442.5K
18

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Barish Episode 12

Barish by Jameela Nawab

باہر بارش ہو رہی تھی ڈاکٹر راؤنڈ لے کر جا چکے تھے مدھو کے لئے وارڈ میں موجود ایک مریض کی فیملی یخنی ،چاول اور روٹی لائی تھی مناہل اور مدھو نے وہ مزے مزے سے کھایا تھا

نيكی کی بنیاد رکھنے کی دیر ہوتی ہے نا ختم ہونے والی دیوار اس پر بنتی چلی جاتی ہے ۔۔۔

ادھر بھی یہی معاملہ تھا

مانا کہ یہ دنیا برے لوگوں سے بھری پڑی ہے مگر کمی اچھے لوگوں کی بھی نہیں ہے ۔۔۔۔وارڈ میں موجود دکھی دل کے موجود لوگ مدھو کے لئے دل میں ترس اور همدردی محسوس کر رہے تھے ۔۔

میری نظر میں ایک انسان مٹی سے نہیں بلکہ احساس سے بنتا ہے اگر وہ اپنی بناوٹ کے بر عکس کام کرنے لگے تو وہ انسان انسانیت کے درجے سے خارج ہے ۔۔۔جبکہ اگر ایک چار ٹانگوں والے حیوان کی آنکھوں میں آپ اپنے لئے احساس دیکھتے ہیں تو سمجھ جایئں یہی اصل انسان ہے بس اس کی دو ٹانگیں اضافی ہیں ۔۔۔۔

نيكی کی دیوار کو کھڑا ہونے کے لئے بنیاد مل چکی تھی اب ہر گھنٹے اس وارڈ کے ساتھ ساتھ دوسرے وارڈوں سے دھڑا دھڑ مدھو کے لئے مختلف کھانے کپڑے اور پیسے آنے لگے ۔۔

پھلوں کے ڈھیر الگ سے سنبهالے نہیں سنبھل رہے تھے ۔۔۔

“وہ مدھو جو دو وقت کی روٹی سے زیادہ اللّه سے کچھ نہیں مانگتی تھی ۔۔۔۔جسے ہم مکمل لوگوں کی طرح کوئی شکوہ کوئی شکایت نہیں تهی ۔۔۔

جو اللّه کے آگے ہاتھ اٹھاتے ہی ہم مکمل لوگوں کی طرح اپنی محرومیوں کا رونا نہیں روتی تھی ۔۔۔اس کے لب تو ہاتھ اٹھاتے ہی شکر کرتے نہیں تھکتے ۔۔۔۔

وہ جس دن اپنی پسند کا کچھ پیٹ بھر کر کھا لیتی پھر کوئی دنیاوی سوچ اس کو تنگ نا کرتی بلکہ وہ ساری ساری رات رب کے شکر میں رو کر گزار دیا کرتی ۔۔۔

مدھو نے اس کڑی آزمائش میں بھی اپنی روش نہیں بدلی تھی ۔۔۔وہ جسمانی تکلیف سے تنگ ضرور ہوئی تھی مگر یہ جسم کے زخم اس کی روح کو اپنے رب کی رحمت سے دور نہیں کر پائے تھے ۔۔۔

اور رہی بات ہم جیسوں کی جو زندگی کی ہر آسائش پا کر بھی بھوکا پن کرتے ہیں ہم اتنے امیر ہیں کہ سب خرید لے ۔۔۔۔بلکہ سچ تو یہ ہے جو انسان اپنے رب کو شکر کے دو لفظ ادا نہیں کر سکتا اس جیسا غریب کوئی ہے ہی نہیں ۔۔۔۔یہ ایسی غربت ہے جو دیمک سے زیادہ خطرناک ہے اور پتہ ہے شکر نا کرنے سے دیمک کس کو کھاتی ہے ؟؟؟

“ہمارے ایمان”

کو ۔۔۔۔۔۔

وہ رب جو آ سمان اور زمین کو الگ الگ تھامے ہوۓ ہے ۔۔۔۔وہ اتنا طاقت ور ہے ۔۔۔تو پھر ہمارے یہ چھوٹے چھوٹے مسائل اس کے لئے کیا معنی رکھتے ہیں ؟؟؟؟

ہمارا مقصد حیات زندگی کی بھول بھلیوں میں پڑ کر اس رب کو بھولنا نہیں بنایا گیا ۔۔۔۔

خدارا ۔۔۔۔۔اپنا مقصد حیات سمجھیں ۔۔۔۔۔اس رب کی رسی تھام لیں ۔۔۔۔۔اپنی ہر پریشانی اس رب کو ایسے ہی بتائیں جیسے اپنی ماں بہن کو فون کالز پر بتاتے ہو ۔۔۔۔۔پھر سجدے میں گر کر اس کا جواب سنیئے ۔۔۔۔۔۔یاد رکھیئے ایسا کرنے سے نا تو کوئی معجزہ ہوگا ۔۔۔ نا ہی وقتی حالات بدلیں گے ۔۔۔۔۔اگر کچھ بدلے گا تو وہ ہوگی آپ کی سوچ ۔۔۔۔اپکا ذہن ۔۔۔۔۔آپ کی مثبت اپروچ ۔۔۔۔

مثبت سوچ اکثر پریشانی میں ہماری ڈھال ہوتی ہے ۔۔۔یاد رکھیں جو دکھ اور پریشانی اللّه نے آپ کی قسمت میں لکھ دی ہے آپ اس سے نہیں بھاگ سکتے ۔۔۔۔مگر آپ اس کا اثر اپنی زندگی پر کم سے کم کر سکتے ہیں ۔۔۔۔جائے نماز تو سب کے گھر ہوگی نا ؟؟؟

مناہل نے وارڈ کی خواتین سے پوچھا تھاجس پر سب نے ہاں بولا تھا

“بس کتنی بھی بڑی پریشانی ہو وضو کریں اور اس پر بیٹھ جایئں اللّه کے آ گے رو ئیں، مگر اس رونے میں بھی شکر ہونا چاہیے۔۔۔بس پھر آپ دیکھیں گے ۔۔۔وہ کیسے آپ کا دل سکون سے بھر دے گا ۔۔۔۔”

“مگر افسوس ہم سمندر پار بیٹھے فون کو ذریعہ بنا کر اس انسان کو اپنا دکھ سنا کر رو رہے ہوتے ہیں جو بس فون سن کر رکھ دیتا ہے مگر گھر میں جائے نماز کے ذریعے وضو کر کے شاہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہستی کو اپنا دکھ نہیں سناتے ۔۔۔جو ہمارا دکھ نا صرف محسوس کرتا اور سمجھتا ہے بلکہ اس کو ختم بھی کر سکتا ہے ۔۔۔۔اللّه سے ہم دور جاکر کبھی بھی سکون نہیں پا سکتے ۔۔۔۔”

مناہل نے باہر ہوتی بارش کی طرف دیکھا تھا تمام خواتین نے اس کی بات پر سر ہلایا تھا اسی وقت ڈاکٹر علی وہاں آۓ تھے وہ مناہل کی آخری بات سن چکے تھے

“آپ کی باجی بلکل ٹھیک کہہ رہی ہیں،دل اور روح کی غذا رب کا ذکر اور شکر ہے ۔۔ اگر یہ دونوں خوراکیں اس کو ملنا بند ہو جایئں گی تو وہ مر جائے گا ۔۔۔۔۔اور میرا رب مردہ دل میں کبھی نہیں بسا کرتا”

وہ سب ایک بار پھر سر دھنتی اپنے اپنے مریض کے پاس چلی گئی تھیں ڈاکٹر علی مناہل کے پاس آۓ تھے

“یہ مدھو کی رپورٹس ہیں تھوڑی سی اندرونی چوٹیں آئی ہیں کچھ دن یہاں ان کی دیکھ بھال ہو گی ۔۔۔۔انشاءاللّه ۔۔ . بہت جلد یہ بلکل ٹھیک ہو جایئں گی ۔۔۔ “

“مدھو جی کیسی ہیں آپ ؟؟؟”

ڈاکٹر علی نے مدھو کے پاس آ کر خوش دلی سے کہا تھا

“اس رب کا بڑا کرم ہے بہت سکون ہےاب درد نہیں ہوتا”

“اب تو میں آپ کو یہ بھی نہیں پوچھ سکتا کہ کسی چیز کی ضرورت تو نہیں ہے”

ڈاکٹر علی نے ایک ہاتھ اپنی تھوڈی کے نیچے رکھ کر شرارت سے کہا تھا کیوں کہ اب تو یہاں ہر چیز کی زیادتی ہی زیادتی نظر آ رہی ہے”

ڈاکٹر علی نے کھانے کی مختلف اشیاء,جوس کے ڈبے اور کپڑوں سے بھرے بڑے بڑ ے شاپر دیکھتے ہوۓ کہا تھا

“یہ آپ پہلے بھی نہیں کہ سکتے تھے ڈاکٹر بابو ۔۔کیوں کہ میرے رب سونے نے مجھے آج تک کبھی بھوکا نہیں سلایا ۔۔۔۔رج کر سوئی ہوں ۔۔۔رہی بات کپڑوں کی تو جب تک کسی انسان نے نوچے نہیں تھے اللّه نے مجھےہمیشہ سے ڈھانپے رکھا تھا ۔۔۔”

مدھو اٹھ کر بیٹھ گئی تھی وہ دونوں ہاتھوں کو جوڑ کر اللّه کا شکر ادا کر رہی تھی ڈاکٹر علی مناہل کی طرف دیکھ کر مسکرا دیے تھے ۔۔۔

“ایسا کیوں لگتا ہے میں آپ سے بہت بار مل چکا ہوں؟”

سوال مناہل سے کیا گیا تھا

“جی ۔۔۔۔وہ آپ کو سا ۔۔۔۔۔د۔ ۔۔۔۔۔۔۔”

اس سے پہلے کے مناہل اپنا پرانا تعارف دیتی وارڈ بوائے بھاگ کر ڈاکٹر صاحب کے پاس آیا تھا

“ڈاکٹر علی ۔۔۔ ایمرجنسی ہے ۔۔۔ایک لڑکا ۔۔۔۔ خود کشی کیس ہے اپ جلدی آ جایئں ۔۔۔”

ڈاکٹر علی تقریبا بھاگ کر اس کے ہمراہ ہوۓ تھے

مناہل کھڑکی میں آ کر کھڑی ہوئی تھی بارش بہت تیز تھی

ایک جوان لڑکی مناہل کے پاس آ کر کھڑی ہوئی تھی

“سسٹر ۔۔۔۔۔”

وہ نرمی سے گویا ہوئی تھی جس پر مناہل نے اس کی طرف مسکرا کر دیکھا تھا

“آپ کے ساتھ جو یہ ۔۔۔۔۔۔۔ہیجڑ ۔۔۔۔۔۔۔اا ۔۔۔۔۔میرا مطلب ہے ۔۔۔۔خواجہ سرا ہیں ۔۔۔۔۔میں نے ان سے بات کرنی ہے ۔۔۔”

اس کے لہجے میں جھجک تھی

“جی وہ میری مدھو آپی ہیں آپ آجائیں کر لیں بات”

مناہل اس کو مدھو کے پاس لے آئی تھی وہ آنکھیں موندے لیٹی ہوئی تھی

وہ وہاں جاتے ہی مدھو کے پاؤں پکڑ کر رونے لگی تھی مدھو حیران پریشان مناہل کو دیکھ رہی تھی

“آپ ۔۔۔ آپ ۔۔۔ آپ کی دعا اللّه رد نہیں کرے گا ۔۔۔ میں نے اپنے بڑوں سے سنا ہے ۔۔۔۔آپ جیسوں کی دعا اور بد دعا اللّه فورا قبول کر لیتا ہے ۔۔۔۔میرے شوہر کو بچا لیں ۔۔۔۔وہ بہت بیمار ہیں ۔۔۔۔میں ان کے بغیر نہیں رہ سکتی ۔۔۔”

“دل سے نکلی یقین میں لپٹی ہوئی دعا اللّه کسی کی بھی رد نہیں کرتا بہنا ۔۔۔۔”

مناہل نے اسے مدھو کر پیروں سے اوپر اٹھاتے ہوۓ کہا تھا

“میں بہت پریشان ہوں”

“باجی پوری بات بتائیں کیا مسئلہ ہے رانی کو ؟؟؟”

مدھو نے پیار سے پوچھا تھا

“میری پسند کی شادی ہوئی تھی میرے میاں بھی بہت محبت کرتے ہیں مجھے سے ۔۔۔۔میں ایک ہی بہو تھی ۔۔۔۔یہی وجہ تھی میں نے ہمیشہ اپنے ساس سسر کی آنکھوں میں اپنے بیٹے کو چھن جانے کا ڈر دیکھا تھا ۔۔۔۔۔وہ اپنے بیٹے سے محبت کرتے تھے جیسے ہر ماں باپ کرتے ہیں مگر وہ اس محبت میں اپنے بیٹے کا گھر بھی آباد دیکھنا چاھتے تھے جو ہر والدین آج کل نہیں چاھتے جو محبت کا جتنا بڑا دعوہ کرتا ہے بہو کا جینا حرام کر کے وہ اتنا ہی بیٹے کی زندگی مشکل بنا دیتا ہے مگر میرے ساس سسر مجھے بھی بیٹی مان چکے تھے ۔۔۔۔وہ میری بہت عزت اور لحاظ کرتے ۔۔۔۔

مگر مجھے وہ دونوں پہلے دن سے برداشت نہیں تھے ۔۔۔میں نے ہمیشہ ایک الگ گھر ۔۔۔۔۔مکمل پرائیویسی والی شادی شدہ زندگی کا خواب دیکھا تھا ۔۔۔۔میں نے شہروز کو شادی سے پہلے ہی بتا دیا تھا وہ کہتا تھا شادی ہونے دو تمہیں امی ابو نے تنگ کیا تو اسی دن الگ کردوں گا ۔۔۔۔وہ اچھا خاصا کماتا تھا ۔۔۔وہ یہ پہلے بھی کر سکتا تھا مگر وہ والدین کی اكلوتی اولاد ہونے کی وجہ سے ان کی حد سے زیادہ بیٹے کے گھر بسنے کی خوشی دیکھ کر خاموش ہو گیا ۔۔۔۔شادی ہو گئی ۔۔۔ میں سارا سارا دن سوئی رہتی ساس بار بار آ کر مجھے دیکھتی ۔۔۔وہ فکر مند ہوتی کہ کہیں میں بیمار تو نہیں ہوگئی ۔۔۔پھر جب وہ میری عادت سمجھ گئی تو وہ آنا بند ہو گئیں ۔۔۔۔پورا گھر وہ دیکھا کرتیں ۔۔۔میں بس کچن دیکھ لیا کرتی ۔۔۔میں جو بھی پكاتی وہ بہت محبت سے کھا لیا کرتے ۔۔۔۔مگر جس طرح کچھ ساسیں بہو کو برداشت نہیں کرتی ویسے ہی میں ان بہوؤں میں سے تھی جن کو سسرال کسی صورت برداشت نہیں تھا ۔۔ .

شہروز کی عادت تھی کہ وہ آتے ہی ماں باپ کے پاس بیٹھتا ۔۔۔۔میرا پارہ چڑھ جاتا یہ دیکھ کر ۔۔ میں نے اس کے کان بھرنے شروع کر دیے ۔۔۔۔وہ میری محبت میں پاگل اور کان کا کچا تھا ۔۔۔اس نے بنا تحقیق کے والدین کے ساتھ بد تمیزی شروع کردی ۔۔۔ماں یا باپ کوئی چیز منگواتے تو وہ جان بوجھ کر نا لاتے ۔۔۔۔اور مطالبے پر ان کو بے عزت کرتے اور باتیں سناتے ۔۔۔میری بیمار ذہنی سوچ کو جیسے سکون سا مل جاتا ۔۔۔میں ان کو حقارت سے دیکھ کر اپنا سامان سے لدھا ہوا شاپر دیکھا کر اپنے کمرے میں چلی جاتی ۔۔۔ میرے ساس سسر سمجھ چکے تھے ۔۔ایسا اکثر ہوتا ۔۔۔۔میری ساس دروازے کی آہٹ پر اپنے بیٹے کے پاس آنے کی امید سے فورا اپنے کمرے میں چلی جاتی ۔۔۔۔مگر ۔۔۔وہ تو میری محبت میں یہ بھول چکا تھا کہ وہ عام انسان نہیں ہیں ۔۔۔۔اس کی جنت اور اس کا دروازہ ہیں ۔۔۔۔

آخر وہ یہ بات بھی سمجھ گئے ۔۔۔ وہ اپنے ہی گھر میں اجنبی بن کر رہنےلگے تھے ۔۔۔۔

ایک ایسا ہی دن تھا وہ دونوں اداسی سے شہروز کا رویہ ڈسکس کر رہے تھے میں نے شہروز کو کمرے سے بلا کر وہ سب ان کو سنوا دیا ۔۔۔ آج تک کے میرے ہر سچ ہر جھوٹ پر مانو حقیقت کی مہر لگی تھی ۔۔۔

شیروز نے اس دن بد تمیزی اور نافرمانی کے اپنے سابقہ تمام ریکارڈ توڑ ڈالے ۔۔۔ ان کو روٹی تک کا تانا دے ڈالا ۔۔۔۔

میرے سسر خاموشی سے میری ساس کو لے کر اپنے آبائی گھر ۔۔۔۔جو کہ ایک گاؤں میں تھا وہاں لے گئے ۔۔۔

بس میرا خواب پورا ہو گیا ۔۔۔ میں ان کو ان کے ہی بنائے گھر سے نکال کر بہت خوش تھی ۔۔۔۔

اب میں اس کو اپنی جنت سمجھنے لگی تهی ۔۔۔۔میں یہ بھول گئی تهی کہ جنت کو نکال کر بھی بھلا جنت بن سکتا ہے کوئی گھر ۔۔۔۔

میں نے سنا تھا رزق عورت اور اولاد مرد کا نصیب ہوا کرتی ہے ۔۔۔۔۔میں نے کسی سے دو وقت کی روٹی چھینی تھی پھر رزق کہاں سے ملتا مجھے ۔۔۔۔اور شہروز نے دو بوڑھوں سے ان کی عمر بھر کی دولت ان کی اكلوتی اولاد ۔۔۔۔ہم دونوں ہی خالی ہاتھ رہ گئے ۔۔۔۔

اس گھر میں دولت کی ريل پيل میری وجہ سے نہیں ۔۔۔۔بلکہ شہروز کے والدین کی دل سے نکلی دعاؤں کی وجہ سے تھی ۔۔۔۔۔بد دعا اب بھی نہیں دی ہوگی انہوں نے مگر ان کا مان ۔۔۔۔ان کا بهرم ۔۔۔۔۔ان کا سہارا ۔۔۔۔سب سے بڑھ کر ان کا دل ریزہ ریزہ ہوا تھا ۔۔۔۔وہ بیٹے سے زیادہ دیر دور نہیں رہ سکتے تھے ۔۔۔بیٹے کی دوری نے ان کی کمر توڑ دی تھی ۔۔۔چھ ماہ ہی گزر گئی میری ساس ۔۔۔اور پھر اس کے دو ماہ بعد ہی میرے سسر انتقال کر گئے ۔۔۔۔

میرے سسر اتنا دلبرداشتہ تھے کہ ساس کے بعد شہروز کے بہت اسرار پر بھی وہ ہمارے ساتھ نہیں آئے تھے ۔۔۔وہ خاموش تھے ۔۔۔کوئی شکایت ۔۔۔کوئی شکوہ نہیں کیا ۔۔۔۔ہاأأأاۓےۓ ۔۔۔۔ان دونوں كی خاموشی نے میری زندگی میں شور برپا کردیا ۔۔ کبھی نہ ختم ہونے والا شور ۔۔۔۔

اب وہ پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھی وہ آنسو صاف کرتی مزيد بولی تھی

آہستہ آہستہ سب ختم ہوتا چلا گیا ۔۔۔ پہلے کاروبار ۔۔۔۔میں نے بہت علاج کروایا مگر اولاد کی خوشی سے محروم رہی ۔۔۔پھر شہروز کی صحت ۔۔۔۔۔حد تو یہ ہے کہ آج ان کا علاج سركاری ہسپتال میں بھی فنڈ کے پیسوں میں ہو رہا ہے ۔۔۔

سنا تھا والدین كی نافرمانی ان گناہوں میں سے ہے جن کی سزا اللّه اس دنیا میں ہی دینے لگتا ہے ۔۔۔جس کے والدین حق پر اس سے نا خوش ہیں اس کی کوئی بھی عبادت کوئی دعا اللّه قبول نہیں کرتا ۔۔۔والدین کا نافرمان رزق اور عمر دونوں سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے ۔۔۔میں یہ سب بھول گئی تھی ۔۔۔۔اب میں کیسے معافی مانگوں ان سے ؟؟؟؟؟وقت گزر گیا ۔۔۔۔۔میں رب کو بھول گئی تھی ۔۔۔۔یہ بھول گئی تھی ۔۔۔وہ دونوں میرے شوہر کی دنیا اور آخرت دونوں کو بگاڑ اور سنوار سکتے ہیں ۔۔۔اب ہر وقت وہ اللّه سے معافی مانگتے ہیں مگر ۔۔۔۔۔۔ریت کی طرح وہ وقت پهسل چکا ہے ۔۔۔”

مناہل نے اٹھ کر اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اسے دلاسہ دینا چاہا تھا مگر الفاظ دم توڑ چکے تھے ۔۔۔

“اللّه کے بعد اگر کوئی ہمارا تخلیق کار ہے تو وہ ہمارے والدین ہیں ۔۔۔۔خدارا ۔۔۔۔اللّه اپنے حقوق کے بعد فورا والدین کے حقوق کا پوچھے گا ۔۔۔۔حد تو یہ ہے وہ اپنی نافرمانی معاف بھی کر دیگا مگر والدین ۔۔۔ والدین کی نافرمانی کبھی نہیں معاف کرے گا ۔۔۔۔بیوی کے حقوق ضرور پوری کریں مگر والدین کی آنکھوں پر خاص نظر رکھیں ۔۔۔کہیں ایسا نا ہو ان کی آنکھوں کی ذرا سی نمی سمندر بن جائے اور آپ کی پوری زندگی کو ڈبو دے ۔۔ “

مدھو نے ہاتھ اٹھا کر اس کو دعا دی تھی ۔۔۔۔مگر سوال تو یہ ہے وہ کیا دعا کرتی ۔۔۔۔کسی کی بھی دعا ہمارے اعمال کے برعکس نہیں ہو سکتی ۔۔۔۔خیر اس نے شہروز کی قطرہ قطرہ ہوتی موت میں آسانی كی دعا مانگی تھی ۔۔۔۔

“سعدیہ ۔۔۔تمہارے میاں شہروز کی ڈیتھ ہو چکی ہے اس کے پاس جاؤ’

سسٹر جو زیادہ وقت ساتھ رہنے کی وجہ سے اس کا نام جانتی تھی اس کی آواز اس لڑکی کے کانوں میں گونجی تھی وہ روتی بلکتی اس کے ساتھ بھاگی تھی ۔۔۔

اِنّا لِلّٰهِ وَاِنّا اِلَيْهِ رَاجِعُوْن

مناہل نے مدھو کی طرف دیکھ کر بیٹھتے ہوۓ کہا تھا ۔۔۔

رات کا کوئی پہر تھا مدھو اور مناہل سو رہی تھیں مناہل كی آنکھ شدید پیاس لگنے سے کھل گئی تھی وہ خالی جگ دیکھ کر وارڈ سے باہر پانی بھرنے نکلی تهی ۔۔

آئی-سی-یو کے ساتھ ہی پانی کا فلٹر تھا پورے ہسپتال میں گہرا سکوت تھا وہ پانی بھر کر جانے کو مڑی تهی جب اس کی کانوں میں کسی مرد کی شدت سے رونے کی آواز آئی تھی

وہ پانی کا جگ ہاتھ میں پکڑے آئی- سی-یو کے دروازے میں کھڑی ہو گئی تھی جہاں ایک مریض کے پاس ڈیوٹی ڈاکٹر کھڑے تھے وہ جو بھی تھا بری طرح رو رہا تھا

“میں مرنا چاہتا ہوں ۔۔۔آپ نے کیوں بچایا مجھے ڈاکٹر ۔۔۔۔میں ۔۔۔ میں نہیں رہ سکتا اس کے بغیر ۔۔۔۔وہ جب سے گئی ہے ایک ایک لمحہ مجھ پر بوجھ بن چکا ہے ۔۔۔۔میرا دل مر چکا ہے ۔۔

“میں اس کے پاس جانا چاہتا ہوں ۔۔۔وہاں بہت سا پانی ہے ۔۔۔وہ مجھے اپنے پاس بلاتی تھی ۔۔۔مگر اب کچھ دنوں سے وہ خواب میں بھی ملنے نہیں آتی ۔۔۔۔آپ پلیز مجھے زہر کا کوئی انجکشن لگا دیں ۔۔۔میں نہیں جی پا رہا اس کے بغیر ۔۔میں نے ہر کوشش کر کے دیکھ لی ہے “

وہ کرب اور بے بسی کی آخری حد لیئے ہوا تھا ۔۔۔۔

وہ آواز تو مناہل سو آوازوں میں بھی بند آنکھوں سے پہچان سکتی تھی ۔۔۔۔

پانی کا جگ اس کے ہاتھ سے چھوٹ گیا تھا جس کی آواز سے ڈیوٹی ڈاکٹر اور وہاں موجود سٹاف نے اس كی طرف فورا دیکھا تھا

۔*************

“بابا جی،بابا جی”

سلطانہ بارش میں بری طرح سے گيلی اس ویران گھر میں آئی تھی جو گاؤں سے ہٹ کر کچی جگہ پر کافی دور تھا

وہ مکان مکمل کچا تھا مٹی کی لیپائی کر کے دو کمرے تیار کئے گئے تھے دونوں کے درمیان ایک چھوٹا سا دروازہ تھا ایک کمرے میں نیچے سونے کی جگہ بنائی گئی تھی جبکہ دوسرے کمرے میں تمام شیطانی کام کیے جاتے تھے ۔۔۔ کمرے بھی نہایت پرانے طرز کے تھے جگہ جگہ طاق میں دیئے جلائے گئے تھے ۔۔۔

بابا جی کے تین مرد اور تین ہی عورتیں مددگار تھے جو روز صبح آتے اور شام کو اپنے اپنے گھروں کو نکل جاتے ۔۔۔کبھی کبھار کوئی خاص عمل کرنا ہوتا تو ان میں سے کچھ کو ٹھہرا لیا جاتا ۔۔۔

وہ انسان بس نام کا بابا تھا وہ عمر میں ماسٹر جی کے ہم عمر ہی ہوگا ۔۔۔

اس وقت وہ کسی گہری سوچ میں اپنی آرام گاہ میں لیٹا ہوا تھا

سلطانہ بری طرح بارش میں بھیگی بنا اجازت کے اس کے کمرے میں اندر گئی تھی

“بابا جی ۔۔۔۔اس نے میری برسوں کی محنت پر پانی پھیر دیا ہے ۔۔۔اس نے مجھے طلاق دے دی ہے اب مجھے وہ سب کیسے حاصل ہوگا ؟؟؟؟”

وہ غصے سے دھاڑی تھی

“هاهاهاهاها ۔۔۔۔یہ سب تو طے تھا ۔۔۔”

بابا جی کا سفاک قہقہ گونجا تھا

“کیا مطلب ؟؟؟؟اور اب کیا ہوگا ؟؟؟”

“ایک خدا کا منكر اور دوسرا اللّه کو سجده کرنے والا ۔۔۔۔دونوں کا نکاح تو ویسے ہی ختم ہو جاتا ہے چاہے طلاق نہ بھی دی ہو ۔۔۔تمہارے پیٹ میں تو میری اولاد ہے نا ۔۔۔ میری پہلی اولاد ۔۔۔تم ادھر میرے ساتھ رہو ۔۔۔۔میری رانی بن کر ۔۔ “

بابا جی کی آنکھوں میں ہوس تھی

“بابا جی ۔۔۔ تو کیا آپ مجھ سے شادی ؟؟؟”

سلطانہ اپنی چادر اتار کر نچھوڑتی ہوئی پوچھ رہی تھی

“ارے ۔۔۔شادی تو مسلمان کیا کرتے ہیں ۔۔۔۔ہم تو شیطان ہیں ۔۔۔ ہم تو محبت کے نام پر گناہ کریں گے ۔۔۔۔یہاں تو سب ویسے ہی جائز ہے ۔۔۔۔یہاں تو حیوانیت مذہب اور زنا كلمہ ہے ۔۔۔۔تم جتنا میرے ساتھ رہوگی شیطان اتنا ہی تم سے زیادہ خوش ہوگا ۔۔۔”

“مسلمان لڑکا لڑکی محبت کا ٹھپہ لگا کر زنا کے لئے اپنا ضمیر راضی کر لیتے ہیں ۔۔۔میں کم از کم خود کو دھوکہ تو نہیں دے رہا ۔۔۔صاف صاف بول رہا ہوں یہ شیطانی کام ہے جو میں خود پر جائز سمجھتا ہوں ۔۔ “

سلطانہ اس کے پاس آ کر بیٹھ گئی تھی

“مجھے بھی آپ کے ساتھ رہنے میں کوئی مسئلہ نہیں ہے ۔۔ بس میں اس ماسٹر کا غرور ۔۔۔اس کی اچھائی ۔۔ اس کا ایمان چکنا چور کرنا چاہتی ہوں ۔۔۔۔آپ تو سب جانتے ہیں ۔۔۔۔ہے کوئی ایسا عمل جو اسے اور اس کی بیٹی کو حرام گوشت ۔۔۔۔۔ خوشی خوشی کھانے پر مجبور کر دے ؟؟؟میں اس کا حلال حرام کا فرق ختم کرنا چاہتی ہوں ۔۔۔اسے بتانا چاہتی ہوں کہ میں کتنی طاقت ور ہوں ۔۔۔

“ہاہاہاہا ۔۔۔۔سب ہو جائے گا میری جان غصہ مت کرو ۔۔۔۔میری اولاد پر اس کا برا اثر پڑ سکتا ہے ۔۔ “

وہ سلطانہ کے پیٹ پر ہاتھ رکھ کر مدہوش سا بولا تھا

“آپ کو یقین ہے ہمارا بیٹا ہی ہوگا ؟؟؟”

سلطانہ نے بابا جی کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے کر کہا تھا

“نہیں ۔۔۔۔سلطانہ ۔۔۔۔۔شیطانی کام میں یقین نام کا کچھ نہیں ہوتا ۔۔۔یہاں تو نفرت،انتقام،حسد اور جلن کی جنگ میں کون جیت جائے کچھ پتہ نہیں چلتا ۔۔۔ یہاں تو ختم نا ہونے والی ایک ريس ہے ۔۔۔۔بے چینی ہے ۔۔۔۔بے سکونی ہے ۔۔۔یقین تو دل کی ٹھنڈک کا نام ہے ۔۔۔۔شیطان خدا تھوڑی ہوتا ہے جس پر اندھا یقین کیا جائے ۔۔۔ “

باباجی کی آواز میں تھکاوٹ اور نا امیدی کا عنصر نمایاں تھا ۔۔

ساری عمر سركاری نوکری کرنے کے بعد بیٹھ کر روٹی ملی گی ۔۔۔۔پینشن کی صورت ۔۔۔۔اس امید کو یقین کہتے ہیں ۔۔۔

ایک دیہاڑی دار مرتے دم تک روٹی کی فکر میں بے چین رہتا ہے ۔۔۔۔

شیطان کی پوجا کرنے والا یقین کی دولت سے محروم ہے ۔۔۔

“اگر بیٹا نا بھی ہوا تو ۔۔۔۔میں پالوں گا ۔۔۔ اپنی پہلی اولاد کو ۔۔۔”

اس بات سے سلطانہ کا موڈ بگڑا تھا مگر فلحال وہ بابا جی سے ماسٹر جی کا کام کروانا چاہتی تھی ۔۔۔

“مگر آپ نے تو کہا تھا یہ شیطان کا جانشین بنے گا پھر اب ؟؟جو مجھے دیوی بنا دے گا ؟؟؟”

سلطانہ نے ضبط سے پوچھا تھا

“بیٹا ہو یا بیٹی دیوی تو تم بن ہی جاؤ گی ۔۔زنا ۔۔۔زنا کیا ہے نا تم نے جو شیطان کو بہت پسند ہے ۔۔۔خدا کی حدود توڑنے والا شیطان کا بہترين دوست ہوتا ہے سلطانہ ۔۔ وہ سب ملے گا تمہیں جو بتا چکا ہوں ۔۔۔بیٹا ہوا تو تم رکھ لینا ۔۔

بیٹی ہوئی تو میں رکھ لوں گا ۔۔۔۔

بیٹی کے ذکر پر سلطانہ کو غصہ آیا تھا وہ فورا بات بدل کر بولی تھی

“ماسٹر جی کیسے حرام کھائیں گے ؟؟؟؟”

“کس قسم کا حرام کھلوانا چاہتی ہو تم ان سے ؟؟؟”

بابا جی نے سلطانہ کے گيلے بال چہرے سے ہٹا کر کہا تھا

“میرا دل کرتا ہے وہ ہر وقت حلال حرام،انسانیت کی بات کرنے والا انسان خود حرام کھائے ۔۔۔ وہ ایسا گناہ کرے کہ جو انسانیت سے اس کا نام اکھاڑ پھینکے ۔۔ اس کو محبت کرنے والے اس پر اس عمل سے تھوکنے لگیں ۔۔۔”

“وہ آدم خور بن جائے ۔۔۔ آدم خور ۔۔۔۔وہ کچے پکے، زندہ مردہ کا فرق بھی بھول جائے ۔۔۔۔۔وہ اس گری ہوئی حرکت کا ایسا مرتكب ہو کہ میرا گناہ اس کے آگے چھوٹا پڑ جائے ۔۔۔وہ پوری عمر مجھے گناہگار اور خود کو پارسا سمجھتا رہا ہے ۔۔۔”

سلطانہ اٹھ کر کھڑی ہو گئی تھی اس کی آنکھوں میں نفرت اور انتقام کی آگ جل رہی تھی ۔۔۔

“یہ بہت مشکل عمل ہے سلطانہ ۔۔۔اس کے لئے تمہیں بہت زیادہ محنت کرنی پڑے گی ۔۔

بابا جی نے اسے ہاتھ سے پکڑ کر واپس بیٹھایا تھا ۔

“میں سب کرلوں گی ۔۔۔۔آپ بس عمل بتائیں ۔۔۔”

وہ بیٹھ کر پر سکون سی بولی تھی ۔۔۔

تیز بارش ۔۔۔۔دو گناہگار ۔۔۔۔اور گناہ ۔۔۔۔

۔****************

آج اتوار تھا اسکول سے چھٹی تھی

ماسٹر جی کی طبیعت رات سے ہی بہت عجیب تھی منی بھی رات کی صحن میں ایک طرف بیٹھی قے کر رہی تھی وہ رات سے پيلا گوشت تھوک رہی تھی

ماسٹر جی کی بھی یہی حالت تھی

وہ رات سبزی کھا کر سوۓ تھے پھر یہ اس طرح گوشت کی قے ۔۔۔ان کی سمجھ سے باہر تھی ۔۔۔

تیز بارش ہو رہی تھی وہ برآمدے میں کھڑے منی کو دیکھ رہے تھے دیکھتے ہی دیکھتے منظر بدل گیا تھا پورا صحن قبروں سے بھر چکا تھا کالی رات تیز بارش ۔۔۔۔اور منی غائب تھی ۔۔۔۔

ماسٹر جی منی منی کرتے اس قبرستان میں نکل گئے تھے گھر کا نارمل سا صحن ختم نا ہونے والا قبرستان بن چکا تھا

تیز بارش، تیز ہوا ۔۔۔ماسٹر جی کی آواز منہ میں ہی دم توڑ دیتی ۔۔۔

وہ دیوانہ وار منی کو ڈھونڈ رہے تھے ایک دم بجلی زور سے کڑکی تهی پورا قبرستان روشنی میں نہا گیا تھا

اس شور میں بھی شپڑ شپڑ گوشت اور ہڈی چبانے کی آواز ماسٹر جی کے کانوں میں صاف سنائی دی تھی

ایک بار پھر بجلی کڑکی اور روشنی چار سو پھیلی ۔۔۔

ان کی نظر ایک تازی قبر پر پڑی جو کھدی ہوئی تھی اس کے اندر کفن موجود تھا مگر مردہ غائب تھا ۔۔۔

“شپڑ شپڑ “کی آواز باقاعدہ آ رہی تھی ماسٹر جی ڈرتے ہوۓ بارش میں بھیگتے مزيد تھوڑا آگے گئے تھے جہاں مردہ برہنہ حالت میں منہ کھولے پڑا تھا اور اس کا پیٹ خالی تھا منی اس کا کلیجہ رغبت سے چبا چبا کر کھا رہی تھی وہ کسی جانور کی طرح ٹانگوں پر جھک کر بیٹھی ہوئی تھی

“منی ؟؟؟؟

“چھوڑ دو یہ سب یہ مت کھاؤ یہ حرام ہے”

“هاهاهاهاها”

وہ چیخے تھے جس پر منی نے بلند قہقہ لگا کر ایک طرف ہاتھ سے اشارہ کیا تھا جبکہ دوسرا ہاتھ بدستور منہ میں تھا

ماسٹر جی نے جیسے ہی اس کے ہاتھ کا تعاقب کیا ان کو منہ بھر کر الٹی آئی تھی

ماسٹر جی اسا ہی مہذبانہ حلیہ اپنائے ہوۓ مردے کی آنکھیں نوچ نوچ کر کھا رہے تھے ۔۔۔

ماسٹر جی کو دیکھ کر اس ماسٹر جی کا قہقہ بلند ہوا تھا وہ تیزی سے اٹھا اور زبردستی ماسٹر جی کے منہ میں وہ گوشت ٹھونسے لگا ۔۔۔

“مت کرو مت کرو مجھے جانے دو”

ماسٹر جی چیخے تھے

“ابا ؟؟؟؟”

منی کے ہلانے پر ماسٹر جی كی آنکھ کھل گئی تھی وہ بھاگ کر غسل خانے قے کرنے گئے تھے ۔۔۔

حیرت کی حد تو تب ہوئی جب قے میں وہ ہی انسانی آنکھ سینک میں پڑی مسٹر جی کی طرف دیکھ رہی تھی ۔۔۔

کہتے ہیں جب کسی انسان پر جادو ہوتا ہے تو ہمارا جسم اس بات کی خبر ڈراؤنے خوابوں سے دیتا ہے ۔۔۔۔کیوں کہ خواب اکثر ہمیں ماضی اور کبھی ہمارے آنے والی زندگی کا اشارہ ہوتے ہیں ۔۔۔

سلطانہ کا شیطانی داؤ چل گیا تھا ۔۔۔

۔****************

بہادر شاہ اور منی ابھی کھانا کھا کر قبرستان میں ہی کھڑے تھے بارش ہلکی تھی ۔۔۔

یخ بستہ ہوا چل رہی تھی ایک شخص چیختا ہوا تیزی سے قبروں سے ٹکراتا ہوا گرتا پڑتا ان کی طرف آ رہا تھا وہ کالا پينٹ کوٹ پہنے ہوۓ تھا

“تم ۔۔۔۔۔تم ۔۔۔گورکن ہو نا ؟؟؟؟؟”

“میں جانتا ہوں تم ہی گورکن ہو چلو قبر کھودو جلدی کرو ۔۔۔۔تم نا بھی بتاؤ تو میں بندہ دیکھ کر جان جاتا ہوں کہ وہ کیسا ہے،کیا کرتا ہے ،گناہ گار ہے یا بے قصور”

وہ حد سے زیادہ سہما ہوا تھا

“پڑھے لکھے لگتے ہو ۔۔۔۔با شعور بھی ۔۔۔انسان کی پرکھ تو رب کی دین ہے ۔۔۔۔اتنا ڈر کس کا ہے تمہیں ؟؟؟کس سے بھاگ رہے ہو بڑے میاں ؟؟؟”

بہادر شاہ نے منی کو ایک طرف بیٹھنے کا اشارہ کیا تھا جو ایک بوسیده قبر کی طرف مسلسل دیکھ رہیں تھی

“وہ ۔۔۔وہ ۔۔ سب مل گئے ہیں ۔۔۔وہ سب مل کر مجھے مار دیں گے”

وہ اپنے پیچھے انگلی کر کے رازداری سے بولا تھا

“کون لوگ؟؟؟”

“وہ تمام لوگ ۔۔۔۔میں نے جانتے بوجھتے ان کو غلط ثابت کیا ۔۔۔۔میں جانتا تھا ۔۔۔سب ۔۔

میں نے پیسے کی چمک میں گناہگاروں کو معصوم اور بے قصور لوگوں کو مجرم ثابت کیا ۔۔۔۔

اللّه نے مجھے لوگوں کو سمجھنے اور پرکھنے کی حس دے رکھی تھی ۔۔۔اسی لئے میں نے وکالت کا شعبہ چنا ۔۔۔۔مگر میں عزت پاتے ہی گھمنڈ میں گر گیا ۔۔۔میں نے اس نعمت کا کبھی صحیح استعمال نہیں کیا ۔۔۔میں پیسے کے حساب سے چلتا ۔۔۔ قاتل ۔۔۔آزاد کراوا کر میں نے بے قصوروں کو پھانسی کے تختہ دار پر چڑھا دیا ۔۔۔

میرا مذھب ۔۔۔میرا پیشہ۔۔۔۔میری زبان ۔۔ تو بس پیسہ بن گیا تھا ۔۔۔

وہ اب خوفزده سا منی کے پاس سمٹ کر بیٹھ گیا تھا

وہ معصوم چہرے ۔۔۔۔وہ خالی آنکھیں ۔۔۔۔مجھے نیند نہیں آتی ۔۔۔۔۔۔۔۔مجھے بس قبر ہی سکون دے سکتی ہے ۔۔۔۔۔میں نے امانت میں خیانت کی ہے ۔۔۔۔۔۔۔اللّه ۔۔۔۔۔اپنے مہذب پیشے کو پامال کیا ہے ۔۔۔۔۔

منی ہنوز اسی قبر کو دیکھ رہی تھی

“میرے پاس اکثر مجبور لڑکیاں اور عورتیں آتیں ۔۔۔جن کے پاس اپنے پیاروں کو چھڑوانے کے لئے کچھ نا ہوتا وہ اپنی بے بسی کھل کر بیان کر کے کہتیں ۔۔۔ہمارے پاس کچھ نہیں ہے اور میں ان کی عزت اپنی فیس رکھ لیتا ۔۔۔

افسوس ۔۔۔۔۔۔۔۔اللّه ۔۔۔۔۔۔

اکثر عورتیں جن کی عزت پامال كی گئی ہوتی ۔۔ وہ انصاف کے لئے میرے پاس آتیں اور میں ان کو انصاف دلانے کے بدلے وہ ہی درندگی کرتا جس کا وہ رونا روتیں ۔۔۔

میں بہت زیادہ گناہ کر چکا ہوں ۔۔۔۔۔اب وہ سب لوگ ساتھ مل گئے ہیں ۔۔۔وہ میرا گلا دبا کر مار دے گے ۔۔۔۔وہ ۔۔۔ وہ دیکھو ۔۔۔وہ قبرستان کے اندر داخل ہو چکے ہیں ۔۔۔۔میرے گھر والے مجھے پاگل خانے چھوڑ آئے تھے ۔۔۔

میں ۔۔۔۔میں بھاگ آیا ۔۔۔وہ سب وہاں بھی آ گئے تھے ۔۔۔

اب تم جلدی سے قبر بنا کر مجھے دفنا دو ۔۔۔۔

بہادر شاہ نے اس کی بات کا کوئی بھی جواب دیا بنا منی کی نظروں کا تعاقب کیا تھا ۔۔۔

وہ ایک بوسيده قبر تھی ۔۔۔۔جس میں تھرتھراہٹ ہورہی تھی بادل زور سے گرجے تھے ۔۔۔۔ساتھ ہی بارش نے زور پکڑا تھا

وہ وکیل بادل کے گرجنے سے مزيد سمٹ کر اس قبر کے پاس ہوا تھا جبکہ منی اور بہادر شاہ بس اس قبر کو دیکھ رہے تھے

ایک دم اس قبر کی تھرتھراہٹ میں اضافہ ہوا تھا وہ کھل گئی تھی کفن میں لپٹا ہاتھ اس سے باہر آیا تھا اس وکیل نے جیسے ہی اس ہاتھ كی طرف خوف سے اس کی آنکھیں پھیلی تھیں ۔۔۔

وہ ایک مزدور آدمی تھا جسے ایک امیر زادے نے اس وکیل کی مدد سے ناحق پھانسی چڑھایا تھا اس وکیل نے اس مزدور کی بیوی سے پیسے لے کر بظاہر کیس لڑا ضرور تھا مگر وہ جان بوجھ کر اسے ہار گیا تھا ۔۔۔۔

اس کی بیوی نے شوہر کے بعد اپنے بچوں کی بھوک سے تنگ آ کر اپنے پانچ بچوں سميت خود کشی کر لی تھی ۔۔۔

وہ وکیل چیخ رہا تھا رو رہا تھا مگر قبر سے نکلا ہاتھ اسے کھینچ کر اپنے ساتھ دفنا چکا تھا ۔۔۔

“جب انسان انصاف نہیں کرتا تو وہ ذات خود انصاف کرتی ہے ۔۔۔اور وہ ذات کسی کی جانبداری نہیں کرتی ۔۔۔۔۔نا ہی اسے خریدہ جا سکتا ہے ۔۔۔۔”

“هاهاهاهاها ۔۔۔”

منی اور بہادر شاہ کا بلند قہقہ ۔۔۔۔تیز بارش ۔۔۔لنگڑا کر جاتا ہوا منی کا ہاتھ تھامے بہادر شاہ ۔۔۔

اس وکیل کی فلک شگاف تکلیف ده آہیں ۔۔۔۔مگر تیز بارش میں سب ضم ہو رہا تھا ۔۔۔