Barish by Jameela Nawab Readelle 50375 Barish Epiosde 9
Rate this Novel
Barish Epiosde 9
Barish by Jameela Nawab
سعد سو چکا تھا مناہل عشاء پڑھ کر اب موبائل نکال کر اس کے لئے خوش ہو رہی تھی ۔۔۔
سفورا نے سب سیٹنگز اور آج کل کی ساری تفریح فراہم کرنے والی مشہور ایپس دوکان دار سے اس موبائل میں ڈالوا دی تھیں
ہر قسم کے گانے بھی ۔۔۔سفورا کا کہنا تھا مناہل سارا دن فارغ رہتی ہے یہی وجہ ہے کہ اس کو عجیب و غریب خیالات تنگ کرنے لگتے ہیں جن سے وہ پریشان ہو کر خوفزدہ ہو ہوتی ہے ۔۔۔
لہذا وہ موبائل سے اچھی تفریفح لے لیا کرے گی جس سے اس کا دھیان بدلے گا اور یہ نارمل رہا کرے گی اس کے ساتھ ساتھ سفورا کا کہنا تھا وہ اس کو ایک خاص تعویذ کا پانی بھی پلاۓ گی اور اس پر موجود سایا بھگانے کے لئے خاص چّلا بھی کاٹے گی جس کے لئے اسے روز کفن پہن کر سونا پڑے گا ۔۔۔
مناہل کو دن والی باتوں کے بعد سفورا کا اتنا مہربان رویہ کھٹکا ضرور تھا مگر سعد کے کہنے پر وہ موبائل لینے سے انکار نہیں کر پائی تھی
وہ موبائل کی دنیا میں ایسی مگن ہوئی کہ وقت کا پتہ ہی نہیں چلا ۔۔۔.سب ایک رات میں ہی سیکھ لینے کی دھن اور پھر اچھے اچھے محبت سے لبریز گانے اس کا تو دل ہی نہیں بھر رہا تھا
وقت کا اندازہ تو تب ہوا جب اس نے ہینڈ فری ہٹائی فجر کی اذان سنتے ہی اس کو رات گزر جانے کا احساس ہوا تھا
مگر موبائل اور ہینڈ فری سرھانے کے نیچے رکھنے کی دیر تھی وہ نیند جو کوسوں دور تھی اب اتنا زور پکڑے ہوۓ تھی کہ اٹھ کر چار رکعت نماز دنیا کا نا ممکن کام بن گیا تھا
“چلو ۔۔۔۔سو جاتی ہوں ۔۔۔۔آج باقیوں کے ساتھ ہی پڑھ لوں گی”
وہ ایک طویل جمائی لے کر سونے لیٹ گئی تھی ۔۔۔۔
“بیشک نماز نیند سے بہتر ہے”
موذن اپنا فرض ادا کر کے خاموش ہو گیا تھا
سفورا دن چڑھے تک مناہل کو سوتا دیکھ سمجھ گئی تھی کہ اس کا تیر نشانے پر جا لگا تھا ۔۔۔
سعد کام پر جا چکا تھا جب مناہل کی آنکھ کھلی اس وقت گھڑی دن کے دو بجا رہی تھی ظہر بھی قضا ہونے والی ہے ایک آواز اس کے اندر سے آئی تھی مگر رات بھر جاگنے اور دن میں اس وقت تک سونے کی وجہ سے اس کی طبیعت عجیب سی بوجھل ہو رہی تھی
ٹانگوں اور پنڈلیوں میں الگ تیز درد تھا ۔۔۔
ساری رات گانے سننے کی وجہ سے دل پر الگ سا بھری پن تھا ۔۔۔
وہ کافی دیر اسی سوچ میں مگن رہی کہ دن کا کونسا پہر ہے رات ہے یا دن ہے ۔۔۔دماغ تھکاوٹ کا سگنل دے رہا تھا ۔۔۔
سفورا دور بیٹھی اس کی حالت سمجھ رہی تھی ایک سکون تھا جو اس کے دل میں اتر آیا تھا ۔۔۔
“هاهاهاهاها ۔۔۔۔۔سنا تھا نمازی پرہیزی بندے پر شیطان زیادہ تیزی سے حملہ آور ہوتا ہے ۔۔۔آج دیکھ بھی لیا ۔۔۔”
سفورا نے دل میں خوش ہوتے ہوۓ سوچا تھا
مناہل غسل خانے چلی گئی تھی
وہ نہا کر نکلی تھی مگر سر کا بھاری پن اس سے بھی کم نہیں ہوا تھا وہ کچن سے کھانا کھا کر اب بے دلی سے وضو کر کے جائے نماز بچھا رہی تھی
“ایسا کرتی ہوں بس فرض پڑھ لیتی ہوں،نہیں چار سنت،چار فرض اور دو سنت پڑھ لیتی ہوں نفل آج چھوڑ دیتی ہوں”
وہ کچھ دیر سوچتی ہوئی اسی بات پر متفق ہوئی تھی
جب نماز زندگی سے جانے والی ہو تو شروعات نفل چھوڑنے سے ہی ہوا کرتی ہے پھر ایک وقت آتا ہے بندہ سمجھتا ہے سنت بھی نہیں پڑھتا زیادہ تھکا ہوا ہوں بس فرض ہی کافی ہیں اتنی طبیعت خراب ہے اتنی تھکاوٹ ہے چھوڑ تو نہیں رہا نا .۔۔۔اتنا بھی کافی ہے ۔۔۔۔۔
بات نفل سے سنت اور ۔۔۔۔۔۔افسوس بہت جلد فرض پر آ کر ختم ہو جاتی ہے ۔۔۔
مناہل نے آج نفل چھوڑ کر باقی نماز جلدی جلدی ادا كی تھی اسے موبائل کو مزید تسخیر کرنے کی بہت جلدی تھی ۔۔۔۔نماز کے دوران بھی اس کا دھیان موبائل میں الجھا ہوا تھا ۔۔۔
سفورا دلچسپی سے اسے دیکھ رہی تھی
بارش بہت تیز تھی مگر وہ بھی مناہل کو اپنی طرف نہیں کھینچ پائی تھی ۔۔۔
اب بارش سے محظوظ ہونے کا انداز بدل چکا تھا
وہ کانوں میں گانے لگا کر برآمدے میں بیٹھ گئی تھی
سفورا کے دل میں ٹھنڈ پڑ گئی تھی وہ اپنے خاص عمل کے لئے اپنے کمرے میں چلی گئی تھی
مناہل گھر کے کام نپٹا کر موبائل لے کر بیٹھی ہوئی تھی جب شام کی اذان ہوئی تھی وہ بے دلی سے ہینڈ فری ہٹا کر اذان ختم ہونے کا انتظار کرنے لگی تھی اس کے بعد موبائل میں لگی فلم دوبارہ شروع کی تھی
“بس تھوڑی سی رہ گئی ہے یہ دیکھ کر پڑھتی ہوں نماز ابھی ابھی تو اذان ہوئی ہے بہت ہے وقت”
وہ خود کو مطمئن کرنے میں کامیاب ہو گئی تھی
دس منٹ مزيد گزر گئے تھے اب وہ کچن میں آئی تو کچھ برتن سنک میں نظر آئے ۔۔۔
“یہ دھو کر ساتھ ہی وضو کر لیتی ہوں”
مزيد دس منٹ لگا کر اب وہ مکرو(نا پسندیده اوقات)
میں نماز پڑھنے جائے نماز پر بیٹھ گئی تھی ۔۔۔
جبکہ وہ جانتی تھی کہ مغرب کی نماز کا وقت تمام نمازوں میں کم ہوتا ہے ۔۔۔
جب اب نماز کا وقت ہی نہیں رہا تھا پھر اس نماز کا کیا کرنا ۔۔۔۔
وہ بنا فاطمہ تسبیح کیے جائے نماز سے اٹھ گئی تھی
“اللّه کہتا ہے جس نے اپنی نماز کی فکر چھوڑ دی،
میں نے اس کی فکر چھوڑ دی”
مناہل اب بارش کو دیکھنے میں مصروف تھی اندھیرا دھیرے دھیرے گہرا ہو رہا تھا سفورا اپنی فتح کے جشن میں آج وقت سے پہلے ہی کفن پہن کر بیٹھ گئی تھی ۔۔۔۔
وہ خاص راکھ والا شاپر اپنے ارد گرد دائرے میں پھیلا کر اس کے وسط میں بیٹھ گئی تھی
سعد ابھی تک نہیں آیا تھا بارش بھی تیز تھی ۔۔۔
پھر روز ایسا ہی ہونے لگا تھا مناہل رات دیر تک موبائل یوز کرتی اور دن میں دیر تک سوئی رہتی ۔۔۔
آہستہ آہستہ اس کی نمازیں نفل سے سنت اور سنت سے فرض پر آ کر مکمل قضا ہونے لگیں ۔۔۔
سفورا اور باجی کے لئے اب کھلا میدان تھا جس میں ان کو اکیلے ہی جیتنا تھا۔۔۔
آج رب سے ملاقات کیےپانچواں دن تھا رات کا کوئی پہر تھا مناہل موبائل میں کوئی گانا دیکھ رہی تھی
سعد سو چکا تھا یہ ایک خوبصورت جگہ پر فلمایا ہوا نظر کو بھلا لگنے والا گانا تھا
ایک دم وہ خوبصورت منظر بدلا تھا وہاں اب ایک شمشان گھاٹ(ہندؤں کے مردے جلانے کی جگہ) تھا جہاں کالا اندھیرا تھا ایک لمبی قطار تھی جہاں بہت سے لوگ سفيد کپڑے میں لپٹے ان لکڑیوں کے اوپر لیٹے ہوۓ تھے ۔۔
مناہل خود کو ان کے درمیان میں دیکھ رہی تھی وہ ڈری سہمی ان کی طرف دیکھ کر دبے قدموں وہاں سے جانا چاہتی تھی ایک دم ان میں سے ایک نے اس کا ہاتھ پکڑا تھا
وہ کالے دانت دکھاتا ہوا مناہل کو گھور رہا تھا مناہل كی اوپر کی سانس اوپر اور نیچے کی سانس نیچے رک گئی تھی
اس سے پہلے کے وہ ہاتھ چھوڑوا کر بھاگتی باقی کے تمام مردے بھی اپنی اپنی جگہ پر اٹھ کر بیٹھ گئے تھے
وہ عجیب سی رونے کی آواز نکال رہے تھے
“چھوڑو مجھے،چھوڑو مجھے”
مناہل چیخی تھی
“کیا ہوا کس نے پکڑ رکھا ہے تمہیں ؟؟؟یہ میں ہوں مناہل ۔۔۔”
سعد جو اس كو موبائل میں کھویا ہوا دیکھ کر اسے اپنی طرف ہاتھ پکڑ کر متوجہ کر رہا تھا وہ گھبرا کر بیٹھ گیا تھا
مناہل نے سعد کی طرف جیسے ہی دیکھا اب منظر پھر سے پہلے والا تھا
“ابھی تو ۔۔۔۔۔یہاں ۔۔۔۔بہت سے مردے تھے ۔۔۔”
وہ تھوک نگل کر بولی تھی
“یار دیکھو رات کے دو بج رہے ہیں اور تم جاگو گی تو یہ تو پھر ہوگا نا چلو موبائل رکھو۔۔ “
سعد اس کا موبائل سائیڈ ٹیبل پر رکھ کر اسے سلا رہا تھا
وہ فورا بے ہوشی سے کیفیت میں چلی گئی تھی ۔۔۔
سفورا اور باجی کا جادو اپنا اثر دکھانا شروع ہو چکا تھا ۔۔۔
۔***************”
ماسٹر جی اپنی بیٹی کے ساتھ کھیل رہے تھے باہر ٹیوشن والے بچے ان کے منتظر تھے مگر وہ تھے کہ رج ہی نہیں رہے تھے اپنی بیٹی کو پیار کرنے سے ۔۔۔
ان کی بیوی سلطانہ کمرے سے نکل کر تیز قدموں باہر آئی تھیں وہ سر تا پير کالی چادر اوڑھے ہوۓ تھی جو ان کے گھر سے باہر جانے کا پتہ دے رہا تھا
“سلطانہ ؟؟؟کہاں جارہی ہو ؟؟؟میری بیٹی بھوکی ہے اس کو تو دیکھتی جاؤ ۔۔۔۔پھر جب یہ سو جائے گیں ۔۔۔۔میری شہزادی پھر بھلے چلے جانا”
ماسٹر جی بہت عام سے انداز میں بولے تھے
“اس کے لئے ڈبے کا دودھ لگا لیں مجھ سے نہیں ہوتی اس کی خدمت ۔۔۔۔پندرہ سال بعد میری گود بھری تھی سوچا تھا اللّه بیٹا دے گا ۔۔ . مگر نہیں ۔۔۔۔اللّه نے کب، کبھی میری سنی ہے جو اس بار سنتا”
وہ بد لحاظی اور كفر تولنے کے سارے ریکارڈ توڑ رہی تھی
“خدا کا خوف کرو یہ کیا بک رہی ہو ؟؟؟ایک پل کے لئے سوچو یہ بھی وہ نا دیتا تم ساری عمر بانجھ بن کر گزار دیتی تو ۔۔۔تو کیا بگاڑ لیتی تم اس پاک پروردگار کا ؟؟؟؟!”
ماسٹر جی کی آواز نیچی مگر لہجہ وزن دار تھا
“یہ خدا خدا مت کیا کرو میرے سامنے یہ سب اس بابے کے کالے علم کا کمال ہے جس کی وجہ سے آج میں ماں بنی ہوں اور اسی نے مجھے منع کیا ہے کہ میں اس سے دور رہوں تو میری اگلی اولاد بیٹا ہی ہوگی ۔۔۔”
وہ غرور اور یقین سے بولی تھی
ماسٹر جی پورے علاقے کے لئے روشنی کی مشل تھے مگر ان کی اپنی بیوی جہالت اور اندھیرے کے اعلی مثال تھی
“اللّه كی بندی یہ تم کیسی باتیں کر رہی ہو وہ ایک ہماری طرح کا بشر کسی کو کیسے اولاد دے سکتا ہے ؟؟؟؟؟”
“اتنی پاگل تو تم تب بھی نہیں تھی جب ہر ماہ تمہاری امید دم توڑتی تھی پھر اب تو تم ماں ۔۔۔۔ماں بن گئی ہو وہ بھی ایک مکمل اولاد کی پھر ابھی تمہیں یہ کیا ہو گیا ہے ؟؟؟؟”
ماسٹر جی سر پیٹ کر رہ گئے تھے
“پورا علاقہ تمہارے آگے سر نگو ہو کر تمہاری ہر بات پر آمین بولتا ہوگا مگر مجھے ان لوگوں جیسا کمزور مت سمجھو ۔۔۔۔انہوں نے کہا ہے وہ ایک ایسا عمل آج مجھے بتائیں گے ۔۔۔جس سے میں مستقبل دیکھ سکوں گی ۔۔۔۔۔”
سلطانہ آنکھوں میں چمک لئے ماسٹر جی کے جواب کا انتظار کیے بغیر وہاں سے چلی گئی تھی
ماسٹر جی نے اپنی بیٹی كی طرف دیکھا تھا جو اپنا انگھوٹھا منہ میں ڈالے خود کو خود سلا رہی تھی ۔۔۔
ماسٹر جی کی آنکھوں میں بے اختیار نمی اتری تھی وہ اسے اٹھا کر اندر کمرے میں لیٹا کر باہر بچوں کے پاس آ گئے تھے جہاں ایک والد ان کے منتظر تھے
“السلام علیکم ماسٹر جی”
وہ بہت عزت سے جھک کر ہاتھ ملا کر بولا تھا
اس کے ہمراہ ایک جوان لڑکا تھا
“وعلیکم السلام ۔۔۔۔کیسے آنا ہوا سلامت میاں؟”
ماسٹر جی اسے بیٹھنے کا اشارہ کر کے خود بھی کرسی پر بیٹھ گئے تھے
“ماسٹر جی ۔۔۔یہ میرا بیٹا ہے ۔۔۔۔کسی کام میں اس کا دل نہیں لگتا ۔۔۔۔نا پڑھتا ہے نا ہی گھر کا یا باہر کا کام ۔۔۔اس سے ہوتا ہے ۔۔۔بس تھکا رہتا ہے ۔۔۔آپ ہی اس کو سمجھائیں…”
ماسٹر جی نے بغور اس کی آنکھوں میں دیکھا تھا جو وہ چرا گیا تھا
“رات بھر جاگتے کیوں ہو ؟؟؟”
ماسٹر جی کے سوال سے اس کا رنگ پيلا پڑ گیا تھا
وہ باپ کی طرف دیکھ کر نظریں جھکا گیا تھا
“چل بتا نا ۔۔۔۔ماسٹر جی کیا پوچھ رہے ہیں”
“ویسے ماسٹر جی یہ تو شام ہوتے ہی سونے لیٹ جاتا ہے”
وہ کچھ سوچ کر بولا تھا
ماسٹر جی کی نظر ہنوز اس پر جمی ہوئی تھیں جس کا مطلب تھا باپ کی یہ گواہی کافی نہیں تھی ۔۔
“وہ ۔۔۔ میں ۔۔۔فون ۔۔۔۔پر ۔۔۔۔”
“ہاں بیٹا بولو ۔۔۔”
“وہ میں اپنی منگ سے فون پر بات کرتا ہوں ۔۔۔ساری رات ۔۔۔”
وہ اپنا بوجھ اتار کر ہلکا ہوا تھا
دیکھو بیٹا میری بات غور سے سنو ۔۔۔۔
“سنت کہتی ہے رات کے دس سے صبح کے 4بجے تک سونا سنت نبوی ہے ۔۔۔۔بیشک جو بات اللّه کا رسول صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم فرما دیں پھر سوال جواب یا اس پر بحث کی گنجائش ہی ختم ہو جاتی ہے …
وہ بات جو صدیوں پہلے میرے نبی صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم نے فرما دی سائنس اس حکمت تک آج رسائی حاصل کر پائی ہے ۔۔۔۔
سائنس نے آج یہ ثابت کر دیا ہے کہ رات کے اس پہر ایک خاص قسم کا ہارمون جسم خارج کرتا ہے جس سے جسم میں پرانے سیل ٹوٹتے اور ان کی جگہ نئے سیلز بنتے ہیں ۔۔۔۔
اصل میں دماغ ہمارا تب جاگتا ہے جب ہم رات کو سو رہے ہوتے ہیں ۔۔۔۔وہ اگلے دن کے لئے ہمارے پورے نظام کو ترتیب دینے کے لئے حکمت عملی بناتا ہے ۔۔۔اور یہ تبھی ممکن ہے جب ہم سو رہے ہیں ۔۔۔اگر ہم رات کو جاگتے ہیں تو دماغ آ نے والے دن کی کوئی بھی تیاری نہیں کر پاتا یہی وجہ ہے کہ ہم پورا دن سستی کا شکار رہتے ہیں ۔۔۔
جو فائدہ رات کے چند گھنٹون کی نیند میں اللّه نے رکھا ہے وہ ہم پورا دن سو کر بھی نہیں حاصل کر سکتے ۔۔۔
اور جسم کا یہ حق ہے کہ اس سے رات کو کوئی بھی کام نا لیا جائے کیوں کہ قدرت نے اس کا جو سسٹم بنا کر بھیجا ہے اس میں رات کو اس کا آرام کرنا شامل ہے ۔۔۔
جیسے ایک پٹرول سے چلنے والی گاڑی کو آپ ڈیزل سے نہیں چلا سکتے ۔۔۔۔جب اس کی بناوٹ میں ڈیزل کو شامل ہی نہیں کیا گیا پھر وہ کیسے چل سکتی ہے ؟؟؟؟؟
نتیجتا ۔۔۔۔۔وہ سیز ہو جائے گی ۔۔۔۔۔۔۔
یہی حال ہمارے جسمانی نظام کا ہے ۔۔۔۔رات اللّه نے دن بھر کی تهكان اتارنے کے لئے سونے کے لئے بنائی ہے ۔۔۔
اگر آپ اس کو خلاف فطرت استمال کریں گے تو بہت جلد ۔۔۔۔۔آہستہ آہستہ ۔۔۔۔۔آپ کے تمام اعضاء اپنا کام مستعدی سے کرنا چھوڑ دے گے ۔۔۔
مگر اگر ہم پھر بھی اس بات پر عمل نہیں کرتے اور رات کو آنکھوں اور دماغ کو کسی فضول سرگرمی میں الجھاۓ ركهتے ہیں تو یہ ظلم کہلاۓ گا ۔۔۔
بیشک جسم کا ایک ایک عضو اللّه نے ہمیں امانت کے طور پر بخشا ہے ۔۔۔۔اور امانت میں خیانت بذات خود گناہ ہے ۔۔۔
اسی طرح صبح کے چار سے دن کے سات بجے کے دوران بھی جسم ایک خاص قسم کا ہارمون پیدا کرتا ہے جو جسمانی اور ذہنی بہت سے فوائد کا باعث بنتا ہے ۔۔۔
وہ انسان کبھی وقت سے پہلے بوڑھا نہیں ہوتا ۔۔۔۔
میرا خیال ہے کہ تم اتنے بڑے ہو چکے ہو کہ میری بات سمجھ سکو۔۔۔۔
وہ اس لڑکے کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر بولے تھے
وہ شرمندہ سا نظر چرا کر رہ گیا تھا
ایک دم بجلی چمکی تھی اور ساتھ ہی بارش شروع ہو گئی تھی
سارے بچے برگد کے نیچے سے اٹھ کر بھاگ کر کمرے میں گئے تھے جو دروازے کے ساتھ اسی مقصد کے لئے استعمال ہوتا تھا
ماسٹر جی سب کو کام دے کر اب سلامت میاں کے پاس الگ ہو کر ایک طرف بیٹھ گئے تھے کمرے میں بچوں کی سبق یاد کرنے کی آوازیں گونج رہی تھیں وہ جھوم جھوم کر سبق یاد کر رہے تھے
“سلامت یار یہ کیا حرکت ہے ؟؟؟”
ماسٹر جی اپنے تھوڈی پر ہاتھ رکھ کر مایوسی سے بولے تھے جس پر سلامت جزبز ہوا تھا
“تیرے بیٹے کی عمر دیکھ اور پھر منگ ؟؟؟؟”
“ماسٹر جی ۔۔۔وہ ہم باپ دادا سے ایسے ہی کرتے ہیں ہمارے ہاں بچوں کی نسبت جلدی ہی طے کر دی جاتی ہے”
وہ باپ دادا کا حوالہ دے کر مطمئن سا بولا تھا
“خدا کا نام لو ایک نابالغ بچہ جو ابھی ابھی ماں کی گود کی حدت سے نکلا ہوتا ہے اس پر یہ رشتہ جو آج کل تعلق بننے میں ایک لمحہ نہیں لیتا مسلط کرنا سراسر ظلم ہے سلامت یار ۔۔۔”
اسلام کہتا ہے جب بچہ سات سال یا دس سال(ایک جگہ سات اور ایک جگہ دس لکھا تھا) ہو جائے تو اس کا بستر اس کی ماں سے بھی الگ کردو ۔۔۔کیوں کہ اس عمر کا بچہ جنسی لحاظ سے جتنا فعال ہوتا ہے اتنا ایک بالغ بھی نہیں ہوتا ۔۔،
اس عمر کو طوفانی
عمر بھی کہا جاتا ہے کیوں کہ بچے کا دماغ تب اچھائی اور برائی میں فرق سمجھنے کی صلاحیت سے محروم ہوتا ہے ۔۔۔”
اسی لئے اس عمر کے بچے کی کڑی نگرانی کی ضرورت ہوتی ہے اور تم نے اس کو منگنی کے نام پر کسی کی بیٹی فراہم کر رکھی ہے ؟؟؟؟؟”
ماسٹر ۔۔۔۔جی .۔۔۔وہ بات فون کی نہیں ۔۔۔۔وہ اسی گلی میں رہتے ہیں ۔۔۔۔اس کے گھر والے میرے بیٹے کو اپنا داماد مانتے ہیں ۔۔۔۔۔وہ ادھر ۔۔۔۔جاتا بھی ہے ۔۔۔”
وہ سر کے اوپر ہاتھ پھیر کر فخر سے بولا تھا
اس بات پر ماسٹر جی نے اپنا سر پکڑ لیا تھا
“اففففف ۔۔۔میرے اللّه ۔۔۔۔۔اتنا سا بچہ داماد بیوی ۔۔۔۔یہ سب کیسے سمجھ سکتا ہے ؟؟؟”
“اور منگنی کچھ نہیں ہوتی ۔۔۔اللّه کے بندوں۔۔۔نکاح واحد جائز رشتہ ہے ۔۔۔۔منگنی کے نام پر زنا کرنا چھوڑ دو ۔۔۔۔ اللّه کے عذاب کو خود پر اپنے ہاتھوں سے مسلط مت کرو ۔۔۔”
“کرنا ہے تو نکاح کرو ۔۔۔۔منگنی کے نام پر تقریب سجا کر اپنی ساری عمر کی جمع پونجی لگا کر اپنی اولاد کو منگیتر کے نام پر زنا میں مت ڈالو۔۔۔۔”
“کب کی تھی اس کی منگنی؟؟؟”
“وہ ۔۔۔۔وہ ۔۔۔۔ابھی یہ پندرہ کا ہے ۔۔۔جب آٹھ سال کا تھا تب ۔۔۔۔”
“اففففف ۔۔۔۔۔۔۔۔۔میرے اللّه ۔۔۔۔۔۔۔۔پھر ابھی جب خود اپنے ہاتھ سے اس کے پر کتر کر اسے اڑنے ہی نہیں دیا پھر ابھی میرے پاس شکایت لے کے کیوں کھڑے ہو سلامت میاں ؟؟؟؟”
“اب وہ رات دن شوہر کر فرائض نبها رہا ہے تو بس نبهانے دو ۔۔۔۔”
ماسٹر جی ۔۔۔۔۔۔وہ میں ۔۔۔۔اب کیا کروں ۔۔۔گھر کا خرچا نہیں چل رہا اور بیٹا ۔۔ہر وقت دن میں بھی سویا رہتا ہے ۔۔۔۔۔نا پڑھتا ہے ۔۔۔۔۔نا میرے ساتھ دہاڑی لگانے ۔۔۔۔جاتا ہے ۔۔۔۔بس کہتا ہے ۔۔۔۔جسم میں جان نہیں ہے ۔۔۔”
“اس کی ماں بھی بہت پریشان رہتی ہے ۔۔۔
“ہر ذمہ داری کی ایک خاص عمر ہوتی ہے ۔۔۔یہ عمر اس کی اپنے مستقبل پر توجہ دینے کی ہے اپنی زندگی بنانے كی ہے ۔۔۔۔منگنی نبهانے کی نہیں ۔۔۔خدارا معصوم ذہنوں میں شادی کے نام پر گند بھرنا بند کردو۔۔۔۔والدین اپنی رشتہ داری میں خود کو اچھا اور مخلص ثابت کرنے کے لئے بچوں کے مستقبل کو داؤ پر لگا دیتے ہیں ۔۔۔۔مرد تو دریافت کا پرندہ ہے وہ جس عورت کو تسخیر کر لیتا اس کو چھوڑ کر نئی پرواز میں نکل جاتا ہے ۔۔۔۔جب تک تمہارا بیٹا شادی کے قابل ہوگا اس کا دماغ میچورڈ ہوگا پھر اس کا جيون ساتھی کا اپنا معيار ہوگا ۔۔۔۔پھر یہ لڑکی کدھر منہ چھپائے گی جو منگنی کے نام پر بیوی کے فرائض نبها رہی ہے ؟؟؟”
سلامت کا چہرہ پسینے سے شرابور ہو گیا تھا ۔۔۔
ماسٹر جی ۔۔۔وہاں سے اٹھ کر بچوں کی طرف متوجہ ہوۓ تھے ۔۔۔
“پتہ نہیں اس طوفانی بارش میں سلطانہ کہاں رُل رہی ہوگی ۔۔۔۔میرے پاس دنیا کی ہر پریشانی کا حل موجود ہے ۔۔۔۔مگر میرا اپنا گھر ۔۔۔۔۔۔۔ کچھ بہت برا ہونے والا ہے ۔۔۔۔يا اللّه میری بیوی کو ہدایت دے دے ۔۔۔”
ماسٹر جی نے بارش کی طرف دیکھتے ہوۓ سوچا تھا
۔****************
بہادر شاہ بارش میں قبر كی کھدائی کا سامان لئے بیٹھا ہوا تھا وہ تیز بارش سے ان سے مٹی کو دھو رہا تھا
قبرستان میں ایک گاڑی آکر رکی تھی جس میں سے تین لوگ اترے تھے
ایک درميانے عمر كی عورت،ایک مرد اور ایک 25 سے 30 سال کے بیچ کا لڑکا تینوں بہت بوکھلاۓ ہوۓ تھے
وہ عورت بھاگی بھاگی بہادر شاہ کے پاس آئی تھی اس کی سانس پھولی ہوئی تھی
“بھائی جلدی کردو قبر کھود دو”
بہادر شاہ اس کی طرف محض دیکھ رہا تھا وہ اسی طرح اپنے کام میں مصروف رہا اتنی دیر میں وہ آدمی اور لڑکا بھی ادھر پہنچ گئے تھے
“اٹھو نا قبر کھودو”
وہ آدمی زور دے کر بولا تھا مگر بہادر شاہ ان سنی کر کے اپنا کام کرتا رہا ۔۔۔
“یار ۔۔۔۔۔۔۔پلیز ۔۔۔،۔جلدی سے قبر کھود دو ۔۔۔ مجھے بچا لو ۔۔۔یار “
وہ جوان لڑکا بہت ڈرا ہوا لگ رہا تھا اس کی آواز میں التجا تھی
“اب کس کا ڈر ہے ؟؟؟هاهاهاهاها ۔۔۔۔”
بہادر شاہ سامان رکھ کر آسمان کی طرف بارش کو دیکھتے ہوۓ بولا تھا
“وہ ۔۔۔۔۔وہ ۔۔۔پیٹ سے بھی تھی ۔۔۔”
وہ لڑکا اب آبدیده لگ رہا تھا
“چپ کر جا ۔۔۔۔اللّه جانے کس کا بچہ تھا اور تم ۔۔۔۔۔حرام کام کرنے والے اپنی موت آپ مرتے ہیں،چل جلدی اس کلموہی سے جان چھڑوا میری ۔۔۔۔اللّه اللّه کر کے جان کا عذاب ختم ہوا ہے میرا ۔۔ یا اللّه تیرا شکر ۔۔۔۔”
وہ دونوں ہاتھ جوڑ کر اللّه کا شکر ادا کرتے ہوۓ بولی تھی
“کس کا بچہ تھا مطلب ؟؟؟”
بہادر شاہ اس گاڑی کی طرف لنگڑاتا ہوا چلتا ہوا اس عورت سے مخاطب ہوا تھا
“وہ ۔۔۔۔۔۔وہ ۔۔۔۔۔”
اس عورت سے کوئی بات بنائے نہیں بن رہی تھی
بہادر شاہ نے اس لڑکے کی طرف دیکھا تھا
“اماں کہتی تھی ۔۔۔تیرے باپ کے ساتھ ۔۔۔۔چکر ۔۔۔۔اور یہ بچہ ۔۔۔۔اسی کا ۔۔۔۔۔”
اس لڑکے نے یہ جملہ بہت مشکل سے ادا کیا تھا
“هاهاهاهاها ۔۔۔۔”
بہادر شاہ کا قہقہ بلند ہوا تھا
“وہ ہی ساس بہو کی پرانی کہانی”
وہ زیرلب بڑ بڑایا تھا بہادر شاہ گاڑی کے پاس آکر کھڑا ہو گیا تھا
اس لڑکے نے دروازہ کھولا جہاں ایک ابھرے ہوۓ پیٹ کے ساتھ لڑکی پچھلی سیٹ پر لیٹی ہوئی تھی خون اس کی ٹانگوں سے رس رس کر پوری گاڑی میں پھیل رہا تھا
اس کے چہرے اور ہاتھوں پر تشدد کے نشانات اس کی موت کی سفاکی کا پتہ دے رہے تھے ۔۔۔
اس کی کھلی آنکھیں موت کے وقت اس کی تکلیف صاف بتا رہی تھیں ۔۔۔
صاف نظر آ رہا تھا اس کو مارتے وقت رحم اور احساس کو پش پشت ڈالا گیا ہے
بہادر شاہ کچھ دیر اس کو دیکھتا رہا پھر گاڑی کے پاس نیچے بیٹھ گیا
“کیوں مارا تم لوگوں نے اس حاملہ بچی کو ؟؟؟؟”
بہادر شاہ دھاڑا تھا
“کیا بتائیں بھائی صاحب ہماری تو اس نے ناک میں دم کر رکھا تھا،بچے تو ہم نے بھی پیدا کیے ہیں ۔۔۔ہم نے تو کوئی نخرا نہیں کیا ۔۔۔اس کو جب سے حمل ہوا تھا میں جو بھی پکاتی یہ نا کھاتی ۔۔۔منہ باندھے بیٹھی رہتی ۔۔۔۔۔لو ۔۔۔یہ کیا بات ہوئی ۔۔۔۔شام میں میرا بچہ تھکا ہارا آتا تو یہ چکراتی پھر رہی ہوتی ۔۔۔۔پھر میرا سارا دن کا ذلیل ہو کر آیا ہوا بیٹا باہر جاتا اور گلی کی نکڑ پر اپنے اشرف کی دوکان سے دن بھر کی باسی چاٹ لاتا ۔۔۔۔یہ وہ شوق سے کھا لیتی ۔۔۔۔”
وہ عورت بہادر شاہ کے پاس نیچے آلتی پالتی مار کر بیٹھ گئی تھی اور وہ یہ سب اتنی رازداری سے بہادر شاہ کو بتا رہی تھی جیسے وہ کوئی بہت اپنا ہو اور اس کی باتوں پر اس کو سو فیصد اعتبار ہو ۔۔۔
“یہ تو سب میرے بیٹے کو میرے خلاف کرنے کے طریقے تھے گورکن بھائی ۔۔۔۔ورنہ اس باسی چاٹ کا گھر کی تازی روٹی سے کیا مقابلہ؟؟”
“اور میں تو اتنا اچھا کھانا بناتی ہوں کہ مت پوچھو”
“تمہاری بہو اچھا کھانا نہیں بناتی تھی ؟؟؟”
بہادر شاہ نے سوال اس عورت سے کیا تھا مگر دیکھا اس لڑکی کے شوہر كی طرف تھا
“وہ کیسے بناتی کھانا ۔۔۔کچن میرا تھا ۔۔۔۔میں نے آج تک اسے کچن میں گھسنے ہی نہیں تھا دیا ۔۔۔کیا پتہ چلتا ہے آج کل کی بہوؤں کا ۔۔۔کوئی تعویز ڈال دیتی یا زہر ڈال کر مجھے مار دیتی تو کون پوچھتا اس سے میں تو مر گئی ہوتی نا ؟؟؟”
“هاهاهاهاها ۔۔۔”
بہادر شاہ پیٹ پکڑ کر آدھا لیٹتا ہوا لوٹ پوٹ ہوا تھا
“وہ ہی جو اب تم لوگوں سے پوچھے گا ۔۔۔۔۔”
بہادر شاہ ایک دم سنجیده ہوا تھا
“اللّه کو تو جانتی ہوگی ؟؟؟؟؟؟”
بہادر شاہ کا یہ سوال گویا تیزاب تھا جو ان تینوں کے کانوں گرما گیا تھا
“بھائی ظاہر ہے اس ذات کو کون نہیں جانتا”
مقتولہ کے سسر نے بات کو ٹھنڈہ کرنے کی کوشش كی تھی
“هاهاهاهاها ۔۔۔۔”
“نہیں تم نہیں جانتے ۔۔۔۔کم از کم تم تینوں”
وہ اب بھی قہقہ لگا رہا تھا
بہادر شاہ اپنی بوسیده قمیض کو نچوڑتا ہوا اٹھ کر بولا تھا جس پر تینوں کا رنگ سفید پڑ گیا تھا
“وہ میرے بیٹے کو ہر وقت میرے خلاف کرتی تھی ۔۔۔۔یہ جب بھی اس کے کمرے سے آتا بدلا بدلا لگتا ۔۔۔”
“کیا کہتی تھی ؟؟؟”
بہادر شاہ نے پوچھا تھا
ساس بھی اٹھتی ہوئی بولی تھی
“کہنا کیا تھا ۔۔۔وہ پیدائشی گونگی تھی ۔۔۔۔مگر پھر بھی بہت گھنی تھی پھر بھی ۔۔۔ اللّه معافی اشاروں اشاروں سے میرے بیٹے کو سب بتا دیتی تھی ۔۔۔۔۔اور میرا بیٹا منہ پھلا کر کمرے سے نكلتا تھا ۔۔۔وہ مجھ سے میرا بیٹا چھین لینا چاہتی تھی”
“سب؟؟کیا سب ؟؟”
بہادر شاہ نے اس عورت کو گھورا تھا ۔۔۔
“وہ ۔۔۔یہی کہ میں گھر کا سارا کام اس سے كرواتی تھی ۔۔۔۔مگر کچن میں اسے ۔۔۔۔خود سے پانی پینے کی بھی اجازت نہیں تھی ۔۔
“جب عورت حاملہ ہوتی ہے تو روز اس کے اندر پلنے والی زندگی اس کے موڈ میں نئی تبدیلی لے کر آتی ہے ۔۔۔۔
وہ سب اس کے بس کی بات نہیں ہوتی ورنہ اکثر عورتیں اس حالت میں مٹی اور گاچی نا کھاتیں ۔۔۔
کوئی سیمنٹ کھانے لگتی ہے ۔۔۔۔”
“تو اگر تمہاری بہو باسی چاٹ کھا کر خوش تھی تو اس میں غلط کیا تھا؟؟؟؟”
“خدا کا خوف کرو۔۔۔۔اگر بیٹا بانٹ نہیں سکتیں تو ان کی شادی کی خوشی اور گھر بسانے کا ڈھونگ رچانا بھی بند کردو ۔۔۔۔اپنے ہاتھ دوسروں كی بیٹیوں کے ارمانوں کے خون سے مت رنگو ۔۔۔”
“میں نے کبھی اپنے بیٹے کی خوشیوں کو نہیں چھیننا چاہا ۔۔۔ مگر وہ اس قابل تھی ہی نہیں ۔۔۔ایک تو گونگی تھی ۔۔۔۔میں اب مکمل لڑکی بیاہ کر گھر بساؤں گی اپنے بیٹے کا ۔۔ “
وہ ناک پر سے مكهی اڑا کر بولی تھی
“جس لڑکی کی تم نے آج تک آواز نہیں سنی وہ تم سے برداشت نہیں ہوئی ۔۔۔بیٹے کو بد گمان کر کے اس کو اس حالت میں موت کی گھاٹ اتار دیا ۔۔۔ایک گونگی بہو بھی تمہارے اندر کے فطری ڈر ۔۔۔۔بیٹا چھین جانے کا ڈر نہیں ختم کر سکی ۔۔۔تو زبان والی کو اپنے بیٹے کے ساتھ اکیلے کمرے میں کیسے برداشت کروگی ؟؟؟؟؟؟؟”
“وہ لڑکی غلط تھی تو جو اس کے رحم میں پلنے والا بچہ تھا وہ تو تمہارے اپنے بیٹے کی اولاد تھا تمہیں اس پر بھی رحم نہیں آیا ؟؟؟؟یہ بیٹے سے کیسی محبت ہے جو اس کی اولاد سے بھی بہو کی عداوت میں نہیں ہو پاتی ؟؟؟؟؟؟”
بہادر شاہ مقتولہ کے شوہر کے پاس آیا تھا
“کیسی بیوی تھی یہ ؟؟؟”
“اچھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔میرا مطلب ہے ۔۔۔۔۔”
کوئی خاص برائی نہیں تھی اس میں ۔۔۔۔بول تو سکتی نہیں تھی ۔۔۔میری بہت خدمت کرتی تھی ۔۔۔میں کمرے میں جاتا تو میری ہر ضرورت بنا کہے پوری کر دیتی ۔۔۔۔جو جو باتیں اماں مجھے سیکھا کر بھیجتی ۔۔۔۔یہ ان سب پر پانی پھیر دیتی میری اتنی خدمت کرتی کہ میں خاموش ہو جاتا ۔۔۔۔پھر مجھے اماں کی کہی باتوں پر غصہ آتا ۔۔۔وہ جتنی سچائی سے میرا خیال رکھتی مجھے اماں کے الزام جھوٹ لگتے ۔۔۔۔”
“پھر جب اماں کی خواہش کے بر عکس میں اسے بنا مارے کمرے سے نکل آتا ۔۔۔تو اماں اپنا رونا ڈال دیتی ۔۔۔۔وہ مجھے اپنا دودھ نا بخشوانے کی دھمکی دیتی ۔۔۔”
“میرا اس کے ساتھ اچھا رویہ اماں کو اپنی تذليل اور اپنی عزت میں کمی لگتی ۔۔۔”
“بس ہر وقت میرے کان بھرتی ۔۔۔۔آج کہہ رہی تھی یہ بچہ تیرے باپ کا ہے ۔۔۔۔اور ابا بھی خاموش تھا ۔۔۔وہ بول تو سکتی نہیں تهی ہاتھ جوڑ جوڑ کر نفی میں سر ہلاتی رہی ۔۔۔۔مگر مجھ پر تو تب جنو ن سوار تھا ۔۔۔۔میں اس کو ہر جگہ ۔۔۔۔۔حتی کے پیٹ میں بھی ۔۔۔۔ مارتا گیا ۔۔۔یہ سوچے بغیر کہ اندر بھی ایک انسان پل رہا ہے ۔۔۔وہ جس کا بھی بچہ تھا ۔۔۔۔وہ تو بے قصور تھا ۔۔۔”
“میں اچھا بیٹا بنتا بنتا ۔۔۔۔قاتل بن گیا ہوں ۔۔۔۔دو دو زندگیوں کا قاتل ۔۔۔۔۔۔”
وہ اب چیخ چیخ کر رونے لگا تھا بارش اب بھی ہو رہی تھی ۔۔۔
“کسی بھی رشتے میں اچھا بننے کے لئے ۔۔۔۔۔کسی دوسرے رشتے کو بلی چڑھانا ضروری نہیں ہوتا ۔۔۔۔ہر رشتہ اپنی جگہ مکمل اور الگ تقاضے لئے ہوۓ ہے ۔۔۔”
“اچھا بیٹا ۔۔۔۔اچھا شوہر بلکل الگ الگ چیزیں ہیں ۔۔۔۔یہ کبھی ایک دوسرے کا مقابلہ ہو ہی نہیں سکتیں ۔۔۔۔ایک انسان ماں ،آپ جس کے پیٹ سے نکلے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔اور دوسرا انسان جو ازدواجی تعلق سے آپ کے خون میں شامل ہو گیا ہے.۔۔۔
ایک رشتہ جو قیامت تک ٹوٹ نہیں سکتا ۔۔۔۔اور دوسرا جو دیکھا جائے تو محض کاغذی ۔۔۔۔اور سمجھا جائے تو روح کا ہے ۔۔۔۔۔ماں اور بیوی دونوں کے حقوق یکسر مختلف ہیں ۔۔۔۔پھر اس میں ایک مرد موزانہ کیسے بنا سکتا ہے ؟؟؟؟؟”
“ان دونوں کو پلڑے میں رکھ کر تولا جائے تو کوئی بھی پلڑا نیچے نہیں جھکے گا کیوں کہ دونوں رشتوں کے لئے اللّه نے سخت احکامات بھیجے ہیں ۔۔۔”
“ماں کو عزت دو،محبت دو،گھر آتے اور جاتے ہوۓ اس کا ہاتھ چوموں ۔۔۔۔اس کی ضرورت پوچھو ۔۔۔۔”
“بیوی سے محبت کا انداز کیسا ہونا چاہیے ۔۔۔اس سے تو ہماری سنت صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم بھری پڑی ہے ۔۔۔۔”
بہادر شاہ نے اس لڑکے کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا تھا
“میں ۔۔۔۔اچھا بیٹا ۔۔۔۔۔بننا چاہتا ۔۔۔۔۔تھا “
وہ ایک بار پھر رو دیا تھا
“ہر ساس بری نہیں ہوتی اسے اس کا اپنا بیٹا ساس بناتا ہے ۔۔۔۔وہ بیوی كی محبت میں ماں کی محبت کو بھول جاتا ہے ۔۔ وہ یہ بھول جاتا ہے کہ زندگی اس کی بدلی ہے ۔۔۔ماں کو آج بھی اس کی اسی محبت اور توجہ کی خواہش ہے ۔۔۔بس پھر ماں کی یہی شکایت کب حسد اور کب نفرت کا روپ دھارتی ہے یہ وہ خود بھی نہیں جانتی ۔۔۔ دکھ اس بات کا ہے ۔۔۔بیٹا غلط ہو کر بھی عزیز رہتا ہے اور بہو صحیح ہو کر بھی قابل نفرت ۔۔۔۔”
“تیرا پوتا تھا وہ یا بیٹا؟؟؟”
بہادر شاہ نے سسر کے کان میں آ کر پوچھا تھا
وہ ۔۔۔۔۔وہ جی ۔۔۔۔۔میری بیوی کہہ رہی تھی نا یہ باہر جاتی ہے نا کوئی گھر میں آتا ہے ۔۔۔تو یہ الزام تم اپنے سر لے کر اس مصیبت سے میری جان چھوڑوا دو ۔۔۔”
“میں تو بس اچھا شوہر بننا چاہتا تھا ۔۔۔یہ کہتی تھی اپنے بیٹے سے سیکھو کیسے بیوی کا غلام بنا پھرتا ہے ۔۔۔۔بس اسی لئے ۔۔۔ “
وہ آدمی شکل سے ہی ڈھیت اور حد درجہ بے حيا لگ رہا تھا۔۔
“اسی نے مجھے بھیجا تھا بہو کے کمرے میں ۔۔۔۔جیسے ہی میرا بیٹا آیا ۔۔۔۔بس اس کا مجھے اس کے کمرے میں دیکھنا تھا کہ اس نے جائے نماز پر بیٹھی نماز پڑھتی اپنی حاملہ بیوی کو مارنا شروع کر دیا ۔۔۔”
“جاؤ تم لوگوں کو اللّه پوچھے گا”
بہادر شاہ اس لڑکی کو گاڑی سے اتار کر نیچے لیٹا چکا تھا
وہ تینوں تیزی سے گاڑی میں بیٹھ کر روانہ ہو گئے تھے ابھی وہ تھوڑا آگے ہی گئے تھے ان كی گاڑی طوفانی بارش کی وجہ سے سلپ ہو کر ایک گہری کھائی میں جا گری تھی ۔۔۔
تینوں کی موت موقعے پر ہی ہو چکی تھی ۔۔۔
“هاهاهاهاها ۔۔۔”
چلو قبریں کھودتے ہیں ۔۔ ۔۔۔کھانا آج پھر نہیں ہے ۔۔۔منی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔آج تو آدم خور ہاتھ لگے ہیں ۔۔۔اب آدم خور کو ایک آدم خور کیسے کھا سکتا ہے ۔۔۔۔”
“هاهاهاهاها “
بہادر شاہ نے دور سے نظر آتی منی کو بلند آواز سے کہا تھا
بہادر شاہ منی کے ہمراہ لنگڑا کر چلتا ہوا قبروں کی کھدائی کرنے نکل گیا تھا ۔۔۔
تھوڑی ہی دیر میں وہاں تین لاشیں تیز بارش میں آسمان کی طرف کھلی آنکھیں کیے موجود تھیں ۔۔۔
ان کی آنکھوں کا کرب ۔۔۔اس گاڑی میں پڑی لاش جیسا ہی تھا ۔۔۔
“منی ۔۔۔۔”
“کیا ہے ابا ۔۔۔ایک تو بھوک لگی ہے ۔۔۔”
منی گندے الجھے بالوں میں کھجلی کرنے کی کوشش کرتی ہوئی بولی تھی
“تم ایسی ساس نا بننا ۔۔۔۔”
“هاهاهاهاهاها ۔۔۔۔”
دونوں کا اجتمائی قہقہ بلند ہوا تھا
“ابا بندہ ساس بھی ہو اور بہو کو تنگ نا کرے ۔۔۔۔بہت کم ایسا ہوتا ہے ابا مگر ماں جیسی ساسیں بھی موجود ہیں ۔۔۔ ۔۔۔۔۔مگر ابا مجھے لگتا ہے میں پہلی والی ساس بنو گی سیدھا سیدھا کھا جاؤں گی بیچاری کو ۔۔۔۔۔۔۔هاهاهاهاها ۔۔۔۔۔”
منی لوٹ پوٹ ہوئی تھی
بارش تیز ہو چکی تھی ۔۔۔۔بہادر شاہ نے منی کے سر پر چپت رسید كی تھی
