Barish by Jameela Nawab Readelle 50375 Barish Episode 11
Rate this Novel
Barish Episode 11
Barish by Jameela Nawab
آج دس دن ہونے والے تھے ہر آتا لمحہ مناہل کو پہلے سے زیادہ خوفزدہ کر رہا تھا وہ زیادہ وقت اپنی آنکھیں سختی سے بند کیے رکھتی ۔۔۔۔اکثر ایسا کرنے سے اس کے دماغ اور آنکھوں کے گرد تیز عجیب سا درد رہتا ۔۔۔
وہ کھانا بھی بند آنکھوں سے کھاتی ۔۔۔۔اس کا کہنا تھا میرے ارد گرد بہت سے مرے ہوۓ لوگ بیٹھے ہوۓ ہیں وہ کفن پہنے مجھے اپنے ساتھ لے کر جانے آئے ہیں ۔۔
اس کا ہر کام سعد اپنے ہاتھ سے کرتا وہ کام پر جانا چھوڑ چکا تھا وہ دکھ سے تھک کر سفورا کی گود میں سر رکھے گھنٹوں روتے ہوۓ گزار دیتا ۔۔۔۔۔
ایسی ہی ایک رات تھی مناہل سعد کا بازو کس کے پکڑے ہوۓ سو رہی تھی سعد بھی گہری نیند میں تھا باہر بارش زوروں پر تھی جبکہ سفورا اوپر والے کمرے میں گئی تھی ۔۔۔
وہ حسب معمول ان تینوں تابوتوں پر نظر ڈال کر بیٹھ گئی تھی ۔۔
“اب تو مناہل کی جو دماغی حالت ہو چکی ہے وہ بہت جلد۔۔۔۔۔۔مردار ۔۔۔۔۔۔۔ اس کا دل بند ہو جائے گا ۔۔ اور میرا دل خوشی سے کھل جائے گا ۔۔۔هاهاهاهاها ۔۔۔۔۔ یہی تھی تمہاری اوقات بہو رانی ۔۔۔۔۔طاقت ور بننے کے لئے ساس کا عہدہ بھی کافی ہوتا ہے ۔۔۔۔کسی کی دکھتی رگ جو آپ کے ہاتھ آ جاتی ہے ۔۔۔۔آپ کے چند الفاظ کسی کا جینا دوبھر کر سکتے ہیں ۔۔۔۔آپ کی نفرت اور حقارت کی ایک نگاہ کسی کی پوری رات سسكیوں سے تكيہ بگھو سکتی ہے ۔۔۔آپ کی ایک چال کسی کو اس کے شوہر کی نظروں میں ہمیشہ کے لئے دو ٹکے کا کر سکتی ہے ۔۔۔۔آپ کے چند جذباتی جملے اس لڑکی کے ماتھے پر طلاق کا کبھی نا صاف ہونے والا دھبہ لگا سکتا ہے ۔۔۔۔۔آپ کی زبان کے تھوڑی سی حرکت کرنے سے کسی کی بیٹی کو آپ کا بیٹا موت کی گھاٹ اتار سکتا ہے ۔۔۔۔۔آپ کے پاس کسی کی بیٹی کی خوشی غمی ۔۔۔حتی کہ زندگی موت تک کی چابی ہوتی ہے ۔۔۔۔پھر ہوا نہ یہ عہدہ طاقت ور ؟؟؟؟؟”
“هاهاهاهاهاها”
سفورا پاگلوں كی طرح اپنی فتح کا جشن منا رہی تھی
“کوئی بھی انسان طاقت ور نہیں ہوتا سفورا،یہ خام خیالی ہے تمہاری”
اس کے سامنے سعد کھڑا مسکرا کر بولا تھا سفورا نے دروازے کی طرف دیکھا تھا جو اب بھی اندر سے بند تھا اس کا حلق فورا سوکھ گیا تھا
“طاقت ور صرف اللّه کی ذات ہے،اللّه کی تخلیق کردہ چیز نا تو اس جتنی طاقت ور ہو سکتی ہے اور نا ہی اس کی طاقت کا مقابلہ کر سکتی ہے،بہتر ہوگا اپنی اصلاح کرلو تم”
سعد بیٹھ گیا تھا
“وہ بیٹا ۔۔۔۔میں ۔۔۔۔۔تم یہاں ۔۔۔۔”
وہ بات بنانے کی کوشش کر رہی تھی
“ارے ۔۔۔۔۔یہ ڈر کیسا ہے سفورا ؟؟؟تم یہاں اپنے گھر والوں سے چھپ کر بیٹھی یہ شیطانی کام کر رہی ہو اور اپنے بیٹے کو دیکھتے ہی تمہارا حلق سوکھ گیا ہے یہ کیسی طاقت ہے ؟؟؟ وہ اللّه جو سات پردوں میں بھی تمہیں دیکھ سکتا ہے اس سے ڈر نہیں لگتا ؟؟؟؟”
“سعد ۔۔۔۔میں یہ سب تمہارے لئے کر رہی ہوں،تمہیں خوش دیکھنا چاہتی ہوں”
“هاهاهاهاها”
سعد نے قہقہ لگایا تھا
“ہر ساس یہی کہا کرتی ہے پھر یہ ساس بہو کی جنگ اب تک کیوں چل رہی ہے؟؟؟”
“ایک دن آئے گا مسئلہ کشمیر اور فلسطین بھی حل ہو جائے گا انشااللہ ۔۔۔۔ مگر یہ مسئلہ ساس بہو ؟؟؟؟یہ قیامت تک جاری و ساری رہے گا ۔۔۔۔۔آج تک ایسا کوئی پیدا ہی نہیں ہوا جو اس مسئلے کو حل کر سکے ۔۔۔”
سعد دیوار کے ساتھ ایک پير ٹکائے دونوں ہاتھ سینے پر باندھے کھڑا تھا
“جانتی ہو سفورا اس کی وجہ ؟؟؟”
سفورا اب پتھرائی آنکھیں کئے کچھ پڑھنے لگی تھی
“ہر مسئلے کی کچھ بنیادی وجوہات ہوتی ہیں جن کو ختم کر کے اس مسئلے کو جڑ سے اکھاڑ پھينكا جا سکتا ہے ۔۔۔مگر یہ مسئلہ ایسا ہے جس کی کوئی بنیادی وجہ ہی نہیں ہے”
سعد افسرده سا بولا تھا
“میری خدمت نہیں کرتی تیری بیوی”
سفورا کو اب سعد کو باتوں میں لگا کر اپنی پڑھائی مکمل کرنی تھی
“هاهاهاهاها ۔۔۔۔تو ؟؟؟”
“بیوی پر اپنے شوہر کی خدمت فرض ہے شریعت میں ساس سسر اس کی ذمہ داری نہیں ۔۔۔۔۔اگر کوئی بہو اپنے سسرال کی خدمت کرے تو اس کے لئے احسان کا لفظ استعمال ہوا ہے سفورا ۔۔۔۔اللّه کی نظر میں وہ اس خدمت سے بری الزمہ ہے۔۔۔۔ایک بیٹا اپنی ذمہ داری اپنی بیوی پر مسلط نہیں کر سکتا ۔۔۔۔ہاں ایک گھر میں رهتے ہوۓ اگر وہ ساس سسر کا خیال رکھے ان کے کام کرے تو یہ اس کا معاشرتی فرض تو کہلا سکتا ہے ۔۔ مگر شریعت میں بیوی پر ایسا کوئی فرض لاگو نہیں ہوتا ۔۔۔۔۔”
“بہو آپ کی نسل کی تشکیل اور تعمیل کرنے آتی ہے خدارا اس کو گھر کے کاموں میں الجھا کر جنگ و جدل کا شکار مت بنائیں……وہ لڑکی جسے ہر پل یہ جتایا جائے کہ گھر کا کام وہ ہی کرے گی اسے نوکر سمجھنا اس کی عزت نفس کو مجروح کرنا ۔۔۔۔ایک احساس کمتری میں مبتلا لڑکی آپ کو ایک با اعتماد نسل نہیں دے سکتی ۔۔۔۔۔۔سفورا اپنی بہو کو اپنے شوہر کی خوشی تک محدود رہنے دو اپنی آنا کی تسكين چھوڑ دو”
سعد سفورا کے بہت پاس آیا تھا سفورا نے جیسے ہی اس کا چہرہ دیکھا وہ سعد نہیں تھا وہ بہت بھیانک تھا
“تتتتت۔۔۔۔تم ؟؟؟؟”
سفورا نے گھبرا کر کہا تھا تم پھر واپس آ گئے ۔۔۔۔
“یاد رکھنا سفورا ۔۔۔۔ تمہاری ہر چال مجھ پر آ کر دم توڑ دے گی ۔۔۔میں تمہیں کبھی بھی اپنے مکرو اعزائم میں کامیاب نہیں ہونے دوں گا ۔۔ ۔۔تم نے میری محبت کو ٹکڑایا مجھے آزاد کر دیا ۔۔۔ایک خدا کے بندے نے مجھے قابو کر لیا ۔۔۔۔میں اسلام قبول کر چکا ہوں ۔۔۔۔تمہیں اب بھی کہتا ہوں یہ گناہ اور حسد کی زندگی چھوڑ دو,توبہ کرلو ۔۔۔۔۔ایک وقت آئے گا ۔۔۔۔۔۔تم كلمہ پڑھنا چاہوں گی مگر تمہیں بھول جائے گا ۔۔۔۔میں شروع سے مسلمان نہیں تھا ۔۔۔۔۔مگر تمہارے کانوں میں تو پیدا ہوتے ہی اذان دی گئی ہے نا ۔۔۔۔تمہاری روح کو لا شعور میں ہی یہ بتا دیا گیا کہ تمہارا رب اللّه ہے ۔۔۔۔وہ اکیلا ہے ۔۔۔۔ایک وہ ہی عبادت کے لا ئق ہے ۔۔۔ پھر تم بھٹک کیسے گئی ؟؟؟کوئی کلمہ پڑھ کر بھی اپنے رب کی نافرمانی ۔۔۔۔۔کفر کیسے کر سکتا ہے ؟؟؟؟؟؟”
وہ بد صورت تھا مگر اس کا چہرہ بلا کا سکون لئے ہوۓ تھا ۔۔۔
“بکواس مت کرو ۔۔۔۔اور جاؤ یہاں سے میرا عمل آخری مراحل میں ہے ۔۔۔وقت برباد مت کرو میرا ۔۔ “
سفورا دھاڑی تھی
“آخر مناہل مر بھی گئی تو کل کوئی دوسری لڑکی سعد کی بیوی بن کر آجائے گی تم کتنی مناہل ماروں گی ؟؟؟؟؟؟”
موکل نے ترکی بہ تركی با آواز بلند کہا تھا
“میں اس بار سعد کی شادی ہی نہیں کروں گی”
سفورا نے اپنا فیصلہ سنا کر بات ختم کرنا چاہی تھی
“هاهاهاهاها ۔۔۔۔۔ہاں یہ غلط نہیں ہے ۔۔۔۔۔جب تک اپنے اندر کی ساس نہیں ماروں گی تمہیں ہر بہو ہی مارنی یا بھیجنی پڑے گی ۔۔۔شادی ہی مت کرنا بیٹے کی ۔۔۔۔۔۔جا رہا ہوں ۔۔۔۔۔۔جب سے كلمہ پڑھا ہے میری حدود سمٹ کر رہ گئی ہیں ۔۔۔۔۔۔اب میں اس رب کے حکم کا پابند ہو گیا ہوں ۔۔۔۔۔اب میرے رب کی حد مجھ پر لاگو ہے ۔۔۔۔اور اس ذات کی کوئی حد نہیں ۔۔۔۔بیشک وہ لا محدود ہے ۔۔۔۔”
“لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللّٰهِ”
موکل با آواز بلند بول کر غائب ہو چکا تھا
سفورا کا سارا عمل خراب ہو چکا تھا رب کے نام نے ہی اس کا عمل كمزور کر دیا تھا ..
سفورا نیچے آ کر سو گئی تھی باجی نے اسے آج دوپہر میں بلایا تھا آج مناہل کے تابوت پر آخری کیل ٹھوکنا تھا پھر دو دن کا شیطانی عمل اور ۔۔۔۔۔باجی کو ایک نئی زندگی مل جاتی ۔۔۔۔۔وہ جوانی دوبارہ پا لیتی ۔۔۔۔۔اور ساتھ ساتھ شیطان کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ جب امر ہو جائے گی ۔۔۔۔۔۔دنیا کی کوئی طاقت اسے مار نہیں سکے گی ۔۔۔۔۔وہ اپنی موت کا فیصلہ خود اپنے ہاتھ سے لکھے گی ۔۔۔(اَسْتَغْفِرُاللّٰه )
اور وہ دنیا میں وقت کی قيد اور عمر میں اضافے کی حد سے مستثنی ہو جائے گی ۔۔۔۔وہ ہمیشہ جوان رہے گی ۔۔۔(اَسْتَغْفِرُاللّٰه)
لیکن اگر شیطان کی خوشی میں کوئی کمی رہ گئی تو اس کے نتائج بہت ہولناک تھے ۔۔۔۔مگر باجی کو اپنی برسوں کی محنت پر پورا یقین تھا ۔۔
ایک جوان لڑکی کو زندہ دفنا کر شیطان اس سے اپنی تسکین کرے گا اور باجی ایک خاص چیلہ کاٹے گی ۔۔۔۔
45 دن تک وہ لڑکی زندہ رہے گی مگر کوئی حرکت نہیں کر سکے گی اس کی روح باجی کے پاس قيد ہوگی اور جسم قبر میں ۔۔۔۔اس کا جسم کسی سوۓ ہوۓ انسان کی طرح نرم ہوگا ۔۔۔۔
جب شیطان خوش ہو جائے گا تو باجی اس کی روح کو آزاد کر دے گی ۔۔۔۔اور وہ قبر میں مناہل کے جسم میں چلی جائے گی ۔۔۔جہاں وہ قبر کی گھٹن سے اپنی موت آپ مر جائے گی ۔۔۔۔
مناہل جو کہ پہلے ہی لاغر اور كمزور ہو چکی تھی وہ چاہ کر بھی قبر سے نکل نہیں پاۓ گی ۔۔۔۔اور باجی ۔۔۔۔دیوی کا روپ دھار کالے علم کی بے تاج بادشاہ بن جائے گی ۔۔۔۔
یہ پورا پلان تھا جو باجی نے آج سفورا کو بتایا تھا
سفورا یہ سب پہلے ہی جانتی تھی ۔۔۔وہ اسی عمل پر خود بھی عمل کر رہی تھی ۔۔۔
وہ مناہل کو دفنانے کے بعد اس کی روح اپنے پاس قابو کرنا چاہتی تھی ۔۔۔۔اور وہ خاص چیلہ بھی ۔۔۔۔
ان دونوں کی بد نیتی کا فائدہ مناہل کو ہونے والا تھا
آج بارش بہت طوفانی روپ اپناۓ ہوۓ تھی ۔۔۔اور مناہل آج روز کی نسبت کافی بہتر تھی سعد کافی دیر اس پر اللّه کا کلام پڑھتا رہا آج اس نے آنکھیں بھی کھول دی تھیں لگ بھگ پندرہ دن بعد اس نے سعد کو اور بارش کو آنکھیں کھول کر دیکھا تھا ۔۔۔یہ سب سفورا کی چال تھی وہ کسی طرح سعد کو منظر سے بھیج کر مناہل کو غلیظ خون پلانا چاھتی تھی جو باجی نے دیا تھا جیسے پی کر اس کا رابطہ جسم سے ٹوٹ جاتا ۔۔۔
سعد بار بار مناہل کی طرف آنکھیں بھر کر دیکھتا اور رونے لگتا ۔۔۔۔وہ اسے دوبارہ سے پا کر اپنی خوشی کو قابو نہیں کر پا رہا تھا وہ اس سے ایک لمحہ بھی الگ نہیں ہونا چاہتا تھا مگر اسی وقت سفورا اس کے پاس آئی تھی
سعد آج مطمئن تھا
“سعد بیٹا ۔۔۔۔ہماری مناہل آج بہتر ہو گئی ہے ۔۔۔تم ایسا کرو ذرا مارکیٹ سے زردے اور حلوے کا سامان لا دو میں نے منت مانگی تھی مناہل کے لئے ۔۔۔”
“امی ۔۔۔میں ابھی نہیں جانا چاہتا ۔۔۔۔میں ۔۔۔ بہت خوش ہوں امی ۔۔”
“آپکی دن رات پڑھائی کی وجہ سے مجھے میری زندگی واپس ملی ہے ۔۔ میں یہ سب کل لا دوں گا ۔۔ ابھی میں اپنی مناہل سے دور نہی ہونا چاہتا ۔۔”
وہ محبت سے مناہل کا ہاتھ پکڑ کر کہہ رہا تھا
“نہیں ۔۔۔۔ابھی جاؤ ۔۔۔ایسے منت خراب ہو جاتی ہے ۔۔ میں نے اس شرط کو اس میں شامل کیا تھا کہ جیسے ہی مناہل آنکھیں کھول دے گی میں یہ دونوں چیزیں پکا کر اپنے خاص موکلوں کی دعوت کروں گی”
وہ دو ٹوک بولی تهی سعد بیچارہ بے دلی سے مناہل کے سر پر ہاتھ رکھ کر اٹھ گیا تھا
“سعد آپ سموسے بھی لایئے گا پھر بارش میں نہاتے ہوۓ کھائیں گے”
مناہل نے محبت سے کہا تھا پرانی مناہل کو دیکھ کر سعد کا دل خوشی سے جھوم اٹھا تھا وہ آنسو صاف کرتا رین کوٹ پہن کر جانے لگا تھا مناہل اسے اس تیز بارش میں دروازے تک چھوڑنے آئی تھی ۔۔
دونوں رو رہے تھے ۔۔۔
ہر بار محبوب کو کھو کر ہی رویا نہیں جاتا جب جذبات میں سچائی اور شفافیت ہو تو کبھی کبھی اسے پا کر زیاده رونا آتا ہے ۔۔۔
یہی حال ان پاگل مخلص میاں بیوی کا تھا ۔۔ سعد جا چکا تھا مناہل اسے جب تک دیکھ سکتی تھی دیکھتی رہی ۔۔۔
تیز بارش اور اس میں رین کوٹ پہنے جاتا ہوا سعد ۔۔۔
وہ دروازہ بند کر کے جیسے ہی مڑی تھی ہر طرف کفن میں لپٹے مردے ہی مردے تھے ۔۔۔
صحن بھرا پر تھا اور تو اور برگد کا پيڑ بھی ان سے بھرا ہوا تھا
وہ ایک خاص آواز نکال رہے تھے ۔ ۔۔۔وہ جہاں دیکھتی تیز بارش کی سفيد بوندوں میں وہ سفيد کفن پہنے سیاہی مائل چہرہ لئے وہ لوگ نظر آتے ۔۔۔
مناہل چاہ کر بھی بےہوش نہیں ہو پارہی تھی وہ آنکھیں بند کر کے چیخی تھی سفورا اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے اندر لے آئی تھی ۔۔۔
“امی وہ ۔۔۔ وہ ۔۔۔۔واپس آ گئے ہیں،آپ جلدی سے سعد کو بلا دیں ۔۔ امی ۔۔۔۔ میرا سعد ۔۔۔ “
وہ بلک بلک کر آنکھوں کو سختی سے بھینچے رو رہی تھی
“تم یہ جلدی جلدی پی لو سب ٹھیک ہو جائے گا”
سفورا نے وہ بد بودار خون اسے ہاتھ میں دیا تھا جیسے سونگتے ہی اس نے پیچھے دکھیل دیا تھا
“امی ۔۔ یہ بہت گندہ ہے ۔۔ میں یہ نہیں پی سکتی ۔۔ اس كی بد بو ۔۔۔مجھے الٹی آ نے لگی ہے”
مناہل نے ابکائی روکی تھی
سفورا کچھ پڑھ کر مناہل پر پھونکا تھا جس پر سہم کر اکھٹی ہو چکی تھی(اس نے اپنا سر گھٹنوں میں دے دیا تھا) اس کا کہنا تھا اب وہ بند آنکھوں سے بھی نظر آنے لگے ہیں سفورا نے اس کے خوف کا فائدہ اٹھا کر اسے وہ خون پلا دیا تھا جیسے پیتے ہی وہ بیہوش ۔۔۔ مگر دنیا کی نظر میں مر چکی تھی ۔۔۔چونکہ دو لوگ ایک عمل کر رہے تھے جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اس کی روح ان دونوں کی بجاۓ کسی تیسری جگہ قيد ہوچکی تھی ۔۔۔
دوسرا چونکہ مناہل کی روح جب قيد ہوئی تب وہ اپنی آنکھیں سختی سے موندے اور اپنا سر گھٹنوں میں دیے ہوۓ تھی اور اس نے اپنے ہاتھوں سے خود کو جکڑ رکھا تھا وہ اسی طرح آکڑ چکی تھی اب شیطان چاہ کر کے بھی اس کی عصمت کو شکار نہیں بنا سکتا تھا کیوں کہ وہ اپنی عزت کو چھپا چکی تھی۔ ۔۔
سفورا یہی سمجھی تھی باجی جیت گئی ہے روح کا قبضہ اس کے پاس ہے ۔۔۔۔مگر ایسا نہیں تھا ۔۔۔سفورا اس عمل کی شریک دار نہ بھی ہوتی تو باجی مناہل کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتی تھی اس کی وجہ اس پورے عمل میں سب سے بهیانک تھی ۔۔۔۔
سعد پاس کی مارکیٹ سے مطلوبہ چیزیں لے کر جیسے ہی اندر آیا سفورا جھوٹ کا رونے کا ناٹک کرنے لگی مناہل کو زبردستی خون پلاتے ہوۓ وہ اس کے منہ سے گردن اور کپڑوں پر بھی لگ چکا تھا دیکھنے میں ایسا لگ رہا تھا گردن پر چوٹ سے اس کی موت ہوئی ہے ۔۔۔
سعد حیران پریشان مناہل کو دیکھتا رہا ۔۔۔وہ سانس نہیں لے رہی تھی وہ کافی دیر اس کے پاس نیچے بیٹھا کرب سے روتا رہا ۔۔۔
سفورا نے اسے مسجد میں اعلان کا کہا اور کفن دفن کے انتظامات کا کیوں کہ مغرب ہو چکی تھی اور بارش بھی تیز تھی سفورا جلد از جلد اس مصیبت کو دفنا کر سکون کرنا چاہتی تھی ۔۔۔
مگر سعد نے انکار کر دیا تھا
“امی مناہل جس حالت میں مجھے چھوڑ کر گئی ہے میں نہیں چاہتا لوگ اپنے گریبان میں جھانکے بغیر میری بیوی پر گناہ گاری کا ٹھپہ لگا کر چلتے بنے ۔۔۔۔افسوس ہم جس معاشرے میں رہتے ہیں یہاں لوگ اس اشتیاق میں میت کا منہ دیکھنے جاتے ہیں کہ وہ دیکھ کر اپنی عقل ناقص کا بھرپور استعمال کر کے اس کے گناہوں کا اندازہ لگا سکیں ۔۔۔عورتیں سب سے پہلے میت کی حالت پر تبصرہ کرتی ہیں کانوں کو ہاتھ لگاتی وہ میت کو دفنانے سے پہلے ہی دوزخی کی سارے لوازمات گنوا کر اس کی آخرت پر اپنی دانشمندانہ راۓ کا اظہار کرنا اپنا ضروری فرض سمجھتی ہیں ۔۔۔
پھر آتی ہے دوسری اسٹیج جس میں وہ میت کے رشتہ داروں کے چینخنے،بین کرنے،بار بار بیہوش ہونے اور سب سے زیادہ بلند آواز سے رونے اور بعض اوقات سينہ کوبی کی بنیاد پر اس بات پر اپنی آخری راۓ دیتی ہیں کہ سب سے زیاده دکھ یا فرق کس کو پڑا ہے ۔۔،۔ اگر کوئی پڑھا لکھا انسان ان سب حرکتوں پر میت کو پہنچنے کی اذیت سے
واقف ہے اور وہ اپنے پیارے کی موت پر اپنی شریعی احکامات پر عمل کرتا ہوا بنا کوئی آواز نکالے قران پاک کی تلاوت کرنے بیٹھ جایئں تو جاہل عوام اسے بے پروا قرار دے دیتی ہے ۔۔۔۔۔اگر وہ قران پاک نا بھی پڑھ رہا ہو مگر ایک طرف بیٹھ کر گھٹنوں میں سر دے کر اللّه کی رضا پر خود کو راضی اور اس نقصان کو ایک پیدائش اور موت کا فطری عمل قرار دے کر صبر کرنے بیٹھ جاۓ تو عورتوں کے عتاب کا شکار ضرور ہوتا ہے ۔۔۔
“فلاں کو دیکھا تھا مجال ہے جو ایک آنسو بھی نکلا ہو،فلاں کو دیکھا تھا مجال ہے جو ایک بار چیخ ماری ہو،اپنا دوپٹہ پھینک کر گريبان دیکھایا ہو،فلاں کو دیکھا تھا مجال ہے جو ایک بار بھی بیہوش ہوا ہو ۔۔۔ہاں اسے تو جیسے دکھ ہی نہیں تھا وہ تو بس خاموشی سے میت اٹھنے کا منتظر لگ رہا تھا ۔۔۔۔۔۔۔توبہ ۔۔۔۔۔۔جو جتنا زیادہ خالی ہوتا ہے اس کے توہمات کا شور اتنا ہی زیادہ ہوتا ہے ۔۔۔۔۔اپنی جاہلیت کو سمجھنے کی بجاۓ دوسروں کا سفيد لباس برداشت نہیں ہوتا بس لگے اس پر زبان سے داغ لگانے ۔۔۔”
“نہیں امی میں خود دفناؤں گا اپنی مناہل کو ۔۔۔۔آپ کسی کو مت بلائیں …..رات ہونے دیں ۔۔۔۔کوئی اعلان کوئی جنازہ نہیں ہوگا ۔۔۔۔میں خود پڑھ لوگا جنازہ ۔۔۔میں کفن لاتا ہوں ۔۔۔”
سعد کفن لے آیا تھا سفورا نے مناہل کو جلدی سے غسل دیا تھا وہ دونوں طوفانی بارش میں قبرستان پہنچے تھے ۔۔
رات گہری تھی سعد نے روتے روتے جلدی میں چھوٹی سی قبر کھودی تھی جو مناہل کی جسمانی پوزیشن کے حساب سے گہری زیاده تھی مگر لمبائی میں وہ ایک بچے کی قبر لگ رہی تھی سعد نے اس پر کوئی بھی سیل نہیں رکھی تھی اس کا دماغ مفلوج تھا ۔۔۔
وہ گھڑا نما قبر کھود کر اس میں مناہل پر مٹی ڈال کر بہت زیادہ روتا رہا ۔۔۔۔ سفورا بہت مشکل سے اسے گھر واپس لائی تھی ۔۔۔
(یہ وہ ہی قبر تھی جس کا ذکر ایک قسط میں کیا گیا تھا جب منی بھوک کی شکایت کرتی ہے اور بہادر شاہ ایک بچے کی قبر کا ذکر کرتا ہے کہ خود ہی دفنا گئے ہیں مجھ سے قبر کھودنے کا نہیں کہا قبر کسی بچے کی لگ رہی ہے)
۔******************
“کس کا بچہ ہے یہ سلطانہ ؟؟؟؟؟؟”
ماسٹر جی نے دکھ اور غصے سے پوچھا تھا
“تم کیا سمجھے تھے تم میرے ساتھ تعلق نہیں رکھو گے تو میں اپنا بیٹا پیدا کرنے کا خواب چھوڑ دوں گی ؟؟؟؟؟”
وہ شکل پر نفرت کی انتہا لیئے ماسٹر جی کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولی تھی
“تم میرے نکاح میں ہو سلطانہ یہ مت بھولو ۔۔۔۔جب میری اولاد تم اس بابے کے حوالے کر کے گھر آئی تھی تب تمہیں اس بات کا خیال ایک بار بھی نہیں آیا کہ میں دوبارہ یہ سعادت کبھی نہیں دوں گا ۔۔۔۔میں کیوں تمہیں بیٹے کی ماں بناتا ۔۔۔بیٹا بیٹی اس رب کے ہاتھ میں ہے ایک بارپھر بیٹی ہو جاتی اور تم اسے اپنے شیطانی کھیل کا حصہ بنا دیتی ؟؟؟؟مجھے تم پر اعتبار نہیں تھا ۔۔ ۔مگر تم اس حرام کے کاموں میں اس حد تک گر جاؤ گی ۔۔۔۔۔اس بات کا مجھے اندازہ بھی نہیں تھا ۔۔۔۔”
ماسٹر جی نفی میں سر ہلا کر آبدیده ہوۓ تھے ۔۔۔
هاهاهاهاها ۔۔۔۔۔۔میں جیت گئی ۔۔۔۔۔ماسٹر جی ۔۔۔۔یہ حلال حرام ۔۔۔۔مجھے مت بتایا کرو ۔۔۔میں گاؤں کے بیوقوف لوگوں میں سے نہیں ہوں ۔۔۔۔”
“اللّه نے لفظ طلاق کو نا پسند فرمایا ہے ۔۔۔۔وہ کہتا ہے بیوی کو فورا طلاق مت دو ۔۔۔۔
سب سے پہلے اس سے بولنا ترک کر دو ۔۔۔۔ہو سکتا ہے وہ تڑپ کر وہ بات چھوڑ دے جو طلاق کی نوبت لا رہی ہو ۔۔۔
اس سے بھی بات نا بنے تو اس سے اپنا بستر الگ کردو ۔۔۔اور دل میں نفرت محسوس کرو ۔۔۔۔۔ہو سکتا ہے وہ لوٹ آے ۔۔۔۔۔
مگر پھر بھی مسئلہ حل نا ہو تو ۔۔۔۔اس کو ایک طلاق دو ۔۔۔۔اور وقت گزرنے دو ہو سکتا ہے وہ رجوع کر لے ۔۔۔۔۔ایک خاص عرصہ گزر جانے پر دوسری اور پھر تیسری طلاق دے دو ۔۔۔۔مطلب یہ فیصلہ فوری یا چند دنوں میں نہیں ہونا چاہیے ۔۔۔۔۔۔اسلام نے جیسے نکاح کا ایک باقاعدہ نظام بنایا ہے ویسے ہی اس رشتے سے دستبرداری کا بھی ایک پسندیدہ طریقہ بتایا ہے ۔۔۔۔جو مرد ایک بار میں ہی تین بار یہ لفظ بول دیا کرتے ہیں ۔۔۔گو کہ طلاق واقع ہو جاتی ہے مگر یہ طریقہ خلاف شریعت اور ناپسندیدہ ہے ۔۔۔”
بس اسی لئے خاموش رہا اور صبر کرتا رہا ۔۔۔۔مگر ۔۔۔۔یہ بچہ ؟؟؟
“شیطان کا ہے ۔۔۔۔میں شیطان کے بیٹے جو جنم دوں گی ۔۔۔۔بابا جی کا کہنا ہے ۔۔۔۔۔اس بچے کے باپ وہ ضرور ہیں مگر یہ شیطان کی اولاد ہوگا ۔۔۔جو مجھے ملكہ بنا دے گا ۔۔۔۔هاهاهاهاها ۔۔۔۔۔ماسٹر جی میں بہت خوش ہوں ۔۔۔۔ اور آپ ابھی مجھے طلاق مت دیں ۔۔۔۔کیوں کہ بابا جی نے کہا ہے کہ ایک نيک نام انسان جب اس کے باپ کے نام سے پہچانا جائے گا تو ہماری شکتیاں اور بھی بڑھ جائے گی ۔۔۔۔”
“ناجائز اولاد کا باپ اور ماں دونوں ہی بیشک شیطان ہی ہوا کرتے ہیں ۔۔۔مگر پیدا ہونے والی اولاد معصوم ہوتی ہے ۔۔۔۔مگر افسوس سزا اسی کی ملتی ہے ۔۔۔”
“اسلام میں عورت پر ہاتھ اٹھانے سے منع فرمایا ہے سوائے ایک صورت کے، کہ جب وہ
زنا کی مرتكب ہو ۔۔۔۔اس میں بھی اس طرح مارا جائے کہ اس کے چہرے پر کوئی نشان نا بنے ۔۔۔۔مقصد بس اس کو جسمانی تکلیف کا ڈر دے کر منع کرنا ہو ،نا کہ جان سے مارنا یا اس کو آپاہج کرنا ہو ۔۔۔۔
مگر افسوس سلطانہ تم نے تو کسی قسم کی گنجائش نہیں چھوڑی ۔۔۔”
“میں بہادر شاہ ولد بہرام شاہ اپنے ہوش و حواس میں ۔۔۔۔تمہیں سلطانہ بی بی کو طلاق ثالثہ دیتا ہوں ۔۔۔”
وہ اپنا سر پیٹ پیٹ کر پاگلوں کی طرح رونے لگی تھی وہ تیز بارش میں صحن میں کھڑی اپنا منہ نوچ رہی تھی ۔۔
“ساری عمر تمہارے ساتھ بے اولادی میں گزار دی اور اف نہیں كی تمہیں بیٹی کا باپ بنایا ۔۔ تم نے مجھے اپنی پسند کی اولاد دینے سے انکار کیا ۔۔۔ میں پھر بھی چپ رہی اور آج جب میری خواہش میری زندگی كی سب سے بڑی خوشی میرے پیٹ میں آئی ہے تو تم نے مجھے طلاق دے دی ؟؟؟؟؟؟؟؟”
“بہادر شاہ ؟؟؟؟؟؟؟؟؟
“کیا تھا جو کچھ ماہ میرے ساتھ رہ لیتے ۔۔۔۔۔مگر میں اب بھی نہیں جاؤں گی ۔۔۔۔یہ بچہ تمہارے نام سے ہی جانا جائے گا ۔۔۔۔”
وہ اندر آئی تھی
“میں حرام نہیں کھاتا،اب تم مجھ پر حرام ہو ۔۔۔۔اس زنا کا مقصد محبت ہوتا تو شاید میں تمہیں معاف کر دیتا ۔۔۔شاید تمہیں عدت ختم ہونے تک یہاں ٹھہرا لیتا جو کہ تمہارا حق تھا مگر یہاں بات میری نافرمانی كی نہیں۔ ۔۔۔ میرے رب سے دشمنی كی ہے تم یہاں نہیں رک سکتی”
بہادر شاہ نے اسے بازو سے پکڑ کر باہر کو دھکا دیا تھا
“حلال حرام،حلال حرام ساری عمر یہی سنتی رہی ہوں ۔۔۔۔تم نے میری حلال خوشیوں کو مجھ پر حرام کر کے جو مجھ سے دشمنی مول لی ہے اب تم دیکھنا اپنے ان دونوں ہاتھوں ہاں انہی دونوں ہاتھوں سے خوشی خوشی حرام کھاؤ گے ۔۔۔۔تم اور تمہاری یہ منی ،۔۔۔۔هاهاهاهاها ۔۔۔”
وہ تیز بارش میں بکھرے بال اور بکھری زندگی لئے گیٹ سے نکل گئی تھی
بہادر شاہ پھوٹ پھوٹ کر روتا ہوا بارش میں بیٹھ گیا تھا ۔۔۔۔
منی برآمدے میں کھڑی دونوں ہاتھ پھیلائے باپ کو پکار رہی تھی
۔******************
“ابا ؟؟؟؟؟”
بہادر شاہ منی كی آواز پر ماضی سے حال میں آیا تھا
رات کا کوئی پہر تھا بارش جھل تھل مچائے ہوۓ تھی ۔۔۔
“ابا باہر کوئی آیا ہے”
بہادر شاہ قبر کی کھدائی کا سامان لے کر باہر آیا تھا
یار جلدی کردے ۔۔۔۔قبر کھود ۔۔۔۔پولیس بس آتی ہی ہوگی ۔۔۔۔میں یہ شہر چھوڑ کر جانا چاہتا ہوں”
وہ گھبراہٹ اور دکھ کے ملے جلے تاثرات لئے ہکلاتا ہوا بول رہا تھا اس کا پورا جسم کانپ رہا تھا وہ چھیتس کے لگ بھگ عمر کا جوان لڑکا تھا
بہادر شاہ خاموشی سے اس کو دیکھ رہا تھا
“وہ ۔۔۔۔۔وہ ۔۔۔۔میرے بھائی ۔۔۔۔۔میرے بھائی کی بیٹی تھی ۔۔۔۔۔۔میں بہت ۔۔۔۔۔بہت ۔۔۔۔محبت ۔۔۔ بہت محبت کرتا تھا اس سے ۔۔۔۔۔ یا اللّه ۔۔۔۔۔۔۔”
وہ اپنا سر دونوں ہاتھوں میں پکڑ کر چیخا تھا
“وہ چاچو ۔۔۔۔چاچو ۔۔۔کرتی نہیں تهكتی تھی ۔۔۔چاچو میں اس کی جان ۔۔۔اس کی جان بستی تھی ۔۔۔۔اللّه ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟”
“اور اس چاچو نے ہی اس کی جان لے لی ؟؟؟؟؟؟میں ۔۔۔۔۔ کدھر جاؤں ؟؟؟؟؟؟؟؟؟میں ۔۔۔۔۔میں ۔۔۔کیسے معاف کروں گا خود کو ؟؟؟؟؟؟؟؟؟”
وہ سانس بھی بہت مشکل سے لے پا رہا تھا
بہادر شاہ اس کے ساتھ تھوڑا آگے آیا تھا جہاں ایک پانچ سالہ بچی تشدد زدہ حالت میں تیز بارش میں پڑی ہوئی تھی ۔۔۔
اس کا معصوم چہرہ،پھول سے گال ۔۔۔۔۔جا بجا زخمی تھے ۔۔۔اس کے چہرے پر بلا کا سکون تھا۔ ۔۔۔وہ ایک پھول تھا جیسے مسل کر پھینک دیا گیا تھا ۔۔۔۔اس کے ساتھ ظلم ہوا تھا ۔۔۔۔
بہادر شاہ دل پکڑ کر اس کے پاس بیٹھ گیا تھا
“یار مانا ہوس میں کوئی بھی رشتہ نظر نہیں آتا مگر یہ ۔۔۔۔۔۔تمہاری تو تمہاری اپنی بھتیجی تھی ،تمہیں ترس نہیں آیا ؟؟؟؟تم تو اس كے محافظ تھے نا ؟؟؟؟؟؟”
“ہاں ۔۔۔۔۔اپنے ماں باپ کے علاوہ اب کوئی بھی دوسرا رشتہ محافظ نہیں ہوتا۔۔۔۔۔بیٹا ہو یا بیٹی ۔۔۔۔اپنے والدین کے علاوہ وہ کسی کے پاس بھی محفوظ نہیں ۔۔۔۔۔میں نے یہ ثابت کر دیا ۔۔۔۔۔۔ہاأأأۓۓۓۓےے اللّه ۔۔۔۔۔۔”
وہ اپنا سر زمین پر زور زور سے مارنے لگا تھا
تیز بارش اس بچی سے لگی ہر غلاظت صاف کرتی چلی جا رہی تهی ۔۔۔۔
“بھائی بھابھی نے مجھ پر اندھا اعتماد کر کے اچھا نہیں کیا ۔۔۔۔کاش وہ زینب کو میرے پاس اکیلا چھوڑ کر شادی پر نا جاتے ۔۔۔۔۔وہ ۔۔۔۔وہ کہہ رہی تھی اگر چاچو نہیں جایئں گے تو میں بھی نہیں جاؤں گی ۔۔۔۔بھابھی نے اپنا بوجھ کم ہوتا محسوس کیا وہ خوشی خوشی ۔۔۔بھائی کے ساتھ بائیک پر بیٹھیں اور چلی گئیں ۔۔۔۔
ننھی زینب میرے ساتھ کھيلتی کھیلتی کب میرے ساتھ سوئی اور کب میرے اندر کا شیطان جاگا ۔۔۔۔کچھ پتہ نہیں چلا ۔۔۔۔۔سب چند لمحوں میں ۔۔۔۔ہاں فقط چند
لمحوں میں ختم ہو گیا ۔۔۔۔
جب وہ جاگی وہ حیران پریشان مجھے دیکھتی رہی ۔۔۔پھر وہ مسکرائی وہ اسے کھیل سمجھی تھی ۔۔۔
جب اس کا مسکرانا بھی مجھے نا روک پایا تو وہ چاچو چاچو کہتی رونے لگی تھی ۔۔۔
وہ بھائی بھابھی کو آوازیں دیتی ۔
دیتی ۔۔۔۔۔۔نڈھال ہو گئی تھی ۔۔۔
وہ بیہوش ہو چکی تھی ۔۔۔
جب مجھے اپنے گناہ کا احساس ہوا مجھے اس ڈر نے آ گھیرا کہ یہ تو سب ۔۔۔۔۔سب بتا دے گی ۔۔۔وہ دوبارہ ہوش میں آ چکی تھی ۔۔۔
وہ اٹھ کر بھاگی تھی وہ بہت خوفزدہ تھی ۔۔۔مجھ سے ۔۔۔۔مجھ سے ۔۔۔۔جس کے پاس وہ اپنے باپ سے پہلے آتی تهی ۔۔۔
“آپ ۔۔۔بہت گندے ہو .۔۔۔مجھے امی ۔۔۔۔۔ابو ۔۔۔”
وہ پردے کے پیچھے چھپ گئی تھی ۔۔۔
مجھ پر تب جنون سوار تھا ۔۔۔
میں نے اسی پردے کو اس کے گلے میں باندھ کر ۔۔۔۔۔۔اللّه ۔۔۔۔۔۔۔۔۔وہ گردن میں درد سے زیادہ مجھ پر اپنا بھروسہ توڑرنے پر حیران ہوئی تھی ۔۔۔وہ مجھے دیکھتی رہی ۔۔۔۔کوئی مزاحمت کیے بنا ۔۔۔۔۔”
بہادر شاہ نے بچی کو گود میں اٹھا کر قبرستان کا رخ کیا تھا ۔۔۔۔
بہادر شاہ،تیز بارش اور وہ بچی ۔۔۔۔۔
وہ لڑکا جا چکا تھا ۔۔۔۔۔۔۔پولیس سٹیشین ۔۔۔۔۔
