا دیتے ہیں لوگوں کو یہی کہیں گے مری ہوئی پیدا ہوئی تھی دفنا آۓ”

وہ عورت اب اس بچی کو دیوانہ وار چومنے لگی تھی

“آپ ایک بار مجھے اس معصوم کو دودھ تو پلا لینے دیں ۔۔۔۔میری پہلی اولاد ہے یہ ۔۔۔۔میری ممتا کو صبر کیسے آئےگا ؟؟؟؟؟؟؟”

“میرے بطن میں جو بھی جنس پل رہی تھی میں نے تو ایک جیسی ہی تکلیف کاٹی ہے زوہیب آپ میرے دل کو کیوں نہیں سمجھتے؟؟؟؟؟”

“اگلی بار بیٹا بھی پیدا ہو جائے گا آپ خدا کے لئے اس معصوم پر رحم کریں ایسا ۔۔۔۔۔ایسا مت کریں ۔۔۔۔۔میں ۔۔۔۔۔۔۔۔یہ آپ کی زندگی کا حصہ آج بنی ہے میں نے اسے نو ماہ اپنے پیٹ میں رکھا ہے یہ میرے ساتھ ہر لمحہ سانس جیسی موجود رہی ہے ۔۔۔۔۔میں کہاں سے لاؤں اتنا صبر ؟؟؟؟؟؟؟؟؟”

وہ چیخ کر روئی تھی

بارش نے طوفانی حالت اختیار کر لی تھی ایسا لگ رہا تھا سب اڑا کر لے جائے گی ۔۔۔۔

ہوا کی آواز بھی بھیانک ہوئی تھی اب سب کو اونچی آواز میں بولنا پڑ رہا تھا

“پھر وہ ہی باتیں کیوں بھری جوانی میں طلاق لینا چاہتی ہو ؟؟؟؟”اس کا مت سوچو اپنا سوچو کون رکھے گا تمہیں ؟؟؟؟تمہارا وہ باپ جس نے میری عمر اور تمہاری عمر کا لحاظ رکھے بغیر میری تیسری بیوی بنا کر بیا دیا میرے ساتھ یا تمہارے وہ بھائی جنہوں آج تک کسی عید تک بھی تمہیں فون نہیں کیا ؟؟؟؟؟”

اس بات سے اس عورت کے رونے میں اور بھی شدت آئی تھی

“مگر زوہیب ۔۔۔۔۔اس بچی کو تو یہ سب نہیں پتہ ۔۔۔۔یہ اتنی چھوٹی ہے کہ میں اسے یہ نہیں سمجھا سکتی کہ۔۔۔۔۔۔کہ اس کی ماں مجبور ہے ۔۔۔۔”

“آپ مجھے اس کو دودھ پلانے کی ۔۔۔۔”

“تڑاخ”

اس آدمی نے اس عورت کا منہ تھپڑوں سے رنگ دیا تھا اس کی سر ننگا ہوا تھا بال اس کے چہرے پر پھیل چکے تھے جس پر وہ سہمی سے خاموش ہوگئی تھی

“دیکھنے میں تو تم پڑھے لکھے لگ رہے ہو پھر یہ بیٹا بیٹی کا فرق ؟؟؟؟”

“کچھ جم نہیں رہا بابو”

بہادر شاہ بد مزہ سا بولا تھا

“بس مجھے بیٹا چاہیے ۔۔۔۔۔بیٹا ۔۔۔۔۔۔نہیں چاہیے مجھے بیٹی ۔۔۔۔۔نفرت ہے مجھے اس لفظ سے ۔۔۔۔”

وہ چیخا تھا

“تو تمہیں اس حرکت کے بعد بھی یقین ہے کہ اللّه تمہیں اولاد دے گا ؟؟؟؟وہ بھی تمہاری من پسند ؟؟؟؟”

“ہاں۔۔۔۔”

وہ غرور میں بولا تھا

“هاهاهاهاهاها ۔۔۔۔۔۔”

بہادر شاہ کا قہقہ بلند ہوا تھا

“ویسے صاحب مٹی کا ڈھیر غرور کرتا ۔۔۔۔۔جچتا نہیں ہے،مگر تمہیں داد دینی پڑے گی ہاں”

دھڑم کی زور دار آواز آئی تھی جس پر بہادر شاہ دروازے میں آیا تھا

“منی میں نے کہا تھا نا آج بجلی گرے گی ۔۔۔۔مل گئی سزا کسی حد سے بڑھےکو ۔۔۔”

وہ اس آدمی کی طرف دیکھ کر بولا تھا بہادر شاہ کی آنکھیں خون کی طرح لال ہوئی تھیں جس پر وہ آدمی بے چین ہوا تھا

“اب قبر کھودنی ہے یا نہیں؟؟؟”

“نہیں ۔۔۔۔۔”

بہادر شاہ دو ٹوک لہجے میں بولا تھا

“میں گورکن ہوں تم جیسا عام انسان نہیں جو زندہ لوگوں کو زندہ درگور کرنے میں لگا ہے”

“اپنا اور میرا فرق باقی رہنے دو”

وہ عورت کو کچھ گھنٹوں پہلے زچگی کے زندگی موت کے مرحلے سے گزری تھی یہ اندازہ لگانے سے قاصر تھی کہ درد جسم میں زیادہ ہے یا روح زیادہ چھلنی ہے ۔۔۔۔۔۔وہ بار بار انگوٹھا چوستی بیٹی کو دیکھتی اور ایک بار پھر ٹوٹ کر رونے لگ جاتی ۔۔۔۔۔

“صاحب جیسے یہ آج چپ چاپ انگوٹھا چوس کر خاموش ہے کسی حق کا مطالبہ نہیں کر رہی مرنے تک ایسے ہی خاموشی سی اپنی زندگی گزار لے گی ۔۔۔بیٹا تو ماں باپ کو اپنے حصے کے لئے اکثر مار دیا کرتا ہے وہ ماں باپ کو چھوڑ کر بھی جا رہا ہو تو جاتے جاتے بھی اپنا حصہ لے کر جاتا ہے ۔۔۔وہ ماں باپ کی تکلیف پر بیٹی سے کم اور کبھی تو بلکل نہیں تڑپتا اور بیٹی چپ چاپ اپنی پسند کے برعکس انسان کے ساتھ پوری زندگی گزار دیا کرتی ہے فقط اس لئے کہ اس کے والدین مطمئن رہیں ۔۔۔۔کوئی ان کی تربیت پر انگلی نا اٹھائے ۔۔۔اس بات کی مثال تمہارے سامنے تمہاری اپنی بیوی موجود ہے ۔۔۔۔دیکھ لو ۔۔۔۔سوچ لو ۔۔۔۔بیٹی اور گھر میں موجود پالتو جانور میں کم ہی فرق ہوتا ہے ۔۔۔۔سب چپ کر سہہ جاتی ہیں ۔۔۔۔ماں باپ کا سکون ان کے لئے اپنی خوشی اپنی زندگی سے بہت بالا تر ہوتا ہے ۔۔۔ “

“ارے بیٹی کو تو دیکھ کر ہی دل و روح میں ٹھنڈک بھر جاتی ہے،تم ٹھیک کہتے ہو بیٹا بیٹی میں فرق موجود ہے وہ فرق ہے آنکھوں کی ٹھنڈک کا ۔۔۔۔بیٹی جب اپنے چھوٹے ہاتھوں سے سر دباتی ہے وہ بیٹا کب کرتا ہے ؟؟؟وہ جو باپ کا پیر نیچے لگنے سے پہلے ہی چپل آگے کرتی ہے بیٹا کب ایسا کرتا ہے ؟؟؟وہ جو باپ کی طبیعت کی خرابی پر شوہر سے پٹ کر سسرال سے گالیاں سن کر بھی اپنا سب چھوڑ چھاڑ کر بھاگی بھاگی آتی ہے پرس میں اکثر بس آنے کا کرایا ہوتا ہے بیٹا ایسا کب کیا کرتا ہے ؟؟؟

وہ بیٹی جو خود پر ہر الزام برداشت کر لیتی ہے مگر جب سسرال میں کوئی اس کے باپ کا نام لے تو وہ آپے سے باہر ہو جاتی اپنے لئے وہاں جہنم بنا لیتی ہے مگر باپ کے نام پر چپ نہیں رہتی،بیٹا کب ایسا کرتا ہے ؟؟؟؟پھر تمہیں بیٹا کیوں چاہیے ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟!؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟😭😭😭😭😭😭😭

بہادر شاہ نے منی کو گلے لگاکر چوما تھا

“اللّه؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟!؟”

وہ عورت اپنے دونوں ہاتھ پھیلا کر آسمان کی طرف دیکھ کر چیخی تھی

“اس کی قبر میں خود کھود لوں گا”

وہ آدمی قبر کی کھدائی کا سامان لے کر قبرستان میں نکل گیا تھا۔

وہ ابھی کچھ آگے ہی گیا تھا بجلی آب وتاب سے چمکی تھی اب کی بار اس کا شکار وہ آدمی ہوا تھا

وہ اس پر گر کر اسے یک جھٹکے میں ہی راکھ کر چکی تھی ۔۔۔۔

“هاهاهاهاها”

بہادر شاہ کا بے رحم قہقہ ۔۔۔۔۔اس بے رحم انسان کا بے رحم انجام دیکھ کر بلند ہوا تھا

وہ عورت آنسو پونچھ کر اپنی بیٹی کو خوشی خوشی خود سے لگا کر دودھ پلانے لگی تھی ۔۔۔